سائینس کی حیرت انگیز ایجادات کے بارے میں جانیں اس پوسٹ میں - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Tuesday, 22 February 2022

سائینس کی حیرت انگیز ایجادات کے بارے میں جانیں اس پوسٹ میں


گرم صحرا میں کسی چوڑی روایتی ٹوپی کی طرح دکھائی دینے والی یہ چیز دراصل ایک فٹبال اسٹیڈیم ہے جسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کےلیے تعمیر کیا گیا ہے جو قطر میں کھیلا جائے گا۔

اس کا نام ’الثمامہ اسٹیڈیم‘ ہے جو قطری دارالحکومت دوحہ سے کچھ دوری پر صحرا میں واقع ہے۔

اس کی تعمیر کچھ دن پہلے ہی مکمل ہوئی ہے جبکہ اسے قطر کے معروف ماہرِ تعمیرات، ابراہیم محمد جیداہ نے ڈیزائن کیا ہے۔

ابراہیم جیداہ کے مطابق، الثمامہ اسٹیڈیم کا منفرد ڈیزائن روایتی قطری ٹوپی ’غافیہ‘ جیسا ہے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ صحرا کی شدید گرمی سے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔


یہاں فیفا ورلڈ کپ 2022 کے آٹھ میچز ہوں گے جن میں ایک کوارٹر فائنل بھی شامل ہے۔

اسٹیڈیم کی غیرمعمولی طور پر پھیلی ہوئی چھت اس کے بڑے حصے کو دھوپ کی شدت سے محفوظ رکھے گی جبکہ گرمی کو مزید کم رکھنے کےلیے یہاں ٹھنڈے پانی کی پھواروں، پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز تک کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

الثمامہ اسٹیڈیم میں 40 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے، لیکن یہ صرف اسٹیڈیم نہیں بلکہ اس میں ایک عدد مسجد، بوتیک، ہوٹل اور وسیع مارکیٹ بھی شامل ہے۔

دوسرے بیشتر عرب ممالک کی طرح قطر بھی ایک گرم صحرائی ملک ہے جہاں گرمیوں کے دنوں میں کھلے ماحول کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں بجلی کا بڑا حصہ ایئرکنڈیشننگ کے نظاموں پر صرف ہوتا ہے۔


الثمامہ اسٹیڈیم میں مختلف تدابیر اختیار کرتے ہوئے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ کم بجلی کے استعمال سے اسٹیڈیم کا اندرونی درجہ حرارت خاصا کم رکھا جاسکے۔

اسے مزید ’ماحول دوست‘ بنانے کےلیے اس کے قریب ہی شمسی پینلوں کا جال بچھایا گیا ہے جو یہاں پر نصب ایئرکنڈیشننگ نظاموں کےلیے بجلی کی ضرورت پوری کرے گا۔
https://www.express.pk/story/2241771/509/



برطانوی ماہرین نے لیزر کی مدد سے شیشے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں غیرمعمولی طور پر بہت زیادہ زیادہ ڈیٹا محفوظ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

اس طریقے کی مدد سے، جسے ’فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج‘ بھی کہا جاتا ہے، عام سی ڈی جتنی شیشے کی پلیٹ میں 500 ٹیرابائٹ کا ڈیٹا محفوظ کیا جاسکے گا۔

کہا جاتا ہے کہ ’فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج‘ کے ذریعے محفوظ کیا گیا ڈیٹا کئی ارب سال تک بھی اسی طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت شفاف سلیکا (شیشے) کے ٹکڑے میں پرت در پرت ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے اور اس طرح بہت کم جگہ میں بہت زیادہ ڈیٹا سمویا جاسکتا ہے۔

ڈیٹا اسٹوریج کے اس طریقے کو ’سپرمین میموری کرسٹل‘ کہا جاتا ہے جسے صرف تشہیر کی غرض سے یہ نام (فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج) دیا گیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج ٹیکنالوجی پر پچھلے تیس سال سے کام ہورہا ہے لیکن اب تک یہ عملی میدان میں استعمال کے قابل نہیں ہوسکی ہے کیونکہ یہ مروجہ ڈیٹا اسٹوریج ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں بہت سست رفتار ہے۔

آج ڈیجیٹل ڈسک میں ڈیٹا لکھنے اور پڑھنے کی رفتار 500 میگابائٹ فی سیکنڈ کے لگ بھگ ہے لیکن 2017 تک فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج کی رفتار صرف 3 کلوبائٹ فی سیکنڈ تھی جو موجودہ اوسط کے مقابلے میں بے حد کم ہے۔

ساؤتھ ایمپٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے حالیہ تجربات میں فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج کے ذریعے ڈیٹا لکھنے اور پڑھنے کی 230 کلوبائٹ فی سیکنڈ رفتار حاصل کی ہے جو اگرچہ پہلے سے 75 گنا تیز رفتار ہے لیکن اب بھی اتنی زیادہ نہیں کہ عملی استعمال کے قابل ہوسکے؛ کیونکہ نئے تجربات میں شفاف سلیکا کے ایک مربع انچ والے ٹکڑے میں 5 گیگابائٹ ڈیٹا لکھنے میں کئی دن لگ گئے۔

اس سب کے باوجود، یہ فائیو ڈی آپٹیکل اسٹوریج کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے جو بتدریج بہتر ہوتے ہوئے سیکڑوں ٹیرابائٹ گنجائش والی کمرشل ڈی وی ڈیز کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’آپٹیکا‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2241766/508/



جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیرِ انتظام برازیل میں ہونے والی آزمائشوں سے معلوم ہوا ہے کہ ڈپریشن کی عام اور کم خرچ دوا ’فلوووکسامائن‘ (fluvoxamine) بھی کورونا وائرس کی شدت کم کرتی ہے۔

واضح رہے کہ ادویہ سے متعلق امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے ڈپریشن کے علاج کےلیے 2007 میں فلوووکسامائن کی منظوری دی تھی جو مختلف تجارتی ناموں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام دستیاب ہے۔

برازیل میں اس دوا کی آزمائشیں اقوامِ متحدہ کے ’ٹوگیدر‘ (TOGETHER) پروگرام کے تحت برازیل میں اس سال 15 جنوری سے 6 اگست تک جاری رہیں، جن کی نگرانی عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا ایک پینل کررہا تھا۔

ریسرچ جرنل ’دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ان آزمائشوں میں 1472 ایسے مریض بطور رضاکار شریک کیے گئے تھے جن میں کووِڈ 19 کی ابتدائی مرحلے پر تشخیص ہوچکی تھی۔

ان میں سے 739 مریضوں کو دس دن تک روزانہ اصل فلوووکسامائن کی 100 ملی گرام والی دو گولیاں، جبکہ باقی 733 کو اسی ترتیب سے کوئی دوسری بے ضرر گولی (پلاسیبو) کھلائی گئی۔

دوا شروع ہونے کے 28 دن بعد تک ہر مریض کو زیرِ مشاہدہ رکھا گیا تاکہ بیماری کی شدت بڑھنے یا نہ بڑھنے پر نظر رکھی جاسکے۔

جن مریضوں نے اصل فلوووکسامائن استعمال کی تھی، ان میں کووِڈ 19 کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کی شرح 30 فیصد کم دیکھی گئی جبکہ وہ مریض جو فلوووکسامائن کے ساتھ ساتھ دوسری دوائیں بھی لے رہے تھے، ان میں یہ شرح 65 فیصد تک کم رہی۔

فی الحال ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ فلوووکسامائن سے کووِڈ 19 کی شدت زیادہ نہیں ہوتی لیکن یہ معلوم کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔

’دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ‘ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووِڈ 19 کے علاج میں فلوووکسامائن صرف ڈاکٹر کے مشورے پر ہی استعمال کی جائے۔
https://www.express.pk/story/2241730/9812/



گھٹنوں اورجوڑوں کادرددورکرنے کیلئے لائٹ تھراپی ایجاد
 31 October, 2021


پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں افراد ایسے ہیں جو گھٹنوں کے شدید دردمیں مبتلا رہتے ہیں اور معمولاتِ زندگی انجام دینے سے قاصر ہیں

نیویارک (نیٹ نیوز)اب ایک چھوٹا آلہ تیارکیاگیاہے جو خاص لیزر روشنی ڈال کر درد کو دور کردیتا ہے ۔نی پلس نامی آلے کے دونوں اطراف لیزر روشنی خارج کرنے والے دو آلات لگے ہیں جو مخصوص روشنی گھٹنوں کی گہرائی میں بھیجتے ہیں، یہ عمل لائٹ تھراپی کہلاتا ہے جس کا تکنیکی نام ’’فوٹوماڈیولیشن‘‘بھی ہے ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق کئی امراض میں لائٹ تھراپی بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے ،اپنے مخصوص ڈیزائن اور مقناطیسی پینل کی وجہ سے آلہ گھٹنوں کے گرد اچھی طرح لپٹ جاتا ہے اور درست مقام پر روشنی پھینکتا ہے جس سے اطراف میں خون کا بہاؤ تیز ہوتا اورسوزش کم ہوتی ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-10-31/1902815



