پٹیالہ گھرانے کا ہونہار سپوت گلوکار اسد امانت علی خان
25 September, 2021

اسپیشل فیچر
تحریر : محمد ارشد لئیق
گائیکی کی ہر صنف مہارت سے گانے والے کلاسیکل گائیک کے یوم پیدائش پر خصوصی تحریر
پٹیالہ گھرانے کے چشم و چراغ اسد امانت علی خاں کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کے گائے ہوئے گیت ان کی پہچان ہیں۔ کافی ''عمراں لنگھیاں پبّاں بھار‘‘ ہو، غزل ''انشا جی اٹھو‘‘ ہو یا فلمی گیت ''کیا گلبدنی‘‘ گائیکی کی تمام اصناف میں ان کی مہارت نظر آتی ہے۔ کلاسیکی موسیقی کے اس عظیم گائیک کا آج چھیاسٹھواں یوم پیدائش ہے۔ 25 ستمبر 1955ء کو مایہ نازگائیک استاد امانت علی خاں کے گھر آنکھ کھولی، وہ استاد فتح علی اور استاد حامد علی خان کے بھتیجے اور شفقت امانت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔اسد امانت علی خان کی شکل اپنے پڑدادا علی بخش جرنیل سے بہت مشابہہ تھی۔ ریڈیو پاکستان ریسرچ سیل میں علی بخش جرنیل کی ایک تصویر آویزاں ہے۔ اْس تصویر کی جھلک اسد میں موجود تھی۔ اسد امانت علی خان نے موسیقی اپنے دادا اختر حسین اور چچا استاد فتح علی خان سے سیکھی۔ انہوں نے اپنی گائیگی کا آغاز 10 سال کی عمر سے کیا۔ ان کا پہلا گاناان کے دادا اختر حسین کے البم میں شامل کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اپنے میوزیکل کریئر کا باضابطہ آغاز ''ٹھمری‘‘ گا کر اس وقت کیا جب ان کی عمر تقریباً 18 برس تھی۔ ان کی آواز نہایت قد آور، رینج دار اور اپنے والد استاد امانت علی خان کی طرح سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انہیں گائیکی کی تمام اصناف گانے پر عبور حاصل تھا۔ وہ غزل، گیت، ٹھمری، لوک گیت اور دیگر اصناف کی گائیکی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شروع میں اپنے والد استاد امانت علی خان مرحوم کی آواز میں گائے ہوئے آئٹم گا کر خوب داد سمیٹی۔ خصوصاً اْن کی گائی ہوئی غزل ''انشا جی اْٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا‘‘ گا کر سامعین کا دل موہ لیا کرتے تھے۔اسد امانت علی خان کی کافی ''عمراں لنگھیاں پبّاں بھار‘‘بھی بہت مشہور ہے جسے وہ نہایت ڈوب کر گایا کرتے تھے اور اسے گاتے ہوئے وہ اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ جس محفل میں وہ گاتے سامعین اْن سے یہ کافی ضرور سنتے۔انہوں نے 1974ء میں اپنے والد کی موت کے بعد باقاعدگی سے پی ٹی وی پر پرفارم کرنا شروع کردیا تھا مگر اپنے والد کے برعکس اسد نے اردو فلموں کے لیے بھی بطور پلے بیک سنگر گانا شروع کیا۔ کئی فلموں کے لیے نغمات ریکارڈ کروائے اور ان کے جونغمے مقبول ہوئے ان میں فلم ''ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کا گیت ''کیا گلبدنی، کیا گلبدنی، کیا گلبدنی ہے‘‘ اور فلم ''آواز‘‘ کا گیت ''تو مرے پیار کا گیت ہے‘‘ نمایاں ہیں۔ان کے دیگر معروف گیتوں اور غزلوں میں غم تیرا ہم نے، ذرا ذرا دل میں درد ہوا اور کل چودھویں کی رات تھی، شامل ہیں۔شوبز حلقوں کے مطابق اسد امانت علی خان بحیثیت انسان نہایت باادب، یاروں کے یار اور دید لحاظ والے انسان تھے۔ جگت بازی کے عادی تھے، جہاں بیٹھ جاتے محفل کشتِ زعفران بن جایا کرتی تھی۔مایہ نازگائیک استاد امانت علی خاں کے صاحبزادے اور استاد علی بخش کے پوتے اسد امانت علی خان کو موسیقی کی دنیا میں ان کی خوبصورت آواز پر تمغہ حُسن کارکردگی سے نوازا گیا۔وہ حضرت امام حسینؓ کے عاشق تھے، سوز و سلام پڑھتے ہوئے ان پر رقت طاری ہو جایا کرتی تھی اور روتے روتے سلام پیش کرتے تھے۔وہ غزل کنسرٹس کے لیے مقبول تھے اور اپنی مشہور غزلیں، فلمی گانے اور وہ جو ان کے والد کی تھیں، گاتے تھے۔ 2006ء میں پی ٹی وی میں ایک کنسرٹ کے دوران انہوں نے اختتامیے کے طور پر انشاء جی اٹھو گائی۔ اتفاقاً یہ ان کا آخری کنسرٹ ثابت ہوا اور انشاء جی اٹھو وہ آخری گانا تھا جو انہوں نے عوام کے سامنے پرفارمنس کے دوران گایا۔چند ماہ بعد ہی اسد کا انتقال ہوگیا۔ اسد کی عمر بھی موت کے وقت اپنے والد کی طرح 52 سال تھی۔ بیٹی کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میں مشغول تھے، گیند زمین سے اٹھانے کے لیے جْھکے تو پھر اْٹھ نہ سکے۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-25/25244
1983ءسے بیت اللہ کی صفائی کرنے والا خوش نصیب پاکستانی، اس کی کہانی جان کر آپ بھی قسمت پر رشک کریں گے
Sep 25, 2021 | 19:11:PM

مکہ المکرمہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بیت اللہ کی زیارت ہر مسلمان کا خواب ہے مگر کچھ خوش قسمت ہی اس خواب کی تعبیر دیکھ پاتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے پاکستانی سے ملوانے جا رہے ہیں جس کی قسمت پر ہر مسلمان رشک کرے گا۔ عرب نیوز کے مطابق یہ 61سالہ احمد خان قندل ہیں جو 1983ءمیں منڈی بہاﺅالدین سے مکہ المکرمہ گئے اور تب سے مسجد الحرام میں صفائی ستھرائی کا کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احمد خان کی عمر اس وقت 23سال تھی جب وہ اپنے ماں باپ سے جلد لوٹ آنے کا وعدہ کرکے سعودی عرب روانہ ہوئے مگر آج انہیں چار دہائیاں ہونے کو ہیں اور وہ واپس نہیں آئے۔ ان کے والدین بھی اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔احمد خان کا کہنا ہے کہ مسجد الحرام کی صفائی کے کام میں ان کا ایسا دل لگا کہ ان کی واپس جانے کی خواہش ہی ختم ہو گئی۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”میں جب سے یہاں آیا ہوں، ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے خاندان میں رہ رہا ہوں۔ مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں۔ جب بھی کوئی نیا آدمی مجھے ملتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں۔“ احمد خان اس وقت مسجد الحرام میں سینی ٹیشن ورک میں سپروائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/25-Sep-2021/1345265?fbclid=IwAR1qwjP45b6O3BN0U8G3w3MggPdAOBY6CT4XqCWclXGvvgjhxus0uYHYyio
پاکستانی کم عمرترین کوہ پیما شہروزکاشف نے ایک اور چوٹی سرکرلی۔
لاہوری ونڈربوائے 19 سالہ شہروز کاشف کے والد سلمان کاشف کے مطابق شہروز نے نیپال میں 8163 میٹر بلند چوٹی مناسلو پرصبح ساڑھے پانچ بجے پرچم لہرایا۔ اس طرح براڈ پیک، ماونٹ ایورسٹ اورکے ٹوکے بعد کاشف نے دنیا میں 8000 میٹربلند چوتھی چوٹی سرکرلی ہے۔
شہروزکاشف کی اس ایک اور کامیابی پر صوبائی وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی نے بہادر اورمثالی کوہ پیما شہروز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس کم عمری میں ایسی بہادری ودلیری کی مثال نہیں ملتی۔ کوہ پیمائی کے شعبے میں شہروزکاشف نوجوانوں کے رول ماڈل ہیں۔
یاد رہے کہ ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد شہروزکو اسپورٹس بورڈ پنجاب نے اپنا یوتھ ایمبیسیڈرمقررکیا تھا۔

https://www.express.pk/story/2228612/16/
وارث شاہ کا 223واں عرس مزار کو عرق گلاب سے غسل دیا گیا
24 September, 2021
پنجابی زبان کے شیکسپئر اور قصہ ہیر کے خالق پیر سید وارث شاہ کے 223 ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات شروع ہوگئیں
شیخوپورہ(ڈسٹرکٹ رپورٹر)پنجابی زبان کے شیکسپئر اور قصہ ہیر کے خالق پیر سید وارث شاہ کے 223 ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات شروع ہوگئیں جو 25ستمبر تک جاری رہیں گی ،تقریبات کا آغازمزار کو عرق گلاب سے غسل دیکر کیاگیا جس میں پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر محمد ندیم قریشی ،فیصل کاسترو ،طلعت فاطمہ نقوی ایم پی اے ، خان شیر اکبر خان ایم پی اے ،ڈپٹی کمشنرمحمد اصغر جوئیہ، رانا طاہر رشید ،چودھری امان سوہل اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے کہاکہ عرس کی تقریبات کے موقع پر سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کئے گئے ہیں،زائرین کیلئے ویکسی نیشن سینٹر قائم کرنے کیساتھ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے آج ضلع بھر میں مقامی چھٹی ہوگی۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-24/1886110
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/23092021/p1-lhr015.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/23092021/P6-Lhr-025.jpg
ویانا جوہری کانفرنس میں پاکستان کیلئے تین ایوارڈز کا اعلان
22 September, 2021

فیصل آباد کا ادارہ نایاب بہترین انسٹیٹیوٹ ڈکلیئر ،دو ماہرین کیلئے ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ
اسلام آباد (خصوصی وقا ئع نگار )ویانا میں ہونے والی آئی اے ای اے کی 65ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر پاکستان کو تین ایوارڈز سے نوازا گیا، ان ایوارڈز میں زرعی تحقیقی ادارہ نا یاب جوفیصل آباد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت قا ئم ہے ، کو بہترین انسٹیٹیوٹ اور وہاں کی کپاس پر تحقیقی سائنسدانوں کو اور ڈاکٹر کاشف ریاض خان کو نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور بین الاقوامی ادارہ برائے جوہری توانائی کی جانب سے ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، ڈاکٹر کاشف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زرعی ترقیاتی ادارے نایاب سے منسلک ہیں، یہ ایوارڈز آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے عطاکئے ، یہ اعزازات پاکستان میں ہونے والی نیوکلیئر تکنیک کے ذریعے سے زرعی شعبہ میں تحقیق کے اعلیٰ معیار کا عالمی اعتراف ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/city/islamabad/2021-09-22/1885056
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ۔۔۔۔ کامیاب مبلغ و داعی !! وفات کے 42 سال بعد بھی ان کی فکر چہار عالم میں موجود ہے
22 September, 2021

خصوصی ایڈیشن
تحریر : سینیٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان
مولانا کی نثر کا ایک نمایاں پہلو تفسیر القرآن اور سیرت نگاری ہے ۔ تفہیم القرآن جہاں شاہکار ہے، وہاں سیرت نگاری بھی انفرادیت کی حامل ہے
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒجہدِمسلسل اور ایک وژن کا نام ہے۔انہوں نے مخلوقِ خداکو اپنی طرف نہیں بلکہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی طرف بلایا ۔ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں توایک ہی درس ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے پیغام سے آپ سب سے پہلے اپنے دل کو منور کریں اور پھر سارے جہان میں اس نور کو پھیلادیں۔ مولانا مودودیؒ نے بے پناہ علمی کام کیا اور کم و بیش ہر اہم موضوع پر دلائل و براہین سے ثابت کیا کہ انسانیت کی رہنمائی کتاب اللہ اور سنت رسولﷺمیں ہے ۔ انہوں نے معیشت اور سیاست پر بھی بات کی اور سماجیات پر بھی کتب تحریر کیں۔ سودکی ممانعت اور پردے کی افادیت پر ان کی کتابیں ایک علمی خزانہ ہیں ۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی اس فکر کو پھیلانے اور دیے سے دیا جلانے کے لیے جماعتِ اسلامی کی صورت میں ایک منظم جماعت قائم کی۔ دنیا میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ایک آدمی مفکر ،مدبر اور مفسر بھی ہو، دانشور اور فلسفی ہو، محدث اور ادیب ہواوراس نے کوئی سیاسی جماعت بھی بنائی ہو۔ لیکن دنیا بھر میں شاید سید ابوالاعلیٰ موددی ؒہی وہ واحدشخصیت ہیں جنھوں نے جماعتِ اسلامی کی شکل میں ایک سیاسی تحریک کا بیڑہ اٹھایا۔ اس سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں انہیں جیل بھی جانا پڑا،بہت سارے لوگ جیل میں جاتے ہیں لیکن قید کے ایام کو انسانیت کی راہنمائی اور بھلائی کا ذریعہ
بنا نا شاید سید مولانا مودودیؒ کی قسمت میں لکھاتھا کہ وہ جیل میں گئے تو وہاں انہوں نے
تفہیم القرآن جیسی شہرہ آفاق تفسیر لکھ کر نئی نسل کو ایک ایسا تحفہ د یاجس کی نظیر کم ہی ملے گی۔ تفہیم القرآن نے بلاشبہ لاکھوں نوجوانوں کو
کفر و الحاد کے پھیلائے ہوئے جال سے بچا کر مومنانہ زندگی کا خوگر بنا دیا۔مولانا مودودیؒ نے سب سے زیادہ ہمارے زمانے کو متاثر کیا،خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ کوانہوں نے اپنے لٹریچر کے ذریعہ بے حدمتاثر کیا۔اُن کااصل ہدف بھی نئی نسل کی رہنمائی اور انہیں زمانے کی چکاچوند سے بچانااور اسلام کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا کر ایک جہد مسلسل کیلئے تیا ر کرنا تھا ۔وہ نوجوانوں کو دین کاخادم بنانا چاہتے تھے۔میرے خیال میں مولانا مودودیؒ اُس زمانے میں اللہ رب العزت کا ایک خصوصی انعام اور احسان تھے۔
سید مودودیؒ نے خود کو بیسویں صدی کے ایک مصلح، مبلغ اور داعی کے طور پر منوایا اور اپنی تعلیمات کوآنے والے ہر زمانے کیلئے روشنی کا ذریعہ بنا دیا۔سید مودودیؒ حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت مجدد الف ثانیؒ ، شاہ عبدالقادر جیلانی اورحضرت علی ہجویریؒ کاہی تسلسل ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر زمانے میں ایسے لوگ موجودرہیں جو لوگوں کی صحیح رہنمائی کرنے کا فریضہ سرانجام دیں، ہمارے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مولانا مودودیؒ سے خیر کا یہ کام لیا ۔ ۔!
مولانا مودودیؒ اس لحاظ سے کامیاب ٹھہرے کہ وہ ایک نظریاتی شخصیت اور اسلام کے ایک کامیاب مبلغ اور داعی تھے۔کامیاب مبلغ وہی ہوتا ہے جو اپنی تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو اپنے مؤقف پر قائل کرتا اوراپنے نظریے کو غالب کرتا ہے ، اگرچہ سید مودودیؒ نے خود کبھی حکومت کی نہ سرکاری ایوانوں میں گئے، لیکن ان کی کوششوں سے دین کو بحیثیت ایک نظام زندگی سیاست، معیشت اور تعلیم سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں داخل کردیا ۔انہوں نے عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ زندگی کے تمام مسائل کا حل قرآن و سنت میںموجود ہے،آج ساری دنیا میں اس فکر کو غلبہ حاصل ہورہا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ ممالک جن میں اسلام کا نام لینا مشکل تھا، اب وہاں کی نئی نسل کے ہاتھوں میں قرآن نظر آتا ہے ۔جگہ جگہ مساجد ہیں جن میں بزرگوں اور ضعیفوں سے زیادہ تعداد میں نوجوان اللہ کے حضور سربسجود نظرآتے ہیں۔یہ نوجوان ہر جگہ اسلامی انقلاب کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح کسی زمانے میں اسلام کاجو تصور مسجد کے کونے تک محدود تھا اب وہ بازاروں، حکومتی ایوانوں، عدالتوں اوردفاتر میں چلتا پھرتا اورآگے بڑھتا نظر آ ئے گا۔الحمدللہ! اسلام کے نور کی کرنیںدنیا بھرمیں پھیل رہی ہیں جس سے کفر والحادکا اندھیرا چھٹ رہا ہے،اسلام ہر جگہ پھلتا پھولتا نظر آرہا ہے۔بلاشبہ یہ عالمی اسلامی تحریکوں کی بہت بڑی کامیابی ہے جس میں مولانا مودودیؒ ، سیدقطب شہید ؒ اور سید حسن البنا شہید ؒ کی فکر کارفرما ہے ۔
سید مودودی ؒ کی42ویں برسی پر میں پاکستانی عوام اور کارکنان جماعت کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان جس نظریے کی بنیاد پر بنا ہے ، وہ ہے لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پاکستان مدینہ منورہ کے بعددنیا میں دوسری نظریاتی ریاست ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑاانعام ہے جواُس نے عالم اسلام کو دیاہے ۔ اگر ہم سب مل کر پاکستان کو اُس تصور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں جو تصور علامہ اقبالؒ ،قائداعظم محمد جناحؒ ، مولاناشبیر احمد عثمانی ؒاور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تھاتو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی اور پاکستان واقعی اپنے مقصدِ قیام کو پورا کرسکے گا۔ اگر ہم پاکستان کو ایک روشن اورمستحکم پاکستان بنالیں جو جہالت غربت، مہنگائی ، بیروزگاری اور ہر طرح کے استحصال سے پاک ہو تو ہم وہ پاکستان بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کا خواب حضرت علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا۔جس کی تعبیرقائد اعظم ؒ نے لکھی تھی اورجس کی تعمیرسید مودودیؒ کرنا چاہتے تھے ۔یہی اسلامی و خوشحال پاکستان کا ایجنڈاہے جو ہم نے قوم کو دیا ہے ۔
لیاقت بلوچ
( نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان)
سید مودودی ؒ کو ہم سے جدا ہوئے 42 سال بیت گئے ہیں ۔ اُن کی فکر آج چہار عالم میں پھیل چکی ہے ۔ دنیا ان کی فکر کی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے ۔ درحقیقت بیسویں اور اکیسویں صدی میں جن شخصیات کے افکار نے پوری دنیا ، بالخصوص مسلم دنیا کو متاثر کیاہے ان میں علامہ اقبال ؒ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ، حسن البناء شہید اور سید قطب شہید کے نام نمایاں ہیں ۔آ ج ان عظیم ہستیوں خصوصاً سید مودودی ؒ کے افکار، ان کی حیات ، خدمات ، احیائے اسلام اور اقامتِ دین کی جدوجہد کے تمام پہلوئوں کو کل سے زیادہ محفوظ کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب خال خال ہی وہ افراد بقید حیات ہیں جن کو مولانا مودودی ؒ کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا اور جو اُن کے ہم عصر تھے ۔ 42برس گزرنے کے بعد نئی نسل تک ان کی فکر اور احیائے اسلام کے لیے جدوجہد کو منتقل کرنا جہاں ایک ضرورت ہے وہاں سید مودودیؒ کا ہم پر قرض ہے ۔ بلاشبہ اس حوالہ سے مولانا مودودی ؒپر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ان کے رفقا ء نعیم صدیقی ، سید اسعد گیلانی ، آباد شاہ پوری ، رفیع الدین ہاشمی ،سلیم منصور خالد اور دیگر احباب نے بہت عمدہ کتابیں لکھی ہیں جو ہمارے لیے بہت قیمتی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان پر سوانحی رنگ غالب ہے۔
ادبیاتِ مودودیؒ کے نام سے پروفیسر خورشید احمد نے ایک گراں قدر کاوش کی تھی جس کے تحت مولانا مودودیؒ کے ادب اور ان کے طرزِ نگارش کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا۔اِس میں معروف اہل قلم کی تحریریں پیش کی گئیں اور مولانا مودودیؒ کے طر ز نگارش کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ۔
مولانا مودودیؒ کے افکار ،ان کی جدوجہد اور لٹریچر تو زیر بحث آتے رہے ہیںلیکن مودودی ؒ بحیثیت نثر نگار جس مقام کے حامل ہیں اور جس علمی انداز میںاس کا جائزہ لینے کی ضرورت تھی اس طرف کم توجہ دی گئی ۔ڈاکٹر محمد جاوید نے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی جو خود مولانا مودودی ؒکے ہم عصر اور ان کے رفقا میں سے ہیں کی نگرانی میں اس موضوع پر کام کیا او راس کا حق ادا کیا ۔
کسی بھی شخصیت کے کام کا صحیح معنوں میں اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتاہے کہ وہ پس منظر اور حالات سامنے ہوں جن میں اُنہوں نے کام کیا اور جدوجہد کی ۔ سید مودودی ؒ نے جس عہد میں علمی و فکری جدوجہد کا آغاز کیا اور اپنے افکار پیش کرنے کے لیے قلمی میدان چنا وہ کٹھن دور تھا۔ ایک طرف مغربی تہذیب کی بالادستی اور جادو سر چڑھ کر بول رہاتھا جس نے مسلمانوں کو سحر زدہ کر رکھاتھا اور مسلمان شکست خوردگی کی کیفیت سے دوچار تھے ۔دوسری طرف الحاد اوردہریت کے فتنے سے دین و ایمان کو خطرات لاحق تھے۔ ان حالات میں ایک ایسے فرد کی ضرورت تھی جو جدیدو قدیم پر نظر رکھتاہو اور پورے اعتماد سے مغربی افکار کا منہ توڑ جواب دے سکے ۔ ایسے میں سید مودودی ؒ کی شخصیت ابھرتی ہے اور امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے ۔
مولانا کی نثر کا ایک نمایاں پہلو تفسیر القرآن اور سیرت نگاری ہے ۔ تفہیم القرآن جہاں شاہکار ہے، وہاں سیرت نگاری بھی انفرادیت کی حامل ہے ۔ آپ نے سیرت نگاری کو واقعاتی انداز کے بجائے تحریکی انداز میں پیش کیاہے جو ایک منفرد اندازِ تحریر ہے ۔ یہ بلاشبہ تفسیر اور سیرت میں مولانا مودودی ؒکا اجتہاد ی کارنامہ ہے ۔
مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب ؒ اپنے دور میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ پر سخت تنقید کرنے والوں میں سے تھے ۔1973 ء میں بنگلہ دیش نامنظور مہم کے سلسلے میں مجھے اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم پنجاب کی حیثیت سے وفد کے ساتھ ایم این اے ہاسٹل اسلام آباد میں ان سے ملاقات کا موقع ملا ۔ ہم بنگلہ دیش نامنظور کے حوالے سے یاد داشت ممبران پارلیمنٹ کو دے رہے تھے۔ جب مولانا غلام غوث ہزارو ی کے کمرہ میں ان سے گفتگو ہوئی تو دیکھا کہ ان کے کمرے کی میز پر مولانا مودودیؒ کی کتب تفہیم القرآن سوئم ، پردہ ، سود وغیرہ پڑی تھیں اور ان میں یاد داشت کے لیے کاغذ رکھے ہوئے تھے ۔ ہم نے کہاکہ مولانا آپ تو ہمیں منع کرتے ہیں لیکن یہ کتب آپ کے پاس کیسے ؟تو مولانا غلام غوث ہزارو ی نے فرمایا کہ ’’بات تمہاری بھی ٹھیک ہے لیکن یہ ظالم لکھتا بہت اچھاہے ، بڑے دلائل ہوتے ہیں ، اسمبلی میں گفتگو کے لیے اچھی تیاری ہو جاتی ہے ۔‘‘
آج کے دور میں مولانا مودودی ؒ کی فکر کی روشنی میں امت کے بکھرے شیرازہ کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔
نظام ریاست میں غلبہ دین کے لیے طاقت کی بجائے دعوت و تبلیغ ، ذہنی و فکری اصلاح اور افکار کی تطہیر کے ذریعے پرامن سیاسی ، جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے قیادت و نظام کی تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے ۔ عالمی استعماری قوتیں ناکام ہو رہی ہیں ۔ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہاہے ۔ اسلامی تحریکوں پر اگرچہ ابتلاو آزمائش کا دور ہے لیکن یہ امرنوشتۂ دیوار ہے کہ مستقبل کا نظام قرآن وسنت کی تعلیمات اور مسلمانوں کی بیدار قیادت سے وابستہ ہے ۔
دانشور اور نقاد حضرات سے اپیل ہے کہ نام نہاد ترقی پسندی اور فلسفہ اشتراکیت ڈوب گیا ،اب سیکولرازم ، روشن خیالی ، مادر پدر فکری آزادی کی بجائے دینی اور نظریاتی بنیادوں پر ان تحریروں اور نگارشات پر بدلتے حالات کی حقیقت کو تسلیم کرلیں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو ملی تعمیر کے لیے صحیح رخ پر استعمال کریں ۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-edition/2021-09-22/1817
30 ہزار سے زائد افراد کو کلمہ پڑھانے والے شیخ محمد ڈیلا بینیالی وفات پا گئے
Sep 22, 2021 | 15:20:PM

