رب ِکائنات اپنی عظیم کتاب کی سورہ الشوری آیت 29میں فرماتے ہیں:’’اس کی نشانیوں میں سے ہے زمین اور آسمانوں کی پیدائش اور جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں۔وہ جب چاہے انھیں جمع کر سکتا ہے۔‘‘
یہ آیت دو بڑے سائنسی انکشافات ہمارے سامنے لاتی ہے۔اول یہ کہ ہماری کائنات واحد دنیا نہیں، اللہ تعالی نے دیگر کائناتیں بھی تخلیق کر رکھی ہیں۔دوسرا انکشاف یہ کہ ان کائناتوں میں بھی جاندار موجود ہیں۔گویا زمین کے علاوہ دیگر کائناتوں میں بھی اللہ پاک کے تخلیق کردہ جاندار موجود ہیں۔ قران پاک کی دیگر آیات میں آسمانوں کی تعداد سات بتائی گئی ہے۔مفسرین کی اکثریت کے نزدیک آسمانوں سے مراد کائناتیں ہیں۔
پُراسرار جہاز
سوال یہ ہے کہ کیا جدید سائنس بھی قرانی نظریات کو درست قرار دیتی ہے؟یہ جاننے سے قبل ایک انوکھا واقعہ پیش ہے جس نے آج بھی سائنس دانوں کو متحیر کر رکھا ہے۔یہ 19اکتوبر2017ء کی رات ہے۔
امریکی ریاست ہوائی کے ایک جزیرے پر بنی رصد گاہ میں فلکیات داں طاقتور دوربینوں کے ذریعے خلا کا جائزہ لے رہے تھے۔یہ رصد گاہ یونیورسٹی آف ہوائی کی ملکیت ہے۔اچانک رابرٹ ویرک نامی ماہر نے آسمان پر اڑتی ہوئی ایک چمک دار شے دیکھی۔وہ لمبوتری سی شے بہ سرعت زمین سے دور ہو رہی تھی۔اس کی رفتار اتنی تیز تھی کہ رابرٹ تصویر بھی نہ کھینچ سکا۔
رصد گاہ کے ماہرین نے اس چمکتی شے کو ’’امواموا‘‘(Oumuamua)کا نام دیا۔ہوائی کی مقامی زبان میں اس کے معنی ہیں:اسکاؤٹ۔ان کا خیال تھا کہ یہ بین الفلکیاتی(interstellar)یعنی ستاروں کے درمیان اڑتا کوئی سیارچہ (Asteroid)تھا۔بعد ازاں انکشاف ہوا کہ یہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہونے والا پہلا بین الفلکیاتی سیارچہ تھا۔یہ تب زمین سے تین کروڑ تیس لاکھ کلومیٹر دور تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ فلکیات داں ابھی تک قطیعت سے نہیں بتا سکے کہ امواموا کیا شے تھی۔وجہ یہ کہ سیارچے چٹانیں رکھتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی روشنی نہیں پھوٹتی۔چونکہ وہ خوب چمک رہا تھا۔اس لیے بعض ماہرین اس کو دم دار ستارہ(Comet) سمجھے۔مگر یہ خلائی اجسام لمبی دم رکھتے ہیں جو اس میں عنقا تھی۔جیسے جیسے سائنس دانوں نے زمین کے قریب آنے والے خلائی مہمان پہ تحقیق کی،وہ اتنا ہی زیادہ پُراسرار ہو گیا۔
وہ خلائی مخلوق کا تھا؟
پروفیسر ایوی لویب (Avi Loeb)امریکا کی ممتاز ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک ماہر فلکیات ہیں۔جب انھیں امواموا کی بابت علم ہوا تو وہ بھی اس میں دلچسپی لینے لگے۔انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ خلائی مہمان کی مختلف خصوصیات کا جائزہ لیا۔
اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ پروفیسر ایوی لویب نے اموامواکو کوئی سیارچہ یا دم دار ستارہ نہیں ایک خلائی جہاز قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ خلائی جہاز ایسی مخلوق کا تھا جو وسیع کائنات کے کسی اور سیارے یا ستارے میں قیام پذیر ہے۔انھوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ یہ خلائی جہاز ستاروں کی روشنی(دھوپ)کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔
پروفیسر ایوی لویب کی تحقیق نے مغربی سائنس کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔بعض سائنس دانوں نے ان سے اتفاق کیا۔دیگر کا کہنا تھا کہ پروفیسرکوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لا سکے۔مگر ان کی تحقیق نے بہرحال قران پاک کے ایک نظریے پہ مہر تصدیق ثبت کر دی۔یہی کہ کائنات میں زمین کے علاوہ دیگر سیاروں یا ستاروں پر بھی جاندار موجود ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ سائنس نے اب آ کر جو سچائی جانی،وہ چودہ سو سال قبل ہی اللہ تعالی قران پاک میں بیان فرما چکے۔
’’بگ بینگ‘‘
انسان کو کائنات کے اسرار جانتے ہوئے صرف ایک سو برس کا عرصہ ہوا ہے کہ تبھی جدید سائنس نے جنم لیا۔اس سے قبل وہ علم فلکیات کی بنیادی معلومات ہی رکھتا تھا۔بیسویں صدی میں اس نے طاقتور دوربینیں بنا لیں جن سے کائنات کی پنہائیوں میں جھانکنا ممکن ہو گیا۔رفتہ رفتہ ایسے جدید آلات وجود میں آ گئے جو جو کائنات میں بکھری غیر مرئی گیسوں،شعاعوں اور ذرات کا کھوج لگا سکتے تھے۔
انہی آلات کی مدد سے یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ کائنات میں نہ دکھائی دینے والا سیاہ مادہ (Dark matter)اور ’’سیاہ توانائی‘‘(Dark energy)پھیلے ہوئے ہیں۔حقیقتاً انسان کائنات کا صرف ’’5‘‘فیصد مادہ ہی دیکھ سکتا ہے…بقیہ پچانوے فیصد مادہ سیاہ مادے اور سیاہ توانائی پہ مشتمل ہے جو ہمیں برہنہ آنکھ سے نظر نہیں آتا۔
جدید فلکیات کے بنیادی نظریات یہ ہیں کہ ہماری کائنات ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے وجود میں آئی۔اس سے قبل ہر قسم کا مادہ ایک نقطے میں جمع تھا۔پھر اچانک وہ پھیل اٹھا۔اسی مادے سے ستارے،سیارے وغیرہ وجود میں آئے۔اس پھیلاؤ کو ’’بگ بینگ‘‘کا نام دیا جا چکا۔قران پاک میں اللہ تعالی نے بھی فرمایا ہے کہ ہم نے کہا’’ہو جا‘‘اور کائناتوں نے جنم لے لیا۔اب ہماری کائنات مادے، شعاعوں (Radiation) اور غیر مرئی توانائی پہ مشتمل ہے۔شعاعیں یا روشنی کائنات کی بظاہر تیزترین بصری شے ہے، وہ فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو میل کی معین رفتار سے سفر کرتی ہے۔
’’کثیر کائنات‘‘
جدید سائنسی نظریات کی رو سے ہماری کائنات اب بھی پھیل رہی ہے۔گویا سیارے ،ستارے اور سبھی فلکیاتی اجسام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔انسان ابھی تک ایسی طاقتور دوربین نہیں بنا پایا جو کائنات کی آخری حد تک دیکھ سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کوئی خلائی جہاز زمین سے روانہ ہو تو اسے آخری سرے تک پہنچتے ہوئے ’’95‘‘ارب سال لگ جائیں گے۔یہ یقیناً عقل دنگ کر دینے والا فاصلہ ہے۔اور جیسا کہ ہم نے بتایا اللہ تعالی نے دیگر کائناتیں بھی تخلیق کر رکھی ہیں۔
دلچسپ بات یہ کہ بیسویں صدی میں یہ سائنسی نظریہ جنم لے چکا تھا کہ ایک سے زیادہ کائناتیں موجود ہو سکتی ہیں۔اس نظریے کو ’’کثیر کائنات‘‘(Multiverse)کا نام دیا جا چکا۔ جدید سائنس کی بے پایہ ترقی کے باعث یہ نظریہ اب تحقیق و تجربات کی کسوٹی سے گذر رہا ہے۔
نظریہ کثیر کائنات پہ یقین رکھنے والے ماہرین نے اپنی تحقیق کا آغاز اس امر سے کیا کہ بگ بینگ سے پہلے مادے کی کیا حالت تھی؟آخر طویل تحقیق کے بعد انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ بگ بینگ سے قبل کسی قسم کا مادہ موجود نہیں تھا۔تب صرف توانائی (Energy)کا دور دورہ تھا۔ اس کو ہم اللہ تعالی کا نور بھی کہہ سکتے ہیں۔گویا سائنس نے یہ بھی دریافت کر لیا کہ اللہ پاک ہی کائناتوں کے خالق و مالک ہیں۔
’کائناتی پھیلاؤ‘‘نظریہ
سائنس داں کہتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے توانائی اچانک تیزی سے پھیلنے لگی۔اس پھیلاؤ کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تھی۔اس پھیلاؤ نے خلا(Space)کو بھی پھیلا دیا۔آخر ایک وقت ایسا آیا کہ توانائی نے مادے کو جنم دے ڈالا۔پانچ فیصد توانائی مادے میں تبدیل ہوئی جبکہ بقیہ کائنات میں پھیل گئی۔
ماہرین نے اس نظریے کو ’’کائناتی پھیلاؤ‘‘(Cosmic inflation )کا نام دیا۔اس عمل کے آخر ہی میں بگ بینگ نے جنم لیا۔یہ واضح رہے کہ توانائی کا پھیلاؤ اور بگ بینگ کا آغاز نہایت تیزی سے انجام پایا…ماہرین کی رو سے ایک سیکنڈ کے کھرب ویں حصّے میں!
جب ماہرین کو معلوم ہو گیا کہ بگ بینگ سے پہلے صرف توانائی موجود تھی تو انھوں نے اسے مرکز ِتحقیق بنا لیا۔سائنس یہ کہتی ہے کہ توانائی دکھائی نہ دے تب بھی وہ انتہائی چھوٹی سطح پر بھی کوئی نہ کوئی طبعی وجود ضرور رکھتی ہے۔بے شک وہ طبعی وجود برہنہ آنکھ سے دکھائی نہ دے تب بھی موجود ہوتا ہے۔سائنسی زبان میں ایسا وجود ’’کوانٹم‘‘ (Quantum)کہلاتا ہے۔سائنس کے مطابق کوانٹم درج ذیل تعریف رکھتا ہے:
٭اس کی خصوصیات (Properties)میں غیر یقینی حالتیں فطری طور پہ موجود ہوتی ہیں۔
٭وہ ایک ہالہ رکھتا ہے جو غیر مرئی لہریں(Waves)خارج کرتا ہے۔
٭اس ہالے کی اقدار(Values)وقت کے ساتھ ساتھ پھیل سکتی ہیں۔
جب سائنس دانوں نے نظریہ کائناتی پھیلاؤ پہ کوانٹم نظریے کا اطلاق کیا تو ایک حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔انکشاف ہوا کہ توانائی کا پھیلاؤ ہر جگہ اچانک ختم نہیں ہوتا…بلکہ وہ پھیلاؤ ایک دوسرے سے الگ تھلگ جہگوں پر بھی ختم ہو سکتا ہے۔ اور وہاں ایسے مادے جنم لیتے ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق نہیں رکھتے۔گویا اس دریافت نے قران پاک کے اس نظریے پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی کہ اللہ تعالی نے ہماری کائنات کے علاوہ بھی کائناتیں تخلیق فرما رکھی ہیں۔
عام الفاظ میں اس ساری تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک کے اوپر ایک یا شانہ بشانہ مختلف کائناتیں موجود ہیں جہاں ایک دوسرے سے الگ جاندار بھی بستے ہیں۔ان کائناتوں کے درمیان لا محدود خلا موجود ہے جس میں صرف توانائی کا دور دورہ ہے۔بہرحال ان کائناتوں میں کیسی مخلوق آباد ہے اور وہاں کیا ہو رہا ہے، اس بابت صرف مالکِ خلق وسماں ہی جانتے ہیں۔
آسمانوں کی تشریح
درج بالا حقائق کی روشنی میں یہ عین ممکن ہے کہ اکتوبر 2017ء کی رات ہوائی یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات نے واقعی کسی خلائی مخلوق کا جہاز دیکھا ہو۔شاید وہ جہاز کائنات کی سیر یا کھوج میں نکلا ہو ۔یہ کوئی سائنس فلشن نہیں،سائنسی نظریات یہ خیال جنم دے چکے کہ ہماری کائنات میں کہیں نہ کہیں کسی قسم کی مخلوق موجود ہو سکتی ہے۔اور قران پاک کی آیات میں بھی یہ شہادت موجود ہے جو چودہ سو سال قبل ہی دی جا چکی۔امید ہے،آنے والے برسوں میں سائنس داں مذید ٹھوس ثبوت سامنے لے آئیں گے۔
قران پاک کی سورہ البقرہ آیت29، سورہ اسرا آیت44،سورہ ال مومنون آیت86، سورہ نوح آیت15 اور سورہ الملک آیت 3میں سات آسمانوں(سماوات)کا تذکرہ آیا ہے۔مفسرین اور علمائے کرام نے ان آیات کی دو مختلف انداز میں تفسیر کی ہے۔اول یہ کہ ان میں سبع(سات)سے مراد کئی آسمان یا دنیائیں ہیں۔دوم یہ کہ آیات میں سات آسمانوں کا تذکرہ ہے۔
جدید مفسرین کے نزدیک پہلے آسمان سے مراد ہماری کائنات ہے جس میں تمام کہکشائیں،ستارے،سیارے وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ بقیہ آسمانوں یا دنیاؤں کو انسان دریافت نہیں کر سکا۔وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کی ہیئت و ساخت کس نوعیت کی ہے۔بعض مفسرین نے زمین کو چھوڑ کر ساتوں آسمانوں کی تشریح کچھ یوں بیان کی ہے:
٭پہلا آسمان پانی سے بنا ہے۔اس میں حضرت آدمؑ رہائش پذیر ہیں۔اسی مقام پر بیشتر عام فرشتے بھی قیام رکھتے ہیں۔ایک روایت کی رو سے اس آسمان پہ اسرا کے دوران نبی کریمﷺ کی ملاقات حبیب نامی فرشتے سے ہوئی تھی۔٭دوسرا آسمان یا دنیا سفید موتیوں سے بنی ہے۔اس جگہ حضرت عیسیؑ اور حضرت یحییؑ رہتے ہیں۔٭تیسرا آسمان چمکیلے معدن سے بنایا گیا۔اس دنیا میں حضرت یوسفؑ اور موت کے فرشتے ،عزرائیل قیام پذیر ہیں۔
٭قدرت الہی نے چوتھا آسمان سفید سونے سے تخلیق فرمایا۔اس مقام پہ حضرت ادریسؑ تشریف فرما ہیں۔٭پانچواں آسمان چاندی سے بنا ہے۔اس دنیا میں حضرت ہارونؑ کی رہائش ہے۔٭چھٹا آسمان سونے یا یاقوت احمر سے بنایا گیا۔اس جگہ حضرت موسیؑ قیام رکھتے ہیں۔٭ساتواں اور آخری آسمان نور الہی سے تخلیق ہوا۔اسی دنیامیں سدرۃ المنتہی واقع ہے جس کے آگے کوئی ذی حس نہیں جا سکتا۔اس مقام پہ حضرت ابراہیم علیہ السلام رہتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2226056/1/
وقار دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہے۔عائشہ گھر میں بیٹھی فلم دیکھنے میں محو ہے۔رخسانہ بازار میں خریداری کرتے ہوئے بذریعہ وٹس اپ اپنی سہلیلوں سے مصروف گفتگو ہے۔
علی نیاگرا آبشار دیکھتے ہوئے اپنے موبائل پہ اس تفریحی مقام کی تاریخ پڑھ رہا ہے۔ذرا بتائیے کہ ان چاروں میں کیا بات قدر مشترک ہے؟
جی ہاں، یہ سبھی انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے کام انجام دے رہے ہیں،دور جدید کی محیر العقول اور حیرت انگیز ایجاد۔اس کے ذریعے انسان کئی ایسے کام بہ آسانی کرنے لگے ہیں جنھیں کرتے ہوئے پہلے دقت ہوتی تھی۔
مثال کے طور اب چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود اپنے پیاروں سے رابطہ کر لیجیے۔کوئی مسئلہ ہو تو میاں گوگل کی مدد سے حل کیجیے۔فلم یا ڈرامہ دیکھنا ہے تو نیٹ حاضر۔غرض یہ ایجاد موجودہ دور کا جن ہے،چٹکی بجاتے ہی بہت سے کام کر دینے والا!
جدید دور کی محسن
عام طور پہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی سیاروں یعنی سیٹلائٹس نے انٹرنیٹ کو پوری دنیا میں رواں دواں رکھا ہوا ہے۔یہ تاثر غلط ہے۔انٹرنیٹ کا دماغ اگر پوری دنیا کے ممالک میں پھیلے سرور ہیں تو اس کا جسم وہ پونے چار سو سے زائد ہیوی ڈیوٹی تاریں ہیں جو سمندروں کے نیچے بچھائی گئی ہیں۔
انٹرنیٹ سمیت بنی نوع انسان کی ’’95فیصد‘‘کمیونکیشن یا عرف عام میں رابطہ انہی زیرسمندر بچھی تاروں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔گویا انہی تاروں نے رابطے،خبر رسانی اور مواصلات کا پورا عالمی نظام اپنے کاندھوں پہ اٹھا رکھا ہے۔یہ ایک طرح سے انسانیت خاص طور پہ جدید دور کی محسن ہیں۔یہ نہ ہوں تو دنیا میں رابطے کا بین الاقوامی نظام دھڑام سے گر پڑے۔
نیا مسئلہ
سمندر میں تاریں بچھانے کا خیال سب سے پہلے امریکی موجد، سیموئیل مورس کو آیا۔وہ دیگر مغربی موجدوں کے ساتھ ٹیلی گراف(تار)ایجاد کرنے کی کوششیں کر رہا تھا۔یہ بجلی کی تاروں کے ذریعے پیغام رسانی کا پہلا جدید طریق کار تھا۔
1939ء میں آخر برطانیہ کے موجدوں،ولیم کوکی اور چارلس وہیٹ سٹون نے تجارتی مقاصد پورے کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیلی گراف مشین ایجاد کر لی۔جلد ہی ایک نیا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ زمین پہ تو کھمبوں کی مدد سے ہر جگہ تاریں پہنچ گئیں،مگر درمیان میں کوئی دریا یا سمندر آتا تو سارا کام ٹھپ ہو جاتا۔اب کیا کیا جائے؟

اس دوران ہی سیمویل مورس نے یہ خیال پیش کیا کہ تاریں سمندر کی تہہ میں بچھا دی جائیں۔اس کے لیے ضروری تھا کہ تار پہ کوئی ایسا عمدہ مواد لپیٹ دیا جائے جو نہ صرف اسے پانی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھے بلکہ بجلی کو بھی پانی میں دوڑنے نہ دے۔
یہ مقصد پورا کرنے کی خاطر مورس نے تجربات کرتے ہوئے مختلف میٹریل آزمائے۔مثلاً 1842ء میں ایک تار کو پٹ سن اور ہندوستانی ربڑ(india rubber)میں لپیٹا اور پانی میں ڈبو دیا۔یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا کیونکہ پانی نے جلد دونوں کو گلا دیا۔
ملایا کی گوند
1842ء میں دریافت ہوا کہ ملایا میں ملنے والے ایک درخت سے حاصل شدہ گوند ’’گٹا پرچا‘‘ (Gutta-percha) کافی سخت اور اچھا حاجز (insulator)ہے یعنی اس میں بجلی کا کرنٹ نہیں دوڑ سکتا۔چناں یہ گوند تار پہ اچھی طرح لپیٹ کر اسے زیرسمندر ڈال دیا گیا۔
وہ طویل عرصے تک خراب نہیں ہوئی۔اس طرح ماہرین کو ایسا میٹریل مل گیا جو کئی سال تک تار کو پانی میں محفوظ رکھ سکے اور آبی اثرات اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔
جرمنی میں مشہور شہر،کولوجن کے نزدیک ایک قصبہ،ڈیوٹز واقع ہے۔ان کے درمیان دریائے رائن بہتا ہے۔1847 ء میں ان دونوں بستیوں کو ٹیلی گراف کے ذریعے ملانے کی خاطر رائن دریا میں تار بچھائی گئی۔یہ دنیا میں پہلی زیرآب تار تھی۔ تار کو ’’گٹا پرچا‘‘ سے محفوظ بنایا گیا تھا۔
اس کو ایک جرمن میکینکل انجینئر، کارل ولہلم سیمنز کی زیرنگرانی بچھایا گیا۔یہ تجربہ کامیاب رہا۔یوں اب ٹیلی گراف کی تاریں بچھانے کے لیے پانی رکاوٹ نہیں رہا۔انسان کی ذہانت اور اپچ نے یہ مسئلہ بھی حل کر لیا۔
ممالک کو ملانے والی پہلی تار
اس اثنا میں دو برطانوی انجیئنر بھائیوں، جان اور جیکب وٹکنز نے فیصلہ کیا کہ فرانس اور برطانیہ کے درمیان واقع انگلش چینل میں ٹیلی گراف تار بچھائی جائے۔انھوں نے دونوں حکومتوں سے اجازت نامہ لے لیا۔اگست 1850ء ،میں یہ تار بچھائی گئی مگر اس پہ صرف گٹا پرچاکا لیپ ہوا تھا۔اس پہ کسی سخت میٹریل کو لپیٹنا بھی ضروری تھا تاکہ وہ چٹانوں کی رگڑ اور کشتیوں و جہازوں کے آلات سے محفوظ رہے۔یہی وجہ ہے، ایک کشتی کے جال میں پھنسنے سے تار ٹوٹ گئی۔یوں سمندر میں تار بچھانے کا پہلا تجربہ ناکام رہا۔
دونوں انجیئنر بھائیوں نے مگر ہمت نہیں ہاری۔انھوں نے پیسے جمع کر کے ایک نیا ادارہ،سب میرین ٹیلی گراف کمپنی قائم کر لیا۔اب انھوں نے ایسی تار تیار کرائی جس کے گرد فولادی میٹریل چڑھایا گیا۔یہ تار نہ صرف مضبوط بلکہ بھاری بھی تھی۔ اس لیے تہہ سمندر بیٹھ گئی۔یہ 29 میل (کلومیٹر) لمبی تھی جو ستمبر 1851ء میں انگلش چینل میں اتاری گئی۔19نومبر سے اسے عوام الناس استعمال کرنے لگے۔یہ دو ممالک کو ملانے والی دنیا کی پہلی تار تھی۔
یہ تار کامیاب ثابت ہوئی۔برطانیہ اور فرانس کے مابین ٹیلی گراف بھیجے جانے لگے۔ پیغام رسانی ماضی کی نسبت کافی تیزرفتار ہو گئی۔اس سے دونوں ممالک کی حکومتوں ،تاجروں اور کاروباریوں کو بہت فائدہ پہنچا۔فوائد دیکھ کر دیگر ممالک بھی اپنے مابین تار بچھانے کی کوششیں کرنے لگے۔ساتھ ہی تار کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے تحقیق و تجربات بھی ہونے لگے۔
1853ء میں برطانیہ کو بذریعہ زیرسمندرتار آئرلینڈ،بیلجئم،ہالینڈ اور ڈنمارک سے ملا دیا گیا۔اس زمانے میں امریکا اور برطانیہ مغربی تہذیب وتمدن کے دو سب سے بڑے مراکز تھے۔
لہذا سمندر میں تار بچھا کر انھیں منسلک کرنے کی باتیں ہونے لگیں۔ اسی دوران زیرسمندر تار کی تاریخ میں ایک نیا کردار سامنے آتا ہے۔سائرس ویسٹ فیلڈ امریکی کاروباری تھا۔اسے بحیرہ اوقیانوس میں تار بچھانے کا منصوبہ منافع بخش نظر آیا۔ گو یہ خطرات بھی پوشیدہ تھے کہ رقم ڈوب جائے گی۔پھر بھی وہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر سرگرم ہو گیا۔
بحراوقیاس میں تار
پہلے تو اس نے زیر سمندر تار بچھانے سے متعلق مختلف سائنس دانوں، انجیئنروں اور ماہرین سے ملاقاتیں کیں اور اس نئی ٹکنالوجی کو سمجھ لیا۔وہ پھر سرمایہ کاروں سے ملنے لگا تاکہ ان سے سرمایہ لے کر منصوبے کو عملی صورت میں ڈھال سکے۔

اس مقصد کے لیے سائرس ویسٹ نے اکتوبر1856ء میں ایک کمپنی،دی اٹلانٹک ٹیلی گراف کمپنی قائم کر دی۔مطلوبہ سرمایہ حاصل کرنے کے بعد سائرس نے برطانیہ اور امریکا کی حکومتوں سے رابطہ کر لیا۔وہ بھی منصوبے کی حمایتی بن گئیں۔یہی نہیں، انھوں نے سائرس کو سرمایہ فراہم کیا اور وہ جہاز بھی جنھوں نے بحراوقیاس میں تار بچھانی تھی۔
یہ کام مگر آسان نہیں تھا۔جہازوں نے سمندر میں 2500کلومیٹر لمبی تار بچھانی تھی۔یہ تاریخ انسانی میں اپنی نوعیت کا پہلا کام تھا۔یہ تار دو کارخانوں میں تیار ہوئی۔تار کو مختلف مضبوط اور سخت مادوں سے لپیٹا گیا۔مدعا یہی تھا کہ وہ نہ صرف سمندرکی تہہ میں بیٹھ جائے بلکہ نمکین اور کیمیائی پانی کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہے۔ یہی وجہ ہے،ہر ناٹیکل میل(1852 میٹر)پر جو تار بچھائی گئی، اس کا وزن آدھے ٹن(550کلو)کے برابر تھا۔
ایک جہاز نے امریکا اور دوسرے نے برطانیہ سے سفر کر کے تاریں بچھانے کا کام شروع کیا۔ دونوں جہازوں کے عملے کو اپنا کام انجام دیتے ہوئے مختلف مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کبھی سمندری طوفان کام روک دیتا۔کبھی زیر سمندر چٹانیں مزاحم بن کر تار نہ بچھانے دیتیں۔اس زمانے میں ٹکنالوجی بھی خام تھی۔ اس باعث بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔چند بار تو تار ہی ٹوٹ گئی۔ان مسائل کی وجہ سے ایک وقت تو ایسا آیا کہ کمپنی کے ڈائرکٹر منصوبہ ہی ترک کرنے کا سوچنے لگے۔تاہم سائرس ویسٹ نے انھیں حوصلہ دیا، ہمت بڑھائی اور یوں کام جاری رہا۔
آخر 29 جولائی 1858 ء وہ تاریخی دن ہے جب امریکا اور برطانیہ سے چلے اور تار بچھاتے آتے بحری جہاز بحر اوقیانوس کے وسط میں آن ملے۔انھوں نے پھر تار کے دونوں سروں کو جوڑ دیا۔
اس طرح پہلی بار یورپ اور شمالی امریکا کے براعظم تار سے باہم منسلک ہو گئے۔یہ ایک تاریخ ساز موقع تھا۔دو ہفتے بعد ٹیلی گراف تار کامیابی سے بچھائے جانے پر برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نے امریکی صدر ،جیمز بکانن کو ایک تہنیتی تار روانہ کیا۔اس میں ملکہ نے امید ظاہر کی کہ تار کے ذریعے دونوں ممالک آپس میں معاشی اور معاشرتی روابط بڑھا سکیں گے۔
تار پہنچنے میں سترہ گھنٹے
دلچسپ بات یہ کہ ملکہ وکٹوریہ کے تار کو امریکی صدر تک پہنچنے میں ’’سترہ گھنٹے‘‘ لگ گئے۔وجہ یہ ہے کہ تار مورس کوڈ کی مدد سے بھجوایا گیا۔وہ ایک لفظ بھجوانے میں ’’دو منٹ پانچ سیکنڈ ‘‘صرف کرتا تھا۔دور جدید میں یہ سن کر ہنسی آتی ہے۔مگر اس زمانے کے حساب سے یہ پیغام ’’بہت جلد‘‘ پہنچ جانے والا سمجھا گیا۔ظاہر ہے، اس وقت ایک بحری جہاز برطانیہ سے امریکا پہنچتے ہوئے کئی دن لگا دیتا تھا۔
یہ تار نجی سرمایہ کاروں نے پیسا خرچ کر کے بچھائی تھی۔لہذا اب وہ منافع پانے کے خواہشمند تھے۔ اگلے سات آٹھ سال کے عرصے میں وہ تکنیکی خرابیاں خاصی حد تک دور کر دی گئیں جن کے باعث تار دیر سے پہنچتا تھا۔ایسے آلات بھی ایجاد ہو گئے جو زیر سمندر تار میں وقفے وقفے سے لگائے جاتے تو تار کی رفتار بڑھا دیتے۔چناں چہ1866 ء تک تار کا ایک لفظ چھ سات منٹ میں بھجوایا جانے لگا اور پیغام رسانی کی رفتار بڑھ گئی۔جب دونوں براعظموں کے درمیان رابطہ تیز ہوا تو کمپنی نے تار کی قیمت بھی مقرر کر دی۔
1866 ء میں بیس الفاظ پہ مشتمل تار برطانیہ سے امریکا بھجوانے پر ’’بیس ڈالر‘‘ خرچ ہوتے تھے۔یہ اس زمانے کے لحاظ سے خاصی بڑی رقم تھی۔اس بات کا اندازہ یوں لگائیے کہ تب برطانوی اور امریکی شہریوں کی عام تنخواہ پچاس ڈالر تھی۔یہی وجہ ہے۔
اس وقت صرف امیر تاجر،کاروباری ،سرمایہ کار اور حکومتیں ہی تار کا خرچ برداشت کر سکتی تھیں۔آج یہ بڑی انوکھی بات لگتی ہے کیونکہ اب انٹرنیٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں باہمی رابطہ تقریباً مفت ہو چکا۔بلکہ پاکستان سے امریکا بذریعہ وٹس اپ چند روپے میں وڈیو کال ہو جاتی ہے۔
جنگ عظیم جیتنے میں مدد
بہرحال جیسے جیسے ٹیلی گراف اور تار بنانے کی ٹکنالوجی بہتر ہوئی،وقت اور پیسے کی بچت ہونے لگی۔انیسویں صدی کے اختتام تک فی منٹ چالیس الفاظ بھجوانا ممکن ہو گیا۔ جب کہ تار بھیجنے کی فیس بھی خاصی کم ہو گئی۔یہ بھی واضح رہے کہ 1866 ء سے پہلی جنگ عظیم تک سمندروں میں تاریں بچھانے کا سارا کام برطانوی کمپنیوں نے انجام دیا۔
یہی وجہ ہے،پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کا ٹیلی گراف نظام برقرار رہا۔ جبکہ اس کے حریف جرمنی کا نظام تباہ و برباد کر دیا گیا۔تار سسٹم کام کرتے رہنے کی وجہ سے بھی برطانیہ و امریکا کو جنگ عظیم جیتنے میں مدد ملی۔
1866ء کے بعد برطانوی کمپنیاں بحرالکاہل،بحر ہند اور بحیرہ روم میں بھی زیرسمندر تاریں بچھانے لگیں۔1870ء میں بمبئی(ہندوستان) اور لندن کے درمیان بھی تار بچھ گئی۔1872ء میں سنگاپور اور چین کے راستے آسٹریلیا کا بھی ہندوستان سے بذریعہ تار رابطہ ہو گیا۔1870ء میں نیوزی لینڈ بھی برطانوی ٹیلی گرافک نظام میں چلا آیا۔یوں انگریزوں نے اپنی پوری سلطنت میں زیرسمندر تاروں کا جال بچھا دیا۔اس تبدیلی سے انھیں سلطنت کا انتظام کرنے اور نظم ونسق سنبھالنے میں بہتر طور پہ مدد ملی۔
600ڈالر کی کال
اسی دوران باہمی رابطے کا ایک اور جدید طریقہ، ٹیلی فون ایجاد ہو گیا۔1927ء میں ریڈیائی لہروں کے ذریعے امریکا اور برطانیہ کے مابین ٹیلی فون سروس شروع ہو گئی۔ مگر اس سروس کی فیس بہت زیادہ تھی۔تین منٹ کی کال کرنے پر صارف کو ’’45 ڈالر ‘‘دینے پڑتے جو اچھی خاصی رقم تھی۔موجودہ شرح کی حساب سے یہ رقم ’’600 ڈالر‘‘ یعنی ایک لاکھ چودہ ہزار روپے بنتی ہے۔اسی لیے ماہرین کوششیں کرنے لگے کہ زیرسمندر ٹیلی فون تار بچھائی جا سکے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس وٹکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہوئی۔ رفتہ رفتہ ایسے جدید آلات اور میٹریل ایجاد ہو گئے جو زیرسمندر ٹیلی فون تاروں کو پانی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھ سکیں۔
چناں چہ تین مغربی کمپنیوں…جنرل پوسٹ آفس برطانیہ،امریکن ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف کمپنی اور کینیڈین اوورسیز ٹیلی کمیونکیشن کارپوریشن نے دسمبر1953ء میں بحراوقیانوس میں ٹیلی فون تار بچھانے کا معاہدہ کر لیا۔یہ منصوبہ 25دسمبر 1956ء کو مکمل ہوا۔دنیا کی پہلی زیرسمندر ٹیلی فون تار کو ’TAT-1‘‘کا نام دیا گیا۔اس کے ذریعے بیک وقت پینتیس کالیں کرنا ممکن تھا۔