مکڑے کے زہر کے ذریعے مردانہ کمزوری کا علاج
Mar 03, 2019 | 17:32:PM


برازیلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ ہفتے قبل سائنسدانوں نے مکڑے کے زہر سے کینسر کا علاج دریافت کرنے کا مژدہ سنایا گیا، اب اس سے مردانہ کمزوری کا علاج بھی دریافت کر لیا گیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ نئی دریافت برازیل کے سائنسدانوں نے کی ہے جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مکڑے کے زہر سے مردانہ عضو مخصوصہ کی کجی اور لاغری کا ایسا علاج دریافت کر لیا ہے جو ابتدائی تجربات میں جنسی قوت کی گولی ’ویاگرا‘ سے زیادہ مو¿ثر ثابت ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے مکڑے کے زہر سے سے ایک جیل نما دوا تیار کی ہے۔ اس دوا میں زہر کی بہت کم مقدار استعمال کی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ انسان کے لیے خطرناک ثابت نہیں ہو گی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عضو مخصوصہ کی ایستادگی کے مسئلے سے دوچار مردوں کو اس جیل کو اپنے مخصوص عضو پر لگانا ہو گا، جس سے اس جیل میں موجود زہر کی وجہ سے ان کے عضو میں خون کی روانی تیز تر ہو جائے گی اور ایستادگی میں کمی کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔سائنسدانوں کے مطابق جن مردوں پر اس دوا کے تجربات کیے گئے وہ ایستادگی کے سنگین مسئلے سے دوچار تھے تاہم دوا لگانے کے 30منٹ کے اندر ہی باالفاظ دیگر ان میں سے 92فیصد مردوں کا مسئلہ ختم ہو گیا۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Mar-2019/933536?fbclid=IwAR0FuOzl05lWkWEkOp0l_3Qe2y4N50V9_1a7AaF-e_Yl2PE-S_wQn3fS0T8



آج کل لوگ تیزی سے گنجے کیوں ہورہے ہیں؟ سائنسدانوں نے وہ وجہ بتادی جو اب تک کسی نے نہ سوچی تھی
Oct 09, 2019 | 19:36:PM


سیول(مانیٹرنگ ڈیسک) گنجے پن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کی ایک ایسی وجہ بتا دی ہے جو کسی نے سوچی بھی نہ ہو گی۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے پارٹیکولیٹ میٹر (Particulate Matter)،جو فضای آلودگی کا ایک عنصر ہے، پر تحقیق کرکے بتایا ہے کہ فضائی آلودگی بھی مردوں میں گنجے پن کی وجہ بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹیکولیٹ میٹر اور فضائی آلودگی کے دیگر اجزاءسر کی جلد میں بالوں کی نشوونما کے لیے پائے جانے والے لازمی پروٹینز کو ختم کر دیتے ہیں جس کے باعث بالوں کے مسام ختم بند اور خلیے مر جاتے ہیں اور لوگ گنجے ہو جاتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے ’دی فیوچر سائنس ریسرچ سنٹر‘ کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں مردوں کے دو گروپوں میں سے ایک کو ایسے ماحول میں رکھا جس میں پارٹیکولیٹ میٹر موجود تھا۔ چند ہی دنوں میں جب دوبارہ ان کے سر کے خلیوں اور بالوں کے مساموں میں پائے جانے والے پروٹینز کا معائنہ کیا گیا تو وہ انتہائی کم رہ گئے تھے۔ ان لوگوں کے بالوں کی صحت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی تھی اوران کے بال گرنے لگے تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ’ہیوک چل وون‘کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ فضائی آلودگی کے باعث بالوں کو گرنے سے روکنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کھلی آب و ہوا میں روزانہ ورزش کریں۔ جو لوگ کھلی فضاءمیں ورزش کو معمول بنا لیتے ہیں ان کے سر کے خلیے اور ان میں موجود پروٹینز فضائی آلودگی سے بہت کم متاثر ہوتے ہیں۔“
https://www.roznama92news.com/%D8%B3%DA%A9-%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D9%85%DA%BA-%D8%B3%D9%88%D9%86-%D9%85



ٹوکیو: جاپانی ماہرین نے انسانی دماغی خلیات پر مبنی ایسے چھوٹے چھوٹے روبوٹ بنائے ہیں جو ایک حد تک انسانوں کی طرح سوچتے اور فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ اپنے برقی سگنل کی بدولت بھول بھلیوں اور رکاوٹیں عبور کرجاتے ہیں۔

ٹوکیو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان روبوٹ پر کئی تجربات کئے ہیں اور انہیں سکھایا گیا کہ وہ کیسے اور کس طرح رکاوٹوں سے بچ کر سفر کرتے ہیں۔ سائنسدانوں نے بڑی محنت سے تجربہ گاہ انسانی دماغ جیسے خلیات بنائے پھر انہیں باقاعدہ طور پر چھوٹے چھوٹے کمپیوٹروں سے جوڑا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کو ’فزیکل ریزوائرکمپیوٹنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

نیورون ہمارے اعصابی خلیات ہوت ہیں جو دماغ سے پورے جسم کو ہدایات برقی سگنل کی صورت میں بھیجتے ہیں۔

پھر ان روبوٹس کو سکھایا گیا کہ وہ بھول بھلیاں نما رکاوٹیں عبور کریں گے تو اپنے ہدف یا انعام تک پہنچیں گے جو چھوٹی روشنیوں کا ایک سیاہ ڈبہ ہے۔

اس کھیل میں جب جب روبوٹ غلط سمت میں گئے یا ادھر ادھر ٹکرانے لگے تو سائنسدانوں نے انہیں برقی سگنل بھیجا تاکہ وہ اپنی راہ پر آجائیں۔ لیکن صرف یہ بات نہیں بلکہ روبوٹ نے عین انسانی دماغ کی طرح بدلتے ہوئے ماحول سے سیکھا اور دوبارہ صحیح راہ پر آگئے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جب حقیقی عصبیوں کی مدد سے روبوٹ کو سکھایا گیا ہے جس سے انسانی سوچ کی طرح کام کرتے ہوئے اپنے مسائل خود حل کرنے والی مشینوں کی راہ ہموار ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2241627/508/



پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں افراد ایسے ہیں جو گٹھیا کی وجہ سے گھٹنوں کے شدید میں مبتلا ہیں اور معمولاتِ زندگی انجام دینے سے قاصر ہیں۔ اب ایک چھوٹا آلہ خاص لیزر روشنی ڈال کر نہ صرف درد کو دور کرتا ہے بلکہ نسیجوں کی افزائش اور بدن کی قدرتی مرمت کو بھی بڑھاتا ہے۔

نی پلس کے دونوں اطراف لیزر روشنی خارج کرنے والے دو آلات لگے ہیں جو مخصوص روشنی گھٹنوں کی گہرائی میں بھیجتے ہیں۔ یہ عمل لائٹ تھراپی کہلاتا ہے جس کا تکنیکی نام ’فوٹوماڈیولیشن‘ بھی ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق کئی امراض میں لائٹ تھراپی بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اس میں اگلی نسل کی لیزر نصب ہے جو خون کی باریک نالیوں کی افزائش میں مدد دیتی ہے، اندرونی سوزش کم کرتی ہے اور جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ازخود اپنی مرمت کرکے خامی کو دور کرسکے۔


اپنے مخصوص ڈیزائن اور مقناطیسی پینل کی وجہ سے پٹی گھٹنوں کے گرد اچھی طرح لپٹ جاتی ہے اور درست مقام پر روشنی پھینکتی ہے۔ اس سے اطراف میں خون کا بہاؤ تیز ہوتا ہے، سوزش کم ہوتی ہے اورجلن پیدا کرنے والے سائٹوکائنز کی پیداوار کم ہوجاتی ہے۔

اسی طرح کھلاڑیوں کو لگنے والی چوٹ یا پٹھوں میں دیرینہ اکڑن کی وجہ سے بھی سوزش اور سوجن کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں نصب بیٹری کو باربار چارج کیا جاسکتا ہے۔ اور نی پلس کی مدد سے فزیو تھراپی کا خرچ بھی کم ہوجاتا ہے۔

جب اس ایجاد کو کراؤڈفنڈنگ ویب سائٹ پر رکھا گیا تو صرف 24 گھنٹے میں مطلوبہ رقم کی فنڈنگ ہوئی جو اب بڑھ کر چھ گنا ہوچکی ہے۔ نی پلس کی تعارفی قیمت 249 ڈالر رکھی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2241574/9812/



اوہایو: امریکا کے کلیولینڈ کلینک میں چھاتی کے سرطان سے بچانے والی، اپنی نوعیت کی پہلی ویکسین کی ابتدائی آزمائشوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

پہلے مرحلے کی ان طبّی آزمائشوں (فیز ون کلینیکل ٹرائلز) میں 24 ایسی خواتین بھرتی کی جائیں گی جن میں ’ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر‘ کہلانے والے سرطان کی ابتدائی درجے میں تشخیص ہوئی تھی لیکن علاج کے بعد وہ چھاتی کے سرطان سے صحت یاب بھی ہوگئی تھیں۔

بتاتے چلیں کہ ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر، چھاتی کے سرطان کی وہ خطرناک قسم ہے جو ایک بار علاج کے بعد اکثر دوبارہ حملہ آور ہوتی ہے اور 25 فیصد مریضاؤں کےلیے اگلے پانچ سال میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔


چھاتی کے سرطان میں مبتلا 12 سے 15 فیصد خواتین اسی قسم کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں جن کی بڑی تعداد افریقی نژاد امریکی خواتین پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں یہ سرطان ایک خاص قسم کی جینیاتی ترمیم (بی آر سی اے ون) والی خواتین میں بھی زیادہ ہوتا ہے۔

طبّی آزمائشوں میں شریک رضاکار خواتین کو ہر دو ہفتے بعد اس ویکسین کی ایک خوراک لگائی جائے۔