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) فلپائن سے تعلق رکھنے والے مبلغ شیخ محمد ڈیلا بینیا منگل کی شب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں وفات پا گئے ، وہ عرصہ سے علیل تھے ۔
شیخ محمد ڈیلابینیا نے 25 برس تک ریاض میں 'کمیونٹیز دعوہ بیورو" میں اسلام کی تبلیغ انجام دی، البطحاء میں دعوہ والارشاد سوسائٹی نے شیخ محمد کی وفات پر تعزیت کا اظہار اور ان کے درجات کی بلند کی دعا کی ہے۔
سوسائٹی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ گذشتہ برسوں کے دوران میں البطحاء بیورو میں مرحوم شیخ محمد کے ہاتھ پر 30 ہزار سے زیادہ افراد نے اسلام قبول کیا۔ شیخ محمد دعوت و ارشاد کے اس بیورو میں سرکاری مبلغ کے طور پر کام کرتے تھے۔
سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس خبر پر رد عمل کا اظہار کیا۔ صارفین نے مملکت میں فلپائنی کمیونٹی کے درمیان اسلام کی بنیادی تعلیمات پھیلانے اور انہیں دینی امور سکھانے کے حوالے سے شیخ محمد کی کوششوں کو سراہا۔
https://dailypakistan.com.pk/22-Sep-2021/1343988?fbclid=IwAR34uI29hdIOQH1Rwhl9BvdqzFLh7lsdYY8tljI6xUY9tzu-MN0lAChQ-OE
ورلڈ 6ریڈ سنوکر ،قومی کیوئسٹ کواٹر فائنل میں داخل
21 September, 2021

قطر میں جاری ورلڈ 6 ریڈ سنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان کے حارث طاہر اور بابر مسیح کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
دوحہ(سپورٹس ڈیسک)دوحہ میں جاری آئی بی ایس ایف ورلڈ 6 ریڈ ٹورنامنٹ کے پری کوارٹر فائنل میں حارث طاہر نے متحدہ عرب امارات کے خالد کمالی کو ہرایا جبکہ بابر مسیح نے راؤنڈ آف 16 میں بیلجیئم کے کیون ہینسنز کو شکست دی۔ورلڈ 6 ریڈ سنوکر چیمپئن شپ کا کوارٹر فائنل آج شام ہو گا جس میں کوارٹر فائنل میں پاکستان کے بابر مسیح اور حارث طاہر ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہوں گے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/sports/2021-09-21/1884748
انتقال کے دس سال بعد بھی دلوں میں زندہ،شہنشاہ قوالی مقبول احمد صابری
21 September, 2021

اسپیشل فیچر
تحریر : مہروز علی خان
دنیا بھر میں قوالی اوردیگر صوفیانہ کلام کی گائیکی کے ذریعے شہرت کمانے والے صابری برادران کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔غلام فرید صابری کے چھوٹے بھائی شنہشا ہ ِقوالی اور موسیقار مقبول احمد صابری کی
آ ج 10 ویں برسی ہے ۔غلام فریدصابری اور مقبول احمد صابری کا قوالی گائیکی کا انداز منفرد اور شاندار تھا جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
صابری برادران نے اپنی پہلا لائیو پرفارمنس اپنے آبائی شہر کلیانہ میں ہی پیش کی تھی ، یہ ایک عرس کی تقریب تھی جس میں بڑی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد غلام فرید صابری کے انتقال تک صابری برادران کا قوالی کی دنیا میں کوئی ہم پلہ نہیں رہا تھا اور انہوں نے سبھی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
ساتویں اور آٹھویں دہائی میں غلام فرید صابری اور مقبول صابری کی قوالیوں کے بے شمار کیسٹ، ریکارڈز اور البم ریلیز ہوئے اور ان کی ریکارڈ سیل بھی ہوتی تھی۔ صابری برادران نے نہ صرف پاکستان میں فن قوالی کا الگ اندازسے مظاہرہ کیا بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے۔
غلام فرید صابری کی آواز بہت بلند تھی اور اونچے سرکے بہترین گائیک تھے جبکہ مقبول صابری کی آواز شیریں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب دونوں بھائی اپنے مخصوص سْر اور تال ملاکر گاتے تھے تو سامعین پر کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا مقبول صابری کی آواز غزل گائیکی کیلئے بھی بہت مناسب تھی اور وہ ایک بہترین غزل گائیک بن سکتے تھے ۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی غلام فرید کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کے ساتھ قوالی کے فن کو آگے بڑھاتے رہے۔
غلام فرید اور مقبول صابری دونوں بھائیوں نے کئی فلموں میں بھی قوالیاں پیش کی تھیں۔ فلم 'سلطان ہند‘ میں ''آفتاب رسالت مدینے میں ہے...‘‘ قوالی گاتے ہوئے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کی درگاہ میں انہیں دکھایا گیا تھا۔ صابری برادران کی بے حد مقبول قوالیوں میں ''بھر دو جھولی میری یا محمدؐ، ‘‘''تاجدار حرم،‘‘'' سرِلامکاں سے طلب ہوئی‘‘، ،''خواجہ کی دیوانی‘‘، ''جتنا دیا سرکار نے مجھ کو،‘‘ ''میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا‘‘،'' تو مولا ہے تیرے کرم ہیں نرالے‘‘، ''میرے مولا مجھے اجمیر جانے کی تمنا ہے‘‘، ''فرقت کی ہزاروں راتوں سے‘‘، '' دمادم مست قلندر‘‘، اور''یا ''صاحب الجمال‘‘ چند ایسی قوالیاں ہیں جو صابری برادران کے اپنے مخصوص طرز پر گانے کی وجہ سے عالمی پیمانے پر مقبول ہوئیں۔
صابری برادران جس قدر پاکستان میں مقبول تھے، اس سے کہیں زیادہ ہندوستان اور دنیا بھر کے اْن ممالک میں بھی مقبول تھے جہاں اردو سنی اور سمجھی جاتی ہے،اِن دونوں کو قوالی گائیکی کی خدمات کیااعتراف میں متعددایوارڈز بھی ملے۔ وہ جب اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے تو سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ قوالی کی حقیقی روایات کو برقرار رکھنے والے صابری برادران کی گائیکی میں جو ندرت اور انوکھاپن تھا وہ اب شاید ہی کہیں اور سننے کو ملے۔یہی سبب ہے کہ جب کبھی قوالی کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں مقبول صابری اور غلام فرید صابری کا نام سر ِفہرست ہوگا۔
منفرد اور مختلف انداز کے قوال مقبول احمد صابری 21 ستمبر2011ء کو اپنے مداحوں کو اداس چھوڑ کر اور قوالی کی محفلوں کو ویران کر کے خالق حقیقی سے جاملے۔
مقبول صابری کی پیدائش 12اکتوبر 1941 کو پنجاب کے ضلع روہتک کے موضع کلیانہ میں استاد عنایت حسین صابری کے گھر میں ہوئی۔ وہ اپنے بڑے بھائی غلام فرید صابری سے گیارہ برس چھوٹے تھے۔ اِس خاندان کا تعلق روحانی سلسلہ صابری سے تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1947 میں ہی اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آ گئے۔ مقبول صابری نے موسیقی اور گائیکی کی تعلیم ابتدا میں اپنے والد اور بعد میں استاد فتح دین استاد رمضان خاں اور استاد لطافت حسین خاں رامپوری سے حاصل کی۔ دونوں بھائیوں نے اپنے والد کے تعاون سے ایک پارٹی بنائی اور صابری برادران کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس وقت مقبول صابری کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-21/25237
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا،آج اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سو دس سال بیت گئے
20 September, 2021

اسپیشل فیچر
تحریر : سعید واثق
''کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا‘‘
اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو اس
دارِ فانی سے گزرے آ ج دو سو دس سال کا عرصہ گزر گیا لیکن ان کا کلام آ ج بھی دلوں پہ سحر طاری کر دیتا ہے ۔میر تقی میر آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے۔ اس کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔
یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداء ہوئی۔۔ تلاشِ معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے۔
میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ مسلسل تنگدستی اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔
مولانا محمد حسین آزاد ''آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔
'' میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اُس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اُس نے بات کی ۔میر چیں بچیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھئے مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔'' حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ ‘‘میر صاحب بگڑ کر بولے کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اُترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اُسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو انہیں دیکھ کر سب لوگ ہنسنے لگے، میر نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے
سب کو حال معلوم ہوا تو میر تقی میر سے بہت معذرت طلب کی۔
میر نے اِک جہاں کو اپنا گرویدہ کیا اور سترہ سو اڑتالیس میں لکھنؤ جا بسے۔ یہاں رْباعی، مثنوی، قصیدہ اور خصوصاً غزل گوئی کوعروجِ ادب پر پہنچا دیا۔
دکھائی دیے یوں کہ بیخود کیا
ہمیں آ پ سے بھی جدا کر چلے
میر کی شاعری میں غم والم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ غم میر کا ذاتی غم بھی تھا اور یہی انسان کی ازلی اور ابدی تقدیر کاغم بھی تھا۔مرزا اسد اللہ غالب اور میر تقی میر کی شاعری کا تقابلی جائزہ اہلِ ادب کے ہاں عام ہے، مگر خود غالب بھی میر کے شیدائی تھے۔
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد ِمیر نہیں
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-20/25236
گائے گی دنیا گیت میرے،ملکہ ترنم نور جہاں 95 برس قبل آج ہی کے دن چمکنے والا موسیقی کی دنیا کا سب سے روشن ستارہ 21 September, 2021

خصوصی ایڈیشن
تحریر : سعید واثق
میڈم کی جب بھی کسی انٹرویو میں تعریف کی جاتی توہمیشہ ایک ہی بات کہتیں ’’یہ اللہ کا کرم ہے‘‘یا پھر ’’یہ سب تمہاراکرم ہے آ قا کہ بات اب تک بنی ہو ئی ہے‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ مالک کی خاص عطا اور کرم کے بغیر کے کوئی انسان کچھ نہیں بن سکتا،وہ نور جہاں جیسی معجزاتی گلوکارہ ہو یا کو ئی اور۔لیکن ہر دم اْس مالک کو یاد رکھنا،اس کی دَین پہ شکر گزار رہنا، بے پناہ شہرت اور دلبری کے با وجود عاجزی کی کیفیت میں رہنا،یہ بہت بڑی خوبی ہے۔میڈم نور جہاں کو دنیا بر صغیر کی بہترین گلوکارہ مانتی ہے، کتنی ہی گلوکارائیں آئیں مگر سُر اور لے کے اْس درجے کو چھو بھی نہ سکیں،آ پ میڈم کا کوئی بھی گیت سنیں ۔کیا ذہن میں خیال نہیں آ تا!’’خدا خبر کہ کہ کہاں سے یہ لو گ آ ئے ہیں‘‘ اپنے فن سے اُن کی بے پایاں وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔یہ عام سا جملہ ہے کہ فن کے لئے بہت قربانیاں دینا پڑتی ہیں مگرمیڈم کی زندگی اس بات کاجیتا جا گتا ثبوت ہےملکہ ترنم نورجہاں کے بھتیجے حاجی سلیم( جو پرانی انار کلی میں ہوٹل چلایا کرتے تھے اور میڈم کے ساتھ کم و بیش 40سال تک رہے ،پنڈی میں میڈم کے سنگیت سینما کی نگرانی بھی کرتے رہے) سے جب یہ بات کی تو انہوں نے کہا ’’یہ درست ہے اُنہوں نے اپنی گائیکی کے راستے میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہو نے دیا۔‘‘
میڈم خود بھی کئی انٹرویوز میں کہہ چکی ہیں کہ نجی زندگی میں بارہا ایسے مقامات آ ئے جب ان کے لئے گائیکی سے جڑے رہنا مشکل تھالیکن انہوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔گانا پہلے۔۔۔باقی سب کچھ اس کے بعد!
وہ کہتی تھیں گانا میرے لئے زندگی کے مانندہے۔
اگر انہوں نے یہ کہا کہ گانا مجھے اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہے تو پھر یہ جاننے میں کوئی الجھن نہیں رہتی کہ انہوں نے تادم مرگ اس شعبہ میں کس طرح خود کو زندہ رکھا؟۔اپنی لگن اور کمٹمنٹ سے!
وہ کہتی تھیں’’ گانا میری سانس ہے۔۔‘‘بیماری کے ایام میں ڈاکٹروں نے کئی بار انہیں گانے سے منع کیا۔
مگروہ کہتی تھیں۔۔۔۔۔’’گانے کے بغیر میں مرجائوں گی‘‘
دوسری جانب یہ بات مکمل طور پر درست ہے کہ میڈم کی نجی زندگی زیادہ کامیاب نہیں رہی۔مگر ایسے لوگوں کی ازدواجی زندگی میں اتار چڑھائو آ نا ایک قدرتی امر ہے ۔وہ یا تو بطور عظیم گلوکارہ زندہ رہتیں یا پھر ازدواجی زندگی کے مسائل سے
نبرد آ زما رہتیں۔
میڈم نورجہاں سر زمین پاکستان کا وہ دمکتا ہوا ستارہ ہیں جس کی روشنی کبھی ماند نہیں ہو گی۔
آ ج احساس ہوتا ہے میڈم کا عام سے عام گانا بھی خاص ہے مگر ان کا کمال یہ تھاوہ اپنے بڑے سے بڑے گانے سے بھی کبھی مطمئن نہ ہوئیں۔ خود میں نقص ڈھونڈتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔
نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو قصور میں پیدا ہوئی تھیں۔ ماں باپ نے ان کا نام اللہ وسائی رکھا چار سال کی عمرمیں انھیں موسیقی کی تعلیم کے لیے خاندانی استاد غلام محمد کے سپرد کر دیا گیا۔سات برس کی عمر میں انھیں موسیقی کی اتنی شد بد ہو چکی تھی کہ وہ اپنی بڑی بہن عیدن اور کزن حیدر باندی کے ساتھ سٹیج پر گانا گانے لگی تھیں۔ ابتدا میں وہ مختار بیگم، اختری بائی فیض آبادی اور دوسری گلوکارائوں کے مقبول گیت گاتی تھیں۔
لاہور میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد یہ بہنیں اپنے بھائی کے ساتھ کلکتہ چلی آئیں۔ اس وقت کلکتہ میں مختار بیگم کا طوطیٰ بول رہا تھا۔ اس خاندان نے جلد ہی مختار بیگم تک رسائی حاصل کر لی اور مختار بیگم کو ان بہنوں کی آواز پسند آئی۔ ان کی سفارش پر انھیں ایک فلم کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ اس کمپنی نے اللہ وسائی کا نام ’’بے بی نور جہاں‘‘رکھا جبکہ عیدن اور حیدر بائی اپنے اصل نام کے ساتھ ہی گاتی رہیں۔تینوں بہنوں نے جس پہلی فلم میں کام کیا اس کا نام 'شیلا عرف پنڈ دی کڑی ‘‘تھا۔ اس فلم میں مرکزی کردار پشپا رانی اور استاد مبارک علی خان نے ادا کیے تھے۔اس فلم میں نور جہاں نے ایک گانے ’’لنگھ آجا پتن چنہاں دا ،او یار، لنگھ آ جا‘‘پر پرفارم کیا جسے پسند کیا گیا اور اگلے تین چار سال تک انھیں فلموں میں ثانوی کردار ملتے رہے۔ چند فلموں میں انھیں گانے کا موقع بھی ملا جن میں ’’مصر کا ستارہ‘‘، ’’مسٹر اینڈ مسز بمبئی‘‘ ’’ناری راج‘‘ ’’ہیر سیال'‘اور ’’سسی پنوں'‘‘کے نام شامل تھے۔جس فلم سے نور جہاں کو پہچان ملی وہ دل سکھ ایم پنچولی کی فلم ’’گل بکاؤلی‘‘ تھی۔ اس فلم کے موسیقار ماسٹر غلام حیدر تھے۔ اس فلم کے لیے جب نورجہاں نے اپنا پہلا نغمہ صدا بند کروایا تو ہر طرف اُن کی دھوم مچ گئی۔ اس گانے کے بول تھے 'شالا جوانیاں مانیں، آکھا نہ موڑیں،‘‘
1939 میں جب یہ فلم نمائش پذیر ہوئی تو پنجاب کا بچہ بچہ نورجہاں سے واقف ہو چکا تھا۔
اس کے بعد یکے بعد دیگرے نورجہاں کے نغمات اور اداکاری سے مزید فلمیں نمائش کے لیے پیش ہونے لگیں جن میں ’’یملا جٹ ‘‘اور ’’چودھری'‘‘کے نام شامل تھے۔پھر شوکت حسین رضوی تھے نے اردو سوشل فلم ’’خاندان‘‘بنائی۔ شوکت حسین رضوی نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے نورجہاں کا انتخاب کیا۔ اس فلم کی موسیقی بھی ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی تھی۔
’’خاندان ‘‘کے بعد اگلے دو تین برسوں میں نورجہاں کی بطور اداکارہ و گلوکارہ کئی فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوئیںتاہم جب 1945 میں فلم ’’زینت‘‘ ریلیز ہوئی تو اس فلم کے نغمات نے پورے انڈیا میں دھوم مچا دی اور ہر طرف نورجہاں کی آ واز کا ڈنکا بجنے لگا
قیام پاکستان کے بعدبطور اداکارہ ان کی فلموں میں ’گلنار‘، ’دوپٹہ‘، ’پاٹے خان‘، ’لخت جگر‘، ’انتظار‘، ’نیند‘، ’کوئل‘، ’چھومنتر‘، ’انارکلی‘ اور ’مرزا غالب‘ نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ بعدازاں انھوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کر لیا۔ نورجہاں نے کم و بیش 995 فلموں کے لیے نغمات ریکارڈ کروائے۔ بطور گلوکارہ ان کی آخری فلم 'گبھرو پنجاب دا' تھی جو 2000 میں ریلیز ہوئی تھی۔نورجہاں کے کریڈٹ پر لاتعداد غزلوں کے علاوہ 27 ملی نغمات بھی موجود ہیں۔حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نشان امتیاز بھی عطا کیا تھا۔وہ 23 دسمبر 2000 کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
فی زمانہ پاکستان ہی کیا ہمسایہ ملک میں بھی بے شمار گلوکارائیں ہیں جن سب کی گائیکی کا راستہ میڈم نورجہاں سے ہو کر گزرتا ہے۔یہ حقیقت ہے نورجہاں جیسی کوئی دوسری گلوکارہ دور دور تک نظر نہیں آ تی اور شاید اُن جیسا کوئی بن بھی نہیں سکتا۔ان کا انداز انمٹ ہے اور ان کے گیت زمانوں کو متاثر کرنے والے ہیں ۔ تنویر نقوی نے ان کے لئے فلم ‘‘موسیقار‘‘ میں جو گیت لکھا تھا’’گائے گی دنیا گیت مرے‘‘ شاید اس سے بڑا سچ کو ئی نہیں۔۔ان کے گیت عام و خاص تو گاتے ہی ہیں مگر بے شمار دوسرے فنکار بھی انہی کے گانے گا کر اپنے فن کا اظہار کرتے ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-edition/2021-09-21/1816
میڈم کے ملی نغمات آج بھی قوم میں ولولہ پیدا کرتے ہیں
21 September, 2021