ٹیلی کمیونکیشن کے شعبے میں سائنس وٹکنالوجی ترقی کرتی رہی۔اس سے دو فوائد حاصل ہوئے۔اول یہ کہ بذریعہ تار زیادہ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہو گیا۔دوم یہ کہ خرچہ بھی کم آنے لگا۔1980ء کے عشرے میں ماہرین نے فائبر آپٹک تار ایجاد کر لی۔ان میں ڈیٹا تانبے نہیں گلاس سے بنی تاروں میں سفر کرتا ہے۔
یہ تاریں زیادہ ہلکی اور لچکدار ہوتی ہیں۔نیز ان کے ذریعے ڈیٹا زیادہ تیزرفتاری اور زیادہ مقدار میں بھجوانا ممکن ہے۔1988ء میں پہلی فائبر آپٹک تار امریکا اور برطانیہ کے مابین بچھائی گئی۔ یہ TAT-8کہلاتی ہے۔اس تار کی وساطت سے فی سیکنڈ 28ٹیرا بائٹ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہو گیا۔
ریڑھ کی ہڈی
اس وقت دنیا میں ’380‘‘تاریں زیر سمندر بچھی ہوئی ہیں۔ان کے ذریعے روزانہ اربوں میگا بائٹ ڈیٹا اِدھر سے اُدھر سفر کرتا ہے۔انہی تاروں نے دور جدید کے عالمی کاروباری،تجارتی اور معاشرتی نظام کو نہ صرف رواں دواں رکھا ہوا ہے بلکہ بخوبی سنبھال بھی لیا۔درحقیقت ان تاروں کو عالمی معاشی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو بجا ہو گا۔
ان پونے چار سو زیر سمندر تاروں میں سب سے زیادہ طویل تار ’’سدرن کراس کیبل‘‘ (Southern Cross Cable)کہلاتی ہے۔ یہ فائبر آپٹیکل تار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو بذریعہ ہوائی امریکا سے منسلک کرتی ہے۔ 28900 کلو میٹر لمبی ہے۔ اس میں سے 1600کلومیٹر لمبی تار خشکی پہ بچھائی گئی ہے۔یہ 2000ء سے اپنا کام انجام دے رہی ہے۔اس کے ذریعے فی سیکنڈ 72ٹیرا بائٹ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہے۔
اگر سب سے زیادہ ڈیٹا بھجوانے والی تار کی بات کی جائے تو اس شعبے میں ’’ماریا‘‘ (MAREA)کا اول نمبر ہے۔یہ 6600کلومیٹر طویل تار اسپین اور امریکا کے مابین بچھائی گئی۔اس کے ذریعے فی سیکنڈ 200ٹیرا بائٹ ڈیٹا بھجوایا جاتا ہے۔ یہ تار مائکروسوفٹ اور فیس بک کی ملکیت ہے۔
نئی زیرسمندر تاریں
دنیا میں ٹکنالوجی کی چار بڑی کمپنیاں…ایمیزن،گوگل،فیس بک اور مائکروسوفٹ زیرسمندر تاریں بچھانے کے سلسلے میں کافی سرگرم ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے۔ ان کی تمنا ہے کہ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا دنیا بھر میں گھوم پھر سکے۔
اسی لیے یہ کمپنیاں زرکثیر خرچ کر کے سمندروں میں نئی تاریں بچھا رہی ہیں۔مثال کے طور پہ ’’ٹو افریقا‘‘ (2 Africa) کیبل سسٹم نامی زیرسمندر تار کا منصوبہ فیس بک،چائنا موبائل انٹرنیشنل،ووڈا فون،ٹیلی کام مصر اور دیگر کمپنیوں نے مل کر بنایا ہے۔ یہ تار ’’26‘‘ممالک تک پھیلی ہو گی۔ یوں ٹو افریقا دنیا میں سب سے لمبی زیرسمندر تار بن سکتی ہے۔یہ یورپ،افریقا اور مشرق وسطی تک پھیلی ہو گی۔
اُدھر فیس بک اور گوگل مل کر ’’ایپریکوٹ‘‘ (Apricot) نامی زیرسمندر تار بچھانے میں مصروف ہیں۔یہ تار بحرالکاہل کے ایشیائی ممالک مثلاً جاپان، تائیوان، فلپائن، انڈونیشیا اور سنگاپور کو آپس میں ملائے گی۔یہ منصوبہ اسّی ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہو گا۔2023ء سے کام کرنے لگے گی۔
خیال ہے کہ تب سب سے زیادہ ڈیٹا بھجوانے والی تار بھی کہلائے گی۔اس کے ذریعے فی سیکنڈ ’’220‘‘ٹیراباٹ ڈیٹا بھجوانا ممکن ہو گا۔اس کی طوالت پندرہ ہزار کلومیٹر ہونے کا امکان ہے۔
ایک رپورٹ کی رو سے 2025ء تک دنیا کے سمندروں میں بچھی تمام تاروں کی لمبائی ’’آٹھ لاکھ میل‘‘تک پہنچ جائے گی۔یہی تاریں غیرمرئی انٹرنیٹ کی بنیاد ہیں مگر عام لوگ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔البتہ جب کوئی تار کٹ یا خراب ہو جائے تو تاروں کے اس وسیع وپُراسرارنظام کی بابت عوام خبریں سنتے اور واقف ہوتے ہیں۔
جب تار ٹوٹ جائے
مثال کے طور پہ اگست 2017ء میں پاکستان کو انٹرنیٹ فراہم کرنے والی ایک زیر سمندر تار ’’آئی ۔ایم ای۔ڈبلیو ای جدہ،سعودی عرب کے نزدیک ٹوٹ گئی۔ نتیجے میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہت سست ہو گئی کیونکہ تار ٹوٹنے سے ڈیٹا کم موصول ہونے لگا۔جب تار جوڑی گئی، تبھی صورت حال بہتر ہوئی۔تاریں ٹوٹنے یا ان میں کوئی خرابی جنم لینے کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کمیونکیشن خصوصاً انٹرنیٹ میں تعطل پڑ جاتا ہے۔
پاکستان چھ زیرسمندر تاروں…ایس ایم ڈبلیو5-،ٹی ڈبلیو- 1، ایس ایم ڈبلیو 3-،ایس ایم ڈبلیو4-،آئی ۔ایم ای۔ڈبلیو ای اور اے اے ای1-کے ذریعے بیرون ممالک سے منسلک ہے۔ان میں دو ابتدائی تاروں کا نظام ایک نجی کمپنی،ٹرانز ورلڈ ایسوسی ایٹ نے سنبھال رکھا ہے جبکہ پاکستان کی حدود میں بقیہ تاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا ذمے دار قومی ادارہ، پی ٹی اے ہے۔’’پیس‘‘کے فعال ہونے سے پاکستان سات زیرسمندر تاروں سے منسلک ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق تاریں ٹوٹنے یا خراب ہونے کے 75فیصد واقعات کی ذمے دار انسانی سرگرمیاں ہیں۔کبھی مچھلیاں پکڑنے والے جہازوں کے جال میں پھنس کر تاریں ٹوٹ جاتی ہیں۔کبھی جہاز کا لنگر تار سے ٹکرا کر اسے خراب کر دیتا ہے۔ اس کے بعد قدرتی آفات تاروں پہ اثرانداز ہوتی ہیں۔مثلاً سمندری طوفان، زیر سمندر آنے والے زلزلے اور لینڈ سلائیڈز وغیرہ۔2006ء میں تائیوان کے نزدیک سمندر میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا۔اس نے علاقے میں پھیلی سات تاریں توڑ ڈالیں۔ چناں چہ تائیوان،ہانگ کانگ،چین،جاپان،کوریا اور فلپائن میں انٹرنیٹ کی رفتار بہت متاثر ہوئی۔
زیر سمندر تاریں اکثر خراب ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے،تمام ممالک اپنی کمیونکیشن زیادہ سے زیادہ تاروں کے ذریعے بحال رکھتے ہیں۔اس روش کی حکمت یہ ہے کہ اگر ایک تار ناکارہ ہو جائے تو دیگر تاروں کی مدد سے کمیونکیشن برقرار رہے۔ ترقی یافتہ اور امیر ممالک تو سیکڑوں تاروں سے باہم منسلک ہیں۔اسی لیے وہاں کوئی زیرسمندر تار خراب ہو جائے تو عام لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔دیگر تاروں کے ذریعے رابطہ بحال رہتا ہے۔
تاریں کیسے بچھتی ہیں؟
زیرسمندر تاریں بچھانا ایک طویل اور مہنگا عمل ہے۔اس پہ اربوں روپے خرچ ہوتے اور کئی ماہ لگتے ہیں۔سب سے پہلے ماہرین سمندر میں ایسا راستہ تلاش کرتے ہیں جہاں چٹانیں کم سے کم اور میدانی علاقہ زیادہ سے زیادہ ہو۔وجہ یہ کہ میدانی علاقے میں تار تہہ میں بیٹھ جاتی ہے۔چٹانیں آس پاس ہوں تو ان کی رگڑ سے تار کو نقصان پہنچتا ہے۔مذید براں ماہرین گہرائی والے علاقوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بھی تار محفوظ رہتی ہے۔
ساحل سمندر پہ لینڈنگ اسٹیشن واقع ہوتا ہے۔ وہیں سے زیر سمندر تار کا آغاز ہوتا ہے۔اندرون ملک سے آنے والی خشکی کی تاریں لینڈنگ اسٹیشن پر زیرسمندر تار سے جڑتی ہیں۔زیرسمندر تار کو محفوظ کرنے کے لیے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں۔مثلاً لینڈنگ اسٹیشن الگ تھلگ واقع ہوتا ہے۔نیز اس کے نزدیک خندقیں کھودی جاتی ہیں تاکہ تار زیادہ گہرائی میں پہنچ کر محفوظ ہو سکے۔
دور جدید کی زیرسمندر تار کو محفوظ بنانے کے لیے گلاس سے بنی آپٹک فائبر تار پہ سات مختلف مادوں کی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔تار پر سب سے پہلے پٹرولیم جیلی کی تہہ لگتی ہے۔پھر تانبے یا المونیم سے بنی تہہ چڑھتی ہے۔اس کے بعد پولی کاربونیٹ،المونیم،اسٹیل،مائلر ٹیپ اور پولی تھلین سے بنی تہیں چڑھائی جاتی ہیں۔ان تمام مادوں کی وجہ سے تار کے اندر سمندری پانی داخل نہیں ہو پاتا۔نیز تار کئی عشروں تک قابل استعمال رہتی ہے۔جن علاقوں میں پانی اتھلا ہو،تو وہاں تار کو محفوظ کرنے کی خاطر خصوصی انظامات کیے جاتے ہیں۔
جب راستہ متعین ہو جائے تو پھر پہلے بچھائی جانے والی تار بحری جہاز پہ چڑھائی جاتی ہے۔ایسے بحری جہاز میں تار بچھانے کے خاص آلات نصب ہوتے ہیں۔عام طور پہ جہاز پر تار چڑھاتے ہوئے ایک ماہ ڈیرھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔وجہ یہ کہ تار بہت وزنی ہوتی ہے۔مثلاً ماریا تار جو 6600کلومیٹر طویل ہے،اس کا وزن ’’چھیالیس لاکھ کلو‘‘ہے۔ دنیا میں سب سے وزنی حیوان نیلی وہیل ہے۔اگر چونتیس نیلی وہیل ہوں تو یہ وزن بنتا ہے۔
پاکستان کا ڈیٹا محفوظ ہو گیا
پاک فوج کی کمیونیکیشنز برانچ ’’ایس سی او‘‘(اسپیشل کمیونکیشن آرگنائزیشن) کہلاتی ہے۔2017ء میں ایس سی او کے سربراہ،میجر جنرل امیر عظیم نے قومی اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں بذریعہ انٹرنیٹ آنے والا ڈیٹا ان زیرسمندر تاروں کی وساطت سے آتا ہے جو بھارت سے گزر کر آتی ہیں۔
اس لیے یہ خطرہ موجود تھا کہ بھارتی کمپیوٹر ماہرین اسرائیلی یا امریکی ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستانی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیں۔گویا وہ اہم قومی راز پا سکتے تھے۔ لہذا پاک افواج کی خواہش تھی کہ کم ازکم عسکری نوعیت کا ڈیٹا بھارت سے گذر کر پاکستان نہ آئے۔
غور وفکر کے بعد طے ہوا کہ عسکری و حساس نوعیت کا سارا ڈیٹا چین کے راستے پاکستان منگوایا جائے۔اس ضمن میں چینی حکومت سے رابطہ کیا گیا تو حسب سابق اس نے بھرپور تعاون کیا۔حکومت چین کی کوششوں سے مختلف چینی کمپنیوں نے متعلقہ عسکری و غیر عسکری پاکستانی اداروں کو ٹکنالوجی،آلات،خدمات(سروسیز)اور قرضے فراہم کر دئیے تاکہ چین اور پاکستان کے مابین کمیونکیشکن نیٹ ورک قائم ہو سکے۔
یوں 2018ء کے اواخر میں چین کی ریاست،سنکیانگ سے راولپنڈی تک فائبر آپٹک تار بچھا دی گئی۔اس طرح وطن عزیز کا عسکری و حساس ڈیٹا اپنے سب سے بڑے دشمن کی زد میں آنے سے محفوظ ہو گیا۔
سنکیانگ اور راولپنڈی تک بچھی فائبر آپٹک تار کو اب کراچی تک پہنچنے والی ایک زیر سمندر تار’’پیس(PEACE)‘‘یعنی ’’پاکستان، ایسٹ افریقا کونیکٹنگ یورپ‘‘ کیبل سے منسلک کیا جا رہا ہے۔تین براعظموں میں پھیلی یہ زیرسمندر تار چین کی کمپنیوں کی ملکیت ہے۔اس کی لمبائی پندرہ ہزار کلومیٹر ہے۔اس کا شمار اہم زیرسمندر تاروں میں ہوتا ہے۔یہ حکومت چین کے عالمی منصوبے’’ڈیجٹل سلک روڈ‘‘انشیٹیو کا حصہ ہے۔
کرہ ارض کے تینوں بڑے براعظموں کے سمندروں میں ’’پیس‘‘تار اس لیے بچھائی گئی تاکہ چین کے عظیم الشان ’’بیلٹ اینڈ روڈ انشیٹیو‘‘میں شامل ممالک کے مابین رابطہ یا کمیونکیشن محفوظ،تیزرفتار اور سستی ہو سکے۔
پاکستان میں راولپنڈی سے کراچی تک فائبر آپٹک تار پاکستانی کمپنی،سائبر نیٹ چین کی کمپنی،ہواوے کے تعاون سے بچھا رہی ہے۔سائبر نیٹ لیکسن گروپ آف کمپنیز کا حصہ ہے۔یہ عرصہ دراز سے وطن عزیز کی تعمیر وترقی میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
جب پاکستان میں ’’پیس‘‘کا پورا نیٹ ورک مکمل ہو جائے گا تو ہم وطنوں کو زیادہ تیز رفتار انٹرنیٹ میّسر آئے گا۔نیز حکومت پاکستان اور ہماری افواج کا ڈیٹا بھی محفوظ رہے گا۔کمیونکیشن کا یہ جدید ترین نظام پاکستان میں ترقی و خوشحالی کے نئے سفر کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔
یاد رہے، مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ چین کی ٹیلی کمیونکیشن کمپنیاں اپنے آلات میں جاسوسی کرنے والے پُرزے اور سافٹ وئیر بھی فٹ کرتی ہیں۔اسی لیے امریکا،برطانیہ،آسٹریلیا،کینیڈا وغیرہ نے چینی ٹیلی کمیونکیشن کمپنیوں سے روابط ختم کر دئیے ہیں۔مگر پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے جاسوسی کے آلات کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
https://www.express.pk/story/2230819/508/
اب آپ بھی خلاء کی سیر کرنے جاسکتے ہیں جس کے لیے آپ کو پیشہ ور خلاباز بننے کی بھی ضرورت نہیں، مگر اس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا!
حالیہ سال جولائی میں ایک اور پرائیویٹ کمپنی ’’ورجن گالیکٹیک‘‘ کی جانب سے خلائی سیّاحت کے حوالے سے بڑی پیش رفت کی گئی ہے۔ کمپنی کے ارب پتی مالک رچرڈ برانسن اس وقت دنیا کے پہلے ارب پتی خلاباز بن گئے جب وہ خلاء کی سیر کو گئے۔
اس طرح دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس اپنی فرم ’’بلیواورجن‘‘ کی جانب سے خلاء میں سفر کرنے والے دوسرے امیر ترین خلاباز قرار پائے۔ دونوں نجی خلائی فرموں کے اہم حریف اسپیس ایکس کے بانی اور چیف ایلون مسک نے ماہ ستمبر میں ایک بڑی پیش رفعت کرکے اپنے حریفوں کو بھرپور جواب دے دیا، جب انہوں نے دنیا کی سب سے پہلی عام شہریوں کی خلائی پرواز کو کام یابی سے خلاء سفر پر روانہ کیا اور واپس لے آئے۔
اگرچہ ایلون اس سفر میں بذات خود شریک نہ تھے اور ان کے ایک ساتھی ارب پتی خلاباز مشن کے کمانڈر کے طور مہم میں شامل تھے، جنہوں نے سفر کے تمام اخراجات برداشت کیے۔ اس طرح جیرڈآئزک مین دنیا کے تیسرے ارب پتی خلاباز ہیں جو عام شہر ی کے طور پر خلابازی کا تجربہ رکھتے ہیں۔ یوں ان ارب پتیوں نے خلائی سیّاحت کا دروازہ عام لوگوں کے لیے کھول دیا ہے۔ اس خلائی مشن کو Inspiration4″ ” کا نام دیا گیا ہے۔ انسپائریشن کا مطلب ہے ’’حوصلہ یا ہمت افزائی۔‘‘
خلابازی کے ابتدائی دور میں خلائی سفر پر جانے والے سخت جسمانی واعصابی ساخت کے مالک ہوتے تھے۔ مخصوص قد کاٹھ، ہڈی و جبڑوں کے حامل امیدواروں کو انتہائی مشقت سے بھر پور تربیت سے گزرنا ہوتا تھا، تاکہ وہ کشش ثقل کے ماحول میں رہ سکیں۔ اسی لیے ابتدائی ایام میں خلابازوں کے گروپ کا تعلق فوج سے رہا ہے، جن میں زیادہ تر ایئرفورس کے جوان ہوتے تھے۔
فی زمانہ خلابازی کے لیے چناؤ بھی غیرمعمولی تعلیمی سرگرمیوں کی بنیاد پر ہوتا ہے اور پھر خلابازوں کی مخصوص طریقے سے تربیت کے بعد ہی خلاء میں جانے کا سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے، جب کہ نئی خلائی مہم پر جانے والے چاروں سویلین خلانوردوں کو عام شہری کے طور پر منتخب کیا گیا اور چھے ماہ کی تربیت سے گزارا گیا ہے۔ چاروں خلابازں میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ یہ کہ سب ہی خلاء سے لگاؤ اور محبت رکھتے ہیں۔ ان چاروں عام شہری خلابازوں کے بارے میں جانا جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کسی طرح بھی پروفیشنل خلابازوں سے تعلیم، فنّی صلاحیت اور قابلیت کے لحاظ سے کم نہیں ہیں۔
خلابازی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب پیشہ ورانہ خلابازوں کے بجائے عام لوگوں کو سفر کے لیے چنا گیا اور امریکی قومی خلائی ادارے ’ناسا‘ کی مدد کے بنا ایک نجی خلائی فرم سے خلاء کی جانب روانہ کیا گیا۔ اس کا اہم مقصد خلائی سیّاحتی راستے کو فروغ دینا اور خلاء تک عام لوگوں کی رسائی ممکن بنانا ہے۔ اگرچہ ابھی خلائی سیّاحت کا یہ شوق بہت مہنگا ہے اور صرف امیر ترین لوگوں کا کھیل سمجھا جارہا ہے، لیکن آنے والے وقت میں امید کی جارہی ہے کہ خلائی سیّاحت کے اخراجات میں کمی لائی جاسکے گی۔