پہلی خوراک 10 مائیکروگرام، دوسری 100 مائیکروگرام اور تیسری خوراک 1000 مائیکروگرام کی ہوگی۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ویکسین کی کم سے کم مؤثر خوراک کتنی ہے اور انسانی جسم زیادہ سے زیادہ اس کی کتنی خوراک برداشت کرسکتا ہے۔

یہ طبّی آزمائشیں ایک سال تک جاری رہیں گی اور ستمبر 2022 میں اختتام پذیر ہوں گی۔

اگر ان آزمائشوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تو پھر دوسرے اور تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں کی جائیں گی جو ممکنہ طور پر مزید پانچ سے چھ سال تک جاری رہیں گی۔

لہذا، اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو چھاتی کے سرطان کی یہ ویکسین 2030 تک دستیاب ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
https://www.express.pk/story/2241346/9812/



سورج کی موت کب ہو گی جو کائنات کے خاتمے کا سبب بنے گی؟ نئی تحقیق کے بعد ماہرین کی پیش گوئی
Sep 07, 2021 | 18:48:PM

سورس: Pxhere (creative commons license)

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سورج کی موت کب ہو گی جو بالآخر اس کائنات کے خاتمے کا سبب بنے گی؟ اس سوال پر بہت سائنسی بحث ہوتی آ رہی ہے اور اب ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے اس حوالے سے حیران کن پیش گوئی کر دی ہے۔ دی سن کے مطابق نیچر ایسٹرانومی نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں ماہرین نے بتایا ہے کہ ہمارے سورج کی موت آج سے 10ارب سال بعد ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت ستارے موت کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل کچھ یوں وقوع پذیر ہوتا ہے کہ جب ستارے اپنا تمام ہائیڈروجنی ایندھن استعمال کر لیتے ہیں تو ان کی موت ہو جاتی ہے۔ اس وقت تک ستارے اپنا حجم بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور بہت بڑے سائز کے ہو جاتے ہیں۔ اس حالت کو ’ریڈ جائنٹ‘ (Red giant)کہا جاتا ہے۔ سورج اگلے 5ارب سال میں ریڈ جائنٹ کے مرحلے میں پہنچے گا۔وہ اس قدر اپنا حجم پھیلائے گا کہ مریخ اور زمین کو نگل جائے گا۔ اگر اس مرحلے سے قبل انسان نے زمین اور مریخ کے علاوہ دور کسی سیارے پر رہائش اختیار نہ کی تو سورج کی موت سے لگ بھگ 5ارب سال قبل اس دنیا سے انسانوں کاخاتمہ ہو جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق چونکہ سورج ہر ایک ارب سال میں 10فیصد زیادہ روشن ہو رہا ہے اور اس کا پھیلاﺅ اتنا ہی بڑھ رہا ہے لہٰذا اگلے ایک ارب سال میں سورج جتنازیادہ روشن ہو جائے گا اور اس کے حجم میں جتنا پھیلاﺅ آ جائے گا، اس سے ہماری زمین پر سمندر اور پانی کے دیگر ذخیروں کا پانی سوکھ جائے گا اور یہاں سے زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔چنانچہ اس لحاظ سے انسانوں کے پاس صرف محض 1ارب سال کا وقت رہ گیا ہے۔اس سے قبل انہیں کسی اور محفوظ سیارے پر جا بسیرا کرنا ہو گا۔
https://dailypakistan.com.pk/07-Sep-2021/1337635?fbclid=IwAR1eEJHjlcwcuwsLAf8qx6A8NmXYHmvuUdoTCkb2eQHpUK_TmmfrRqdY31A



ٹیکساس: امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوا میں موجود آبی بخارات کو پانی میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے دنیا بھر میں ایک ارب افراد کےلیے پینے کے پانی کا بندوبست کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ فضائی آبی بخارات کو عملِ تکثیف سے پانی میں بدلنے والی ٹیکنالوجی کی مختلف اقسام گزشتہ کئی برسوں سے موجود ہیں جن کی بڑی تعداد میں اس مقصد کےلیے شمسی توانائی یعنی دھوپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

’ایکس، دی مون شاٹ فیکٹری‘ نامی امریکی ادارے کے ماہرین نے ان ٹیکنالوجیز کی تمام اقسام، مختلف خطّوں میں موسمی حالات اور ہوا میں نمی کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ اگر موجودہ ٹیکنالوجی کو درست طور پر رائج کیا جائے تو ساری دنیا میں کم از کم ایک ارب افراد کےلیے پینے کے پانی کا انتظام ہوسکتا ہے۔

اس بارے میں ریسرچ جرنل ’نیچر‘ کے تازہ شمارے اور ’ایکس کمپنی‘ کی ویب سائٹ پر ایک حالیہ بلاگ میں بھی عالمی آبی قلت کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کا ممکنہ حل پیش کیا گیا ہے۔

سرِدست دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد کو پانی کی قلت کا سامنا ہے جن کی بڑی تعداد زیریں افریقہ، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکا میں رہائش پذیر ہے۔

اگرچہ ان ٹیکنالوجیز میں مزید بہتری کی گنجائش ہے لیکن اب بھی یہ اتنی پختہ ہوچکی ہیں کہ ہوا میں صرف 30 فیصد نمی پر بھی مناسب مقدار میں پانی بنا سکتی ہیں۔

’ایکس کمپنی‘ کی ویب سائٹ پر مذکورہ بلاگ میں ایک کم خرچ آلے کا پروٹوٹائپ بھی پیش کیا گیا ہے جسے مختصر سی جگہ پر رکھا جاسکتا ہے اور جو ہوا میں بہت کم نمی ہونے پر بھی 150 ملی لیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے پانی بنا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، اسی بلاگ میں ماہرین کےلیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایسے ٹولز بھی دیئے گئے ہیں جنہیں استعمال کرکے ہوا سے پانی حاصل کرنے والے، یعنی ’سولر واٹر ہارویسٹنگ‘ کے آلات مؤثر بنائے جاسکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2240976/508/



کائنات کے بہت سے راز افشا کرنے والی خلائی دور بین "ہبل ٹیلی سکوپ" نے کام کرنا بند کردیا
Oct 27, 2021 | 21:30:PM


نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ہبل سپیس ٹیلی سکوپ نے اس سال دوسری بار کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور اندرونی خلائی جہاز کے مواصلات کے ساتھ ہم آہنگی کے مسائل ہونے کے بعد اسے 'سیف موڈ' میں ڈال دیا گیا ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سائنس مشاہدات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جب کہ ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے،البتہ آلات کی صحت اچھی ہے۔جب ہبل سیف موڈ میں ہوتا ہے، تو یہ کسی بھی آسمانی شے کا مشاہدہ نہیں کرتا اور نہ ہی ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے، لیکن یہ پھر بھی چلتا ہے۔ہبل30 سال سے زیادہ خلا میں ہے،ہبل ٹیلی سکوپ نے پہلی بار1980میں کام کرنا چھوڑ دیاتھا جب اسے کنٹرول کرنے والے کمپیوٹر کے ساتھ مسائل پیش آئے تھے ۔
https://dailypakistan.com.pk/27-Oct-2021/1358190?fbclid=IwAR3NVHVhXgB0wvm1pmU-RGeyjl2CZVFQPm_O-Lz8ibkf85INze0ZGHVHpgo



کینیڈا میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اپنی مادری زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان سیکھنے کا عمل ہمارے دماغ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ہماری اکتسابی (سیکھنے سے متعلق) صلاحیتوں میں بھی بہتری لاتا ہے۔

ماضی میں کئی تحقیقات سے معلوم ہوچکا ہے کہ بیک وقت دو زبانوں پر عبور رکھنے والے لوگ، ایک زبان سے واقفیت رکھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور ان میں دماغی بیماریاں بھی خاصی دیر میں نمودار ہوتی ہیں۔

البتہ یہ واضح نہیں تھا کہ بڑی عمر میں کوئی دوسری زبان سیکھنے کے ذہن پر کیا اثرات ہوتے ہیں۔

یہ جاننے کےلیے ٹورانٹو، کینیڈا کی یارک یونیورسٹی اور ’بے کریسٹ‘ نامی نجی ادارے نے 65 سے 75 سال کے 76 رضاکار بھرتی کیے۔

ان میں سے نصف کو دماغی تربیت کرنے والی ایپ (برین ٹریننگ ایپ) دی گئی جبکہ باقی نصف کو ایک اور موبائل ایپ کے ذریعے ہسپانوی زبان سکھائی گئی، جو وہ اس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔

تمام رضاکاروں نے 16 ہفتے تک روزانہ 30 منٹ کےلیے یہ ایپس استعمال کیں جس کے بعد ان میں دماغی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔

ہسپانوی زبان سیکھنے والے رضاکاروں کی یادداشت، تجزیئے اور فیصلہ سازی سے متعلق صلاحیتیں نمایاں طور پر بہتر رہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نئی زبان سیکھنے میں بہت لطف آیا۔

ریسرچ جرنل ’ایجنگ، نیوروسائیکولوجی، اینڈ کوگنیشن‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیڈ میلٹزر کہتے ہیں کہ نئی زبان سیکھنا اپنے آپ میں ایک دلچسپ سرگرمی ہے جو غیر محسوس انداز میں دماغ کو زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے۔

مطالعے کے دوران یہ رضاکار ہسپانوی زبان میں ماہر تو نہیں بن لیکن پھر بھی ان کی اکتسابی صلاحیتیں خاصی بہتر ہوگئیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں نئی زبان سیکھ کر دماغ کو مضبوط اور صحت مند بنایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2240591/9812/