خصوصی ایڈیشن
تحریر : روزنامہ دنیا
یہ حقیقت ہے کہ 1965ء کی جنگ میں میڈم نورجہاں کا بھرپور حصہ رہا۔ فوج اور عوام کا حوصلہ بڑھانے میں جنگ کے آغاز ہی سے میڈم نے ریڈیو پاکستان میں اپنا مورچہ لگا لیا تھا۔ کیااعلیٰ گیت لکھے گئے۔ کئی گیتوں کی دھنیں بھی انہوں نے خود ہی بنائیں۔ 1965ء میں انہیں جنگِ ستمبر میں ترانے گانے پر خصوصی نگار ایوارڈ دیا گیا۔
ملکہء موسیقی روشن آراء بیگم کے بعد پاکستان کی دوسری خاتون ہیں جنہیں گانے پر صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی بھی دیا گیا۔ اسی سال 1965ء میں جنگ کے دوران حوصلہ بڑھانے پر فوج کی جانب سے میڈم کو تمغہ امتیاز دیا گیا۔ وہ پاکستان کی سب سے پہلی گلوکارتھیں جنہوں نے 1991 ء میں رائل البرٹ ہال لندن میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ بھی انہیں بہت سے اعزازات اور خطابات سے نوازا گیا۔
1965 کی پاک بھارت جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کو سب سے زیادہ ملی ترانے ریکارڈ کرانے کا اعزاز حاصل ہوا۔جنگ کے پرجوش لمحات میں ملکہ ترنم نور جہاں کے گیت نشر ہوتے تو میدان جنگ میں لڑنے والے پاک افواج کے جوانوں کے حوصلے بلند ہوجاتے، ساتھ ہی عوام میں جوش وجذبہ پیدا ہو تااور ہر کوئی میدان جنگ کی طرف چل دیتا۔’’ میرا ماہی چھیل چھبیلا،’’ ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘، ’’زندہ ہے لاہور ،پائندہ ہے لاہور‘‘ اور،’’اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے توں لبدی پھریں بازار کڑے‘‘ جیسے نغمات سے ملکہ ترنم نے جارح بھارتی فوج کو وطن کی حفاظت کرتی ہوئی غیور قوم کا پیغام دیا ‘‘۔اسکے ساتھ ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ اور’میریا ڈھول سپاہیا وے تینوں رب دیاں رکھاں‘‘ ان کے مقبول ملی نغمات ہیں ۔جو شہرت’’ اے وطن کے سجیلے جوانو !‘‘کو ملی اسے بھی کوئی نہیں بھول سکتا ۔یہ نغمات آ ج بھی لہو گرما دیتے ہیں ۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-edition/2021-09-21/1815
لتا منگیشکرکی نورجہاں سے پہلی ملاقات
21 September, 2021

خصوصی ایڈیشن
تحریر : روزنامہ دنیا
لتا منگیشکر بتاتی ہیں کہ 1943میں پروفول پکچرز کے بینر تلے’ ’بڑی ماں ‘‘ کے نام سے فلم بن رہی تھی اس میں نورجہاں ہیروئین تھیں اور میں ایک بہت ہی چھوٹا کردار ادا کر رہی تھی اورمیرا نورجہاں کے ساتھ کوئی بھی سین نہ تھا۔لیکن اسی سیٹ پر میری ملاقات ماسٹر وینائک نے میڈم سے کروائی۔مجھے یاد ہے کہ ماسٹر ونائیک نے نورجہاں سے کہا کہ ہمارے پاس ایک لڑکی ہے جو بہت اچھا گاتی ہے اگر آپ کہیں تو آپ سے اسکو ملوائوں تو میڈم نے کہا کہ ضرور آپ اس لڑکی بلوائیے۔ مجھے سیٹ پر بلوایا گیا ۔میں وہاں پہنچی تو نورجہاں پہلے سے بیٹھی ہوئی تھیں ۔میں بھی پاس جا کر بیٹھ گئی ۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا ،ہم لوگ مراٹھی فیملی سے تھے، ہندی بولنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے میں نورجہاں کے ساتھ اچھی طرح سے ہندی میں بات نہ کر پائوں گی۔ ابھی یہ چیزسوچ ہی رہی تھی کہ نورجہاں بولیں’’ بیٹا کیا نام ہے تمہار؟‘‘ا میں نے کہا ’’لتا منگیشکر ‘‘تو کہنے لگیں کہ گانا تو سنائو۔میں نے چونکہ کلاسیکل اپنے والد سے سیکھا ہو ا تھا تو میں نے میڈم کو کلاسیکل گانا سنایا۔ اپنی طرف سے سْر میں گانے کی بھرپور کوشش کی ،نورجہاں’’ بولیں کیا کوئی فلمی گانا سنائو گی،‘‘ تو میں نے ان کو ’’جیون ہے بیکاربنا تمہارے‘‘ سنایا تو وہ بہت خوش ہوئیں ۔یوں ہماری پہلی ملاقات بہت ہی خوشگوار رہی اور میں بہت خوش بھی تھی کہ میڈم نے میری گائیگی کی تعریف کی ہے۔میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-edition/2021-09-21/1814
میں سب کچھ اِنہی کی وجہ سے ہوں۔۔
21 September, 2021

خصوصی ایڈیشن
تحریر : روزنامہ دنیا
موسیقار اختر اللہ دتہ نے میڈم کی دریا دلی کاایک واقعہ یوں بیان کیا ’’میرے والد (ریڈیو پاکستان کے مشہور طبلہ نواز اْستاد اللہ دتہ) نے ہمیں بتایا کہ ایک مرتبہ میڈم کے ساتھ طبلہ بجانے والے صاحب علیل ہو کر میو ہسپتال لاہور کے جنرل وارڈ میں داخل تھے۔
میرے والد اْن طبلہ نواز کے سرہانے بیٹھے ہوئے تھے کہ دفعتاً میڈم نورجہاں اپنی بیٹی ظلِ ہما کے ساتھ وارڈ میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے ماسٹر صاحب اور میرے والد صاحب کی خیریت معلوم کی اور اپنے پرس سے ایک موٹا تگڑا لفافہ نکال کر اپنے طبلہ نواز کو دیا۔وہ اْسے اپنے تکیہ کے نیچے رکھنے لگے تو میڈم بے ساختہ بولیں کہ اسے کھولیں اور گنیں۔ اْس غریب نے کیا گننا تھا۔۔۔۔۔ وہ اتنی بھاری رقم تھی کہ اْس بے چارے نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھی ہو گی۔ گھبرا کر اْس نے میڈم سے سوال کیا کہ کیا یہ اْس کے لئے ہے؟ میڈم کے ا ثبات میں سر ہلانے سے ظلِ ہما، جو اْس وقت 13 سال کی ہوں گی چپ نہ رہ سکیں اور اپنی والدہ سے کہا ’’اِن ماسٹر صاحب کو اتنے زیادہ پیسے؟ ‘‘۔ جواب میں میڈم نے اپنی بیٹی کو بلندآ واز میں سخت سست کہا جو تمام وارڈ نے سْنا اور پھر یہ تاریخی جملہ ادا کیا: ’’تجھے کیا علم! ارے! میں جو کچھ بھی ہوں انہی ہاتھوں کی وجہ سے ہوں! چل اْٹھ! ‘‘۔ پھر غصہ کی حالت میں بغیر سلام دعا وہاں سے چل دیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-edition/2021-09-21/1813
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کاعرس،سندھ میں کل تعطیل
21 September, 2021
سندھ حکومت نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 278 ویں عرس کے موقع پر صو بہ بھر میں کل 22 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے
کراچی(دنیا نیوز )سندھ حکومت نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 278 ویں عرس کے موقع پر صو بہ بھر میں کل 22 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے ۔چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-21/1884682
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/21092021/P1-LHR-041.jpg
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108661612&Issue=NP_PEW&Date=20210920
وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد
19 September, 2021

وزیر افضل جیسا شاندار موسیقار بھی دنیا سے چلا گیا۔گذشتہ دنوں ان کا انتقال ہوا تو موسیقی کے شائقین غمزدہ ہو گئے۔
وزیر افضل واحد موسیقار تھے جنہیں خواجہ خورشید انور کا گنڈا بند شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور وہ ہمیشہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے۔
اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب کا گھرانہ گانے بجانے سے وابستہ نہیں تھا جبکہ وزیر کا تعلق موسیقار گھرانے سے تھا۔ موسیقار گھرانوں کو خود اور اپنے ورثے پر ہمیشہ بہت مان رہا اس کے باوجود وزیر ایک موسیقی سے تعلق نہ رکھنے والے گھرانے کے شاگرد بنے۔بتدا میں وزیر افضل فلموں کی پس پردہ موسیقی ترتیب دیا کرتے تھے۔ انہیں پنجابی فلموں کے معروف ہدایت کار اسلم ایرانی نے اپنی فلم' 'چاچا خواہ مخواہ‘ ‘ کی پس پردہ موسیقی کے لیے سائن کرلیا۔ اسلم ایرانی کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے اَن بن ہو گئی اور وزیر افضل کو کچھ گیت ترتیب دینے کا موقع مل گیا۔ منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کی آوازوں میں ان کا پہلا ہی گیت مقبول ہوا 'ایتھے وگدے نے راوی تے چناں بیلیا۔‘
ان کی اگلی فلم 'زمین‘ 1965 میں ریلیز ہوئی جومہدی حسن کے ایک انتہائی لاجواب گیت کی وجہ سے امر ہو گئی۔ مشیر کاظمی کے لکھے گیت 'شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے،‘ کی دھن اور مہدی حسن کی پرسوز آواز آج بھی دل درد سے بھر دیتی ہے۔ ۔اپنی تیسری فلم 'دل دا جانی‘ سے وہ نہ صرف شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے بلکہ اپنی فنی مہارت کی دھاک بٹھانے میں بھی کامیاب رہے۔ جب ہم 'سیونی میرے دل دا جانی‘ سننے بیٹھتے ہیں تو حزیں قادری کے سادہ بول، میڈیم نور جہاں کی درد میں ڈوبی آواز اور وزیر افضل کی سْچی دھن دل کی فضا کو پوری طرح سوگوار کر دیتی ہے۔1968 ان کی ریلیز ہونے والی آٹھ پنجابی فلموں میں کامیاب ترین 'جماں جنج نال‘ تھی۔ یہ ممکن ہی نہیں کوئی شخص موسیقی کا پرستار ہو اور اس نے 'کیندے نے نیناں، تیرے کول رہنا‘ نہ سنا ہو۔ میڈم نور جہاں نے اپنی لوچ دار آواز سے حزیں قادری اور وزیر افضل کی محنت کو چار چاند لگا دیے۔ اس فلم کا ایک اور قابل ذکر گیت مہدی حسن کی آواز میں ہے 'گھنڈ مکھڑے توں لاؤ یار۔‘
فلموں سے ہٹ کر وزیر افضل نے ٹی وی اور ریڈیو کے لیے بھی انتہائی خوبصورت گیت کمپوز کیے جن میں میرا لونگ گواچا (مسرت نذیر)، چھاپ تلک سب چھین لی (ناہید اختر)، رنگوا دے چنریا (ناہید اختر)، رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی (افشاں) اور سات سروں کا بہتا دریا (پرویز مہدی) شامل ہیں۔'رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی‘ کے انتہائی خوبصورت بول احمد راہی نے لکھے تھے۔ پنجاب کا لوک کلچر اس گیت کے ایک ایک مصرعے سے چھلکتا ہے۔
وزیر افضل اپنے لازوال گیتوں کی وجہ سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-19/25231
سنوکر ورلڈکپ میں پاکستان نے بھارت کو دھول چٹادی
Sep 17, 2021 | 22:29:PM

دوحا(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی کھلاڑی بابر مسیح نے آئی بی ایس ایف سنوکر ورلڈکپ کے پہلے میچ میں بھارتی کھلاڑی اشپریت سنگھ چڈھا کو شکست دیدی ہے۔
بابر مسیح نے بھارتی کھلاڑی کو پانچ، صفر سے شکست دی۔ ورلڈکپ میں شریک دوسرے پاکستانی کھلاڑی حارث طاہر نے بھی اومان کے کھلاڑی کو دو کے مقابلے میں 5 پوائنٹس سے شکست دی۔
https://dailypakistan.com.pk/17-Sep-2021/1341944?fbclid=IwAR0Lch-pXTSjwKWPEfRGXsO2KPoF87Xe-6fIszZw7uE6jXs7awxkwc-HOrw
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108656323&Issue=NP_PEW&Date=20210918
’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو
‘‘ 18 September, 2021

اسپیشل فیچر
تحریر : سعید واثق
عرفان کھوسٹ واقعہ بیان کرتے ہیں
''میری اور استاد امانت علی خان کی اچھی خاصی دوستی تھی۔وہ اتنے ہمدرد اور مخلص انسان تھے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔جب میں نے ریڈیو پہ کام شروع کیا تو استاد امانت علی خان کا طوطی بولتا تھا۔کسی وجہ سے ریڈیو پہ میرے پروگرام بند ہو گئے اور میں بہت دل گرفتہ تھا۔امانت علی خان سے اُس وقت تک میری محض سلام دُعا ہی تھی۔مجھے پریشان دیکھا تو پوچھنے لگے کیا ہوا؟۔میں نے بتا دیا۔اُنہوں نے فوری طور پر ڈی جی کو فون کیا اور میرے پروگرام بحال کرائے‘‘
عرفان کھوسٹ کے بقول ایسی شاندار شخصیت میں نے نہیں دیکھی ۔اخلاص اور محبت کا پیکر!
گزشتہ روز برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے ماہر اِسی گائیک استاد امانت علی خان کی 47 ویں برسی منائی گئی۔
استاد امانت علی خان کے گائے ہوئے کلاسیکی گیت اور غزلیں آ ج بھی بان زد عام ہیں۔پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد امانت علی خان 1922 میں بھارتی پنجاب کے علاقے ہوشیار پور (شام چوراسی) میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی۔شروع میں امانت علی خان اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کرگایا کرتے تھے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر گانا شروع کیا۔قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہو گئے۔ انہوں نے کم عمری میں ہی دادرا، ٹھمری، کافی اور غزل کی گائیکی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔
اُن کی گائی ہوئی چند مشہور غزلوں میں ' 'ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے‘‘، ''موسم بدلا رُت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے‘‘ اور ''یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘ ‘وغیرہ شامل ہیں۔موسیقی کے ماہرین کے مطابق استاد امانت علی خان کی گائیکی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اونچی ٹون میں گاتے ہوئے بھی اپنی آواز پر مکمل کنٹرول رکھتے ۔
ماہرین موسیقی کے مطابق انہیں معجزاتی گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔ راگ راگنیوں کو تسخیر کرنے والے فن کاروں میں ان جیسا کوئی بھی نہیں ہے، استاد امانت علی خان کی آواز اور گائیکی کا انداز ہمیشہ سر تال سے ہم آہنگ رہا، ایک ایسا فن کار، جو بکھرتاتو سمیٹا نہیں جاتا تھااور جب سمٹتا تو ہاتھ نہیں آتا تھا۔ استاد امانت علی خان صرف 45 برس جئے۔ وہ کہا کرتے تھے، ہمیں رضاکارانہ طور پر اپنی عمریں کم کر لینی چاہئیں تاکہ تھوڑی تھوڑی آسودگی سب کے حصے میں آجائے۔
ان کے ملنے والوں میں دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور ادیبوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ شاید اسی لیے استاد امانت علی خان کی طرف سے گائیکی کے لیے غزلوں کا انتخاب بھی بہت عمدہ ہوا کرتا تھا۔ یوں تو ان کے گائے ہوئے تقریباً سارے کلام کو موسیقی کے شائقین نے پسند کیا لیکن ابن انشا کی غزل "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" کو اپنی آواز سے سجانے کے بعد اُنہیں جوشہرت ملی اس کی مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔اس کی دُھن مرحوم خلیل احمد نے تیار کی تھی ۔47 سال بعد بھی لوگ استاد امانت علی خان کو شوق سے سنتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کے مداح موجود ہیں۔ یہ بات ان کے فن کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ان کے اچھا فنکار ہونے کا بھی ایک ثبوت ہے
اُن کا گایا ہوا ملی گیت''اے وطن پیارے وطن‘‘ وطن سے محبت کا عظیم نذرانہ ہے جسے آ ج بھی ہر کوئی سنتا ہے۔
عرفان کھوسٹ ہی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں
''میں نے پہلی بار سکوٹر خریدا تو خان صاحب سے کہا کہ ا ٓئیں میرے ساتھ بیٹھیں ۔اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ میں پہلی بار سکوٹر چلانے لگا ہوں۔وہ میرے ساتھ بیٹھ گئے
تھوڑی دُور گئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ آ ج پہلی بار سکوٹرچلا رہا ہو ں اور آ پ میرے ساتھ بیٹھے ہیں۔امانت علی خان صاحب کو جب علم ہوا کہ میں نے پہلی بار سکوٹر چلایاہے تو وہ فوری طور پر اتر گئے۔بھلا وہ ایک اناڑی ڈرائیورکے ساتھ بیٹھ کر اپنی جان کو خطرے میں میں کیوں ڈالتے۔
استاد امانت علی خان کے صاحبزادے اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان نے شام چوراسی گھرانے کی روایتی کلاسیکی موسیقی کو خوب رنگ لگائے تاہم شفقت نے مغربی انداز موسیقی کو بھی اپنایا ہے۔ شفقت امانت علی خان کا کہنا ہے:''ہمارے گھرانے میں فنکار نئے نئے تجربے کرتے رہے ہیں۔ استاد امانت علی خان نے غزل بھی گائی۔ خود میرے تمام گانے بھی کسی نہ کسی راگ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جس طرح لوگ بچوں کو دوائی میٹھی چیز کے ساتھ دیتے ہیں ہم بھی جدید انداز میں کلاسیکی روایت کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘
ماہرین موسیقی کا کہنا ہے استاد امانت علی خان کا گایا ہوا کلام کانوں کو بڑا آسان لگتا ہے مگر اُسے اُن کی طرح گانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔آج کے گلوکار ان کی گائیکی سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔
استاد امانت علی خان کے بڑے بیٹے اسد امانت علی خان کی آواز اور انداز یقینی طور پر والد سے مختلف تھا تاہم پٹیالہ گھرانے کا حسن اُن سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔وہی چاشنی اُن کی آ واز کو بھی چار چاند لگا دیتی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کے صاحبزادے ہوں یا چھوٹے بھائی حامد علی خان ۔۔پٹیالہ گھرانے کو امانت علی خان جیسا ہیرا دوبارہ نہیں مل سکا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-18/25229
گلوکار استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے47 برس بیت گئے۔
استاد امانت علی خان کو ہم سے بچھڑے47 برس بیت گئے مگر ان کے گائے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور دیگر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے استاد امانت علی خان نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی اور اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کر گانا شروع کیا۔ انھوں نے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔ کم عمری ہی میں وہ دادرا، ٹھمری اورغزل نہایت مہارت سے گانے لگے تھے۔
https://www.express.pk/story/2225773/24/
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/16092021/P6-Lhr-039.jpg
راکا پوشی پر 5روز سے پھنسے 3 کوہ پیمائوں کو ریسکیو کر لیا گیا
16 September, 2021
گلگت بلتستان میں واقع مشکل ترین پہاڑ راکا پوشی کی چوٹی پر کئی روز سے پھنسے ایک پاکستانی اور دو غیر ملکی کوہ پیمائوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے
گلگت(آئی این پی ) گلگت بلتستان میں واقع مشکل ترین پہاڑ راکا پوشی کی چوٹی پر کئی روز سے پھنسے ایک پاکستانی اور دو غیر ملکی کوہ پیمائوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے ۔ڈپٹی کمشنر نگر ذوالقرنین خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹو یٹر پر جاری پیغام میں لکھا کہ راکا پوشی پر پھنسے تینوں کوہ پیمائوں کو پاکستان آرمی کے جوانوں نے ریسکیو کیا اور انہیں گلگت منتقل کر دیا گیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-16/1882465
چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ندیم رضا نے سائنسدانوں انجینئرز کو سول ایوارڈز عطا کئے
16 September, 2021
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضانے سٹر ٹیجک تنظیموں کے نامور سائنسدانوں اور انجینئرز کو ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں سول ایوارڈز عطا کئے
راولپنڈی (خصوصی نیوز رپورٹر)چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضانے سٹر ٹیجک تنظیموں کے نامور سائنسدانوں اور انجینئرز کو ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں سول ایوارڈز عطا کئے ، اس سلسلے میں تقریب چکلالہ گیریژن میں منعقد ہوئی جس میں جنرل ندیم رضانے صدر مملکت کی طرف سے یہ ایوارڈ عطا کئے ، تقریب میں29 سائنسدانوں اور انجینئروں کو ایوارڈ سے نوازا گیا جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔ 10 سائنسدانوں کو ستارہ امتیاز ، 12 کو صدارتی ایوارڈ برائے پرائڈ جبکہ 7کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے سائنسدانوں اور انجینئروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہمارے ہیرو کے طور پر سراہا جاتا ہے ،اس کے لئے ہم آپ کے انتہائی شکر گزار ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-16/1882483
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/15092021/P6-LHR-037.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/15092021/p1-lhr026.jpg
خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ کا عرس آج مقامی سطح پرتعطیل کا اعلان
15 September, 2021
معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ کے عرس کی تقریبات شروع ہو گئیں
لاہور(سیاسی رپورٹر سے ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر تحصیل تونسہ میں آج 15 ستمبر کو مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان نے تونسہ میں 15 ستمبرکو تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-15/1882080
معروف ناول نگار ،سینئر صحافی طارق اسماعیل ساگر انتقال کر گئے
15 September, 2021
معروف ناول نگار، مصنف اور سینئر صحافی طارق اسماعیل ساگر انتقال کر گئے
لاہور ( سیاسی نمائندہ ،نیوز ایجنسیاں ) ان کی نماز جنازہ عصر کے بعد ان کی رہائش گاہ اقبال ایونیو فیز کینال روڈ نزد شاہ کام چوک بحریہ ٹاؤن لاہور میں ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی رہنماؤں اور صحافتی برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس کے بعدبحریہ ٹاؤن لاہور میں ان کی تدفین کر دی گئی۔طارق اسماعیل ساگر کے آفیشل فیس بک پیج کے مطابق ان میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ لاہور کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔طارق اسماعیل ساگر نے 72سے زائد کتابیں لکھیں ہیں جن میں کمانڈو، بھارت ٹوٹ جائے گا، دھویں کی دیوار، حصار ٹوٹ گیا اور ریڈ الرٹ نے زیادہ مقبولیت حاصل کی جبکہ طارق اسماعیل ساگر متعدد قومی اخبارات سے منسلک رہے ۔وزیر اعلی ٰ عثمان بزدار ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے نامور مصنف اور صحافی طارق اسماعیل ساگر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی صحافتی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-15/1882072
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108650443&Issue=NP_PEW&Date=20210915
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر
14 September, 2021