مشن انسپائریشن فور کا آغاز 15 ستمبر کی صبح8:02 منٹ پر اسپیس ایکس کے فیلکن راکٹ سے ہوا تھا اور اختتام مشرقی وقت کے مطابق 18ستمبر کی شام 7:06 کو ہوا جب چاروں خلاباز کے کریو ڈریگن کیپسول پیرا شوٹ کی مدد سے کوسٹ آف فلوریڈا کے پانی پر اترگیا، اسے ’’فلیش ڈاؤن‘‘ کہا جاتا ہے۔
انسپائریشن یا حوصلہ افزائی کا مقصد200 ملین ڈالر کی خطیر اکٹھا کرنا تھا تاکہ سینٹ جوڈ چلڈرن ریسرچ اسپتال کی امداد کی جاسکے۔ ایلون مسک کی جانب سے بھی چلڈرن اسپتال کو دی جانے والی اس امداد میں دو سو ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ڈریگن خلائی جہاز میں نئی تبدیلی یا اضافہ شیشے کا گنبدنما ’’کپولا‘‘ (Glass Cupola) ہے، اسے پہلی بار جہاز میں نصب کیا گیا ہے اس کا خیال خلائی اسٹیشن ISS کی ونڈو کو دیکھتے ہوئے رکھا گیا ہے، کیوںکہ اس سے پہلے ڈریگن کریو کے جہاز صرف خلائی اسٹیشن پر خلابازوں کو پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے ہیں، جن میں خلائی جہاز اور خلائی اسٹیشن کا ملاپ ہوتا ہے، جسے ’’ڈوکنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔
چوںکہ اب نیا ڈریگن کا تین روزہ مشن خلائی اسٹیشن کے بجائے زمین کے اطراف مدار میں چکر لگاکر واپس آنا تھا، اسی لیے ڈریگن کے اس لمبے سفر میں خلابازوں کے تمام مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے جہاز کے میکنزم میں تبدیلی کی گئی اور جہاز میں ونڈو ’’کپولا‘‘ لگانے کے لیے ڈوکنگ ایڈاپٹر کو تبدیل کردیا گیا ہے، جو کہ جہاز کی ناک “Nosecane” کے نیچے چھپا ہوتا ہے اور ایک ایئرلاک سسٹم سے کھلتا اور بند ہوتا ہے۔
پہلے یہ نیسکون خلائی اسٹیشن کے ملاپ کے وقت کھلا ہوتا تھا۔575 کلومیٹر کی بلندی کے مقام یا اپوجی پر کپولا کا آبزرویشن گنبد تین تہہ والے شیشے سے بنا ہے جسے نہایت محتاط طریقے سے آزمائش کے بعد عمدگی سے فٹ کیا گیا تھا۔ اس کپولا ونڈو سے خلابازوں نے زمین اور خلاء کی تاریکی کے حیرت انگیز اور شان دار مناظر کا مشاہد ہ کیا۔ ڈریگن کرویوC-207کو فیلکن 9، بلاک5 راکٹ کی مدد سے خلاء میں بھیجا گیا۔ فیلکن نائی، بلاک فائیو اسپیس ایکس کا دوبارہ استعمال ہونے والا حصہ یا اسٹیج ہے۔ اس کی بلندی کی رینج زمینی مدار میں 590 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔
اسے کینیڈی خلائی مرکز۔ فلوریڈا کے لاؤنچنگ کمپلیکس39A سے خلاء کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔ 12 منٹ کے بعد اسپیس ایکس ڈریگن کا ماڈیول راکٹ کے دوسرے اسٹیج سے الگ ہوکر زمین پر آرہا۔ خلائی جہاز کرویو ڈریگن اپنی لاؤنچنگ اور واپس لینڈنگ تک مکمل طور پر خودکار ہے، جہاز کا عملہ اس کا مینولی آپریشن بھی کرسکتا ہے۔ خلائی جہاز کا کنٹرول سسٹم ٹچ اسکرین سے آپریٹ ہوتا ہے جیسے کہ بڑا آئی پوڈ، چند سوئچوں کے ساتھ جب کہ تمام تر سوئچس یا بٹن اسکرین ٹچ ہیں۔
خلاء میں نقل وحرکت کو جوائے اسٹکس کی طرح قابو کیا جاتا ہے، خلائی جہاز ایک عام طیارے یا کار کی ڈرائیونگ جیسا نہیں ہوتا ہے کیوںکہ جہاز بے وزنی کے زیراثر خلاء میں ڈول یا تیر رہا ہوتا ہے، اس کی حرکات کو دائیں یا بائیں کے بجائے آگے (فارورڈ) اور پیچھے (ریورس) کیا جاسکتا ہے۔ خلائی جہاز بلندی (Pitch) عمودی محور یا موڑ (Yaw)، چکر یا گھمانے(Roll) سے قابو کیا جاتا ہے۔ ایک عام فضائی طیارے اور خلائی جہاز میں فرق گریویٹی کا ہوتا ہے جو کہ خلاء میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے جہاز مُعلق ہوکر خلاء میں ڈولتے ہیں۔
چاروں خلاء باز کون ہیں؟ اس مشن فور کے کمانڈر جیرک آئزک مین کے ذہن میں چار ستون یا Pillars کا تھا جس کے مشن کا ہر رکن نمائندگی کرتا ہے،1۔ لیڈر شپ، 2۔ خوش حالی (Prosperity) ،3 امید(Hope) اور 4 ۔ فراخ دلی (Generosity)۔ اس لیے آئزک مین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ٹیم کو سینٹ جوڈ اسپتال سے منتخب کریں گے تاکہ اسپتال سے موضوع ترین امیدواروں کو موقع دیا جائے۔ ان کی خواہش تھی کہ ہر ممبر ایک ستون کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرے جس سے مستقبل کی نئی نسل کو ہمت و حوصلہ افزائی مل سکے۔
مشن کمانڈر،38 سالہ جیرک آئزک مین ایک بزنس ٹائکون ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں وہ اپنی کمپنی Shift-4 Payments کے سربراہ ہیں جو پیمنٹس کی ادائیگی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ جیرک نے اس پہلے عام شہری مشن کے اخراجات برداشت کیے ہیں اور 100 ملین ڈالر اسپیس ایکس کو ادا کیے۔ کبھی اسکول سے نکالے گئے، آئزک مین کا کہنا ہے کہ ’’کچھ لوگ پہلے بھی خلاء میں گئے ہیں اور ابھی بہت سے لوگوں کو جانا ہے!‘‘ اس طرح مشن کی سیاہ فام پائیلٹ ڈاکٹر شیان پروکٹر ’’خوش حالی‘‘ ، نرس ہیلی ’’امید‘‘ اور مشن کے ماہر کے طور پر کرسٹو فر سیمبروکس ’’فراخ دلی‘‘ کی علامت اور چوتھے ستون کے طور پر ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔
ڈاکٹر شیان 28 مارچ 1970 ء کو امریکی علاقےHaganta میں پیدا ہوئیں جو Guam کا مرکزی گاؤں ہے۔ وہ اپنی نوجوانی ہی سے خلاء سے محبت کرتی ہیں۔ ان کے والد نے Guam کے ریموٹ گراؤنڈ پر رہتے ہوئے اپالوخلائی مہم کے وقت تیکنیکی خدمات انجام دی تھیں۔ اس کے بعد وہ اپنی فیملی کو لے کر امریکا چلے گئے، جہاں شیان نے ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ 1992 ء میں وہ انوائرمنٹل سائنس میں گریجویٹ کرچکی تھیں پھر 1998ء میں انہوں نے ایروزونایونیورسٹی سے ’’جیالوجی‘‘ میں ماسٹر کیا جب کہ 2006 ء میں وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری ’’سائنس ایجوکیشن‘‘ میں پانے میں کام یاب ہوگئیں۔
وہ سائنس کی کمیونٹی کیٹر اور جیالوجی کی پروفیسر ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایروزونا ونگ کے ’سول ائیر پیٹرول‘ میں ایئراسپیس کی تعلیمی آفیسر بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ 2009 ء میں ناسا کے گروپ 20کی ایک ممکنہ امیدوار تھیں، لیکن بدقسمتی سے ان کا چناؤ نہ ہوسکا تھا۔ اب انسائریشن فور مشن میں بحیثیت پائیلٹ ان کی دیرینہ آرزو پوری ہوگئی ہے، جنہیں خوش حالی کی سیٹ ایک مقابلے کے بعد عطا ہوئی۔ اپنی تخلیق کردہ Shift4 Shop کے ذریعے وہ اپنی آرٹ جیولری فروخت کرتی ہیں، مقابلے میں انہوں نے ایک وڈیو بنائی تھی جو کہ ان کی دکان کو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس دکان کو دیکھنے کے بعد انہیں مشن کے ستون خوش حالی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
میڈیکل آفیسر ہیلی آرسینتاؤ(Hayley Arceneaux) ٹیم کی سب کم عمر ممبر ہیں۔4 دسمبر 1991 ء کو جنم لینے والی یہ باہمت لڑکی اب امریکا کی سب سے کم عمر خلاباز کا ٹائٹل حاصل کرچکی ہے۔ ہیلی جب دس برس کی تھی تو اسے کینسر کی موذی بیماری نے جکڑ لیا تھا۔ اس کے والدین نے سینٹ جوڈ چلڈرن اسپتال سے اس کا علاج کروایا تھا۔ کئی سرجریوں کے بعد جن میں اس کے ایک گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن بھی شامل تھا، کیمیائی علاج کے بعد اس نے کینسر کے خلاف جنگ جیت لی اور وہ صحت یاب ہوگئی۔
ہیلی نے 2014 ء میں اس نے ہسپانوی زبان کی معاون ڈگری حاصل وصول کی جب کہ 2016 ء میں ہیلی نے فزیشن میں معاون ڈگری لینے کے بعد اپنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے تجربے سے متاثر ہوکر دوسروں کو بیماری سے چھٹکارا دلانے کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسی چلڈرن اسپتال میں ملازمت کا آغاز کردیا۔ اپنی اس کہانی کے پس منظر کے سبب اسے انسپریشن فور کے ستون ’’امید‘‘ کے طور پر رکھا گیا ہے۔
آئزک مین کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ پچپن کے کینسر سے صحت یابی کے بعد خلائی سفر پر جانا ان مریض بچوں کی بھی پوری حوصلہ افزائی کا باعث بنے جو کہ کینسر سے جنگ لڑرہے ہیں، تو یہ ان کی امید ہوگی۔ اپنے خلائی تجربے کے بارے میں ہیلی کہتی ہے کہ اگرچہ میں خلائی سفر کے لیے جسمانی طور پر مکمل فٹ تو نہ تھی، میری ٹانگ میں راڈ ہے، اس لیے میں ناسا کے خلاباز پروگرام کے لیے نااہل ہوسکتی تھی۔
مشن کے ماہر Christopher Sembrokis ہیں۔ وہ 28 اگست 1979 ء کو نارتھ کیرولینا کے شہر “Kannapolis” پید ا ہوئے۔ سیمبروکس Embry Riddle Aeronatic University کے سائنس کے گریجویٹ ہیں۔ بطور الیکٹرومیکینکل ٹیکنیشن انہوں نے امریکی ایئرفورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کالج کے زمانے سے ہی سیمبروکس کو خلاء سے دل چسپی تھی۔ وہ بطور کونسلر اپنی خدمات خلائی کیمپ کو دیتے تھے جو کہ Huntsville میں ایک تعلیمی نوعیت کا کیمپ تھا۔ اس کے علاوہ سیمبروکس خلاء سے متعلق رضاکارانہ اپنی خدمات ایک غیرمنافع بخش تنظیم “Advocates For Space Flight” کو بھی دیتے تھے۔ ایک مخلص دوست نے ان کے چناؤ کو یقینی بنانے میں فراخ دلی) Generosity) کا مظاہر ہ کرتے ہوئے انہیں انسپائریشن 4کی ٹیم میں شامل کروادیا۔
اگرچہ سیمبروکس نے بھی سینٹ جوڈ اسپتال کی انعامی اسکیم کے ہزاروں امیدواروں کی طرح ٹکٹ خریدا تھا لیکن سیٹ کی جیت کی دوڑ میں ان کے قریبی دوست کا نمبر لگ گیا تو اس مہربان دوست نے اپنی جیتی ہوئی سیٹ سیمبروکس کے حوالے کردی، کیوںکہ وہ جانتے تھے کہ وہ طویل مدت سے خلاء سے لگاؤ رکھتے ہیں اور صحیح معنی میں اس سیٹ کے حق دار ہیں۔ ان چاروں خلابازوں کو چھے ماہ سخت تربیتی مراحل سے گزارا گیا تھا جس میں سیمولیشن، صفر کشش ہوائی جہاز کی فلائیٹ، ہائی صفر کشش ثقل کی جیٹ اڑان، پانی کے اندر اور سینٹری فیوج کی تربیت شامل ہیں۔
چاروں خلابازوں نے 1999 ء کے بعد زمینی مدار سے بلندترین مقام تک سفر کا تجربہ کیا ہے جب خلائی شٹل مشن STS-103کے ذریعے ’ہبل دوربین‘ کی مرمت کا مشن انجام دیا گیا تھا۔ یہ بلندی 575 کلومیٹر ہے جب کہ خلائی اسٹیشن آئی ایس آئی کا زمین سے فاصلہ 250 کلومیٹر ہے۔ ان خلابازوں نے اپنے مشن میں جو تجربات کیے ہیں ان میں تاب کاری، موومنٹ، سونے کا عمل، دل کی دھڑکنوں کی رفتار کا ڈیٹا جمع کرنا اور خون میں آکسیجن کی مقدار اور اس کی صورت حال کا مطالعہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈریگن جہاز کے کیبن میں شوروغل اور روشنی کی شدت کی پیمائش کو بھی نوٹ کیا اور یہ کہ مالیکولر پروسیس کا ڈیٹا خلاء میں انسانی جسم پر کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ خلابازوں نے ایک نئی ڈیوائسtterflyIQ+Ultrasound” “Bu کا بھی استعمال کیا ہے۔
یہ خلائی پرواز کا پہلا مشن ہے جس میں مصنوعی اعضاء کے ساتھ ٹیسٹنگ کی گئی، اس تحقیق کے نتائج ناسا کے لیے بنیاد بنیں گے کہ آیا ایسے مصنوعی اعضاء کے حامل خلابازوں کو مستقبل میں خلائی سفر پر جانے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟ اس خلائی مشن نے باتھ روم کی سہولت کے بارے میں اسپیس ایکس کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس طویل خلائی پرواز میں باتھ روم کی ناگوار بدبو شدت سے محسوس کیا گیا ہے، اس لیے آئندہ سیّاحتی خلائی سفر میں اچھے باتھ روم کی ضرورت کو مدنظر رکھا جائے گا۔
جیف بیزوس کی کمپنی ’’بلیواَورجِن‘‘ نے بھی ماہ اکتوبر میں اپنی دوسری سیّاحتی پرواز کا اعلان کردیا ہے جس میں چار خلاباز مسافروں کے ساتھ سرپرائز طور پر لیجنڈری اداکار ولیم شینٹر کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ ولیم مشہور معروف ٹی وی سیریز ’’اسٹارٹریک‘‘ کے کیپٹن کرک کے کردار سے شہر ت رکھتے ہیں۔ اسٹار ٹریک کی کہانی بھی ایسے ہی خلابازوں کی کہانی ہے جو اپنے جہاز انٹرپرائز میں سوار ہوتے ہیں اور نئی دنیاؤں کی کھوج میں رہتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2236312/508/
چین کا انسان بردار مشن خلا بازوں کولیکر ملکی خلائی اسٹیشن پہنچ گیا
17 October, 2021

چین نے ہفتے کے روزانسان بردار خلائی جہاز شین ژو-13کو خلا میں روانہ کر دیا
جیوچھوان/بیجنگ(شِنہوا) جس کے ذریعے تین خلا بازوں کو چینی خلائی سٹیشن کے مرکزی حصے میں چھ ماہ کے مشن کے لئے بھیجا گیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-10-17/1896798
چھپکلیاں اپنے اعضا دوبارہ بالخصوص دُم دوبارہ اگانے پر مہارت رکھتی ہیں۔ تاہم یہ دم پہلے جیسی نہیں ہوتی اس میں محض ایک ہڈی ہوتی ہے اور اعصاب غائب لیکن اب کرسپر اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کے بعد نہ صرف چھپکلی کی اصل دم سے قریب عضو تشکیل پایا بلکہ اس کا اطلاق دیگر اعضا پر بھی کیا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی) کے سائنسدانوں نے اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعے چھپکلیوں میں بہتر دم، ہڈیاں اور دیگر اعصاب کی دوبارہ افزائش (ری جنریشن) کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس طرح جلد یا بدیر انسانوں کو بھی فوائد حاصل ہوں گے۔
خطرے یا جان بچانے کے عمل میں چھپکلیاں اپنی دم جھاڑ کر وہاں سے غائب ہوجاتی ہے۔ چند ہفتوں یا مہینوں بعد چھپکلی کی نئی دم بن جاتی ہے لیکن وہ اس کی نقل ہوتی ہے۔ اس میں کرکری ہڈی کی ایک ٹھوس نلکی سی بنتی ہے جبکہ اصل دم کا اخراج حرام مغز سے ہوتا ہے جس میں ہڈیوں کے ساتھ اعصاب اور رگیں بھی ہوتی ہیں۔
چھپکلیوں کی دم بیضہ بننے کے عمل میں ہی تشکیل پاتی ہے لیکن اس کی مکمل افزائش بلوغت میں ہوتی ہے ۔ ان میں نیورل اسٹیم سیل (این سی ایس) اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح دوسری دم کی تشکیل میں بھی یہی خلیات سرگرم ہوتے ہیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ پیدائش کے وقت ایک سالماتی سگنل دم کے اندر سے خارج ہوتا ہے اور مکمل اور اصلی دم بنتی ہے جبکہ دم ٹوٹنے کے بعد دوسری دم میں سگنل اوپر اور اطراف میں خارج ہوتے ہیں۔
ماہرین نے کئی طریقوں سے اس عمل پر غور کیا اور سگنل کو روک کر بھی دیکھا لیکن دم کا اوپری حصہ نہیں بنا۔ اس کے بعد انہوں نے کرسپر CRISPR ٹیکنالوجی سے ایمبریونک نیورل اسٹیم سیل میں کچھ تبدیلی کی۔ اب ان خلیات کو ایک بالغ چھپکلی میں کی دم کی جڑ میں داخل کیا تو زبردست کامیابی ملی یعنی نہ صرف ’اصلی‘ دم جیسی افزائش ہوئی بلکہ اس کے اوپری حصے پر ہڈی اور اعصاب بھی موجود تھے۔
اگرچہ یہ چھپکلیوں کے لئے اچھی خبر ہے کہ لیکن انسانوں میں اعضا اور اعصاب کی دوبارہ افزائش کی راہ بھی اسی سے کھلیں گی۔ تحقیق سے وابستہ ماہر تھامس لوزیٹو کے مطابق اس تحقیق سے اعضا کی دوبارہ افزائش ممکن ہوسکے گی تاہم انسان کا معاملہ قدرے پیچیدہ ہوتا ہے۔ لیکن ابتدائی طور پر اسے زخموں کو مندمل کرنے میں ہی استعمال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ذبابیطس کے مریضوں میں اکثر ناسور اور زخم بہت مشکل سے ٹھیک ہوتے ہیں اورجلد یا بدیر ان کے علاج میں پیشرفت ہوسکے گی۔
https://www.express.pk/story/2236301/508/
امریکہ کے شو میں سنائپر رائفل سے لیس روبوٹک ڈاگ متعارف ، اس کی خصوصیات سن کر آپ بھی دنگ رہ جائیں
Oct 14, 2021 | 23:06:PM

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن ) امریکہ میں روبوٹ ڈاگ کو سنائپر رائفل سے لیس کر دیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فلاڈیلفیا کی ایک کمپنی نے چار ٹانگوں والے روبوٹ کی کمر پر 6 اعشاریہ 5 ملی میٹر کی گن فٹ کر دی ہے۔ اس روبوٹک ڈاگ کو امریکہ کے ایک تجارتی شو میں متعارف کرایا گیا۔
اس روبوٹ کو دور سے ہی ہدایات دی جا سکتیں کہ وہ اپنے گن کو لوڈ، ان لوڈ کر دے یا گولی بھی مار سکتا ہے۔روبوٹ کو بنانے والی کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈاگ روبوٹ دن اور رات دونوں وقتوں میں ایک جیسا کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈاگ روبوٹ گن کے ذریعے خودکار طریقے سے کسی انسان کی مدد کے بغیر ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور 3 سے 4 کلومیٹر دور بیٹھ کر روبوٹ میں موجود گن سے فائرنگ کی جا سکتی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/14-Oct-2021/1353209?fbclid=IwAR2BcupKoxzRc__PQX83FlwLr8tqlLnLi6nioIQf04TYCikcm-bR2zTvaXM
انسانی تاریخ میں پہلی مربہ ڈرون کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں جیسے نازک اعضا کو ایک سے دوسرے ہسپتال بھیجا گیا ہے جس میں صرف چھ منٹ لگے ہیں۔
ٹورنٹو ویسٹرن ہسپتال سے ٹورنٹو جنرل ہسپتال تک اس امانت کو بحفاظت پہنچایا گیا جس سے ڈرون کی اہمیت اور سرعت دونوں ہی سامنے آئی ہے۔ اس طرح ڈلیوری ڈرون کی بدولت پہلی مرتبہ پھیپھڑوں کو لے جایا گیا ہے۔
63 سالہ ایلین ہوڈک تاریخ کے پہلے فرد ہیں جنہیں دو پھیپھڑے عطیہ کئے گئے ہیں ۔ یہ واقعہ 25 ستمبر کو پیش آیا جس کی تفصیل حال ہی میں جاری کی گئی ہیں۔ 25 ستمبر کو رات ایک بجے ایک ڈرون ٹورنٹوجنرل ہسپتال کی جھت پر اترا۔ یہ پھیپھڑے شیو کاشوجی نامی سینیئر سرجن کو پہنچائے گئے جو جامعہ ٹورنٹو کے پروفیسر بھی ہیں۔ جہاں انہوں ںے جائزہ لے کر اسے 63 سالہ انجینیئر کو منتقل کیا۔
ڈرون نے ڈیڑھ کلومیٹر کا سفر طے کرکے عطیے کو ہسپتال تک پہنچایا۔ اب پھیپھڑوں کی منتقلی کے بعد ایلین اب بالکل صحتمند ہیں۔ انہیں 2019 میں پلمونری فائبروسِس کے شکار ہوگئے تھے۔ آپریشن سے چند منٹ قبل ان کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔ وہ ایک منٹ میں 25 لیٹر ہوا اور آکسیجن لے رہے تھے۔
ایلین مکمل طور پر تندرست ہیں اور اپنے گھر خوش و خرم زندگی گزاررہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2235919/508/
سویڈن کے سائنسدانوں نے ایک ایسا جیلی دار مادّہ ایجاد کرلیا ہے جو ایسے ڈھیٹ جراثیم کو بھی ہلاک کرسکتا ہے جن کے خلاف اینٹی بایوٹکس بھی مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
اس طرح کے ہلکے پھلکے جیلی دار مادّوں کو تکنیکی زبان میں ’’ہائیڈروجیل‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا بیشتر حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ وہ کسی ٹوتھ پیسٹ یا جیلی کی طرح بہت نرم ہوتے ہیں۔
نیا ہائیڈروجیل کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ، کے ٹی ایچ رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور کیرولنسکا یونیورسٹی ہاسپٹل کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اس ہائیڈروجیل میں کوئی اینٹی بایوٹک شامل نہیں۔ یہ ایسی خاصیت ہے جو اب تک کسی دوسرے جراثیم کش ہائیڈروجیل میں موجود نہیں۔
’’جرنل آف امریکن کیمیکل سوسائٹی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یہ جیلی دار مادّہ ایک طرف ڈھیٹ اور سخت جان جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے تو دوسری جانب ہمارے مدافعتی نظام (امیون سسٹم) کو بھی انفیکشنز کے خلاف مضبوط بناتا ہے۔
اس ہائیڈروجیل کی تیاری میں ’’ڈیڈرائیٹک میکرومالیکیولز‘‘ کہلانے والے خصوصی پولیمرز استعمال کیے گئے ہیں جو زہریلے نہیں ہوتے۔
یہ بڑی جسامت والے سالمات (مالیکیولز) ہیں جو درخت کی شاخوں کی طرح آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔
جب ان پولیمرز کا اسپرے زخم پر چھڑکا جاتا ہے تو یہ فوری طور پر ہائیڈروجیل کی شکل میں آجاتے ہیں اور زخم کے گرد حفاظتی حصار بناتے ہوئے اسے گرد و غبار سے بچاتے ہیں۔
ہائیڈروجیل میں موجود پولیمرز تیزی سے جراثیم کو ہلاک کرنے لگتے ہیں لیکن ان کا طریقہ کار اینٹی بایوٹکس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ پولیمرز متاثرہ مقام پر جسمانی خلیوں سے اُن خاص سالموں (پیپٹائیڈز) کی پیداوار میں اضافہ بھی کرتے ہیں جن میں قدرتی طور پر جرثوموں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
اس دو طرفہ حملے کے سامنے سخت جان اور ڈھیٹ قسم کے جراثیم بھی ٹھہر نہیں پاتے اور تیزی سے ختم ہوتے چلے جاتے ہیں۔
نئے ہائیڈروجیل کو اب تک دو اقسام کے ایسے جرثوموں کے خلاف کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے جو مروجہ اینٹی بایوٹکس کے خلاف زبردست مزاحمت پیدا کرچکے ہیں۔
کئی بار استعمال کے بعد بھی ان جرثوموں کے خلاف ہائیڈروجیل کی تاثیر جوں کی توں برقرار رہی۔
امید ہے کہ اس ہائیڈروجیل کے استعمال سے زخموں مندمل کرنے والی، نئی جراثیم کش پٹیاں بھی تیار کرلی جائیں گی۔
https://www.express.pk/story/2236178/9812/
گزشتہ روز پوری دنیا میں بینائی کا عالمی دن منایا گیا تاکہ عوام میں بینائی اور امراضِ چشم سے متعلق آگاہی پیدا کی جاسکے اور اس سے متعلق حقائق کو سامنے لایا جا سکے۔
اس موقع پر سائٹ سیورز پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر منزہ گیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ بینائی سے متعلق 80 فیصد بیماریاں قابل علاج ہیں لیکن آنکھوں کے علاج کی مناسب سہولیات کے نہ ہونے اور عوام میں ان کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ علاج نہیں کروا پاتے۔
نتیجتاً اُن میں نابینا پن ایک مستقل معذوری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور وہ متاثرہ افراد زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ کر غربت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نابینا پن کے شکار افراد اور گھرانے غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارتے ہیں اور ان کی معذوری ان کے مزید غریب ہونے کے امکان کو بڑھا دیتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 2.2 ارب سے زیادہ افراد آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد کا مرض قابل علاج ہے۔
اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہوگی۔ اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 410.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
منزہ گیلانی نے کہا کہ پاکستان میں آنکھوں کے علاج کی سہولتوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا تاکہ نابیناپن کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائٹ سیورز نے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر بینائی کے تحفظ سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام کیا ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے ملک میں آنکھوں کے علاج کی سہولتوں میں بہتری آئے گی۔
اس سال پاکستان میں بینائی عالمی کے دن کے موقع پر سائٹ سیورز نے قومی اسمبلی کے ساتھ مل کر پاکستانی آئین کا بریل میں ترجمہ کیا ہے تاکہ بینائی سے محروم افراد بھی اس سے استفادہ کرسکیں۔
پاکستان میں آنکھوں کے علاج کی راہ میں درپیش رکاوٹوں میں غربت، سہولتوں کا صرف شہری علاقوں تک محدود ہونا اور معذور افراد کو مکمل رسائی نہ ملنا بطورِ خاص اہم ہیں۔
خواتین میں موتیے کی بیماری کی شرح مردوں کی نسبت 63 فیصد ہے جبکہ موتیے کے علاج کی سہولت حاصل کرنے کےلیے عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت کم ہے۔
اتفاق خالق خان، پروگرام مینیجر سائٹ سیورز پاکستا ن نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر شخص کو ہر جگہ پر آنکھوں کی بیماری کے علاج کی سہولت میسر ہو اور حکومت کا کردار اس سلسلے میں اہم ہے۔
نابینا پن 75 فیصد تک قابل علاج ہے بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص اور علاج کرلیا جائے۔ اس کےلیے بنیادی (پرائمری) سطح پر آنکھوں کے علاج کی سہولت کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائٹ سیورز حکومت پاکستان کے ساتھ اہم شراکتی ادارے کے طور پر کام کررہا ہے تاکہ آنکھوں کی صحت کے پرانے انفراسٹرکچر اور سسٹم، شمولیاتی تعلیم اور اجتماعی کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کو بہتربنایا جاسکے۔
https://www.express.pk/story/2236057/9812/
وہ مرد جن میں اپنی شریک حیات سے بے وفائی کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا ایسا دعویٰ کہ خواتین بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھتی رہ جائیں
Oct 13, 2021 | 18:39:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مردوں کا شریک حیات سے بے وفائی کرنا بہت قبیح عمل ہے مگر اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں حیران کن طور پر کچھ مردوں کو بے وفائی میں بے قصور قرار دیتے ہوئے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ دی سن کے مطابق سائنسدانوں نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ کچھ مردوں میں بے وفائی کی خو جینیاتی طور پر ہوتی ہے، جس پر ان کا بس نہیں چلتا۔ یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن میں مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹرون کا لیول زیادہ ہوتا ہے۔ جن مردوں میں یہ لیول زیادہ ہو، ان کے بے وفائی کرنے کے امکانات دوسرے مردوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔
لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، یونیورسٹی آف مانچسٹر اور نیشنل سنٹر فار سوشل ریسرچ کے تحقیق کاروں نے اس تحقیق میں 4ہزار سے زائد مردوں میں ٹیسٹاسٹرون لیول کا جائزہ لیا اور ان سے بے وفائی کے متعلق سوالات پوچھے۔ نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ جن مردوں نے ایک سے زائد جنسی پارٹنر رکھنے کا اعتراف کیا تھا ان میں ٹیسٹاسٹرون کا لیول دیگر کی نسبت زیادہ پایا گیا۔
تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ وینڈی میکڈویل کا کہنا تھا کہ جن مردوں میں ٹیسٹاسٹرون کا لیول زیادہ ہوتا ہے اس میں کچھ علامات ہوتی ہیں، جن سے ان کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ ایسے مردوں کے چہرے پر کیل مہاسے زیادہ نکلتے ہیں، بلڈپریشر قدرے زیادہ رہتا ہے، جسم پر بال زیادہ ہوتے ہیں، ان کا مزاج بدلتا رہتا ہے، ان میں ذہنی پریشانی، ڈپریشن اور چڑچڑے پن کی علامات ہو سکتی ہیں، ٹیسٹاسٹرون زیادہ ہونے سے چونکہ خصیے سکڑ کر چھوٹے ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسے مردوں میں سپرمز کم پیدا ہوتے ہیں، ایسے مرد نیند سے متعلق عارضے Sleep Apneaکا شکار بھی ہو سکتے ہیں، ایسے مردوں میں سانس، دل اور بلڈپریشر کی بیماریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Oct-2021/1352794?fbclid=IwAR1ZjyBJlS_e078NrieHCFJi7pyApRShw4XgU_ynqIs46QZwtj84wbu3jJc
سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے کائنات کا سب سے بڑا تھری ڈی نقشہ عوام کےلیے پیش کردیا ہے جس کے ذریعے آپ بھی گھر بیٹھے عالمی خلائی اسٹیشن، چاند اور نظامِ شمسی کے سیاروں سے لے کر دور دراز کہکشاؤں کی سیر اس طرح کرسکیں گے کہ جیسے آپ خود وہاں موجود ہوں۔
’’ورچوئل رئیلیٹی یونیورس پروجیکٹ‘‘ (VIRUP) نامی اس منصوبے کے تحت ایک اوپن سورس سافٹ ویئر بنایا گیا ہے جو بڑی بڑی زمینی اور خلائی دوربینوں کے ان گنت مشاہدات اور اعداد و شمار کو یکجا کرتے ہوئے انہیں سہ جہتی (تھری ڈی) منظر کی صورت دیتا ہے۔
اس منظر کو ورچوئل رئیلیٹی ہیڈسیٹ، تھری ڈی چشموں والے پینورامک سنیما، گنبد جیسی پلانٹیریم اسکرین یا سپاٹ کمپیوٹر اسکرین پر بھی آسانی سے دیکھا جاسکے گا۔
یہ سافٹ ویئر لوزین، سوئٹزرلینڈ کے مشہور تحقیقی ادارے ’’ای پی ایف ایل‘‘ کے ماہرین نے برسوں کی محنت سے تیار کیا ہے جو مفت ہونے کے علاوہ اوپن سورس بھی ہے۔

مطلب یہ کہ اگر آپ پروگرامر ہیں تو اس سافٹ ویئر کا سورس کوڈ مفت میں ڈاؤن لوڈ کرکے اسے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ سافٹ ویئر صرف عوام کےلیے ہی نہیں بلکہ سائنسداں اور ماہرینِ فلکیات بھی بغیر کوئی معاوضہ دیئے اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور اپنی تحقیق میں مدد لے سکیں گے۔

