جدید تحقیق میں داڑھی کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا کہ آپ بھی سبحان اللہ پکار اٹھیں گے
Nov 30, 2021 | 18:20:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) داڑھی سنت نبویﷺ ہے اور دین اسلام نے ہر مرد کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک جدید سائنسی تحقیق میں بھی اب داڑھی کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا ہے کہ آپ دین فطرت کے اس حکم پر سبحان اللہ پکار اٹھیں گے۔ دی سن کے مطابق برطانیہ کے ڈاکٹر کرن راجن نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ داڑھی مردوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کرن راجن بتاتے ہیں کہ داڑھی مردوں کے چہروں کو خطرناک بیکٹیریا سے بچاتی ہے۔ اس حوالے سے ایک ہسپتال کے ورکرز پر تحقیق کی گئی ہے جس میں معلوم ہوا کہ جن ورکرز کے چہرے پر داڑھی تھی ان کے چہرے پر ’ایم آر ایس اے‘ (MRSA)نامی مہلک بیکٹیرئیل سپر بگ تین گنا کم موجود تھا۔ یہ ایسا خطرناک بیکٹیریا ہے جس پر کئی اینٹی بائیوٹکس بھی بے اثر ہوتی ہیں اور اس کا علاج لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کرن کا کہنا تھا کہ بغیر داڑھی والے ہسپتال کے مرد ورکرز کے چہرے پر یہ بیکٹیریا تین گنا زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ داڑھی والے مردوں کے چہروں پر دیگر جراثیم اور بیکٹیریا بھی بغیر داڑھی والے مردوں کی نسبت کئی گنا کم پائے گئے۔لہٰذاماہرین کی طرف سے اس تحقیق کی روشنی میں تمام مردوں کو داڑھی رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/30-Nov-2021/1372010?fbclid=IwAR1B9E-6_izNPgtBNtKH8jYwYjEKnW0lIYWjmU2Tg957a-W6D4PgH6D5kVI
بیریوں کے غیر معمولی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں اور اب بلیو بیری کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ نہ صرف ذیابیطس کو قابو میں رکھتی ہیں بلکہ دل کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے
کلینکل نیوٹریشن نامی تحقیقی جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک کپ بلیو بیری کا روزانہ استعمال دل کو مجموعی طور تندرست رکھتا ہے۔ اس کی وجہ جادوئی کیمیائی اجزا ہیں جو بلیو بیری میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان میں اینتھوسیانِن اور فینولِکس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کولیسٹرول کو بھی قابو میں رکھتے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے سائنسدانوں نے کی ہے جس میں صرف 45 افراد کو شامل کیا گیا جن میں 29 مرد اور 16 خواتین شامل تھیں، انہیں روزانہ ایک کپ بلیوبیری چھ ماہ تک کھلائی گئی۔
ان سب افراد کو توانائی سے بھرپور کھانے کھلائے گئے۔ اس کے لیے ملک شیک جیسے ایک گاڑھے مشروب کی 500 گرام مقدار میں 26 گرام بلیو بیری پاؤڈر شامل کیا گیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ مشروب کیلوریز کے لحاظ سے ایک بڑے برگر، سافٹ ڈرنک اور فرائیز کے برابر تھا۔ دوسرے گروپ کو ملک شیک جیسا مشروب دیا گیا اور فرضی پاؤڈر دیا گیا لیکن اس کے اثر ہلکا اور فاسٹ فوڈ جیسا نہ تھا۔
ہربھاری کھانے کے بعد 30، 60، 90، 120، 180 اور 360 منٹ بعد خون کے نمونے لیے گئے ۔ ٹیسٹ میں انسولین، گلوکوز، لائپڈس اور لائپوپروٹین کی سطح معلوم کی گئی۔ پہلے یہ عمل 21 روز تک جاری رکھا گیا۔
معلوم ہوا کہ جن افراد نے بھاری غذا کے باوجود بھی بلیوبیری کا سفوف استعمال کیا تھا ان میں کولیسٹرول نہیں بڑھا اور خون میں شکر کی سطح بھی حد میں رہی۔
https://www.express.pk/story/2263059/9812/
ہزاروں افراد کے منہ کے اندر کی خراب اورغیرصحتمندانہ کیفیت کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسوڑھوں کی بیماری سے کئی طرح کی جسمانی بلکہ دماغٰ بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
برطانیہ میں 60 ہزار سے زائد افراد پر ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر منہ کی اندرونی کیفیت خراب ہو تو امراضِ قلب، ازخودامنیاتی اور خواتین میں حمل کی پیچیدگیوں جیسے امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس طرح منہ سے کئی امراض کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
جامعہ برمنگھم میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ ہیلتھ ریسرچ سے وابستہ ڈاکٹر جوت سنگھ چندن کے مطابق بیمارمنہ سے پورا جسم متاثر ہوتا ہے اور خطرے کی بات یہ ہے کہ خود دماغی صحت پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ان امراض میں الزائیمر بھی سرِ فہرست ہیں۔
اس سے قبل کی گئی تحقیق بتاتی ہے کہ دانت اور منہ کے امراض بلڈپریشرمیں اضافہ کرسکتا ہے۔ اب برطانیہ میں طبی ڈیٹا بیس سے 64 ہزارایسے افراد کا ڈیٹا لیا گیا جو مسوڑھوں اوردانتوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔
اس ضمن میں ساڑھے تین سال کا فالواپ بھی کیا ہے جس کےتحت انفرادی طور پر ہرفرد سے منہ کے علاوہ دیگر امراض کےبارے میں پوچھا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ منہ کی خراب صحت سے جوڑوں میں درد اور گٹھیا کا مرض 33 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح امراضِ قلب اور فالج کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سے دماغی امراض کا خطرہ 37 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ ان میں نفسیاتی اور دماغی دونوں عارضے شامل ہیں جن میں الزائیمر، ڈپریشن اور دیگر امراض شامل ہیں۔
اسی تناظر میں ڈاکٹروں نے منہ کی صحت درست رکھنے پر زوردیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2262196/9812/
ایک عالمی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ چھوٹی عمر سے تعلیم حاصل کرنا شروع کردیتے ہیں اور بڑے ہو کر پیچیدہ مہارت والے پیشے اختیار کرتے ہیں، انہیں ڈیمنشیا کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
نیویارک کے البرٹ آئن اسٹائن اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر ہایون جنشل کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں چار براعظموں کے چھ ممالک میں دس ہزار سے زیادہ افراد کی دماغی صحت سے متعلق جمع کی گئی معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ لوگ 58 سے 103 سال کے تھے جبکہ ان کی اوسط عمر 74 سال تھی۔
تجزیئے سے پتا چلا کہ جو افراد چھوٹی عمر سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اعلی تعلیم تک پہنچے تھے، اور جنہوں نے بعد میں مہارت طلب پیشے بھی اختیار کیے تھے، ان میں ڈیمنشیا کی شرح سب سے کم تھی۔
اس کے علاوہ، اچھی تعلیم اور پیچیدہ مہارت کا حصول ایک دوسرے سے جداگانہ طور پر بھی ڈیمنشیا کا خطرہ کم کرنے میں مددگار دیکھے گئے۔
تعلیم کے نقطہ نگاہ سے ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ آٹھویں جماعت تک یا اس سے کم پڑھائی کرنے والوں کے بڑھاپے میں ڈیمنشیا کی شرح زیادہ تھی جبکہ بارہویں تک پڑنے والوں میں یہ شرح بہت کم رہ گئی۔ مزید اعلی تعلیم کے حصول سے اس شرح میں کچھ خاص کمی واقع نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ ڈیمنشیا کوئی ایک دماغی بیماری نہیں بلکہ مختلف دماغی امراض کا مجموعی نام ہے جن میں ’’الزائیمرز‘‘ بیماری سب سے مشہور ہے۔
اس سے قبل ہونے والی تحقیقات سے بہتر تعلیم اور پیچیدہ نوعیت کی پیشہ ورانہ مہارت کا ڈیمنشیا میں کمی سے تعلق سامنے ضرور آچکا ہے لیکن یہ خاصا مبہم تھا۔ نئی تحقیق سے یہ تعلق واضح اور ناقابلِ تردید انداز میں ہمارے سامنے آیا ہے۔
نوٹ: یہ تحقیق ’’جرنل آف الزائیمرز ڈزیز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2262499/9812/
خدشات، اندیشے یا پریشانی جیسی حالتیں جنہیں مجموعی طور پر anxiety کہا جاتا ہے، ہمارے سوچنے ، عمل اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ شدید خوف کا دورہ پڑنا یعنی panic attack بھی خدشے کی اعلیٰ کیفیت ہے جو کچھ دیر تک باقی رہ سکتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں اگر کھایا یا پیا جائے تو وہ آپ کی ان کیفیات میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ ان 5 غذاؤں کے نام درجہ ذیل ہیں:
1) کیفین
کیفین، کچھ دیر کیلئے سہی، اعصابی نظام کو ‘جگاتی’ ہے لیکن چونکنا رہنے کی صلاحیت کو کم کردیتی ہے۔ کینیڈیئن مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق پریشان کُن طبیعتوں کے حامل مریضوں کو کیفین بالکل نہیں لینی چاہیے۔
2) الکوحل
فلموں اور کہانیوں میں شراب نوشی کو ڈپریشن یا غم کو ہلکا کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے متضاد ہے۔ امریکا کے نینشل سینٹر فار بائیو ٹیکنالوجی انفارمیشن کے مطابق الکوحل ڈپریشن کو کم کرنے کے بجائے کہیں زیادہ بڑھا سکتا ہے اور متاثرہ شخص کی حالت کو مزید بدتر کرسکتا ہے۔
3) چینی
امریکی کول نیچرل ہیلتھ سینٹرز ایل ایل سی کا کہنا ہے کہ خون میں سیروٹنین کی اعلیٰ مقدار ذہنی پریشانی کی حالت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ سیروٹنین ہارمون ہمارے موڈ، بہتر محسوس کرنے یا خوشی کے احساس کا ذمہ دار ہے اور چینی جو کہ سیروٹنین کا اہم ذریعہ ہے، ہمارے خدشات یا اندیشوں کی کیفیات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
4) چربی یا چکنائی
چکنائی (fats) کی اقسام میں سب سے بدتر قسم trans fat ہے۔ پبلک لائبریری آف سائنس PLOS کے مطابق ٹرانس فیٹ جذباتی کیفیات پر گہرے منفی نتائج مرتب کرسکتا ہے۔ زیادہ مقدار میں اگر اس چکنائی کا استعمال کیا جائے تو ڈپریشن بھی جنم لے سکتا ہے۔ ٹرانس فیٹ کے حامل کھانے خراب کولسٹرول LDL کی مقدار کو بڑھاتے ہیں اور اچھے کولسٹرول HDL کو کم کرتے ہیں جس کی وجہ سے دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ دوچند ہوجاتا ہے۔
5) گلوٹن
یہ پروٹین کی ایک قسم ہے جو گندم اور جو وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ گلوٹن کے عادی افراد میں چھوٹی آنت کی خودکار بیماری جنم لے سکتی ہے۔ تقریباً 25 لاکھ امریکیوں کو گلوٹن سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ عمر رسیدہ افراد جو کہ گلوٹن مزاحم ہوچکے ہوتے ہیں ان میں ڈپریشن کا خطرہ اور دوگنا ہوجاتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2262559/9812/
امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ مراقبہ کرنے سے ہمارا امنیاتی نظام (امیون سسٹم) بھی مضبوط ہوتا ہے جو ہمیں مختلف بیماریوں سے بچانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ تحقیق ایسے 106 رضاکاروں پر کی گئی جنہوں نے ’سمیاما مراقبہ‘ کیا تھا۔
سمیاما مراقبے میں 8 دن تک بالکل خاموش رہا جاتا ہے، روزانہ دس گھنٹے مراقبہ کیا جاتا ہے، کسی بھی قسم کا گوشت بالکل بھی نہیں کھایا جاتا، جبکہ مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے کے معمول پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔
تحقیق کےلیے سمیاما مراقبہ شروع کرنے سے پہلے، درمیان میں اور ختم ہوجانے کے بعد تمام رضاکاروں سے خون کے نمونے لیے گئے۔
ان نمونوں کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ مراقبے کے بعد ان رضاکاروں میں ایسے 220 جین زیادہ سرگرم ہوگئے تھے جو براہِ راست امیون سسٹم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں وہ 68 جین بھی شامل تھے جو کسی بھی وائرس کا حملہ ناکارہ بنانے میں بطورِ خاص ہماری مدد کرتے ہیں۔
خاص بات یہ رہی کہ امیون سسٹم کا ردِعمل بڑھنے کے باوجود ان میں سے کسی رضاکار کو تکلیف یا بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ان فوائد کے علاوہ، رضاکاروں میں سانس لیتے دوران آکسیجن جذب کرنے کا عمل بہتر ہوا، انفرادی سطح پر خلیوں کی صحت میں بہتری آئی جبکہ بیماریوں کا باعث بننے والے فاسد مادّوں کا اخراج بھی زیادہ ہونے لگا جو اچھی صحت کی علامت ہے۔
یہ تحقیق مختلف امریکی اداروں میں مشترکہ طور پر انجام دی گئی جس کے سربراہ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ڈاکٹر وجیندرن چندرن تھے۔
’’فی الحال ہم نے صرف اتنا ثابت کیا ہے کہ مراقبے سے ہمارا جسم اندرونی طور پر بھی بیماریوں کے خلاف مضبوط ہوتا ہے،‘‘ ڈاکٹر وجیندرن نے کہا۔
اب وہ اسی نوعیت کی مزید تحقیقات پر کام کررہے ہیں تاکہ مراقبے اور یوگا جیسی قدیم مشقوں کے اثرات زیادہ تفصیل سے، ٹھوس سائنسی شہادتوں کے ساتھ، سامنے لائے جاسکیں۔
نوٹ: مذکورہ بالا تحقیق کی تفصیلات ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2262116/9812/
ویسے تو پانی جتنا زیادہ پیا جائے اتنا صحت کیلئے مفید ہے لیکن معروف میڈیکل نیوز ویب سائٹ WebMD کے مطابق 24 گھنٹوں میں کچھ اوقات ایسے ہیں جس میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
دن و رات کے 15 ایسے اوقات کار تحریر کیے جارہے ہیں جس میں پانی پینے کا فائدہ دوچند ہوجاتا ہے:
1) جب آپ کو بھوک لگ رہی ہو تو کھانا کھانے سے پہلے پانی پیئں۔
2) جب آپ سو کر اٹھیں: کیونکہ طویل نیند کی وجہ سے آپ کا جسم ایک طرح سے روزے کی حالت میں ہوتا ہے، نہ کچھ کھایا گیا ہوتا ہے اور نہ پیا۔
3) جب بھی پسینے آنا شروع ہوں: ایسی حالت میں زیادہ دیر بغیر پانی کے رہنا طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
4) ورزش سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد پانی پیئں۔
5) طبیعت خراب ہونے کے دوران جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنا ہی بیماری سے افاقے کی کنجی ہے۔ اسہال، اُلٹی، بخار وغیرہ جسم سے پانی کی سطح کو کم کردیتے ہیں۔
6) جب آپ ہوائی جہاز میں ہوں: جی ہاں! جتنی زیادہ اونچائی ہوگی ہوا میں نمی کا تناسب اتنا ہی کم ہوگا جسکی وجہ سے جہاز کی اندرونی ہوا خشک رہتی ہے۔ کوشش کریں پانی کی بوتل اپنے ساتھ رکھیں۔
7) خواتین کیلئے: مخصوص ایام کے آغاز میں جو درد کی لہریں اٹھتی ہیں یہ dehydration کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر حیض سے پہلے ہی زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیا جائے تو اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔
8) بعد دوپہر کے ہم میں سے اکثریت اپنی توانائی کسی نہ کسی کام یا سرگرمی میں صرف کرچکی ہوتی ہے تھکاوٹ محسوس ہورہی ہوتی ہے۔ ایسے میں کافی یا چائے پینے کے بجائے پانی پی لیا جائے تو وہ زیادہ فائدہ مند ہے۔
9) سردرد: سر میں درد ہونے کی سب سے عام وجہ پانی کی کمی ہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دماغ کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔
10) وزن گھٹانے کی پلاننگ: پانی صرف پیٹ بھرنے والی کیلوری فری شے ہی نہیں بلکہ یہ ہاضمہ بھی اچھا کرتی ہے۔ پانی جسم میں موجود چربی کو گلانے کے عمل کو تیز بھی کرتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2261684/9812/
برطانوی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈپریشن کی بیشتر دوائیں نہ صرف غلط تجویز کی جارہی ہیں بلکہ انہیں غلط طور پر استعمال بھی کیا جارہا ہے۔
یہ بات انہوں نے ڈپریشن کی ادویہ پر اب تک ہونے والی بڑی تحقیقات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کہی ہے۔
’’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ڈپریشن کی دوائیں بالکل بھی نہ دی جائیں،‘‘ ڈاکٹر مارک ہارووِٹز نے کہا جو یونیورسٹی کالج لندن میں نفسیاتی علاج (سائیکیاٹری) کے پروفیسر اور ’’ڈرگز اینڈ تھراپیوٹکس بلیٹن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اس تجزیاتی مقالے (ریویو آرٹیکل) کے مرکزی مصنف بھی ہیں۔
’’اس کے برعکس، ہم نفسیاتی معالجین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ڈپریشن کی ادویہ کم تعداد میں اور کم مدت کےلیے دیں؛ اور شدید ڈپریشن میں مبتلا مریضوں پر زیادہ توجہ دیں،‘‘ ڈاکٹر مارک نے واضح کیا۔
اس تجزیاتی مقالے میں ڈپریشن کی دواؤں پر کی گئی مختلف اور تفصیلی تحقیقات کا نئے سرے سے جائزہ لیا گیا، جن میں بہت سی تکنیکی خامیاں سامنے آئیں۔
مثلاً یہ کہ ایسی بیشتر تحقیقات کا دورانیہ 6 سے 12 ہفتے تک رہا لیکن اس کے بعد مریضوں کی نفسیاتی صحت پر اکثر نظر نہیں رکھی گئی، لہذا یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اگر ان مریضوں نے بعد میں بھی ڈپریشن کی دوائیں جاری رکھیں تو ان کی ذہنی کیفیت کیا رہی۔
تجزیاتی مقالے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ کم شدت والے ڈپریشن میں اینٹی ڈپریسنٹس (ڈپریشن کی دوائیں) فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈپریشن کی بیشتر دوائیں شدید نوعیت والی علامات پر مختصر مدت کےلیے دی جاتی ہیں لیکن مریض ان کا استعمال کئی سال تک جاری رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ساری دنیا میں ڈپریشن کی ادویہ کا استعمال بڑھتا جارہا ہے لیکن ان کی وہ تاثیر سامنے نہیں آرہی جس کے دعوے ان سے متعلق تحقیقات میں کیے گئے تھے۔
تازہ تجزیاتی مقالے میں یہ نکتہ بھی بطورِ خاص اجاگر کرتے ہوئے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ڈپریشن کی ادویہ پر کی گئی بیشتر تحقیقات میں معمولی فوائد کو بہت بڑھا چڑھا کر، جبکہ ان کے مضر اثرات کو غیر اہم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ ایسی زیادہ تر تحقیقات میں ڈپریشن کی دوائیں استعمال کرنے کے بعد مریضوں میں عمومی معیارِ زندگی یعنی جسم و دماغ کی مجموعی صحت پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ سارا زور صرف ڈپریشن کی ظاہری علامات پر ہی دیا گیا۔
مثلاً ڈپریشن سے چھٹکارا پانے کےلیے ’’ایس ایس آر آئی‘‘ (SSRI) کی دوائیں لینے والے 20 فیصد مریضوں نے دن بھر غنودگی طاری رہنے، منہ میں خشکی، بہت زیادہ پسینہ آنے اور وزن بڑھنے جیسی شکایات کی تھیں۔
25 فیصد مریضوں نے جنسی خواہش متاثر ہونے کے بارے میں بتایا جبکہ 10 فیصد مریضوں کو بے آرامی، پٹھوں میں اچانک کھنچاؤ یا سنسناہٹ، متلی، قبض، ہیضے اور سر چکرانے جیسی کیفیات کا سامنا رہا۔
ایک طویل مدتی سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لمبے عرصے تک ڈپریشن کی دوائیں کھانے والوں 71 فیصد افراد نے خود میں جذباتی بے حسی کا مشاہدہ کیا، 70 فیصد نے کہا کہ وہ ہر وقت خود کو بوجھل اور ارد گرد معاملات سے لاتعلق محسوس کرتے ہیں، 66 فیصد نے جنسی مسائل کا تذکرہ کیا جبکہ 63 فیصد نے زیادہ تر وقت اپنے غنودگی میں مبتلا رہنے کا بتایا۔