فن لینڈ،سائنسدانوں نے لیبارٹری میں کافی تیار کرلی
 28 October, 2021

فن لینڈ کے زرعی سائنسدانوں نے لیبارٹری میں کافی تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی

ہلسنکی (اے ایف پی) سائنسدانوں کے مطابق یہ کافی اس کے بیجوں سے نہیں بلکہ ایک بائیوریکٹر میں کنٹرولڈ درجہ حرارت، روشنی اور آکسیجن کی مدد سے کافی کے پودے کے خلیوں سے تیار کی جائے گی۔ زرعی سائنسدان ہیکو رسچر نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ ہر لحاظ سے حقیقی کافی ہو گی کیونکہ اس میں کافی کے پودے کے علاوہ کوئی اجزا استعمال نہیں ہوں گے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-10-28/1901515



امریکی سائنسدانوں نے دانتوں کی حفاظت کےلیے ’نینوزائم تھراپی‘ کے نام سے ایک نئے طریقے کو روایتی تدابیر کے مقابلے میں دگنا بہتر اور مؤثر قرار دیا ہے۔

دانتوں کے تحفظ اور انہیں ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کےلیے ’نینوزائم تھراپی‘ حالیہ چند برسوں کے دوران سامنے آئی ہے جس میں آئرن آکسائیڈ کے نینو ذرّات اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ والے محلول کو کسی ماؤتھ واش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جسم میں فولاد (آئرن) کی کمی دور کرنے کےلیے آئرن آکسائیڈ نینو ذرّات والے محلول کا استعمال پہلے ہی ادویہ کے امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ کا منظور شدہ ہے جبکہ ماؤتھ واش میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بھی برسوں سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور انڈیانا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 2018 میں ان دونوں مادّوں کے ملاپ سے دانتوں کی حفاظت میں ابتدائی امید افزا دریافتیں کی تھیں جن پر انہوں نے پچھلے تین سال کے دوران مزید کام کیا۔

اب تک یہ تو نہیں معلوم کہ آئرن آکسائیڈ کے نینو ذرّات اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کس طرح عمل کرتے ہوئے دانتوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتے ہیں لیکن مشاہدات اور تجربات سے اب ان کی مشترکہ افادیت ثابت ہوچکی ہے۔

تازہ تجربات میں پہلے مرحلے پر بالکل اصل جیسی بتیسیوں پر ’نینوزائم تھراپی‘ کی گئی جس کے بعد، دوسرے مرحلے میں یہی عمل رضاکاروں پر دہرایا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے روزانہ دو مرتبہ ’نینوزائم تھراپی‘ کا عمل (ماؤتھ واش کی طرح) کیا تھا، ان کے دانتوں پر انیمل کی حفاظتی پرت برقرار رہی جبکہ ان کے دانت بھی مضبوط رہے۔

ریسرچ جرنل ’نینو لیٹرز‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، نینوزائم تھراپی سے نہ صرف دانتوں پر جم کر نقصان پہنچانے والے ’پلاک‘ کی بالائی پرت کا خاتمہ ہوا بلکہ دانتوں کو گلانے، سڑانے اور کھوکھلا کرنے والے جرثومے بھی ہلاک ہوگئے۔

نینوزائم تھراپی کی کچھ مزید آزمائشیں ابھی باقی ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد اسے دانتوں کی حفاظت کےلیے ایک نئے طریقے کے طور پر پیش کردیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2240190/9812/



انٹرنیٹ کا آغاز کیسے ہوا؟،موجد کون تھا ؟آئی ایم پی مشین نے دنیا کو کیسے کنٹرول میں لیا
 26 October, 2021

تحریر : تنزیل الرحمٰن

انٹر نیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ دنیا کی تمام ٹیکنالوجی اور ارتقاء انٹرنیٹ کی مرہون منت ہے تو غلط نہیں ہو گا۔اربوں ڈالر کی موبائل فون انڈسٹری ہو یا ورچوئل ورلڈسب انٹر نیٹ کے شاہکار ہیں۔
انٹرنیٹ کی ایجاد کو 50سال سے زائدکا عرصہ گزر چکاہے۔1969ء کے اختتام میں، چاندپرانسانی قدم پڑنے کے کچھ ہفتوں بعد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسرلیونارڈ کلائن روک کے دفتر میں ایک سرمئی رنگ کادھاتی باکس موصول ہوا۔اس باکس کا سائز ایک ریفریجریٹر جتنا تھا۔یہ بات عام لوگوں کے لئے حیران کن تھی لیکن کلائن روک اس سے بہت خوش تھااور پرجوش نظر آرہا تھا۔60کی دہائی میںگہرے خاکی رنگ میں لی گئی اس کی تصویر اس کی خوشی کی بخوبی ترجمانی کررہی ہے۔وہ تصویر میں کھڑا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی باپ اپنی باصلاحیت اور قابل فخر اولاد کے ساتھ کھڑا ہو۔
کلائن روک نے اپنی خوشی کی وجہ اپنے قریبی احباب کے علاوہ کسی کو سمجھانے کی کوشش کی ہوتی تو شائدوہ سمجھ نہ پاتے۔کچھ لوگ جنہیں اس باکس کی موجودگی کا علم تھا وہ بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ آخر یہ ہے کیا اور اس کا نام کیا ہے۔ یہ'' آئی ایم پی‘‘ تھاجسے انٹرفیس میسج پروسیسر بھی کہا جاتا ہے۔کچھ دیر قبل بوسٹن کی ایک کمپنی نے اسے بنانے کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔بوسٹن کے سنیٹر ٹیڈ کینیڈی نے ایک ٹیلی گرام کے ذریعے اس کی افادیت اور ماحول دوست ہونے کا اظہار کیا تھا۔
کلائن کے دفتر کے باہر موجود مشین صرف دنیا میں رہنے والے مختلف لوگوںکے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم کام کرسکتی تھی۔دنیا میں انٹرنیٹ پہلی مرتبہ کب استعمال ہوا او ر اس کا باقاعدہ آغاز کس وقت ہوا اس کے متعلق یقینی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ بہت سے لوگ اس کی تخلیق میں شامل تھے اور کئی لوگوں نے اس کی تخلیق میںکلیدی کردار ادا کیا تھا۔اس لئے بہت سے لوگ اس کاا عزاز اپنے نام کرنا چاہتے تھے۔ 29اکتوبر1969ء میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوا، یہ کلائن روک کا مضبوط وعویٰ ہے کیونکہ اسی تاریخ کو پہلی مرتبہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے پیغام ایک سے دوسرے سرے پر بھیجا گیا تھا۔
29اکتوبر1969ء رات 10بجے جب کلائن، اس کے ساتھی پروفیسر اور طلباء ہجوم کی صورت میں اس کے گرد جمع تھے تو کلائن روک نے کمپیوٹر کو آئی ایم پی کے ساتھ منسلک کیاجس نے دوسرے آئی ایم پی سے رابطہ کیا جوسیکڑوں میل دور ایک کمپیوٹر کے ساتھ منسلک تھا۔چارلی کلین نامی ایک طالب علم نے اس پر پہلا میسج ٹائپ کیا اور اس کے الفاظ وہی تھے جو تقریباً135برس قبل سیموئیل مورس نے پہلا ٹیلی گراف پیغام بھیجتے ہوئے استعمال کئے تھے۔
کلائن روک کو جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اسے لاس اینجلس میں بیٹھ کر سٹینفرڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں موجود مشین میں لاگ ان کرنا ہے لیکن ظاہر طور پر اس کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے تھے۔
کلائن نے جو بھی کیا وہ ایک تاریخ ہے اور اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ایسا کہنا حماقت ہو گی کیونکہ کلائن روک کے پہلا پیغام بھیجنے کے 12سال بعد اس سسٹم پر صرف213کمپیوٹر موجود تھے۔ 14سال بعد اسی سسٹم پر ایک کروڑ 60لاکھ لوگ آن لائن تھے اورای میل دنیا کے لئے نئے دروازے کھول رہی تھی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ1993ء تک صارفین کے پاس کوئی قابل استعمال ویب براؤزر موجود نہیں تھا۔1995ء میں ہمارے پاس ایمزون تھا،1998ء میں گوگل اور2001ء میں وکی پیڈیاموجود تھااور ُاس وقت تک 513 ملین لوگ آن لائن ہو چکے تھے۔ اس رفتار سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ انٹر نیٹ نے کتنی تیزی سے کامیابی کی منازل طے کیں اور اب انٹرنیٹ اپنی اگلی جنریشن میں داخل ہونے کو تیار ہے، جسے میٹاورس کہا جاتا ہے۔تاحال میٹا ورس ابھی ایک تصور سے زیادہ کچھ نہیں لیکن اس میٹا ورس کی ورچوئل ورلڈ میں آپ ہیڈ سیٹ کا استعمال کرتے ہوئے دیجیٹل دنیا میں قدم رکھ پائیں گے اور اپنے روز مرہ کے کام سر انجام دے دسکیں گے ۔
انٹر نیٹ کے ارتقاء کا عمل اتنا برق رفتا رتھا کہ یہ بہت سے نشیب و فراز جو اس دنیا نے دیکھے ان کا ''گواہ‘‘ بن گیا۔ آج انٹرنیت اپنی ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔کلائن نے پہلا پیغام بھیجتے وقت یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ 50برس بعد یہ دنیا انٹر نیٹ کے ذریعے، فیس بک، ٹوئٹر ،وٹس ایپ اور انسٹا گرام جیسی ورچوئل ورلڈسے متعارف ہو گی ،جس کا استعمال دنیا کی سپر پاورز کے وزرائے اعلیٰ اور صدور بھی کیا کریں گے۔
انٹر نیٹ نے دنیا کی سیاست کو بھی یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے یہی انٹرنیٹ کئی انقلاب اور بغاوتوں کا بھی گواہ ہے اور کسی حد تک وجہ بھی۔جس انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے کلائن روک سٹینفرڈ انسٹیٹیوٹ میں موجود کمپیوٹر پر لاگ ان کرنے کے لئے پریشان تھا وہی انٹرنیٹ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آج اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ پوری دنیا صرف135سے150گرام کے موبائل میں قید کر کے آپ کے ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے۔ آج دنیا کے 4 ارب66کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔
(تنزیل الرحمن ایک نوجوان لکھاری ہیں اور تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں)
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-10-26/25309