اس سافٹ ویئر کی تیاری میں دنیا کے 8 بڑے فلکیاتی ڈیٹا بیسز سے استفادہ کیا گیا ہے جن میں ہزاروں ماورائے شمسی سیاروں (ایگزوپلینٹس)، کروڑوں کہکشاؤں اور خلائی اجسام کے علاوہ ہماری ملکی وے کہکشاں میں روشنی کے ڈیڑھ ارب سے زائد منبعوں (سورسز) سے متعلق معلومات جمع ہیں۔
آنے والے برسوں میں یہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا رہے گا اور اس میں ہمارے نظامِ شمسی میں گردش کرتے ہوئے لاکھوں شہابیوں کے علاوہ دیوقامت سحابیوں (نیبولا) اور دور دراز پلساروں (نیوٹرون ستاروں) سے متعلق ڈیٹا بیس بھی شامل کیے جائیں گے۔
گزشتہ روز اس سافٹ ویئر کا بی-ٹا ورژن جاری کیا گیا ہے جو ونڈوز اور لینکس آپریٹنگ سسٹمز کےلیے ہے۔ میک آپریٹنگ سسٹمز کےلیے یہ سافٹ ویئر کچھ عرصے بعد جاری کیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2235301/508/
فلکیات داں حضرات نے ہماری ایک رخ سے ریڈیائی سگنل نوٹ کئے ہیں جو ملکی وے کہکشاں کے مرکز سے ہم تک پہنچ رہے ہیں لیکن اس معمے کو سمجھنے کے کوشش کی جارہی ہے۔
یہ سگنل کسی باقاعدہ اوقات کے بغیر آتے ہیں اور بند ہوجاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ شاید یہ کسی ایسے جرمِ فلکی سے خارج ہورہے ہیں جو سائنس کےدائرے میں نہیں یا پھر ہم اس سے ناواقف ہیں۔
ماہرین نے فرضی طور پر اس اخراج کے مرکز کو ’اینڈیز آبجیکٹ‘ کا نام دیا ہے۔ چونکہ ان سگنلوں کی اولین دریافت جامعہ سڈنی کے زائٹنگ وینگ نے کی تھی جنہیں اینڈی بھی پکارا جاتا ہے۔ زائٹنگ وینگ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٓصرف سال 2020 میں ہی چھ مرتبہ ان سگنلوں کو نوٹ کیا تھا۔ یہ کام انہوں نے آسٹریلیا کی پاتھ فائنڈر ریڈیائی دوربین میں کیا تھا ۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ میں نصب میرکاٹ ریڈیائی دوربین سے بھی ان سگنلوں کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔
ماہرین نے سگنل کا رخ معلوم تو کرلیا جو کبھی کبھار روشن ہوجاتا ہے۔ اس کے روشن ہونے کا انحصار کئی ہفتوں تک بھی جاری رہتا ہے لیکن اکثر مرتبہ اس پر اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ اس سال فروری میں دوبارہ سگنل خارج ہوئے اور وہ جسم روشن ہوگیا۔
فروری میں دوبارہ کئی طرح کی دوربینوں کا رخ اس مرکز کی جانب موڑا گیا ۔ اس میں کئی طرح غیرریڈیائی دوربینوں سے بھی اس کا نظارہ کیا گیا لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔
’ہم نے ہر طرح کی طولِ موج (ویولینتھ) والی طاقتور ترین دوربینوں سے دیکھنے کی کوشش کی یہاں تک کہ انفراریڈ، بصری اور ایکس رے ذرائع کو استعمال کیا گیا لیکن کچھ دکھائی نہیں دیا۔ شاید یہ کوئی ایسا ستارہ یا جرمِ فلکی ہے جسے اب تک سمجھا نہیں گیا ہے،‘ ڈاکٹر ڈیوڈ کیپلان نے کہا جو جامعہ وسکانسن سے وابستہ ہیں اور اس تحقیق کا اہم حصہ ہیں۔
کچھ نے اسے عام ستارہ کہا اور کسی نے میگنیٹار کہا ہے یعنی ایسا نیوٹران ستارہ جو طاقتور مقناطیسی میدان رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دیگر ویولینتھ سے ظاہر نہیں ہوتا اور اس لیے یہ مفروضہ درست قرار نہیں پاتا۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ریڈیائی امواج کی تقطیب (پولرائزیشن) سے ظاہر ہے کہ اس پراسرار شے کا مقناطیسی میدان بہت ہی طاقتور ہے اور روشنی خارج ہوتے ہوتے 100 گنا تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ تبدیلی ایک دن میں بھی دیکھی گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ اب تک دریافت شدہ تمام اجسام اس میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ اب ماہرین اسے معمے کو حل کرنے کےلیے غیرروایتی غوروفکر کررہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2235439/508/
ڈاکٹر اقبال مسلم دنیا کا سب سے بڑا سائنسی ایوارڈجیت گئے
14 October, 2021
پاکستانی پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری کو بائیو آرگینک کیمسٹری کے شعبے میں ان کی خدمات پر مسلم دنیا کے سب سے بڑے سائنسی ایوارڈ مصطفی انعام یافتہ 2021 دیا گیا ہے
اسلام آباد(آئی این پی ) مصطفی پرائز لاریئٹ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک اعلٰی ایوارڈ ہے ، اسے مسلم دنیا کا نوبیل انعام سمجھا جاتا ہے جو ہر دو سال بعد چوٹی کے محققین اور سائنسدانوں کو دیا جاتا ہے ۔پاکستان، ایران، بنگلہ دیش، لبنان اور مراکش کے پانچ سائنسدانوں کو ان کے متعلقہ شعبوں میں مصطفی انعام 2021 سے نوازا گیا ہے ۔ ہر شعبے میں ایوارڈ جیتنے والے کو 5لاکھ ڈالر، سرٹیفکیٹ اور میڈل دیا گیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-14/1895756
ہمالیائی خطوں میں ایک خوش رنگ فنگس سینکڑوں برس سے طبی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہے اور اب اس سے کیموتھراپی کی ایک نئی دوا کشید کی گئی ہے جو روایتی ادویہ سے 40 گنا زائد مؤثر اور طاقتور ہوسکتی ہے۔ یہ فنگس چین میں پہلے ہی کئی بیماریوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نیوکانا نامی بایوفارماسیوٹیکل کمپنی کے تعاون سے ایک مرکب کشید کیا ہے جسے کورڈائی سیپن کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ اندرونی سوزش اور سرطان کے لیے پہلے بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس کی افادیت اتنی زیادہ نہیں رہتی۔
کورڈائی سیپن نامی کیمیکل میں خرابی یہ ہے کہ خون میں جاکر اس کے شیرازہ بکھرنے سے افادیت کم ہوجاتی ہے۔ ایک خامرہ (اینزائم) اے ڈی اے اسے توڑڈالتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کورڈائی سیپن کا کچھ حصہ بچ رہتا ہے جسے ایک نیوکلیوسائڈ ٹرانسپورٹر کی بدولت سرطانی خلیات تک پہنچاتا ہے۔ خلئے میں پہنچ کر یہ کیمیکل اینٹی کینسر تھری ڈی اے ٹی پی میٹابولائٹس میں ڈھل جاتا ہے۔ اس مرحلے پر فنگس کارآمد تو تھی مگر اس کی افادیت کم تھی۔
کورڈائی سیپِن کا اثر بڑھانے کے لیے ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جسے ’پروٹائیڈ‘ ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے۔ مرکب میں بعض کیمیکل شامل کرکے اسے مضبوط بنایا جاتا ہے جس کے بعد کورڈائی سیپِن خون کے بہاؤ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ اس طرح کیمیکل سیدھا کینسر کے خلیات پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اس طرح سرطانی خلیات پر گہرا وار پڑتا ہے کیونکہ اس موقع پر کیمیکل کی افادیت بہت بڑھ جاتی ہے۔
کورڈائی سیپِن کی اس تبدیل شدہ قسم کو این یو سی 7738 کا نام دیا گیا ہے۔ جب اس پر تجربات کئے گئے تو معلوم ہوا ہے کہ اب اس دوا کی تاثیر کم سے کم 40 گنا تک بڑھ چکی ہے۔ فیز ون ٹرائل ابھی جاری ہے جن سے امید افزا نتائج ملے ہیں جبکہ بہت جلد فیز ٹو طبی ٹرائل بھی شروع کئے جائیں گے۔
https://www.express.pk/story/2235092/9812/
دنیا بھر میں پینے کا صاف پانی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور اب ایک کم خرچ ہائیڈروجل ٹکیہ ایک لیٹر دریائی پانی کو صرف ایک گھنٹے میں پینے کے قابل بناسکتی ہے۔
آسٹن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدانوں نے ایک نئی ہائیڈروجل ٹیبلٹ بنائی ہے جسے استعمال کرکے ایک گھنٹہ فی لیٹر پانی صاف کیا جاسکتا ہے۔ دریا کا پانی بھی براہِ راست قابلِ نوش نہیں ہوتا اور اسے ابالنا پڑتا ہے، گرافین فلٹر، کلورین ڈسپینسر اور دیگر طریقے بھی ہر پسماندہ آبادی کی پہنچ میں نہیں ہوتے۔
ہائیڈروجل بنانے کے لیے توانائی کی ضرورت نہیں پڑتی جبکہ خرچ بھی بہت کم ہوتا ہے۔ تیار ہونے کے بعد اسے برتن میں ڈالنے سے بیکٹیریا اور مضر جراثیم کی بڑی تعداد تلف ہوجاتی ہے۔ گولی پانی میں جاکر ہائیڈروجن پرآکسائیڈ خارج کرتی ہے۔ اس سے کاربنی ذرات سرگرم ہوکر بیکٹیریا کو مارنے لگتےہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عمل میں کوئی مضر شے بطور بائے پراڈکٹس پیدا نہیں ہوتی۔
تاہم اس کی آزمائش چھوٹے پیمانے پر ہی کی گئی ہے۔ لیکن ہائیڈروجل ٹکیہ کو تجارتی پیمانے پربنانا بہت آسان ہوگا۔ پھر ان گولیوں کو تمام اشکال اور جسامت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ ماہرین پرامید ہیں کہ یہ انقلابی ایجاد پوری دنیا میں پینے کے پانی کی قلت دور کرسکتی ہے اور یوں صاف پانی ہر ایک کی رسائی میں آسکتا ہے۔
اب سائنسدانوں کی ٹیم نے تجارتی پیمانے پر اس کی تیاری شروع کرنے پر کام کا آغاز کردیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2235138/508/
کیا کورونا وائرس چین کے دور افتادہ علاقے موجیانگ کی غاروں کے چمگادڑوں سے پھیلا؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
Oct 11, 2021 | 19:12:PM

سورس: Pixabay
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے متعلق ایک مفروضہ یہ پایا جا رہا تھا کہ یہ چین کے دور افتادہ علاقے موجیانگ کی غاروں میں رہنے والی چمگادڑوں سے پھیلا۔ اب تحقیق میں یہ مفروضہ بھی غلط قرار پا گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق فرانسیسی ماہرین نے اپنی ایک تحقیق میں بتایاہے کہ موجیانگ کی ان غاروں میں سے ایک میں 2012ء میں 6کان کن پھنس گئے تھے اور انہیں نزلے جیسی پراسرار بیماری لاحق ہو گئی تھی جس سے ان میں سے 3کی موت واقع ہو گئی تھی۔
ان غاروں میں چمگادڑوں کی بہتات ہے۔ چنانچہ ان کان کنوں کے واقعے کی وجہ سے کہا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس انہی غاروں سے پھیلا۔ اس مفروضے پر تحقیق کے لیے ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم ووہان شہر سے 1ہزار میل کے فاصلے پر واقع اس علاقے میں بھیجی گئی۔
اس ٹیم کو ان غاروں سے کورونا وائرس کی کئی اقسام ملی ہیں۔ ان میں سے ایک قسم ایسی بھی ہے جو وباء کی صورت میں دنیا میں پھیلے گئے کورونا وائرس سے 97فیصد تک مشابہہ ہے۔ ان چینی سائنسدانوں نے کہا کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر انہی غاروں سے پھیلا تھا اور ان کان کنوں کو کورونا وائرس ہی لاحق ہوا تھا مگر فرانسیسی سائنسدانوں نے چینی سائنسدانوں کی اس رپورٹ کو غلط قرار دے دیا ہے۔
فرانسیسی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں ان 6کان کنوں کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے اور اس کا کورونا وائرس کے مریضوں میں پائی جانے والی علامات سے موازنہ کیا ہے۔ نتائج میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کان کنوں میں جو علامات پائی گئی تھیں وہ کورونا وائرس کے مریضوں سے یکسر مختلف تھیں۔ اس حوالے سے ایک اور بات اہم ہے کہ اگر ان کان کنوں کو کورونا وائرس لاحق ہوا تھا تو ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور ان کے پاس رہنے والے رشتہ داروں کو کورونا وائرس کیوں منتقل نہ ہوا تھا؟
https://dailypakistan.com.pk/11-Oct-2021/1351973?fbclid=IwAR1MUauGWu4oEmHtn6PakMFk_JVzw9-ilzWywayLbG31g5-554r_fpcM3KI
بچوں میں حسِ مزاح ان میں بلند آئی کیو اور ذہانت کو ظاہر کرتی ہے، اب ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بہتر معلومات اور زبانی دلائل کے ماہر بچوں کی فطرت میں ہنسی مذاق کی حس پائی جاتی ہے۔
اس ضمن میں ایک مطالعہ ترکی میں کیا گیا جس کی تفصیلات ہیومر نامی تحقیقی جرنل میں شائع ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بالغان کے مقابلے میں کمرہ جماعت کے مسخرے بچے ہی درحقیقت ذہین ہوتے ہیں اور یوں بچوں میں ذہانت اور حسِ مزاح کا گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔
انسانی تاریخ میں حسِ مزاح کو بلند ذہانت قرار دیا جاتا رہا ہے کیونکہ برجستہ جملوں کا اظہار ہوشیاری اور حاضر دماغی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل بڑوں میں اسی طرح کی تحقیق ہوئی ہے لیکن اب پہلی مرتبہ بچوں پر اس کے اثرات معلوم کیے گئے ہیں۔
اس ضمن میں 200 بچوں میں سے ہر ایک کو دس کارڈ دیئے گئے جن میں کارٹون بنائے گئے تھے۔ تمام بچوں سے کہا گیا کہ وہ اسے دیکھتے ہوئے کوئی مضحکہ خیز جملہ یا عنوان لکھیں۔ اس کے بعد سات مختلف ماہرین نے ان جملوں کی درجہ بندی کرتے ہوئے تحریر شدہ موضوع کو اول، دوم ، سوم اور دیگر درجات دیئے۔
اس کے بعد تمام بچوں کے معیاری آئی کیو ٹیسٹ بھی لیے گئے۔ جب بچوں میں ذہانت اور حسِ مزاح کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ جن بچوں کی حسِ مزاح بلند تھی ان میں ذہانت کا معیار بھی اونچا تھا۔ 68 فیصد بچوں میں ذہانت اور حسِ مزاح کا واضح تعلق سامنے آیا۔ بالخصوص جو بچے معلوماتِ عامہ یعنی جنرل نالج اور زبانی دلائل (وربل ریزننگ) کی صلاحیت بلند تھی ان میں مزاح کا عنصر اتنا ہی زیادہ تھا۔
تاہم ترک ماہرین کا خیال ہے کہ حسِ مزاح کی تعریف ہر معاشرے میں مختلف ہوتی ہے۔ ایک خطے کے لطیفے دوسرے علاقے کے لوگوں کے لیے نہیں ہوسکتے۔ اس کی وجہ ہے کہ حسِ مزاح کا تعلق معاشرے، رسوم اور اقدار پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مطالعے مغربی ممالک میں ہوتے رہے ہیں لیکن اب ترکی میں یہ تحقیق ہوئی ہے جو مشرق اور مغرب کا سنگم ہے۔
اناطولو یونیورسٹی کے پروفیسر یوغور سائک اس کے مرکزی نگراں ہیں جو کہتے ہیں کہ حسِ مزاح سے بچے بڑوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ اس کا ذہانت سے گہرا تعلق بھی ہے۔
https://www.express.pk/story/2234767/508/
دنیا میں اگر ایک جانب غذائی قلت کا راج ہے تو دوسری جانب بسیارخوری موٹاپے کو جنم دے رہی ہے۔ اب ایک درجن سے زائد جین کا انکشاف ہوا ہے جو موٹاپے کی بلا کو براہِ راست بڑھاتے ہیں یا پھر روک بھی سکتےہیں۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے سائنسدانوں نے 14 ایسے جین شناخت دیکھے ہیں جو براہِ راست چربی لاتے اور موٹا کرتے ہیں تاہم تین ایسے جین بھی ملے ہیں جنہیں سلا کر خود موٹاپے کو ٹالا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا ہیلتھ سسٹم کی سائنسداں پروفیسرایلین او رورکے اور پروفیسر رابٹ ایم برنے کے ماہرین نے یہ اہم کام سرانجام دیا ہے۔ انہوں نےموٹاپے کی براہِ راست وجہ بننے والے 14 جین معلوم کئے ہیں۔
ماہرین نے لکھا ’ ہم سینکڑوں ایسے جین سے ’بظاہر واقف‘ ہیں جو انفرادی طور پر موٹاپے اور دیگر بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اس ظاہری کیفیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہی اس بیماری کی وجہ بھی ہیں۔ اب اس تحقیق میں ہم نے اس غیریقینیت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لیے ازخود سینکڑوں جین ٹیسٹ کرنے والا ایک ’پائپ لائن‘ نظام بنایا گیا،‘۔
اس ضمن میں کئی جین سامنے آئے جن پر مزید تحقیق موٹاپے کے علاج یا اس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتےہیں۔
ماہرین کے مطابق زائد حراروں والی غذا، بےعملی، ورزش نہ کرنے اورشکرخوری کا پیچیدہ نظام آپس میں مل کر موٹاپے کی وجہ بنتے ہیں۔ لیکن ان میں جین کا کردار اہم ہوتا ہے جس سے جسمانی چکنائیاں جمع ہوتی رہتی ہیں اور لوگ فربہ ہوتے رہتے ہیں۔
ماہرین نے انسانی 70 فیصد جین شریک کیڑوں سینو ریبڈائٹس ایلیگنز پر غور کیا۔ یہ کیڑے گلے سڑے پھلوں میں پیدا ہوتے اور پلتے ہیں۔ کیڑوں پر تحقیق سے انسانی امراض کے معالجے کی راہ کھلی ہیں اور اس پر نوبیل انعام بھی دیئے گئے ہیں۔ ہم نے اپنی نئی ادویہ بھی ان کیڑوں میں انڈیلی ہیں جس کا احسان خود سائنس بھی مانتی ہے۔
جینیاتی تحقیق کے لیے کیڑوں کو تختہ مشق بنایا گیا جس میں پہلے 293 جین کا انتخاب کیا اورمشین لرننگ کی مدد سے ان میں سے 14 جین الگ کئے گئے۔ ایک ایک کرکے کیڑوں میں یہ جین داخل کئے گئے یا ان کا سوئچ آن یا آف کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ تین جین کی سرگرمی روک دی جائے تو کیڑے موٹاپے سے محفوظ رہے۔ بعض کیڑوں میں نیورو لوکومیشن یعنی عصبی حرکت بھی بہتر ہوئی۔
بعد ازاں چوہوں پر تجربات شروع کئے گئے اور ایک جین بلاک کیا گیا تو ان کا وزن بڑھنا بند ہوگیا اور خون میں شکر کی مقدار معمول پر آنے لگی۔ اس طرح ایک اہم جین سامنے آیا جو موٹاپے اور شوگر کو کنٹرول کرسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2234814/9812/
دنیا بھر میں ویئرایبل سینسر کئی امور میں استعمال ہورہے ہیں جن میں دل، نبض اور دیگرجسمانی اثرات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اب تھری ڈی پرنٹس سے حسبِ ضرورت اور کسٹمائزڈ ویئرایبل چھاپنے کی ایک بالکل مختلف ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے۔
اس کی بدولت آپ اپنی صحت پر نظر رکھ سکتے ہیں اور دوم نت نئی ادویہ کی جانچ بھی کی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں جامعہ ایریزونا کے سائنسدانوں نے تھری ڈی پرنٹر سے ایک خاص ویئرایبل بنایا ہے جسے ’بایوسمبایوٹک ڈیوائس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بہت سے فوائد ہیں یعنی اسے چلانے کےلیے بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس آلے کو جسمانی ضروریات کے لحاظ سے ڈھالا جاسکتا ہے اور یہ وائرلیس طریقے سے بجلی حاصل کرکے اپنا کام کرتے ہیں جس کے بعد بیٹری کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسے بایومیڈیکل انجینیئرنگ پروفیسر فلپ گیوٹروف اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے۔ اس کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
’ ہم نے ڈجیٹل ویئرایبلز کے لیے ایک بالکل نیا انوکھا طریقہ پیش کیا ہے جو براہِ راست کسی بھی شخص کی ضروریات کے لحاظ سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ ہر منٹ بلکہ پورے ہفتے اسے ری چارج کرنے کی ضرورت نہیں رہتی،‘ پروفیسر فلِپ نے کہا۔
اگرچہ اسمارٹ واچ بہت سے کام کرتے ہوئے ویئرایبلز کے زمرے میں ہی آتی ہیں لیکن انہیں چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دوسری جانب بدلتے ہوئی اہداف کےلحاظ سے اس میں تبدیلی بھی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن اب ماہرین نے مریض کے جسمانی خدوخال کو دیکھتے ہوئے ایسے ویئرایبلز بنائے ہیں جو جسم کے کسی بھی حصے پر چپکائے جاسکتے ہیں۔ وہ اتنے ہلکے پھلکے، جالی دار، ہوا دار اور لچکدار ہیں کہ پٹھوں کی حرکت کی وجہ سے خراب نہیں ہوتے۔ دیگر ویئرایبل اس طرح کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
’بایوسمبایوٹِک ڈیوائس‘ کی اہمیت یوں بھی ہے کہ کلائی کی گھڑی پورے جسم کا احوال نہیں لے سکتی ۔ اس لیے ضروری ہے کہ بایوسینسر کو بدن کے دیگر حصوں پر لگا کر وہاں سے ڈیٹا لیا جائے۔ یہ اتنا حساس ہے کہ دوڑنے اور جست بھرنے کے دوران بھی عضلاتی تناؤ کو ناپ سکتا ہے۔ کشتی رانی میں اسے لوگوں کو پہنایا گیا تو اس نے پٹھوں کی معمولی اینٹھن سےبھی خبردار کردیا۔ یہاں تک کہ دس سیڑھیاں چڑھنے پر جسمانی درجہ حرارت میں اضافےکو بھی نوٹ کیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2234499/508/
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-08-28&edition=KCH&id=5748054_86901610
سورج کی روشنی میں خود بخود صاف ہو جانے والا کپڑا تیار
28 August, 2021
برطانیہ میں ماہرین نے ایسا کپڑا تیار کیا ہے جسے دھونے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ سورج کی روشنی میں خود بخود صاف ہوجائے گا
لندن(نیٹ نیوز)کارڈف یونیورسٹی میں کیمسٹری کے شعبے کی تحقیقی ٹیم ایک نئے قسم کے کپڑے کی ایجاد میں کامیاب ہوئی ہے جسے سورج کی روشنی کے سامنے کرنے پر 99 فیصد بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی کپڑے سے داغ اور بدبو کو دور کر دیتی ہے ، جس کے بعد آپ انہیں چند منٹ میں دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ماہرین نے حفظان صحت کے مقاصد کیلئے کپڑا تیار کیا ہے جو غیر زہریلی دھاتوں کے ساتھ مل کر سورج کی توانائی بیکٹیریاز کو مارنے ، داغوں اور بدبو دور کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے ۔محقق جینیفر ایڈورڈز اپنی اس ایجاد کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-28/1873819
وھیل کے متعلق حیرت انگیز رکازات (فاسلز) سے منسوب مصر سے اب ایک اہم دریافت ہوئی ہے۔ یہاں سے چار کروڑ تیس لاکھ سال پرانی وھیل کی ہڈیاں ملی ہیں جس کے چار پاؤں تھے اور وہ بہ یک وقت خشکی اور پانی میں رہتی تھی۔
مصر کے ایک ریگستانی علاقے میں واقع فیوم ڈھلان سے اس وھیل کے رکازات ملے ہیں۔ اس کا دلچسپ نام ’فایئومیسیٹس اینیو بس‘ رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اینیوبس قدیم مصر میں موت کے دیوتا کا نام تھا اور اسی مناسبت سےوھیل کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ فاسل درمیانی ایوسین عہد سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ ایک نئی قسم کی وھیل ہے جو اولین وھیل (پروٹوسیٹی ڈائی) سے تعلق رکھتی ہے۔ اس عہد کی تمام وھیل قصہ پارینہ ہوچکی ہیں جو خشکی سے سمندر جانے کی تیاری کررہی تھیں۔ اس دریافت میں مصری ماہرین نے اہم کردار ادا کیا ہے جو وھیل کے ارتقا کی حیرت انگیز داستان سناتی ہے۔

اس کے بعد وھیل کو منصورہ یونیورسٹی میں واقع فقاری (ورٹیبریٹ) معدومیات کے مرکز میں لے جایا گیا اور وہاں اس پر مزید تحقیق کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وھیل اپنے وزن کے باوجود بہت پھرتیلی شکاری تھی۔ اگرچہ اس کا جزوی ڈھانچہ ہی ملا ہے لیکن اسے دیکھ کر اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ افریقہ سے پائی جانے والی وھیل کی قدیم ترین قسم ہے جو خشکی سے پانی میں اترنے کا سفر شروع کرچکی تھی۔
پوری کھوج کےسربراہ ڈاکٹر عبداللہ گوہر ہیں جو منصورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی میں شائع کرائی ہیں۔
’یہ ایک چالاک شکاری تھی اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اپنے اطراف کے دیگر جانداروں کے لیے موت کی دیوی تھی،‘ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دریافت سے وھیل کے مختلف ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ نئی وھیل کے یہ آثار بھی مصر کی مشہور صحرائی وادی، وادی الحیتان سے دریافت ہوئے ہیں جہاں قدیم وھیل کے کئی حیرت انگیز آثار مل چکے ہیں۔ ان میں سب سے اہم آثار بیسیلوسارس کے ہیں جو سانپ جیسی لمبی وھیل کی ایک قسم ہے۔ اس کے رکازات بہت حد تک مکمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیسکو نے وادی الحیتان کو ’عالمی ورثے‘ میں شامل کیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2217606/508/
پولینڈ کی دو کمپنیوں نے باہمی اشتراک سے ایسا تارکول (ایسفالٹ) تیار کرلیا ہے جس میں سے خوشبو آتی ہے اور سڑک بنانے والے کارکنان کو ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔
ان میں سے ایک تعمیراتی کمپنی ’’بیوڈی میکس‘‘ جبکہ دوسری آئل ریفائنری ’’لوٹوس‘‘ ہے۔
خبروں کے مطابق، ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سڑکیں بناتے دوران عام استعمال ہونے والے تارکول میں اگرچہ کچھ خاص مضر اجزاء نہیں ہوتے لیکن گرم تارکول سے اٹھتی ہوئی بدبو وہاں کام کرنے والے مزدوروں اور دوسرے کارکنان مسلسل ایک ناگوار احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔
نئے تارکول میں ایسے قدرتی اور مصنوعی خوشبودار تیل ملائے گئے ہیں جو ایک طرف تارکول کی بدبو ختم کرتے ہوئے اسے خوشبودار بناتے ہیں تو دوسری جانب وہ تارکول کی مضبوطی اور پائیداری بھی متاثر نہیں کرتے۔
ابتدائی آزمائشوں کے دوران خوشبودار تارکول (ایسفالٹ) کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ سڑک بنانے والے کارکنوں کا کہنا تھا کہ انہیں پھولوں جیسی خوشبو والے ماحول میں کام کرتے ہوئے بہت مزا آرہا تھا۔
بیوڈی میکس کمپنی کا کہنا ہے کہ تارکول کو خوشبودار بنانے والے یہ اجزاء بہت جلد بڑے پیمانے پر فروخت کےلیے پیش کردیئے جائیں گے۔
https://www.express.pk/story/2216661/509/
امریکی کمپنی ’’کولنز ایئرواسپیس‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اسے ایک نجی ادارے کی جانب سے نچلے خلائی مدار میں انسانی رہائش اور متعلقہ سازگار ماحول کےلیے مددگار ٹیکنالوجی وضع کرنے کا ٹھیکا ملا ہے جس کی مالیت 26 لاکھ ڈالر ہے۔
لیکن وہ نجی ادارہ کونسا ہے؟ اس بارے میں کولنز ایئرواسپیس نے کچھ بھی بتانے سے معذرت کرلی ہے۔
امریکی ویب سائٹ ’’اسپیس نیوز‘‘ پر اس بارے میں شائع شدہ خبر میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’’نچلے خلائی مدار میں انسانی رہائش اور متعلقہ سازگار ماحول‘‘ کسی خلائی اسٹیشن یا خلائی اڈے کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ انسان وہاں پر کچھ عرصہ قیام کرسکیں۔
واضح رہے کہ کولنز ایئرواسپیس، جدید ہتھیار بنانے والی امریکی کمپنی ’’ریتھیون ٹیکنالوجیز‘‘ کا ذیلی ادارہ ہے جو پنٹاگون اور ناسا کےلیے دفاعی، فضائی اور خلائی مصنوعات بھی تیار کرتی ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں 26 لاکھ ڈالر کوئی بڑی رقم نہیں لیکن ’’نامعلوم نجی ادارے‘‘ کی جانب سے اتنی مالیت کا معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ شاید اگلے دس پندرہ سال میں خلائی ہوٹل اور خلائی ریستوران جیسی چیزیں بھی وجود میں آچکی ہوں گی جہاں دنیا کے مالدار لوگ اپنا کچھ وقت گزارنے جایا کریں گے۔
بتاتے چلیں کہ عالمی خلائی اسٹیشن میں پانی کی صفائی اور اسے بار بار قابلِ استعمال بنانے والا موجودہ نظام بھی کولنز ایئرواسپیس ہی کا تیار کردہ ہے۔
علاوہ ازیں، اس ادارے کو خلا میں درجہ حرارت اور دباؤ کنٹرول کرنے والے نظاموں پر بھی مہارت حاصل ہے، جن کا مقصد خلا میں لمبے عرصے تک انسانی قیام کو ممکن بنایا جاسکے۔
اسپیس نیوز کے مطابق، یہ ٹھیکا دینے والی نامعلوم اور ’’خفیہ کمپنی‘‘ ممکنہ طور پر ’’ایکسیئم اسپیس‘‘ (Axiom Space) ہوسکتی ہے کیونکہ یہ کمپنی مختلف ذرائع سے تجارتی خلائی اسٹیشن کےلیے 13 کروڑ ڈالر جمع کرچکی ہے۔
توقع ہے کہ ’’خفیہ خلائی اڈہ‘‘ بنانے والی وہ نامعلوم کمپنی بھی جلد ہی ہمارے سامنے ہوگی کیونکہ اگر ایسا کوئی خلائی اسٹیشن تجارتی نوعیت کا ہوا تو اس کی تشہیر بھی لازماً کی جائے گی۔
https://www.express.pk/story/2217489/508/
ریلوے لائن کی پٹڑیوں کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اب اس کے لئے پٹڑیوں پر چل کر ان کا معائنہ کرنے والا ڈرون تیار کیا گیا ہے۔
پاکستان ہو یا امریکہ ریلوے پٹڑیوں کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے انسانی انسپیکٹراپنا کام کرتے ہیں لیکن ریل گاڑی آنے کی صورت میں انہیں اپنی راہ سے ہٹنا پڑتا ہے۔ اسی لیے اب ریل پر چلنے والا ڈرون بنایا گیا ہے جسے اسٹاکر بی جی 300 کا نام دیا گیا ہے۔
ناروے کی ایک کمپنی نورڈِک ان مینڈ نے اس ڈرون کو تیار کیا ہے جس میں توانائی پہنچانے والے سیل نصب ہیں۔ اس کے خاص پہیئے اسے ریلوے لائن پر عین ٹرین کی طرح چلنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم جیسے ہی سامنے سے ریل آتی ہے وہ اسے محسوس کرکےہوا میں بلند ہوجاتا ہے۔ ریل گزرنے کے بعد وہ دوبارہ پٹڑی پکڑ لیتا ہے اور اس پر چلنے لگتا ہے۔ اسے اڑانے کے لیے بہت سی پنکھڑیاں لگائی گئی ہیں۔
اپنے مخصوص پہیوں کی بدولت یہ ڈرون ریلوے لائنوں پر دوڑتا ہے۔ اس کی رفتار بہت مدھم بھی کی جاسکتی ہے یعنی یہ 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دھیمی رفتار کی باعث پٹڑیوں کا معائنہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ بصورتِ دیگر ڈرون انہی پٹڑیوں پر بہت تیز دوڑتے ہوئے 200 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے۔
جدید ترین کیمروں اور سینسر کی مدد سے یہ پٹڑیوں میں ٹیڑھ یا خامی نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اگر کسی پرزے پر زنگ چڑھ رہا ہوتو وہ اس پر تیل کی پھوار بھی ڈال سکتا ہے۔ جیسے ہی سامنے سے کوئی ریل گاڑی آجائے یہ فوری طور پر اڑجاتا ہے۔ اپنی اسی کیفیت کی بنا پر یہ ایک پٹڑی سے دوسری پٹڑی پر جاسکتا ہے۔
یہ ڈرون یورپی ریلوے نیٹ ورک کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اگلے سال کے وسط تک اس کی تجارتی پیمانے پر تیاری شروع ہوجائے گی۔
https://www.express.pk/story/2217240/508/
کیا ماں کا دودھ بچوں کو کورونا وائرس سے بچاسکتا ہے؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
Aug 25, 2021 | 19:31:PM