اس تجزیاتی مطالعے میں کم عمر بچوں کو ڈپریشن کی دوائیں استعمال کرانے کے رجحان پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اب تک اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں لیکن پھر بھی کم عمر بچوں، بالخصوص نوبالغ لڑکیوں میں ڈپریشن کی ادویہ کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔
ان تمام باتوں کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کی دوائیں تجویز کرتے وقت ڈاکٹروں کو بہت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے جبکہ ان کے مضر اور مفید، دونوں اثرات پر خصوصی نظر رکھنی چاہیے۔
’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈپریشن کی ادویہ پر زیادہ طویل، زیادہ محتاط اور زیادہ جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ انہیں درست طور پر استعمال کیا جاسکے،‘‘ ڈاکٹر مارک نے کہا۔
https://www.express.pk/story/2261600/9812/
چہل قدمی اورورزش کے انسانی جسم پر اپنے فوائد ہیں لیکن ماہرین کے نزدیک سائیکل چلانے کے فوائد اس سے کہیں زیادہ ہیں اور آپ یہ فوائد
2 سے 4 ہفتوں میں حاصل کرسکتے ہیں۔
درج ذیل میں سائیکلنگ کے فوائد تحریر کیے جارہے ہیں جنہیں مطالعہ کرنے کے بعد یقیناً آپ کے اندر سائیکل چلانے کی جستجو پیدا ہوجائے گی۔
1) سائیکل چلانا بھی ایک ورزش ہے، دیگر ورزشوں میں جسم پر زیادہ دباؤ پڑنے اور چوٹیں پہنچنے کا امکان ہوتا ہے لیکن سائیکل چلانے میں یہ امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔
2) سائیکلنگ کے دوران آپ کے جسمانی پٹھے بحیثیت مجموعی کام کررہے ہوتے ہیں، بالٓفاظ دیگر پٹھوں کی صحت کیلئے بھی سائیکلنگ ایک بہترین آپشن ہے۔
3) سائیکلنگ ورزش کی آسان قسم ہے۔ دیگر اسپورٹس یا ورزشوں کو اگر دیکھا جائے تو اس میں کہیں نہ کہیں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب سائیکل چلانا تقریباً ہر شخص کو آتا ہے، اس میں زیادہ مہارت درکار نہیں ہوتی۔
4) سائیکلنگ جسمانی قوت برداشت، طاقت اور ایروبک صلاحیت (جسم میں زیادہ آکسیجن پہنچانے والی ورزش) میں اضافہ کرتی ہے۔
5) سائیکلنگ کو جسمانی استعداد کے مطابق گھٹایا یا بڑھایا جاسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ یعنی کسی چوٹ یا بیماری میں سائیکل کم بھی چلائی جاسکتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دورانیے کو بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔
6) یہ جسم کو تندرست رکھنے کا پُرلطف طریقہ بھی ہے۔ گھر سے باہر نکل کر سڑکوں یا پارکوں میں جاکر یا نشیب و فراز والی جگہوں پر گزرنا ورزش کے ساتھ ساتھ ایڈونچر بھی مہیا کرتا ہے بنسبت ان ورزشوں کے جو مخصوص وقت اور جگہ اور چار دیواری مانگتی ہیں۔
7) سائیکل چلانا ورزش کے ساتھ ایک اچھا ٹرانسپورٹ کا ذریعہ بھی ہے۔ گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے بیٹھے رہنے کے مقابلے میں سائیکل آپ کو حرکت میں رکھتی ہے جس کی وجہ سے بیزاریت نہیں ہوتی۔
https://www.express.pk/story/2260463/9812/
21 ممالک میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد پر کی گئی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کام کے دباؤ اور مالی پریشانیوں کی وجہ سے دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ 30 فیصد تک زیادہ ہوجاتا ہے۔
اس تحقیق کےلیے 2002ء میں شروع ہونے والے ’’دی پرسپیکٹیو اربن رُرول ایپی ڈیمیولوجی‘‘ (PURE) نامی بین الاقوامی مطالعے سے حاصل شدہ اعداد و شمار استعمال کیے گئے۔
’’پیور‘‘ کے نام سے شہرت رکھنے والا یہ مطالعہ آج بھی جاری ہے جس میں اب تک پاکستان سمیت 26 ملکوں کے دو لاکھ سے افراد شامل ہوچکے ہیں۔
تازہ تحقیق یونیورسٹی آف گوٹنبرگ، سویڈن کی پروفیسر انیکا روزن گرین کی قیادت میں 21 ملکوں کے دو درجن سے زیادہ ماہرین نے انجام دی جس کے نتائج آن لائن ریسرچ جرنل ’’جاما نیٹ ورک اوپن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔
ان تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ اس تحقیق کےلیے جن 21 ممالک کا انتخاب کیا گیا ان میں سے پانچ کم آمدنی والے، بارہ اوسط آمدنی والے، اور چار زیادہ آمدنی والے ممالک تھے۔
مجموعی طور پر ان تمام ملکوں سے 118,706 مرد و خواتین کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے جن کی عمر 35 سے 70 سال تھی جبکہ ’’پیور‘‘ مطالعے کے آغاز پر وہ صحت مند اور اوسطاً 50 سال کے تھے۔
ان تمام افراد میں عمومی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی مالی حیثیت اور اعصابی تناؤ مدنظر رکھتے ہوئے یہ معلوم کیا گیا کہ آئندہ چند سال میں انہیں کون کونسی بیماریاں ہوئی اور وہ صحت کے حوالے سے کن کن مسائل کا شکار ہوئے۔
محتاط تجزیئے سے معلوم ہوا کہ مسلسل کام کے دباؤ اور مالی پریشانیوں میں مبتلا رہنے والے لوگوں میں 10 سال کے دوران دل اور شریانوں کے امراض کا امکان، ان مسائل کا سامنا نہ کرنے والوں سے 24 فیصد زیادہ جبکہ فالج کا امکان 30 فیصد تک زیادہ تھا۔
اگرچہ اس سے پہلے کی تحقیقات میں بھی اعصابی تناؤ اور مالی مسائل کا مختلف امراضِ قلب اور فالج سے واضح تعلق سامنے آچکا ہے لیکن یہ تمام تحقیقات ایسے لوگوں پر کی گئی تھیں جو پہلے ہی دل کی کسی نہ کسی بیماری کے شکار تھے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جب صحت مند افراد کو مالی پریشانیوں اور کام کے دباؤ کی بناء پر دل اور شریانوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
وہ کون کونسے عوامل ہیں جو اس پورے عمل میں امراضِ قلب اور فالج کی وجہ بنتے ہیں؟ اس بارے میں فی الحال ابتدائی نوعیت کی کچھ مبہم معلومات ہمارے پاس موجود ہیں۔
البتہ انہیں پوری درستگی اور اعتماد کے ساتھ جاننے کےلیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت پڑے گی۔
21 ممالک میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد پر کی گئی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کام کے دباؤ اور مالی پریشانیوں کی وجہ سے دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ 30 فیصد تک زیادہ ہوجاتا ہے۔
اس تحقیق کےلیے 2002ء میں شروع ہونے والے ’’دی پرسپیکٹیو اربن رُرول ایپی ڈیمیولوجی‘‘ (PURE) نامی بین الاقوامی مطالعے سے حاصل شدہ اعداد و شمار استعمال کیے گئے۔
’’پیور‘‘ کے نام سے شہرت رکھنے والا یہ مطالعہ آج بھی جاری ہے جس میں اب تک پاکستان سمیت 26 ملکوں کے دو لاکھ سے افراد شامل ہوچکے ہیں۔
تازہ تحقیق یونیورسٹی آف گوٹنبرگ، سویڈن کی پروفیسر انیکا روزن گرین کی قیادت میں 21 ملکوں کے دو درجن سے زیادہ ماہرین نے انجام دی جس کے نتائج آن لائن ریسرچ جرنل ’’جاما نیٹ ورک اوپن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔
ان تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ اس تحقیق کےلیے جن 21 ممالک کا انتخاب کیا گیا ان میں سے پانچ کم آمدنی والے، بارہ اوسط آمدنی والے، اور چار زیادہ آمدنی والے ممالک تھے۔
مجموعی طور پر ان تمام ملکوں سے 118,706 مرد و خواتین کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے جن کی عمر 35 سے 70 سال تھی جبکہ ’’پیور‘‘ مطالعے کے آغاز پر وہ صحت مند اور اوسطاً 50 سال کے تھے۔
ان تمام افراد میں عمومی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی مالی حیثیت اور اعصابی تناؤ مدنظر رکھتے ہوئے یہ معلوم کیا گیا کہ آئندہ چند سال میں انہیں کون کونسی بیماریاں ہوئی اور وہ صحت کے حوالے سے کن کن مسائل کا شکار ہوئے۔
محتاط تجزیئے سے معلوم ہوا کہ مسلسل کام کے دباؤ اور مالی پریشانیوں میں مبتلا رہنے والے لوگوں میں 10 سال کے دوران دل اور شریانوں کے امراض کا امکان، ان مسائل کا سامنا نہ کرنے والوں سے 24 فیصد زیادہ جبکہ فالج کا امکان 30 فیصد تک زیادہ تھا۔
اگرچہ اس سے پہلے کی تحقیقات میں بھی اعصابی تناؤ اور مالی مسائل کا مختلف امراضِ قلب اور فالج سے واضح تعلق سامنے آچکا ہے لیکن یہ تمام تحقیقات ایسے لوگوں پر کی گئی تھیں جو پہلے ہی دل کی کسی نہ کسی بیماری کے شکار تھے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جب صحت مند افراد کو مالی پریشانیوں اور کام کے دباؤ کی بناء پر دل اور شریانوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
وہ کون کونسے عوامل ہیں جو اس پورے عمل میں امراضِ قلب اور فالج کی وجہ بنتے ہیں؟ اس بارے میں فی الحال ابتدائی نوعیت کی کچھ مبہم معلومات ہمارے پاس موجود ہیں۔
البتہ انہیں پوری درستگی اور اعتماد کے ساتھ جاننے کےلیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت پڑے گی۔
https://www.express.pk/story/2259921/9812/
چقندر استعمال کر کے آپ جسم سے زہریلا مواد نکال سکتے ہیں، مگر کیسے؟
Dec 30, 2020 | 19:54:PM

سورس: Pxhere
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)جسم میں موجود زہریلے مواد سے نجات کے لئے لوگ مہنگے علاج اور ادویات استعمال کرتے ہیں مگر برطانوی سائنسدانوں نے اس مقصد کے لئے چقندر کا حیران کن فائدہ بتا دیا ہے۔
ویب سائٹ justnaturallyhealthy.com کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ چقندر جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے کے لیے بہترین چیز ہے۔ اس میں ایسے اجزاءپائے جاتے ہیں جو خون کو صاف کرنے اور اس سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے رات کو سونے سے پہلے چقندر کھانا چاہیے یا اس کا جوس پینا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق چقندر میں نائٹریٹ پایا جاتا ہے جو جسم کو توانائی دینے کے ساتھ ساتھ خون پیدا کرنے اور نظام انہضام کو درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ حالیہ دنوں ایک تحقیق کی گئی جس میں سائنسدانوں نے دو دو درجن سے زائد رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کرکے انہیں چقندر کا جوس پینے کو دیا۔ ان میں سے ایک گروپ کے جوس میں سے نائٹریٹس کے اجزاءنکال لیے گئے تھے۔ چند ہفتوں بعد دیکھا گیا کہ اس گروپ کے لوگ زیادہ تیز اور زیادہ دیر بھاگ سکتے تھے جن کے جوس میں نائٹریٹس کے اجزاءموجود تھے۔ اس کے برعکس دوسرے گروپ کے لوگ بہت جلد تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/30-Dec-2020/1230742?fbclid=IwAR36qbdzw9VO8uc3G7XGIlY8-O-wnpbxqLEWOwIlmWh3pDtXA6op03rVXug
روزانہ انڈہ کھانے کا سنگین نقصان تازہ تحقیق میں سامنے آگیا، سائنسدانوں نے پریشان کن دعویٰ کردیا
Nov 17, 2020 | 19:58:PM

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈہ بہترین غذا قرار دیا جاتا ہے اور ماہرین روزانہ ایک انڈہ کھانے کی تلقین بھی کرتے ہیں لیکن اب آسٹریلوی سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں روزانہ انڈہ کھانے کا ایک ایسا نقصان بتا دیا ہے کہ انڈہ کھانے کے شوقین افراد سن کر پریشان ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ باقاعدگی سے انڈہ کھانا دوسری قسم کی شوگر کا باعث بنتا ہے۔ جو لوگ طویل عرصے تک روزانہ ایک انڈہ کھاتے ہیں ان کو دوسری قسم کی شوگر لاحق ہونے کا خطرہ 60فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں یونیورسٹی آف ساﺅتھ آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے 8ہزار 545چینی شہریوں کی غذائی عادات اور طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ یہ ڈیٹا 1991ءسے2009ءکے درمیان ہیلتھ سروے پروگرام کے تحت اکٹھا کیا جاتا رہا تھا جس کی فنڈنگ امریکی ادارہ برائے انسداد امراض نے کی تھی۔ اس ڈیٹا کے تجزیہ سے ایک طرف سے یہ انکشاف ہوا کہ 1991ءسے 2009ءتک چینی شہریوں کے انڈہ کھانے کی شرح میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور دوسری طرف اس تجزئیے میں انڈے اور دوسری قسم کی شوگر کے درمیان تعلق سامنے آیا۔ تحقیق میں شامل جو لوگ روزانہ 38گرام انڈہ کھات تھے ان کو دوسری قسم کی ذیابیطس لاحق ہونے کا کا خطرہ 25فیصد زیادہ تھا جبکہ جو لوگ 50گرام (تقریباً ایک انڈہ) روزانہ کھاتے تھے ان میں اس خطرے کی شرح 60فیصد پائی گئی۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر منگ لی کا کہنا تھا کہ ”ہماری اس تحقیق میں انڈے اور شوگر کے درمیان محض ایک تعلق سامنے آیا ہے۔ انڈہ کس طرح شوگر کا باعث بنتا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔“ یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کئی تحقیقات میں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ انڈہ کھانے سے انسان کو شوگر لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/17-Nov-2020/1211913?fbclid=IwAR3VsT1DpF9OHxbLc-pS6YbNyg43GDMgZGt2CYwf8gj37IBoB8D9SHgLLEM
بدبو دار پیشاب کس بیماری کی علامت ہے ؟ ماہر ڈاکٹر نے خبردار کر دیا
May 25, 2021 | 19:09:PM

سورس: TikTok/dromonimoh
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) پیشاب سے بدبو آنے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟ ایک ماہر امریکی ڈاکٹر نے اس حوالے سے تفصیل بیان کر دی ہے۔ڈیلی سٹار کے مطابق ڈاکٹر اومون ایموئی نے اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ @dromonimohiپر بتایا ہے کہ پیشاب سے بدبو آنے کی کچھ معمولی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، جن میں جسم میں پانی کی کمی ہو جانا اور کوئی تیز بو والی چیز کھالینا وغیرہ شامل ہیں۔ تیز بو والی اشیاءکے علاوہ بھی کچھ کھانے ایسے ہیں جو پیشاب کی بدبو کا سبب بنتے ہیں۔
ڈاکٹر اومون کا کہنا تھا کہ ان معمولی وجوہات کے علاوہ پیشاب سے بدبو آنا کچھ سنگین بیماریوں کی علامت بھی ہوتا ہے۔ اگرآپ کو ذیابیطس ہے یا لاحق ہونے والی ہے تو ایسی صورت میں بھی آپ کے پیشاب سے بدبو آنے کا امکان ہوتا ہے۔ پیشاب کی نالی میں انفیکشن، ہونا، جنسی عمل کے دوران لاحق ہونے والی انفیکشنزہونا، گردے میں پتھری ہوناوغیرہ بھی پیشاب میں بدبو کی وجہ ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین میں ہارمونز میں معمول کی تبدیلیاں بھی ان کے پیشاپ میں بدبو پیدا کر سکتی ہیں۔ بالخصوص حاملہ خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اومون کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ کے پیشاب سے حد سے زیادہ بدبو آ رہی ہے اور کئی دن گزرنے پر بھی اس کی شدت کم نہیں ہوئی تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔“
https://dailypakistan.com.pk/25-May-2021/1293557?fbclid=IwAR1nErpKmH1aYf5R0Yxk6f-NeqzTLxz6ucjc3Vx9bTtZ2Lagny5j33xYe9s
خوف، بے چینی اور درد کی کیفیت میں دماغ پر جو اثرات ہوتے ہیں ان میں سے ایک منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ خلیاتی سطح پرعملِ تنفس متاثر ہوجاتا ہے۔
سالک انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کے مطابق شدید تکلیف اور خوف و رنج میں دماغی نیٹ ورک اور عملِ تنفس میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے۔ اسے سمجھ کر نہ صرف منشیات سے اموات پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس پورے عمل کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔
17 دسمبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دماغی جڑ (برین اسٹیم) سے عصبی خلیات کے مجموعے دماغی حصے ایمگڈالا تک جاتے ہیں جہاں ہمارا دماغ خوف اور دیگر احساسات یعنی درد اور تکلیف کی شدت کو پروسیس کرتا ہے۔ لیکن دماغ میں ہی ان کا رابطہ پری بوئزنجر کمپلیکس سے رہتا ہے جوسانس لینے کا عمل ایک ہموار سلسلے سے قائم رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے بے چینی اور تکلیف میں ہم لمبی لمبی سانسیں لینے لگتے ہیں۔
سالک انسٹی ٹیوٹ کے سنگ ہین کے مطابق پہلی مرتبہ درد اور عملِ تنفس کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ انہیں سمجھ کر درد کش دوا اور خود سانس کو بہتر بنانے والی نئی ادویہ کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ دوسری جانب درد کش دواؤں کی نئی اقسام بھی سامنے آسکتی ہیں۔
پاکستان کو چھوڑ کر مغرب وامریکا میں درد کش ادویہ یعنی اوپیوڈز سے اموات کی شرح بہت ذیادہ ہے۔ خیا ہے کہ وہ درد کا علاج کرنے کی بجائے اسے دباتی ہیں جس سے خلیاتی سطح پر پورا نظامِ تنفس ناکام ہونے لگتا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کی اموات ہوجاتی ہے۔ یعنی اینزائٹی، خوف، اندیشہ اور تکلیف سب ہی پھیپھڑوں سے لے کر خلیوں تک نظامِ تنفس کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ماہرین نے تصدیق کے لیے چوہوں پر اس کی آزماش کی اور وہاں بھی یہی بات سامنے آئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2260937/9812/
کیا آپ بستر پر پڑے کروٹیں بدلتے رہتے ہیں اور دیر تک نیند نہیں آتی؟ ماہر ڈاکٹر نے آپ کی مشکل حل کردی، مفت مشورہ دے دیا
Dec 16, 2021 | 18:57:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ لوگوں کے لیے نیند کا حصول بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ تادیر بستر پر پڑے کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اب ایک ماہر ڈاکٹر نے مفید مشورہ دے دیا ہے۔ دی سن کے مطابق ایما سلیپ نامی ادارے سے وابستہ ڈاکٹر ویرینا سین نامی اس ماہر نے بتایا ہے کہ بیڈروم میں سرخ رنگ کا بلب لگانا جلد نیند کے حصول میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بھی ثابت ہو چکا ہے کہ کمرے میں سرخ رنگ کی ہلکی روشنی ہونے سے جسم میں نیند سے منسلک ہارمون میلاٹونین کی مقدار بڑھتی ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ویرینا نے بتایا کہ نیند کے جلد حصول اور بہتر معیار کے لیے سانس کو مدھم کرنے کی تکنیک بھی بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اس طریقے میں آپ کو چاہیے کہ پرسکون ہو کر لیٹ جائیں اور اپنی ہر سانس کو گنتے جائیں اور آہستہ آہستہ سانس کی رفتار کم کرتے جائیں۔ اس طریقے میں ایک طرف سانس کی رفتار کم ہونے سے دل کی دھڑکن مدھم ہو گی اور نیند جلد آئے گی اور دوسرے طرف ذہنی سانس کی گنتی کی طرف متوجہ ہو کر دیگر چیزوں سے ہٹ جائے گا جو نیند کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Dec-2021/1378752?fbclid=IwAR3tuvem-1GGZABi5KypuI7jhMqEg7WNRVS4h-MGsi0mZUBIOSD9ScMbHPM