تحریر : عبدالحفیظ
جدید طرز احساس کے شعراء میں ریاض مجید کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے خوبصورت غزل کے معیارات کا خود ہی تعین کیا اور اپنی قوت متخیلہ کو بڑی نفاست اور عمدگی سے شعری لباس پہنایا۔ ان کی شاعری میں ہمیں شعری طرز احساس اور جدید طرز احساس کا وہ سنگم ملتا ہے جس کی جتنی توصیف کی جائے کم ہے۔ وہ جمالیاتی احساس کو بھی شاعری کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ معروضی صداقتوں کی گونج بھی ان کے اشعار میں ہے اور معاشرتی کرب کی جھلکیاں بھی ہمیں ان کے اشعار میں ملتی ہیں۔ انہوں نے مضمون آفرینی کے ساتھ ساتھ جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ ہے شعر۔
ریاض مجید کا اصل نام ریاض الحق ہے۔ وہ 13 اکتوبر 1942 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں پروفیسر کے طورپر اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ ان کی تصانیف میں گزرتے وقت کی عبادت ''پس منظر‘‘ ،''نئی آوازیں‘‘، 'رفحان میں ایک شام‘‘ شامل ہیں۔ اردو کے علاوہ مجید نے پنجابی زبان میں بھی اپنی شعری صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔
ریاض مجید کی شاعری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں ابلا غ کا کوئی مسئلہ در پیش نہیں۔ وہ کچھ کہتے ہیں بڑی وضاحت سے کہتے ہیں۔ قاری کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتے۔ ان کے خیال کی ندرت انہیں ایک عمدہ غزل گو تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے۔ ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمایئے جو ان کی شناخت بن چکا ہے
میرا دکھ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
اس دکھ کو وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے اسے جھیلا ہو۔ یہ شعر بے بسی کا استعارہ ہے۔ آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ناکامی کے اندھیرے آپ کا مقدر ہیں۔ اس سے بڑی مایوسی اور کیا ہوسکتی ہے۔ تنہا لڑائی اگر نہیں لڑسکتے تو پھر اس لشکر میں شامل ہوجائیے جس کے لوگ آپ ہی کی طرح جری اور جانباز ہیں۔ اس شعر کے اندر فلسفہ بھی ملتا ہے اور ایک موثر پیغام بھی۔
ریاض مجید کے بے شمار اشعار ایسے ہیں جن کا دوسرا مصرعہ پڑھ کر قاری ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ مصرعہ اولیٰ کی تاثریت مصرعہ ثانی مکمل کردیتا ہے اور منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے۔
ذرا مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کریں۔
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
جی میں آتا ہے بکھر کر دہر بھر میں پھیل جائوں
قبر لگتی ہے بدن کی چار دیواری مجھے
دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیں
گزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر ہوں میں
ہمارے جدید طرز احساس کے کئی شعرا سیاسی اور سماجی حالات کی بھر پور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ریاض مجید نے کس مہارت اور نفاست سے وہ المیہ بیان کیا ہے جس کا تعلق اس ملک کے کروڑوں عوام سے ہے۔ انہوں نے اپنی غزل کے ایک مصرعے میں ''اشرافیہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو ہماری سیاست کی زبان میں سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طورپر وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن کی سیاست کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لئے یہ لفظ بڑا شاندار لفظ ہے اور وہ''اشرافیہ‘‘ کو ہدفت تنقید بنا کر عوام کے سارے مسائل کا ذمہ دار انہیں گردانتے ہیں۔ لیکن اقتدار حاصل کرنے کیلئے انہیں پھر اسی اشرافیہ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ان کے نظریات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہر حال ریاض مجید کا یہ شعر زبردست داد کا مستحق ہے جس میں شعریت بھی ہے اور معروضی صداقتوں کا والہانہ اظہار بھی
بہت بے زار ہیں اشرافیہ کی رہبری سے
کوئی انسان کوئی خاک زادہ چاہتے ہیں
شاعر نے اشرافیہ کو انسانوں کی فہرست ہی سے خارج کردیا ہے۔ اس شعر پر بہت طویل بحث ہوسکتی ہے۔ میں نے جتنی اردو شاعری پڑھی ہے اس میں اشرافیہ کا لفظ پڑھنے کو نہیں ملا۔ مجھے مجید امجد یاد آئے جو وہ شعری زبان استعمال کرتے تھے جو پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ انہوں نے بہت سے نئے الفاظ استعمال کئے۔ مضمون آفرینی کے حوالے سے ان کا ذرا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
ہر کسی غم کی وہی شکل پرانی نکلی
بات کوئی بھی ہو تیری ہی کہانی نکلی
تنہائی کے حوالے سے بہت سے شعراء نے بڑے خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ کسی نے تنہائی کو مثبت انداز میں لیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تنہائیوں کا اپنا ایک حسن ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا تھا
مقام رنج ہے تنہائیوں نے مل کر آج
واہ اپنا حسن بھی کویا ہے انجمن بن کر
لیکن ریاض مجید جس تجربے سے گزرے ہیں وہ ایک انوکھی داستان بیان کرتا ہے۔ وہ تنہائی کے آرزو مند نہیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ محفلوں نے بھی انہیں کچھ نہیں دیا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ تنہائیاں ہی ان کا مقدر ہیں۔ کہتے ہیں۔
کھلا یہ بھید کہ تنہائیاں ہی قسمت ہیں
اک عمر دیکھ لیا محفلیں سجا کر بھی
نکتہ آفرینی شاعری کا ایک بہت بڑا وصف ہے۔ ریاض مجید نے وہ رومانوی شعر کہا ہے جو کوئی اور شاعر نہ کہہ سکا۔ عام طورپر شاعر محبوب کے نہ ملنے کو اپنی بد نصیبی قرار دیتا ہے اور اس کا دل حزیں اس محرومی کی چکی میں پستا رہتا ہے لیکن ریاض مجید نے اس حوالے سے کیا نکتہ نکالا ہے ذرا غور کیجئے۔
زندگی تھوڑی تھی ہم کو اور بھی سو کام تھے
ورنہ اک تجھ کو ہی پانا تو کوئی مشکل نہ تھا
اب آپ اسے کیا کہیں گے یہ نکتہ آفرینی بھی ہے اور ندرت خیال بھی ریاض مجید نے جدید غزل کے امکانات کو وسیع کیا۔ جسم کو کئی ایسے مضامین کا لباس پہنایا جس سے قاری کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ انہوں نے فطری حقائق سے بھی کبھی نظریں نہیں چرائیں۔ جدید طرز احساس کے ساتھ ساتھ ان کا شعری طرز احساس بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جب کوئی شاعری ان دونوں اوصاف کی حامل ہو تو ادب کا کون سا قاری ایسا ہوگا جو ایسی شاعری کو نظر انداز کرے گا۔
ریاض مجید شاعری میں کسی ایک دھڑے ے وابستہ نہیں ہیں۔ نہ ان پر ترقی پسندی کا لیبل لگا اور نہ ہی وہ روایتی اور کلاسیکل مکتبہ فکر کے داعی ہیں۔ ان کا شاعری کا کینوس وسیع ہے
ریاض مجید کے شعری خزانے میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اردو غزل کے قارئین ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہیں گے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-14/25223
پاکستان کے دونوں کیوئسٹ ایشین سنوکرچیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئے
Sep 14, 2021 | 16:56:PM

دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن )قطر میں جاری ایشین سنوکرچیمپئن شپ میں پاکستان کے دونوں کیوئسٹ ایونٹ کے فائنل میں پہنچ گئے۔
نجی ٹی وی جیو نیوزکے مطابق راﺅنڈ کے آخری میچ میں قومی کھلاڑی حارث طاہر نے ہانگ کانگ کے کیوئسٹ کو شکست دی جبکہ بابر مسیح نے قطر کے کیوئسٹ کو تین کے مقابلے میں چار فریم سے ہرایا۔
ایشین سنوکرچیمپئن شپ کے پری کوارٹر فائنل مقابلے آج رات ہوں گے۔
https://dailypakistan.com.pk/14-Sep-2021/1340597?fbclid=IwAR2WSe-dqCcsTGRTzsDxlIaVCp_KaNYi8Tn6tBP592toblwaSiDRqTsaRM4
موٹر وے پولیس ایم تھری نے پیسوں اور زیورات سے بھرا گمشدہ بیگ مالک کے حوالے کر دیا
Sep 13, 2021 | 11:30:AM

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن) موٹروے پولیس ایم تھری نے رقم اور زیورات سے بھرا گمشدہ بیگ مالک کو لوٹا کر مثال قائم کر دی . خانیوال سے لاہور جانے والے فیملی قیمتی پرس کو جڑانوالہ ریسٹ ایریا میں بھول گئی تھی.
واجد نامی شہری نے پٹرولنگ افسران عثمان اور آفتاب اقبال کو پرس گمشدگی کی اطلاع دی، لیڈیز پرس میں 43,910روپے ،زیورات اور قیمتی اشیاء موجود تھیں ، ڈی ایس پی حسنات شاہ اور پٹرولنگ افسران نے ریسٹ ایریا سے پرس کو تلاش کر لیا اور مالکان کے حوالے کر دیا۔
قیمتی پرس ملنے پر شہری نے موٹر وے پولیس کی ایمانداری کو قابل فخر قرار دیا، سیکٹر کمانڈر ایس ایس پی سید حشمت کمال نے افسران کی ایمانداری کو سراہا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Sep-2021/1340102?fbclid=IwAR1GrXq2gPxuHAOVp8q38X_Q7NUVV8UEn_b0XMAHHKBnt3_xUmaVIVkvtEc
محسنِ پاکستان ہسپتال میں زیرِ علاج، کسی حکومتی شخصیت نے تیمار داری نہ کی، ڈاکٹر عبدالقدیر کا ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں
Sep 13, 2021 | 19:28:PM

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہسپتال میں زیرعلاج ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء میں سے کسی کی طرف سے بھی صحت سے متعلق خیریت دریافت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ہے کہ ”مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان یا ان کی کابینہ کے کسی رکن نے میری صحت کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔“
محسن پاکستان کا کہنا تھا کہ ”جب پوری قوم میری صحت یابی کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی تو ایک بھی سرکاری عہدیدار نے میری صحت کے بارے میں جاننے کے لیے ایک ٹیلی فون تک نہیں کیا۔“واضح رہے کہ 85سالہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کورونا وائرس لاحق ہونے پر 26اگست کو خان ریسرچ لیبارٹریز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ وہاں سے انہیں روالپنڈی کے ملٹری ہسپتال لیجایا گیا۔ وہ کچھ وقت وینٹی لیٹر پر بھی رہے۔ تاہم اب وہ روبہ صحت ہیں اور انہیں جلد گھر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Sep-2021/1340166?fbclid=IwAR3WHpWgJQzC1EfLxNRphPP2vYvhlB6kGLnfaQ-mvFWDIrFAxJbp9--rsbY
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/13092021/p1-lhr026.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/13092021/P6-Lhr-054.jpg
بھاگتے دوڑے عمارتوں کو پھلانگنا اور سیڑھیوں کو تیزی سے عبور کرنے کا خطرناک کام اب تک صرف مردوں سے ہی معنون تھا لیکن چند برسوں میں ایک مسلم حجابی خاتون سارہ مدلل نے بھی اس شعبے میں بہت نام بنایا ہے۔
سارہ مدلل لاس اینجلس میں رہتی ہیں جنہیں پہلی مسلم خاتون پارکر کا اعزاز دیا گیا ہے۔ سارہ روزانہ گھنٹوں اس عمل کی مشقت کرتی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ مسلمان خواتین کے متعلق لگا بندھا تصور زائل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن اس مشکل کام کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ حجاب ان کی رکاوٹ نہیں بلکہ ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔

سارہ کی عمر اس وقت 24 سال کی ہیں اور انہوں نے صرف 20 سال کی عمر میں پارکر بننے کا ارادہ کیا۔ اس کھیل میں ایک سے دوسرے مقام تک بہت پھرتی سے پہنچنا ہوتا ہے۔ پارکر ماہرین مسلسل مشق سے دیوار پھاند سکتےہیں، رکاوٹیں عبور کرتے ہیں اور عمارتوں کی چھتوں سے ایک مقام سے دوسرے مقام تک جست بھرتے نظر آتے ہیں۔ اکثراوقات پارکر اپنی ہڈیاں اور دانت تک تڑوا بیٹھتے ہیں اور یوں اس شوق کی بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔

سارہ دوڑتی ہیں، قلابازی کھاتی ہیں، ہوا میں گھوم سکتی ہے، خطرناک مقامات پر جھولا جھول سکتی ہیں اور اب تک وہ فوجی تربیت کے رکاوٹی ٹیسٹ کئی مرتبہ کامیابی سے عبور کرچکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس شعبے میں مردوں کی تعداد حاوی ہے جبکہ خواتین نہ ہونے کے برابر ہیں اور مسلمان خاتون کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود کو ’اقلیتوں میں اقلیت‘ قرار دیتی ہیں۔