نیویارک(مانٹیرنگ ڈیسک) ماں کے دودھ کو بچے کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے اوراب ماہرین نے کورونا وائرس کے حوالے سے اس کا ایسا فائدہ بتا دیا ہے کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی۔ دی مرر کے مطابق نئی تحقیق کے نتائج میں ماہرین نے بتایا ہے کہ ماں کے دودھ میں کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے والی اینٹی باڈیز بھی پائی جاتی ہیں جو بچوں کو اس موذی وائرس سے محفوظ رکھتی ہیں۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہرین کی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن ماﺅں نے کورونا ویکسین لگوا رکھی تھی، ان کے دودھ میں یہ اینٹی باڈیز دوسری خواتین کی نسبت 100گنا زیادہ پائی گئیں۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جوزف نیو کا کہناتھا کہ ”ماں کے دودھ کو آپ ایک ’ٹول بکس‘ ہی خیال کریں۔ اس ٹول بکس میں تمام وہ اوزار موجود ہیں جو نومولود کو آئندہ زندگی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ان میں سے ایک اوزار وہ حفاظتی پروٹین بھی ہے جو بچوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔“واضح رہے کہ اس تحقیق میں ایسی درجنوں ماﺅں پر تجربات کیے گئے جنہیں کورونا وائرس کبھی لاحق نہیں ہوا تھا۔ ان میں سے آدھی نے کورونا ویکسین لگوا رکھی تھی جبکہ آدھی نے ابھی ویکسین نہیں لگوائی تھی۔
https://dailypakistan.com.pk/25-Aug-2021/1332364?fbclid=IwAR0feTcQyTFbt249MLojZfrEoGAMs3Nz1FbdKPNIJpCEKvOSt2HHg_VKrSs
امریکی سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ بنایا ہے جو بھاگتا دوڑتا ہے اور اس کا وزن چاول کے صرف تین دانوں جتنا ہے۔
واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ روبوٹ بنایا ہے جسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اسے روبوٹک بھنورا کہا جاسکتا ہے۔
پروفیسر نیسٹور پیریز آرنسیبیا واشنگٹن یونیورسٹی میں میکینکل اینڈ مٹیریئلز انجینیئرنگ کے پروفیسر ہیں جنہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے بنایا ہے۔ اسے انہوں نے ’روبیٹل‘ کا نام دیا ہے۔ روبیٹل ایتھانول کی مدد سے چلتا ہے اور اس میں ہوائی دباؤ اور نیومیٹکس کا نظام بنایا گیا ہے۔ یہ روبوٹ برقی نظام کی بجائے ہوا کی قوت سے آگے بڑھتا ہے اور چلتا پھرتا ہے۔
اس کا کل وزن صرف 88 ملی گرام ہے جسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کے سب سے چھوٹے متحرک روبوٹ کی سند دی ہے۔ اس کی جسامت حقیقی بھنورے جتنی ہے۔ فی الحال یہ ڈھلوانی سطح پر چڑھ سکتا ہے۔ کئی اقسام کے راستوں سے گزرسکتا ہے اور خود سے ڈھائی گنا زائد وزن اٹھاسکتا ہے۔
اس روبوٹ کی مدد سے حقیقی بھنوروں کی نقل و حرکت کو سمجھنا مقصود ہے جسے کوئی کھلونا نہیں کہا جاسکتا۔
https://www.express.pk/story/2216942/509/
پرتگالی اور امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بڑھاپے میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ دماغی صلاحیتیں بہتر بھی ہوتی ہیں۔
یہ تحقیق 58 سے 98 سال کے 700 تائیوانی نژاد امریکیوں پر کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ دماغ کی تین اہم صلاحیتیں نوجوانی اور جوانی کی نسبت بڑھاپے میں زیادہ بہتر ہوتی ہیں:
چوکنا پن (Alerting)، یعنی موصول شدہ اطلاعات/ معلومات کی طرف زیادہ دھیان اور توجہ کا ہونا؛
رُخ بندی (Orientation)، یعنی دماغی وسائل (ارتکازِ توجہ) کو کسی خاص مقام یا ماحول کی طرف منتقل کرنے کی صلاحیت؛ اور
اختیاری ممانعت (Executive inhibition)، یعنی توجہ بٹانے والی غیر ضروری چیزوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف ضروری چیز/ کام پر توجہ مرکوز رکھنا۔
مثلاً اگر آپ کار ڈرائیو کرتے ہوئے سڑک پر جارہے ہیں تو دوسری گاڑیوں کے ساتھ ساتھ آپ پیدل چلنے والوں سے بھی ہوشیار رہتے ہیں؛ اور جب آپ کسی چوراہے یا ٹریفک سگنل کے قریب پہنچتے ہیں تو آپ اور بھی زیادہ چوکنے ہوجاتے ہیں۔
اب اسی دوران اگر کوئی شخص اچانک ہی سڑک پر آجائے تو آپ کی توجہ فوراً اس پر منتقل ہوجاتی ہے اور آپ اپنی کار کی رفتار کم کرکے یا بریک لگا کر کوشش کرتے ہیں کہ اس سے نہ ٹکرائیں۔
اسی طرح کار ڈرائیونگ کے دوران آپ اِدھر اُدھر اُڑتے ہوئے پرندوں اور سائن بورڈز/ بل بورڈز کو نظرانداز بھی کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ڈرائیونگ کے نقطہ نگاہ سے یہ غیر ضروری طور پر توجہ بٹانے والی چیزیں ہیں۔
ان تمام بزرگوں کی مختلف ذہنی آزمائشوں کے بعد معلوم ہوا کہ ادھیڑ عمری سے بڑھاپے تک صرف چوکنے پن کی صلاحیت کم ہوئی جبکہ 58 سے 78 سال کے بیشتر افراد میں رُخ بندی اور اختیاری ممانعت والی صلاحیتیں بہتر ہوتی دیکھی گئیں۔ البتہ تقریباً 80 سال کی عمر سے ان میں یہ دونوں صلاحیتیں بھی بتدریج کمزور پڑنے لگیں۔
یہ تاثر عام ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ تمام ذہنی و جسمانی صلاحیتیں کم ہونے لگتی ہیں لیکن ریسرچ جرنل ’’نیچر ہیومن بیہیویئر‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بعض معاملات میں ہمارا دماغ بہتر ہوتا ہے۔
البتہ، عمر زیادہ بڑھنے پر یہ ذہنی صلاحیتیں بھی بالآخر زوال کا شکار ہوجاتی ہیں۔
یہ اور اس طرح کی سیکڑوں دیگر تحقیقات سے عمر رسیدگی کے علاوہ بڑھاپے میں اچھی صحت برقرار کی تدابیر بھی بہتر طور پر ہمارے علم میں آتی جارہی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2216704/9812/
عام حالات میں جسمانی خلیات (سیل) ازخود فنا ہوتے اور ان کی جگہ نئے خلیات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن کینسر کے مرض میں یہ نہیں ہوتا اور وہ خلیات رسولیوں کی شکل میں جمع ہوجاتےہیں۔ اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں کولیسٹرول کا کردار بھی قدرے اہم ہوتا ہے۔
اگرچہ چھاتی کے سرطان میں مسلسل بڑھتے ہوئے کولیسٹرول کا کردار پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے لیکن اسے پوری طرح سے سمجھا نہیں گیا تھا۔ اب ڈیوک کینسر انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے اس عمل کا طریقہ واردات دریافت کرلیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ کس طرح کولیسٹرول چھاتی کے سرطانی خلیات کو اس درجے تک لے جاتے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہوتے اور رسولیوں کی صورت میں بڑھتے رہتے ہیں۔ پھر ایسے ہی خلیات بدن کے دیگر حصوں تک پہنچنے لگتے ہیں۔
’کئی اقسام کے کینسر خلیات، جب بدن کے دیگر حصوں تک پھیلتے ہیں تو مرنے لگتے ہیں اور یہ عمل میٹا اسٹیسائز کہلاتا ہے۔ لیکن بعض خلیات اس سفر میں مرتے نہیں کیونکہ وہ خود کو مرنے سے بچالیتے ہیں۔ اس عمل میں کولیسٹرول اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی اہم مثال چھاتی کا سرطان ہے،‘ کینسر کے ماہر پروفیسر ڈونلڈ مک ڈونلڈ نے بتایا جو اس تحقیق کے مرکزی ماہر بھی ہیں۔
اس سے قبل وہ چھاتی کے سرطان کی ایک قسم ایسٹروجن پازیٹو اور کولیسٹرول کے درمیان تعلق تلاش کرچکے ہیں۔ یعنی ایسٹروجن ہارمون سے پیدا ہونے والے کئی اقسام کے سرطان، کولیسٹرول سے اپنا ایندھن لیتے ہیں۔ اب انہوں نے چوہوں پر تجربات کئے اور دیکھا کہ اپنے اصل مقامات سے بدن کے دیگر مقامات تک جانے والے کینسر خلیات کولیسٹرول استعمال کرتے ہیں۔
لیکن یہاں زندہ بچ جانے والے سرطانی خلیات میں ایک اور خاصیت پیدا ہوجاتی ہے جس میں وہ خلوی تناؤ (سیل اسٹریس) سے مرتے نہیں بلکہ اپنا پھیلاؤ جاری رکھتے ہیں اور جسم کے دیگر مقامات کو بھی سرطان زدہ کرتےہیں۔ یہ عمل بریسٹ کینسر اور جلد کے سرطان میں بھی دیکھا گیا ہے جو مسلسل پھیلتے چلے جاتے ہیں۔
اس پورے عمل کو سمجھتے ہوئے علاج کی نئی راہیں ہموار ہوں گی اور ہم کینسر کو بہتر انداز میں قابو کرسکیں گے۔
https://www.express.pk/story/2216891/9812/
کارنیگی انسٹی ٹیوشن آف سائنس کے ماہرینِ فلکیات نے ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے تیز رفتار شہابیہ (ایسٹیرائیڈ) دریافت کرلیا ہے جو صرف 113 دن میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرلیتا ہے۔
واضح رہے کہ سیارہ عطارد (مرکری) اس سے بھی کم وقت یعنی صرف 88 دن میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر پورا کرلیتا ہے، تاہم اوّل تو وہ ایک سیارہ ہے اور دوم اس کا مدار خاصا مستحکم ہے۔
اس کے برعکس، نیا دریافت ہونے والا فلکیاتی جسم ایک شہابیہ ہے جس کا مدار بھی خاصا بے قاعدہ اور بیضوی شکل کا ہے۔
اسی بناء پر یہ اپنے مدار میں گردش کرتے دوران سورج سے صرف دو کروڑ کلومیٹر کی قربت پر جا پہنچتا ہے۔ یہ فاصلہ عطارد کے سورج سے اوسط فاصلے (4 کروڑ 70 لاکھ کلومیٹر) سے بھی کم ہے۔
دوسری جانب سورج سے اپنی انتہائی دوری پر اس کا (سورج سے) فاصلہ 11 کروڑ کلومیٹر سے بھی زیادہ ہوتا ہے، جو سیارہ زہرہ (وینس) کے مدار سے بھی زیادہ ہے۔

تقریباً ایک کلومیٹر جسامت والا یہ شہابیہ اسکاٹ شیپرڈ اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا ہے جسے انہوں نے ’’2021 پی ایچ 27‘‘ (2021 PH27) کا نام دیا ہے۔
اس بارے میں ان کا مزید کہنا ہے کہ جب یہ سورج کے بہت قریب سے گزرتا ہے تو نہ صرف اس کی رفتار مزید تیز ہوجاتی ہے بلکہ اس کی سطح بھی شدید گرم ہوجاتی ہے اور اس کا درجہ حرارت بھی 500 ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ پہنچ جاتا ہے۔
’’2021 پی ایچ 27‘‘ کی دریافت کی تصدیق کئی طاقتور دوربینوں کی مدد سے کی جاچکی ہے۔
اس کا عجیب و غریب مدار دیکھتے ہوئے فلکیات دانوں کا کہنا ہے کہ شاید یہ آج سے کروڑوں سال پہلے ’’شہابیوں کی پٹی‘‘ (ایسٹیرائیڈ بیلٹ) میں ہوا کرتا تھا۔ (ان گنت چھوٹے بڑے شہابیوں والی یہ پٹی مریخ اور مشتری کے درمیان واقع ہے۔)
البتہ، کسی وجہ سے اس کا مدار متاثر ہوا اور اس نے اپنا راستہ بدل لیا۔
اس کا موجودہ مدار بھی خاصا غیر مستحکم ہے لہذا بہت ممکن کہ آئندہ چند لاکھ سال میں یہ زہرہ، عطارد یا سورج سے جا ٹکرائے اور اپنا وجود ہمیشہ کیلئے ختم کرلے؛ یا پھر اپنے موجودہ مدار کے مقابلے میں بالکل مختلف مدار میں چلا جائے۔
اسکاٹ شیپرڈ کا کہنا ہے کہ ایسے عجیب و غریب آسمانی اجسام کی دریافت سے ہمیں شہابیوں اور دُمدار ستاروں کی ابتداء و ارتقاء سے متعلق جاننے میں خاصی مدد ملے گی اور ہم خود اپنے نظامِ شمسی کے بارے میں بھی بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوسکیں گے۔
https://www.express.pk/story/2216755/508/
چیونٹیاں نرم مٹی میں کئی میٹر گہری کالونیاں بنا کر رہتی ہیں جس کی ساخت سہ جہتی (تھری ڈائمینشنل) ہوتی ہے۔ اب جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غیرشعوری طور پر چیونٹیاں اس سے وابستہ طبیعیات سے واقف ہوتی ہیں۔
اگرچہ لاکھوں چیونٹیوں کی کالونی نرم مٹی سے بنتی ہے لیکن اپنی ساخت کی بنا پر ایک کالونی دس سال سے بھی زائد عرصے تک قائم رہ سکتی ہے۔ اس کی تعمیر میں کوئی خاص مادہ اور مشین استعمال نہیں ہوتی لیکن وہ لاکھوں چیونٹیوں کا ایک پائیدار گھر ثابت ہوتا ہے۔
کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر حوزے اینڈریڈ اور ان کے ساتھیوں نے کمپیوٹرسیمولیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی اور تھری ڈی ایکسرے کی بدولت چیونٹیوں کے فنِ تعمیر کے راز کھوجے ہیں۔ اسے جان کر ہم مزدور روبوٹ بناسکتے ہیں اور خود بہترین ساختوں کی تعمیر کرسکتےہیں۔
پروفیسر حوزے نے 500 ملی لیٹر مٹی سے چیونٹی کی چھوٹی سی کالونی بنائی اور پھر ویسٹرن ہارویسٹر نسل کی چیونٹیوں کو ان کی تعمیر کرنے دی۔ اس پورے عمل کا بغورجائزہ لیا گیا اور تھری ڈی ایکسرے سے مسلسل 20 گھنٹے تک ہر دس منٹ بعد تصاویر لی گئیں۔

چیونٹیوں نے بھول بھلیوں کی طرح پیچدار سرنگیں اور راستے بنائے۔ اس کے بعد کمپیوٹر پروگرام چلایا گیا تاکہ سرنگوں کی تشکیل کرنے والی طبعی قوتوں کوسمجھا جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مٹی کے ہرذرے کی جسامت، شکل اور اسے رکھنے کا انداز کچھ اس طرح مرتب کیا گیا کہ ہر ذرے کی قوت معلوم کی جاسکتی ہے۔ ان قوتوں میں ثقل، رگڑ کی قوت اور نمی کی وجہ سے مٹی کے چپکنے کا انداز شامل ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جیسے جیسے چیونٹیاں سرنگ کھودتی ہیں مٹی کے اندر موجود قوتیں گویا سرنگ کے مرکز کو گھیرے میں لے کر قوت لگاتی ہیں۔ اس سے اندر ہی چھوٹی چھوٹی محرابیں (آرچ) بنتی ہیں جن کی موٹائی خود راہِ سرنگ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مٹی کے ذرات کا بوجھ سہارنے میں مدد ملتی ہے اور جب چیونٹیاں سرنگ کھودتی ہیں تو انہیں آسانی ہوتی ہیں کیونکہ سرنگوں کے بیٹھنے یا ان میں غار بننے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اندرونی محرابیں کالونی کو باہر اور اندر سے مضبوط بناتی ہیں اور وہ ایک عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔
پروفیسر حوزے کے مطابق لاکھوں برس کے ارتقائی سفر میں چیونٹیوں نے اپنے تئیں کالونی سازی کا سادہ طریقہ سیکھا ہے لیکن وہ سائنس اور فزکس کے اصولوں پر مبنی ہے۔ حیرت انگیز طور پر چیونٹیاں سرنگیں بناتے ہوئے اسے ڈھلوانی سطح پر رکھتی ہیں جو 40 درجے تک ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ جب چیونٹیاں محرابین بناتی ہیں تو ریت یا مٹی کا ڈھیلا بہت احتیاط سے ہٹاتی ہیں اور اس کے رخ کا خیال رکھتی ہیں تاکہ محراب کی اوپری چھت نہ گرپڑے۔
’ یہ ایک حیرت انگیز عمل ہے کیونکہ جس تکنیک سے کالونی کے راستے کاڑھے جاتےہیں وہ عین طبیعیات کے اصولوں کے تحت ہوتےہیں،‘ ڈاکٹر حوزے نے کہا۔
ماہرین پرامید ہیں کہ اگر اس رویہ جاتی ماڈل کو کسی کمپیوٹر الگورتھم میں ڈھال کر زمین کھودنے والے خودکار روبوٹ بنائے جاسکتےہیں جو نہ صرف زمین بلکہ دیگر سیاروں پر بھی ہماری مدد کرسکیں گے۔
https://www.express.pk/story/2216873/508/
کئی یورپی زبانیں جاننے والے اس روبوٹ کا نام ’’پرسیفون‘‘ ہے جس کا کام یونان کے ایک غار کی سیر کو آنے والے سیاحوں کی رہنمائی کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، شمالی یونان میں تھیسالونیکی شہر سے 135 کلومیٹر دور ’’ایلستراتی‘‘ نامی ایک مشہور غار واقع ہے جو تقریباً ایک کلومیٹر طویل ہے۔
ایلستراتی غار میں اس سال جولائی سے سیاحوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہاں تقریباً 500 فٹ تک ایک روبوٹ ان کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں اس غار کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔

اس کے بعد، اگلے 2400 فٹ فاصلے تک رہنمائی کی ذمہ داری دو انسان سنبھالتے ہیں۔
ایلستراتی غار اپنی خوبصورتی اور پراسراریت کےلیے پورے یورپ میں مشہور ہے جسے دیکھنے مختلف ممالک سے، مختلف زبانیں بولنے والے سیاح یہاں ہر سال آتے ہیں۔

اسی لیے پرسیفون کو 33 زبانیں بولنے کے قابل بنایا گیا ہے جن میں سے بیشتر یورپ کی ہیں۔ علاوہ ازیں، یہ 33 سوالوں کے جوابات، یونانی زبان میں دے سکتا ہے۔
ایلستراتی غار کے سائنٹفک ڈائریکٹر، نائیکوس کارتالیس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس روبوٹ کا خیال انہیں 17 سال پہلے ایک خبر دیکھ کر آیا تھا جس میں آرٹ گیلری آنے والے شائقین کی رہنمائی ایک روبوٹ کررہا تھا۔

کئی سال کوشش کے بعد، بالآخر 2019 میں انہیں مطلوبہ رقم دی گئی اور اس طرح یونان کی ’’نیشنل ٹیکنالوجی اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے ماہرین نے 118000 یورو (تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ روپے) کی فنڈنگ سے یہ روبوٹ تیار کرلیا۔
ابتدائی آزمائشوں میں کامیابی کے بعد اسے جولائی 2021 سے یہاں آنے والے سیاحوں کی رہنمائی پر مامور کردیا گیا ہے۔
پرسیفون اپنے پہیوں کے ذریعے آگے بڑھتا ہے اور مختلف زبانوں میں سیاحوں کو غار کے بارے میں بتاتا جاتا ہے۔
سنہری سر، چمک دار آنکھوں، سفید جسم اور ایک عدد ایل سی ڈی ڈسپلے والے پرسیفون روبوٹ پر سامنے کی طرف ایک کیو آر کوڈ بھی ہے جسے اسمارٹ فون سے اسکین کرکے ایلستراتی غار کی تمام تفصیلات تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

غار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب سے پرسیفون یہاں آیا ہے اور اس کی خبریں پھیلنا شروع ہوئی ہیں، تب سے یہاں سیاحوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے کیونکہ لوگ اس غار سے زیادہ روبوٹ کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
پرسیفون کا ایک مسئلہ اس کی سست رفتار ہے جس کی وجہ سے سیاحوں کو صرف 500 فٹ دور جانے میں بہت دیر لگ جاتی ہے۔ جلد ہی یہ مسئلہ حل کرکے اس کی رفتار میں اضافہ کیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2216292/509/
چینی کپنی ’’مِنگ یانگ اسمارٹ انرجی‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال سے دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں شروع کرے گی جسے 2024 ءتک تجارتی پیمانے پر فروخت کےلیے پیش کردیا جائے گا۔ یہ وِنڈ ٹربائن ساحل سے دور سمندر میں نصب کی جائے گی۔
مائی ایس ای 16.0-242 (MySE 16.0-242) کہلانے والی یہ ونڈ ٹربائن 242 میٹر (794 فٹ) بلند ہوگی اور سالانہ 80 گیگاواٹ آور کی شرح سے بجلی بناسکے گی۔

آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ 25 سال تک اتنی بجلی پیدا کرسکے گی کہ جو 20 ہزار گھروں کی ضروریات پوری کرنے کےلیے کافی ہوگی۔
فی الحال دنیا کی سب سے بڑی وِنڈ ٹربائن کا اعزاز امریکا کی ’’ہیلی ایڈ ایکس‘‘ کے پاس ہے جسے ’’جنرل الیکٹرک‘‘ نے تیار کیا ہے۔ 853 فٹ اونچی یہ ونڈ ٹربائن 2023 تک مکمل ہوگی جس کی ہر پنکھڑی یعنی ’’بلیڈ‘‘ کی لمبائی 107 میٹر (351 فٹ) ہوگی۔

اس کے مقابلے میں چینی کمپنی منگ یانگ کی ونڈ ٹربائن کی اونچائی ضرور کم رکھی جائے گی لیکن اس کا ہر بلیڈ 118 میٹر (387 فٹ) لمبا ہوگا، جو ہیلی ایڈ ایکس ونڈ ٹربائن بلیڈ سے 11 میٹر زیادہ لمبا ہوگا۔
کمپنی پریس ریلیز کے مطابق، جب ونڈ ٹربائن کے تینوں بلیڈ گھومنا شروع کریں گے تو یہ مجموعی طور پر 46 ہزار مربع میٹر کا رقبہ گھیریں گے جو فٹبال کے چھ میدانوں سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ منگ یانگ کمپنی کی پچھلی سب سے بڑی وِنڈ ٹربائن (MySE 11.0-203) کی نسبت یہ ونڈ ٹربائن اگرچہ صرف 19 فیصد بڑی ہوگی لیکن یہ متوقع طور پر اس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ بجلی بنانے کے قابل ہوگی۔

نئی ونڈ ٹربائن کو نہ صرف سمندر کے بیچوں بیچ کوئی مضبوط ستون گاڑ کر نصب کیا جاسکے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر یہ کسی تیرتے ہوئے وسیع پلیٹ فارم پر بھی لگائی جاسکے گی۔
واضح رہے کہ چین اس وقت دنیا میں ہوا سے بجلی بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جس نے 2020ء میں کورونا وبا کے باوجود ہوا سے بجلی کی پیداوار (وِنڈ انرجی پروڈکشن) میں 71.6 گیگاواٹ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 281 گیگاواٹ تک پہنچایا۔
https://www.express.pk/story/2216325/508/
امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسی اینٹی باڈی دریافت کی ہے جو حالیہ کووِڈ 19 وائرس کی متعدد اقسام سے حفاظت کرسکتی ہے، اب تک اسے چوہوں میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔
سینٹ لوئی، میسوری میں واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ماہرین کی یہ تحقیق آن لائن ریسرچ جرنل ’’امیونولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔
اس حوالے سے متعلقہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ اینٹی باڈی کووِڈ 19 وائرس (سارس کوو 2) کی سطح پر موجود ایک ایسی نوک (spike) کو جکڑ لیتی ہے جو نہ صرف اس وائرس کے انسانی خلیوں میں داخل ہونے میں مددگار ہوتی ہے بلکہ کم و بیش یکساں بھی رہتی ہے۔
یعنی یہ اسپائک، کووِڈ 19 وائرس کے تقریباً تمام ویریئنٹس (اقسام) میں یکساں ہے جسے کامیابی سے جکڑنے والی اینٹی باڈی اس وائرس کی متعدد اقسام سے بیک وقت تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
ناول کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ترین اینٹی باڈی تلاش کرنے کےلیے سائنسدانوں نے مخصوص انسانی خلیوں سے بننے والی ایسی 43 اینٹی باڈیز شناخت کیں جو بطورِ خاص وائرس اسپائک پر حملہ آور ہوتی ہیں۔
ان میں سے 9 اینٹی باڈیز نے پیٹری ڈش میں افزائش کیے گئے انسانی خلیوں میں کووِڈ 19 وائرس کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
جب یہ اینٹی باڈیز چوہوں پر آزمائی گئیں تو معلوم ہوا کہ ان میں سے 2 اینٹی باڈیز ایسی تھیں جن کی کارکردگی کووِڈ 19 وائرس کی تقریباً تمام موجودہ اقسام (بشمول ڈیلٹا ویریئنٹ) کے خلاف بہت اچھی تھی۔
جب مزید تجربات کے ذریعے ان دونوں اینٹی باڈیز کا موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ’’سارس2-38‘‘ (SARS2-38) کہلانے والی اینٹی باڈی نے کووِڈ 19 کی چار خطرناک اقسام (الفا، بی-ٹا، گیما اور ڈیلٹا) کے علاوہ دو ابھرتی ہوئی نئی اقسام (کاپا اور آیوٹا) اور متعدد ایسی اقسام کو بھی بڑی کامیابی کے ساتھ پھیلنے سے روک دیا کہ جنہیں فی الحال کوئی باضابطہ نام نہیں دیا گیا ہے۔
سائنسدانوں نے تخمینہ لگایا ہے کہ ’’سارس2-38‘‘ اینٹی باڈی کی بہت کم مقدار بھی کورونا وائرس کی تقریباً تمام اقسام کی روک تھام میں مفید ثابت ہوگی۔
ماہرین نے یہ حساب بھی لگایا ہے کہ ہر 10,000 میں سے صرف 4 افراد ہی ایسے ہوں گے جنہیں شاید اس اینٹی باڈی سے فائدہ نہ ہو۔ البتہ اس اینٹی باڈی (سارس 38-2) کی صحیح افادیت تب ہی سامنے آئے گی جب اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔
ماہرین کو اس اینٹی باڈی کے انسانی تجربات شروع کرنے کی اجازت کب تک ملے گی؟ فی الحال اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
https://www.express.pk/story/2216265/9812/
طلاق کی وجوہات کے بارے میں نئی تحقیق میں حیران کن دعویٰ سامنے آگیا
Aug 23, 2021 | 18:53:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) طلاق کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم برطانیہ میں ایک نئی تحقیق میں اس حوالے سے حیران کن دعویٰ کر دیا گیا ہے۔ دی مرر کے مطابق تحقیق کاروں نے ایک تحقیقاتی سروے کے نتائج میں بتایا ہے کہ میاں بیوی کے گھر کے کام کاج میں غلطی کرنے پر ان کی طلاق ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ برطانیہ ہر 10میں سے ایک طلاق کی وجہ کسی ایک فریق کا گھر کے کسی کام میں غلطی کرنا ہوتا ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق سب سے زیادہ طلاقیں گھر کو غلط پینٹ کرنے پر ہوئیں۔
سروے میںشامل 2ہزار مطلقہ مردوخواتین میں سے 29فیصد نے اعتراف کیا کہ ان کی طلاق کی وجہ ان کا یا ان کے سابق شریک حیات کا گھر کو پینٹ کرنے میں غلطی کرنا یا پینٹ کے رنگ کے انتخاب پر ہونے والا جھگڑا تھا۔ دوسرے نمبر پر 26فیصد لوگوں نے کہا کہ ان کا جھگڑا نئے منگوائے گئے فرنیچر کو اسمبل کرنے پر ہوا جس کے نتیجے میں ان کی طلاق ہو گئی۔ 20فیصد نے حیران کن طور پر اعتراف کیا کہ ان کا فرنیچر کو گھر میں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر جھگڑا ہوا اور ان کی طلاق ہو گئی۔
https://dailypakistan.com.pk/23-Aug-2021/1331432?fbclid=IwAR2ppkKFolIRF5OCYeRvFdSPMjqg19WuJIdUtQ6wX3jv8p2yNBnF5tui2S0
ایک سافٹ ڈرنک زندگی 12منٹ کم کردیتا ہے :طبی تحقیق
23 August, 2021
محض ایک سافٹ ڈرنک زندگی 12 منٹ کم کردیتا ہے
نیویارک (این این آئی)یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا جس میں غذا کے انسانی صحت اور ماحول پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔جریدے جرنل نیچر فوڈ میں شائع تحقیق میں 5800 سے زیادہ غذائی اشیا کی جانچ پڑتال کرکے ان کے مفید یا نقصان دہ ہونے کی درجہ بندی کی گئی۔امریکا کی مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے روزمرہ زندگی میں گائے کے گوشت اور پراسیس گوشت سے حاصل مجموعی کیلوریز کے صرف 10 فیصد حصے کو اناج، پھلوں، سبزیوں، دالوں اور مخصوص سی فوڈ سے بدل دینا صحت مند زندگی میں 48 منٹ کا اضافہ کرسکتا ہے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-08-23/1871508
اس وقت جبکہ دنیا کے کچھ ممالک میں فائیو جی موبائل کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ بیشتر ممالک اس کی تیاری کرچکے ہیں، جنوبی کوریا کی ایل جی الیکٹرونکس نے جرمن تحقیقی اداروں کے تعاون سے سکس جی (6G) سگنلز کو سب سے زیادہ فاصلے تک بھیج کر ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جرمنی میں کیا گیا یہ تجربہ ایل جی الیکٹرونکس اور مشہور جرمن ادارے ’’فرانہافر گیسیل شافٹ‘‘ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
تجربے کے دوران 6 جی سگنلز کو 328 فٹ (100 میٹر) دوری تک بھیجنے اور ڈیٹا منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔

’ایل جی‘ کی پریس ریلیز کے مطابق، 6 جی موبائل کمیونی کیشن کےلیے استعمال ہونے والی ریڈیو لہریں بہت زیادہ فریکوئنسی کی ہوتی ہیں جو فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت تیزی سے کمزور پڑتی جاتی ہیں۔
یہ مسئلہ حل کرنے کےلیے ماہرین نے بہتر ایمپلی فائرز کے ساتھ ساتھ ہائی گین انٹینا بھی استعمال کیے جبکہ 155 سے 175 گیگاہرٹز فریکوئنسی والی ریڈیو لہریں نشر کی گئیں۔

صرف 100 میٹر دوری تک 6 جی سگنلز کے ذریعے ڈیٹا منتقلی بظاہر ایک چھوٹا کارنامہ ہے مگر ان کی بھی بہت اہمیت ہے۔
آنے والے برسوں میں یہ تجربات جاری رکھتے ہوئے 6 جی ٹیکنالوجی کی رینج (فاصلے) میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہے گا، تاکہ 2030 تک یہ ٹیکنالوجی اس قابل ہوجائے کہ 5 جی ٹیکنالوجی کی جگہ لیتے ہوئے مزید تیز رفتار موبائل ڈیٹا ٹرانسفر کی ضرورت پوری بھی پوری کرسکے۔
واضح رہے کہ فائیو جی کی رفتار 20 گیگا بٹس فی سیکنڈ (20 جی بی پی ایس) تک ہے جبکہ سکس جی اس سے بھی 50 گنا تیز رفتار یعنی تقریباً ایک ٹیرا بٹس فی سیکنڈ (1 tbps) کی رفتار سے موبائل ڈیٹا ٹرانسفر کرسکے گی۔
https://www.express.pk/story/2215682/508/
گزشتہ دو برس سے ہم کورونا وبا کی بے یقینی اور افواہوں میں جی رہے ہیں اور اب بیزارہوچکے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹاک ٹاک پر جادوگرنیوں، نجومیوں اور دیگرکام کرنے والے مرد اور عورتیں تیزی سے مقبول ہورہے ہیں۔ اب یہ لوگ لاکھوں کمارہے ہیں کیونکہ ان پر کان دھرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہیں۔ لوگ ان دیکھے مستقبل کو جاننے کے لیے ان ان افراد سے رابطہ کررہے ہیں۔
بے یقینی میں گرفتار پرتجسس لوگ ٹاک ٹاک پرٹیروٹ کارڈ سے احوال بتانے والوں، درخت کے پتوں پر خواہشات لکھ کر جلانے والوں، نجومیوں، کرسٹل سے علاج کرنے والوں اور دیگرافراد کی جانب رجوع کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ ٹک ٹاک کو وچ(جادوگرنی) ٹاک اور ایسٹرولاجی ٹاک بھی کہہ رہے ہیں۔
ان میں ایک کیمی مانی ہیں جو ارتعاشی چمٹے (فورک) کی جھنجھناہٹ استعمال کرتی ہیں۔ ان کے فالوور 50 ہزار سے بڑھ کر تین لاکھ تک ہوچکےہیں۔ اسی طرح نجوم کی ماہر جیڈ سائکس کہتی ہیں کہ کووڈ 19 وبا کے بعد ان کے سبسکرائبر کی تعداد 5000 تک بڑھی ہے۔ اسی طرح میری ڈتھ گرب مستقبل کا احوال بتاتی ہیں۔ وہ ہزاروں افراد کا زائچہ بناچکی ہیں اور اب یہ حال ہے کہ جنوری 2022 تک ان کے پاس کوئی اپائنٹمنٹ نہیں رہی۔
علمِ نجوم سے وابستہ ایپ کو اسٹار بھی خاصی مقبول ہورہی ہے جسے اب تک دو کروڑ افراد ڈاؤن لوڈ کرچکےہیں۔ اسی طرح صحت دینے والے کرسٹلز اور محبت بڑھانے والی موم بتیاں بھی دھڑلے سے فروخت ہورہی ہیں۔
اس رحجان پر نیویارک یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جیمز الکوک کہتے ہیں کہ جب جب انسان پر غیریقینی صورتحال اس نے نام نہاد روحانیت اور نجوم وغیرہ میں دلچسپی لی ہے۔ امریکہ میں غیریقینی سیاسی صورتحال، کلائمٹ چینج، قدرتی آفات اور پھر کووڈ 19 کی وبا کے بعد انسان بہت مضطرب اور پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ ان عجیب و غریب علوم کا سہارا لے رہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2215303/509/
بارہ سالہ برطانوی بچہ ایشٹن فشر ایک بہت ہی نایاب اور عجیب و غریب بیماری کا شکار ہے جس کے باعث وہ کھانے سے خوفزدہ رہتا ہے اور صرف پھلوں کے اجزاء والی دہی اور ایک خاص برانڈ کی سفید ڈبل روٹی ہی کھاتا ہے۔
ایشٹن کی یہ کیفیت پچھلے دس سال سے جوں کی توں برقرار ہے جس نے نہ صرف اس کے والدین اور اساتذہ کو، بلکہ دوستوں کو بھی پریشان کیا ہوا ہے۔
شروع شروع میں ایشٹن کے والدین سمجھے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح کھانے میں ’نخرے‘ دکھا رہا ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود ایشٹن کی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوتی گئی۔
وہ علاج کےلیے ایشٹن کو ہمیشہ عام ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے رہے جو یہ مسئلہ سمجھ ہی نہیں سکے اور یہ مسئلہ جوں کا توں جاری رہا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ایشٹن کو کھانا پکنے کی خوشبو سے بھی خوف آنے لگا لہذا اس نے گھر والوں کے ساتھ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا اور سب سے الگ تھلگ اپنے لیے لائی گئی مخصوص ڈبل روٹی اور دہی کھا کر گزارا کرنے لگا۔
اسکول میں داخل ہونے کے بعد بھی اس کا یہی معمول برقرار رہا اور اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ کبھی کچھ نہیں کھایا۔ نتیجتاً وہ اسکول میں کچھ خاص دوست بھی نہیں بنا سکا۔
ایشٹن کی بیماری کا انکشاف گزشتہ ماہ اتفاقاً اس وقت ہوا جب غذائی مسائل کے خصوصی ماہر نے پہلی بار اس کا معائنہ کیا۔
وہ تھوڑی ہی دیر میں سمجھ گئے کہ یہ بچہ ایک ایسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے جس کا شکار فرد چند مخصوص چیزوں کے سوا کچھ بھی کھانے سے ڈر جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی مسئلہ ’’غذا کا خوف‘‘ (فوڈ فوبیا) ہی کی ایک قسم ہے۔
مسئلے کا علم ہوتے ہی مختلف تدابیر اختیار کرتے ہوئے ایشٹن فشر کا علاج شروع کردیا گیا جس کے بعد سے اس کی طبیعت بتدریج بہتر ہورہی ہے اور اب وہ آہستہ آہستہ سینڈوچز، چپس، روسٹ اور چکن وغیرہ بھی کم مقدار میں کھانے لگا ہے۔
https://www.express.pk/story/2215158/509/
اسٹارلنک سیٹلائٹ، دماغی چپ اور خودکار ٹیسلا کار بنانے والی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی انسان نما (ہیومونائڈ) روبوٹ پر کام شروع کردیا ہے۔ اس روبوٹ کو ٹیسلا نے آپٹیمس کا نام دیا ہے۔
ٹیسلا کے مطابق اسمارٹ روبوٹ ’خطرناک، بار بار انجام دیئے جانے والے اکتاہٹ بھرے‘ کاموں کو انجام دے سکے گا۔ آپٹیمس کی اونچائی 173 سینٹی میٹر اور وزن 57 کلوگرام کےقریب ہوگا۔ اسے حرکت دینے کے لیے کل 40 ایکچوایٹرز نصب کئے جائیں گے۔ تمام ایکچوایٹرز برقی مقناطیسی انداز میں کام کرتے ہوئے روبوٹ کے مختلف حصوں کو حرکت دیں گے۔ آپٹیمس کا چہرہ نقش سے عاری ہے اور کپڑوں کی دکان پر رکھے مجسمےکی طرح دکھائی دیتا ہے۔ بعض اطلاعات کےمطابق یہ حتمی ڈیزائن نہیں کیونکہ چہرے پر ڈسپلے ظاہر کیا جائے گا۔
ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلون مسک نے کہا ہے کہ اگلے سال روبوٹ کا پہلا نمونہ سامنے آجائے گا اور وہ 20 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ انہوں نے اپنی کمپنی میں یومِ مصنوعی ذہانت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹ میں ٹیسلا گاڑیوں کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے گا کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی آزمائش پہلے ہی کی جاچکی ہے۔
’ٹیسلا غالباً دنیا کی سب سے بڑی روبوٹ کمپنی ہے کیونکہ ہماری گاڑیاں بھی کسی روبوٹ سے کم نہیں بس فرق یہ ہے کہ ان کے نیچے پہیے لگے ہیں،‘ ایلون نے کہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اے آئی روبوٹ کی ٹیکنالوجی تیار ہے اور ہماری کمپنی بہترین سینسر اور ایکچوایٹرز ہیں جس کی بدولت انسان نما روبوٹ بنانا آسان ہوجاتا ہے۔
ایلون مسک نے اپنے انسانی روبوٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے چلنے کی رفتار 8 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رکھی گئی ہے اور اسے کمزور بنایا گیا تاکہ انسان اس پر وقت پڑنے پر قابو پاسکیں۔ کیونکہ اس سے قبل ایلون مسک کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بے قابو مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے بہت بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
ٹیسلا کے سربراہ نے یہ بھی کہا ہے کہ روبوٹ ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ تاہم اس روبوٹ کےلباس میں ایک انسان کو داخل کرکے دکھایا گیا ہے کہ آپٹیمس دیکھنے میں کیسا لگے گا۔ اس دوران ایلون مسک نے یہ اعلان بھی کیا ہے ان کی کمپنی اے آئی مائیکروچپ بناچکی ہے جسے ڈی ون کا نام دیا گیا ہے۔ یہ چپ ڈوجو نامی کمپیوٹرمیں نصب کی جائے گی۔ سپرکمپیوٹر سے ٹیسلا کاروں کے سینسر اور کیمروں سے حاصل شدہ ڈیٹا پروسیس کیا جائے گا۔ اس کی بدولت نیورل نیٹ ورکس کو ترقی دی جائے گی تاکہ ازخود چلنے والی کار ٹیکنالوجی کو زیادہ محفوظ اور مؤثر بنایا جاسکے۔
https://www.express.pk/story/2215426/508/
دنیا بھر میں دسیوں لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کے کان کا پردہ کسی چوٹ، انفیکشن یا بیماری سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اب ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا ایک مصنوعی کان کا پردہ (ایئرڈرم) بنایا ہے۔ اسے ہم اب طبلِ گوش کہیں گے۔
ہم جانتے ہیں کہ کان کے اندرایک باریک جھلی ہوتی ہے جس سے آواز کی لہریں ٹکراتی ہیں تو پردے پر دباؤ پڑتا ہے ۔ اسے دماغ پروسیس کرکے ہمیں وہ آواز سناتا ہے۔ اگر اسے نقصان پہنچ جائے تو طبلِ گوش کو بحال کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ہارورڈ کے ماہرین نے فونوگرافٹ نامی تھری ڈی پرنٹڈ پردہ بنایا ہے جس کی تجارتی پیمانے پر تیاری شروع ہوگئی ہے۔
طبلِ گوش کو ٹمپینگ میمبرین (جھلی) بھی کہا جاتا ہے جو بہت باریک اور گول بافت کی طرح ہوتا ہے۔ بہت زوردار آواز سے بھی طبلِ گوش متاثرہوکر انسان کو بہرہ بنا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ بیکٹیریا یا کسی اور خارجی شے کا اثر اسے تباہ کردیتا ہے۔ اسی طرح مرض کا انفیکشن بھی سماعت چھین سکتا ہے۔
اس کا روایتی علاج تو ٹمپینوپلاسٹی ہے جس میں مریض کے اپنے جسم کی کھال سے کان کے پردے کی مرمت کی جاتی ہے۔ لیکن ہر دفعہ اس سے فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ دوم اس آپریشن میں کان کے پیچھے سے باریک سوراخ بھی کیا جاتا ہے اور کئی دفعہ پورا آپریشن ہی ناکام ہوجاتا ہے۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے فونوگرافٹ بنایا گیا ہےجس میں سائیکل کے پہیوں کے تاروں کی طرح ڈیزائن بنایا گیا ہے۔ اسے قدرتی ایئرڈرم کی شکل دینے کے لیے پولیمر والی روشنائی میں ڈبوکرتیار کیا گیا ہے۔ پھر اس پر مریض کے اپنے خلیات لگائے جاتے ہیں جو ازخود بڑھنے لگتے ہیں۔ اس طرح پیوند لگانے پر سماعت بحال ہوجاتی ہے۔ تجرباتی طور پر اسے خاص طرح کے چوہوں پر آزمایا گیا ہے جن کا کان انسان سے مشابہہ ہوتا ہے۔ ان پر یہ تجربات بہت کامیاب رہے ہیں۔
اس کی تجارتی پیمانے پر تیاری کے لیے ایک ایک اسپن آف کمپنی بھی بنائی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2215445/9812/
یورپی ماہرین نے انسانی خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) کی مدد سے تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے ’ننھے منے دماغ‘ پر ’چھوٹی چھوٹی آنکھیں‘ اُگانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس پیش رفت کی بدولت ہمیں رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما کے ابتدائی مراحل سمجھنے میں مدد ملے گی اور ممکنہ طور پر آنکھوں کا بہتر علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔
کامیابی کا پس منظر
ان تجربات کےلیے انسان سے جسمانی خلیات (somatic cells) لے کر، کچھ مخصوص مراحل سے گزارنے کے بعد، ان سے ’’پلوری پوٹینٹ‘‘ قسم کے خلیاتِ ساق حاصل کیے گئے جو کسی جسمانی بافت (ٹشو) کی تشکیل کرسکتے ہیں۔
اسی بناء پر انہیں ’’ہیومن انڈیوسڈ پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز‘‘ (Human iPSCs) یا ’’انسان سے ماخوذ کثیر استعدادی خلیاتِ ساق‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
سب سے پہلے انسانی جسمانی خلیوں سے پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز حاصل کیے گئے جنہیں ایک پیٹری ڈش میں رکھا گیا۔
پیٹری ڈش میں ایسا ماحول رکھا گیا کہ وہ اپنی تعداد بڑھا کر بتدریج ایک خلوی گیند (سیلولر بال) کی شکل اختیار کرسکیں۔
اس طرح تجربہ شروع ہونے کے دسویں دن ایک ایسی خلوی گیند وجود میں آگئی جس میں اعصابی خلیاتِ ساق (nerve stem cells) موجود تھے۔ یہ گیند ’’نیورو اسفیئر‘‘ (neurosphere) بھی کہلاتی ہے۔
بتاتے چلیں کہ یہی وہ خلیے بھی ہیں جو نشوونما کے متعدد مرحلوں سے گزرنے کے بعد نہ صرف دماغ بلکہ پورے جسم میں پھیلے ہوئے اعصابی نظام سے متعلق خلیوں کو جنم دیتے ہیں۔
اعصابی خلیاتِ ساق کی اس گیند نے اپنی نشوونما جاری رکھی جس دوران اس میں مزید خلیے بنتے رہے؛ اور یہ آہستہ آہستہ کرکے بڑی بھی ہوتی گئی۔
تجربے کے 30 ویں دن یہ گیند ’’دماغ نما عضو‘‘ (Brain-like organoid) کی شکل اختیار کرچکی تھی جس کے ایک طرف آنکھوں جیسی ساختیں بھی بننے لگی تھیں۔
60 ویں دن تک خلوی گیند کے ساتھ ساتھ یہ آنکھیں بھی مزید بڑی اور نمایاں ہوچکی تھیں جبکہ ان میں ایسے خلیے بھی بن چکے تھے جو روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آسان الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس ننھے منے ’’دماغ جیسے عضو‘‘ پر ایسی ’’آنکھیں‘‘ بن گئیں جو ’’دیکھنے‘‘ کی بنیادی صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔
تجربہ گاہ میں تیار کیا گیا یہ ننھا منا دماغ اس کے بعد تلف کردیا گیا، کیونکہ طبّی تحقیق کی اخلاقیات اور اس حوالے سے موجود بین الاقوامی قوانین کی رُو سے یہ تجربات اس سے آگے بڑھائے نہیں جاسکتے تھے۔
یہ تحقیق ’’سیل اسٹیم سیل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے جس کے مرکزی مصنف، جے گوپالاکرشن ہیں جو ڈوسلڈورف اسپتال، جرمنی سے بطور ماہرِ عصبیات (نیورو سائنٹسٹ) وابستہ ہیں۔
ڈاکٹر گوپالاکرشن کا خیال ہے کہ چھوٹے چھوٹے دماغ بنا کر ہمیں حمل کے دوران دماغ اور آنکھ میں دو طرفہ عمل (انٹریکشن) کو سمجھ کر ایسا علاج وضع کرنے میں آسانی ہوگی جو کسی مریض کی مخصوص اور انفرادی ضرورت کے عین مطابق ہو۔
امید کی جاسکتی ہے کہ یہ منزل بھی آجائے گی لیکن شاید اس تک پہنچنے میں کئی سال بلکہ کئی عشرے لگ جائیں کیونکہ ابھی تجربہ گاہ میں دماغ سمیت دیگر چھوٹے اعضاء تیار کرنا بہت وقت طلب اور مشکل کام ہے۔
https://www.express.pk/story/2215122/508/
دنیا میں قدرت کے کئی پراسرار عجوبے موجود ہیں جن میں یوٹاہ کا ایک قدرتی جشمہ بھی ہے جو 15 منٹ تک بہنے کے بعد 15 منٹ کے لیے رک جاتا ہے اور دوبارہ 15 منٹ تک بہتا رہتا ہے پھرگویا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
آبشار نما چشمہ وائیومنگ کے ایفٹن ٹاؤن کے مشرق میں واقع ہے جسے سانس لیتی آبشار یا دورانیے والا چشمہ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے بعض چشمے دنیا کے دیگر مقامات پر بھی موجود ہیں لیکن سوئفٹ کریک نامی گھاٹی میں واقع یہ دنیا کا سب سے بڑا چشمہ بھی ہے۔ خشکی کے وقت اس سے ایک قطرہ بھی نہیں بہتا اور جب 15 منٹ بعد پانی کی بوچھاڑ شروع ہوتی ہے تو کوئی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوپاتا۔ اس حیرت انگیزعجوبے کی مکمل وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم ماہرینِ ارضیات نے اس کی سائنسی وجہ ضرور بیان کی ہے جو قابلِ فہم بھی معلوم ہوتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق چشمے کی وجہ سائفن افیکٹ ہے۔ سائفن اس ایجاد کو کہتے ہیں کہ جس میں اوپر رکھے برتن پر ربڑ کی نلکی لگا کر اس کا دوسرا سرا نیچے کی جانب کیا جاتا ہے اور اس طرح ہوا کے دباؤ کی وجہ سے پانی نیچے کی جانب بہنا شروع ہوجاتا ہے۔ عین اسی اصول پر یہ جھرنا بھی کام کرتا ہے۔ اس کےدہانے سے گرنے والا پانی ایک تنگ راستے سے ہوتا ہوا اوپر آتا ہے اور اس کے نیچے سائفن کی طرح ایک ٹنکی نما ساخت موجود ہے جس میں پانی ایک خاص سطح تک آنے کے بعد چھلک کر تنگ راستے میں جاتا ہے اور وہاں سے باہر بہنے لگتا ہے۔ اس کےبعد جب پانی کی مقدار ختم ہوجاتی ہے تو چشمے کا بہاؤ رک جاتا ہے اور اسے دوبارہ پھرنے میں 15 منٹ لگتے ہیں۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ سے وابستہ ماہرِ آب پروفیسر کِپ سولومن کہتے ہیں کہ ہم نے پانی کا جائزہ لیا تو اس میں گیس کے آثار ملے جس سے انکشاف ہوتا ہے کہ زیرِ زمین گیس سے پانی سائفن کی طرح اوپر آتا ہے اور جمع ہونے پر بہنے لگتا ہے۔ پانی ختم ہونے پر دھیرے دھیرے گیس جمع ہوتی ہے اور دوبارہ زیرِ زمین پانی اوپر آتا ہے اور بہاؤ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
لیکن واضح رہے کہ چشمے کے کھلنے اور بند ہونے کا سلسلہ موسمِ گرما کے آخر سے موسمِ خزاں تک جاری رہتا ہے۔ سال کے بقیہ عرصے میں پانی کی سطح کم رہتی ہے اور بہاؤ رک جاتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2215008/509/
جب جب معدے اور آنتوں کی جراحی کی جاتی ہے تو وہاں کی نمی کی وجہ سے زخموں کو بھرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اکثر صورتحال میں آنتوں کی رطوبت، ہاضماتی اجزا اور فضلہ بھی خارج ہوکر بدن میں جاتا رہتا ہے۔ لیکن اب ایک ہائیڈروجل سے ایک نئی پٹی یا پیوند بنایا گیا ہے جو برق رفتاری سے آنتوں کے اندرونی زخم بھرسکتا ہے۔
اگرچہ اس سے قبل کئی طرح کے پھائے بنائے گئے ہیں جو آنتوں کے اندرونی ٹانکوں پر لگائے جاتے ہیں لیکن ان میں ایک کمی یہ ہے کہ آنتوں سے خارج ہونے والے کئی طرح کے کیمیکل جب کھانا ہضم کرسکتے ہیں تو وہ اس پٹی کو بھی گھلادیتےہیں۔ اس طرح کی پٹیاں زخم بھرنے سے پہلے ہی اترجاتی ہیں بلکہ زخم مزید خراب بھی ہوجاتا ہے۔
کوئن ایلزبتھ یونیورسٹی ہاسپٹل کے سائنسدانوں نے ایک نیا ہائیڈروجل پیوند بنایا ہے جو چار طرح کے کیمیائی اجزا کو سہہ سکتا ہے ان میں ایکریلک ایسڈ، میتھائل ایسائلیٹ، ایکرل ایمائڈ اور بس ایکرل ایمائڈ شامل ہیں۔ اس پٹی کو بعض جانوروں پر بھی آزمایا گیا ہے۔
یہ ایجاد ایک طرح کا ہائیڈروفوبک (پانی بھگانے والا) مادہ بھی ہے۔ جب اسے خنزیر کی آنتوں پر لگایا گیا تو وہ اچھی طرح چپک کیا۔ اس کے بعد آنتوں سے خارج ہونے والی مائعات سے وہ مزید سخت ہوگیا اور گرفت مضبوط ہوگئی۔ سائنسی لحاظ سے اس کی آنتوں سے چپکنے کی صلاحیت دیگر پٹیوں کے مقابلے میں دس گنا زائد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آنتوں کے سکڑنے اور پھیلنے کے دباؤ کو پانچ گنا تک برداشت کرسکتا ہے۔
اس طرح وہ دن دور نہیں جب آنتوں کی اندرونی سرجری کے بعد اس پیوند کو زخم بھرنے میں عام استعمال کیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2215014/9812/
کووڈ وبا کے عالمی تناظر میں تدریس اور ملاقاتوں کے لیے ہم نے زوم کا سہارا لیا لیکن کئی لوگوں نے اسے اکتاہٹ اور تھکادینے والا تجربہ قرار دیا ہے۔ اس کے جواب میں فیس بک نے مجازی حقیقت (ورچول ریئلٹی) پر مبنی ایک ایپ بنائی ہے جس میں قدرے حقیقی انداز میں آپ دوستوں کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہیں۔
تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ 300 ڈالر کا وی آر ہیڈسیٹ پہنا جائے جس میں سب سے مشہور آکیولس کوئسٹ ٹو ہے جو بڑے پیمانے پر استعمال ہورہا ہے۔ اسے پہن کر جب آپ ہورائزن ورک روم میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو مختلف لوگوں کے کارٹون نما کردار ایک کمرے میں میز کے گرد بیٹھے نظر آتے ہیں جسے دیکھ کر حقیقی منظر کا احساس ہوتا ہے جبکہ دیگر شرکا بھی آپ کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں۔
اس ایپ کی بدولت آپ مختلف حلیے، اوتار اور کپڑے بھی منتخب کرسکتے ہیں۔ فیس بک کا مقصد ہے کہ لوگ آکیولس کو تفریح کے علاوہ سنجیدہ سرگرمیوں میں بھی استعمال کریں اور مجازی ملاقات کا ایک انوکھا تجربہ حاصل کریں۔ ورک روم میں ایک وقت میں ہیڈ سیٹ پہنے زیادہ سے زیادہ 16 افراد بیٹھ کر تبادلہ خیال کرسکتےہیں۔ لیکن مجموعی طور پر 50 ایسے لوگ شامل ہوسکتے ہیں جو ہیڈسیٹ کے بغیر فون کالز پر ہوں گے اور مختلف خانوں میں ان کے ویڈیو اسکرین دکھائی دیتے ہیں۔
ہیڈ سیٹ پہنے افراد اپنی انگلیاں اور ہاتھ ہلائیں گے تو ان کا ڈجیٹل خاکہ بھی ہاتھ اور انگلیوں کو جنبش دے گا۔ اس کے علاوہ جب جب وہ بات کریں گے ان کے ڈجیٹل کرداروں کے ہونٹ بھی اس انداز سے حرکت کریں گے۔ ورچول کانفرنس میں ایک وائٹ بورڈ بھی رکھا گیا ہےجہاں آپ پریزینٹیشن اور تحریروں میں دوسروں کو شریک کرسکیں گے۔
فیس بک ریئلٹی لیبس کے نائب سربراہ، اینڈریو بوس ورتھ نے بتایا کہ ہم اندرونی طور پر یہ ایپ ایک سال سے استعمال کررہے ہیں تاہم 18 ماہ کی وبا اور لاک ڈاؤن سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارم حقیقی ملاقات کا بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب فیس بک کے عملے نےکہا ہے کہ زوم کے مقابلے میں ہورائزن ورک روم میں وہ خود کو بہت بااعتماد انداز میں پیش کرسکتےہیں اور مجازی کرداروں کی بدولت ایک دوسرے سے گفتگو کرنے میں بہت آسانی رہتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2214953/508/
گوگل میسیج میں اب اینڈرائیڈ موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین اپنے تحریر شدہ پیغامات کو بعد میں کسی مقررہ وقت پر بھیجنے کے لیے شیڈول کرسکتے ہیں۔
گوگل میسجز نے ٹیکسٹ پیغامات کو شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرادیا ہے۔ یہ فیچر اینڈرائیڈ موبائل فون رکھنے والے ایسے صارفین کے لیے کار آمد ہے جو اپنے ٹیکسٹ پیغامات ٹائپ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن فوری طور پر بھیجنا نہیں چاہتے۔ جیسے کوئی سالگرہ مبارک یا کسی خاص دن کا پیغام کسی خاص وقت پر بھیجنا چاہیں تو اس فیچر سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے گوگل میسجز مختلف فیچرز پیش کرتا ہے جن میں شیڈولنگ میسجز اور ٹیکسٹ کی خودکار درجہ بندی شامل ہے۔ اینڈرائیڈ موبائل فونز پر ٹیکسٹ میسجز کو شیڈول کرنے کا طریقہ درج زیل ہے۔
1. سب سے پہلے پیغامات ایپ کھولنے کے لیے آئیکن پر ٹیپ کریں پھر اسی کے آئیکن پر ٹیپ کرکے پیغامات شروع کریں۔
2. اپنا پیغام تحریر کریں۔
3- پیغام بھیجنے کے لیے تیر کے نشان والے سینڈ بٹن کو دبا کر رکھیں اور جیسے ہی ایک چھوٹی ونڈو کھلے تو اس میں سے پیغام کو بھیجنے کا وقت منتخب کرلیں۔
4- اگر آپ دیئے گئے اوقات کار سے الگ وقت منتخب کرنا چاہتے ہیں تو ’’ Pick date and time‘‘ پر کلک کریں اور وہ وقت ٹائپ کریں جس پر میسیج بھیجنا چاہتے ہوں۔
جن صارفین کے پاس گوگل میسیج دستیاب نہ ہو وہ گوگل کے پلے اسٹور سے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے نت نئے فیچرز سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2215248/508/
کوریائی سائنس دانوں نے مسلسل محنت کے بعد ایک خاص جھلی تیار کی ہے جو منٹوں میں کھارے ترین پانی کو بھی میٹھا کردیتی ہے، توقع ہے کہ اس سے میٹھے پانی کے حصول کا مسئلہ بہت حد تک حل ہوسکتا ہے۔
دنیا بھر میں بہت کڑوے پانی کو قابلِ نوش بنانے والی بہت سی جھلیاں (میمبرین) اور چھلنیاں بنائی جاتی رہی ہیں لیکن ایک مرحلے پر وہ اتنی نم دار ہوتی ہیں کہ ان کی افادیت کم ہوجاتی ہے۔
اس مسئلے کا حل کوریا انسٹی ٹیوٹ آف سوِل انجینیئرنگ اینڈ بلڈنگ ٹیکنالوجی (کے آئی سی ٹی) کے ڈاکٹر اونچول وو اوران کے ساتھیوں نے نینو ٹیکنالوجی سے کوایکسل الیکٹرواسپن نینوفائبر میمبرین بنائی ہے جو نمک ربائی کی ایک تازہ کاوش ہے۔
اول تو اس میں دیگر جھلیوں جیسے مسائل پیدا نہیں ہوتے، دوم اس کی ساخت تھری ڈی (سہ ابعادی) ہے جو منٹوں میں کھارے ترین پانی کو بھی پینے کے قابل بناتی ہے۔
اس طرح یہ ایک بہت سادہ طریقہ ہے جس میں پولی وینائلیڈین فلورائڈ کو ہیگزا فلورو پروپائلین کا اہم کردار ہے اور اس میں سلیکا کا ایئروجیل بھی رکھا گیا ہے۔ اس بنا پر جھلی سپر ہائیڈرو فوبک بن جاتی ہے یعنی پانی اس سے گزرتا تو ہے لیکن قطروں کی صورت میں ٹھہرتا نہیں۔
دوسری جانب دیگر پالیمر کے مقابلے میں سلیکا ایئروجیل سے حرارت گزرنے کا رجحان بہت سست ہوتا ہے۔ روایتی جھلیاں 50 گھنٹے تک ہی چل پاتی ہیں جبکہ نینو میمبرین 30 دن تک کارآمد رہتی ہے۔
یعنی پورے ایک ماہ تک پانی میں موجود 99.99 فیصد نمک دور کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس طرح یہ ایک بہترین ٹیکنالوجی ہے جس سے دنیا کے کروڑوں افراد کے لیے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر وو اگلے مرحلے میں اس نینو جھلی پر مشتمل ایک پائلٹ پلانٹ بنائیں گے اور اس کے بعد حقیقی تجارتی پلانٹ پر کام ہوگا تاہم تجربہ گاہ میں اس کی غیرمعمولی کامیابی نوٹ کی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2214749/508/
بلڈ پریشر چیک کرنے والا منفرد بریسلیٹ ’’پلس ویو‘‘ تیار
18 August, 2021
یورپ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے بلڈ پریشر چیک کرنے والا منفرد بریسلیٹ ’’پلس ویو‘‘ تیار کرلیا ہے
لندن(نیٹ نیوز)۔ٹیکنالوجی کمپنی نے لوگوں کی آسانی کیلئے ایسا بریسلیٹ تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے فشار خون کی پیمائش کرتا ہے ۔یہ بریسلیٹ 40 سال سے 60 سال تک افراد کے لیے انتہائی موزوں ہے ۔اس سسٹم میں ایک ایپلی کیشن شامل ہے جو بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے پریشر کالر اور بریسلٹ سے منسلک ہوتی ہے ۔ماہرین کا کہناہے کہ یہ بریسلیٹ آنیوالے وقت میں مستقل بنیادوں پر بلڈپریشر کی بیماری میں مبتلا افراد کے لئے انتہائی کارآمد چیز ثابت ہوگی ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-18/1869175
لمبائی کو بڑھانے اورکم کرنے والی کارایجاد کرلی گئی
18 August, 2021
جرمنی کی کار ساز کمپنی نے اب تک کی جدید ترین گاڑی تیار کر لی ہے جس کی لمبائی کو بڑھایا اور کم کیا جاسکتا ہے
فرینکفرٹ (نیٹ نیوز)اس گاڑی کو ’’سکائی سیفر‘‘ کا نام دیا گیا ہے ، جس کی لمبائی کو بٹن دبا کر کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے ۔اس گاڑی میں ایک اور بٹن موجود ہے جس کو دبانے پر ڈیش بورڈ کے نیچے پیڈلز نکلتے ہیں اور یہ دو حصوں میں تبدیل ہوکر کاک پٹ کی صورت اختیار کرسکتی ہے ۔جرمن کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں گاڑی کی تبدیلی کے عمل کو دکھایا گیا ہے ، اس منظر کو سائنس فکشن فلموں میں عکس بند کیا گیا ہے ۔سوشل میڈیا صارفین یہ کار دیکھ کرحیران ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-18/1869173
دنیا بھر میں ہاتھوں سے محروم افراد کے لیے ایک اچھی خبر ہے کہ اب ایک نرم، کم خرچ اور وقت کے ساتھ ساتھ سکڑنے اور پھیلنے والا مصنوعی بازو بنایا گیا ہے جو پہننے والے کو اس کی معلومات (ٹیکٹائل فیڈ بیک) بھی فراہم کرتا ہے۔
میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور چین میں واقع جیاؤ تونگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مل کر مصنوعی ہاتھ بنایا ہے جس کی بدولت گلاس اور دیگر ہلکی اشیا کو گرفت کرنے اور اٹھانے میں مدد ملے گی۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں ضرورت کے لحاظ سے مسلسل پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد افراد پورے یا نصف بازو سے محروم ہیں جنہیں روزمرہ کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
اگرچہ کئی طرح کے جدید برقی مصنوعی ہاتھ بازار میں دستیاب ہیں جنہیں پہننے والا کچھ نہ کچھ محسوس بھی کرتا ہے لیکن وہ بہت ہی مہنگے اور بھاری بھرکم ہوتےہیں۔ لیکن اس بازو کا وزن صرف 225 گرام اور قیمت 500 ڈالر ہے۔ یوں دنیا کے بہت سے لوگ اسے خرید کر اپنی معذوری کا کچھ حد تک ازالہ کرسکیں گے۔
اس کی خاص بات انگلیاں ہیں جو لچکدار ایلاسٹومر سے بنی ہیں جو بازار میں ایکوفلیکس کے نام سے دستیاب ہے۔ اس کے اندر ہڈی نما ساختیں شامل کی گئی ہیں۔ اس میں تھری ڈی پرنٹر سے ہتھیلی بنی ہے۔ اگلے مرحلے میں ہاتھ اور انگلیوں کے اندر موٹروں کی بجائے چھوٹے والو اور پمپ لگائے گئے۔ ان کی بدولت ہوا اندر جاتی ہے اور لچکدار مٹیریئل پھیلتا ہے اور ہوا کھینچنے سے سکڑ جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل بہت محتاط انداز سے ہوتا ہے اور ہوا کی مقدار کے لحاظ انگلیاں پھیلتی اور سکڑتی ہیں۔ نیومیٹک سسٹم میں بہت حساس ای ایم جی سینسر لگے ہیں جو کلائی پر بندھے ہیں۔
اس عمل کو ممکن بنانے کے لیے کمپیوٹر ماڈلنگ سے مدد لی گئی ہے جس کے بعد ہاتھ چٹکی بھرنے سے لے کر گلاس اٹھانے کے قابل بھی ہوگیا۔ یہاں ایک الگورتھم پٹھوں کے سگنلوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے گرفت کا دباؤ کم یا زیادہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ مختلف انگلیوں میں دباؤ کی مختلف مقداریں شامل کی جاسکتی ہیں۔
تیاری کے بعد دو رضاکاروں نے اسے استعمال کیا اور پانچ مختلف انداز سے اشیا تھامنے کے تجربات کئے۔ ان میں قلم سے لکھنے، ڈھیر لگانے، نازک شے اٹھانے، کوئی بھاری شے پکڑنے اور گرفت کے دیگر انداز شامل تھے۔ یعنی اس سے نرم کیک پکڑ کر کھایا جاسکتا ہے اور ہتھوڑی بھی اٹھائی جاسکتی ہے۔ پھر اس کا موازنہ بازار میں دستیاب مہنگے مصنوعی ہاتھوں سے کیا گیا تو رضاکاروں نے ایم آئی ٹی کی ایجاد کو مؤثر، بلکہ بہتر قرار دیا۔
اگلے مرحلے میں رضاکاروں کی آنکھیں بند کرکے سائنسدانوں نے ان کی ایک ایک انگلی کو چھوا اور پوچھا کہ وہ اس کا احساس کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد مختلف جسامت کی بوتلیں ان کے ہاتھوں پر رکھی گئیں۔ رضاکاروں نے بھی اس کا درست جواب دیا۔
اگر یہ ایجاد کمرشل تجربات کے بعد مارکیٹ میں پیش کی گئی تو جلد اپنی جگہ بنالے گی۔
https://www.express.pk/story/2214431/9812/
جرمن اور اطالوی سائنسدانوں نے آٹومیٹک کاروں اور اسمارٹ فون کے لیے انفراریڈ سینسر استعمال کیا ہے جس کی بدولت نہ صرف کاروں کو سامنے کی فضا دیکھنے میں مدد ملے گی بلکہ اسمارٹ فون کم اندھیرے میں واضح اور مزید صاف تصاویر لے سکیں گے۔
اس سے قبل روایتی فوٹوڈائیوڈز سےانفراریڈ (زیریں سرخ) ماحول کو دیکھنا ممکن نہ تھا۔ اگرہم شارٹ ویو انفراریڈ (ایس ڈبلیو آئی آر) مناظر کو دیکھ سکیں تو ہمیں عام روشنی کے مقابلے میں وہ بہت واضح اور صاف دکھائی دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ایسے کیمرے دھوئیں، بارش اور دھند میں بھی جھانک سکتے ہیں۔ عام کیمرے سے دیکھیں تو پانی کے بخارات بھی گویا ایک پردہ بن جاتے ہیں۔ بالخصوص اس سے دھند میں طیاروں کو اڑانے اور زمین پر اتارنے میں بہت مدد ملے گی۔ اسی طرح صوبہ پنجاب میں موسمِ سرما کی دھند میں سفر جاری رکھنا ممکن ہوجائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل انفراریڈ کیمرے سلیکن سے بنائے گئے ہیں لیکن ایس ڈبلیو آئی آر رینج کے یہ کیمرے بہت اچھے نہیں۔ اول تو یہ بہت مہنگے ہیں دوم انہیں عام برقی سرکٹ کے ساتھ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس خامی کو نئے سینسر سے دور کیا گیا ہے۔
سائنسدانوں کے اس نئے سینسر میں ایک پرت تو سلیکن کی ہے لیکن اس پر جرمینیئم اور جرمینیئم ٹِن بھی شامل کیا گیا ہے۔ لیکن اس سفر میں دس برس کی محنت اور ناکامیاں شامل ہیں۔ اب یہ سینسر کسی بھی برقی کارخانے میں آسانی کے ساتھ بناکر اسے اسمارٹ فون کیمرہ چپ کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی سینسر مختلف طولِ موج (ویولینتھ) کی تصاویر لے سکتا ہے ۔ جب اس کا رخ پینٹنگ کی طرف کیا گیا تو اس میں لگی رنگوں کی کئی پرتوں کو واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2214486/508/
انسان جب قریب المرگ پہنچتا ہے تو اس کے جسم کو پتہ لگ جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ وہ علامات جن سے موت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے
Jul 30, 2021 | 19:12:PM
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جب انسان قریب المرگ ہوتا ہے تو اس میں کچھ ایسی علامات نمایاں ہوتی ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب انسان سفر آخرت پر روانہ ہونے کو ہے۔ کترینا ٹائی نامی ایک نرس نے اپنے ایک آرٹیکل میں ایسی ہی کچھ علامات بیان کر دی ہیں جن سے لوگ اپنے بیمار رشتہ دار کے متعلق اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ موت کے منہ میں جانے والا ہے۔
ڈیلی سٹار کے مطابق کترینا ہسپتال کے اس وارڈ میں سالہا سال سے کام کرتی آ رہی ہیں جہاں لاعلاج لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو موت کے منتظر ہوتے ہیں۔ کترینا لکھتی ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہوتا ہے اس میں کئی طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کی بھوک کم یا بالکل ختم ہو جاتی ہے اور اس میں نگلنے کی صلاحیت بھی ختم ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ جب آدمی قریب المرگ ہوتا ہے تو اس کے جسم کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اسے خوراک کی ضرورت نہیں رہی۔ چنانچہ وہ خوراک کھانے اور اسے ہضم کرنے پر صرف ہونے والی توانائی بھی دل کی دھڑکن کو برقرار رکھنے اور اگلی سانس لینے کے لیے محفوظ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور پھر کھانا پینا ایسے شخص کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا نظام انہضام پہلے ہی جواب دے چکا ہوتا ہے لہٰذا ایک یہ بھی وجہ ہے کہ اس کا جسم خود ہی کھانے کی طلب سے دستبردار ہو جاتا ہے۔
کترینا لکھتی ہے کہ ایسے شخص کی ظاہری شکل و صورت میں بھی کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کے چہرے کی رنگت پیلی، سفیدیا نیلگوں سی ہو جاتی ہے، جیسے اسے یرقان کی بیماری ہو۔ اس کی آنکھیں شیشے جیسی یا دودھیا رنگ کی ہو جاتی ہے اور مسلسل بند یا کھلی رہنے لگتی ہیں۔ اس کے پپوٹے بھی غیرمتحرک ہونے لگتے ہیں اور نظر ایسے ہوتی ہے جیسے وہ کسی چیز کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہو۔ خون کی گردش ناقص ہونے پر ناخنوں میں نیلے نشانات پڑنے لگتے ہیں، مریض کا جسم چھونے پر بہت زیادہ گرم یا بہت زیادہ سرد محسوس ہونے لگتا ہے۔ بسااوقات مریض کو سوجن آ جاتی ہے جو کہ جسم میں مائع مواد کے جمع ہونے کے سبب آتی ہے۔
کترینا مزید بتاتی ہیں کہ ایسے مریض کے سانس لینے کے عمل میں تبدیلی لازمی امر ہوتا ہے۔ اس کا سانس بھاری ہو جاتا ہے اور سانس کے ساتھ آواز نکلنے لگتی ہے۔ مریض کے روئیے میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ وہ عجیب طرح کے بے چینی اور بے سکونی محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کو باہم مروڑنے لگتا ہے اور بعض اوقات بیڈ سے اٹھنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے جیسے وہ کسی چیز یا کسی شخص کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔قریب المرگ مریض سفر سے متعلق فقرے بولنے لگتا ہے، مثال کے طور پر وہ کسی جگہ جانے کی بات کرے گا، کسی اور کے ساتھ جانے یا گھر واپس جانے کی بات کرے گا۔ بالکل قریب المرگ آ کر ہو سکتا ہے کہ مریض اچانک گہری نیند سے بیدار ہو اور پہلے کی نسبت زیادہ چوکس نظر آئے۔ پہلے کی نسبت زیادہ باتیں کرنے لگے اور کچھ کھانے پینے بھی لگے مگر یہ اس کے صحت مند ہونے کی علامت نہیں بلکہ یہ علامت ہے کہ اس کی موت قریب آ پہنچی ہے۔ رشتہ دار ان لمحات میں اگرچہ خوش ہوتے ہیں مگر یہ حقیقت میں افسوس کے لمحات ہوتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/30-Jul-2021/1321872?fbclid=IwAR3T9JLj2nfvXum09ReE0MASsR8-Vfu_wusclPyLux7LjqfhWSssqa7Sa38
جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی دوا ’’گلپٹین‘‘ (Gliptin) استعمال کرنے والوں میں دماغی امراض سے خصوصی تعلق رکھنے والے مادّے بھی کم ہوجاتے ہیں۔
یعنی یہ دوا ذیابیطس کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ دماغ کی حفاظت بھی کرسکتی ہے۔
یہ تحقیق ابھی ابتدائی نوعیت کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس کی عام دوا ’’ڈی پی پی 4 آئی‘‘ (المعروف ’’گلپٹین‘‘) اضافی طور پر کچھ ایسے خاص مادّوں (بایومارکرز) میں بھی کمی لاتی ہے جو دماغی بیماری الزائیمر کی اہم ترین علامت کا درجہ رکھتے ہیں۔
یہ تحقیق چھ سال تک 282 رضاکاروں پر کی گئی جن میں سے 141 کو ذیابیطس نہیں تھی جبکہ باقی 141 کو ذیابیطس تھی۔
141 رضاکاروں کے اس دوسرے گروپ میں بھی 70 افراد وہ تھے جو ذیابیطس کے دوران گلپٹین لے رہے تھے جبکہ 71 افراد اپنی ذیابیطس پر کنٹرول کےلیے کوئی دوسری دوائیں استعمال کررہے تھے۔
ان تمام افراد کی اوسط عمر 76 سال تھی جبکہ ان سب میں الزائیمر بیماری کی ابتدائی علامات بھی موجود تھیں۔
ریسرچ جرنل ’’نیورولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، چھ سالہ مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ گلپٹین استعمال کرنے والے رضاکاروں میں الزائیمر کی پیش رفت، یہ دوا استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھی۔
ماہرین کو ان رضاکاروں کی نفسیاتی آزمائشوں اور محتاط طبّی جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ گلپٹین استعمال کرنے والے رضاکاروں کی نہ صرف اکتسابی صلاحیت بہتر تھی بلکہ ان میں وہ بایومارکرز بھی خاصے کم تھے جن کی دماغ میں بڑھتی ہوئی مقدار، الزائیمر کی بیماری بڑھنے کا پتا دیتی ہے۔
البتہ، تحقیق کار اب تک نہیں جانتے کہ آخر گلپٹین کس طرح دماغ کو فائدہ پہنچاتی ہے اور الزائیمر کی پیش رفت میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔
دماغ کی حفاظت میں گلپٹین کے اثرات بہتر طور پر جانچنے کےلیے اب وہ ایک وسیع تر تحقیقی منصوبہ بنا رہے ہیں جس میں ایسے افراد کو بھی گلپٹین استعمال کروائی جائے گی جو ذیابیطس میں مبتلا نہیں لیکن الزائیمر کی ابتدائی علامات ضرور رکھتے ہیں۔
البتہ، اس تحقیق کا آغاز جنوبی کوریائی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2213873/9812/
ویاگرا کے خوفناک اثرات سامنے آگئے
Aug 16, 2021 | 20:24:PM
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی قوت کی گولی ویاگرا کے کئی مضر اثرات اب تک سامنے آ چکے ہیں اور اب برطانوی شہریوں میں اس کے مزید کچھ خوفناک نقصانات دیکھنے کو مل گئے ہیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق کئی برطانوی شہریوں کی اس گولی کی وجہ سے قوت سماعت چلی گئی ہے، کئی یادداشت کے کھو جانے کے عارضے میں مبتلا ہو گئے ہیں اور کئی ذہنی طور پر کنفیوژن کا شکار رہنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 2017ءسے اب تک اس گولی کے 543 سائیڈ ایفیکٹس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں جی متلانا، قے آنا، کمر درد اور بے ہوش ہوجانا بھی شامل ہیں۔ان 543میں سے 9افراد ایسے ہی جن کی اس گولی کی وجہ سے قوت سماعت ہی ختم ہو گئی اور وہ بہرے ہو گئے۔واضح رہے کہ ویاگرا کے دیگر ادویات اور منشیات وغیرہ کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے کئی لوگوں کی اموات بھی ہو چکی ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Aug-2021/1328944?fbclid=IwAR2hRI7Oud9Op3H55McujLPyM361NFL4DNtYbgtBTAad0O5D1_tdFpDJo0A
اڑنے والی کار کے بعد اڑنے والی موٹرسائیکل تیار کر لی گئی
Aug 16, 2021 | 20:34:PM