آسٹریلوی ماہرین نے تانبے کی سطح پر خردبینی بھول بھلیاں نقش کرکے صرف دو منٹ میں جراثیم ختم کرنے کے قابل بنا لیا ہے
واضح رہے کہ چاندی کے بعد تانبہ وہ دوسری دھات ہے جس میں قدرتی طور پر جراثیم کش صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ البتہ، عام تانبے کی سطح سے ٹکرانے والے جراثیم تقریباً 240 منٹ (چار گھنٹے) میں ہلاک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کسی فوری مقصد کے تحت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
ملبورن، آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں ڈاکٹر ماکیان اور ان کے ساتھیوں نے خردبینی بھول بھلیوں والے تانبے کو انتہائی سخت جان ’’گولڈن اسٹاف بیکٹیریا‘‘ ختم کرنے کےلیے استعمال کیا تو اس نے صرف دو منٹ میں ان جراثیم کی 99.9 فیصد تعداد ہلاک کردی۔

اس کے برعکس، عام تانبے نے ان ہی جرثوموں کی 97 فیصد تعداد چار گھنٹوں بعد ختم کی۔
’’بھول بھلیوں والا تانبا استعمال کرتے ہوئے، دروازوں اور کھڑکیوں کے ایسے ہینڈل تیار کیے جاسکیں گے جو منٹوں میں خود بخود جراثیم سے پاک ہوجائیں گے،‘‘ ڈاکٹر ماکیان نے کہا۔
ان سائنسدانوں نے پہلے میگنیشیم اور تانبے کے بھرت (ایلوئے) کی پتلی چادر تیار کی اور پھر ایک خاص تکنیک سے تانبے کی سطح پر موجود میگنیشیم کو الگ کردیا، جس سے وہاں بھول بھلیوں جیسا خردبینی جال نمودار ہوگیا۔
جرثوموں/ بیکٹیریا کو جکڑنے اور تانبے کی قدرتی صلاحیت سے فوری ہلاک کرنے میں اس جال نے اہم ترین کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر ماکیان کا کہنا ہے کہ اس طرح ’’جراثیم کش‘‘ تانبا تیار کرنے کا طریقہ بہت سادہ اور کم خرچ ہونے کے علاوہ، صنعتی پیمانے پر بھی بہت آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ریسرچ جرنل ’’بایومٹیریلز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع شدہ تحقیق میں سائنسدانوں کی ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اختراع مستقبل میں کئی طرح کی جراثیم کش مصنوعات اور ٹیکنالوجیز میں مرکزی کردار ادا کرسکے گی۔
اس کے علاوہ، تانبے پر بھول بھلیوں کو مزید باریک بناکر، یہی تکنیک وائرسوں کے خاتمے میں بھی مؤثر ثابت ہوسکے گی۔
https://www.express.pk/story/2259485/508/
آج کے ترقی یافتہ دور میں صحت عامہ اور صفائی ستھرائی پر عالمی سطح پر پرزور توجہ دی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہائی ٹیک کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ مفید صحت بنانے کی دوڑ میں لگی ہیں اور اسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایل جی کمپنی نے جدید سسٹم سے لیس ہیڈفونز بنائے ہیں۔
ایل جی کے یہ ایسے ہیڈفونز ہیں جو اپنی سطح پر لگے جراثیم کا خود ہی صفایا کردیتے ہیں۔
ایل جی ٹون فری نامی ہیڈفونز میں ایسا جدید سسٹم نصب ہے جو انہیں اپنی سطح پر لگے جراثیم کی خودکار صفائی کا حامل بناتا ہے۔ جراثیم کی صفائی کا عمل الٹرا وائلٹ سسٹم کے ذریعے ہوتا ہے۔
صفائی کا عمل بھی انتہائی آسان اور بغیر کسی جھنجھٹ کے ہے۔ ہیڈفونز کو جب چارجنگ کیس میں رکھا جاتا ہے تو الٹرا وائلٹ سسٹم کی مدد سے صفائی کا عمل خود بہ خود شروع ہوجاتا ہے۔
اس کی چارجنگ ٹائمنگ بھی اچھی ہے۔ صرف 5 منٹ کی چارجنگ میں آپ 1 گھنٹے تک ہیڈفونز استعمال کرسکتے ہیں جبکہ کامل چارجنگ پر یہ 24 گھنٹے تک سروس دے سکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2259547/508/
کوئی ایک برس قبل ایک رپورٹ سامنے آئی تھی کہ بالوں کی ڈائی میں موجود کیمیکل خواتین میں بریسٹ کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ بالوں کے رنگ، بلیچ اور ریلیکسر میں شامل کیمیائی اجزا جنسی ہارمون میں کم درجے کی تبدیلی لاسکتے ہیں
میک اپ اور ایسی مصنوعات میں فتھیلیٹس، پیرابین، فینولز اور دیگر سمیاتی اجزا بھی ملے ہیں جو اینڈوکرائن (ہارمون) نظام کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پھر یہ کیمیائی اجزا جسم کے استحالے (میٹابولزم) کو بھی متاثرکرسکتے ہیں۔ بالخصوص حاملہ ماؤں پر اس کا قدرے اثر ہوتا ہے۔
تشویشناک امر دورانِ حمل اثرات ہے جو دنیا میں آنے والے بچے کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ اب اینوائرمنٹ ریسرچ نامی جرنل میں شائع ایک مقالے کے مطابق کیمیائی اجزا درحقیقت اسٹرائیڈز جیسے جنسی ہارمون پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
اس کے لیے 1070 خواتین کا جائزہ لیا گیا جن کی عمریں 18 سے 40 برس تھیں۔ تمام خواتین کا تعلق پورٹوریکو سے تھا۔ تمام خواتین کا طبی اور جسمانی طور پر جائزہ لیا گیا۔ ساتھ ہی بہت سے سوالات کئے گئے جن میں ملازمت، طرزِ حیات، اور نیل پالیش سے لے کر بالوں کےرنگ تک کاسمیٹکس کے بارے میں پوچھا گھا۔
معلوم ہوا کہ بالوں کے رنگ، بلیچ اور ریلیکسر استعمال کرنے والی خواتین میں جنسی ہارمون اسٹیرائڈز کی سطح کم دیکھی گئی۔ یہ ہارمون بچے کی نشوونما اور حمل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان ہارمون کی کمی سے خود ماں اور بالخصوص بچے کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں لیکن اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے حاملہ خواتین کے خون میں نو طرح کے جنسی اسٹرائیڈ اور تھائیرائیڈ کا بھی جائزہ لیا۔ ان میں کمی بیشی سے بچے کم وزن کے ہوسکتے ہیں اور وقت سے پہلے بھی آنکھ کھول سکتےہیں۔ یہ بھی ممکن ہہے کہ بچے کی نشوونما شدید متاثر ہوجائے۔
مزید شواہد سے قبل ماہرین نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ حمل کے دوران بالوں کی کسی قسم کی مصنوعات استعمال نہ کریں اور دیگر اقسام کے میک اپ سے بھی دور رہیں۔
https://www.express.pk/story/2259660/9812/
چاکلیٹ کے شوقین افراد اب خوش ہوجائیں کہ چاکلیٹ میں غذائیت اور بڑی بیماریوں سے بچانے والے مادے آپ کی صحت پر مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں۔
ویسے تو چاکلیٹ کی کئی اقسام ہیں لیکن یہاں ہم خالص dark chocolate کی بات کریں گے کیونکہ اس میں براہِ راست کوکوا بیجوں سے حاصل شدہ چاکلیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ڈارک چاکلیٹ فائبر اور معدنیات سے بھری ہوتی ہے۔ اگر 100 گرام کی چاکلیٹ بار لی جائے جس میں 70 سے 85 فیصد کوکوا موجود ہو تو اس میں مندرجہ ذیل مقدار کے حساب سے معدنیات موجود ہونگی:
فائبر – 11 گرام
آئرن – 67 فیصد
میگنیشئم – 58 فیصد
کوپر – 89 فیصد
میگنیز – 98 فیصد
اس کے علاوہ چاکلیٹ میں فوسفورس، زنک، پوٹیشئم اور سلینئم بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ تاہم 100 گرام چاکلیٹ روزانہ کی بنیاد پر کھانا نقصان دہ ثابت بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں 600 کیلوریز اور شوگر بھی موجود ہوتی ہے۔ صحت کے حوالے سے چاکلیٹ کے بہتر نتائج اسی وقت حاصل ہونگے جب اسے اعتدال میں کھایا جائے۔
ڈارک چاکلیٹ صحت بخش فیٹی ایسڈز کی بھی حامل ہے۔ اس میں oleic acid، stearic acid اور palmitic acid موجود ہوتے ہیں۔ اس میں سے اولیک ایسڈ بالخصوص قلبی صحت کیلئے مفید ہے جو زیتون کے تیل میں بھی پایا جاتا ہے۔
اسٹیرک ایسڈ کولیسٹرول پر معتدل اثر (neutral effect) ڈالتا ہے جبکہ پالمٹک ایسڈ کولیسٹرول کو بڑھاتا تو ہے لیکن یہ چاکلیٹ میں موجود کُل چکنائی کا صرف ایک تہائی حصہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈارک چاکلیٹ میں بلڈ پریشر کو کم کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔ چاکلیٹ میں flavanols (پودوں سے حاصل ہونے والے صحت بخش کیمیکلز) جسم میں نائٹرک آکسائڈ خارج کرواتے ہیں۔ نائٹرک آکسائڈ ایک سگنل کے ذریعے شریانوں کو ڈھیلا کردیتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر زیادہ سے کم ہوجاتا ہے
https://www.express.pk/story/2259525/9812/
برطانیہ میں مرگی کے مریض بچوں پر ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھنگ کے پودے حاصل کیے گئے خالص تیل سے نہ صرف مرگی کے دوروں میں 86 فیصد تک کمی آتی ہے بلکہ مرگی کی دیگر ادویہ کی ضرورت بھی بہت کم رہ جاتی ہے۔
اس تحقیق میں مرگی سے شدید متاثر، ایسے 10 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جن کی عمر 18 سال یا اس سے کم تھی؛ اور جنہیں ایک دن میں مرگی کی کئی دوائیں کھانا پڑ رہی تھیں۔
ان بچوں کو بھنگ کے پودے سے نکالے گئے خالص تیل (کینابس آئلز) کی معمولی مقداریں بطور دوا استعمال کروائی گئیں جن کا تعین ڈاکٹروں نے انفرادی طور پر بہت احتیاط سے کیا تھا۔
آن لائن ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے پیڈیاٹرکس اوپن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، طبّی مقاصد میں بھنگ کے قدرتی تیل کا محتاط استعمال ان بچوں کےلیے غیرمعمولی طور پر مفید ثابت ہوا۔
ان بچوں میں مرگی کے دورے اوسطاً 86 فیصد کم رہ گئے جبکہ روزانہ مرگی کی سات دوائیں کھانے والے بچوں کو پورے دن میں صرف ایک ہی دوا کی ضرورت رہ گئی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ابتدائی تحقیق تھی جس سے بھنگ کے پودے کی طبّی افادیت کا ایک نیا پہلو ضرور سامنے آیا ہے لیکن اس کی بنیاد پر بھنگ سے مرگی کا باقاعدہ علاج کرنے کےلیے طویل اور تفصیلی مطالعات کی ضرورت ہے۔
ماہرین اب تک یہ بھی نہیں جان سکے ہیں کہ بھنگ کے پودے میں شامل 400 مرکبات میں سے کون کونسے مرکبات مرگی کے مریضوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
البتہ ان میں سے ’’کینابینوئیڈز‘‘ جماعت کے مرکبات سے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بھنگ کے طبّی فوائد ان ہی کی وجہ سے ہیں۔ بھنگ میں 70 مختلف کینابینوئیڈز پائے جاتے ہیں۔
2018 میں امریکی ادارے ’’ایف ڈی اے‘‘ نے مرگی میں مبتلا بچوں کےلیے بھنگ سے حاصل شدہ ایک کینابینوئیڈ پر مشتمل دوا منظور کی تھی؛ جو امریکا میں منظور ہونے والی، اپنی نوعیت کی سب سے پہلی دوا تھی جسے بھنگ کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔
حالیہ تحقیق کے مثبت نتائج سے ایک بار پھر دماغی و نفسیاتی امراض کے علاج میں بھنگ کی اہمیت واضح ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2259130/9812/
سبزیوں اور پھلوں کو دھونے کا مقصد ان پر لگی گرد و غبار، کیڑے مار دواؤں (pesticides) کے اجزاء اور جراثیم کا صفایا ہے۔ جراثیم میں ای-کولائی، سلمونیلا اور نورووائرس شامل ہیں جو کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں.
امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ عام طور پر گھروں میں سبزیوں یا پھلوں کو استعمال میں لانے سے پہلے جس طریقے سے دھویا جاتا ہے وہ صحت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
ماہرین کے مطابق سبزیوں یا پھلوں کو بہتے ہوئے نارمل پانی سے دھونا ضروری ہے۔ اور سخت تہہ والی سبزی یا پھلوں کو دھونے کے بعد ایک چھوٹا سا گول برش آتا ہے، اس سے صاف کرلیں تو زیادہ اچھا ہے۔
دھونے کے بعد خشک اور صاف تولیے یا ٹشو پیپر سے سبزی یا پھل کی سطح کو صاف کریں تاکہ اس پر اگر کچھ جراثیم وغیرہ رہ بھی گئے ہوں تو وہ بھی صاف ہوجائیں۔
تاہم کمپنی سے آنے والے پیکٹ میں پھل اور سبزیوں کے بارے میں ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ اگر اس پر یہ واضح ہدایات لکھی ہیں کہ اسے دھونا ضروری نہیں تو آپ اسے بغیر دھوئے بھی کھا سکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2259170/9812
ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں اگر دل کی رفتار معمول سے تیز رہتی ہے تو اس سے دماغی صحت متاثر ہوسکتی ہے اور ڈیمنشیا کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
سویڈن میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کے مطابق اس سےقبل درمیانی عمر کے افراد میں تیزدھڑکن اور دماغی انحطاط پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے لیکن 60 برس سے زائد بوڑھے افراد پر یہ پہلا مطالعہ ہے تاہم دونوں مطالعوں میں یہ بات طے ہے کہ قلبی دھڑکن میں اضافہ ازخود دل کے امراض کو ظاہر کرتا ہے۔
جرنل آف الزائیمر میں شائع اس رپورٹ میں مسلسل 12 برس تک 2147 افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 70 برس تھی اور 62 فیصد خواتین شامل تھیں۔ اس عرصے میں کئی مرتبہ تمام شرکا کی معیاری (ای سی جی) لی گئی اور اس کے بعد دماغی صحت جانچنے کے لیے عالمی معیار کے ٹیسٹ لئے گئے اور سوالنامے پر کروائے گئے۔
ساتھ ہی عمر، جنس، تعلیم، تمباکونوشی اور ورزش وغیرہ کے بارے میں بھی پوچھا گیا اور بی ایم آئی اور کولیسٹرول کی سطح بھی نوٹ کی گئی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں دل کی دھڑکن فی منٹ 80 یا اس سے زائد تھی ان میں 60 سے 69 دھڑکن فی منٹ کے مقابلے میں ڈیمنشیا کا خطرہ 55 فیصد زائد تھا۔
سائنسدانوں کے مطابق دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھ کر دماغی صحت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2258871/9812/
ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کی بڑی آبادی ڈپریشن اور یاسیت کی شکار تھی تو کمپیوٹر سافٹ ویئراور اسمارٹ فون ایپس سے ان کی یہ کیفیت دور کرنے میں بڑی مدد ملی، اس سے کسی ماہر کے بغیر ڈپریشن دور کرنے کا ایک نیا طریقہ سامنے آیا ہے۔
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے تحقیقی جرنل میں تازہ اشاعت کے مطابق دنیا بھر میں ٹیلی میڈیسن اور ریموٹ معالجے کی تحریک چل پڑی ہے۔ اس ضمن میں اسمارٹ فون اور کمپیوٹر پروگرام بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ان ایپس کی بدولت متاثرہ مردوزن ویڈیو دیکھتے ہیں، مضامین پڑھنے اور ڈاکٹروں کی رائے سنتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اسباق اور ماڈیولز سے مدد لیتے ہیں۔ دور بیٹھے ڈاکٹر مریض کی دماغی صحت کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ زیادہ ضرورت کے تحت اصل ماہر ویڈیو پر آکر مریض سے بات چیت بھی کرتا ہے۔
اس سروے میں سائنسدانوں نے 83 مطالعات کا جائزہ لیا جن میں دماغی صحت اور ریموٹ علاج پر بحث کی گئی تھی۔ ان میں سے بعض مطالعے اور سروے 1990ء کے بھی ہیں جن میں مجموعی طور پر 15000 مریضوں نے حصہ لیا۔ ان میں بالغ افراد کی شرح 80 فیصد اور خواتین کی شرح 70 فیصد تک تھی۔
مجموعی طور پر ڈجیٹل ذرائع سے مریضوں کی یاسیت اور ڈپریشن میں واضح کمی دیکھی گئی۔ اس طرح یہ طریقہ بہت مؤثر ثابت ہوا ہے تاہم ماہرین نے ایپ اور پروگرام کو بہتر بنانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2258407/9812/
آلو ان سبزیوں میں سے ایک ہے جو سال کے ہر موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اسے اگانا انتہائی سستا اور آسان بھی ہے اور اس میں موجود طبی فوائد بھی بےتحاشا ہیں۔
لیکن یہ بات شائد آپ کی حیرت میں مزید اضافہ کردے کہ چھلا ہوا آلو اتنا فائدہ مند نہیں ہوتا جتنا اس کا چھلکا ہوتا ہے۔ جی ہاں!۔ صرف چھلکے سے آپ کو فائبر، معدنیات، وٹامنز اور پودوں سے حاصل شدہ صحت بخش کیمیکلز کی وہ تعداد حاصل ہوجاتی ہے جو محض چھلے ہوئے آلوؤں میں موجود نہیں ہوتی۔
آلو کے چھلکے میں پوٹیشیئم اور فائبر بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جس سے غذا کے جزوِ بدن بننے کے عمل metabolism میں تیزی اور بہتری آتی ہے۔ اسی طرح چھلکے میں وٹامن بی 3 آپ کے خلیوں پر غیر ضروری دباؤ کو رفع کرتا ہے اور ایک نئی توانائی کا باعث بنتا ہے۔
آلو کے چھلکے پوٹیشیئم، میگنیشئم اور کیلشیئم کی بدولت بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے بھی انتہائی معاون ہیں جبکہ جِلد کے حوالے سے آلو کے چھلکے چکناہٹ، بلیک ہیڈز، دانے اور رنگ صاف کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2258362/9812/
وہ چیزیں جنہیں استعمال کر کے ہم بلڈ شوگر لیول کم کرسکتے ہیں
Oct 07, 2021 | 19:41:PM

سورس: Pixabay.com (creative commons license)
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے خون میں شوگر کا لیول دن بھر میں تبدیل ہوتا رہتا ہے جو کہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ بنیادی بات اسے کنٹرول میں رکھنا ہے تاکہ ہم بلڈشوگر لیول بہت زیادہ بڑھ جانے سے لاحق ہونے والی سنگین بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اب ایک ماہر نے کچھ ایسی تدابیر بتا دی ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے جسم میں بلڈشوگر لیول کو بہت حد تک کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔دی سن کے مطابق کیری بیسن نامی اس ماہر کا کہنا ہے کہ انار کا جوس پینا، باقاعدگی سے واک کرنا، ذہنی پریشانی سے خود کو نجات دلانا، زیادہ پانی پینا اور زیادہ شوگر کی حامل غذائی اشیاءسے گریز کرنا ایسے عوامل ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے جسم میں بلڈشوگر لیول کم رکھ سکتے ہیں۔
کیری بیسن کا کہنا تھا کہ انار کا جوس بلڈشوگر لیول کو کم کرنے میں اس قدر مددگار ثابت ہوتا ہے کہ جوس کا ایک گلاس پینے کے محض 15منٹ بعد بلڈشوگر لیول کم ہو جاتا ہے۔ یہ بات ذیابیطس کی پہلی اور دوسری قسم کے مریضوں پر کی جانے والی ایک تحقیق میں ثابت ہو چکی ہے۔ اسی طرح ہمیں روزانہ 15سے 30منٹ کے لیے واک کرنی چاہیے۔ اس طرح ہمارے پٹھے خون میں موجود شوگر کو زیادہ استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بلڈشوگرلیول کم ہو جاتا ہے۔ صحت مند آدمی کو بھی روزانہ دو لیٹر پانی پینا چاہیے تاہم اگر آپ کو بلڈشوگر زیادہ ہونے کا عارضہ لاحق ہے تو آپ کو اس کی بہرحال پابندی کرنی چاہیے۔ زیادہ پانی پینے سے آپ کو زیادہ پیشاب آئے گا اور اضافی شوگر آپ کے جسم سے نکل جائے گی۔“
https://dailypakistan.com.pk/07-Oct-2021/1350333?fbclid=IwAR1-6fhI7UOkuwihdyfF6H0ckBnLnxMOeXAb-idOp79fqJ3R2TEKdmXLVbM
وائٹ سیل خون کے خلیات خون کے اجزاء ہیں جو جسم کو متاثر کرنے والے ایجنٹوں سے جسم کو محفوظ رکھتے ہیں، انھیں بیکو کانٹس بھی کہا جاتا ہے۔
سفید خون کے خلیوں کو مدافعتی نظام میں شناخت ، تباہی اور ہٹانے اور خراب کرنے والے خلیوں، کینسر کے خلیات اور جسم سے غیرملکی معاملہ کو ہٹانے کے ذریعے مدافعتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیوکو ٹائٹس ہڈی میرو اسٹیم خلیوں سے پیدا ہوتی ہیں اور خون اور لفف سیال میں گردش کرتے ہیں۔