اب تک سارہ کئی برانڈزکی نمائندگی کرچکی ہیں اور ان کا یوٹیوب چینل بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2224052/509/
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/12092021/p1-lhr039.jpg
’’ اس دیار فانی سے رحلت تک میں بھارتی استعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور اپنی قوم کی رہنمائی کا حق حسبِ استطاعت ادا کرتا رہوں گا ۔‘‘
’’ کشمیر کے پہاڑوں پر کالی برف بھی پڑنے لگے ، ہم تب بھی آزادی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘
’’ یہاں نیشنل ازم نہیں چلے گا ، یہاں سیکولرازم نہیں چلے گا ، یہاں امریکا کا ورلڈ آرڈر نہیں چلے گا، یہاں صوبائیت اور قومیت نہیں چلے گی ، یہاں صرف اور صرف اسلام کا سکہ چلے گا ، اسلام کے تعلق سے اور اسلام کی نسبت سے اور اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ‘‘
’’ بھارت اپنی ساری دولت ہمارے قدموں میں ڈال دے اور ہماری سڑکوں پر تارکول کے بجائے سونا بچھا دے ، تب بھی ایک شہید کے خون کی قیمت نہیں چکا سکتا۔‘‘
یہ زور دار آواز سید علی گیلانی ہی کی ہو سکتی تھی۔ یہ وہی تھے جنھوں نے کشمیری قوم کو حق خود ارادیت کا سبق سکھایا ۔کوئی کچھ بھی کہے تاہم ان سے بڑا رہنما کشمیری قوم کو نہیں ملا۔ انھوں نے کشمیر کو پاکستان کا فطری حصہ قرار دے کر مسئلہ کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا ،اسی لیے وہ پاکستانیوں سے بڑے پاکستانی قرار پائے۔
دنیا میں سب سے زیادہ قید و بند کی صعوبتیں کسی حریت پسند رہنما نے سہیں تو وہ سید علی گیلانی ہی تھے، نیلسن منڈیلا کا نام بھی ان کے بعد ہی آتا ہے۔ تمام تر مظالم سہنے کے باوجود سید علی گیلانی اپنے موقف سے بال برابر پیچھے نہیں ہٹے۔ کوئی ترغیب کام آسکی، نہ ہی کوئی جور اور جبر ۔ بھارتی حکومتیں مسلسل کشمیریوںکے مقبول ترین رہنما سے خائف ہی رہیں۔
ان کی رحلت کے بعد بھارت پہلے سے بھی زیادہ خوف زدہ ہے۔ بھارتی حکام نے سید علی گیلانی کی میت اہل خانہ سے چھینی اور اپنے تئیں تدفین کر دی۔ سید صاحب کے صاحبزادے نعیم گیلانی کے بقول ’’ ابا جان کو کس نے غسل دیا، اْن کے جنازے میں کون شامل ہوا اور ان کی کس نے تدفین کی؟ اس کا ہمیں بالکل پتا نہیں۔‘‘ دوسرے صاحبزادے ڈاکٹر نسیم گیلانی نے بتایا:’’ ہم نے ابا جان کی قبر کو آج صبح دس بجے کے قریب دیکھا اور وہاں فاتحہ پڑھی۔‘‘
سید علی گیلانی کے نمائندہ خصوصی عبداللہ گیلانی کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ پر تشدد بھی کیا گیا ، اہل خانہ کا مطالبہ تھاکہ سید علی گیلانی کی تدفین ان کی خواہش کے مطابق مزار شہداء میں کرنے دی جائے۔ بھارتی میڈیا نے بھی اعتراف کیا کہ سید علی گیلانی کی حیدر پورہ قبرستان میں صبح ساڑھے چار بجے تدفین کی گئی، نماز جنازہ اور تدفین میں چند قریبی افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہوا جس میں ایک فوجی افسر واضح طور پر کہہ رہا تھا کہ کسی کو بھی سید علی گیلانی کے گھر جانے اور نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب قابض بھارتی فورسز نے پورے جموں و کشمیر بالخصوص دارالحکومت سری نگر کومکمل طور پر بند کر دیا، وادی میں کرفیو نافذ کر کے مواصلاتی رابطے بھی معطل کر دیے گئے ۔ وائس آف امریکا نے بھی بتایا کہ ’ سری نگر کے مختلف علاقوں میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے حیدر پورہ علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی ۔ انتظامیہ نے صحافیوں کو بھی حیدر پورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی۔
سری نگر میں سخت کرفیو نافذ ہے اور کسی بھی جگہ جلسے یا تعزیتی اجتماعات منعقد کرنے یا جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔ سوپور، بارہمولہ ، کپواڑہ ، بانڈی پور، اننت ناگ، پلوامہ، کلگام، ترال اور کئی دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی سخت حفاظتی پابندیاں نافذ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔‘
سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد ، کیا بھارت کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دبا سکے گا؟ جیسے ہی سید صاحب کی تدفین کی گئی ، پورے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کے یہ دعویٰ اب بھی مکمل طور پر غلط ہیں کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ ایسا ہوتا تو سید علی گیلانی کی میت کے ساتھ ناروا سلوک نہ ہوتا، کشمیر میں کرفیو نافذ نہ کرنا پڑتا ! کشمیری قوم اب بھی سید علی گیلانی کے راستے پر ہے۔ بد ترین مظالم ، کرفیو ، لاک ڈاؤن بھی کشمیری قوم کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکے۔
سید علی گیلانی کیا چاہتے تھے؟
کشمیر کی تاریخ کے سب سے مقبول رہنما اپنے قیامِ لاہور کے دوران ، علامہ اقبال کے بعد جس دوسری شخصیت سے متاثر ہوئے ، وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ سید علی گیلانی لاہور میں تھے کہ والد نے بذریعہ خط انھیں واپس آنے کی ہدایت کی۔ وہ والد کا خط پڑھ کر کشمیر واپس آئے اور پھر یہاں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔ آنے والے سارے برسوں ، عشروں میں وہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر پورے جوش و جذبے کے ساتھ جدوجہد کرتے رہے۔ جماعت میں شامل ہوکر اپنی سحر انگیز تقاریر کے ذریعے جماعت اسلامی اور کشمیر کی سیاست میں نمایاں مقام و مرتبہ پر فائز ہوئے۔
انھوں نے جماعت اسلامی ہی کے ٹکٹ پر مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے لیے انتخابات میں بھی حصہ لیا۔1972ء ، 1977 ء اور 1987ء میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ تاہم بعد ازاں سید علی گیلانی اور جماعت اسلامی اس نتیجے پر پہنچے کہ انتخابات کے ذریعے حق خود ارادیت کا حصول ممکن نہیں ۔ چنانچہ انھوں نے حق خود ارادیت حاصل کرنے کے لئے ہمہ پہلو جدوجہد شروع کردی، جس میں نوجوانوں کی مسلح جدوجہد کی حمایت بھی شامل تھی ۔ یوں پوری وادی میں سید علی گیلانی کا نام گونجنے لگا۔
انھوں نے ’ آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے ، تمام حریت پسند جماعتوں کو جمع کیا ۔ بھارت نے ان کی مقبولیت اور قوت کو دیکھتے ہوئے ان سے دو طرفہ مذاکرات کی بارہا کوشش کی لیکن سید علی گیلانی نے ایسی ہر پیشکش کو مسترد کردیا ۔ ان کا موقف تھا کہ مذاکرات صرف بھارت اور کشمیری قیادت کے درمیان نہیں ہونے چاہئیں ، پاکستان بھی اس مسئلے کا فریق ہے، اس کے بغیر مذاکرات فضول مشق ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت مذاکرات کا ڈول ڈال کر وقت گزارنا چاہتا ہے۔ کشمیری قوم کی اکثریت نے سید علی گیلانی کے موقف کا ساتھ دیا۔
نائن الیون کے تناظر میں پاکستان کی جنرل پرویز مشرف حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بوسیدہ قرار دے کر بھارت کے ساتھ اعتماد سازی شروع کردی اور چار نکاتی فارمولا تیار کرکے مذاکرات کی میز پر آن بیٹھے۔ اُس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ اس فارمولے کے تحت پاکستان اور بھارت اتفاق رائے کے انتہائی قریب آ چکے تھے۔ تاہم سید علی گیلانی نے جنرل مشرف کے اس موقف کو غلط قرار دیا ، ان کے موقف کے مقابل جنرل مشرف کا فارمولا پنپ نہ سکا۔
نئی دلی میں پاکستانی سفارتخانے میں جنرل مشرف سے 2005 میں ہونے والی ملاقات میں سید علی گیلانی نے مشرف سے کہا کہ ’’ اْنھیں کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بغیر اْن کے سیاسی مستقبل کا یکطرفہ فیصلہ لینے کا حق حاصل نہیں۔‘‘ یہ موقف اختیار کرنے سے سید علی گیلانی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
کشمیری قوم نے جنرل مشرف کے فارمولے کے تحت بھارت سے مذاکرات کرنے والے کشمیری رہنماؤں کو مسترد کردیا۔ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں قانون کے پروفیسر شیخ شوکت حْسین کے مطابق ’’ گیلانی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اْن کا موقف مزید مضبوط ہوگیا اور وہ نوجوانوں کے لیڈر بن گئے۔ احتجاجی مظاہروں میں نوجوان اْن کی تصویر ایک انقلابی رہنما کے طور بلند کرنے لگے۔‘‘
اس کے بعد بھی سید علی گیلانی سے بھارت کی طرف سے متعدد بار رابطہ کیا گیا ، ان سے موقف میں لچک لانے کی درخواست کی گئی تاہم وہ اپنے اس موقف پر پوری استقامت کے ساتھ کھڑے رہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا ہے اور ’ اگر اس میں دلی کو دِقت ہے تو پاکستان ، انڈیا اور کشمیری قیادت کے درمیان بیک وقف سہ فریقی بات چیت بھی ایک متبادل ہے۔‘
2014ء کے بعد نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے سخت اور بدترین سلوک شروع کیا تو جنرل مشرف کے دور میں آل پارٹیر حریت کانفرنس کا الگ دھڑٖا بنانے والے’ ماڈریٹ ‘ کشمیری رہنماؤں نے اپنے موقف سے رجوع کیا، انھیں اندازہ ہوگیا کہ مذاکرات کی میز کی طرف بڑھنا ان کی غلطی تھی۔ اب وہ بھی سید علی گیلانی کے ساتھ آن کھڑے ہوئے۔
سید علی گیلانی کے موقف کو اس قدر مقبولیت کیوں ملی؟ دراصل سید علی گیلانی سے پہلے کشمیریوں نے شیخ محمد عبداللہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھا ، تاہم جب انھوں نے 1971ء میں اندرا گاندھی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے کشمیر کا اقتدار سنبھال لیا تو کشمیریوں کی توقعات کا خون ہوگیا ۔ سید علی گیلانی کو مواقع بھی دستیاب ہوئے، انھیں کئی طرح کی ترغیب دی گئی لیکن انھوں نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یوں وہ کشمیریوں کے ہیرو بن گئے۔ کشمیری انھیں اپنے باپ کا درجہ دینے لگے۔ وہ آخری دم تک اس مقام پر فائز رہے۔
سید علی گیلانی کے بعد ؟
ممتاز کشمیری تجزیہ نگار صدیق واحد کہتے ہیں:’’ گیلانی اپنی زندگی کی آخری دہائیوں میں بھی ’ مزاحمت کی علامت ‘ بنے رہے۔ انھوں نے اس سخت خول میں کامیابی سے چھید کیا جس نے بھارتی حکومت کی بے ایمانی بھری پالیسیوں کو چھتری دی ہوئی تھی۔ یہ ان ( سید ) کا ہمارے لئے تحفہ تھا۔ انھوں نے اپنا فرض ادا کردیا ‘‘۔
کشمیری قوم سید علی گیلانی جیسے بلند مرتبت رہنما کو کبھی نہیں بھول سکے گی۔ اگرچہ بھارتی سرکار نے کشمیریوں کو سید علی گیلانی کے جنارے میں شرکت سے ، عقیدت کا اظہار کرنے سے ہر صورت میں روکنے کی کوشش کی ہے لیکن سید علی گیلانی ایسے رہنما زندہ رہتے ہیں۔ کشمیری قوم جانتی ہے کہ آزادی میں کامیابی ہے اور اس کے لئے ایک ہی راستہ ہے جو سید علی گیلانی نے اختیار کیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سید علی گیلانی اپنے جانشینوں کو مشکل صورت حال سے دوچار کر گئے ہیں۔ اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بعد کشمیری قیادت انہی کی طرح ثابت قدم رہ سکے گی؟
آخری ویڈیو پیغام
سید علی گیلانی کا آخری ویڈیو پیغام چار اگست کو جاری ہوا ، جو ان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپ لوڈ ہوا۔ اس میں انھوں نے کہا : ’’ پانچ اگست کے بعد ہم نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ، اسلام آباد میں مقیم جناب سید عبداللہ گیلانی کو اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا ہے۔ ان کی طرف سے جو بھی خطوط یا بیانات آپ کے سامنے آئیں ، وہ ہمارے ہی مانے جائیں۔آپ سے گزارش ہے کہ ان کو اپنا بھرپور تعاون دیں اور مدد کریں۔ ‘‘
علی گیلانی بڑے آدمی کیسے بنے؟ ان کی کہانی ، انہی کی زبانی
سید علی گیلانی 29ستمبر1929ء کو اس دنیا میں آئے تھے اور یکم ستمبر 2021ء کو خالق حقیقی کے بلاوے پر چل دئیے ۔ تعلیم کا آغاز بارہمولہ ، سو پور سے کیا، اعلیٰ تعلیم لاہور کے اورنٹئیل کالج میں حاصل کی ۔ ویسے تو سید علی گیلانی نے تین کتابوں ’ قصہ درد ‘ ، ’ دید و شنید ‘ اور ’ روداد قفس ‘ میں اپنی زندگی کا مفصل احوال بیان کیا ہے تاہم اگر کوئی مختصراً جاننا چاہے تو اس کے لئے انھوں نے اپنی کتاب ’ اقبال ، روح دین کا شناسا ‘ میں بھی نہایت خوبصورت نثر میں داستان حیات بیان کی ہے۔
’’ میرے والد بزرگوار مرحوم سید پیر شاہ گیلانی نہر زینہ گیر میں سیزنل قلی تھے یعنی صرف سینچائی کے چند مہینوں کے لئے ۔ وہ ماہوار دس روپیہ لیتے تھے۔ خود ان پڑھ تھے مگر بچوں کو پڑھانے کا بہت شوق اور تمنا رکھتے تھے۔ میرے بڑے بھائی مرحوم سید میرک شاہ گیلانی اور میں ’’ زوری منز ‘‘ سے بوٹینگو زینہ گیر کے پرائمری سکول میں پڑھنے جاتے تھے۔ ننگے پائوں ، کبھی بھوکے پیاسے اور دودھ کے بغیر ’’ ٹیٹھ چائے ‘‘ پی کر۔ زوری منز اور بوٹینگو کے درمیان بابا شکور الدین رحمۃ اللہ علیہ کی پہاڑی حائل تھی اور دوسرا راستہ نہر زینہ گیر کے کنارے کنارے جاتا تھا۔ ہم لوگ اکثر پہاڑی راستہ ہی اختیار کرتے تھے کیونکہ وہی زیادہ نزدیک پڑتا تھا۔
بڑے بھائی نے پرائمری سکول سے فارغ ہو کر ہر دو شیوہ سوپور میں ایک دینی عالم مرحوم سید ثنااللہ شاہ کے مکتب میں داخلہ لیا اور وہاں قرآن پاک ، کریما ، گلستان ، بوستان اور دوسری کتابوں کا درس لینا شروع کیا۔ میں نے بوٹینگو سکول میں تیسری اعزازی پوزیشن حاصل کرکے سرکاری وظیفہ دئیے جانے کی برکت سے سوپور ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ ساتویں جماعت تک میں بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتا رہا ۔ مشکلات اور تنگ دستی کے باوجود میں امتیازی نمبرات کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا کہ میری تقدیر میں ایک نیا پڑائو آگیا۔
مرحوم محمد الدین فوق ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، سیم پورہ زینہ گیر میں سکونت پذیر اپنے رشتہ داروں کے یہاں لاہور سے تشریف لائے تھے۔ میرے بڑے بہنوئی مرحوم سید عبدالعزیز شاہ ہمدانی جو لاہور وومنز کالج میں ملازمت کر رہے تھے، یہاں مرحوم غلام محمد صادق اور محترمہ محمودہ بیگم بھی زیر تعلیم تھے ، لاہور میں قیام کے دوران میں ان کا مرحوم فوق صاحب کے ساتھ تعارف تھا۔ ان کے بڑے بھائی سید مبارک شاہ ہمدانی ڈورو سوپور میں ہی اپنے آبائی گھر میں مقیم تھے۔ تعلیم کے ساتھ میری دلچسپی ، ذرائع اور وسائل کی کمی نے ان کو میرے بارے میں فکر مند بنایا تھا ۔
انھوں نے مجھے اپنے ساتھ لے کر مرحوم محمد الدین فوق کی خدمت میں حاضری دی تاکہ وہ اس بارے میں ہماری کچھ مدد اور رہنمائی کرسکیں۔ مرحوم فوق صاحب نے مجھے دیکھ کر بڑے پیار اور محبت کا اظہار کیا اور مرحوم مبارک صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ اس لڑکے کو میرے ساتھ لاہور بھیج دیں۔
میں ان کو وہاں پڑھائوں گا اور اپنی بڑی لڑکی کے گھر میں ان کے قیام کا انتظام کرائوں گا ۔ چنانچہ تعلیم کے شوق میں والدین نے سینے پر پتھر رکھ کر مجھے مرحوم فوق صاحب کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ بارہ ، تیرہ سالہ خوبرو لڑکا لاہور پہنچ کر ، مزنگ نامی بستی کے ایک گھرانے میں بٹھا دیا گیا۔ مرحوم فوق صاحب کے داماد محکمہ ڈاک خانہ جات میں بڑے آفیسر تھے اور صوبہ سرحد میں ڈیوٹی دے رہے تھے۔ ان کی دو تین لڑکیاں تھیں جو مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ پڑھائی کا تو انتظام نہ ہوسکا لیکن میں گھریلو نوکر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ اقبال ؒ کی نظم ’’ پرندے کی فریاد ‘‘ میں نے غالباً سکول سوپور میں پڑھی تھی اور پوری نظم مجھے ازبر تھی۔ اس عرصے میں میرا کام صرف اور صرف اس نظم کا پڑھنا ، مکان کے صحن یا چھت پر بیٹھ کر رونا اور آنسو بہانا تھا…
میں یہ نظم پڑھتا تھا اور پھوٹ پھوٹ کر روتا تھا ۔ مجھے وُولر کے کنارے اپنی چھوٹی سی بستی یاد آتی تھی۔ عقب کی پہاڑی اور اس پر کبھی کبھی زیرہ کی تلاش میں چکوروں کی طرح اچھلنا کودنا ، اپنے غریب والدین کی محبت، ان کا پیار ، میری جدائی میں ان کے دکھ درد اور ان کے آنسو بہانا ، یہ سب کچھ مجھے بے حد اداس اور غمگین بناتا تھا۔ مرحوم فوق صاحب کی نواسیاں مجھے دلاسا دیتی تھیں ۔ ان کی بڑی بیٹی بھی اپنی اولاد کی طرح میری دیکھ بھال اور پیار کرتی تھیں لیکن مجھے اپنی تعلیم کے چھوٹ جانے اور گھر سے دور ہوجانے کا غم برابر اسی طرح ستاتا اور بے چین بناتا تھا جس طرح پرندہ قفس میں بند ہوکر اپنی فریاد کر رہا ہے۔
اقبال مرحوم کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں تھا سوائے اس نظم کے جو میرے حال پر حرف بحرف چسپاں ہوتی تھی اور جس کو پڑھنے کے بجائے میری زبان دہراتی تھی۔ میری بے چینی ، بے بسی اور محرومی تقریباً ایک سال تک میرا تعاقب کرتی رہی۔ ایک سال کے بعد میں کیسے اکیلے اور تنہا لاہور سے بذریعہ ٹرین جموں پہنچا اور جموں سے سرینگر ، سرینگر سے سو پور ، سوپور سے زوری منز اپنے منتظر والدین کی خدمت میں، یہ ایک معجزاتی عمل تھا جس سے میں گزرا۔ جس کی یادیں ایک ڈرائونے خواب کی شکل میں میرے تحت الشعور میں منقش ہیں۔
گھر پہنچ کر کچھ دیر کئے بغیر میں نے پھر اپنا سلسلہ تعلیم شروع کیا اور سوپور میں دوبارہ داخلہ لے کر زوری منز سے پیدل سوپور اور واپس زوری منز آنے جانے کی روزانہ کی اس مشقت نے مجھے نڈھال بنادیا۔ اس عرصے میں بڑی ہمشیرہ کی شادی ’ ڈورو ‘ میں عبدالعزیز شاہ ہمدانی کے ساتھ ہوئی جو لاہور وومنز کالج میں ملازمت کر رہے تھے ۔
میری روزانہ کی مشقت پر ترس کھا کر ، مرحوم مبارک شاہ ہمدانی نے مجھے ’ ڈورو ‘ آکر تعلیم جاری رکھنے کی پیشکش کی چنانچہ اب ڈورو زینہ گیر سے طلبا کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ میں سوپور ہائی سکول میں زیر تعلیم رہا۔ یہاں سے فراغت پاکر مجھے دوبارہ لاہور کے آب و دانہ نے بلالیا۔ اس عرصے میں بڑے برادر سید میرک شاہ مرحوم کو بہنوئی کی وساطت سے اسی کالج میں ملازمت مل گئی تھی مگر اب کی بار لاہور میں میرے پیش نظر صرف تعلیم تھی اور کوئی مقصد نہیں۔
پنجاب کے ہر شہر میں بالعموم لاہور اور امرتسر میں بالخصوص کشمیر کے طلبا کی اچھی خاصی تعداد زیرتعلیم ہوا کرتی تھی۔یہاں رواج تھا کہ کشمیری طلبا مساجد میں رہتے تھے اور مساجد سے وابستہ محلوں کے لوگ ان طلبا کی خدمت ، کھانا ، پینا ، لباس اور کتابیں بڑے خلوص اور محبت کے ساتھ فراہم کرتے تھے۔
میں موچی دروازہ ، لال کنواں اور مسجد پیر گیلانیاں میں باری باری قیام کرتا رہا۔ میں نے مسجد وزیرخان میں حفظ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جو سورۃ بقرۃ اور آل عمران کے بعد منقطع ہوگیا۔ موچی دروازہ میں ’ مقام شہید میر بوٹینگو ‘ کے غلام محی الدین رفیقی صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ مسجد پیر گیلانیاں میں مرحوم حفیظ اللہ شتلوہ رفیع آباد کی سرپرستی اور نگہانی حاصل ہوئی۔اسی عرصے میں شاہی مسجد کی طرف آنا جانا رہا۔ مرحوم سید علی مصدر کی شفقت حاصل رہی جو نور القمرین کے والد بزرگوار تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے!
اقبال مرحوم کو دو سال رحلت فرمائے گزر چکے تھے، ان کی تربت کی مٹی ابھی تازہ اور تابندہ تھی۔ مجھے ان کی تربت کی قربت میں اتنا قلبی سکون اور طمانیت حاصل ہوتی تھی کہ میں گھنٹوں وہاں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا تھا۔ اقبال ؒ کے کلام ، ان کے مرتبہ اور مقام سے میں بالکل بے خبر اور نابلد تھا مگر یہ کشش اور وابستگی کیوں تھی؟ یہ میرے لئے ایک معمہ تھا۔ اسی دوران میں مجھے معلوم ہوا کہ دہلی دروازے لاہور میں ایک کالج ہے جہاں دفتری اوقات کے بعد مشرقی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ میں نے وہاں جاکر دریافت کیا ، مرحوم آقا بیدار بخت خان وہاں پرنسپل تھے۔
انھوں نے ایک معصوم کشمیری لڑکے کو دیکھا تو کھل اٹھے۔ بغیر کوئی فیس لئے مجھے ادیب عالم میں داخلہ دیا، حالانکہ ابتدائی درجہ ادیب کا تھا مگر انھوں نے میرے بول چال اور چہرہ مہرہ سے اندازہ لگالیا کہ کشمیریوں کی تر دماغی کا کچھ نہ کچھ حصہ یہاں بھی موجود ہے۔
کالج میں داخلہ لینے کے بعد لاہور کے ادبی رسائل ، ادبی محفلیں ، مشاعرے اور مباحثے اب میری مصروفیات کا اہم حصہ بن گئیں۔ ’’ ادیب ‘‘ ، ’’ ہمایوں ‘‘ ، ’’ نقوش ‘‘ ’’ الہلال ‘‘ ، ’’ مخزن ‘‘ اور ’’ البلاغ ‘‘ انہی ایام میں میرے مطالعہ میں آئے۔ انجمن حمایت الاسلام کی کوئی تقریب مجھ سے چھوٹتی نہ تھی۔ مرحوم رفیقی صاحب ان ساری ادبی مصروفیات میں میرے ہم دوش رہتے تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے ! مقام شہید کے بزرگ ، خدا دوست اور نہایت ہی متدین شخصیت مرحوم شریف الدین رفیقی ان کے والد بزرگوار تھے۔
اللہ ان کی مغفرت فرمائے ! آج کل ان کی پڑپوتی میرے لڑکے نسیم الظفر گیلانی کے عقد نکاح میں ہے۔ کالج میں پرنسپل صاحب نکیات سخن ، محمد حسین آزاد مرحوم ، مولانا حالی مرحوم اور دوسرے مضامین خود ہی پڑھاتے تھے۔ اقبال مرحوم پروفیسر عاشق حسین پڑھاتے تھے۔ اقبال کی جان پہچان ، ان کے کلام کا تعارف ، ان کے فلسفہ خودی اور 1908ء سنہ کے بعد ان کے ارتقائی منازل سے انھوں نے ہی واقفیت بہم پہنچائی اور مجھے تربت اقبال ؒ پر غیر شعوری طور پر حاضری دینے کا راز معلوم ہوگیا۔
بانگ درا ، ضرب کلیم ، بال جبریل ، درساً پڑھ کر مجھے معلوم ہوا کہ اقبال ؒ اللہ کی طرف سے پوری ملت کے لئے ایک انعام تھا۔ کاش ! ملت اس انعام الٰہی کی قدر کرتی تو آج کے زوال ، انحطاط اور ادبار سے محفوظ و مامون رہتی۔ ادیب عالم سیکنڈ ڈویژن میں پاس کرکے میں ادیب فاضل میں داخلہ لینا چاہتا تھا کہ میری تقدیر نے پھر پلٹا کھایا۔ والد مرحوم نے کسی سے خط لکھوایا کہ میں بیمار ہوں، آپ ملاقات کے لئے جتنا جلد ممکن ہوسکے گھر چلے آئو۔ میرے دل و دماغ میں زبردست زلزلہ آیا۔ کالج کی پڑھائی، اساتذہ خاص طور پر پرنسپل اور پروفیسر عاشق حسین کی محبت ، دلجوئی اور کرم فرمائی نے مجھے دنیا و مافیہا سے بالکل لاتعلق بنا دیا تھا، لاہور کے علمی اور ادبی ماحول نے میرے پروبال میں اڑان کی شاہینی قوت پیدا کردی تھی۔‘‘
سید صاحب ساری زندگی اسی شاہینی قوت کے ساتھ ظالم کے خلاف جدوجہد کرتے رہے ۔ وہ چاہتے تو شیخ محمد عبداللہ سمیت بعض کشمیری سیاست دانوں کی طرح جبر ناروا سے مفاہمت کرکے آسائش بھری زندگی گزار سکتے تھے لیکن انھوں نے زندگی اپنے لئے نہیں ، کشمیری قوم کے لئے گزاری۔ سید علی گیلانی نے مادی اعتبار سے مشکلات بھری زندگی گزاری ۔ اپنی کتاب ’ وولر کنارے ‘ میں لکھا :
میری سادہ دل والدہ مجھ سے پوچھا کرتی تھیں کہ سرکار تمھیں کیوں بار بار گرفتار کرتی ہے؟ میں جواب میں کہتا کہ میں ’ وعظ ‘ پڑھتا ہوں (یعنی تقریر کرتا ہوں)۔ وہ جواب میں کہتی تھیں: ’’ وعظ تو اور بھی بہت سارے لوگ پڑھتے ہیں انھیں کیوں نہیں گرفتار کیا جاتا؟‘‘
سید علی گیلانی نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے ترجمے پر مشتمل تین کتابوں اور خود نوشت سوانح عمری سمیت تقریباً ایک درجن کتابیں بھی تصنیف کیں۔ جن میں ’ روداد قفس ‘ ، ’ نوائے حریت ‘ ، ’ دید و شنید ‘ ، ’ بھارت کے استعماری حربے ‘ ، ’ صدائے درد ‘ ۔ ’ ملت مظلوم ‘ ، ’ مقتل سے واپسی ، رانچی جیل کے شب و روز ‘ ، ’ اقبال روح دین کا شناسا ‘ اور ’ وولر کنارے ‘ بھی شامل ہیں۔
https://www.express.pk/story/2220377/1/
قائداعظم محمد علی جناحؒ کے آخری لمحات ،ہمت و استقامت کی لازوال داستان
11 September, 2021