ایمیزون کے مالک جیف بیزوز کی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ نے 2030 تک ایک بڑا اور تجارتی نوعیت کا خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جہاں مختلف تجارتی اور کاروباری ادارے اپنے دفاتر قائم کرسکیں گے۔

اس حوالے سے گزشتہ روز بلیو اوریجن کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں اینی میشن کے ذریعے دنیا کے پہلے ’’کمرشل خلائی پلازہ‘‘ کے اندرونی مناظر دکھائے گئے ہیں۔

اس منصوبے کو ’’آربٹل رِیف‘‘ کا نام دیا ہے جو بلیو اوریجن اور سئیرا اسپیس نامی امریکی ادارہ مشترکہ طور پر تعمیر کریں گے۔

واضح رہے کہ سئیرا اسپیس، امریکی فوج اور ایئرو اسپیس سیکٹر کو وسیع پیمانے پر خدمات فراہم کرنے والی سئیرا نیواڈا کارپوریشن کا ذیلی ادارہ ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق یہ خلا میں ’’ملے جلے استعمال والا بزنس پارک‘‘ ہوگا جہاں خلا کی سیر پر جانے والے سیاح اپنے کچھ دن گزار سکیں گے جبکہ کمپنیاں اپنے دفاتر بھی قائم کرسکیں گی۔

’’آربٹل رِیف‘‘ نچلے مدار میں زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر اونچائی پر گردش کرے گا۔ یہ لگ بھگ وہی اونچائی ہے کہ جس پر رہتے ہوئے اکثر انسان بردار خلائی اسٹیشن گردش کرتے ہیں۔

بعض ناقدین نے اسے خلا پر اجارہ داری اور حکمرانی قائم کرنے کےلیے جیف بیزوز کا شاطرانہ منصوبہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب خلائی ماہرین کو اس منصوبے کے درست ہونے پر شبہ ہے کیونکہ بلیو اوریجن اب تک کامیابی سے ایک راکٹ بھی نہیں اُڑا سکا ہے، ’’تو ایسے میں خلائی کمرشل پلازہ کا منصوبہ کس طرح بروقت مکمل ہوسکتا ہے؟‘‘ ماہرین نے سوال اٹھایا۔
https://www.express.pk/story/2240170/508/



خلائی مشن کے دوران خلاءبازوں کے قد میں اضافہ لیکن زمین پر واپس پہنچنے کے بعد کن تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ
Oct 25, 2021 | 18:39:PM

سورس: Pixabay.com (creative commons license)

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خلاءمیں جانے والے مشنز کے بارے میں تو آپ اکثر سنتے رہتے ہوں گے۔ یہ خلاءنورد بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر جا کر تحقیقاتی کام کرتے ہیں۔ اب ان خلاءبازوں کے بارے میں امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک حیران کن دعویٰ کر دیا ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ خلائی مشن پر جانے والے خلاءبازوں کے قد خلاءمیں گزرے وقت کے دوران 3انچ تک بڑھ جاتے ہیں اور ان کا یہ بڑھا ہوا قد واپس زمین پر آ کر ان کے لیے مصیبت بن جاتا ہے۔سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ قد میں اس اضافے کی وجہ سے خلاءباز واپس زمین پر آ کر دائمی کمردرد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خلاءبازوں کے قد میں اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ریڈوسٹین پینچیف نے بتایا کہ خلاءمیں کشش ثقل نہ ہونے اور بے وزنی کی کیفیت کے سبب خلاءبازوں کی ریڑھ کی ہڈی بالکل سیدھی ہو جاتی ہے جس سے ان کے قد میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب تک سب سے زیادہ اضافہ 3انچ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ زمین پر ہماری ریڑھ کی ہڈی کی شکل انگریزی حرفSکی شکل کی ہوتی ہے جو کشش ثقل کے خلاف مزاحمت میں مددگار ہوتی ہے تاہم خلاءمیں جا کر ریڑھ کی ہڈی کا یہ خم کم یا بالکل ختم ہو جاتا ہے اور خلاءبازوں کے قد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/25-Oct-2021/1357279?fbclid=IwAR3nvRF5FJmc7Gy7_FQdCgO5eynoWfe7XPSzfLwbTXAIMtLKicpvsQghLvw



یورپی پارلیمنٹ میں کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے خبردار کیا ہے کہ جدید ’ڈِیپ فیک‘ ٹیکنالوجی مستقبل میں جمہوریت کےلیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی/ آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے شعبے میں ’ڈِیپ فیک‘ کہلانے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کی بالکل اصل جیسی نقلی آواز اور ویڈیو تیار کی جاسکتی ہے۔

یہ نقلی آواز اور ویڈیو اصل سے اتنی قریب ہوتی ہے کہ عوام سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کو دھوکا دے سکتی ہے۔

یورپین پارلیمنٹ کےلیے یہ تفصیلی رپورٹ جرمنی کے کارلسروہے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی قیادت میں مرتب کی گئی ہے جس کی تیاری میں ہالینڈ اور جمہوریہ چیک کے تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرین بھی شریک رہے ہیں۔

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے مثبت پہلوؤں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈِیپ فیک ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کرتی جارہی ہے جس کی وجہ سے اصل اور نقل میں فرق کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

ماہرین نے اس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں ڈِیپ فیک کے ذریعے ایسی جعلی ویڈیو اور آڈیو کلپس ممکن ہوں گی کہ جنہیں دنیا کا بہترین نظام بھی شناخت نہیں کر پائے گا۔

یہ جعلی ویڈیو/ آڈیو کلپس عدالتی کارروائی سے لے کر انتخابات اور دوسری جمہوری کارروائیوں تک کو گمراہ کرکے غلط اور ناپسندیدہ نتائج کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔

بہ الفاظِ دیگر، ڈِیپ فیک کی مسلسل ترقی سے پوری دنیا میں جمہوریت تک کو شدید خطرہ ہے جس کا تدارک کرنے کےلیے مناسب قانون سازی اور ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
https://www.express.pk/story/2239846/508/



چینی سائنسدانوں نے ایک ایسا خلائی ہتھیار ایجاد کرلیا ہے جو مصنوعی سیارچوں کو اندر سے تباہ کردیتا ہے اور باہر کچھ بھی پتا نہیں چلتا۔

اس خاموش ’اینٹی سٹیلائٹ‘ ہتھیار کے بارے میں چین سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ میں تفصیلی خبر شائع ہوئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ خاصا غیر روایتی ہتھیار ہے۔

خلا میں پہنچنے کے بعد یہ اپنے مطلوبہ سٹیلائٹ تک پہنچ کر اس کے اخراجی (تھرسٹر) نوزل کو جکڑ لیتا ہے اور اپنا دھماکہ خیز مواد اس کے اندر داخل کردیتا ہے۔

سٹیلائٹ کے اندر داخل ہو کر یہ دھماکہ خیز مواد اس طرح سے پھٹتا ہے کہ مصنوعی سیارچے کے اندرونی حصے تباہ ہوجاتے ہیں اور وہ کام کرنا بند کردیتا ہے۔

اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ ہتھیار اس سیارچے کو چھوڑ کر اس سے دور ہوجاتا ہے۔

اس طرح یہ ہتھیار کسی بھی مصنوعی سیارچے کو اس انداز سے تباہ کرسکتا ہے کہ زمینی کنٹرول اسٹیشن پر اس کی تباہ کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ محسوس ہوگی۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی خبر میں اس ہتھیار کی تصویر کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سٹیلائٹ میں داخل کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کا وقت اور دورانیہ بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔


یعنی سٹیلائٹ کے تھرسٹر نوزل سے چپکنے کے بعد یہ ہتھیار کئی دنوں تک خاموشی سے وہیں رہ سکتا ہے اور صرف اسی وقت سرگرم ہوگا کہ جب اسے ’کارروائی‘ کی ہدایت موصول ہوگی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس نئے اینٹی سٹیلائٹ ہتھیار کی تیاری شیانگتن میں ’ہونان ڈیفنس انڈسٹری پولی ٹیکنک‘ کے پروفیسر سُن یُنژونگ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جبکہ اس ایجاد کی تفصیلات چینی تحقیقی مجلّے ’الیکٹرونک ٹیکنالوجی اینڈ سافٹ ویئر انجینئرنگ‘ کے شمارے میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی ہی
https://www.express.pk/story/2239745/508/