لیپوکوائٹس جسم کے وتکون میں منتقل کرنے کے لیے خون کی وریدوں کو چھوڑنے کے قابل ہیں۔ وائٹ سیلزخون کے خلیوں کو ان کیCytoplasm میں ظاہر ہونے یا Granulesکے غیر موجودگی کی طرف سے درجہ بندی کی جاتی ہے ( اس میں مشتمل ہضم اینجیمس یا دیگر کیمیکل مادہ ) ایک سفید خون کا سیل ایک گرینو لوک یا اراونولیوٹ سمجھا جاتا ہے۔
گرینو لوکائٹس تین قسم کے گرینو لوکیاں ہیں:
1۔ نیٹروفیلس ، 2۔ آسوینوفیلس ، 3۔بیسفیلس
ایک خوردبین کے ذریعے دیکھنے سے یہ سفید خون کے خلیات میں گرینوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
نیوٹروفیلس: یہ خلیات ایک واحد نیچلی ہیں جو ایک سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔ خون کی گردش میں نیٹروفیلس سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کیمیکل طور پر بیکٹیریا کے لیے تیار ہیں اور انفیکشن کی جگہ پر ٹشو کے ذریعہ منتقل ہوتے ہیں۔ یہ جسم میں داخل ہونے والے بیکٹریا بیماری یا مردہ سیل وغیرہ میں پھیل کر ان کو تباہ کردیتے ہیں۔ جب دیا جانے والا سیلولر میکومولولز کو ہضم کرنے کے لیے لیوسوز کے طور پر نیٹروفیل گرینولس کام کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے نیٹروفیل بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔
Eosinophils ان خلیوں میں نکلس ڈبل lobed ہے اور اکثر خون کی سمیروں میں U کے سائز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پیٹ اور اندرونیوں کے کنکشن میں اکثر آسوینوفیلز مل جاتے ہیں۔ Eosinophils فاگاکیٹک ہیں اور بنیادی طور پر antigen-antibodyکو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ پیچیدہ بن جاتے ہیں جبantibody کو ان کی بیماریوں سے روکنا ہوتا ہے تو ان کی شناخت کے طور پر مادہ تباہ ہوجاتا ہے۔ پریسکیفک انفیکشنز اور الرجیک ردعمل کے دوران اسوینوفیلس تیزی سے سرگرم ہوجاتے ہیں۔
فاسفیلس یہ کم از کم سفید خون کے خلیات ہیں ان کے پاس کثیر لچکدار نیوکلس ہے اور ان کی گردنوں میں اس طرح کے ہسٹامین اور ہیروئن جیسے مادہ شامل ہیں۔ ہپیرن خون میں پھینکتا ہے اور خون کے پٹوں کی تشکیل کو روکتا ہے۔ ہسٹامین خون کی وریدوں کو گھٹاتا ہے، کیپلیئر کی پارلیمنٹ کو بڑھاتا ہے اور خون کے بہاؤ میں اضافہ کرتا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں لیکوکیٹ منتقل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم کے الرجیک ردعمل کے لیے باسفیلس ذمہ دار ہیں۔
اگرنولیوٹس یہ دو قسم کے ہیں ان کو نونانڈرول لییوکائٹس کے طور پر جانا جاتا ہے۔لففیکیٹس اور مونوکائٹس یہ سفید خون کے خلیات کو واضح طو رپر گرینولس موجود نہیں ہوتے ہیں۔ آئرانولوکائٹس عام طور پر نمایاں سیوٹپلاسمیکن گرینولز کی کمی کی وجہ سے ایک بڑی نیوکلی ہے۔
لففیکیٹس۔ نیٹروفیلس کے بعد، لففیوٹس سفید خون کے سیل کی سب سے عام قسم ہے۔ یہ خلیات بڑے نیوکلی اور بہت کم سیوٹپلاسم کے ساتھ شکل میں کروی ہیں۔ لیف سیلز، بی خلیات اور قدرتی خلیوں کی تین اقسام ہیں، ٹی خلیوں اور بی خلیوں مخصوص مدافعتی ردعمل کے لیے اہم ہیں، قدرتی قاتل خلیات غیر معمولی استثنیٰ فراہم کرتے ہیں۔
مونوکیٹ۔ یہ خلیے سفید خون کے خلیات کی سب سے بڑی قسم ہیں۔ ان کے مختلف سائز ہوسکتے ہیں۔نیوکلیو اکثر گردوں کے سائز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مونوکائٹس خون سے بافتوں میں منتقل ہوتے ہیں اور میکروفیس ہر طرف بڑی خلیات میں موجود ہوتے ہیں۔ ڈینڈرتک خلیے عام طور پر ایسے علاقوں میں واقع ٹشو میں پایا جاتا ہے جو بیرونی ماحول سے مرضوں کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں۔ان کی جلد، اندرونی طور پر ناک، پھیپڑوں اور گیس کی نیچلے حصّوں میں پائے جاتے ہیں۔دینڈرتک خلیات بنیادی طور پر لگیف نوڈس اور لفف اعضا میں لیمفیکیٹس کو antigenic معلومات پیش کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
وائٹ بلڈ سیل پروڈکشن
ہڈی میرو کی ہڈی کے اندر سفید خون کے خلیات تیار کئے جاتے ہیں۔ کچھ سفید خون کے خلیوں میں لفف نوڈس ، پتلی، یا تھامس گلان میں مقدار غالب ہوتی ہے۔ بلڈ سیل پروڈکشن اکثر جسم کے ڈھانچے جیسے لفف نوڈس ، پتلی، جگر اور گردوں کی طرف سے منظم کیا جاتا ہے۔ انفیکشن یا چوٹ کے دوران، زیادہ خون کے خلیات پیدا کیے جاتے ہیں وہ خون میں موجود ہوتے ہیں۔ خون میں سفید خون کے خلیوں کی تعداد پیمائش کرنے کے لیے ڈبلیو بی بی یا سفید خون کے سیل کی گنتی کے طور پر جانا جاتا ہے۔
خون کے ٹیسٹ میں عموماً سفید خون کے خلیوں کی تعداد 10,800-4,300 ہوتی ہے۔ اس میں کمی بیماری، تابکاری کی نمائش یاہڈی میرو کی کمی کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ اعلیٰ درجے کی ڈبلیو بی بی کا شمار کسی مہلک یا سوزش کی بیماری، انیمیا، لیکویمیا، کشیدگی، یا ٹشو نقصان کی موجودگی کی نشاندہی کرسکتی ہے۔
وائٹ بلڈ سیلز کی اقسام اور فنکشن
وائٹ خون کے خلیات (WBCS) مدافعتی نظام کا ایک حصہ ہیں جو انفیکشن سے لڑنے اور دیگر غیر ملکی مواد کے خلاف جسم کی حفاظت میں مدد دیتے ہیں۔ سفید خون کے مختلف خلیات کی اندرونی مداخلتوں کو تسلیم کرنے، نقصان دہ بیکیٹریا کو مارنے اور اینٹی ہڈیوں کو اور ہمارے جسم کی حفاظت کے لیے کچھ بیکیٹریا اور وائس کی مستقبل کی نمائش کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
اقسام : سفید خون کے خلیات کی کئی اقسام ہیں:
1۔ نیوٹرروفیلس : neutrophils یہ سفید خون کے خلیوں میں سے تقریباً آدھے ہیں neutrophils عام طور پر مدافعتی نظام کے پہلے خلیات ہیں جو ایک حملہ آور بیکٹریا یا وائرس کا جواب دیتے ہیں۔ پہلے جواب دہندگان کے طور پر وہ مدافعتی نظام میں دوسرے خلیوں کو خبردار کرنے کے لیے سگنل بھیجتے کے لیے بھی بھیجے جاتے ہیں۔یہ پیس میں موجود بنیادی خلیات ہیں۔ہڈی میرو سے جاری ایک بار یہ خلیات تقریباً 8 گھنٹوں تک رہتے ہیں لیکن ان خلیات کے تقریباً 100بلین ہمارے جسم سے پیدا کی جاتی ہیں۔
2۔ Eosinophils : یہ بھی بیکٹیریا سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کیڑوں کے ساتھ انفیکشن ہے تو اس کے جواب میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم ان کے کردار کو ادا کرنے کے لیے الرجی علامات ہیں جب وہ بنیادی طورپر بڑھتے ہوئے کچھ چیزوں کے خلاف ایک مدافعتی ردعمل (جیسے کہ آلودگی ) یہ خلیوں کے خون میں صرف ایک فیصد سفید خون کے خلیات کا حساب دیتے ہیں لیکن انہضام کے پٹھوں میں اعلیٰ تنصیبات میں موجود ہیں۔
3۔ بیسفیلس یہ سفید خون کے خلیات کے تقریباً ایک فیصد کے حساب سے ہیں، پیروجینز کے لیے غیر مخصوص مدافعتی ردعمل بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ خلیات ممکنہ طور پر دمہ کے مرض کے لئے مشہور ہیں۔
4۔ لیمفیکیٹس (بی اور ٹی )۔ مدافعتی نظام میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، ٹی ٹی سیلز بہت سے غیر ملکی حملہ آوروں کو براہ راست قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ خلیات دوسرے سفید خون کے خلیات کے مقابلے میں ذہنی مصوبت کے لیے ذمہ دار ہیں۔ سفید خون کے خلیات کی غیر مخصوص مصیبت کے برعکس وہ اینٹی باڈیوں کو پیدا کرتے ہیں جو اگر کوئی انفیکشن ہمارے جسم میں آنا چاہے تو اس کے لیے یہ خلیات حفاظتی عوامل ہیں۔
5۔ مونوٹائٹس: یہ مدافعتی نظام کی ردی کی ٹوکری ہیں۔ یہ جسم میں تقریبا 5 فیصد ہیں۔ان کا کام مردہ خلیات کو صاف کرنا ہے۔
6۔ تشکیل: ہڈی میرو میں سفید خون کے خلیات شروع ہوتے ہیں۔ تمام خون کے خلیوں، جن میں سفید خون کے خلیوں، سرخ خون کے خلیات اور پلیٹ لیٹیں شامل ہوتے ہیں۔
ایک عام سفید خون کی سیل کا شمار عام طور پر 4.000 اور 10.000خلیات / MCL کے درمیان ہوتا ہے۔
انفیکشن میں اگرچہ اعلیٰ سفید خون کے خلیات کی تعداد بہت سے ہیں۔ ہڈی میرو کی ابتدائی طور پر ان سے زیادہ اضافی پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے، یا جسم کے سفید خون کے خلیوں کی کمی کی طرف جاسکتا ہے انفیکشن میں، جوان ہونے والا سفید خون کے خلیات دھماکوں سے آگاہ ہوتے ہیں، جسم میں اکثر خون کے طور پر جتنے جلدی ممکن ہو وہ خون کے خلیات کو حاصل کرنے کے لیے اکثر خون میں آتے ہیں۔ سفید سیل شمار میں اضافہ ہوا ہے۔ کسی بھی شکل کا دباؤ بھی سفید خون کے خلیوں کی رہائی کے نتیجے میں بھی ہوسکتا ہے۔
انفیکشن
لیویمیمیا، لفسفاس، اور مییلوماس جیسے کینسر جن میں زیادہ سے زیادہ سفید خون کے خلیات تیار کیے جاتے ہیں۔
انفلوڑن جیسے سوزش کی کک کی بیماری اور آٹومیمون کی خرابی
ٹریوموں کو فریکچر سے جذباتی کشیدگی سے لے کر
حاملہ۔ حمل میں سفید خلیات کی تعداد عام طور پر بلند ہوتی ہے
دمہ اور الرجی اس میں خون کے خلیوں میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ eosinophils کے نام سے جانا جاتا ہے۔
شدید انفیکشن:ہڈی میرو نقصان یا خرابی سے متعلق امراض، بشمول خون کے کینسر یا میٹاسیٹک کینسر، یا منشیات یا کیمیائی سے متعلقہ ہڈی میرو کے نقصان سے ہڈی میرو لے آؤٹ
لپس جیسے آٹومیمی بیماریاں
کم وائٹ خون کا شمار کے علامات:سفید خون کے خلیات کی تقریب کو جان کر کم سفید خون کی گنتیوں کے علامات سمجھا جا سکتا ہے۔ سفید خون کے خلیات ہمارے جسم میں انفیکشن کے خلاف دفاع کرتے ہیں۔کچھ خلیات ہمارے ناقابل مدافع مدافعتی نظام کا حصہ ہیں۔
بخار،کھانسی،درد یا تعدد کی تعدد،سٹول میں خون درد یا انفیکشن کے علاقے میں لالچ، سوجن، یا گرمی۔
کیمیا تھراپی:سب سے عام اور خطرناک ضمنی اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سفید خون کے خلیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جسم میں بہت سے افعال میں سفید خون کے خلیات شامل ہیں۔یہ خلیات خود بھی بیمار ہوسکتے ہیں۔ تمام سفید خون کے خلیوں میں سے ایک قسم کی کمی سے امونیو آلودگی سنڈروم کے ساتھ ہوسکتا ہے۔
leukocytes۔ان کیمیائی تھراپی کے علاج کے بعد جان کو بتایا گیا تھا کہ اس کے سفید سیلز کم تھی اور وہ ان لوگوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے جو چند دنوں کے لئے بیمار ہیں انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے وائٹ خون کے سیل کی خرابیوں میں ایک بڑی تعداد میں خرابی شامل ہوتی ہے جو سفید خون کے خلیات ( ڈبلیو بی بی) متاثر کرتی ہیں۔
جن میں 3قسم کے خون کے خلیات ہیں۔
وائٹ خون کے خلیات بنیادی طور پر لڑنے والی بیماریوں میں ملوث ہیں اور سوزش کے ردعمل میں شرکت کرتے ہیں۔
سرخ خون کے خلیات جسم میں آکسیجن لے جاتے ہیں۔
پلٹیلیوں کو خون کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
ڈبلیو بی بی کی حدود کی عام تعداد فی لیٹر سے تقریباً 4 سے 11 بلین سیلز ہے۔
وائٹ بلڈ سیل کی خرابیوں کی عام اقسام:
1۔ لییوکیوٹیسوس : لییوکیوٹیسوس سفید خون کے خلیات کی ایک بڑی تعداد ہے سب سے زیادہ عام وجوہات انفیکشن، ڈیوڈونون یا لیویمیا جیسے ادویات ہیں۔
2۔ آٹومیمون نیوٹروپینیا: آٹومیمون نیٹروپنیا اس وقت ہوتا ہے جب جسم اینٹ بائیڈ پیدا کرتی ہے جو نیٹروفیلز پر حملہ کرتی ہے اور اسے تباہ کرتی ہے۔
3۔ شدید پیدائشی نیٹروپنیا: اس حالت کے ساتھ جن لوگوں نے شدید نیٹروپنیا سیکنڈری کے ساتھ ایک جینیاتی تبدیلی کو جنم دیا ہے شدید پیدائش سے متعلق نیٹروپنیا والے لوگ بار بار بیکٹریا انفیکشن ہوتا ہے۔
4۔ سائکک نیٹروپنیا: یہ نیٹروپنیا جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی ہے، جس کی وجہ سے شدید پیدائشی نیٹروپنیا کی طرح ہے تاہم نیٹروپنیا ہر روز نہیں ہوتا لیکن تقریباً21دنوں کے سائیکلوں میں ہے۔
5۔ لیویمیا : ہڈیوں کا ایک کینسر ہے جو ہڈی میرو میں سفید خون کے خلیات پیدا کرتی ہے۔
6۔ granulomatous بیماری ایک خرابی کی شکایت ہے جہاں ایک سے زیادہ قسم کے WBCs ( نیٹرروفیلز، مونو، macrophagesocytes) مناسب طریقے سے کام کرنے میں قاصر ہیں، یہ ایک وراثت کی حیثیت ہے اور ایک سے زیادہ انفیکشنز میں خاص طور پر نمونیا اور abscesses کے نتائج۔
7۔ لیوکوکی آسنسن کی کمی ایک خرابی کی شکایت ہے جہاں سفید خون کے خلیات انفیکشن کے علاقوں میں نہیں جاسکتے ہیں۔
وائٹ بلڈ سیل ڈس آرڈر کے علامات
WBCکی خرابیوں کے علامات بہت اہمیت کی وجہ سے مختلف ہوتی ہیں۔WBC خرابیوں کے ساتھ کچھ لوگ شاید کوئی علامات نہیں۔
https://www.express.pk/story/2256688/9812/
موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی بدن انسانی کی غذائی ضروریات بھی یکسر بدل جاتی ہیں۔ انسانی بدن کو ہلکی غذاؤں کی بجائے مرغن اور جسم کو گرمانے والی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ غذائیت سے بھرپور غذائیں جیسے خشک میوہ جات، دودھ سے بنی مصنوعات اور قدرتی اجزاء سے تیار روایتی پکوان تن درستی وتوانائی کے لیے لازمی ہوتے ہیں۔
عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ روز مرہ خوراک کے انتخاب اور استعمال کے وقت متوازن، متناسب اور مفید غذاؤں کا چناؤ کیا جائے اور حفظان صحت کے اصولوں کی مکمل پیروی کی جائے۔ طبی ماہرین کے بقول ہماری تندرستی کا سب سے بڑا ذریعہ اور ضامن ہماری خوراک ہی ہے۔ انسانی وجود کی تعمیر وتشکیل میں لاتعداد عناصر، اعضاء ، اعصاب، بافتیں، نظام ،افعال و اعمال اور ہڈیاں شامل ہیں۔اس کی کارکردگی کا سارا انحصار بطور خوراک کھائے جانے والے غذائی اجزاء پر ہوتا ہے۔
جب خوراک میں مذکورہ غذائی اجزاء کی مطلوبہ مقدار میں کمی ہونے لگے تو بدن کے دفاعی نظام میں بھی کمزوری کے آثار نمایاں ہوکرکسی بھی مرض کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ بدن کے دفاعی نظام کی مضبوطی کے لیے لازمی عناصر میں وٹامنز، کابوہائیڈریٹس، پروٹینز، چکنائیاں، آکسیجن، آئیوڈین، سلفر، فولاد، کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کلورین، کاپر، زنک، بیٹا کیروٹین، تھایامین، نایاسین وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
بدن انسانی کی صحت مندی کے لیے بنیادی اور لازمی اجزاء میں سے وٹامن ڈی ایک ایسا عنصر ہے جس کی کمی سے لاتعداد بدنی مسائل رونما ہونے لگتے ہیں۔موسم سرما میں دھوپ کم ہونے کے باعث وٹامن ڈی کی کمی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ پاکستان میں کثیر تعداد آبادی وٹامن ڈی کی کمی میں مبتلا ہے ، بالخصوص شہروں میں رہنے والی خواتین میں 80 فیصد تک وٹامن ڈی کی کمی سامنے آرہی ہے۔ شہری علاقوں میں وٹامن ڈی کی کمی کی ایک بڑی وجہ سورج کی روشنی اور دھوپ کی کمیابی بن رہی ہے۔
وٹامن ڈی کیا ہے؟
وٹامن ڈی ایک ایسا فیٹ کلنگ (Fat killing) عنصر ہے جو بدن انسانی میں کیلشیم، میگنیشیم اور فاسفیٹ کو جذب کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھاتاہے۔انسانی جسم کی ساخت، بڑھوتری اور حفاظت کا دارو مدار وٹامن ڈی اور کیلشیم پرہوتا ہے۔وٹامن ڈی ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے ضروری عنصر کیلشیم کو جسم میں جذب ہونے کے لیے لازمی خیال کیا جاتا ہے، کیلشیم وٹامن ڈی کے ساتھ مل کر بدن میں جذب ہوتا ہے۔ دل ودماغ ، اعصاب اور پھیپھڑوں کے افعال واعمال کی کارکردگی فعال کرنے اور رواں رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔ وٹامن ڈی ہمیں چڑچڑے پن،تھکاوٹ،سر درد،کمر درد، جوڑوں کے درد،اعصابی کمزوری،ہئیر فال اور زنانہ ومردانہ بانجھ پن سے بچانے میں معاون ہوتا ہے۔ایک صحت مند جسم کووٹامن ڈی کی یومیہ 600IU سے لے کر 2000IU مقدار درکار ہوتی ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات
جب جسم میں وٹامن ڈی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو ہڈیاں کمزور ی کا شکار ہونے لگتی ہیں جس سے ہڈیوں کا بھربھراپن اور توڑ پھوڑ (فریکچرز) سامنے آتی ہے۔ شوگر ٹائپ ٹو ، سانس کے مسائل (دمہ) دانتوں کے مسائل ، جسمانی و اعصابی کمزوری، ٹانگوں اور پاؤں کے تلووں میں درد، کمر درد، ڈپریشن وسٹریس، بد مزاجی، اداسی، اکتاہٹ، اکساہٹ، سر چکرانا، دل گھبرانا اور پسینہ زیادہ آنے جیسے مسائل پیدا ہوکر تنگ کرنے لگتے ہیں۔ نمونیہ ، نزلہ ، الرجیز ، وبائی زکام ، نیند میں کمی اسہال اور قبض جیسے پریشان کن امراض کا سبب بھی وٹامن ڈی کی کمی بن سکتی ہے۔
وٹامن ڈی کے حصول کے قدرتی ذرائع
وٹامن ڈی ہماری جسمانی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے خلاف بدن کی قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بھی ہے۔ ہم اپنی خوراک میں درج ذیل غذائیں شامل کر کے نہ صرف وٹامن ڈی کی کمی سے بچ سکتے ہیں بلکہ خاطر خواہ حد تک کورونا جیسی مہلک اور خطرناک وبا کے اثرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ وٹامن ڈی کا سب سے بڑا، آسان اور مفت ذریعہ دھوپ ہے۔رواں موسم دھوپ بڑی دلآویز اور من کو لبھاتی ہے۔ اگر ایک صحت مندانسان روزانہ دو سے تین گھنٹے دھوپ میں گزارنا شروع کردے تو وٹامن ڈی کی کمی کے مضر اثرات سے بچا رہے گا۔
اگر کسی کو وٹامن ڈی کی کمی کے باعث مختلف جسمانی مسائل کا سامنا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پورے بدن پر دیسی گھی کا ہلکا مساج کر کے دھوپ میں دو سے تین گھنٹے گزارے ۔ پہلے دن سے ہی وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات کم ہوتے دکھائی دینے لگیں گے۔ روغن بادام، روغن زیتون اور سرسوں کے تیل سے بدن پر مالش کر کے دھوپ میں بیٹھنے سے بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی اور دھوپ کے بعد وٹامن ڈی کا سب سے بڑا قدرتی ماخذ سمندری غذائیں ہیں جن میں مچھلی سر فہرست ہے۔ جھینگے، ساروڈین مچھلی، سرمئی مچھلی، کستورا مچھلی اور چربی والی مچھلیوں میں وٹامن ڈی کی مقدار قدرتی طور پر بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ مشرومز (کھمبیاں) میں بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔
غذائی ماہرین کی تحقیقات کی رو سے ایک محتاط اندازے کے مطابق 100 گرام مشرومز میں 2000IU سے زائد وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔ دیسی غذاؤں میں دیسی انڈے کی زردی بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ انڈا ابال کر یاکچا دودھ میں حل کر کے پینے سے یہ مقدار اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ روز مرہ غذاؤں گائے اور بکری کاخالص دودھ، دہی، مکھن، دیسی گھی،پنیر،خوبانی،پستہ، آڑو ، پپیتہ ، گاجر، پالک، مولی، بند گوبھی، ٹماٹر، گندم اور جو کا دلیہ، اورنج، سویابین، مغز بادام، اناج اور ساگ وغیرہ میں وٹامن ڈی قدرتی طور پر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔
گاجر، مولی، پالک، ساگ اور سنگترہکا سیزن ہونے کی وجہ سے رواں موسم خدا کا عطیہ ہے۔ گاجر کے حلوے میں مغز بادام ،کھویا اور مغز پستہ شامل کر کے لذت اور صحت ایک ساتھ انجوائے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح گاجر کا جوس بنا کر پینا بھی بے حد مفید سمجھا جاتا ہے۔ طبی ماہرین گاجر کو سیب کے متبادل کے طور بھی پیش کرتے ہیں، کیونکہ گاجر سیب کی نسبت سستی ہوتی ہے۔گاجر کو کچا بطور سلاد بھی عام استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مولی اور بند گوبھی پکاکر بھی کھائی جاتی ہے اور بطور سلاد کچی بھی وافر مقدار میں کھائی جا سکتی ہیں ۔ ٹماٹر ہر سبزی میں شامل کیا جا سکتا ہے اور بطور سلاد کچا بھی کھایا جاسکتا ہے۔
سردی کا موسم ساگ کے بغیر ویسے ہی ادھورا ادھورا سا محسوس ہوتا ہے۔آج کل مکئی اور باجرے کی روٹی کے ساتھ ساگ اور مکھن کاا ستعمال اپنا ایک منفرد مذہ اور پہچان رکھتا ہے۔ پالک بھی ساگ کا لازمی جز ہے تاہم پالک ہم گوشت، آلو، مولی، شلجم اور دال چنا کے ساتھ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ پالک میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مقداریں قدرتی طور پر بہت زیادہ پائی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ سمجھدار معالجین ہڈیوں کے بھربھرے پن (آرتھو پراسس) کے مریضوں کو پالک کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
قارئین کرام ! وٹامن ڈی کی کمی کا سب سے بڑا سبب پراسیسڈ فوڈز ، فاسٹ فوڈز، فارمولا دودھ، کولا مشروبات ، بیکری مصنوعات، میدے سے بنی اشیاء، بناسپتی، کیمیکلز بیسڈ خوراک، دھوپ میں زیادہ وقت نہ گزارنا،بند اور تنگ جگہوں پر رہائش رکھنا،غیر معیاری، ملاوٹ سے بھرپور غذائی اجزاء ، غیر فطری طرز رہن سہن اور حفظان صحت کے اصولوںسے روگردانی بن رہا ہے۔
ہم آج بھی اپنی خوراک ، طرز بودو باش اور روزمرہ معمولات کو فطری اصولوں کے مطابق کرکے اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ایک تندرست وتوانا اور بھرپور زندگی سے لطف اٹھانے والے بن سکتے ہیں۔ جس قدر ہوسکے قدرتی غذائی اجزاء اپنی روزمرہ خوراک میں لازمی شامل کریں۔ کچی سبزیاں، موسمی پھل، دودھ، دہی، دیسی، گھی خشک میوہ جات اور اجناس جیسے جو باجرہ مکئی وغیرہ کا استعمال بکثرت کرکے نہ صرف وٹامن ڈی کی کمی سے بچ سکتے ہیں بلکہ کئی ایک دوسرے خطرناک امراض کے حملے سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2256687/9812/
پاکستان میں کثرت سے دستیاب ہونے والا پھل ’ بہی‘ (کوئینس) کی بنیادی پیداوار ایران اور ترکی سے ہے۔
اس پھل کی خوشبو سے اس کی قوت کا اندازہ لگانا بے جا نہیں۔ اس میں اگرچہ کچھ حد تک قبض کا سبب بننے والے اجزاء موجود ہیں مگر دل کو قوت بخشنے، خون کی باریک نالیوں ( رگوں، شریانوں ) کو جمی چربی سے صاف کرنے، دماغ کو قوی کرنے ، معدے کو مضبوط کرنے جیسے افعال کے مقابلے میں قبض پیدا کرنے کی کیفیت کوئی خاص نقصان دہ ثابت نہیں۔
یہ ایک متفقہ رائے ہے کہ اکثر اشیاء جو معدے کو قوت فراہم کرتی ہیں، وہ قبض بھی پیدا کرتی ہیں، کیوں کہ طاقت ور جسم جس طرح چھونے پر سخت محسوس ہوتا ہے ایسے ہی طاقتور معدہ کے عضلات بھی جب سختی کا شکار ہوتے ہیںتو براز کا قوام سخت ہو جاتا ہے۔
براز کو اطباء ایک فضلہ کی حد تک محدود کرنا ناجائز گردانتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اعضائے ہضم کی کیفیت سے ضرور آگاہ کرتا ہے مگر جب ایک حد سے زیادہ سخت عضلاتِ معدہ ہوجاتے ہیں تو پیٹ میں شدید درد اور مروڑ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اس درد اورکرب کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ غیر ضروری طاقتِ عضلات کی وجہ سے معدے کی گرفت اس قدرہوجاتی ہے کہ ریاح (گیس) بھی محصور ہوجاتی ہیں۔ یہی ریاح پیٹ میں درد کی بنیادی وجہ بنتی ہیں۔
یہ حالت دردِ قولنج کی ہے۔ اس لیے بہی کو اصلاح کے بغیر مریضانِ قبض استعمال نہیںکرپاتے اور ہماری آبادی میں اسہال کی شکایت 40 فیصد ہے۔یاد رہے کہ معدے کی کمزوری کی علامت تیزابیت کا زیادہ پیدا ہونا ہے اسی لیے اکثر دافعِ تیزابیت ادویہ اسہال کو روکنے اور اگر اسہال نہ ہوں تو قبض پیدا کرنے کی ذمہ دار ٹھہرتی ہیں۔
مثلاً جاپانی پھل تیزابیت کم کرتا ہے مگر چھلکے سمیت کھانا قبض کی کیفیت پیدا کرتا ہے مگر دوپہر کو اس کا کھانا نقصان نہیں دیتا ۔ اس لیے حکماء قدیم نے دوپہر کو کھانے والے پھل اور رات کو کھانے والے پھلوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے لیکن بہی کو ناشتے کے بعد کھانا بہتر قرار دیا ہے کہ یہ جہاں اپنی کیفیت سے کچھ سردی پیدا کرتا ہے ، وہاں اس میں پائے جانے والے حیاتین، معدنیات ، فائبر ز دن بھر کام کرنے کی قوت بھی مہیا کرتے ہیں۔
حدیثِ پاک سے بہی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ بہی دل کو طاقت دیتا ہے ، سانس کو خوشبودار بناتا ہے اور سینے سے بوجھ اتارتا ہے۔ ایک اور حدیث کا مفہوم ہے : بہی کھاؤ کیونکہ وہ دل کے دورے کو ٹھیک کر کے سینے سے بوجھ اتاردیتا ہے ۔ ایک تیسری حدیث کے مطابق فرمان ہے کہ رب نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کردیتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے، غور کیا جائے تو ایسے افراد جو نرَ اولاد کے خواہش مند ہیں ان کے لیے بہی نہایت قابلِ قدر تحفہ ہے۔
تحقیق کے مطابق جب سینے میں بوجھ ہو، دل کی دھڑکن بڑھی ہو مگر معدے کی تیزابیت ظاہر نہ ہوتی ہوتو یہ علامت خون کے گاڑھا ہونے کی ہے۔ ایسے موقع پر ڈاکڑ حضرات پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بہی ایسا نایاب تحفہ ہے کہ خون کو رقیق کرتا ہے مگر خون کے ذرات جو انجماد کے ذمہ دار ہیں ( پلیٹ لیٹس ) انہیں کم بھی نہیں کرتا۔ اکثر جدید ادویہ خون کے انجماد کو ایسے دور کرتی ہیں کہ خون کے ذرات انجماد کو کم کرتی ہیں، زیادہ استعمال سے نکسیر، معدے کی جلن وغیرہ کی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔
بہی کا مزاج
بہی کا مزاج سرد اورخشک ہے۔ اپنی سردی سے دل کی غیر فطری حدت ( گرمی ) کو دور کرتا ہے اور اپنی خشکی پیدا کرنے کی کیفیت کی وجہ سے پیاس کو تھوڑا بڑھاتا ہے اور کل کیفیت سردی خشکی کی وجہ سے درد ِ قولنج کے دوران نہیں دیا جاتا۔ اس وجہ سے بہی کو نہار منہ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ دن بھر چلنے پھرنے کا موقع اور گرمی بہی کی اس کیفیت کو نا پید کردیتی ہے۔
جاپانی پھل بھی اطباء کی ایک جماعت کے رائے کے مطابق سرد اور خشک ہے اسی لیے اگر بلغمی یا سوداوی مزاج والے شخص جاپانی پھل کھائیں تو معدے کی شکایت کرتے ہیں۔ حکماء نہار منہ نبض شناسی کی مدد سے فرد کو اس کے مزاج کا بتا سکتے ہیں، مگر جیسے کوئی شخص چاہتا ہو کہ خود معلوم کر سکے کہ اس کا مزاج کیا ہے تو بہترین طریقہ ہے کہ مختلف مزاجوں کے پھل کا استعمال کرے اور میووں کا بھی استعمال کرے۔ مثلاً فرد کا اگر مزاج گرمی کی طرف مائل ہے اور بادام کھاتا ہے تو طبعیت بوجھل محسوس ہوگی البتہ کشمش سے اصلاح کرسکتے ہیں۔
ہمارے اکثر افراد مزاج ( ٹیمپرامنٹ) کا اندازہ غصے کی جلدی یا دیر سے آنے سے لگاتے ہیں کہ جلدی غصہ آئے تو فرد کا مزاج گرم ہے، جبکہ یہ تو خشکی کی علامت ہے خواہ تفکرات کی وجہ سے ہو، اسی طرح اگر غصہ دیر سے آئے تو فرد کا مزاج سرد تصور کرتے ہیں، جبکہ یہ قوتوں کی کمزوری اور برداشت کی علامت ہے۔ اسی طرح کچھ اشخاص کو بہی معدے میں بوجھل گزرتی ہے وہ اندازہ بتاتے ہیںکہ بہی ثقیل خوراک ہے، جبکہ معدے میں بوجھل کیفیت معدے میں محصور ریاح پیدا کرتی ہیں۔ قہوہ اسی کیفیت سے آزادی دلادیتا ہے۔ اسی طرح اکثریت کو ریح کی حقیقت میں شکایت ہوتی ہے وہ سردی بوجھ محسوس کرتے ہیں اور بلڈ پریشرکی ادویہ کا بے وقت استعمال کرتے ہیں، ریح کا بتانے پر کہتے ہیں کہ نہ ہمیںریح نکلتی ہی ہے اور نہ ڈکاریں آتی ہیں، در اصل یہ ہی محصور شدہ ریح ہے ، جسے وہ سمجھ نہیں پاتے۔
بہی کی اصلاح کیسے کریں؟
سرد اشیاء مثلاً بہی ، طباشیر(بانس کی جڑ) ، آملہ ، سیب اور اسی طرح چرپری اشیاء مثلاً ادرک کی اصلاح شیرے سے کی جاتی ہے۔ چینی ان اشیاء کو محفوظ کرنے اور ان کی سردی اور گرمی کو اعتدال پر لانے کے لیے بہت بہتر ہے۔ اس سے بہتر خالص شہد ہے مگر یہ نسبتاً قیمتی ہے اس لیے شازو نادر استعمال کیا جاتا ہے مگر ذیابیطس کے مریضوںکو چینی کی بجائے شہد ہی کا استعمال کرنا چاہیے، شہد تو قوت بھی فراہم کرتا ہے، اشیاء کو سڑنے سے بچانے کے علاوہ ان کے خواص بھی محفوظ رکھتا ہے۔ یا کم ازکم سختی دور کرنے کی غرض سے گرم پانی میں کچھ دیر بہی کو بھگو دیں اور نرم ہونے پر کھائیں۔
بہی کے مشہور حیاتین اور اجزاء
1۔ سٹرک ایسڈ، ایسکاربک ایسڈ،میلک ایسڈ : یہ حیاتین نہ صرف خون کی نالیوں کو فاسد چربی سے پاک کرتے ہیں بلکہ ان کی لچک کو بھی بڑھاتے ہیں، دورانِ خون کو بہتر کرتے ہیںاور جلد کی رنگت میں نکھار پیدا کرتے ہیں، خون کے قوام کو اعتدال پر لانے اور پھیپھڑوں کی نالیوں کو صحت بخشتے ہیں۔
2۔ فاسفورس، کیلشیم، میگنیشم، فولاد، پوٹاشیم : فاسفورس ہڈیوں میں گودہ اور قوت بخشتی ہے۔ کیلشیم ہڈیوں کو سخت کرتا ہے۔ جبکہ میگنیشیم اس کی اصلاح کرتا ہے یعنی ہڈیوں کو طاقت فراہم کرنے کے علاوہ نرم بھی کرتا ہے، یاد رکھو کہ بغیر میگنیشیم ، کیلشیم کا استعمال ضعیف حضرات کو ہڈی کے درد میں مبتلا کرتا ہے۔ فولاد آکسیجن کو جذب کرنے والے خلیات پیدا تو کرتا ہے مگر خون کو گاڑھا بھی کرتا ہے، پوٹاشیم خون کے قوام کو اعتدال پر لاتا ہے اور خون کو نقصان بھی نہیں دیتا۔
https://www.express.pk/story/2256686/9812/
پیئے جانے کے لحاظ سے دنیا بھر میں چائے اور کافی، یہ دو مشروبات انتہائی عام ہیں تاہم مغربی خطے میں کافی مشہور ہے جبکہ مشرقی تہذیب میں چائے کو مقبولیت حاصل ہے۔ دونوں میں شامل اجزا اور اس کے اثرات ملتے جلتے ہی ہیں جس کی وجہ سے کسی ایک کو چننا مشکل ہوجاتا ہے۔
کافی:
کافی میں کیفین کی مقدار چائے کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کیفین دماغ کو جگادیتی ہے اور نیند بھگا دیتی ہے۔ یہ جسم میں توانائی کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ بیماریوں سے بچاؤ میں بھی معاون ہے۔ ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مناسب مقدار میں اگر کیفین لی جائے تو اس سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ خیال رہے کہ کیفین کی زیادہ مقدار بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے جیسا کہ اسہال، متلی، نیند نہ آنا، گھبراہٹ, تیز دھڑکن اور شدید حالتوں میں مرگی کے دورے وغیرہ۔
چائے:
چائے میں چونکہ کیفین کم ہوتا ہے اس لیے یہ ایک مناسب مقدار میں توانائی مہیا کرتی ہے بنسبت کافی کے۔ چائے میں ایک اور جُز ہوتا ہے جو کافی میں نہیں ہوتا اور وہ L-theanine ہے جو کیفین کے جزوِ بدن بننے کے عمل میں تاخیر کرتا ہے۔ اس حوالے سے کیے گئے ایک مطالعے میں دیکھا گیا کہ L-theanine اور کیفین جب ساتھ لی گئی تو توجہ اور ذہنی صلاحیت میں بہتری آئی۔
https://www.express.pk/story/2257849/9812/
مشی گن: اگرآپ بہت چھوٹے بچوں کو کتاب سے آشنا کرنا چاہتے ہیں تو ٹیبلٹ کی بجائے روایتی کاغذوں والی کتاب ہی بہتر ثابت ہوتی ہے۔ اس سے ان کے ذخیرہ الفاظ بڑھتا ہے اور بولنے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس ضمن میں مشی گن میں واقع سی ایس موٹ چلڈرن ہسپتال کے ماہر ٹفنی میونزر نے ایک دلچسپ سروے کیا ہے۔ تجرباتی طور پر انہوں نے 77 والدین اور ان کے بچوں کے درمیان کتاب اور ٹیبلٹ کے تعلق کا مطالعہ کیا ہے۔ اب بچوں کی عمریں 24 سے 36 ماہ تھیں۔
والدین سے کہا گیا کہ یا تو وہ ٹیبلٹ پر بچوں کو کہانیاں سنائیں یا تصاویر دکھائیں یا پھر روایتی کتاب لے کر ان کے پاس بیٹھیں۔ جب جب کتاب پڑھتے یا کہانی سناتے ہوئے والدین نے بچے سے بات کی تو اس دوران بچے نے بھی اپنی جذباتی کیفیات کا اظہار کیا۔ عین اسی طرح سےبچے والدین کی گفتگو سن کر اپنی بات کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ٹفنی کہتی ہیں کہ اس سے بچے کی لسانی اور دماغی نشوونما پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگروالدین بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کتاب پڑھیں تو اس کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ اول بچوں میں ذخیرہ الفاظ بڑھتےہیں، والدین اور بچے کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے، اور آگے چل کر اسکول میں کامیابی کے امکانات بھی روشن ہوتے ہیں۔
اس سے قبل نفسیات داںوں نے کہا تھا چھپی ہوئی کتابیں پڑھتے وقت والدین بچے سے باتیں زیادہ کرتے ہیں، ان کا باہمی تبادلہ بہتر ہوتا ہے جبکہ برقی (الیکٹرانک) کتابیں پڑھنے سے یہ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ شائع شدہ کتابوں کی تصاویر ہر زاویے سے بچے کو واضح نظر آتی ہے اور یوں وہ اسے بہتر طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
اس بنیاد پر ماہرین نے کہا ہے کہ ٹیبلٹ اور فون ہر گھر میں عام ہیں اور والدین اسے بچوں کو پڑھانے یا کہانیاں سنانے کے لیے بھی استعمال کررہے ہیں۔ لیکن روایتی کتابوں کے مقابلے میں ان کی حیثیت بہت کم رہ جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اینی میشن اور اشتہارات کی وجہ سے بچے کی توجہ منتشر ہوتی ہے جبکہ روایتی کتاب میں ایسا نہیں ہوتا۔
یوں اگر دو سے تین برس تک کے بچوں کے سامنے والدین کتاب کھول کرپڑھیں تو اس سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل لاتعداد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دو سے تین سال تک کے بچوں کے سامنے تصویری کتب رکھ کر ان سے بات کی جائے تو ان کا ذخیرہ الفاظ بڑھتا ہے اور وہ بہت کچھ تیزی سے سیکھتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2257946/9812/
چشمہ لگانے والے افراد کیلئے امید کی کرن، اچھی خبر سامنے آگئی
Dec 11, 2021 | 12:53:PM

سورس: Pxhere.com ( creative commons license)
نیویارک (ویب ڈیسک) چشمہ لگانے والے افراد کیلئے اچھی خبر سامنے آگئی اور امریکا نے 15 منٹ میں دھندلے پن سے نجات پانے اور صاف بینائی واپس لانی والی آئی ڈراپ بنا لی ہے جس کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بھی منظوری دے دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کو مارکیٹ میں آنے والا ایک نیا منظور شدہ آئی ڈراپ ان لاکھوں امریکیوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے جن کی عمر 40 یا اس سے زائد ہیں یا جو دھندلا پن کا شکار ہوں،یہ آئی ڈراپ ریڈنگ گلاسز کی جگہ لے گا جنہیں قریب سے دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔کمپنی کے مطابق یہ دوا کم سے کم 15 منٹ میں اثر شروع کرتی ہے اور اس دوا کا ایک قطرہ 6 سے 10گھنٹے تک دھندلا پن ختم کرتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ کم روشنی یارات کو گاڑی چلانے والے افراد کیلئے یہ قطرے مؤثر نہیں اور 65 سال کی عمر والے افراد بھی اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Dec-2021/1376646?fbclid=IwAR28BqIMoR-x1y-uuYMMjG69-Tyc0_TyKPGq3LtONnmu80aEPnib7MkAUEY
ہم نومولود بچوں سے مختلف آوازوں، وقفوں، بلند پچ یا جب دھیمی رفتار سے بات کرتے ہیں تو درحقیقت بچے تک زبان سازی کی بنیادی معلومات پہنچاتے ہیں۔ ان کی مدد سے بچہ الفاظ سازی سیکھنے لگتا ہے۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا میں سماعت اور گفتگو پرتحقیق کرنے والے انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسرمیتھیو میسپولوکہتے ہیں کہ اس طرح بچوں کے سامنے جب ماں یا باپ بولتے ہیں تو بچے کی ’غوں غوں یا غا غا‘ محض اس کی نقل نہیں ہوتی بلکہ وہ اعصاب اور حرکت کرنے والے نظام کو متحرک کرنے لگتے ہیں۔
تجرباتی طورپرجامعہ فلوریڈا کے سائنسدانوں نے چھ سے آٹھ ماہ کے بچےکو بالغ افراد اور خود ان کی عمر کے بچوں کی آوازیں سنائیں۔ اس دوران بچوں نے بات کرنے یا آواز نکالنے کا وہی طریقہ اختیار کیا جو وہ عموماً ادا کرتے ہیں۔ بچوں نے جو آوازیں سنیں انہیں اپنی قوت، لمبائی ، شدت اور قوت کے ساتھ خارج کیا۔
پہلے چار سے چھ ماہ تک بچوں کا کوئی انتخاب نہیں ہوتا لیکن اس سے بڑے بچے اپنی آواز پر کنٹرول کرنا شروع کرتے ہیں اور اپنی صلاحیت کی بنا پرقدرے بامعنی آوازیں نکالتے ہیں۔ پھر یہ عمل جاری رہتا ہے اور بچے کی آواز کی ابتدائی تشکیل ہوتی رتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آواز خود بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پھر اس سے وہ سادہ لفظ بنانے لگتے ہیں۔
اس لئے یہاں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نومولود بچے سے باتیں ضرور کریں اس سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں
https://www.express.pk/story/2257296/9812/
ایک حالیہ مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ پر امید افراد شکرگزاری کا قدرے زیادہ جذبہ رکھتے ہیں اور اس کے جسمانی اثر کے طور پر بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے اور دل کی دھڑکن بھی بہتر حالت میں رہتی ہے۔
ایموشن نامی تحقیقی جرنل میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائنسدانوں نے اس کےلیے ’مائی بی پی لیب‘ نامی ایک ایپ استعمال کی۔ 4825 افراد نے اس ایپ کو اپنے فون پر ڈاؤن لوڈ کیا جو بلڈ پریشر نوٹ کرسکتی ہے اور دل کی دھڑکن کا شمار بھی رکھتی ہے۔ مطالعے میں امریکا، آسٹریلیا، بھارت اور ہانگ کانگ کے لوگ شامل تھے۔
تمام رضاکاروں کو ایک آپٹیکل سینسر بھی پہنایا گیا تھا جو انسانی جلد کے اندر خون کے بہاؤ اور حجم کو نوٹ کررہا تھا۔ پھر فون کے اندر ایک الگورتھم سے بلڈ پریشرناپا گیا۔ درست بلڈ پریشر کے لیے بازو پر بھی ایک پٹی لگائی گئی تھی۔
تمام شرکا نے 15 مارچ 2019 سے 8 دسمبر 2020 تک دن میں تین مرتبہ اپنی نیند، ورزش، روز کی توقعات، اور خیالات کے متعلق تفصیلات بتائیں۔ انہیں 12 جملے پر ریٹنگ کے لیے بھی کہا گیا۔ مثلاً ’میں اپنی بھرپور زندگی سے خوش ہوں،‘ یا ’ناموافق حالات میں، میں معمول سے بہترین کی توقع رکھتا ہوں۔‘