تحریر : محمد وقاص بٹ
ڈاکٹر الٰہی بخش کہتے ہیں کہ ’’ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ میرے جذبات سے غمگین ہو جائیں گے۔ میں ان کا وہ لہجہ کبھی نہیں بھول سکتا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ میں اپنا کام پورا کر چکا ہوں‘‘۔یہ الفاظ ادا کرتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘‘
قائد اعظم محمد علی جناح کاآج 73واں یوم وفات ہے۔ ایک ایسے عظیم لیڈر کا یوم وفات جس کی زندگی پاکستان کی بے لوث خدمت میں گزری ہو۔تاریخ کا ایک ایساعظیم کارنامہ جس نے تاریخ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔قیام پاکستان میں حائل رکاوٹیں ہو ں یا اس کے بعد کے مسائل قائد اعظم نے اپنی صحت اور جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اپنی قیادت کے محض تیرہ ماہ کے دوران جبکہ آپ کی طبیعت سخت خراب تھی قائد اعظم نے ہر محاذ پر پاکستان کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کیا۔ ہندو اور انگریز اس انتظار میں تھے کہ پاکستا ن پھر سے بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست کردے گا ،اس خواب کو چکنا چور کرناہی قائد اعظم کی عظیم قیادت کا کرشمہ تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک عظیم سانحہ تھی، جس کا ثبوت ان دنوں آنے والے تعزیتی پیغامات سے لگایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کے شہنشاہ کنگ جارج نے محترمہ فاطمہ جناح کے نام ایک تعزیتی پیغام میں لکھا ’’مجھے اور ملکہ کو آپ کے عظیم بھائی، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے انتقال کی خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا ہے، یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے‘‘۔امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ جارج مارشل نے کہا ’’قائداعظم محمد علی جناح ان رہنماؤں میں ممتاز تھے جو اپنے مقصد سے غیر مشروط وابستگی اور اس پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے‘‘۔
14جولائی 1948کا دن تھا جب قائد کی طبیعت بہت زیادہ بگڑنا شروع ہو گئی، جس کے پیشِ نظر آپ کو کوئٹہ سے زیارت منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد مملکتِ خداداد پاکستان کا یہ عظیم رہنما صرف 60دن زندہ رہا۔ قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح نے اپنی کتاب ’’مائی برادر‘‘ میں لکھا ہے زیارت منتقل ہونے کا فیصلہ قائد اعظم کا ذاتی فیصلہ تھا کیونکہ سرکاری و غیر سرکاری مصروفیات کی وجہ سے قائداعظم آرام نہ کر پا رہے تھے۔ قائد اعظم کو مسلسل دعوتیں موصول ہو رہی تھیں کہ وہ اجتماعات میں شرکت و خطاب کریں، مگر قائداعظم کی طبی حالت اس بات کی اجازت نہ دے رہی تھی۔ زیارت پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے علاج پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ انہی دنوں فاطمہ جناح کو اطلاع ملی کہ مشہور ڈاکٹر ریاض علی شاہ کسی مریض کو چیک کرنے زیارت آ رہے ہیں ، انہوں نے قائد اعظم کو کہا کیوں نہ آپ کا چیک اپ ڈاکٹر ریاض علی شاہ سے کروا لیا جائے۔ جرات اور ہمت کے اس سپاہی نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ انہیں کوئی سنگین مرض لاحق نہیں، صرف معدہ خوراک ہضم نہیں کر پا رہا۔ وہ جلد دوبارہ صحت یاب ہو جائیں گے۔ وہ ڈاکٹروں کے مشوروں سے ہمیشہ گریز کرتے تھے۔ لاہور کے ممتاز فزیشن ڈاکٹر الٰہی بخش کی ہدایات پر قائد اعظم محمد علی جناح کے ٹیسٹ کیے گئے۔ ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق قائد اعظم تب دق کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے یہ بات سب سے پہلے فاطمہ جناح کو بتائی۔ ڈاکٹر الہٰی بخش نے جناح کو بتایا کہ آپ تب دق کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں تو جناح نے جواب دیا ڈاکٹر یہ تو میں بارہ برس سے جانتا ہوں، میں نے اپنے مرض کو صرف اس لیے نہیں ظاہر کیا کہ ہندوکہیں میری موت کا انتظار نہ کرنے لگیں ۔ ایک مشہور کتاب ’’فریڈم اینڈ مڈ نائٹ‘‘ میں لکھا ہے کہ اگر اپریل 1947ء میں مائنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا مہاتما گاندھی کسی کو بھی اس غیر معمولی راز کا پتا چلتا جو بمبئی کے مشہور طبیب ڈاکٹر جے ایل پٹیل کی تجوری میں انتہائی حفاظت سے رکھا ہوا تھا، تو ہندستان کبھی تقسیم نہ ہوتا، اور ایشاء کی تاریخ کا دھارا کسی اور رخ بہہ رہا ہوتا۔ یہ راز جناح کے پھیپھڑوں کی ایکس رے فلم تھی۔جس کے اوپر دو بڑے بڑے نشانات تھے۔ ان نشانات سے واضح ہو گیا تھا کہ وہ تب دق کے مریض ہیں۔ ڈاکٹر پٹیل نے جناح کو کہا تھا کہ آپ کا علاج اور صحت کیلئے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کے آپ آرام کریں۔ مگر قائد اعظم کے پاس وقت کم تھا اور کام زیادہ تھا۔ وہ کبھی بھی باقاعدگی کے ساتھ اپنا علاج نہ کر وا سکے۔ ماؤنٹ بیٹن نے خاصے طویل عرصے بعد لیری کولنز اور ڈومینک لاہپیر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ’’ مسلمانوں کے پاس صرف جناح کی صورت میں ایک طاقت تھی۔ اگر کسی نے مجھے بتایا ہوتا کہ وہ کم عرصے میں فوت ہو جائیں گے تو میں ہندوستان کو کبھی تقسیم نہ ہونے دیتا‘‘۔ کیونکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کے گٹھ جوڑ نے ساری تیاری اسی کو مد نظر رکھ کر کی تھی۔آزادی کے وقت سب سے بڑا مسئلہ باونڈری کمیشن کا تھا۔ ریڈ کلف، نہرو اور ماؤنٹ بیٹن نے تمام تر پلاننگ سے کام لیااور آزادی کے وقت ریاستوں اور شہروں کی تقسیم کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ پاکستان کو جغرافیائی اور معاشی لحاظ سے زیرِ نگیں رکھاجاسکے۔ جوناگڑھ اور کشمیر کا مسئلہ پیدا کیاگیا۔ قائداعظم نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں سرحدوں کے تعین کی تجویز دی تھی یا برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے تین ممبران کی کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی جس کو نہرو نے رد کردیاتھا۔ اس کا نتیجہ جلد ہی سب پر واضح ہو گیاتھا کہ قائد اعظم کیوں اس کے مخالف ہیں۔ بھارت نے جوناگڑھ پر قبضہ کر لیا تھا۔حالانکہ جوناگڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے یہ درخواست ستمبر 1947میں منطور کی تھی۔اصولوں اور ضوابط کے پابند قائداعظم اصولی مؤقف کے تحت اس مسئلہ کا حل چاہتے تھے۔ لیکن بھارت نے جونا گڑھ پر قبضہ کر کے اس پر استصوابِ ِرائے کا ڈرامہ رچایا اور جوناگڑھ سمیت سر کر یک اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
29اگست 1948کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کا ایک مرتبہ پھر معائنہ کیا ۔ انہوں نے قائد سے کہا کہ’’ جس ریاست کو آپ وجود میں لائے ہیں اسے پوری طرح مستحکم کرنے کیلئے دیر تک زندہ رہیں‘‘۔ ڈاکٹر الہٰی بخش کہتے ہیں کہ’’ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ میرے جذبات سے غمگین ہو جائیں گے۔ میں ان کا وہ لہجہ کبھی نہیں بھول سکتا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ میں اپنا کام پورا کر چکا ہوں‘‘۔ یہ الفاظ ادا کرتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘‘۔ 10ستمبر 1948کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے فاطمہ جناح کو بتایا کہ ’’جناح کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں رہی۔ وہ چند دنوں کے مہمان ہیں‘‘۔اسی دن جناح پر بیہوشی کا غلبہ ہوا۔ وہ بڑبڑا رہے تھے ’’کشمیر۔۔۔۔۔ انھیں فیصلہ کرنے کا حق دو۔۔ آئین۔۔۔ میں اسے مکمل کروں گا۔۔۔مہاجرین ہر ممکن۔۔ ۔۔ مدد دو‘‘ جیسے الفاظ ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
11ستمبر1948 کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے ساتھ تاریخ کا سنہری باب بند ہو گیا۔ 12ستمبر ہفتے کے دن حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا کہ ہفتہ 11ستمبر 1948کی رات پاکستان کے بانی و معمار قائداعظم محمد علی جناح حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کا جنازہ کراچی میں نمائش کے میدان پر ادا کیا جائے گا۔ قائداعظم کی نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی پڑھائیں گے۔ کراچی سے لاہور، راولپنڈی سے خیبر اور سلہٹ سے ڈھاکہ پورے ملک کے لوگ غمگین تھے اور سات لاکھ سے زائد آبادی والا دارالخلافہ کراچی مکمل سوگ میں ڈوب چکا تھا۔ تمام کاروباری زندگی بند تھا اور ملک میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیاتھا۔ قائداعظم کے جسدِ خاکی کو کندھا دینے والوں میں وزیرِ خارجہ ظفر اللہ خان، سردار عبدالرب نشتر، لیاقت علی خان، پیر الٰہی بخش اور عبدالستار شامل تھے۔ لوگوں کا سمندر اپنے محبوب قائد کا آخری دیدار کرنے کیلئے گورنر جنرل ہاؤس کے اطراف میں امڈ آیا تھا۔ قائد کا جسدِ خاکی گورنر ہاؤس کے صحن میں رکھا گیا۔ لوگوں نے فرطِ جذبات سے گورنر ہاؤس کے دروازے تک توڑ دیے۔ پولیس اور فوج لوگوں پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہی تھی۔ گھنٹوں کوشش کے بعد میلوں لمبی قطاریں بنائی گئیں۔ سردار عبدالرب نشتر اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے اور زارو قطار روتے رہے۔ سفید لباس زیبِ تن کیے لال آنکھوں کے ساتھ قائد کی ہردل عزیز بہن محترمہ فاطمہ جناح صبح ہی سے رو رہی تھیں۔ ان کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے قائد کی صاحبزادی مس واڈیا نے ان کو کافی تسلی دی اور ان کا حوصلہ بندھایا۔ قائد کے بھتیجے اور ان کی بیوی مس فاطمہ ولی بھی فاطمہ جناح کو تسلی دینے والوں میں شامل تھے۔ جوں ہی قائد کا جسدِ خاکی گورنر جنرل ہاؤس کے دروازے پر پہنچا تو لوگ ہچکیوں سے رو رہے تھے۔ لوگ احترام کے ساتھ اس گاڑی کے دونوں اعتراف پر کھڑے ہو گئے، جس پر قائد کی میت کو لیجایا جا رہا تھا۔دن کے تین بج چکے تھے، قائد کے جسدِ خاکی تو اب ایک توپ لے جانے والی گاڑی پر رکھ دیا گیا۔ بری، فضائیہ اور شاہی بحریہ کے جوان گاڑی کے ارد گرد موجود تھے۔ اس گاڑی کو پاک بحریہ کا ایک سپاسی چلا رہا تھا۔ گاڑی کے پیچھے دو کاروں میں محترمہ فاطمہ جناح اور قائد کی بیٹی موجود تھیں۔ قائد اعظم کی اکلوتی بیٹی اسی دن خصوصی طیارے سے بمبئی سے کراچی پہنچی تھیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چھ لاکھ لوگ اپنے محبوب قائد کے آخری دیدار کیلئے موجود تھے۔ شام ساڑھے چار بجے جنازہ نمائش کے میدان پر پہنچ گیا۔جناز گاہ میں لاکھوں کا مجمع تھا، جس میں وزیراعظم پاکستان لیاقت علی کے ساتھ کابینہ کے وزراء اور متعدد اسلامی ممالک کے سفیر موجود تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب عظیم قائد اپنی قوم میں موجود نہیں مگر قائد اعظم کی ہدایات اور جذبہ پاکستان کیلئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ قائد اعظم کی وفات پاکستان ہی نہیں امتِ مسلمہ کا بھی بہت بڑا نقصان تھا۔ قائد اعظم کے جسدِ خاکی کو لیاقت علی خان اور دیگر وزراء نے لحد میں اتارا۔ لاکھوں کا غمگین مجمع کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا اپنی اپنی منزل کو روانہ ہو گیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-edition/2021-09-11/1781
قائد اعظم ؒ کی73ویں برسی عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی
12 September, 2021

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی 73 ویں برسی عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں )اس دن مساجد میں بانی پاکستان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور خصوصی دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔صدر،وزیر اعظم سمیت اہم رہنماؤں کے بانی پاکستان کی برسی پر خصوصی پیغامات جاری یا نشر کئے گئے جن میں بابائے قوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔کراچی میں مزار قائد پر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر اعلیٰ سید مراد علیٰ شاہ نے حاضری دی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-12/1880475
عزیز بھٹی کا یوم شہادت آج ،پاک فوج کا خراج عقیدت
12 September, 2021

شہید کاکارنامہ ہمیں ملک کا دفاع کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، 65 میں لاہور پر دشمن کے حملے کو پسپا کیا، آئی ایس پی آر
اسلام آباد،لاہور(اے پی پی) بری فوج کے عظیم سپوت اور جنگ ستمبر 1965 کے ہیرو میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر)کا یوم شہادت آج انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے 12ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ کے دوران لاہور کے محاذ پر سینہ سپر ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ا نہیں پاکستان کی مسلح افواج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حید ر سے نوازا گیا۔ آج شہید کی آخری آرام گاہ پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گی اورفاتحہ خوانی کی جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پاک فوج میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کو خراج عقیدت پیش کر تی ہے ۔ ان کے بہادر اقدامات اور مثالی قیادت نے بھارتی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا اور لاہور پر دشمن کے حملے کو کامیابی سے پسپا کیا۔ ان کا بہادرانہ کارنامہ ہمیں پاکستان کا دفاع کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ پوری قوم میجر عزیز بھٹی شہید کو سلام پیش کرتی ہے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-12/1880476
وہ وقت جب 80 کی دہائی میں اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق نے عمران خان کو وزارت کی پیشکش کی لیکن کیا کہہ کر کپتان نے یہ پیشکش ٹھکرائی؟ جان کرآپ کو بھی فخر ہوگا
Aug 02, 2020 | 15:38:PM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی حکومت کو دو سال مکمل ہوچکے ہیں اور اس دوران انہیں اپوزیشن کی طرف سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے ، اب سینئر صحافی و کالم نویس مظہر عباس بھی ایک کہانی سامنے لے آئے ہیں اور انہوں نے لکھا کہ عمران خان ضیاء دور ہی سے اسٹیبلشمنٹ کی اولین ترجیح رہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی طرف 80کی دھائی میں اس وقت دیکھا جب کرکٹ کیریئر کے عروج پرتھے۔عمران خان کو اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق نے اپنے پاس بلایااور انہیں وزرات کی پیشکش کی۔
روزنامہ جنگ میں لکھے گئے اپنے کالم میں مظہرعباس نے مزید لکھا کہ اس پیشکش پر "عمران خان نے شائستگی کے ساتھ یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرا دی کہ وہ اپناکرکٹ کیریئر سے لطف اندوزہو رہے ہیں۔لیکن عمران خان اس کے بعد بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کے راڈارپررہے،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کا ڈکٹیٹر ایک ایسی غیرسیاسی اور ٹیکنوکریٹس پرمشتمل ٹیم بنانے کی کوشش میں تھا جو نظریاتی سیایست کوکاؤنٹر کرسکے۔جو بھٹو اور اینٹی بھٹو نظریات پرچل رہی تھی۔
ضیا نے عمران خان سے مایوس ہو کر بے نظیر بھٹواورپیپلزپارٹی جو اس وقت بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی پنجاب میں مضبوط تھی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے شریف برادران کوتلاش کیا۔بھٹو کی پھانسی کے تقریباً 25 سال بعد 1996 میں عمران خان نے سیاست کاآغازکیا۔لیکن عمران خان کی نئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف 1997 کے انتخابات میں کوئی بھی نشست نہجیت سکی۔جبکہ پی ٹی آئی نے 2002کے انتخابات میں صرف ایک سیٹ حاصل کی۔جبکہ پارٹی نے 2013 کے بعد پیچھے مڑ کرنہیں دیکھااور25 جولائی کو یوم تشکر جبکہ اپوزیشن نے عمران خان کو سلیکٹڈ سمجھتے ہوئے انتخابات کوغیرشفاف قراردیاور یوم سیاہ منایا۔2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے بھی اسی طرح کے الزامات لگاتے ہوئے کہاتھاکہ شریف برادران پہلے سے کیسے نتیجہ جانتے تھے۔لیکن عمران خان نے کبھی بھی لفظ سلیکٹڈ استعمال نہیں کیا جبکہ یہ لفظ ان کیلئے استعمال ہورہاہے۔
عمران خان کی حکومت کاپہلا سال کامیابیوں اورناکامیوں پرمشتمل ہے، فارن پالیسی میں ایک کامیاب کہانی بیان کرتی ہے جبکہ معاشی پالیسیاں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں، ملک میں اختلافی آوازوں کودبانا حکومت کی ناکامیاں سمجھے جاسکتے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کو اس وقت اپوزیشن کے سخت چیلنج کاسامنا ہے جو اپوزیشن کامتحدہ بیانیہ دینے کی کوشش میں ہے۔جبکہ یہ بات دلچسپ ہوگی کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان ان کے پسندیدہ کیسے بنتے ہیں جن کے ملک کیساتھ معاملات ہیں، اور کس طرح روایتی سیاست کابدل بنتے ہیں۔لیکن عمران خان خود احتساب کے عمل کواپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔کیونکہ انہیں یقین ہے کہ احتساب کے عمل نے نوازشریف اورزرداری جیسے سیاسی مخالفین کیخلاف کارروائی کی راہ ہموارکی ہے۔
عمران خان کے انکارکے بعد ضیاالحق نے میاں شریف کوقائل کیااورمیاں شریف نے خودکوپیپلزپارٹی کی قومیانے کی پالیسی کا متاثرہ سمجھااوردیگربزنس مینوں کی طرح 1977 کے انتخابات میں بھٹو مخالف پی این اے تحریک کوسپورٹ کیا۔1985کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد جنرل ضیاءالحق نے ایک غیرمعروف سندھی سیاستدان محمدخان جونیجو کووزیراعظم بنایا جس سے ضیاء نے بھٹوکی پھانسی کے بعدسندھ میں پائے جانے والے احساس محرومی کوختم کرنے کی کوشش کی،لیکن 3 سال بعد ہی جونیجو کوگھرواپس بھیج دیاکیونکہ جونیجوحکومت نے بے نظیربھٹوکوجلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی کاعندیہ دیااور اسٹیبشلمنٹ کی خواہش کے برعکس پریس کو آزادی دی،سیاسی مفاہمت کے ساتھ جنیوا معاہدہ سائن کیا۔ضیاء نے 28 مئی 1988 کو جونیجو حکومت ختم کی اور نئے الیکشن کاوعدہ کیا۔
ضیا ء کی ٹیم نے دوبارہ عمران خان تک رسائی کی لیکن عمران خان اپنے قریبی دوست کوبتایاکہ وہ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔اسی دوران شریف فیملی نے پنجاب میں جونیجوحکومت کیخلاف پی ایم ایل کے کیمپ میں طاقت جمع کرناشروع کردی،جس کے بعد پی ایم ایل (جونیجو) اورپی ایم ایل(نواز) دوپارٹیاں بن گئیں۔تاہم ضیاءنے 1985 کے بعد الیکشن نہ کرائے اور 17 اگست 1988 کو سینئرجرنیلوں اور امریکی سفیر سمیت طیارہ کریش ہونے انتقال کرگئے۔طیارہ کریش ہونے کے بعد ایک لمبا بحران پیداہوگیااوراس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے دوبارہ مارشل لاء نہ لگانے کافیصلہ کیااورصدرغلام اسحاق کو الیکشن کرانے کاکہا۔یہ بے نظیر کیلئے ایک خواب کی طرح تھا،بے نظیر1986 میں اپنی واپسی سے مہم شروع کرچکی تھیں لیکن ان کی کوششیں ناکام بنائی گئیں".
https://dailypakistan.com.pk/02-Aug-2020/1165653?fbclid=IwAR2dGJtNDkOc9mdjgNBqIj2CcbN_m5_6Ptd4uy5LgoQWI2fh_Y6N3estHP4
لیونل میسی نے فٹبال کی دنیا کا بڑا ریکارڈ توڑ ڈالا
Sep 11, 2021 | 12:18:PM

بیونس آئرس (ویب ڈیسک) لیونل میسی نے ہیٹ ٹرک بناکر پیلے کا ریکارڈ توڑدیا۔
اسٹرائیکر لیونل میسی نے ہیٹ ٹرک بناکر پیلے کا ریکارڈ توڑدیا، انہوں نے یہ کارنامہ بولیویا کیخلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میں انجام دیا، ان کی عمدہ کاوش کی بدولت میزبان ارجنٹائن نے مقابلہ 0-3 سے اپنے نام کیا۔
میسی اس پرفارمنس کے بعد مینز انٹرنیشنل فٹبال کے 153 میچز میں 79 گول بناکر ٹاپ اسکورر بن گئے، ان سے قبل پیلے 91 میچز میں 77 گول کے ساتھ ریکارڈ کے مالک تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Sep-2021/1339272?fbclid=IwAR3EsBnA30qz4nv4axVkQGeDtRvNzAtYqfqB26FoZEzEFBYsdMRlQk8kG28
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/07092021/P6-Lhr-009.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/07092021/P6-Lhr-036.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/06092021/P6-LHR-053.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/05092021/p6-lhr042.jpg
انعام بٹ نے ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپئین شپ جیت لی
Sep 04, 2021 | 20:56:PM

روم، میلان (ڈیلی پاکستان آن لائن+سید وجاہت بخاری)پاکستانی پہلوان انعام بٹ نے چوتھی بار ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپیئن شپ جیت لی۔
فائنل میچ میں انہوں نے یوکرین کے پہلوان کو تین ،صفر سے شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا۔انعام بٹ نے سیمی فائنل میں بھی رومانیہ اور کوارٹر فائنل میں ترکی کے پہلوان کو شکست دی تھی۔انعام بٹ نے 90 کلو گرام کیٹگری میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔پیرا لمپکس میں گوجرانوالہ ہی کے حیدر علی نے ایک روز پہلے گولڈ میڈل جیتا اب اسی شہر کے انعام بٹ نے بیچ ریسلنگ میں گولڈ میڈل اپنے نام کرکے ملک کا نام روشن کیا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/04-Sep-2021/1336552?fbclid=IwAR3n02Om4vKUalfjGRfr1ebxDMJjE8CqD36uZI2zrVNeD0tPBeKJ9ZQ8Qsg
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108623984&Issue=NP_PEW&Date=20210905
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108623980&Issue=NP_PEW&Date=20210905
بیچ ریسلنگ:انعام بٹ نے چوتھی بارگولڈ میڈل جیت لیا
5 September, 2021

فائنل میں یوکرین کے پہلوان یکوشک کو 0-3 سے ہرایا،بیٹے پرفخر :والد ، پیرالمپکس میں گولڈمیڈل جیتنے والے حیدرعلی کابھی گوجرانوالہ سے تعلق
گوجرانوالا(نیوز رپورٹر ‘مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے پہلوان انعام بٹ نے بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز کی 90کلوگرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیت لیا۔اٹلی کے شہرروم میں جاری بیچ ریسلنگ ورلڈ سیریز کے فائنل میں یوکرین کے پہلوان یکوشک کو یکطرفہ مقابلے میں 0-3 سے ہرادیا۔اس سے قبل سیمی فائنل میں انعام بٹ نے رومانیہ کے پہلوان کو بھی 0-3 سے شکست دی تھی۔کوارٹر فائنل میں انعام بٹ نے ترکی کے ریسلر کو ہرایا تھا۔انعام بٹ کی جیت پر ان کے والد نے کہاکہ ان کے بیٹے نے چوتھی بارگولڈ میڈل حاصل کیا، بیٹے نے پاکستان کا نام روشن کیا جس پر فخرہے ۔واضح رہے کہ پیرا لمپکس میں گوجرانوالہ ہی کے حیدر علی نے ایک روز پہلے گولڈ میڈل جیتا۔ اب اسی شہر کے انعام بٹ نے بیچ ریسلنگ میں گولڈ میڈل اپنے نام کرکے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ شاندار کار کردگی پر مبارکباد دینے کیلئے اہل علاقہ اور عزیر واقارب انعام بٹ کے گھر پہنچ گئے اور جیت کا خوب جشن منایا۔ انعام بٹ کی والدہ نے کہا کہ وہ بہت زیادہ خوش ہیں اوراپنے بیٹے کیلئے اس کے پسندیدہ کھانے بنائیں گی۔ والد لالہ صفدر نے کہاکہ انعام بٹ کا گوجرانوالہ پہنچنے پر شاندار استقبال کیا جائے گا۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-05/1877452
امریکی سفارتخانے کا مزید 700 پاکستانی خواتین کو تعلیم کیلیے وظائف دینے کا اعلان
Sep 04, 2021 | 11:28:AM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی سفارتخانے نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ اِی سی) کے اشتراک سے مزید 700 پاکستانی خواتین کو گریجویٹ سطح تک حصول تعلیم کیلیے وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق دو سالہ دورانیے کے یہ وظائف (جن کا آغاز رواں سال سے ہوگا اور یہ 2023ء تک جاری رہیں گے) باصلاحیت خواتین کو شعبہ زراعت، کاروبار، انجینئرنگ طبی اور معاشرتی علوم میں حصول تعلیم کی خاطر دیے جائیں گے۔
https://dailypakistan.com.pk/04-Sep-2021/1336482?fbclid=IwAR0v6srCn9SDuQjpkvOxlHR1hxoaCry7NMgfZpwQcKlexM1QjRi0F8OpzqQ
ورلڈ بیچ ریسلنگ سیریز، انعام بٹ نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا
Published On 04 September,2021 04:20 pm

روم: (دنیا نیوز) ورلڈ بیچ ریسلنگ سیریز میں انعام بٹ نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا، قومی ریسلر نے ترکش حریف کو تین ایک سے شکست دی۔
اطالوی ساحل سمندر پر ہونے والی ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں انعام بٹ کا مقابلہ ترکش حریف سے سے ہوا، جس میں سابق عالمی چیمپئن نے ترکی کے پہلوان کو ایک کے مقابلے میں تین پوائنٹ سے شکست دی۔
اس سے پہلے پری کوارٹر فائنل میں قومی ریسلر نے دبنگ انٹری ڈالتے ہوئے بلکہ برتری کی دھاک بٹھاتے ہوئے یونانی پہلوان کو ہرایا تھا۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/HeadLineRoznama/618231_1
پیرالمپکس میں تاریخ رقم، پہلی بار پاکستان کاگولڈ میڈل
4 September, 2021