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اڑنے والی کار کی کامیاب آزمائشی پرواز کے بعد کیلی فورنیا میں اڑنے والی موٹرسائیکل تیار کر لی گئی ہے جس کی آخری آزمائشی پرواز ہونی باقی ہے، جس کے بعد یہ اڑنے والی موٹرسائیکل بھی اڑنے والی کار کی طرح حقیقت کا روپ دھار لے گی۔ویب سائٹ robbreport.com کے مطابق اس اڑنے والی موٹرسائیکل کے موجد ڈیوڈ مے مین ہیں۔ وہ لاس اینجلس کے ’جیٹ پیک ایوی ایشن ایئرکرافٹ مینوفیکچرنگ‘ نامی ادارے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کی اس پہلی اڑنے والی موٹرسائیکل کو ’سپیڈ سٹار‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تشہیری مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس موٹرسائیکل کی قیمت 3لاکھ 80ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہو گی۔ یہ موٹرسائیکل جیٹ ٹربائن انجن کی بدولت فضاءمیں پرواز کرے گی اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار250میل فی گھنٹہ تک ہو گی۔ یہ موٹرسائیکل 15ہزار فٹ کی بلندی پر مسلسل 35منٹ تک پرواز کر سکتی ہے۔یہ 600پاﺅنڈ وزن لیجانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس موٹرسائیکل کی آزمائشی پروازیں 2022ءمیں متوقع ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Aug-2021/1328952?fbclid=IwAR0Ym7Ix5GgczuwGBg7p2OD8nIyITdBwOWi04aEb7jzywLfB6asARUkZKpg
گنج پن کا علاج مل گیا ،چوہوں پرتجربات کامیاب رہے
16 August, 2021
جھڑتے بالوں اور گنج پن کا علاج اب ممکن ہو سکے گا، حال ہی میں ایک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں چوہوں پر کئے گئے
لاہور(نیٹ نیوز) تجربات کے نتائج حیران کن نکلے ہیں۔سائنس دانوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جھڑتے بالوں اور گنج پن کا علاج اب ممکن ہو سکے گا، سائنس دانوں کی جانب سے نینو پارٹیکل سیرم پر مشتمل ایک محلول بنایا گیا ہے جس کے ذریعے چوہوں پر حاصل ہونے والے نتائج نے محققین کو بھی حیران کر دیا ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل خواتین اور مردوں کے گنج پن کیلئے بھی یکساں مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ ماہرین کاکہناہے کہ ایلوپیشیاایک ایسی بیماری ہے جس میں بالوں کی جڑوں کے نیچے خون کی باریک شریانوں میں خون کی ترسیل صحیح سے نہیں ہو پاتی ،جس کا علاج مل گیاہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-16/1868078
سولرپینلز فصل کی پیداواردوگنا بڑھانے میں معاون ثابت
16 August, 2021
کھیتوں میں شمسی توانائی کے پینلز لگا کر فصل بڑھائی جا سکتی ہے اور ماحولیاتی تحفظ کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے
فرینکفرٹ (نیٹ نیوز)جرمن الیکٹریکل انجینئر کارٹہاؤس دن کے وقت زرعی الیکٹرونکس کے شعبے میں پروڈکٹ منیجر کے طور پرکام کرتے ہیں،ان کاکہناہے کہ میں نے فارم میں سولر پینلز لگائے اور ان پینلز کے نیچے بلو بیریز اوررسبیریز کے پودے لگادئیے ۔سولر پینلز ایک چھت کی طرح ان پودوں کو شدید حدت سے بچاتے ہیں اوران کی نشوونما تیزی سے اور بھرپور ہوتی ہے ۔یہ تجربہ اتنا کامیاب رہاہے کہ پھلوں کی دوگنی تعدا د حاصل ہونے لگی ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-16/1868081
برطانیہ کے غیرمعمولی امیر موجد اور کئی کمپنیوں کے مالک جیمز ڈائسن نے اپنے ایک انٹرویو میں دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے روایتی تھیلے والے ویکیوم کلینر کو بدلنے کی ٹھانی تو اس میں کئی برس کا عرصہ لگا اور انہوں نے کئی ڈیزائن تیار کئے جن میں مجموعی طور پر 5000 سے زائد ناکامیوں اور غلطیوں کا سامنا ہوا۔ آخر کار وہ دنیا کا بہترین ویکیوم کلینر بنانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 1983 میں دنیا کے بہترین اور تمام مسائل سے آزاد ویکیوم کلینر بنانے میں انہیں چار سال کی محنت لگی یہاں تک کہ انہوں نے ہزاروں مرتبہ اسے ڈیزائن کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایجاد کسی خیال کے اچانک کوندنے سے وجود میں نہیں آتی بلکہ حتمی کامیابیوں سے پہلے بہت سی ناکامیاں ہوتی ہیں۔
اس سے قبل ویکیوم کلینر میں بیگ نما ساخت شامل کی جاتی تھی جو گردوغبار کی وجہ سے اکثر بند ہوجاتی تھی اور یوں ویکیوم کلینر کی افادیت کم ہوجاتی تھی۔ ڈائسن نے اس میں گردوغبار کو الگ کرنے والا ایک مؤثر نظام بھی شامل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں ایک پرانا ویکیوم کلینر تھا جس کےدستے سے کپڑے کا تھیلا لٹکا رہتا تھا۔ 1950 کے عشرے میں ہمارے گھر کی دیوار میں تو کوئی پاور ساکٹ بھی نہ تھا اور ایک اسٹول پر کھڑے ہوکر کلینر کے تار کو بلب وغیرہ کے تار سے جوڑا جاتا تھا جو پریشان کن مرحلہ تھا۔
اس لمحے ڈائسن کو ویکیوم کلینر نئے سرے سے تیار کرنے کا خیال آیا۔ شدید غربت اور قرض کے باوجود وہ بینک سے قرض لینے میں کامیاب ہوگئے اور اپنی ایجاد پرکام شروع کردیا۔ پہلے مرحلے پر انہوں ںے ویکیوم کلینر کو مٹی کے باریک ذرات جمع کرنے کے قابل بنایا اور اب مسلسل ناکامیوں کے بعد ان کا نیا ڈیزائن دنیا بھر میں فروخت ہورہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2213551/509/
دستی گن ہو، ریوالور ہویا رائفل ان میں ایک قدرمشترک ہے کہ گولی میں جلنے والا بارود گولی کو آگے دھکیلتا ہے جس کی اپنی حد ہوتی ہے۔ اب دنیا کی سب سے تیز گولی پھینکنے والی ایک گن بنائی گئی ہے جو 200 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گن برقی مقناطیسی قوت سے گولی کو آگے دھکیلتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت جلد یہ گن امریکہ میں فروخت کےلیے پیش کی جائے گی جسے دنیا کی طاقتور ترین کوائل گن کا اعزاز حاصل ہے۔ اسے آرک فلیش لیب نے بنایاہ ے اور اس کا پہلا ماڈل جی آر ون اینوِل 3375 ڈالر میں فروخت کیا جائے گا۔ اس ماڈل کا وزن 20 پاؤنڈ ہےجس کے اندر بیٹری نصب ہے اور اس کا چارجر الگ سے خریدا جاسکتا ہے۔

جی آر ون اینول آٹھ اسٹیج کی نیم خودکار گن ہے جسے دنیا کی پہلی دستی گن کہا جاسکتا ہے جو کوائل کی وجہ سے برقی مقناطیسی قوت سے چلتی ہے۔ اس میں آہنی مقناطیسی گولیاں ڈالی جاتی ہیں جو فائر ہونے پر 200 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ ایک منٹ میں پوری قوت سے اس سے 20 راؤنڈ فائر ہوسکتے ہیں جبکہ نصف پاور میں 100 راؤنڈ فائر کئے جاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام افراد بھی اسے خرید سکیں گے لیکن ابھی آرڈر دے کر آپ کو 6 ماہ تک انتظار کرنا ہوگا۔