تحقیق سے معلوم ہوا کہ شکرگزاری اور امید رکھنے والے افراد نے دن بھر لوگوں پر اچھے اثرات مرتب کئے اور ایسے لوگوں میں بلڈ پریشر کی صورت بہتر دیکھی گئی اور دل کی دھڑکن بھی منظم رہی۔
نفسیات دانوں کے مطابق شکرگزاری کا جذبہ دیگر لوگوں کےلیے اور امید کا جذبہ اندرونی طور پر انسان کو مطمئین بناتا ہے۔ یہ تحقیق جامعہ مشی گن کے ماہرین نے کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شکرادا کرنے اور امید جیسے عمدہ جذبات انسانی نیند کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2256987/9812/
ملک میں پہلی بار جین تھراپی کے ذریعے 2سالہ بچے کا علاج کیا گیا۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان کرمانی نے کہاکہ کہ چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے 2سالہ بچے شاویز کو 6ماہ کی عمر میں اسپائنل مسکولراٹرفی کی تشخیص ہوئی تھی،اس بیماری میں مریض کو پٹھوں کی کمزوری، پٹھوں کے تناؤ میں کمی، محدود نقل و حرکت، سانس کے مسائل اور اعصابی صلاحیتوں میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس بیماری میں مریض ریڑھ کی ہڈی میں خم کا شکار بھی ہوسکتا ہے،اسپائنل مسکولر اٹرفی موروثی بیماریوں کا مجموعہ ہے، اس بیماری سے حرام مغز اور اس سے متصل عصبی خلیات تباہ ہوجاتے ہیں، کزن میرج اس بیماری کی سب سے عام وجہ ہے۔
پاکستان میں پہلی بار جین تھراپی کے ذریعہ شاویز کا علاج کیا گیا، عالمی فارماسیوٹیکل کمپنی نوارٹس نے اس بیماری کے علاج کی دوابنائی، بیماری کے علاج میں دوا کی صرف ایک خوراک درکار ہے تاہم دوا کی قیمت کئی ملین ڈالرز ہے، نوارٹس نے سو مریضوں کو دوا کی مفت فراہمی کا پروگرام ترتیب دیا۔
شاویز پاکستان میں دوا حاصل کرنے والا پہلا مریض ہے، ان خیالات کااظہار انھوںنے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا، اس موقع پرسی ای او آغا خان یونیورسٹی اسپتال ڈاکٹر شاہد شفیع، متاثرہ بچہ شاویز اور اسکے اہلخانہ سمیت دیگر موجود تھے۔
ڈاکٹر سلمان کرمانی نے نے مزید کہاکہ نوارٹس سے دوا کی فراہمی کی درخواست کی، 6ماہ عملے کو تھراپی کی ٹریننگ دی اور مریض بچے شاویز کے تھراپی سے قبل ضروری ٹیسٹ کیے، شاویز کو دوسری سالگرہ سے ایک روز قبل دوا دی گئی، دوا کے بعد شاویز کی حالت میں نمایاں بہتری ظاہر ہورہی ہے۔
شاویز کی والدہ کا کہنا تھا کہ شاویز دن بدن صحت کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ سب اللہ کا کرم اور آغا خان اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کی محنت کا نتیجہ ہے، آغا خان اسپتال کے ویلفیئر پروگرام کے ذریعے شاویز کے علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی۔
https://www.express.pk/story/2257037/981
نیوزی لینڈ کی حکومت نے نوجوانوں کو تاحیات تمباکو نوشی سے باز رکھنے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کرلیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ میں نئی نسل کو تاحیات تمباکو خریدنے سے روکنے کے لیے قانون سازی اگلے سال کی جائے گی۔ 2008ء کے بعد پیدا ہونے والے نوجوان تاحیات سگریٹ نوشی اور تمباکو نہیں خرید سکیں گے۔
یہ اقدام وزیر صحت عائشہ ورال کی تمباکو نوشی کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ وزیر صحت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان کبھی بھی تمباکو نوشی نہ ک
ملک بھر کے ماہرینِ صحت اور ڈاکٹرز کی جانب سے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے باز رکھنے کے لیے قانون لانے کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے ملک میں تمباکو کی بلیک مارکیٹ عمل میں آسکتی ہے جس کے لیے کسٹم حکام کو سرحدوں پر کنٹرول مزید سخت کرنے کے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
https://www.express.pk/story/2256906/10/
انگور کے بیجوں میں ایک خاص کیمیکل دریافت ہوا ہے جو ایک جانب تو جسم میں موجود بے کار اور متروک خلیات کو ختم کرتا ہے تو دوسری جانب یہ عمررسیدگی کو بھی روکتا ہے۔
اگرچہ چوہوں پر اس کے بہترین اثرات مرتب ہوئے ہیں جن کا ذکر بعد میں آئے گا لیکن پہلے جان لیجئے کہ ہمارے بدن کو بعض ڈھیٹ خلیات ہوتے ہیں جنہیں سینے سن خلیات کہا جتا ہے۔ اگران خلیات کو ختم کیا جائے تو جسمانی نظام درست ہوجاتا ہے اور بدن کے بڑھاپے کے عمل کو روکا جاسکتا ہے کیونکہ یہ عمل خلوی سطح پر آگے بڑھتا ہے۔
انگور کے بیجوں سے پروسائنائڈن سی ون نکال کر جب اسے چوہوں میں منتقل کیا گیا تو ان کی زندگی میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس طرح سینے سین خلیات کو بالکل نئی قسم کی دواؤں میں استعمال کیا جاسکتا ہے جنہیں ’سینولائٹک‘ ادویہ کہا جاتا ہے۔ یہ دوائین سینے سین خلیات کو صاف کرکے ڈیمنشیا اور ذیابیطس کو روکا جاسکتا ہے اور عمرکو طویل کیا جاسکتا ہے۔
چین میں واقع شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن اینڈ ہیلتھ کے سائنسدانوں نے پہلے پروسائنائڈن سی ون (مختصراً پی سی سی ون) نے دیکھا کہ وہ سینے سین خلیات کو مارڈالتی ہے ۔ اس سے پروگرام شدہ خلوی موت واقع ہوتی ہے جسے ایپوپٹوسِس کہا جاتا ہے اور اس عمل میں صحتمند خلیات کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
سب سے پہلے بوڑھے چوہوں کے خلیات اور بافتوں (ٹشوز) پر اسے آزمایا گیا ہے۔ سینے سین خلیات تیزی سے تباہ ہونے لگے ۔ اس طرح ان کے اندرونی اعضا کا انحطاط رک گیا۔ کینسر والے چوہوں میں اس مرکب نے کیموتھراپی کو بڑھاوا دے کر علاج میں بھی مدد کی۔
سائنسدانوں نے انگور کے بیج سے حاصل شدہ مرکب کے استعال سے چوہوں کی عمر بڑھائی جو 24 سے 27 ماہ تک بڑھی جو انسانوں میں 75 سے 90 برس کے برابر ہے۔ یعنی بوڑھے چوہوں کی اوسط عمر 60 فیصد برھی اور مجموعی عمر میں 9 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
https://www.express.pk/story/2256591/9812/
امریکی اور آسٹریلوی سائنسدانوں نے ایک مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر روزانہ تھوڑی سی مقدار میں دہی کھا لیا کریں تو ان کا بلڈ پریشر معمول پر رہے گا۔
یہ تحقیق 915 بالغ افراد پر کی گئی جس میں ان کے روزمرہ معمولات، صحت اور کھانے پینے کی عادات سے متعلق تفصیلی سوالات کیے گئے۔
ان میں سے جن افراد نے کہا کہ وہ روزانہ تھوڑی بہت مقدار میں دہی ضرور کھاتے ہیں، ان کی بھاری اکثریت کا بلڈ پریشر بھی معمول کے مطابق نوٹ کیا گیا۔
اس کے برعکس جو لوگ دہی نہیں کھاتے، ان کی نمایاں تعداد میں ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ عمومی صحت کے حوالے سے دہی کی خوبیاں ہزاروں سال سے معلوم ہیں جبکہ جدید تحقیقات سے بھی ان میں سے بیشتر کی تصدیق ہورہی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کو دنیا بھر میں ’’خاموش قاتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ متاثرہ شخص کےلیے بعد میں دل، شریانوں اور دماغ کی مختلف بیماریوں کی وجہ بن کر انہیں موت کے منہ میں بھی پہنچا سکتا ہے۔
البتہ ’’انٹرنیشنل ڈیری جرنل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کے معاملے میں دہی سے حاصل ہونے والے فوائد کو سمجھنے کےلیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کم چکنائی والی دہی کی صرف 100 گرام مقدار استعمال کرنے سے ہاضمہ درست رہتا ہے، ہڈیاں اور دانت مضبوط ہوتے ہیں جبکہ عام طور پر صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2256431/9812/
سردیوں میں بعض لوگوں کے پاﺅں ہمہ وقت ٹھنڈے کیوں رہتے ہیں؟ماہرین نے ایسی وجہ بتادی کہ کوئی بھی خوفزدہ ہو جائے
Dec 06, 2021 | 19:25:PM

سورس: Flickr.com (creative commons license)
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سردیوں کے موسم میں بعض لوگوں کے پاﺅں ہمہ وقت ٹھنڈے رہتے ہیں، خواہ وہ کسی گرم جگہ پر ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ ماہرین نے اب اس کی پانچ وجوہات بتا دی ہیں جن میں سے کچھ بہت خوفزدہ کر دینے والی بھی ہیں۔ دی سن کے مطابق پاﺅں ٹھنڈے رہنے کی وجوہات میں ایک تھائیرائیڈ کا کم متحرک ہونا ہے۔ جب تھائیرائیڈ نامی غدود کم ہارمونز پیدا کرتا ہے تو اس سے جسم کے کئی اعضاءمتاثر ہوتے ہیں اور خوراک سے توانائی کم بنتی ہے۔ صرف پاﺅں یا پورا جسم ٹھنڈا رہنا اس عارضے کی علامت ہو سکتی ہے۔
پاﺅں ٹھنڈے رہنے کی ایک وجہ ’ریناﺅڈز ڈیزیز‘ (Raynaud's disease)بھی ہے۔ اس بیماری میں انسانی جسم سردی لگنے پر حد سے زیادہ ردعمل دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہاتھ اور پاﺅں سردی سے منجمد محسوس ہوتے ہیں۔پاﺅں ٹھنڈے رہنے کی ایک وجہ شوگر کی بیماری بھی ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی پریشانی اور ہائی کولیسٹرول بھی پیروں کے ٹھنڈے رہنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اگر آپ کو ہائی کولیسٹرول کا عارضہ لاحق ہے تو آپ کو ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ سٹروک اور ہارٹ اٹیک کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/06-Dec-2021/1374511?fbclid=IwAR1S-jDHfdW6hdLEP8mZCJPcv6gE84PfRUeAHCEb4bXDvJXAn3ESpEmz9LQ
جاپانی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ ہلکی رفتار سے صرف دس منٹ تک دوڑا جائے تو دماغ مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ موڈ بھی خوشگوار رہنے لگتا ہے۔
ورزش اور جسمانی مشقت کے صحت پر مثبت اثرات کے حوالے سے یہ کوئی پہلی تحقیق ہر گز نہیں بلکہ اس بارے میں سائنسی تحقیقات کا سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔
ان تحقیقات میں ہر بار ایک منفرد انداز سے ذہنی و جسمانی صحت کےلیے ورزش اور مشقت کے فائدے سامنے آئے ہیں۔
البتہ، ہر تحقیق کے بعد جسمانی مشقت/ ورزش کی شدت اور مدت کے اثرات کا اظہار الگ انداز سے ہوا۔
یہ خبریں بھی پڑھیے:
سوکوبا یونیورسٹی، جاپان میں ہونے والی یہ تحقیق بھی اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے جس میں 26 صحت مند رضاکار بھرتی کیے گئے۔
مختلف مرحلوں میں ان رضاکاروں کو دس منٹ تک ٹریڈ مل پر ہلکی رفتار سے دوڑانے کے علاوہ آرام بھی دیا گیا جبکہ ہر مرحلے پر خصوصی اور حساس آلات سے ان میں خون کی روانی، بالخصوص دماغوں تک پہنچنے والے خون کا مشاہدہ کیا گیا۔
ہر مرحلے کے بعد رضاکاروں کی یادداشت، تجزیاتی صلاحیت، مزاج (موڈ) اور دوسری دماغی کیفیات جانچی گئیں۔
صرف دس منٹ تک ہلکی رفتار سے دوڑنے (جاگنگ کرنے) کے بعد رضاکاروں کی یادداشت اور ذہانت نمایاں طور پر بہتر ہوئی جبکہ ان کا موڈ بھی خوشگوار رہا۔
البتہ، جب ان ہی رضاکاروں نے چند روز تک آرام کرنے کے بعد، اور کسی بھی قسم کی ورزش کیے بغیر، یہ تمام آزمائشیں ایک بار پھر انجام دیں تو ان کی کارکردگی بھی بہت کم دیکھی گئی۔
’’ورزش دوا ہے؛ اور جس طرح مختلف دواؤں کے اثرات ان کی اقسام کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح الگ الگ ورزشوں کا اثر بھی ان کی نوعیت، مدت اور شدت کے اعتبار سے الگ ہوتا ہے،‘‘ ڈاکٹر ہیڈیاکی سویا نے کہا، جو سُوکُوبا یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ہیلتھ اینڈ اسپورٹس سائنسز کے پروفیسر ہیں۔
تازہ تحقیق کی روشنی میں جاپانی ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اگر آپ کے پاس بہت زیادہ وقت نہیں، تب بھی اگر آپ کسی طرح روزانہ صرف 10 منٹ کےلیے ہلکی رفتار سے دوڑنے کی عادت بنا لیں تو یہ آپ کی جسمانی صحت کے علاوہ ذہانت اور موڈ بہتر بنانے میں بھی بہت مفید ثابت ہوگا۔
نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات نیچر پبلشنگ گروپ کے آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2255905/9812/
مرگی مرض کی طویل تاریخ رکھنے والے افراد کے دماغ تیزی سے بوڑھے ہوجاتے ہیں جو ڈیمنشیا کی نشوونما کے لیے مشکلات کو بڑھا سکتا ہے۔
یہ نئی تحقیقی بتاتی ہے کہ مرگی کے شکار لوگوں کے دماغ ان لوگوں کے دماغوں سے تقریباً 10 سال زیادہ پرانے دکھائی دیتے ہیں جنہیں مرگی کی بیماری نہیں۔
مرگی کے مریضوں میں علمی صلاحیت کا زوال بھی جلد آتا ہے، بشمول یادداشت اور استدلال کے مسائل بھی اور دماغی اسکینوں میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو الزائمر کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
مطالعہ سے پتہ چلتا ہے دماغی عمر کا بڑھنا اور سوچ اور یادداشت میں تبدیلیاں ان لوگوں میں زیادہ واضح ہوتی ہیں جن کے مرض کا صحیح سے انتظام نہیں کیا جاتا۔
مطالعہ کے مصنف اور یونیورسٹی آف وسکونسن سکول آف میڈیسن میں نیورو سائیکالوجی کے ایمریٹس پروفیسر بروس ہرمن نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ بچپن سے شروع ہونے والی مرگی عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو بچپن سے 60 کی دہائی تک مرگی کا شکار رہتے ہیں،”
https://www.express.pk/story/2255699/9812/
فالج کا شدید دورہ پوری دنیا میں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور ہرسال ہزاروں لاکھوں افراد میں دائمی معذوری کی وجہ بھی بنتا ہے۔
انسان کی کچھ ایسی سرگرمیاں ہیں جو محض لمحوں میں فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھاسکتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں سرفہرست جسمانی دباؤ ہے۔
اس ضمن میں نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ نے 2021 میں پوری دنیا میں 13 ہزار 462 کیسز کے مطالعات سے انکشاف کیا ہے کہ بھاری وزن اٹھانے اور بہت زیادہ ورزش ختم کرنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
اس تحقیق کی روداد امریکن جرنل آف ایپیڈیمیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔ 390 متاثر ہونے والے افراد میں سے 21 یعنی 21 افراد نے اعتراف کیا کہ فالج سے قبل انہوں نے سخت جسمانی مشقت کی تھی۔ اس طرح کل پانچ فیصد افراد سامنے آئے جنہوں نے فالج کے دورے سے قبل سخت مشقت کی تھی یا کم ازکم 50 پاؤنڈ وزن اٹھایا تھا۔ ان تمام افرد کو اشکیمیئک اسٹروک (فالج) ہوا تھا۔
دوسری جانب خود ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ بہت رنج و غم اور صدمے سے بھی فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ فالج کئی طرح کے ہوتے ہیں جن میں دماغ کی باریک رگ میں خون کا لوتھڑا پھنس جانا یا پھر خون کی رگ پٹھنے سے دماغ میں خون کا بہاؤ شامل ہے۔
https://www.express.pk/story/2256530/9812/
امریکی ماہرین نے بزرگ افراد میں موتیا اور الزائیمر اور ڈیمنشیا کے درمیان ایک واضح تعلق دریافت کیا ہے۔
جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق عمررسیدہ افراد اگر بروقت موتیا کا علاج کراتے ہیں تو ان میں الزائیمر اور ڈیمنشیا کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔
اس ضمن میں 65 سال سے زائد عمر کے 5 ہزار سے زائد افراد کا سروے کیا گیا ہے۔ ان میں سے جن افراد نے اپنی ایک یا دونوں آنکھوں سے موتیا کا آپریشن کرواکے اس سے جان چھڑائی تھی ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ بھی 30 فیصد تک کم دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کیٹریکٹ یا موتیا آپریشن سے الزائیمر کا خطرہ بھی کم ہوا اور اس کی تفصیلی تحقیق جاما انٹرنل میڈیسن کی چھ دسمبر کی اشاعت میں پیش کی گئی ہے۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف میڈیشن کی ڈاکٹر سیسیلیا لی اور ان کے ساتھیوں نے موتیا کے آپریشن اور ڈیمنشیا جیسے امراض کے درمیان گہرا تعلق دریافت کیا ہے۔ اس طرح ماہرین نے ڈیمنشیا کو روکنے کے لیے موتیا کے بروقت آپریشن کو بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔
اب تک اس کی سائنسی وجوہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ شاید اس کی وجہ ہے کہ نظر صاف کرنے سے روشنی دماغ تک جاتی ہے۔ اس سے سگنل بہتر ہوتے ہیں اور یوں مجموعی طور پر اس اہم دماغی مرض کی شدت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
شاید دوسری وجہ یہ ہے کہ موتیا کے آپریشن کے بعد آنکھ میں نیلی روشنی پہنچنے لگتی ہے اور ریٹینا کےاندر بعض خلیات بہتر ہوتے جاتے ہیں۔ نیلی روشنی سے نیند کا دورانیہ بہتر ہوجاتا ہے اور موتیا کا آپریشن اس پورے عمل کو بہتر بناتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2256183/9812/
جسم کی اندرونی گھڑی ہمارے سونے جاگنے اور دیگر معمولات کو طے کرتی ہے، ان میں بگاڑ سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ رات کو جاگنے اور کھانے پینے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس سے قبل رت جگوں میں کام سے جسم کے استحالے (میٹابولزم) متاثر ہونے، امراضِ قلب اور بلڈپریشر کے درمیان تعلق سامنے آچکا ہے۔ اسی طرح سونے اور جاگنے کے قدرتی دورانیے یعنی جسمانی گھڑی (سرکاڈیئن کلاک) بگڑنے سے دل پر منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
اس کے بعد ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنسدانوں نے نوجوان اور صحت مند رضا کاروں کو بھرتی کرکے انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک کو دن میں کام کرایا گیا اور ان ہی اوقات میں کھانا پینا فراہم کیا۔ دوسرے گروہ کو رات میں جاگنے کو کہا اور انہی اوقات میں کھانا دیا گیا۔ یہ عمل کل 14 روز تک دہرایا گیا۔
سب سے پہلے دونوں گروہوں کے خون میں گلوکوز کی مقدار نوٹ کی گئی۔ اب جن لوگوں نے دو ہفتے شب بیداری میں گزارے اور رات کو کھانا کھایا تو پہلے کے مقابلے گلوکوز کی شرح ساڑھے چھ فیصد بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔
ہارورڈ کے پروفیسر فرینک اے جے ایل نے یہ تحقیق کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق سے عیاں ہے کہ بے وقت کھانے سے خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے لیکن انہوں نے اس ضمن میں مزید تحقیق پر زور دیا۔
اب بھی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ رات کو کھانے کے بجائے رات جاگنے کا عمل زیادہ مضر ہے کیونکہ یہ پورے بدن کے نظام کو تتربتر کردیتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2255704/9812/
آسٹریلیا: عام افراد درد اور تکلیف کا اظہار کردیتےہیں لیکن ڈیمنشیا اور دیگر مریض اس عارضے کی باعث اظہار نہیں کرسکتے۔ اسی بنا پر ان کے درد کو جاننا مشکل ہوتا ہے اور کبھی کبھار غلط علاج بھی ہوجاتا ہے۔ اب اسی کمی کے پیشِ نظر ایک ایپ بنائی گئی ہے۔