عموماً ایک ہی نوع کی دو مختلف آبادیوں سے تعلق رکھنے والے پودے اتنے یکساں ہوتے ہیں کہ ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ لازمی ہوجاتا ہے۔ لیکن اب ایک اب ایک دستی آلے سے یہ کام فوری طور پر آسان اور کم وقت میں کیا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے شکاگو فیلڈ میوزیم کے سائنسداں ڈوسن وائٹ کی سربراہی میں ان کی ٹیم نے یونیورسٹی آف مین کے لانس اسٹاسنسکی نے جینیاتی طور پرمختلف ’ڈریاس‘ نامی سدا بہار پیڑ کی دو الگ الگ آبادیوں کا جائزہ لیا۔ اس کے لیے ایک لمبا عمل کرنا پڑا۔ یعنی پہلے دومختلف مقامات سے پودوں کے نمونے جمع کئے گئے اور ہر ایک کو تجربہ گاہ میں ڈی این اے مطالعے سے گزارا گیا تو اس عمل میں ہفتے لگ گئے۔

اس کے علاوہ ڈی این اے آزمائش سے گزارے گئے تمام پودوں کو ایک دستی آلے سے بھی دیکھا گیا جسے ’اسپیکٹروریڈیومیٹر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آلہ پتوں پر روشنی پھینکتا ہے اور وہاں سے لوٹنے والی روشنی کی طولِ موج (ویولینتھ) کا جائزہ لیتا ہے۔ ماہرین حیران رہ گئے کہ مشین نے فوری طور پر الگ الگ طور پر شناخت کرلیا۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں پودے ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں جن کے الگ الگ ہونے کی تصدیق جینیاتی تجزیئے سے بھی کی گئی تھی۔ اس طرح ماہرینِ نباتیات کسی بھی موقع پرفوری طور پر دو یکساں پودوں کے فرق کو جان سکتے ہیں۔ یہ عمل جینیاتی ٹیسٹ کے مقابلے میں تیزرفتار اور بہت ارزاں ہے جس سے پودوں پر تحقیق کی رفتار بڑھائی جاسکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دوردراز علاقوں، دشوار گزار راستوں اور پہاڑوں پر موجود پودوں کی شناخت کے لیے یہ پورا نظام ڈرون پر لگا کر نباتاتی تحقیق کو تیز کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق نیوفائٹولوجی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2237978/508/



سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے طویل تحقیق کے بعد مادّے کی نئی حالت ’’الیکٹرون کواڈرپلٹ‘‘ (electron quadruplet) دریافت کرلی ہے جو بہت کم درجہ حرارت پر وجود میں آتی ہے اور جس میں چار الیکٹرون ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

کے ٹی ایچ رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، سویڈن میں تجربات سے مادّے کی اس نئی حالت کا انکشاف ہوا ہے اور اب ماہرین اس کی مزید خصوصیات جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک جیسے چارج والے ذرّات ایک دوسرے کو دور دھکیلتے یعنی ’’دفع‘‘ کرتے ہیں۔

الیکٹرون پر منفی چارج ہوتا ہے لہٰذا جب دو الیکٹرونوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے تو ان کے درمیان قوتِ دفع (دور کرنے والی قوت) بڑھ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دو یا زیادہ الیکٹرونوں کا ایک دوسرے سے بہت قریب رہنا انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

البتہ ’’سپر کنڈکٹرز‘‘ یعنی وہ مادّے جن میں سے بجلی بغیر کسی مزاحمت کے گزر جاتی ہے، ان میں جوڑوں کی شکل میں الیکٹرونوں کا مشاہدہ ہوچکا ہے جو معمول کے خلاف ہے۔ یہ عمل بے حد کم درجہ حرارت پر واقع ہوتا ہے۔

آج سے تقریباً 20 سال پہلے کے ٹی ایچ سویڈن کے سائنسداں، پروفیسر ایگور بابائیف نے چار الیکٹرونوں کی ایک ساتھ موجودگی یعنی ’’الیکٹرون کواڈرپلٹس‘‘ کے بارے میں پیش گوئی کی تھی، جبکہ 2013 میں اس حوالے سے ایک ریسرچ پیپر بھی شائع کروایا تھا۔

یہ پیش گوئی اتنی غیرمعمولی تھی کہ ماہرینِ طبیعیات (physicists) کی اکثریت نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

2018ء میں ڈریسڈن، جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں وادِم گریننکو اور ان کے ساتھیوں نے پہلی بار کچھ ایسے مشاہدات کیے جو الیکٹرون کواڈرپلٹس کی پیش گوئی کی مطابقت میں تھے۔

اس ممکنہ دریافت کی تصدیق کےلیے مزید تین سال تک دنیا کی مختلف تجربہ گاہوں میں انتہائی سرد درجہ حرارت والے سپر کنڈکٹرز پر سیکڑوں تجربات اور مشاہدات کیے گئے جن کے مشترکہ نتائج ’’نیچر فزکس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔


پروفیسر ایگور بابائیف کہتے ہیں کہ الیکٹرون کواڈرپلٹس میں کچھ نئی اور غیرمعمولی خصوصیات بھی سامنے آئی ہیں جنہیں ابھی ہم پوری طرح سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

فی الحال یہ بالکل ابتدائی نوعیت کی دریافت ہے جس کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوجانے کے بعد سپر کنڈکٹر مادّوں کو بہتر بنایا جاسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2237519/508/



امریکی سائنسدانوں نے پسینے کے ذریعے خون میں گلوکوز کی مقدار معلوم کرنے کےلیے ایک ایسا سینسر (حساسیہ) ایجاد کرلیا ہے جسے اسٹیکر کی طرح کھال پر چپکا دیا جاتا ہے۔

اسے پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر لیری چینگ اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے جبکہ اس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’بایوسینسرز اینڈ بایوالیکٹرونکس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن بھی شائع ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ خون کی طرح پسینے میں بھی شکر (شوگر یعنی گلوکوز) موجود ہوتی ہے لیکن اس کی مقدار خون کے مقابلے میں 100 گنا کم ہوتی ہے۔

روایتی طریقے کے تحت خون میں شوگر کی مقدار معلوم کرنے کےلیے انگلی میں سوئی چبھو کر ایک قطرہ خون نکال کر ایک خاص طرح کی چھوٹی سی پٹی (اسٹرپ) پر رکھا جاتا ہے۔

یہ اسٹرپ ’’گلوکومیٹر‘‘ یعنی شوگر ناپنے والے ایک آلے میں لگا دی جاتی ہے جو اگلے چند سیکنڈ کے دوران خون میں شکر کی مقدار معلوم کرکے اپنے اسکرین پر ظاہر کردیتا ہے۔

انگلی میں سوئی چبھونے اور خون نکالنے سے چھٹکارا پا کر خون میں شوگر معلوم کرنے کے عمل کو بھی تکلیف سے پاک اور آسان بنایا جاسکتا ہے۔

یہ آلہ بھی اسی ضرورت کے پیشِ نظر بنایا گیا ہے جس کی تیاری میں ’’گریفین‘‘ کہلانے والے مادّے پر نکل دھات کی پتلی تہہ چڑھا کر اسے پسینے میں گلوکوز ناپنے کے قابل بنایا گیا ہے۔

پروفیسر لیری چینگ کہتے ہیں کہ پسینے میں گلوکوز کی بے حد کم مقدار بالکل درست طور پر معلوم کرنا سب سے اہم مسئلہ تھا جسے ان کی ٹیم نے طویل تحقیق کے بعد آخرکار حل کرلیا۔

خون میں گلوکوز کی مقدار معلوم کرنے کےلیے اس آلے کو کھال پر چپکا دیا جاتا ہے۔ اگر اسے پہننے والے کو پسینہ نہیں آرہا ہو تو اس سے ہلکی پھلکی ورزش کروائی جاتی ہے تاکہ پسینہ نکلے۔

یہ پسینہ اس آلے کے نچلے حصے میں نصب خردبینی خانوں (مائیکرو چیمبرز) میں پہنچتا ہے جہاں نکل دھات اس میں موجود گلوکوز کے سالموں (مالیکیولز) کے ساتھ عمل کرکے پسینے میں گلوکوز کی ٹھیک ٹھیک پیمائش کرتی ہے۔

پھر اس آلے کا خودکار نظام، پسینے میں گلوکوز کی مقدار کو 100 سے ضرب دیتا ہے جو اُس وقت خون میں گلوکوز کی مقدار کے برابر ہوتی ہے۔

اپنے تمام تر انتظامات سمیت، اس آلے کی جسامت ایک روپے والے سکّے جتنی ہے جبکہ یہ بہت لچک دار بھی ہے۔

ابتدائی تجربات میں اسے ایک بے ضرر گوند کے ذریعے ایک رضاکار کے بازو کی کھال پر چپکا کر خون میں گلوکوز کی مقدار معلوم کی گئی جو بالکل وہی تھی جو گلوکومیٹر کے ذریعے معلوم ہوئی تھی۔

اب ماہرین کی یہ ٹیم مزید تجربات کی تیاری کررہی ہے تاکہ اس ایجاد کو جلد از جلد بہتر اور حتمی شکل دے کر مارکیٹ میں فروخت کےلیے پیش کیا جاسکے۔

انہیں امید ہے کہ یہ آلہ بہت کم خرچ ہوگا اور اس کے ذریعے خون میں گلوکوز پر باقاعدگی سے نظر رکھنا بہت آسان ہوجائے گا۔

ذیابیطس کے ان مریضوں کو اس آلے سے بہت فائدہ ہوگا جنہیں اپنے خون میں گلوکوز پر روزانہ باقاعدگی سے نظر رکھنے کےلیے بار بار سوئی چبھنے کی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2237868/9812/