ڈسکس تھرو مقابلے میں قومی ایتھلیٹ حیدر علی نے 55.26کی تھرو کیساتھ میڈل جیتا ایتھلیٹ نے میڈل ملک کے نام کردیا،قومی کرکٹرز، سیاستدانوں کی بھی مبارکباد
لاہور(سپورٹس رپورٹر)ٹوکیو پیرالمپکس میں مردوں کے ڈسکس تھرو مقابلے میں حیدر علی نے پاکستان کے لیے پہلا طلائی تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔حیدر علی نے چھ میں سے تیسری باری میں 47.84 میٹر کی تھرو کی جبکہ پانچویں باری میں 55.26 کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا،یہ ان کی اب تک کی سب سے بڑی تھرو ہے ۔ حیدر علی ٹوکیو پیرالمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ حیدر علی نے اپنا گولڈ میڈل پاکستان کے نام کردیا۔ دریں اثنا وزیر اعظم آفس نے حیدر علی کو فخر پاکستان قرار دیا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حیدر علی کو ٹیلیفون کرکے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے ٹوئٹر پر حیدر علی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے ۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز،اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے بھی مبارکباد دی،قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے مبارکباد دیتے ہوئے پیغام دیا کہ وہ اسی طرح سب کو متاثر کرتے رہیں۔ سابق باؤلر وسیم اکرم ،شعیب اختر ،قومی فاسٹ باؤلر حسن علی اور وہاب ریاض نے بھی مبارکباد دی۔
https://dunya.com.pk/index.php/sports/2021-09-04/1877220
12 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی نوعمر لڑکے نے وھیل کی بنائی ہوئی ڈجیٹل تصاویر کو بطور این ایف ٹی فروخت کیا ہے۔ پکسل کی صورت میں عجیب وغریب وھیل کی تصاویر دو لاکھ نوے ہزار پونڈ میں فروخت ہوئی ہیں اور یہ رقم چھ کروڑ 73 لاکھ روپے بنتی ہے۔
بلاک چین کے تحت بنیامین کی تصاویر کے حقوق بطور این ایف ٹی (نان فنجیبل ٹوکن) فروخت کئے گئے ہیں اور اس کے بدلے اریتھیریئم جیسی مشہور کرپٹوکرنسی حاصل کی گئی ہے۔
دنیا بھر میں این ایف ٹی کا رحجان بڑھ رہا ہے جس کی بدولت آرٹ کے شاہکار کا ڈجیٹل حقِ ملکیت ملتا ہے۔ یہ حق ایک طرح کے ڈجیٹل ٹوکن کے تحت دیا اور لیا جاتا ہے۔ اس طرح اسے بازار میں خریدا اور بیچا بھی جاسکتا ہے۔ لیکن خریدنے والا اس کی نقل کرنے کے حقوق یعنی کاپی رائٹ حاصل نہیں کرسکتا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بنیامین کا اب تک کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں لیکن انہوں نے کرپٹوکرنسی ضرور حاصل کی ہے۔ بنیامین اور ان کے بھائی دونوں نے ہی اپنے والد سے کوڈنگ سیکھی ہے۔ سب سے پہلے اس نے مائن کرافٹ گیم سے متاثرہوکر ڈجیٹل آرٹ بنایا تھا۔ دوسرے مرحلے میں انہوں نے پکسل در پکسل عجیب و غریب اقسام کی وھیل بنائیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے تیارکردہ ڈجیٹل پروگرام سے وھیل کی 3350 ایموجی بنائیں جو حیرت انگیز ہے۔
تمام وھیل دھیرے دھیرے پروان چڑھتی ہیں اور اسکرین پر نمودار ہوتی ہیں۔ درحقیقت وہ زیرِ آب کا ایک گیم بنانا چاہتے تھے جو پکسل زدہ وھیل پر مشتمل تھا لیکن شاید وہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اب وہ تیسرے ڈجیٹل آرٹ ورک پرکام کررہے ہیں جو سپرہیروز پر مشتمل ہوگا۔
https://www.express.pk/story/2220702/509/
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2021/09/03092021/p2-isb-038.jpg
موٹروے پولیس نے ہیرے کی انگوٹھی تلاش کرکے مالک کے حوالے کردی
3 September, 2021
موٹروے پولیس نے ہیرے کی انگوٹھی تلاش کرکے مالک کے حوالے کردی
کراچی(سٹاف رپورٹر)ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق فائق نامی شہری اسلام آباد سے لاہور بذریعہ موٹروے جارہا تھا کہ اس دوران وہ چکری سروس ایریا میں رکا اور پھر اپنا سفر شروع کردیا، اسے احساس ہوا کہ اس کی بیش قیمت ہیرے کی انگوٹھی موجود نہیں تھیجس کی مالیت ایک لاکھ 90 ہزار روپے تھی۔ فائق نے ہیلپ لائن 130 پر کال کرکے موٹروے پولیس سے مدد طلب کی، پولیس نے انگوٹھی تلاش کر کے مالک کے حوالے کردی۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-03/1876609
حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستانی پرچم میں سپرد خاک کر دیا گیا
Published On 02 September,2021 09:24 am
سرینگر: (دنیا نیوز) سید علی گیلانی کی پاکستان سے لازوال محبت، سید علی گیلانی کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر قبرستان لایا گیا۔ سید علی گیلانی کو سری نگر کے علاقے حیدر پورہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیدعلی گیلانی کی تدفین صبح ساڑھے 4 بجے کی گئی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے سید علی گیلانی کی تدفین زبردستی حیدرپورہ میں ہی کر دی، حریت رہنما کی تدفین انتہائی سخت سیکیورٹی میں کی گئی۔ صرف چند قریبی رشتے داروں کو ہی جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ سید علی گیلانی کے اہل خانہ حریت لیڈر کی تدفین مزار شہدا میں کرنا چاہتے تھے۔
سید علی گیلانی کے انتقال پر مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ، انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی۔ سید علی گیلانی کے رہائشی علاقے حیدر پورہ میں غاصب فوج کا کڑا پہرہ ہے۔ گھر کے اطراف خار دار تاریں لگا کر راستے بند کر دیئے گئے۔ سری نگر کے مرکز ی لال چوک میں بھی پولیس اہلکاروں نے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ سیدعلی گیلانی کے انتقال پر صحافیوں کو کوریج سے بھی روک دیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر کے بابائے حریت سید علی گیلانی بانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ 29 ستمبر 1929 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں پیدا ہوئے، تعلیم کے سلسلے میں لاہور آئے اور مولانا مودودی کے حلقہ احباب میں شامل رہے، لاہور میں سید علی گیلانی نے اردو اور فارسی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بطور رپورٹر کام بھی کیا۔
سید علی گیلانی تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس سرینگر منتقل ہوئے اور سیاست میں قدم رکھا۔ پہلی بار 1962 میں کشمیر کا ایشو اٹھانے پر گرفتار ہوئے اور 13 ماہ قید رہے۔ 1965 میں ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور 22 ماہ جیل میں رہے، 70 اور 80 کی دہائی میں سید علی گیلانی 3 بار مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے رکن رہے۔
1987 میں سیاست چھوڑ کر حریت کا راستہ اپنایا۔ 1992 میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی تو سید علی گیلانی اس کا حصہ بن گئے۔ 2004 میں سید علی گیلانی اور اشرف صحرائی نے تحریک حریت کی بنیاد رکھی، بھارت سے آزادی تحریک حریت کے تین بنیادی مقاصد میں سے ایک تھی۔ حریت پسند سرگرمیوں کے باعث 12 سال سے زائد عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی، سید علی گیلانی اپنی سوانح حیات سمیت 30 کتابوں کے مصنف تھے۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/HeadLineRoznama/617873_1
پاکستان میں آج یوم سوگ ، پرچم سرنگوں ، سید علی گیلانی کی بے باک جدوجہد کو سلام : وزیراعظم ، حق خودارادیت تک انکا مشن زندہ رہے گا : آرمی چیف
2 September, 2021

ان کے الفاظ ’ہم پاکستانی ہیں ،پاکستان ہمارا ہے ‘ یاد رکھیں گے ،عمران خان،آزادکشمیر میں آج تعطیل ،3روزہ سوگ ،ضلعی ہیڈکوارٹرز میں غائبانہ نماز جنازہ ہوگی ، قربانیاں رنگ لائیں گی ،صدر علوی، صدر ،وزیر اعظم آزاد کشمیر ‘وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ،وفاقی وزرا ، شہباز شریف ، فضل الرحمن،سراج الحق، بلاول ودیگر کا اظہار افسوس
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر،خصوصی نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز)وزیر اعظم عمران خان نے کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آج ملک میں سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا ہے ، انکی وفات پر پاکستانی پرچم سرنگوں رہے گا، ٹویٹر پر اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا وہ سید علی گیلانی کی وفات پر غمزدہ ہیں، سید علی گیلانی نے ساری زندگی اپنے لوگوں اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد میں گزاری اور قابض بھارتی ریاست کی طرف سے قید و بند کی اذیتیں برداشت کیں لیکن پرعزم رہے ، وزیراعظم نے کہا ہم ان کی جرات مندانہ اور بے باک جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ان کے الفاظ ‘ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے ’ ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کشمیر عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کا استعارہ تھے ، ان کی زندگی بھر کی قربانیاں اور مسلسل جدوجہدمقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے ۔ انہوں نے کہا علی گیلا نی کا خواب اور مشن کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک زندہ رہے گا۔آزادکشمیر حکومت نے سید علی گیلانی کی وفات پر آج چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ، آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کے لیے سید علی گیلانی کی کوششوں کو سراہا ۔صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود نے گہرے دکھ و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا سید علی گیلانی کی وفات کا سن کر دل رنجیدہ اور آنکھیں اشکبار ہیں ان کی وفات سے تحریک آزادی کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا سید علی گیلانی نڈر ، غیرت مند اور بااصول شخصیت تھے ۔وہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی آواز تھے ان کی زندگی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا سید علی گیلانی کی رحلت کی خبر سن کر دل گرفتہ ہوں ۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کشمیری قوم سے اظہار یکجہتی کیلئے کاش مقبوضہ وادی جا سکوں اورگیلانی صاحب کی تدفین میں شامل ہوسکوں۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے تعزیتی بیان میں کہا سید علی گیلانی کے انتقال کی خبر کشمیر اور پاکستان کے عوام پر بجلی بن کر گری ہے ہم حریت فکر کے عظیم مجاہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب نے کہا سید علی گیلانی کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پر نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن لیڈ ر شہباز شریف ، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا مرحوم کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور انشاء اللہ اہل کشمیر کو آزادی نصیب ہوگی ۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا سید علی گیلانی کی رحلت سے کشمیری عوام یتیم ہوگئے ، انہوں نے کشمیریوں کیلئے زیادہ تر زندگی جیل میں گزاری۔ان کا کہنا تھا سید علی گیلانی کا آخری لمحے تک ایک ہی نعرہ تھا ‘ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ’، سید علی گیلانی کے انتقال سے تحریک آزاد ی مزید تیز ہوگی۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا دوسرا نام تھے ،ان کی زندگی جہد مسلسل کا استعارہ تھی، سید علی گیلانی کا مشن کشمیر کی آزادی تھا اور اس خواب کی تعبیر ہماری منزل ہے ۔مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تعزیتی ٹویٹ میں کہا سیدعلی گیلانی کی وفات پاکستان اور کشمیر کے عوام کے لئے ناقابل بیان صدمہ ہے ۔ جے یوآئی کے سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا محمد امجد خان نے بھی اظہارافسوس کیاہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-02/1876187
سیالکوٹ :9گھنٹے میں پورا قرآن پاک سنا کر عالمی ریکارڈ قائم
2 September, 2021
14سالہ طالب علم حافظ محمد فہد ولد حاجی خالد نے 9 گھنٹے میں پورا قرآن پاک سنا کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا
سیالکوٹ(نمائندہ دنیا) 14سالہ طالب علم حافظ محمد فہد ولد حاجی خالد نے 9 گھنٹے میں پورا قرآن پاک سنا کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا اوراہل علاقہ کے دل جیت لئے جبکہ لوگوں نے خوشی سے پرنم آنکھوں کیساتھ مٹھائی بھی تقسیم کی ، حافظ فہد کے استاد حافظ محمد زمان اشرف عطاری قادری کا کہنا تھا مجھے اپنے شاگرد پرفخر ہے جس نے 9 گھنٹے میں پوراقرآن پاک سنا یا ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-02/1876268
درجن سے زائد قاتلانہ حملے ، عوارض ،پھر بھی مضبوط آواز
2 September, 2021
علی گیلانی کا جسم بغیر گال بلیڈر، پیس میکر لگا،ایک گردہ مکمل دوسرا ایک تہائی نکالا گیا ، 14سال جیل رہے ،پہلی بار 62ء میں گرفتار ، 30سے زائد کتابوں کے مصنف
لاہور(سٹاف رپورٹر)سید علی گیلانی درجن سے زائد قاتلانہ حملوں اور جسمانی عوارض کے باوجود زندگی کی آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کی مضبوط آواز رہے ، اسلامی انقلاب اور آزادی کے نقیب، برصغیر کے منجھے ہوئے سیاست دان، شعلہ بیان مقرر اور روح دین پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت 29ستمبر 1929ء کو زُوری منز تحصیل بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے ۔ 1950ء میں آپ کے والدین نے زوری منز سے ڈوروسوپور ہجرت کی، آپ نے ابتدائی تعلیم پرائمری سکول بوٹنگوسوپور میں حاصل کی،پھر گورنمنٹ ہائی سکول سوپور میں داخلہ لیا، 1949میں بحیثیت استاد آپ کا تقرر ہوا اور آپ نے بحیثیت سرکاری استاد 12سال تک وادی کے مختلف سکولوں میں اپنی خدمات انجام دیں،1953میں جماعت اسلامی کے رکن بن گئے ،پہلی بار 28اگست 1962ء کو گرفتار ہوئے اور 13مہینے کے بعد جیل سے رہا کیے گئے ، مجموعی طور پر آپ نے زندگی کے 14سال سے زائد بھارتی سامراج کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاست اور ریاست کے باہر مختلف جیلوں میں گزارے ، آپ 15سال تک اسمبلی کے ممبر رہے ۔ آپ ریاستی اسمبلی کیلئے تین بار 72ء، 77ء اور 1987ء میں اسمبلی حقہ سوپور سے جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر منتخب ہو گئے ۔ 30اگست 1989ء کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ 7اگست 2004ء کو جماعت اسلامی کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعد آپ نے تحریک حریت قائم کی تب سے آپ تحریک حریت کے چیئرمین اور ساتھ ہی حریت کانفرنس کے چیئرمین رہے ، آپ رابطہ عالم اسلامی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں، آپ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں رودادقفس، قصہ درد، صدائے درد، مقتل سے واپسی، دیدوشنید اور فکر اقبال پر شاہکار کتاب، روح دین کا شناسااول و دوم، پیام آخریں، نوائے حریت، بھارت کے استعماری حربے ، عیدین،سفر محمود میں ذکر مظلوم،ملّت مظلوم، تو باقی نہیں،What should be done، پسِ چہ باید کرد، پیامِ آخرین،اقبال اپنے پیغام کی روشنی میں، ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیرکی تصویر کا، ہجرت اورشہادت، تحریک حریت کے تین اہداف،معراج کا پیغام، نوجوانانِ ملت کے نام، دستور تحریکِ حریت اور ولّر کنارے اول دوم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ آپ مختلف جسمانی عوارض میں مبتلا رہے ،پیس میکر لگا ، جسم بغیر گال بلیڈر کے تھااور سب سے پہلے ایک گردہ نکالا گیا اور اس کے بعد دوسرے گردے کا ایک تہائی حصہ بھی آپریشن کر کے باہر نکالا گیا، باطل قوت نے آپ کو راستے سے ہٹانے کیلئے ایک درجن سے زیادہ قاتلانہ حملے کیے مگر کامیابی نہ ہوئی بالآخر رضاالٰہی سے علی گیلانی دنیا سے کوچ کر گئے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-02/1876258
جماعت اسلامی میں شمولیت سے کل جماعتی حریت کانفرنس تک کا سفر
2 September, 2021
سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے
سری نگر،اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) ان کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تھا، وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے رکن بھی رہے بعد میں تحریک حریت کے نام سے اپنی جماعت بنائی ، وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے ،وہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کے سخت مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی توانا آواز سمجھے جاتے تھے ،سید علی گیلانی 2003 میں آزادی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے تاحیات چیئرمین منتخب ہوئے ، جون 2020 میں انہوں نے اس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-09-02/1876221
علی گیلانی اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گرایجویٹ،نشان پاکستان سے بھی نوازاگیا
2 September, 2021
کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی رابطہ عالم اسلامی کے رکن بھی رہے
سری نگر(ایجنسیاں) انکی ایک کتاب روداد قفس بھی شائع ہو چکی ہے ۔ سید علی گیلانی اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گرایجویٹ تھے ۔ ان کو پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی پر حکومت پاکستان کی جانب سے نشان پاکستان سے بھی نوازا گیا۔14 اگست 2020ء کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انہیں نشان پاکستان دیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-09-02/1876222
علی گیلانی کی موت بڑا دھچکا، ہم یتیم ہوگئے :کشمیری رہنما
2 September, 2021
مرحوم کے نعرے ہر کشمیری کی زبان پر،تاریخ رقم کی :یوسف نسیم ، خوفزدہ بھارت نے سالوں نظر بندرکھا :متین احمد ، مشعال ملک
اسلام آباد (اے پی پی)حریت رہنمائوں یوسف نسیم، مشعال ملک اور شیخ متین احمد نے کہا ہے کہ ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، انہوں نے بھارتی جارحیت کے باوجود کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، وہ سب کشمیریوں کیلئے مشعل راہ ہیں، ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خون کے آخری قطرے تک تحریک آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعا ل ملک نے کہا ہے کہ سید علی گیلانی کی موت کشمیریوں کیلئے ایک بڑا دھچکا ، کشمیری آج ایک عظیم لیڈر کے سائے سے محروم اور یتیم ہو گئے ہیں، ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، انہوں نے آزادی کی تحریک میں کبھی اصولی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا، وہ آج آزادی کا خواب لیکر دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ سینئر حریت رہنما یوسف نسیم نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی تحریک آزادی کیلئے وقف کر رکھی تھی، وہ اپنے جانے سے پہلے ہر بچے کو گیلانی بنا کر جا رہے ہیں، ان کے تحریک آزادی، اسلام کی سربلندی، اتحاد و بھائی چارے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے آج ہر کشمیری کی زبان پر سنے جا سکتے ہیں،سید علی گیلانی تاریخ رقم کر کے دنیا سے چلے گئے ہیں۔ حریت رہنما شیخ متین احمد نے کہا ہے کہ سید علی گیلانی کی موت سے ہم سب کے دل رنجیدہ ہیں، وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں، بھارت کو ان سے خوف تھا اسی لئے اس نے انہیں سالوں سے نظر بند رکھا، انہوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا، ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھارت نے کرفیو لگانا شروع کر دیا ہے تاکہ لوگ اپنے قائد کی آخری رسومات میں شرکت نہ کر سکیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-02/1876255
حضرت امام زین العابدینؓ کا یوم شہادت آج منایا جائیگا
2 September, 2021
نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین ؓ کے صاحبزادے حضرت امام زین العابدین ؓ کا یوم شہادت آج نہایت عقید ت واحترام کے ساتھ منایا جائیگا
لاہور،احمدیار(صباح نیوز) نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین ؓ کے صاحبزادے حضرت امام زین العابدین ؓ کا یوم شہادت آج نہایت عقید ت واحترام کے ساتھ منایا جائیگا ۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں مجالس عزا اور مساجد میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-02/1876259
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/02092021/p1-lhr003.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/02092021/p1-lhr008.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/02092021/p1-lhr009.jpg
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108616376&Issue=NP_PEW&Date=20210902
سید علی گیلانی کی وفات ،وزیراعظم نے ایک دن کے سوگ کا اعلان کردیا
Sep 01, 2021 | 23:58:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی وفات پر ایک دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہیں اورآج قومی پرچم سرنگوں رہے گا ۔انکا کہنا تھا کہ حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات کا سن کر بہت دکھ ہوا،سید علی گیلانی نے اپنی تمام عمر لوگوں کے حق خود اردایت کے لیے جدوجہد کی، انہیں بھارت فوج کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹے رہے۔ہم پاکستان میں ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں،اور انہیں ان کے الفاظ' ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے' کیساتھ یاد کرتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/01-Sep-2021/1335371?fbclid=IwAR3umwf-WH4lis-81Tfd2LDVtWoqiDHfYw7zPUZiTfK8TrS8QB593N_uL3E
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108614455&Issue=NP_PEW&Date=20210901
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108614399&Issue=NP_PEW&Date=20210901
کابل ائرپورٹ سے غیر یقینی صورت حال میں مسافروں کے ساتھ پی آئی اے طیارہ پاکستان لانے والے کیپٹن مقصود بجارانی کو سونے کے تمغے سے نوازا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے پی آئی اے کے کیپٹن مقصود بجارانی کو ان کی بہادری، پیشہ وارانہ مہارت اور مسافروں کو سلامتی کے ساتھ وطن لانے پر صدارتی گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ کیپٹن بجارانی نے کابل کے حامد کرزئی ہوائی اڈے سے مسافروں کے انخلا پر مامور ایئر بس 320 طیارے کے ساتھ ایئر ٹریفک کنٹرول کی رہنمائی کے بغیر ٹیک آف کیا تھا۔
اس پرواز میں مسافروں کے ساتھ ساتھ فضائی عملےکے ارکان بھی موجود تھے، ٹیک آف کے لیے تیار کیپٹن بجارانی کو ایئرپورٹ کی غیریقینی صورت حال کے باعث ایئر ٹریفک کنٹرول نے اپنی ذمے داری پر فیصلہ کرنے کا کہا تھا، جس پر کیپٹن مقصود نے اعلیٰ پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگی جہازوں کے پیچھے پیچھے کامیاب ٹیک آف کیا تھا۔
کیپٹن بجارانی کے اس جرات مندانہ اقدام کو پی آئی اے کے سی ای او سمیت پائلٹس کی بین الاقوامی تنظیم ایفالپا نے بھی سراہا تھا اور انہیں تعریفی خطوط جاری کیے تھے۔
https://www.express.pk/story/2219557/1/
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/30082021/P6-Lhr-023.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/30082021/p1-lhr039.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/29082021/p6-lhe-042.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/29082021/p6-lhe-040.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/28082021/p6-lhr011.jpg
بابا بلھے شاہ کے عرس کی تقریب آج ہو گی
26 August, 2021
برصغیر پاک وہند کے معروف شاعر حضرت بابا بلھے شاہؒ کے سالانہ 264ویں عرس کی تقریب آج قصورمیں ہو گی
قصور (اے پی پی) کورونا کی چوتھی لہرکے پیش نظر عرس کی تین روزہ تقریبات کو محدود کرکے ایک روزہ تقریب میں بدل دیا گیا ہے ۔درباربابابلھے شاہ اور اردگردمختلف مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کئے گئے ہیں ، عرس کیوجہ سے آج مقامی تعطیل ہوگی ۔ ڈپٹی کمشنرآسیہ گل کی طرف سے ہدایت کی گئی ہے ویکسی نیشن کے بغیر کسی کو بھی عرس تقریبات میں داخلے کی اجازت نہ ہوگی ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-08-26/1873121
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/25082021/p2-lhr009.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/25082021/P4-Lhr-002.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/25082021/P6-Lhr-011.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/25082021/P6-Lhr-012.jpg
افغان حکومت میں سابق وزیر مواصلات سید احمد شاہ سادات نے جرمنی میں سائیکل پر پیزا ڈیلیوری شروع کردی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق، سابق افغان صدر اشرف غنی کی حکومت میں وزیر مواصلات رہنے والے سید احمد شاہ سادات نے مشرقی جرمن ریاست سیکسونیا کے لیپزگ میں ایک فوڈ ڈیلیوری کمپنی میں پیزا ڈیلیوری بوائے کی حیثیت سے کام شروع کردیا ہے اور وہ اپنی سائیکل پر گاہکوں کو پیزا سپلائی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق افغان وزیر نے دسمبر 2020 میں افغان حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اپنے ملک سے فرار ہونے کے بعد جرمنی کی ریاست سیکسونیا میں آگئے تھے، جہاں انہوں نے جرمن کمپنی ’’لائیف رینڈو‘‘ کے ساتھ پیزا کی ترسیل کا کام شروع کردیا۔ سابق وزیر کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں، جن میں وہ لیپزگ شہر میں سائیکل پر پیزا آرڈر سپلائی کرتے نظر آرہے ہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق افغان وزیر کا کہنا تھا کہ اب وہ سادہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں نے ان پر استعفیٰ جمع کرانے کےلیے دباؤ ڈالا تھا، اور خود حکومتی اراکین بھی طالبان کی پیش قدمی و افغانستان پر ممکنہ کنٹرول کے خطرے اور غیرملکی افواج کے انخلا کی تاریخ کے قریب آنے کے بعد ملک سے فرار کے منصوبے تیار کر رہے تھے جبکہ وزارت مواصلات سمیت دیگر وزارتوں کے سرکاری بجٹ میں لوٹ مار کرکے پیسے بیرون ملک منتقل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
’’وہ چاہتے تھے کہ وزارتوں کا بجٹ اپنے قبضے میں لے کرملک سے بھاگ جائیں، اور جب میں نے لوٹ مار کے منصوبے میں حصہ لینے سے انکار کیا تو انہوں نے سازش شروع کردی اور مجھے استعفیٰ دینا پڑا۔ اس طرح میں فرار ہوکر لیپزگ آگیا۔ پیسے ختم ہوگئے تو ڈیلیوری سروسز کمپنی میں کام شروع کردیا،‘‘ شاہ سادات نے میڈیا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
https://www.express.pk/story/2217078/509/
فواد عالم نے ایک اور ریکارڈ اپنے نام کرلیا
Aug 23, 2021 | 23:23:PM