ایپ کو ’پین چیک‘ کا نام دیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجینس) اور چہرے کے خدوخال کو دیکھتے ہوئے درد کی شدت کا احساس کرتی ہے۔ اس طرح یہ کرب و تکلیف کو مختلف درجوں میں بیان کرسکتی ہے۔ کوئی بھی دیکھ بھال کرنے والا اسمارٹ فون سے مریض کے چہرے کی مختصر ویڈیو بناتا ہے اور مریض کی حرکات، رویے اور گفتگو کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس دوران ایپ چہرے کے پٹھوں میں کھنچاؤ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔ اس کے بعد تمام معلومات کو نگرانی کرنے والے شخص کے بیانات کے تحت درد کی شدت کو بیان کرتی ہے۔
پین چیک نامی کمپنی کے مطابق اب تک پوری دنیا میں 66 ہزار افراد میں تکلیف کے 180,000 جائزہ جمع کئے جاچکتے ہیں۔ اس بڑے ڈیٹا بیس کے تحت یہ ایپ 90 فیصد درستگی سے بتاسکتی ہے کہ کوئی خاتون کا مرد کتنی تکلیف میں ہے؟
خصوصاً ڈیمنشیا کے مریض بولنے سے قاصر ہوتے ہیں اور اپنا دکھ سکھ کسی سے نہیں کہہ سکتے۔ اسی تناظر میں چہرے کے خدوخال کے لئے ’ایبے پین اسکیل‘ بنایا گیا تھا جسے اب ایپ میں استعمال کیا جارہا ہے۔
2012 میں آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی نے اس ایپ پر کام شروع کیا تھا تاکہ فوری طور پر مریضوں کی تکلیف معلوم کی جاسکے۔ اس کے بعد ایپ باقاعدہ ایک طبی آلے کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپ میں اس کی ماہانہ فیس چار ڈالر رکھی گئی ہے۔
یہ ایپ بالخصوص ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہورہی ہے کیونکہ پوری دنیا میں ایسے مریضوں کی تعداد 5 کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور ہر سال ان کی تعداد میں ایک کروڑ کا اضافہ ہورہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2141177/9812/
چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے اپنے ابتدائی دور میں جو کچھ کھاتے ہیں وہ اجزا ان کے معدے اور آنتوں میں خردنامیوں (مائیکروبس)کی تشکیل کرتےہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری زندگی پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
بالفرض اگربچے ابتدائی عمر میں شکراور چکنائی بھری اشیا کھائیں تو ان کے معدے اور آنتوں کی حیاتیاتی کیفیت بدل جاتی ہے اور یوں اس کے اثرات پوری عمر تک جاری رہ سکتےہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ریورسائیڈ کے سائنسدانوں نے بتایا کہ ہمارے پیٹ میں موجود ہزاروں لاکھوں اقسام کے بیکٹیریا اور دیگر خردنامئے ہماری مجموعی صحت کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر اوائل عمر میں ہی ان کی کیفیت تبدیل ہونے لگے تو اول بچے کی نشوونما پر اثر پڑتا ہے جس کے آثار زندگی بھر دیکھے جاسکتے ہیں۔
جامعہ کیلیفورنیا میں ارتقائی فعلیات کے ماہر تھیوڈور گارلینڈ کہتے ہیں کہ مغربی غذائیں ہمارے بچوں پر مضر اثر ڈال رہی ہیں اور عین اسی طرح کی غذائیں چوہوں کو دی گئیں جس میں چکنائی اور شکر کی بہتات تھی۔ اس کےبعد چوہوں کا مطالعہ کیا گیا اور ان کے معدے میں موجود خردنامیوں کا بغور مطالعہ کیا گیا۔
انسانی جسم میں لاتعداد اقسام کے طفیلیے(پیراسائٹ)، فنجائی، وائرس اور بیکٹیریا پائے جاتے ہیں اور ان کی اکثریت آنتوں اور معدے میں رہتی ہے۔ یہ غذا کےہاضمے، جسم کو بیماریوں سے روکنے، وٹامن کی جزوبدن بنانے اور دواؤں کی تاثیر میں اہم کردار ادا کرتےہیں۔
اسی طرح صحت بخش اور مضرِ صحت خردنامیے بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جسم میں تمام اقسام کے خردنامیوں کا توازن ضروری ہوتا ہے۔ اس تجربے میں چوہوں کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ان میں سےایک گروہ کو تین ہفتے تک مغربی کم صحت بخش غذائیں دی گئیں۔
اس کے بعد تمام چوہوں کے گروہوں کو دوبارہ معمول کے کھانے دیئے گئے اور یہ یہ عمل 14 ہفتوں تک جاری رکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ جن چوہوں کو چکنی اور میٹھی غذائیں دی گئیں ان کے معدے اور آنتوں کے خردنامیوں کا توازن سب سے زیادہ بگڑگیا اور ان میں میوری بیکیولم انٹیسٹینیل نامی بیکٹیریا کی کم ترین مقدار تھی جو کاربوہائیڈریٹس کو سادہ اجزا میں توڑ کر ہضم کے قابل بناتی ہے۔
چوہے کی عمر کا موازنہ انسانی عمر سے کرتے ہوئے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر بچپن میں خراب نوعیت کی غذائیں کھائی جائیں تو اس کے دیرینہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2141708/9812/
سویڈن میں کیے گئے ایک تفصیلی مطالعے میں دل کی تیز دھڑکنوں اور دماغی بیماریوں کے درمیان واضح اور مضبوط تعلق سامنے آیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال دھڑکنوں کی تیز رفتار کو دماغی امراض کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر یومی ایماہوری کی قیادت میں یہ مطالعہ 60 سال یا زیادہ عمر کے 2,147 رضاکاروں پر کیا گیا جو اسٹاک ہوم کے رہائشی تھے۔
12 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں خاص طور پر یہ جائزہ لیا گیا کہ بڑھاپے میں (آرام کرتے دوران) دھڑکنوں کی رفتار اور دماغی بیماریوں کے خطرات میں کوئی تعلق ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ بالغ اور عمر رسیدہ افراد کا دل، آرام کرتے دوران، اگر ایک منٹ میں 60 سے 100 مرتبہ دھڑک رہا ہو تو اسے معمول کے مطابق یعنی ’’نارمل‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دھڑکنوں کی رفتار 60 سے 65 فی منٹ ہو تو یہ اچھی صحت کی علامت ہے۔
البتہ، اگر یہ رفتار 70 دھڑکن فی منٹ سے زیادہ ہوجائے تو بالخصوص ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کیونکہ دھڑکنوں کی یہی زیادہ رفتار، آنے والے برسوں میں دل اور شریانوں کی خطرناک بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہیں؛ جو اپنی شدید صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔
ریسرچ جرنل ’’الزائیمرز اینڈ ڈیمنشیا‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اس نئے مطالعے میں ماہرین کو معلوم ہوا کہ جن افراد میں دورانِ آرام دھڑکنوں کی رفتار 80 فی منٹ یا زیادہ تھی، ان میں بعد ازاں ڈیمنشیا کا خطرہ، 60 سے 69 دھڑکن فی منٹ والے افراد کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ تھا۔
بتاتے چلیں کہ ڈیمنشیا کوئی ایک دماغی بیماری نہیں بلکہ دماغ کو نقصان پہنچانے والی مختلف علامات کا مجموعی نام ہے جن میں یادداشت، توجہ اور ابلاغ (کمیونی کیشن) کی صلاحیتیں کم ہوجانے کے علاوہ تجزیئے، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے میں مشکلات کا بڑھ جانا وغیرہ شامل ہیں۔
ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم ’’الزائیمر کی بیماری‘‘ ہے جو 65 سال یا زیادہ عمر کے افراد کو لاحق ہوسکتی ہے۔ 2020 تک ڈیمنشیا کے مریضوں کا عالمی تخمینہ 5 کروڑ 50 لاکھ تھا جو 2050 تک 14 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ خطرہ ان افراد کےلیے دل کی بیماریوں کے علاوہ تھا جو تیز دھڑکنوں کی وجہ سے انہیں ہوسکتی تھیں۔
ڈاکٹر یومی کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جو دھڑکن کی رفتار اور ڈیمنشیا میں واضح تعلق کو ثابت کرتی ہے۔
البتہ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ تیز دھڑکنوں کو ڈیمنشیا کی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس کےلیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2254880/9812/
وہ 6 علامات جو خطرناک کینسر کا پیش خیمہ ہوسکتی ہیں
Dec 02, 2021 | 19:16:PM

سورس: Flickr.com (creative commons license)
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کینسر زیادہ تر کیسز میں خاموش قاتل ثابت ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کی باقاعدگی سے چیک اپ نہ کرانے کی عادت کے باعث اس کی تشخیص اس وقت ہو پاتی ہے جب یہ قابو سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔ اب ماہرین نے چھ ایسی علامات بتا دی ہیں جو خطرناک قسم کے کینسر کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں تاہم یہ ایسی علامات ہیں کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ ان کا کینسر سے بھی کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔
دی سن کے مطابق برطانوی محکمہ صحت کے ماہرین کی طرف سے بتائی گئی یہ چھ علامات مسلسل کھانسی، سینے کی انفیکشن، سانس لیتے یا کھانستے ہوئے تکلیف ہونا،انگلیوں کی ہیئت یا شکل میں تبدیلی آنا، چہرے پر سوجن آنا اور ہارمونز میں بگاڑ آنے کی وجہ سے ظاہر ہونے والی کچھ علامات شامل ہیں۔ ہارمونز کے بگاڑسے انسان کی بھوک ختم ہو جانا، وزن کم ہونا شروع ہو جانا، سوجن، آواز میں تبدیلی آنا وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام علامات لازمی طور پر کینسر کی علامات نہیں ہیں۔ ان کا سبب کوئی اور عارضہ بھی ہوسکتا ہے تاہم یہ مختلف اقسام کے کینسر کی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔لہٰذا ان علامات کے ظاہر ہونے کی صورت میں چیک اپ لازمی کروانا چاہیے۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Dec-2021/1372929?fbclid=IwAR2nbSh2GnL7wqWrCDD2LirRuz_T4MM7Tfecv5BzdcL2VizNyov3CO6N4nc
سگریٹ نوشی سے انسان کے پھیپھڑوں کے علاوہ گھر کی دیواروں پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
Dec 02, 2021 | 19:13:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) سگریٹ نوشی سے انسان کے پھیپھڑوں کا کیا حال ہوتا ہے، اس پر تو بہت کچھ بات ہو چکی لیکن شاید ہی کبھی کسی نے سوچا ہو کہ سگریٹ نوش افراد کے گھر کی دیواروں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ یہ بات سن کر غالباً حیران ہو رہے ہوں گے مگر اس برطانوی میاں بیوی نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو میں کچھ ایسی چیز دکھا دی ہے کہ سن کر واقعی حیرت ہوگی۔ دی سن کے مطابق ایملی اور لوک نامی یہ میاں بیوی نئے گھر میں منتقل ہوتے ہیں جس کی دیواروں کی رنگت سیاہی مائل پیلی ہو رہی ہوتی ہے۔
ایملی اور لوک گھر کی دیواروں کو صاف کرتے ہیں تویہ ایک بار پھر اصلی رنگ میں آنی شروع ہو جاتی ہیں اور ان کے اوپر سے جو مادہ اترتا ہے جب اس کا تجزیہ کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ سگریٹ کے دھواں تھا جس نے دیواروں کا یہ حال کر رکھا تھا۔ کچھ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس گھر میں ایملی اور لوک سے پہلے ایک سگریٹ نوش شخص رہتا تھا۔ ایملی اور لوک نے دیواروں سے نکوٹین کے دھبے اتارنے کی یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر پوسٹ کی ہے جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Dec-2021/1372927?fbclid=IwAR0RsB2jNbISW7n5Ook8ggBdUtyp6FkVEz6Awr0rxBcR_HTwbBTWoYzSNbE
فضائی آلودگی سے پاکستانیوں کی عمر میں کتنے سال کمی آرہی ہے؟ تشویشناک خبر آگئی
Dec 02, 2021 | 20:48:PM

نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن )ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی پاکستانی شہریوں کی عمر لگ بھگ سوا چار سال گھٹا رہی ہے۔فضائی آلودگی کو جانچنے کے لیے کسی مانیٹر کی ضرورت نہیں، لاہور اور کراچی میں یہ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب محسوس ہونے لگی ہے، جب آسمان نیلےکے بجائے سرمئی نظر آنے لگے، حدنگاہ کم ہوجائے، عمارتیں دھندلی نظر آنے لگیں اور سانسوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے آلودہ ذرات طبیعت بوجھل کرنے لگیں تو سمجھ جائیں کہ آپ انتہائی آلودہ فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، یہ فضائیں آپ سے صحت مند زندگی گزارنےکا حق چھین رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق لاہورکی فضاؤں میں 24 گھنٹےگزارنےکا مطلب یہ ہےکہ آپ نے 10کے قریب سگریٹ سلگائے ہوں۔ائیرکوالٹی انڈیکس لائف کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان کے شہریوں کی اوسط عمر سےسوا چار سال کے قریب گھٹارہی ہے جب کہ لاہور کی آلودہ فضاؤں میں سانس لینے والوں کی اوسط زندگی کے 5 سال کم ہو رہے ہیں۔ ائیرکوالٹی لائف انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا چوتھا آلودہ ترین ملک بن گیا ہے، پاکستان میں تقریباً 21 کروڑ افراد آلودگی کا شکار ہیں، آلودگی کے باعث پاکستان کے شہریوں کی اوسط عمر 3 سے 4 سال کم ہورہی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں 1998 کے بعد سے اوسطاً سالانہ 20 فیصد آلودگی بڑھی، جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ آلودگی میں سر فہرست ہیں۔ماہرین کا کہنا ہےکہ صاف آب و ہوا سےکراچی کے رہائشیوں کی اوسط عمر میں 3.6 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے، لاہور اور اسلام آباد کے رہائشیوں کی اوسط عمر میں بالترتیب 5 اور 4 سال کا اضافہ ممکن ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Dec-2021/1372944?fbclid=IwAR2D-SFrMHyEDWBiX-mBSTW5FhvQQDtk_Dal852tD-9KA2mT4In_uM5BPxc
برطانیہ میں ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اکثر خراب نیند کی شکایت کرتے ہیں، وہ خود کو وقت سے پہلے ہی بوڑھا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
واضح رہے کہ ماہرین کے نزدیک ’’معیاری‘‘ یا ’’اچھی‘‘ نیند سے مراد یہ ہے کہ آپ جب رات کے وقت سونے کےلیے لیٹیں تو آپ کو زیادہ سے زیادہ 30 منٹ میں نیند آجائے، آپ پوری رات (اپنی عمر کے مطابق) صحیح وقت تک سوتے رہیں، آپ کی نیند نہ ٹوٹے اور اگر رات میں آنکھ کھلے تو صرف ایک مرتبہ، اس سے زیادہ نہیں۔
علاوہ ازیں، جب آپ صبح سو کر اٹھیں اور خود کو تازہ دم محسوس کریں، تو اس کا مطلب بھی یہی لیا جائے گا کہ آپ نے رات میں معیاری اور پوری نیند لے لی ہے۔
اب تک کی تحقیقات سے نیند کی خرابی کا تعلق دل، شریانوں اور دماغ کی مختلف بیماریوں سے واضح طور پر سامنے آچکا ہے۔ تازہ مطالعے نے اس فہرست میں ایک اور تشویش کا اضافہ کردیا ہے۔
برطانیہ میں عمر رسیدگی کے حوالے سے جاری ایک طویل مطالعے ’’پروٹیکٹ اسٹڈی‘‘ میں شریک ہونے والے کئی رضاکاروں نے نیند کی خرابی کے ساتھ ساتھ اپنے ذہن میں منفی سوچ بڑھ جانے کی شکایت بھی کی تھی۔
اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’پروٹیکٹ اسٹڈی‘‘ میں شریک، پچاس سال یا زیادہ عمر کے 4,482 سے بطورِ خاص ان کی نیند اور جذباتی کیفیات کے بارے میں تقریباً تین سال تک وقفے وقفے سے معلومات جمع کی گئیں۔
اس مقصد کےلیے تفصیلی سوالناموں کے ذریعے ان افراد سے نیند کے معیار، دورانیے، یادداشت میں آنے والی منفی تبدیلیوں، تازگی، موٹیویشن اور سرگرمیوں وغیرہ سے متعلق سال میں دو مرتبہ معلومات حاصل کی گئیں۔
معلومات کا تجزیہ کرنے پر پتا چلا کہ جن لوگوں میں نیند کی خرابی زیادہ تھی، وہ منفی خیالات، چڑچڑے پن، مایوسی، یادداشت کی خرابی اور اسی طرح کے دوسرے ذہنی و نفسیاتی مسائل میں زیادہ مبتلا تھے۔ ایسے افراد کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ خود کو تیزی سے بوڑھا ہوتا ہوا محسوس کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بڑھاپا آنا قدرتی بات ہے، لیکن اس طرح سے بوڑھا ہونا ان میں شدید ناگوار قسم کے خیالات بھی پیدا کررہا ہے۔
ریسرچ جرنل ’’بیہیورل اینڈ سلیپ میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع شدہ تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ناگواری کا یہ احساس ان لوگوں کے ذہنی و نفسیاتی مسائل کو مزید بڑھانے کا باعث بن جاتا ہے۔
اسی لیے ان کا مشورہ ہے کہ دوسرے اقدامات کے ساتھ ساتھ، اگر معیاری نیند پر بھی توجہ دی جائے تو عمر رسیدگی سے وابستہ کئی مسائل کو واقع ہونے سے پہلے ہی روک کر بڑھاپا خوشگوار بنایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2254482/9812/
اگرچہ پلاسٹک آلودگی کے انسانی اثرات کے کئی شواہد سامنے آئے ہیں لیکن اب چوہوں پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کے خردبینی ذرات بلڈ پریشر، کولیسٹرل میں اضافے اور امراضِ قلب کی وجہ بن سکتے ہیں۔
پلاسٹک کی تھیلیاں ندی، نالوں اور دریاؤں سے گزرکرآخرکار سمندر میں پہنچتی ہیں۔ سمندر میں پلاسٹک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور باریک ترین ذرات میں ڈھلنے لگتے ہیں جنہیں مائیکروپلاسٹک کا نام دیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے سائنسی تصدیق ہوچکی ہے کہ مائیکروپلاسٹک پھیپھڑوں میں جاکر اندرونی خلیات کی شکل تبدیل کرسکتے ہیں۔ پھر خیال تھا کہ وہ خون اور دماغ کی حد عبور کرکے دماغ تک بھی جاسکتے ہیں۔ پلاسٹک کے مشہور کیمیکل بی پی اے اور دیگر دماغ کو بری طرح نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
تاہم نئی تحقیق میں پلاسٹک کے ایک اور کیمیکل فتھیلیٹس کا جائزہ لیا گیا ہے جو قریباً تمام اقسام کے پلاسٹک میں موجود ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ پلاسٹک آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ افراد قبل ازوقت موت کے منہ میں جارہے ہیں۔
اب جامعہ کیلیفورنیا نے ’ڈائی کلوہیکسل فتھیلٹ (ڈی سی ایچ پی) کو چوہوں پرآزمایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ڈی سی ایچ پی چوہوں کے بدن میں جاکر وہاں مشہور پریگنین ایکس ریسپٹر (پی ایکس آر) سے چپک گیا۔ یہ معدے میں موجود ہوتا ہے۔ اب جب ڈی سی ایچ پی نے پی ایکس آر پر حملہ کرکے اسے متاثر کیا تو کولیسٹرول کنٹرول کرنے والے قدرتی پروٹین میں گڑبڑ پیدا ہوئی اور یوں چوہوں میں کولیسٹرول بڑھنے لگا۔
پھر معلوم ہوا کہ ڈی سی ایچ پی سے چوہوں کے خون میں سیرامڈز نامی چربی والے سالمات تیزی سے بڑھے جو انسانوں میں دل کی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ ڈی سی ایچ پی کی مقدار بڑھنے سے خود پی ایکس آر سگنلنگ کا عمل بھی بڑھا گیا جو بہت خطرے کی بات ہے۔
ماہرین کے مطابق پلاسٹک کے ذرات سمندر کی گہرائی میں ملے ہیں تو ایورسٹ کی بلندی پر بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ اب عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اس پر تحقیق شروع کردی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں پلاسٹک کے عام کیمیکل ڈی سی ایچ پی کے کولیسٹرول اور دل پر اثرات سامنے آئے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2254257/9812/