برطانوی کمپنی میکیولیوم لمیٹڈ نے ایک ایسا ہیلمٹ تیار کرلیا ہے جو انفرا ریڈ لہروں کے ذریعے نہ صرف دماغ کو مضبوط بناتا ہے بلکہ مختلف دماغی بیماریوں کے علاج میں مدد بھی کرسکتا ہے۔

اس ہیلمٹ میں انفرا ریڈ ایل ای ڈیز کی کئی قطاروں کے ساتھ 14 عدد پنکھے بھی نصب ہیں جو ہیلمٹ کے علاوہ اسے پہننے والے کے سر کو بھی ٹھنڈا رکھتے ہیں۔

یہ ایل ای ڈیز 1,060 نینومیٹر سے 1,068 نینومیٹر کی انفرا ریڈ شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو دماغ کے اندرونی حصے تک ہر چھ منٹ میں 1,368 جول توانائی (حرارت کی شکل میں) پہنچاتی ہیں۔

اس ہیلمٹ کی تعارفی قیمت 7,250 پونڈ (تقریباً 17 لاکھ 20 ہزار پاکستانی روپے) رکھی گئی ہے۔

ڈرہام یونیورسٹی، برطانیہ میں اس ہیلمٹ کی پائلٹ اسٹڈی 27 رضاکاروں پر کامیابی سے مکمل ہوچکی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’فوٹو بایو ماڈیولیشن، فوٹو میڈیسن، اینڈ لیزر سرجری‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

بتاتے چلیں کہ اس طرح کے دماغی علاج کو ’’ٹرانس کرینیئل فوٹو بایو ماڈیولیشن تھراپی‘‘ (بی بی ایم – ٹی) کہا جاتا ہے جس میں ایک خاص ہیلمٹ سے نکلنے والی انفرا ریڈ شعاعوں کو مریض کے دماغ میں اندرونی حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

یہ انفرا ریڈ لہریں دماغی خلیوں میں توانائی کی پیداوار کے ذمہ دار حصوں یعنی ’’مائٹوکونڈریا‘‘ تک پہنچ کر اپنی توانائی ان میں منتقل کردیتی ہیں۔

اس سے مائٹوکونڈریا کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ دماغ میں توانائی کی کیفیت بھی بہتر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں دماغی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

پائلٹ اسٹڈی کے دوران 14 رضاکاروں کو آٹھ ہفتوں تک روزانہ دو مرتبہ چھ چھ منٹ کےلیے اصلی انفرا ریڈ ہیلمٹ استعمال کروایا گیا جبکہ 13 رضاکاروں نے اصل ہیلمٹ جیسا مصنوعی لیکن بے ضرر ہیلمٹ بالکل اسی طرح استعمال کیا۔

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ اصل ہیلمٹ استعمال کرنے والے رضاکاروں میں حرکت، یادداشت اور بول چال سے متعلق صلاحیتیں پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہوئی تھیں جبکہ اصلی جیسے نقلی ہیلمٹ استعمال کرنے والوں پر کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔

مطالعے میں شریک کسی بھی رضاکار نے علاج کے دوران منفی یا مضر اثرات کی شکایت نہیں کی۔

اس انفرا ریڈ ہیلمٹ پر ایک اور تحقیق پچھلے سال امریکا میں کی گئی تھی جس میں 39 ایسے رضاکار شریک ہوئے تھے جن میں یادداشت اور اکتساب کے مسائل ابتدائی مرحلے پر تھے، یعنی ان افراد میں ڈیمنشیا کا آغاز ہوچکا تھا۔

اس تحقیق کے بارے میں جولائی 2021 کے ’’ایجنگ اینڈ ڈزیز‘‘ میں شائع شدہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ تمام مریضوں کو انفرا ریڈ ہیلمٹ کے استعمال سے افاقہ ضرور ہوا لیکن استعمال بند کرنے کے بعد ان میں ڈیمنشیا کی کیفیات دوبارہ نمودار ہونے لگیں۔

انفرا ریڈ ہیلمٹ کی ٹیکنالوجی کے موجد، ڈاکٹر گورڈن ڈوگل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی انفرا ریڈ سے دماغ کو پہنچنے والے فوائد سے متعلق بہت کچھ جاننا باقی ہے لیکن اب تک اس کے جتنے فوائد اور مثبت پہلو سامنے آچکے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے اس کا استعمال شروع کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
https://www.express.pk/story/2237572/9812/



گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ
 18 October, 2021


تحریر : عبدالحفیظ ظفر

کمال ہوگیا۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا روبوٹ بنالیا ہے جو بڑی تیزی سے گم شدہ چیزوں کے مقام کا تعین کرسکتا ہے اور اس طرح گم شدہ اشیاء دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ روبوٹ بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے گم شدہ اشیاء کو ڈھونڈ کر باہر نکال سکتا ہے۔ یہ بھی بڑی حیران کن بات ہے۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے ایک ماڈل تیار کیا ہے جس کے روبوٹک بازو ہیں جس کے ہاتھ پر ایک کیمرہ ہے اور اس کے ساتھ ریڈیو انٹینا فریکویسی ہے ۔یاد رہے کہ ریڈیو فریکونسی ہر قسم کی سطح پر سفر کرسکتی ہے۔مال چوری ہونے سے بچنے کے لیے ایئر لائنز بھی انہیں استعمال کرتی ہیں تاکہ مسافروں کے سامان کی گزر گاہ کا پتہ چل سکے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ اس افراتفری کی دنیا میں اشیاء کی تلاش کسی مسئلے سے کم نہیں۔ ایم آئی ٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس کا ہونا جو بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے نیچے گم شدہ اشیاء کو تلاش کرلے، آج کی صنعت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ محققین کے مطابق ایک دن ان کا نظام ایک ویئر ہائوس میں بھی چیزوں کے ڈھیر سے بہت کچھ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگا۔ کار بنانے والے پلانٹ میں ضروری اجزا نصب بھی کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ ان ضروری اجزا کی شناخت بھی ممکن ہوگی۔ مزید برآں ایک ضعیف آدمی کی گھر کے کاموں میں مدد بھی کی جاسکتی ہے۔
محققین نے روبوٹ کو سکھانے کے لئے اعصابی نیٹ ورک کو استعمال کیاجس کا مقصد روبوٹ کی رفتار کو بہتر بنانا تھا۔ مختلف ہدایات کی روشنی میں اس کی تربیت کی جاتی ہے۔اس سے ہمارا دماغ بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ کی طرف سے تحسین کی شکل میں بہت کچھ ملتا ہے۔ اسی طرح ہمیں کمپیوٹر گیمز بھی ''انعامات‘‘ دیتی ہیں۔ سیکھنے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ MIT کے ایک اور پروفیسر کا کہنا تھا ''ہم ایجنٹ کو غلطیاں کرنے دیتے ہیں یا پھر کوئی کام درست کرنے دیتے ہیں پھر اس کے بعد ہم نیٹ ورک کو سزا دیتے ہیں یا انعام۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے نیٹ ورک کچھ سیکھتا ہے۔ آر ایف یوزٹن سسٹم کے لیے پیش کارکردگی ایلگورتھم کو انعام دیا گیا جب اس نے ان حرکات کو محدود کردیا جو اسے کسی گم شدہ شے کے مقام کا تعین کرنے میں کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فاصلے کو بھی محدود کردیا جو اسے اس چیز کو اٹھانے کیلئے طے کرنا پڑا۔ جب ایک دفعہ سسٹم درست جگہ کی شناخت کرلیتا ہے تو پھر اعصابی نیٹ ورک آ رایف اور تصویری معلومات کو اکٹھا کرکے استعمال کرتا ہے۔ اس سے اسے اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ روبوٹک بازو کو کب چیز کو اپنے قابو میں کرنا ہے۔ یہ نظام گم شدہ چیز کے لیبل کو بھی جانچ لیتا ہے تاکہ یہ یقین ہوجائے کہ اس نے درست شئے کو اٹھایا ہے۔

محققین نے اس سسٹم کو کئی بار ٹیسٹ کیا اور ان کے مطابق انہیں 96 فیصد کامیابی ملی۔ انہوں نے اس سسٹم کے ذریعے ان چیزوں کو ڈھونڈ نکالا جو بکھری ہوئی اشیاء کے ڈھیر کے نیچے چھپی ہوئی تھیں یا جنہیں چھپایا گیا تھا۔
محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی جب آپ صرف آ رایف کی پیمائشوں پر انحصار کرتے ہیں تو اس سے یہ ہوتا ہے کہ بیرونی حصوں کی پیمائش ہوتی ہے اور اگر آپ صرف تصویر پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس میں یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ کیمرے سے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ لیکن اگر آپ ان دونوں کو اکٹھا کردیں تو پھر یہ ہوگا کہ دونوں ایک دوسرے کو ٹھیک کردیں گے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ سسٹم کتنا مضبوط ہے۔ محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس نظام کی رفتار بڑھا دی جائے گی تاکہ یہ آسانی سے حرکت کرے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ یہ سسٹم وقتاً فوقتاً پیمائشیں لینے کیلئے رک جاتا ہے۔ اس کیلئے مناسب یہی ہے کہ اس سسٹم کو وہاں نصب کیا جائے جہاں اشیاء کی پیداوار کے عمل کی رفتار بہت تیز ہو یا پھر اس مقصد کیلئے کسی ویئر ہائوس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔
(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے۔ دوکتابوں کے مصنف بھی ہیں)