جمیکا(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے سٹار بلے باز فواد عالم نے اہم ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فواد عالم نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز اپنی پانچویں سینچری سکور کی,وہ کم اننگز میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے ایشیائی بلے باز بن گئے ہیں۔ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد فواد عالم نے بیٹنگ لائن کوسنبھالا۔ انھوں نے پہلے بابراعظم کا ساتھ اور پھر لوئر مڈل آرڈر کے ساتھ ملکر ٹیم کو سنبھالا دیا۔فواد عالم اب تک ویسٹ انڈیز،سری لنکا، زمبابوے ،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف سینچریاں سکور کرچکے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/23-Aug-2021/1331454?fbclid=IwAR30UXFmvtXVK0fHWWLBUsZKW7HtMcZo4OJRvBQGqNgGHsGOsGBkswnqkjc
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/23082021/p1-lhr025.jpg
پاکستان کے محمد راشد نسیم نے مارشل آرٹس کیٹیگری میں اپنا 70 واں عالمی ریکارڈ بنا ڈالا جب کہ مجموعی طور پر ان کی اکیڈمی کے ریکارڈز کی تعداد 91 ہو گئی۔
بھارتی عالمی ریکارڈز کے دشمن راشد نسیم نے بھارتی ماشل آرٹس ماسٹر سجیت کمار کے ایک منٹ میں کہنی سے 279 اخروٹ توڑنے کے ریکارڈ کو 315 مرتبہ کہنی سے اخروٹ توڑ کرایک مرتبہ پھر اپنی برتری ثابت کردی، یہ ریکارڈ گنیز ریکارڈ آف ورلڈ کی انتظامیہ کو بھجوایا جائے گا۔
راشد نسیم کے مطابق ان کا بھارتی ماسٹر اور ان کے شاگردوں سے زبردست مقابلہ جاری ہے، ون ٹو ون مقابلے میں انہوں نے اس بھارتی ٹیم کو پہلے بھی اٹلی میں شکست دی تھی، پہلی مرتبہ 195 مرتبہ کہنی سے اخروٹ توڑنے کے ریکارڈ کو پھباکر ریڈی نے 229 مرتبہ یہ عمل کرکے توڑا مگر میں نے 256 مرتبہ کہنی سے اخروٹ توڑ کردوبارہ عالمی ریکارڈ پاکستان کے نام کریا، تاہم پبھاکر ریڈ کے شاگرد سجیت کمار نے 279 اخروٹ توڑ کر نیا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا۔
مضبوط ارادوں کے مالک راشد نسیم نے اب ایک مرتبہ پھر بھارت کو عالمی ریکارڈ سے محروم کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کر دیا، ایک منٹ میں کہنی سے 315 اخروٹ توڑنے والے راشد نسیم کا کہنا ہے کہ حکومتی سرپرستی کے بغیر 70 عالمی ریکارڈز بنانا میرے لیے کسی خواب سے کم نہیں، میرا ہدف 100 عالمی ریکارڈ بنانا ہے، امید ہے کہ اپنی بھرپور محنت اور قومی دعاوں سے میں اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہو جاوں گا۔
https://www.express.pk/story/2216280/16/
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108590638&Issue=NP_PEW&Date=20210823
ورلڈ یوتھ اسکریبل کپ پاکستان کے سید عماد علی نے جیت لیا۔
عماد علی نے دوسری بار یوتھ اسکریبل کا عالمی اعزاز اپنے نام کیا، دوروزہ فائنل میں ٹاپ ٹین کھلاڑیوں نے 13 گیمز کھیلے، سید عماد علی نے 9 گیمز جیتے اور 329کے اسپریڈ اسکور کے ساتھ ٹائٹل اپنے نام کیا، بھارت کے مادھو گوپال نے بھی 9گیمز جیتے لیکن وہ دوسرے نمبر پررہے، تھائی لینڈ کے نپت نے تیسری پوزیشن حاصل کی، فائنلز میں پہنچنے والے پاکستان کے دوسرے کھلاڑی حشام ہادی خان کو 7گیمز میں فتح ملی اور ان کا چوتھا نمبر رہا، ٹیم کے اعتبار سے پاکستان ٹیم پہلے نمبر پر رہی۔
سید عماد علی 2018 میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والا ویسپا یوتھ اسکریبل کپ بھی جیت چکے ہیں، اس طرح وہ دو بار ویسپا یوتھ کپ جیتنے والے دنیا کے پہلے پلیئر بھی بن گئے، عماد جونیئر لیول پر پاکستان کیلئے تین عالمی اعزازات جیت چکے ہیں جن میں دو ویسپا ورلڈ یوتھ کپ اور 2019کی ورلڈ جونئیر اسکریبل چیمپیئن شپ شامل ہے۔
کورونا کے باعث ویسپا یوتھ اسکریبل کپ کے مقابلے پاکستان کی میزبانی میں آن لائن ہوئے، یوں پہلی انفرادی ورچوئل چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز بھی سید عماد علی نے اپنے نام کیا۔
عماد علی کا کہنا تھا کہ دوسری بار ورلڈ یوتھ ٹائٹل جیتنے پرخوشی ہے، محنت کی جس کا صلہ ملا، فائنلز میں تمام حریف ہی مشکل تھے لیکن بھارت اورتھائی لینڈ کے کھلاڑیوں نے ٹف ٹائم دیا، اب ورلڈ اسکریبل چیمپیئن شپ میں عمدہ کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا۔
بھارت کواسپرٹ آف اسکریبل کا ایوارڈ دیا گیا، ٹورنامنٹ کی بہترین خاتون پلیئر کا ایوارڈ سری لنکا کی سندلی ویتھا ناگے کے نام رہا جبکہ ملائیشیا کے ڈریسڈن لم کم عمر ترین کھلاڑی قرارپائے، ایونٹ میں 14 ممالک کے 72کھلاڑیوں نے حصہ لیا، بھارت سمیت تمام ممالک کے کھلاڑیوں نے ایونٹ کے شاندار انتظامات کی تعریف کی، پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن کے صدر اور پی ایس ایل کی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
ندیم عمر کا کہنا تھا کہ اسکریبل کا کھیل دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو قریب لاتا ہے، بھارت اورپاکستان کے حالات جتنے بھی کشیدہ ہوں لیکن بھارتی کھلاڑیوں نے کھیل کی اسپرٹ سے سب کے دل جیت لئے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کرکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر کھیلوں کو بھی سپورٹ کرتی رہے گی۔
ند یم عمر نے ورلڈ یوتھ چیمپیئن سید عماد علی کیلئے ایک لاکھ جبکہ پاکستان ٹیم کیلئے بھی نقد انعام کا اعلان کیا، تقریب کے اختتام پر ندیم عمر اور اسپانسرز کے نمائندوں نے انعامات تقسیم کئے، اختتامی تقریب کے دوران ایونٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑی اور ویسپا کے عہدیداران آن لائن موجود تھے۔
https://www.express.pk/story/2215963/16/
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/22082021/P6-LHR-034.jpg
پاک فوج کی میجر شمائلہ بشیر کو اقوام متحدہ امن مشن میڈل سے نوازا گیا
21 August, 2021
پاک فوج کی میجر شمائلہ بشیر کو اقوام متحدہ امن مشن میڈل سے نوازا گیا ، استور سے تعلق رکھنے والی میجر شمائلہ بشیرقبرص میں فرائض انجام دے رہی ہیں
نیویارک (این این آئی)مشن کمانڈر میجر جنرل انگرڈ جیراڈ نے میجر شمائلہ بشیر کو امن مشن میڈل سے نوازا، اس کے علاوہ مشن میں مختلف ممالک کے 13افسران کو اقوام متحدہ امن مشن میڈل سے نوازاگیا ، میڈل پانیوالوں میں پاکستان،ارجنٹینا،روس، سربیا، برطانیہ کے افسر شامل ہیں۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-08-21/1870431
راشد منہاس کا یوم شہادت، پاک فضائیہ کی دستاویز فلم جاری
21 August, 2021

پائلٹ آفیسر نے پاک فضائیہ کی عظیم روایات پر عمل کیا:پاک فوج کا خراج عقیدت
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، این این آئی) پاکستان کے بہادر سپوت، اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر پانے والے کم عمر پائلٹ آفیسر راشد منہاس کے 50 ویں یومِ شہادت پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے مختصر دستاویزی فلم جاری کر دی۔ ترجمان کے مطابق پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید 17 فروری 1951 کو پیدا ہوئے اور 14 مارچ 1971 کو پاک فضائیہ کے 51ویں جی ڈی پی کورس میں کمیشن حاصل کیا۔ انہیں آپریشنل کنورژن کورس کیلئے ماڑی پور (مسرور) میں واقع نمبر 2 سکواڈرن میں تعینات کیا گیا۔ 20 اگست 1971 کو راشد منہاس نے اپنے انسٹرکٹر پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا جس نے ان کا T-33 تربیتی طیارہ ہائی جیک کر کے بھارت لے جانے کی کوشش کی ، علاوہ ازیں ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے راشد منہاس نشان حیدر کو 50 ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیاہے اور اپنے ٹویٹ میں کہا ہم قومی ہیرو، پائلٹ آفیسر راشد منہاس نشان حیدر کے 50 ویں یوم شہادت پر انہیں بہادری اور عظیم قربانی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ راشد منہاس نے پاک فضائیہ کی عظیم روایات پر عمل کرتے ہوئے مادر وطن کا دفاع یقینی بنایا۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-08-21/1870422
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/21082021/p6-lhe-025.jpg
حکومت کا کانسٹیبل جمال کلہوڑو کو یوم پاکستان پر اعزاز دینے کا اعلان
Aug 20, 2021 | 13:54:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی حکومت نے سندھ پولیس کے کانسٹیبل جمال کلہوڑو کو یوم پاکستان کے موقع پر اعزاز دینے کا اعلان کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فرائض کی ادائیگی کے جذبے سے سرشارکانسٹیبل جمال کلہوڑو کو23مارچ پر اعزازسے نوازاجائے گا۔
عمران خان نے اپنے پیغام میں سورہ الماعدہ کی ایک آیت کا حوالہ بھی دیا کہ اگر کسی نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔
واضح رہے کہ کانسٹیبل جمال کلہوڑو نے8محرم کو ٹرین سے گرنے والے مسافر کی جان بچائی تھی۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Aug-2021/1330158?fbclid=IwAR2iDoPpn_2-uMUP8hFInf4DYTHbZF2CzLSM2qhGgGg81QKJ-1HNaxXgkjc
خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے جنگل میں لگی آگ بجھاتے ہوئے اہلکار جاں بحق ہوگیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے شہید اہلکار کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمشید اقبال نے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران اپنی جان دے کر فرض شناسی کی اعلی مثال قائم کی، جو سب کے لئے قابل تقلید ہے، جمشید اقبال ہمارے ہیرو ہیں اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے۔
وزیر اعلی نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شہید کے اہل خانہ کے ساتھ ہے انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
محکمہ جنگلات کا نوجوان اہلکار جمشید اقبال آگ بجھاتے ہوئے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور انتہائی گہری کھائی میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ محکمہ جنگلات کے مطابق گرمی کے باعث گھنے جنگل میں آگ لگی ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں درجنوں دیار کے قیمتی درخت جل کرخاکستر ہوگئے۔
https://www.express.pk/story/2215166/1/
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/18082021/p6-lhr-005.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/17082021/P6-Lhr-055.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/17082021/P6-Lhr-056.jpg
دوسری جنگ عظیم کے بعد 30 برس تک اکیلا ہی جنگ لڑنے والا جاپانی فوجی، اسے ہتھیار ڈالنے پر کیسے مجبور کیا گیا؟ حیران کن کہانی
Aug 16, 2021 | 20:22:PM

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) دوسری جنگ عظیم میں جب انسانی حقوق کے چیمپئین امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر انسانی تاریخ کے سب سے بڑے المیے کو جنم دیا، تو جاپانی فوج سرنڈر کرنے پر مجبور ہو گئی مگر آپ کو یہ سن کر سخت حیرت ہو گی کہ جاپان کا ایک فوجی ایسا بھی تھا جس نے سرنڈر کے حکم کو نظرانداز کیا اور جنگ ختم ہونے کے بعد بھی 30سال تک اپنی جنگ جاری رکھی اور فلپائنیوں پر گوریلا حملے کرتا رہا۔
ڈیلی سٹار کے مطابق یہ جاپانی فوجی سیکنڈ لیفٹیننٹ ہیرو اونوڈا(Hiroo Onoda) تھا۔ ہیرواونوڈا اور اس کے 30ساتھی فوجیوں کو ان کے کمانڈنگ آفیسر نے کہا تھا کہ وہ نہ تو سرنڈر کا حکم مانیں اور نہ ہی خودکشی کریں بلکہ جنگ جاری رکھیں۔
رپورٹ کے مطابق جب امریکہ نے جاپان کے شہروں پر ایٹم بم گرائے اس وقت انٹیلی جنس آفیسر ہیرواونوڈا اور اس کے ساتھی فلپائن کے جزیرے لوبانگ کے گھنے جنگل میں جنگ لڑ رہے تھے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے وطن میں کیا قیامت گزر چکی ہے۔
سنہ 2010ءمیں ہیرو نے بتایا تھا کہ ”ہر جاپانی فوجی موت کے لیے تیار تھا لیکن ایک انٹیلی جنس آفیسر کے طور پر مجھے حکم دیا گیا کہ میں گوریلا جنگ جاری رکھوں اور خودکشی نہ کروں۔ “
1945ءمیں جب امریکی و فلپائنی فورسز لوبانگ پر حملہ آور ہوئیں، تب تک لگ بھگ ہر جاپانی فوجی قتل ہو چکا تھا یا سرنڈر کر چکا تھا۔ تاہم جزیرے پر امریکی و فلپائنی فورسز کے حملے کے بعد بھی ہیرو نے سرنڈر نہیں کیا اور جنگل میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گوریلا کارروائیاں جاری رکھیں۔اس دوران آسمان سے طیارے کے ذریعے جاپانی فوج کے سرنڈر کے حکم نامے کی دستاویز کی نقول گرائی گئیں لیکن ہیرو نے اپنے کمانڈنگ افسر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جنگ جاری رکھی۔ وہ اور ان کے ساتھ جنگلی پھلوں اور فارمز سے چوری شدہ جانوروں کے گوشت پر گزارا کرتے رہے اور گاہے دشمن فوجیوں پر حملہ آور ہوتے رہے اور انہیں جانی و مالی نقصان پہنچا کر جنگل میں غائب ہو جاتے۔وہ کبھی ایک کسان اور کبھی پولیس اہلکاروں کا روپ دھار کر دشمن فوجیوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔
ہیرو کے 30ساتھیوں میں سے پہلے نے 1950ءمیں سرنڈر کر دیا تھا۔ اس کا نام یوئشی اکاتسو تھا۔آہستہ آہستہ ہیرو کے سارے ساتھی مرتے گئے۔ 1972ءمیں ہیرو کا آخری فوجی کین شی چی کوزوکا فلپائنی پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ اب ہیرو اکیلا اپنے کمانڈنگ آفیسر کے حکم پر عمل کرتے ہوئے جنگ لڑ رہا تھا۔ دشمن فوجوں نے ہیرو کو سرنڈر پر مجبور کرنے کےلیے بے شمار حربے استعمال کیے۔ انہوں نے جاپانی پرچم پر اس کی فیملی کے لوگوں کے دستخط کروا کر جنگل میں پرچم لہرایا۔ اس کی 86سالہ والدہ کی آواز ریکارڈ کرکے جنگل میں سپیکر پر بلند آواز میں چلائی، جس میں ہیرو کی ماں کہہ رہی ہوتی ہے کہ ”بیٹے، میرے جیتے جی گھر واپس آ جاﺅ۔“
1974ءمیں ایک جاپانی شہری اس جزیرے پر گیا اور اس کی اتفاقاً ہیرو سے ملاقات ہو گئی۔ اس جاپانی شہری نے ہیرو کااعتماد جیتا اور اسے بیرونی دنیا کی تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا اور سرنڈر کرنے کی ترغیب دی۔ تاہم ہیرو نے سرنڈر سے انکار کر دیا اور کہا کہ ”جب تک میرا کمانڈنگ آفیسر مجھے سرنڈر کا حکم نہیں دے گا میں سرنڈر نہیں کروں گا۔“ ہیرو کا کمانڈنگ آفیسر اس وقت تک ریٹائر ہو کر کتابوں کی دکان کھول چکا تھا اور جاپان میں کتابیں بیچتا تھا۔
ہیرو کے مطالبے سے آگاہ ہونے پر اس کے ریٹائرڈ کمانڈنگ آفیسر کو خصوصی طیارے کے ذریعے فلپائن کے اس جزیرے پر لایا گیا اور اس کے کہنے پر ہیرو نے بالآخر سرنڈر کر دیا۔ ہیرو کی ’ایریساکا‘ رائفل اب تک اس کے پاس تھی اور بخوبی چلتی تھی۔ اس کے پاس رائفل کی 500گولیاں بھی اب تک موجود تھیں اور متعدد ہینڈ گرنیڈ بھی تھے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے پاس وہ برچھی بھی اب تک موجود تھی جو اس کی ماں نے جنگ پر جاتے ہوئے اسے دی تھی اور کہا تھا کہ اگر دشمن کے ہاتھوں پکڑے جانے کا خطرہ ہو تو اس برچھی سے خودکشی کر لینا۔اس نے ابھی تک اپنی جاپانی فوج کی یونیفارم پہن رکھی تھی۔
ہیرو کو جنگل سے باہر لایا گیا اور فلپائن کے صدر فرنینڈ میکروس نے اسے جزیرے کے رہائشی 30سے زائد عام شہریوں کا خون معاف کر دیا جنہیں اس نے اور اس کے ساتھیوں نے ان سالوں میں قتل کیا تھا۔جب جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں سرنڈر کیا تھا، اس وقت ہیرو کی عمر 19سال تھی اور جب اس نے سرنڈر کیا او ر اسے واپس جاپان لیجایا گیا تو وہ 52سال کا تھا۔ واپس پہنچ کر ہیرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اپنے کمانڈنگ آفیسرکے احکامات پر عمل کر رہا تھا۔“جنگل سے نکلنے کے بعد وہ 39سال تک مزید زندہ رہا اور 91سال کی عمر میں ٹوکیو میں انتقال کر گیا۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Aug-2021/1328943?fbclid=IwAR2HS6bWKllzFvXiON97Jx_FixLjDHgjl55CI1gOQNa_iOYit5bFmTIibPo
نصرت فتح علی کو مداحوں سے بچھڑے 24سال گزرگئے
16 August, 2021

عظیم گلوکارنصرت فتح علی خان کی24ویں برسی آج منائی جائے گی
کراچی (سٹاف رپورٹر) اس سلسلے میں فلمی حلقوں میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا ۔نصرت فتح علی خان13اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ،انہوں نے بحیثیت قوال 125آڈیو البم ریلیز کئے جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے ۔ جگر و گردوں کے عارضہ سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 49سال کی عمر میں 16اگست 1997 کو کروڑوں مداحوں کو داغ مفارقت دے گئے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-08-16/1868352
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/16082021/P6-Lhr-013.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/08/16082021/P6-Lhr-062.jpg











No comments:
Post a Comment