جوں جوں سردی کا موسم قریب آتا ہے، ننھے منے پھول جیسے بچے زیادہ سردی لگنے سے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
بچوں کا مدافعتی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے وہ تھوڑی سی بد احتیاطی سے بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، سردیوں میں ناک بہنا، زکام، کھانسی، بخار، سانس کا تیز چلنا بچوں میں ہونے والی عام علامات ہیں۔ ان سب پر مناسب توجہ سے آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
ان حالتوں میں زیادہ تر سانس کے نظام کا اوپر والا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ عموماً وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن کوئی اور بیکٹیریا بھی انفیکشن کرسکتا ہے اور مناسب توجہ نہ دینے کی وجہ سے نمونیہ اور ٹی بی جیسے موذی مرض بھی ہوسکتے ہیں جس سے بچے کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
علاج اور بچاؤ
-1نظام تنفس کے اوپر کے حصہ کی بیماریاں جنہیںURTIبھی کہتے ہیں یا تو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر بیکٹیریا کی وجہ سے۔ ان میں بچہ بے چین ہوتا ہے۔ بخار کی وجہ سے جسم گرم محسوس ہوتا ہے۔ ٹانسل اور نظام تنفس کے اوپر والے حصے کے دوسرے حصے سوجے اور پھولے نظر آتے ہیں۔ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔
ان سب حالات میں ماں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا کام ہے کہ تسلی سے بچہ کی حرکات و سکنات اور رویے میں تبدیلی کو دیکھے اور ان حالات میں بچے کو ایک صاف اور ہوا دار کمرے میں رکھا جائے۔ دوسرے صحت مند بچوں کواس سے دور رکھا جائے۔
-2بخار وغیرہ کی صورت میں بچے کو کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے رہنا چاہیے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ مائیں اس صورت میں بچے کو کھلانے پلانے سے احتراز کرتی ہیں۔ ماں کو بد ستور اپنا دودھ پلاتے رہنا چاہیے اور زیادہ تر پینے والی اشیاء دینا چاہئیں۔
-3بچے کی نیند اور آرام کا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔
-4اگر ٹمپریچر زیادہ ہو تو پھر ٹھنڈی پٹیاں کر کے اس کو کنٹرول کرنا چاہیے۔
-5بخار کم کرنے کے لیے کوئی بخار کم کرنے والی دوا استعمال کریں لیکن 12سال سے کم عمر بچوں میں اسپرین یا ڈسپرین کبھی استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس سے جگر اور دماغ کی بیماری ہوسکتی ہے۔
-6مچھلی کا تیل(Cod liver oil) یا شہد بچوں کے لیے اچھی غذا ہے اور یہ نظام تنفس کے امراض کو روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
-7بہت سے ایسے امراض ہیں جن میں اینٹی بائیوٹکس دواؤں کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کی ضرورت وائرس سے ہونے والی انفیکشن میں بالکل نہیں ہوتی۔
اگر اوپر دی گئی ہدایات پر عمل کرنے سے بچے کا بخار کم نہ ہو اور سانس میں رکاوٹ بد ستور بر قرار رہے تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بچے کا باقاعدہ علاج شروع کروانا چاہیے تاکہ باقاعدہ تشخیص کرکے صحیح علاج کیا جاسکے۔
بڑی عمر کے لوگوں میں ہونے والی علامات، بیماریاں اور علاج
سردیوں کے موسم میں بچوں کی طرح بڑے بھی مختلف بیماریوں اور چیسٹ انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جان لیوا خشک کھانسی اور بلغمی کھانسی پیچھانہیں چھوڑتی۔ گلے میں سوجن کی وجہ سے آواز نہیں نکلتی۔ زکام کی وجہ سے ہر وقت ناک بہتا رہتا ہے۔ دمہ کے مریضوں میں انفیکشن کی وجہ سے دمہ کے مرض میں شدت آجاتی ہے۔
خشک اور بلغمی کھانسی کا علاج
انسانی جسم کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہے۔ جب بھی جسم پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے جسم کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا مقابلہ کیا جائے۔ کھانسی کا آنا بھی اسی مدافعتی نظام کا حصہ ہے۔ کھانسی کے ذریعے سانس کی نالی کے اوپر والے حصے سے جمی ہوئی بلغم باہر نکلتی ہے جس سے سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔
کھانستے رہنے سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے۔ اس بلغم کا اخراج نہ ہو تو سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور یوں سانس پھولنے اور دمہ کی بیماری کے حملے ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کی کھانسی کو روکنے کے لیے کسی قسم کی دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔
اصل میں کھانسی کی دوا صرف اور صرف اس وقت استعمال کرنا چاہیے جب اس کے ساتھ ساتھ دوسری تکالیف ہوں یعنی بخار یا کوئی اور انفیکشن جن کا علاج بہت ضروری ہے۔
بعض اوقات گرم پانی اور نمک کے غرارے کرنے یا پھر بھاپ لینے سے کھانسی دور ہو جاتی ہے۔ مختلف قسم کی نت نئی کھانسی کی دوائیں حقیقتاً کھانسی روکنے میں ذرا بھی مدد نہیں کرتیں۔ ان کا بے جا استعمال صرف اور صرف پیسے کا ضیاع ہے۔ اس لیے ان کے استعمال سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
آسان اور متبادل علاج
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ کھانسی کم کرنے یا روکنے والے مختلف شربت دیکھنے میں بہت بھلے اور ا چھے لگتے ہیں۔ جیب پہ بھی خاصا بوجھ ڈالتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان سب سے جتنا بھی بچا جائے بہتر ہے۔ تھوڑی بہت کھانسی ہونا فائدہ مند ہے۔ اس سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے۔ زیادہ کھانسی کی صورت میں مندرجہ ذیل گھریلو علاج فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے:
ژگرم پانی میں نمک یا ڈسپرین ڈال کر غرارے کریں۔
ژصبح دوپہر شام دو چمچ شہد میں چار دانے پسی ہوئی سیاہ مرچ ملا کر استعمال کریں۔
ژصبح دوپہر شام ملٹھی استعمال کریں۔
ژرات کو سونے سے پہلے کھلے برتن میں گرم پانی ڈال کر اس میں Tinc Benzco کے چند قطرے یا نمک ملا کر بھاپ لیں۔
ژزکام کی صورت میں گرم چنے لے کر ان کی بھاپ لیں۔
ژشہد ملا ہوا انگور کا جوس، کھانسی کا موثر ترین علاج ہے۔
(ایک کپ انگور کا جوس+ ایک چمچہ شہد)
ژمیٹھے بادام کی چھ سات گریاں پانی میں بھگوئیں۔ صبح چھلکا اتار کر چینی اور مکھن کے ساتھ ملا کر پیسٹ بنائیں۔ خشک کھانسی کے لیے مجرب نسخہ ہے۔
زکام اور سر درد سے نجات
بعض نام نہاد حکیم اور جعلی ڈاکٹر ذرا سے زکام میں مختلف دواؤں کی کاک ٹیل بنا کر دیتے ہیں جس میں درد دور کرنے والی دوا الرجی کے لیے دوا، اینٹی بائیوٹک دوا اور سٹیر ائیڈ شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس سے فوری افاقہ تو ہو جاتا ہے لیکن ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے بعد میں خاصے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
زکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں ان ساری دواؤں کے استعمال کا ذرا بھی فائدہ نہیں۔ زکام میں ناک میں ڈالنے والی یا بند ناک کھولنے والی دواؤں سے حتی المقدور پرہیز کریں کیونکہ اس سے بلڈ پریشر اور خون کی نالیاں سکڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ ایسی تمام دواؤں کے استعمال سے بچا جائے۔ تاہم زکام کی وجہ سے اگر سر درد یا بخار ہو تو اس صورت میں سر درد یا بخار کے لیے پیراسٹا مول یا ڈسپرین لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح زکام میں سٹیرائیڈز اور اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ زکام ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل آسان گھریلو نسخے پر عمل کریں:
ژزکام یا فلو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس پر مختلف قسم کی دواؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے بہتر علاج بھاپ لینا ہے۔ بھاپ لینے سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
ژزکام کے دوران وٹامن سی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ وٹامن سی کے لیے اورنج جوس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ژزکام کے دوران سوپ لیں اور جوشاندہ وغیرہ کا استعمال کریں۔
ژکھانسی اور گلے کی خراش کی صورت میں غرارے کریں۔
ژملٹھی کا استعمال کریں۔
گلے کے امراض کے لیے دوائیںاور علاج
گلے کی مختلف تکالیف کے لیے دواؤں کا استعمال کرتے وقت اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ واقعی دوا کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ معمولی گلا خراب ہونے یا گلے میں خارش ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنے اور بہت زیادہ ٹھنڈی یا زیادہ گرم اشیاء کھانے سے بھی گلا خراب ہو جاتا ہے۔ جو ایک آدھ دن بعد خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ گلے میں انفیکشن ہونے کی صورت میں اینٹی بائیوٹک دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے۔ گلے کی معمولی تکلیف بعض اوقات صرف غرارے کرنے سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تکلیف زیادہ دیر برقرار رہے تو بہتر ہے ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج کیا جائے۔
آسان اور متبادل علاج
گلے کی تکالیف دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان آزمودہ نسخوں پر عمل کریں۔
ژنیم گرم پانی میں نمک ملا کر باقاعدگی سے غرارے کریں۔
ژادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔
ژذرا سی سونف منہ میں ڈال کر دن میں کئی بار چبائیں اور اس کا رس نگل لیں۔
ژآواز بیٹھ جانے کی صورت میں آدھا لیٹر پانی میں تھوڑی سی سونف ڈال کر پکائیں۔ چوتھا حصہ رہ جائے تو اسے اتار کر حسب ذائقہ چینی ملا کر دو تین بار دن میں استعمال کریں۔ آواز ٹھیک ہو جائے گی۔
ژایک چمچ ’’سرکہ‘‘ پانی میں ڈال کر غرارے کریں۔
ژایک لیموں کو پانی میں دس منٹ تک ابالیں۔ اس کا جوس نکال کر ایک گلاس میں ڈالیں۔ اس میں دو چمچ گلیسرین ڈال کر اچھی طرح ہلائیں، دو چمچ شہد ڈالیں اور گلاس کو پانی سے بھر لیں۔ کھانسی کا قدرتی شربت تیار ہے۔ گلے کی خرابی میں ہونے والی کھانسی کے دوران 5 دن تک دو چمچ صبح، دوپہر، شام استعمال کریں ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔
ژملٹھی اور سونف کا استعمال بھی کھانسی روکنے میں ممد ثابت ہوتا ہے۔
دمہ میں استعمال ہونے والی دوائیں، احتیاط اور علاج
دمہ بچوں اور بڑوں کے لیے ایک بہت تکلیف دہ بیماری ہے۔
اس میں بار بار سانس اکھڑتا ہے جو بعض حالتوں میں خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
دمہ بعض اوقات الرجی کرنے والی اشیاء مثلاً گرد، ہاؤس مائٹ، پولن گرین یا کھانے پینے کی اشیاء کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر انفیکشن کی وجہ سے جس کی و جہ سے سانس کی نالیوں میں بلغم جمع ہو جاتا ہے ان حالتوں میں سب سے بہتر علاج الرجی کرنے والے عناصر سے پرہیز اور انفیکشن کو کنٹرول کرنا ہے۔
دمہ کے علاج کے لیے مختلف قسم کی دوائیں دستیاب ہیں۔ ان میں گولیاں، شربت اور انہیلر شامل ہیں لیکن دواؤں کے استعمال میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ دوا استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے بعض نام نہاد حکیم اور ڈاکٹر دمہ میں فوری طور پر سٹیرائیڈ دواؤں کا استعمال شروع کرا دیتے ہیں۔ جس کا کسی طرح بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ دمہ کے علاج کے لیے مختلف قسم کی اینٹی الرجی ویکسین بھی بنائی جاتی ہیں۔ لیکن تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ تمام ویکسین زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتیں۔
آسان اور متبادل علاج
اگر آپ ’’دمہ‘‘ کا شکار ہیں تو گھبرائیے نہیں۔ اس کا حل آپ کے پاس موجود ہے۔ سب سے پہلے ان چیزوں کو جاننے کی کوشش کیجئے جن سے آپ پر دمہ کا حملہ ہوتا ہے۔ ان عوامل سے بچیں۔ مٹی، گرد وغیرہ سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل گھریلو نسخوں پر عمل کریں۔ ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔
ژکھانے پینے کی ایسی تمام اشیاء سے پرہیز کریں جن کے کھانے سے آپ کو الرجی ہو یا دمہ کا حملہ ہو۔
ژاپنی روزمرہ کی خوراک میں انگور، کھجور اور امرود کا باقاعدہ استعمال کریں۔
ژتلسی کے پتے، ادرک، پیاز لے کر ان کا جوس نکالیں اور اس میں شہد کے دو چمچ ملا کر دو چمچ صبح دوپہر شام استعمال کریں۔
ژسبزیوں کا زیادہ استعمال کریں۔ گاجر کے موسم میں اس کا جوس استعمال کریں۔
ژلیموں کے رس میں ادرک اور شہد ملا کر استعمال کریں۔
ژسبزیوں کا سوپ صبح شام لیں۔
ژسادہ غذا لیں، مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں، تلی ہوئی چیزوں اور زیادہ گھی اور تیل والی تمام اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں۔
ژکولڈ ڈرنکس اور سگریٹ نوشی سے مکمل کنارا کشی کر لیں۔
ژروزانہ دو چمچ شہد کا استعمال دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں میں موثر ثابت ہوتا ہے۔
ژتین یا پانچ انجیروں کو گرم پانی سے صاف کر کے رات بھر گھڑے کے پانی میں ڈال کر رکھیں۔ نہار منہ انجیریں کھا کر گھڑے والا پانی پی لیں۔ صرف پندرہ دن یہ عمل کریں۔ بیماری سے افاقہ ہوگا۔
https://www.express.pk/story/2253771/9812/
پاکستان میں 70 فیصد ضعیف العمر حضرات اور 40 فیصد جوان حضرات کو اذیت دینے والاعرض ’ وجع العظام (ہڈیوںکا درد) ‘ہے۔
ہڈیاں جسم کی ساخت بناتی ہیں اور ہڈیوں میں موجود گودہ خون کے اجزاء تیار کرتا ہے ۔ جب بھی ہڈیاں دکھتی ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا امر ضرور ہوتا ہے جو انہیں اذیت پہنچاتاہے۔ گاہے یورک ایسڈ ہوتاہے، کبھی اجزائے کیلشیم یا حیاتین ڈی ہوتے ہیں۔
کبھی ہڈیوں کی ساخت نہایت نرم ہو جاتی ہے تو کبھی کافی سخت (برٹل) ہوجاتی ہیں۔ مگر اکثر یہ درد اعصابی کمزوری سے ہوتا ہے جسے جوان اشخاص مشکل سے تسلیم کرتے ہیں۔
ہڈیوں میں چوٹ آنے سے کچھ عرصے بعد یہ درد جنم لے لیتاہے کیونکہ اکثریت ’فزیوتھراپی‘ کا سہارا لیتے ہیں، ان میں ’ہیٹ تھراپی‘ اگر کرائی جائے اور مریض کو سردی سے بچنے کا مشورہ نہ دیا جائے تو عارضی طور پر درد میں آرام ضرور آتا ہے ، مگر کچھ عرصے بعد دوبارہ سوجن کی وجہ سے یہ درد عود کر آتا ہے۔
اب اس حال میں ہڈیاں کچھ سخت ہوجاتی ہیں اور دواء کی کیفیت اگر صرف دفعِ ورم ہو تو کام نہیں کرتی اس لیے ایسی دواء کا استعمال کیا جاتا ہے جو درد کا سبب بننے والے خامرات (اینزائم) کے فعل کو روک دیں۔ بعض نام نہاد ماہرین ایسی ادویہ کا انتخاب کرتے ہیںجو درد کی حس محسوس کرنے والے آخذ خلیات (ری سیپٹر) کو درد اخذ کرنے سے روک دیتے ہیں۔
مشاہدہ شاہد ہے کہ طاقت سے زیادہ ورزش کرنے سے ہڈیاں دکھتی اور کبھی درد کرتی ہیں، اصل وجہ ان عضلات کی دُکھن ہے جو عظام (ہڈیوں) سے جڑے ہوتے ہیں، اصل درد عضلات کا ہوتا ہے مگر مریض یہی سمجھتا ہے کہ ہڈی کا درد ہے۔
اسی طرح مفاصل (جوڑوں ) کا درد ہے، گاہے اس کی وجہ دو ہڈیوں کے درمیان مائع (سیال؍رطوبت) کی خشکی ہوتی ہے جس سے دونوں ہڈیوں کے سرے چلتے پھرتے رگڑ کا شکار ہوتے ہیں، اس کا مستقل حل زیتون کے تیل ، بادام کے تیل وغیرہ سے کرنا تھا مگر اکثر اس کا حل مسکن ِ درد اینل جیسک ادویہ سے کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں جب تک دواء کھاتے رہیں آرام محسوس ہوتا ہے ، جب دواء چھوڑی جائے تو درد عود کر آتا ہے۔
کچھ اشخاص کو جینیاتی طورپر یہ مسئلہ عارض ہوتا ہے جسے ’رہیومیٹائیڈ آرتھرائی ٹس‘ کہا جاتا ہے، مگر اس عارضے میں ہڈیاں ؍ جوڑ سوجھ بھی جاتے ہیں، ہڈیوں کی ساخت کسی حد تک بگڑ جاتی ہے۔اور جلد پر جوڑوں کے مقام پرسرخی نمودار ہو جاتی ہے۔
طبِ قدیم کے مطابق اس کا حل مصفی خون ادویہ اور ساتھ مسکن ادویہ سے ہوتا ہے مگر آج کل اکثر ماہرین اسٹرائیڈ کا استعمال کراتے ہیں۔ اسٹیرائیڈ قوی دافع ورم ہے مگر باقی نقصانات مثلاً عادی بنانا کہ اسٹیرائیڈ کے علاوہ باقی ادویہ مفید نہیں رہتیںعلاوہ ازیں ایک اسٹیرائیڈ سے ہونا رک جائے تو اس سے قوی اسٹیرائیڈ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
ہڈی کے درد کے اسباب
1۔ ورزش نہ کرنا ، 2۔ زیادہ گوشت کا استعمال، 3۔ چوٹ آنا چاہے کسی شے سے ٹکرانے سے ہو یا سخت چیز پر گرنے سے،4۔ حیاتین ڈی ، فاسفورس، کیلشیم کی مقدار کا عدم توازن، 5۔ گرم اشیاء کھانے کے بعد ساتھ ہی ٹھنڈی اشیاء کا استعمال، 6۔ اومیگا فیٹی ایسڈ کی کمی ، 7۔ سیال خوراک (پانی ، جوس، دودھ، مکھن ) کا کم استعمال ( مگر یاد رہے کہ چہل قدمی ضرور کرنی چاہیے تاکہ حہال بدن میں جس چیز (حیاتین)کی کمی ہے وہیں پہنچ سکے ورنہ صرف ہاضمہ ہوتا ہے، توانائی حاصل ہوتی ہے مگر انفرادی اعضاء کو اتنا نفع نہیں پہنچتا جتنا پہنچنا چاہیے تھا، 8۔ یورک ایسڈ ، 9۔ جینیاتی طور پر مرض کی منتقلی، 10۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا، 11۔ نزلے کا زیادہ عرصہ رہنا۔
ہڈیوں کے عوارض سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
1۔ نو عمر بچوں کو کھیل کود میں زیادہ دھیان دینا چاہیے، یاد رہے کہ حکما قدیم کے مطابق چالیس سال کی عمر تک والدین کی طرف سے ودیعت شدہ قوت کام آتی ہے اور چالیس سال بعد اپنا اسی عمر تک کا کھانا پینا ، ورزش قوتوں کو بحال رکھتا ہے۔ ساٹھ سال سے قوتیں ڈھلنے کی طرف میلان رکھتی ہیں۔
2۔مچھلی کا استعمال ہفتے میں ایک بار اور دوپہر کے وقت کریں۔
3۔ سرد مزاج کی سبزیوں پر نمک یا سیاہ مرچ کا سفوف چھڑکیں۔
4۔ چوٹ آنے پر گرم مزاج والے تیل سے مالش کر کے پٹی بانزھیں یا سردی سے بچائیں۔
5۔ خوراک میں میوہ جات کا استعمال ضرور کریں۔
6۔ دماغ کو تازہ رکھیں زیادہ آکسیجن والے علاقوں کی طرف ہفتے میں چار دن ضرور جائیں۔
7۔ بڑے کے گوشت کا استعمال ضرور کریں۔
8۔ اعصابی نظام کو قوت بخشنے کے لیے ورزش کی عادت اپنائیں۔
9۔ ہر تین ماہ بعد حیاتین ڈی کی گولی کا استعمال مناسب ہے کیونکہ آجکل خوراک خالص نہیں دھوپ میں وٹامن ڈی ہوتا ہے مگر اکثر جلد کے خراب ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیںکیونکہ بعض علاقوں میں ’ اوزون‘ کی سطح بہت کم ہے۔
10۔ نیم گرم پانی سے غسل کریں اور کھانے کے بیس منٹ تک ہرگز نہ غسل کریں۔
11۔ دواء کا استعمال اس وقت کریں اگر مالش سے فائدہ نہ ملے، تاکہ ادویہ کی عادت نہ بنے، خاص طور سے پچیس سال کی عمر تک دواء کی عادت پڑنے سے بچیں۔
https://www.express.pk/story/2253777/9812/







No comments:
Post a Comment