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے خودکار گاڑیوں والی ٹیکنالوجی کو نابینا افراد کی چھڑی میں سمودیا ہے۔ اس میں ایک پہیہ بھی لگایا گیا ہے جس سے نابینا افراد میں چلنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-10-18/25292



یہ چھڑی لائٹ ڈٹیکشن اینڈ رینجنگ (لیڈار) ٹیکنالوجی سےکام کرتی ہے جو اسمارٹ چھڑی کا دل و دماغ ہے۔ اس کی بدول چھڑی اطراف کو دیکھتی ہے اور کسی رکاوٹ کی صورت میں مالک کو خبردار کرتی ہے۔

جب اسے نابینا افراد پرآزمایا گیا تو ان کے چلنے کی رفتار میں بھی 1 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ چھڑی کےکنارے پر ایک افقی پہیہ لگا ہے جو دائیں بائیں چلتا رہتا ہے۔ اگرچہ اس کی قیمت 400 ڈالر رکھی گئی ہے لیکن کم خرچ ہونے کی صورت میں دنیا کے25 کروڑ ایسے افراد کا بھلا ہوسکتا جو مکمل یا جزوی نابینا پن کے شکار ہیں۔

میکانکی انجینیئر پیٹرک سلیڈ نے بتایا کہ وہ اپنی ایجاد کو سادہ چھڑی سے بڑھ کر بنانا چاہتے ہیں۔ ہماری ایجاد نہ صرف کسی رکاوٹ سے خبردار کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ سامنے پتھر یا میز اور اس سے کس طرح بچنا ہوگا۔

اسمارٹ چھڑی میں جائرواسکوپ، اسراع گر (ایسلرومیٹر)، جی پی ایس نظام، میگنیٹومیٹراور لیزر نظام موجود ہے۔ سب مل کر چھڑی والے کو اس کی پوزیشن، رفتار، سمت اور اطراف کی مختلف اشیا کی خبر دیتے رہتے ہیں۔

اسمارٹ چھڑی میں کئی طرح کے الگورتھم بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں ’ایک وقت میں لوکلائزیشن اینڈ میپنگ بہت اہم ہے۔ یہ فوری طور پر اطراف کا نقشہ بنا کر بتاتا ہے کہ اس میں خود انسان کہاں موجود ہے اور اسے کس طرح سے اپنا راستہ لینا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنسداں مائیکل کوکینڈرفر کہتے ہیں کہ ہماری خواہش کے مطابق جہاں تک ممکن ہوسکا یہ چھڑی رکاوٹ دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتی ہے اور اس کا پہیہ مڑ کر اندھے فرد کو صاف راہ پر لے آتا ہے۔ اگر چھڑی والا فرد اسے لائبریری یا چائے کی دکان کا کہدے تو چھڑی اسے دائیں بائیں موڑتے ہوئے خود ہی وہاں تک لے جاتی ہے۔

اگرچہ اس کا ڈیزائن اوپن سورس رکھا گیا ہے لیکن ہارڈویئر کے ساتھ اس پر 400 ڈالر لاگت آتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2237318/508/



جرمن سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ خون میں پائے جانے والے کچھ خاص ’مائیکرو آر این اے‘ سالموں کی اضافی مقدار دماغی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔

یہ مائیکرو آر این اے ہمارے جسم میں پروٹین کی پیداوار اور استحالہ (میٹابولزم) کنٹرول کرنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ تجربات چوہوں پر کیے گئے جنہیں بعد میں انسانی خون کے نمونوں پر دوہرایا گیا تو وہی نتائج حاصل ہوئے جیسے چوہوں میں ہوئے تھے۔

مزید تصدیق کی غرض سے 132 صحت مند رضاکاروں کے علاوہ 53 ایسے ادھیڑ عمر افراد کا مشاہدہ بھی کیا گیا جو ’’مائلڈ کوگنیٹیو امپیئرمنٹ‘‘ (ایم سی آئی) میں مبتلا تھے۔

ایم سی آئی ایک ایسی کیفیت ہے جب سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ یہی کیفیت آئندہ چند سال میں مزید شدت اختیار کرتے ہوئے کئی دماغی بیماریوں کی بنیاد بن سکتی ہے جن میں الزائیمر، شیزوفرینیا (اسکیزوفرینیا) اور ڈیمنشیا وغیرہ شامل ہیں۔

چوہوں اور انسانی خلیوں (سیل کلچرز) پر تحقیق کے دوران تین اقسام کے ایسے مائیکرو آر این اے سامنے آئے جو دماغی خلیوں میں باہمی رابطے بننے کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہے تھے اور جن کی وجہ سے اکتسابی صلاحیتیں متاثر ہورہی تھیں۔

ایم سی آئی میں مبتلا افراد کے خون میں بھی ان ہی تینوں مائیکرو آر این ایز کی اضافی مقدار نوٹ کی گئی۔

ریسرچ جرنل ’’ای ایم بی او مالیکیولر میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ان مائیکرو آر این ایز پر نظر رکھتے ہوئے نہ صرف دماغی بیماریوں کا بہت پہلے پتا چلایا جاسکتا ہے بلکہ ان کا علاج بھی ممکن ہے۔

چوہوں پر مزید تجربات کے دوران جب یہ مائیکرو آر این ایز بلاک کردیئے گئے تو چوہوں میں اکتسابی صلاحیتیں بہتر ہوگئیں۔

واضح رہے کہ اکثر دماغی بیماریوں کی علامات نمایاں ہوجانے کے بعد ہی ان کا پتا چلتا ہے جس کی وجہ سے ان کے تدارک میں بھی شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

اگر کسی طرح دماغی بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص ممکن ہوجائے تو مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انہیں مزید بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق ایسی ہی عالمی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔
https://www.express.pk/story/2237140/9812/



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108731648&Issue=NP_PEW&Date=20211018



ایسا لیپ ٹاپ جو گلاسز کے بغیر 3ڈی ڈسپلے کرسکے گا
 18 October, 2021

ایسر کمپنی نے گلاسز فری تھری ڈی ٹیکنالوجی پر مبنی پہلا کانسیپٹ لیپ ٹاپ متعارف کروا دیا

تائیوان(نیٹ نیوز)یہ مختلف اقسام کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر فیچرز پر مشتمل ہے ۔ان فیچرز میں ایک خاص سٹیریو کیمرہ قابل ذکر ہے جس میں ایسے 2 سنسرز موجود ہیں جو آپ کی آنکھوں اور سر کو ٹریک کرتے ہیں، ایک آپٹیکل لینس آنکھوں کے سامنے 2 معمولی مختلف تصاویر کو پیش کرتا ہے جبکہ رینڈرنگ سافٹ ویئر آپ کی حرکت کے ساتھ ریئل ٹائم میں تھری ڈی امیجز کو ایڈجسٹ کرتا ہے ۔کمپنی کے مطابق صارفین اس لیپ ٹاپ پر تھری ڈی پراجیکٹس جیسے تھری ڈی پرنٹنگ، آرکیٹکچر یا اینی میشن کو دیکھ سکیں گے ۔ چند ٹول جیسے سپیٹل لیبز ماڈل ویورز بھی فراہم کئے جائیں گے تاکہ مختلف ایپس سے تھری ڈی فائلز کو امپورٹ کی جا سکیں ۔ لیپ ٹاپ یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں دسمبر میں 3599 یورو میں فروخت کیا جائے گا۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-10-18/1896914



سائنسدانوں نے بوڑھوں کی عمر 25 سال کم کرنے کا طریقہ دریافت کرلیا، تہلکہ خیز دعویٰ کردیا
Nov 21, 2020 | 18:42:PM
سورس: Pxhere

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بوڑھے لوگوں کو پھر سے جوان بنانے کا دعویٰ کر دیا۔ میل آن لائن کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے 64سال کی عمر کے 35لوگوں کو’ آکسیجن تھراپی‘ کے ذریعے خلیاتی اعتبار سے جوان بنایا گیا۔ اس پروسیجر کے بعد ان لوگوںکے جسم خلیاتی اعتبار سے اسی لیول پر آ گئے جس لیول پر 25سال قبل تھے۔ گویا یہ لوگ 25سال کم عمر ہو کر دوبارہ جوان ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے پریشرائزڈ چیمبر کا استعمال کیا۔ ان لوگوں کو ہفتے میں 5دن 90منٹ تک اس پریشرائزڈ چیمبر میں بٹھا یا گیا جس میں خالص ترین آکسیجن بھری تھی۔ تین ماہ تک ان لوگوں پر یہ عمل جاری رکھا گیا اور تین ماہ بعد جب ان کے ٹیلومرز کی لمبائی دوبارہ پرکھی گئی تو وہ بڑھ کر اتنی ہو چکی تھی جتنی 25سال قبل تھی جب یہ لوگ جوان تھے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر شئی ایفریٹی کا کہنا تھا کہ طبیعاتی طور پر عمر رسیدگی کے دو بڑے انڈیکیٹرز ہوتے ہیں۔ پہلا ٹیلومرز کا چھوٹا ہونا اور دوسرا جسم میں ناقص کارکردگی کے حامل بوڑھے خلیوں کی تعداد کا بڑھ جانا۔ ان لوگوں کو جب تین ماہ تک آکسیجن تھراپی دی گئی تو ان کے جسم میں یہ دونوں انڈیکیٹرز ہی انہیں اصل عمر سے 25سال کم عمر بتانے لگے۔
https://dailypakistan.com.pk/21-Nov-2020/1213675?fbclid=IwAR2yWGugw_nzhICvQgyAayQs5wlVpG-6DixBLQJcP3a5Tg-l21u2vbOu3F4

No comments:

Post a Comment