ان سب کے باوجود دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ جان لیوا ہتھیار نہیں اور اسے قانون نافذ کرنے والے افراد ربڑ کی گولیوں کی طرح فائر کرسکیں گے کیونکہ اپنی ساخت کی بنا پر یہ ہلاکت خیز نہیں رہتے۔ اس گن کی بدولت بے حس کرنے والے کارتوس بھی فائر کئے جاسکتے ہیں۔
جس طرح ایئرگن کا چھرا بے ضرر ہوتا ہے اسی طرح اس گن کا فائر بھی کم نقصاندہ ہوگا اور اسی طرح کی گن کھیلوں کے مقابلے کی شروعات کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن اسے خرگوش جیسے چھوٹے جانوروں کو شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2213582/508/
سائنسدانوں نے پودوں کے اندر ویکسین کے لیے ضروری پروٹین اور خام مال تیارکرنے میں اہم پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔
پھلوں، سبزیوں اورپودوں میں حفاظتی ویکسین پر ایک عرصے سے کام جاری ہے۔ ٹرانسجینک عمل کی بدولت ایک دن یہ بھی آسکتا ہے کہ بچوں کو چھ حفاظتی ٹیکوں کی بجائے چھ کیلے کھلانے سے بھی ویکسینیشن کا عمل پورا ہوجائے۔ ایسی ہی ایک خبر کینیڈا سے بھی موصول ہوئی ہے۔
کوبیک میں واقع یونیورسٹی آف لاول کے پروفیسر گیری کوبنجر اور ہیوز فاؤسٹر بووینڈو نے اپنی برسوں کی تحقیق جرنل سائنس میں پیش کی ہے جس میں ’سالماتی فارمنگ‘ (مالیکیولر فارمنگ) کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کی بدولت پودوں میں بعض جینیاتی تبدیلیاں کرکے انہیں ویکسین کے لیے اہم اجزا اور پروٹین تیار کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے اور اسے کم خرچ اور مؤثر تدبیر کے طور پر پیش کیا ہے۔
عموماً ہم بیکٹیریا اور یوکیریوٹک طریقہ کار سے بہت ہی مؤثر ویکسین تیار کررہے ہیں۔ لیکن ان کی تیاری پر بہت خرچ اٹھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پودوں اور سبزے سے ویکسین سازی ایک بہت کم خرچ نسخہ بھی ثابت ہوگا اور ان کے لیے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔
ایک اور تحقیق بتاتی ہے کہ پودوں سے بنی ویکسین عام ویکسین کے مقابلے میں بہت زیادہ امنیاتی طاقت رکھتی ہے۔ بلکہ پودوں میں ان کی بہت زائد مقدار تیار کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پودوں کی سبزیوں اور پھلوں کو کھاکر اسے ویکسینیشن کا عمل کہا جاسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی ایف ڈی اے نے پودوں سےبنی ایک ویکسین کی منظوری دی ہے جو گوشر مرض کے خلاف کامیابی سے استعمال ہورہی ہے۔ اسی طرح کورونا وبا سے پہلے بھی پودوں سے تیارکردہ انفلوئنزا ویکسین فیز تھری کلینکل ٹرئلز کا حصہ بنی ہوئی تھی۔
اب تازہ خبر یہ ہے کہ ان سائنسدانوں نے کینیڈا کی ادویہ ساز کمپنی میڈیکیگو کے تعاون سے تمباکو کےپودے میں کووڈ ویکسین تیار کرنے کا کام شروع کیا ہے جس سے دو خوراکوں والی ویکسین پودے میں تالیف کی جائے گی۔ پودا کورونا وائرس جیسے ذرات کی تشکیل کرے گا۔ انہیں وائرس لائک پارٹیکلز یا وی ایل پی کا نام دیا گیا ہے تاہم یہ مرض نہیں پھیلائیں گے کیونکہ ان میں جینیاتی مواد نہیں ہوگا۔ اس طرح پودوں کے خام مال سے ویکسین سازی میں پیشرفت ممکن ہوگی۔ تاہم اس کام میں ایک عرصہ لگ سکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2213671/9812/
یہ روبوٹ دیکھنے میں تھوڑا مضحکہ خیز لگتا ہے کیونکہ یہ رسی پر چل کر کرتب دکھاتا ہے، زمین پر چلتا ہے، اسکیٹنگ کا اسے شوق ہے اور یہ ہوا میں بھی اڑسکتا ہے۔ اس کا نام لیونارڈو ہے جسے مختصراً لیو بھی کہا جاسکتا ہے۔
لیونارڈو درحقیقت ’لیگز آن بورڈ ڈرون‘ کا مخفف ہے۔ یہ ٹڈے کی طرح اچھل سکتا ہے اور اسکیٹنگ بھی کرسکتا ہے۔ کیلٹیک میں خود کار نظام اور ٹیکنالوجی کے تیارکردہ اس روبوٹ میں کئی طرح کے جوڑ ہیں جن سے وہ انسانوں کی طرح چلتا ہے اور پنکھڑیوں کی بدولت جست بھرتا اور اڑتا نظر آتا ہے۔ اس کی تفصلات سائنس روبوٹکس میں شائع ہوئی ہے۔
روبوٹ کے تخلیق کار گروہ کے سربراہ سُون جو چُنگ کہتے ہیں کہ پرندے مختصر اڑان بھر کر ایک درخت سے دوسرے درخت تک جاتے ہیں۔ اس طرح بعض پرندے اس طرح اڑتے ہیں گویا کہ وہ جست بھر رہے ہیں جس سے ہم نے سبق سیکھا ہے۔

اگرچہ چھوٹے بڑے بہت سے دوپایہ روبوٹ بنائے جاچکے ہیں لیکن جب زمین غیرہموار ہو تو ان کی نقل و حرکت محدود رہ جاتی ہے۔ اسی لیے کثیرالجہتی روبوٹ کی ضرورت ہمیشہ ہی محسوس ہوتی رہی ہے۔ تاہم چلنے والے روایتی روبوٹ کی پرواز کا کسی نے نہیں سوچا تھا۔ اس کےلیے ضروری تھا کہ فوری طور پر چلنے والا روبوٹ اپنا روپ بدل کر اس قابل ہوجائے کہ ہوا میں پرواز کرسکے۔ اسی لیے دنیا کا پہلا پاؤں چلنے اور پرواز کرنے والا روبوٹ تیار کیا گیا ہے۔

لیو کے پیر بہت ہلکےپھلکےبنائے گئے ہیں۔ پھرپرواز کےدوران انہیں سیدھا رکھنا اور روبوٹ کو سیدھا اتارنا بھی ضروری تھا۔ اس کے لیے روبوٹ میں خاص متوازن نظام بنایا گیا ہے۔ اب یہ روبوٹ چاہے تو اڑسکتا ہے اور چل سکتا ہے یا پھر دونوں کے ملاپ سے ہوائی جست بھی بھرسکتا ہے۔
ڈھائی فٹ بلند روبوٹ کی دونوں ٹانگوں میں تین ایکچوایٹرز جوائنٹ لگائےگئے ہیں۔ اڑنے کے لیے اس کے کندھوں پر چار طاقتور ترین پنکھےبھی لگائے گئے ہیں۔ تاہم اگلے مرحلے میں اس کی ٹانگوں کو مزید مضبوط اور متحرک بنایا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2233418/508/
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108707025&Issue=NP_PEW&Date=20211008
خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ سردی کیوں لگتی ہے ؟ بالآخر سائنسدانوں نے جواب تلاش کر لیا
Oct 06, 2021 | 18:47:PM

سورس: Pixabay.com (creative commons license)
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ سردی لگتی ہے مگر کیوں؟ اب تک اس سوال کا جواب ایک راز تھا جو بالآخر سائنسدانوں نے دریافت کر لیا ہے۔ دی سن کے مطابق اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہ خواتین کا مردوں کی نسبت زیادہ سردی محسوس کرنا ارتقائی عمل ہے۔ خواتین کا ارتقاءکچھ اس انداز میں ہوا ہے کہ وہ سردی زیادہ محسوس کرتی ہیں تاکہ جوڑے(مرد وخواتین)زیادہ وقت ایک دوسرے سے الگ رہیں اور ان کے درمیان جھگڑے نہ ہوں۔
اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ چیز پرندوں اور ممالیہ کی دیگر کئی انواع میں بھی پائی جاتی ہے۔ ان میں بھی مادہ جانور اور پرندے زیادہ سردی محسوس کرتے ہیں۔ یہ مادہ جانور اور پرندے نیم گرم جگہیں رہنے کے لیے پسند کرتے ہیں جبکہ انہی انواع کے نر پرندے اور جانور مردوں کی طرح نسبتاً ٹھنڈا ماحول پسند کرتے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایرن لیوین کا کہناتھا کہ ”مرد اور خواتین درجہ حرارت مختلف طریقے سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ ان کے ارتقاءکا نتیجہ ہے۔ اس کاممکنہ سبب نر اور مادہ کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ہے۔ خواتین یا مادہ پرندے اور جانور گرم اور بند جگہوں کو پسند کرتے ہیں جبکہ مرد یا نر پرندے اور جانور کھلی اور ٹھنڈی جگہوں کو پسند کرتے ہیں۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مردوخواتین اور دیگر انواع کے نر اور مادہ جانور اور پرندے زیادہ وقت ایک دوسرے سے الگ گزارتے ہیں اور اس صورت میں ان کے درمیان جھگڑے کم ہوتے ہیں۔“
https://dailypakistan.com.pk/06-Oct-2021/1349901?fbclid=IwAR2oUDNktT_8H0uLScNTJJm6y7z_TGu8df1Rc_9RIbMIlZXr-o5-MXbJNBk
گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے دنیا کی پہلی ملیریا ویکسین کی منظوری دے دی جس کی آزمائشیں 2019 سے تین افریقی ممالک یعنی گھانا، کینیا اور ملاوی میں جاری تھیں۔
وسیع پیمانے کی ان پائلٹ آزمائشوں میں یہ ملیریا ویکسین 23 لاکھ سے زائد افریقی بچوں کو استعمال کروائی جاچکی ہے جس سے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
ملیریا دنیا کی سب سے ہلاکت خیز بیماریوں میں سے ایک ہے جو اینوفلیز مچھر کی مادہ میں پائے جانے والے ایک طفیلیے ’’پلازموڈیم فالسیپارم‘‘ کی وجہ سے ہوتی ہے جو اس مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی خون میں منتقل ہوجاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ملیریا نے 2019 میں دنیا بھر کے 22 کروڑ 90 لاکھ افراد کو متاثر کیا، جن میں چار لاکھ سات ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی تھی۔
یہ ملیریا ویکسین، جس کا تکنیکی نام RTS,S/AS01 اور تجارتی نام ’’موسکویرکس‘‘ (Mosquirix) رکھا گیا ہے، برطانوی ادویہ ساز ادارے گلیکسو اسمتھ کلائن نے تیار کروائی ہے۔
اس بارے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبرئیسس کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین افریقہ میں، افریقی سائنسدانوں نے تیار کی ہے جو ایک قابلِ فخر بات ہے۔
موسکویرکس کا مکمل کورس چار خوراکوں پر مشتمل ہے جو چھوٹے انجکشن کے ذریعے 6 ہفتے سے 17 مہینے تک کے بچوں کو لگائی جاتی ہیں۔ ایسے ہر انجکشن میں دوا کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہوتی ہے۔
ملیریا ویکسین کی پہلی تین خوراکوں کے درمیان تیس تیس دن کا وقفہ ہوتا ہے جبکہ چوتھی خوراک ان کے 18 ماہ بعد لگائی جاتی ہے۔
بتاتے چلیں کہ یہ ویکسین 1987 میں بنالی گئی تھی لیکن اسے طویل مرحلہ وار آزمائشوں سے گزار کر، 34 سال بعد منظور کیا گیا ہے۔
اس ملیریا ویکسین کی کارکردگی صرف 30 فیصد کے لگ بھگ ہے یعنی یہ ملیریا کے باعث بیمار پڑنے اور مرنے والے افراد کی تعداد میں 30 فیصد تک کم کرسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، اگر افریقہ میں ملیریا سے بیمار پڑنے اور مرنے والوں میں 30 فیصد کمی بھی ہوگئی تو یہ 80 لاکھ افراد کو بیماری سے، جبکہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو مرنے سے بچانے کے مترادف بات ہوگی۔
البتہ افریقی بچوں میں ملیریا کے خطرناک اور ہلاکت خیز وبائی پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے یہ ویکسین صرف پانچ سال تک کے بچوں کےلیے منظور کی ہے۔
یہ صرف ’’پلازموڈیم فالسیپارم‘‘ طفیلیے سے پیدا ہونے والے ملیریا کے خلاف مؤثر ہے جو افریقہ کے علاوہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں ملیریا سے بیماری اور اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔
دوسرے طفیلیے ’’پلازموڈیم ویواکس‘‘ سے ملیریا کے خلاف یہ ویکسین بالکل بھی کارگر نہیں۔
https://www.express.pk/story/2233362/9812/
انسان ہزاروں برس سے اینٹھن زدہ پٹھوں کو پرسکون رکھتا آرہا ہے۔ لیکن اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مساج سے متاثرہ پٹھوں کو تیزی سے بحال رکھتا ہے، اس علاج میں تیزی آتی ہے، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور تیزی سے بہتر ہوتے جاتے ہیں۔
اس پورے عمل کو ’میکنوتھراپی‘ کہا جاتا ہے جس میں مساج، عضلات کی ورزش اور انہیں حرکت دے کر چوٹ یا پٹھوں کی سنگین بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔ عام زندگی میں کوئی ہمارے پاؤں دبادے تو سکون ملتا ہے،لیکن شدید اندرونی چوٹ میں مالش ایک دوا کا کام کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے ایتھلیٹس بھی مساج گن سے اپنے عضلات کی چوٹ دورکرتے ہوئے خود کو پرسکون رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں ہارورڈ کے وائس انسٹی ٹیوٹ اور جان اے پالسن اسکول آف انجینیئرنگ نے مشترکہ تحقیق کی ہے۔ اس سروے کی تفصیلات ’سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن‘ میں شائع ہوچکی ہے۔
دونوں اداروں کے سائنسدانوں نے اپنا ڈیزائن کردہ خودکار روبوٹک مساجر بنایا ہے جس سے چوہے کی متاثرہ ٹانگ پر مختلف درجوں اور زاویوں سے دباؤ ڈالا گیا۔ انکشاف ہوا کہ اس سے ’نیوٹروفلس‘ نامی امنیاتی خلیات صاف ہوتے ہیں اور سوزش پیدا کرنے والے سائٹوکائنس عناصر بھی کم ہوجاتے ہیں۔ اس طرح پٹھوں میں ایسے ریشوں کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے جس سے وہ مضبوط ہوتے ہیں اور چوٹ تیزی سے درست ہونے لگتی ہے۔
یوں مالش کے بہترین اثرات سامنے آئے ہیں جو اب سے پہلے نہیں سمجھے گئے تھے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مساج سے امنیاتی نظام بحال ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف گوشت کے پٹھے بنتے ہیں، بال اگتے ہیں بلکہ ہڈیوں کی افزائش میں تیزی آجاتی ہے۔
ماہرین نے دیکھا کہ متاثرہ چوہوں میں مالش کرنے سے ان کے پٹھوں کی دوبارہ افرائش کی رفتار عام حالات کے مقابلے میں دوگنا تک بڑھ گئی۔ مساج کے اثرات صرف دو ہفتوں میں ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئے اور ٹشوز کی افزائش بھی بڑھی۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہزاروں سال قدیم مالش اور مساج آج بھی بہت مفید و مؤثر ہے۔
https://www.express.pk/story/2233175/9812/
اسے آپ دماغ کا پیس میکر کہہ سکتے ہیں جسے دنیا میں پہلی مرتبہ شدید ڈپریشن کی شکار ایک خاتون کے دماغ میں لگایا گیا ہے۔ یہ پیوند (امپلانٹ) دماغی برقی سرگرمی پیدا کرکے برقی سرکٹ کو بدلتا ہے اور یوں ڈپریشن (یاسیت) کے دورے کم ہوجاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو ( یوسی ایس ایف) کے سائنسدانوں نے پہلے سارہ نامی ایک خاتون کے دماغ میں اعصابی سرگرمی نوٹ کی جو ان میں شدید اضطراب اور مایوسی پیدا کررہی تھی۔ اس کے بعد تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کیتھرین اسکانگوس نے اسی بنا پر ایک چپ ڈیزائن کی۔ ڈپریشن کے موقع پر اسے پیوند کو سرگرم کیا جاتا ہے جو ڈپریشن کی وجہ بننے والی برقی سرگرمی کو زائل کرکے مریض کو فائدہ دیتا ہے۔ اسے ڈیپ برین اسٹیمیولیشن بھی کہا جاتا ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا امپلانٹ بھی ہے۔
واضح رہے کہ مریضہ سارہ ڈپریشن کی ایسی قسم سے متاثر تھیں جس کا علاج کسی دوا سے ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلی مریضہ ہیں جن کے دماغ میں محتاط سرجری کے بعد یہ چپ لگائی گئی ہے۔ یو سی ایس ایف کی ذیلی کمپنی وائل انسٹی ٹیوٹ فار نیوروسائنسِس نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔
وائل انسٹی ٹیوٹ کے ایک اور سائنسداں کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ’تیربہدف علاج‘ کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس میں ڈپریشن کی شکار ایک ایسی خاتون کا دماغی احوال معلوم کیا گیا ہے جسے قابو کرنا محال تھا۔ خاتون کے دماغ میں برقی سرگرمی کا پورا نقشہ دیکھا گیا اور اسی لحاظ سے پیوند کا برقی سسٹم ایجاد کیا گیا۔
36 سالہ سارہ کے مطابق سرجری کے بعد اب وہ 15 ماہ سے خوش اور مطمئین ہیں۔
https://www.express.pk/story/2232734/9812/
دوائیں بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ’’مرک‘‘ نے کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ سے بچانے کےلیے ایک کیپسول تیار کرلیا ہے جو اس بیماری کی شدت کم کرتے ہوئے اسپتال میں داخلے اور اموات کی شرح میں بھی غیرمعمولی کمی لاسکتا ہے۔
دوسرے مرحلے کی طبّی آزمائشوں (فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز) میں یہ کیپسول امریکا اور دیگر ممالک کے 775 ایسے رضاکاروں میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے جو کورونا وائرس کا شکار تھے۔
تمام رضاکاروں کو یہ کیپسول دن میں دو مرتبہ، مسلسل پانچ دن تک دیا گیا۔ اسے استعمال کرنے والا کوئی بھی رضاکار کورونا وائرس کے باعث اسپتال نہیں پہنچا اور نہ ہی موت کے منہ میں گیا۔
اس حوالے سے مرک اینڈ کمپنی کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیپسول کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے خلاف بھی مؤثر ہے جو اس وقت کووِڈ 19 عالمی وبا کی سب سے بڑی وجہ بھی بنا ہوا ہے۔
مرک نے امریکا کی ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (ایف ڈی اے) کو یہ کیپسول ہنگامی بنیادوں پر منظور کرنے کےلیے درخواست بھی دے دی ہے۔
دوسری جانب مختلف ایشیائی ممالک نے بڑی تعداد میں اس کیپسول کی ایڈوانس بکنگ کروا لی ہے تاکہ وہ اپنے یہاں اس وبا پر جلد از جلد قابو پاسکیں۔
کورونا وائرس سے بچاؤ کی دوسری گولیوں اور کیپسولوں پر مختلف اداروں میں کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے اختتام تک کووِڈ 19 وبا سے لڑنے کےلیے ہمارے پاس نہ صرف ویکسین کی وافر مقدار موجود ہوگی بلکہ اس بیماری کو شکست دینے کےلیے کیپسول اور گولیاں بھی دستیاب ہوں گی۔
https://www.express.pk/story/2232599/9812/
جس طرح جامد پرزوں اور مشینوں میں تیل ڈال کر انہیں رواں کیا جاتا ہے عین اسی طرح اب ماہرین نے جوڑوں کے درد کے شکار گھٹنوں میں چکنے مائع شامل کرنے کا ایک طریقہ دریافت کیا ہے جس سے گٹھیا کے مریضوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے افراد کی بڑی تعداد گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہے اور صرف درد کش ادویہ سے ہی تھوڑا افاقہ ہوتا ہے جس کے بعد لوگ چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
جامعہ اوکلاہوما کے سائنسدانوں نے جوڑوں کی اینٹھن دورکرنے اور انہیں حرکت پذیر بنانے کےلیے جوڑوں کو چکنا رکھنے والے قدرتی مائع کی طرح ایک چکنا مواد بنایا ہے ۔ جب اسے چوہوں پر آزمایا گیا تو نہ صرف اس سے متاثرہ جوڑوں میں بہتری ہوئی بلکہ جوڑوں کے درمیان گھس جانے والی نرم کرکری ہڈی (کارٹلیج) کی افزائش بھی بڑھی۔
ہم جانتے ہیں کہ عمررسیدگی کے دوران گھٹنوں کے درمیان چکنی لجلجی ہڈیاں گھس جاتی ہیں اور ان کی ٹوٹ پھوٹ سے شدید درد اور تکلیف پیدا ہوتی ہے۔ پھر ربڑ نما لچکدار حصہ متاثر ہوتا جاتا ہے جس سے اندرونی سوزش اور درد بڑھتا جاتا ہے۔ اسکین اور رپورٹ بتاتی ہے کہ ان کے درمیان چکنائی پیدا کرنے والا قدرتی مادہ بھی ختم ہونے لگتا ہے۔
گٹھیا کی شدید کیفیت میں گھٹنوں کا آپریشن کرکے ٹوٹی پھوٹی کرکری ہڈی کے ٹکڑے ہٹاکر انہیں ہموار کیا جاتا ہے جس سے کچھ بہتری ہوجاتی ہے۔ اگر افاقہ نہ ہو تو تجرباتی طور پر خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) بھی ڈالے جاتے ہیں جو مریض کی چربی یا خون سے تیار ہوتے ہیں۔
اب اوکلاہوما یونیورسٹی کے سائنسداں چوان بِن ماؤ اور ان کے ساتھیوں نے گھٹنوں کے جوڑوں کے درمیان موجود قدرتی مائع پر توجہ کی جسے ’سائنوویئل مائع‘ کہا جاتا ہے۔ گھٹنوں کے صحتمند جوڑ کے درمیان بڑے سالمات (مالیکیول) پر مبنی مائع ہوتا ہے۔ اس میں ہیالیورونک ایسڈ ، کچھ لائپڈز چکنائیاں اور لیوبریسن نامی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔
لیوبریسن ذیلی اجزا پانی کے سالمات سے چپک جاتے ہیں جبکہ بقیہ چکنا مائع کارٹلیج سے جڑا رہتا ہے۔ اس کرکری ہڈی کے عین اوپر پانی کی ایک باریک تہہ برقرار رہتی ہے جو گھٹنوں کی حرکت میں ہڈیوں کی رگڑ کو محفوظ رکھتی ہیں۔
اب سائنسدانوں نے پی اے ایم پی ایس نامی مالیکیول کا انتخاب کیا ہے جو قدرتی چکنائی کا متبادل مائع ہے۔ اس میں ہیالیورونک ایسڈ کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔ تجرباتی طور پر جب گھٹنوں کے درد میں مبتلا چوہوں پر اس مصنوعی مائع کے ٹیکے لگائے گئے تو ان میں رگڑ کی شدت کم ہوئی اور سوزش بھی گھٹی ہوئی دیکھی گئی۔
چوہوں میں مصنوعی تیل ڈالنے کے آٹھ ہفتے بعد چوہوں کے کارٹلیج کے جوڑ کو خردبین سے دیکھا گیا تو ماہرین حیران رہ گئے۔ اس موقع پر کرکری ہڈیاں دوبارہ اگنے لگی تھیں۔ اس طرح چکنائی دینے سے ٹشو کی دوبارہ پیدائش شروع ہوگئی۔ اب اگلے مرحلے میں اسے قدرےبڑے جانوروں یا ممالیوں پر آزمایا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2232319/9812/
اسٹاک ہوم: اس سال طب و فعلیات (فزیالوجی اینڈ میڈیسن) کا نوبل انعام دو امریکی سائنسدانوں، ڈیوڈ جولیئس اور ایرڈم پیٹاپوشیئن کو گرمی اور لمس محسوس کرنے سے متعلق جسمانی نظام پر بنیادی تحقیق اور اس حوالے سے اہم دریافتوں پر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سال ہر کیٹیگری میں نوبل پرائز کی انعامی رقم گیارہ لاکھ ڈالر (تقریباً 18 کروڑ 75 لاکھ پاکستانی روپے) رکھی گئی ہے جبکہ ڈاکٹر جولیئس اور ڈاکٹر پیٹاپوشیئن کو نصف انعامی رقم کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔
ان دونوں سائنسدانوں نے 1990 کی دہائی میں اعصابی نظام پر تحقیق کرتے ہوئے معلوم کیا کہ حسی (سینسری) خلیوں کی سطح پر خاص دروازے یا ’’چینل‘‘ (ریسیپٹرز) ہوتے ہیں جن کے کھلنے اور بند ہونے کے نتیجے میں شدید گرمی اور چبھن کے باعث تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔
ان ہی تحقیقات کی بدولت ہم اس قابل ہوئے کہ اس پیچیدہ نظام کے لمسی اور درجہ حرارت سے متعلق پہلوؤں کو سمجھ سکیں۔
بتاتے چلیں کہ اس سال ’’ایم آر این اے ویکسین‘‘ پر تحقیق کرنے والے ماہرین کو طب/ فعلیات (فزیالوجی/ میڈیسن) کا نوبل انعام دیئے جانے کی توقع تھی لیکن کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ، اسٹاک ہوم، سویڈن کی نوبل اسمبلی نے جو فیصلہ کیا وہ دنیا بھر میں اس شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کےلیے حیرت انگیز ثابت ہوا۔
طب/ فعلیات کے نوبل انعامات: تاریخی معلومات
1901 سے 2020 تک اس شعبے میں 113 مرتبہ نوبل انعامات دیئے جاچکے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران نو سال ایسے تھے جن میں کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا: 1915 سے 1918 تک، 1921، 1925، اور 1940 سے لے کر 1942 تک۔
ان 120 سال میں کُل 225 افراد کو نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا جاچکا ہے۔
ان 225 نوبل انعام یافتگان برائے طب/ فعلیات میں صرف 12 خواتین شامل ہیں۔
ان میں سے 39 نوبل انعامات برائے طب/ فعلیات ایک ایک سائنسدان کو (بلا شرکتِ غیرے)؛ 33 انعامات دو دو ماہرین کو مشترکہ طور پر؛ جبکہ اس زمرے کے 40 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو مشترکہ حقدار قرار دیا گیا۔
باربرا مکلنٹاک وہ واحد خاتون تھیں جنہیں متحرک جینیاتی اجزاء کی دریافت پر بلا شرکتِ غیرے 1983 کا نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا گیا۔
نوبل اسمبلی نے اصولی طور پر طے کیا ہوا ہے کہ کسی بھی نوبل انعام میں تین سے زیادہ افراد کو شریک قرار نہیں دیا جائے گا؛ جبکہ ہر سال کسی بھی ایک شعبے میں زیادہ سے زیادہ دو تحقیقات کو مشترکہ نوبل انعام دیا جائے گا۔
2020 تک طب/ فعلیات کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر تقریباً 60 سال رہی ہے۔
اس کٹیگری میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ سائنسدان فریڈرک گرانٹ بینٹنگ تھے جنہیں صرف 32 سال کی عمر میں 1923 کا نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا گیا۔ انسولین کی دریافت پر انہیں اور جان جیمس رکارڈ میکلیوڈ کو مشترکہ طور پر نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
اسی شعبے کے معمر ترین نوبل انعام یافتہ ماہر پیٹن روس تھے جنہیں 87 سال کی عمر میں 1966 کے نوبل انعام برائے طب/ فعلیات کا نصف حصہ دیا گیا۔ انہوں نے رسولیاں پیدا کرنے والے وائرسوں پر تحقیق کی تھی۔ نوبل انعام کی رقم کا باقی نصف حصہ چارلس برینٹن ہگنز کو دیا گیا کیونکہ انہوں نے ہارمونز کے ذریعے پروسٹیٹ کینسر کے علاج پر اہم کام کیا تھا۔
نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا جاتا ہے یعنی اس کےلیے کسی ایسے شخص کو نامزد نہیں کیا جاسکتا جو مرچکا ہو۔
1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے کسی بھی شخص کو بعد از مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں دیا جائے گا؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ انعام یافتہ فرد کا انتقال ہوجائے تو وہ نوبل انعام اسی کے نام رہے گا۔ 1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو بعد از مرگ نوبل انعام دیا گیا تھا لیکن اس سال کے بعد سے اب تک کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2232111/9812/
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108699350&Issue=NP_PEW&Date=20211004
امریکی فوج نے ایسی ٹوپی بنانے کےلیے 28 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں جو سوتے دوران نہ صرف فوجیوں کی دماغی کارکردگی پر نظر رکھے گی بلکہ دماغ میں جمع ہوجانے والے فاسد مادّوں کی صفائی بھی کرے گی۔
واضح رہے کہ اب تک کی تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو اسی دوران ایک قدرتی نظام ہمارے دماغ کی صفائی بھی کررہا ہوتا ہے۔
اسی تحقیق کو مزید آگے بڑھانے اور میدانِ جنگ میں امریکی فوجیوں کی دماغی صحت بہتر رکھنے کےلیے پنٹاگون نے ہیوسٹن، ٹیکساس میں واقع رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں کو خصوصی ذمہ داری دی ہے۔
آج ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (ایم آر آئی) مشینوں کے ذریعے نہ صرف دماغ کے اندرونی حصوں کا عکس حاصل کیا جاسکتا ہے بلکہ ان ہی مشینوں کی مقناطیسی طاقت سے دماغ کی صفائی بھی ممکن ہے۔
البتہ ایم آر آئی مشینیں بہت بھاری بھرکم ہوتی ہیں جو بہت زیادہ توانائی استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے انہیں ایک سے دوسری جگہ پہنچانے اور نصب کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم امریکی فوج کےلیے ایک ایسی ٹوپی تیار کرے گی جو بہت ہلکی پھلکی اور نرم ہوگی۔
اگرچہ یہ کوئی ایم آر آئی مشین تو نہیں ہوگی لیکن پھر بھی یہ دماغ میں برقی مقناطیسی میدان پر نظر رکھتے ہوئے اس میں تبدیلیاں بھی لاسکے گی جو دماغ سے فاسد مادّوں کی صفائی میں مددگار ہوں گی۔
یہ ٹوپی، جسے ’’نیورو ماڈیولیشن ڈیوائس‘‘ بھی کہا جاتا ہے، بیک وقت کئی ٹیکنالوجیز استعمال کرے گی جن میں ای ای جی، آر ای جی، او ایس جی، ٹی سی ڈی، ٹی ای ایس اور ایل آئی ایف یو پی شامل ہیں۔
ان سب کے علاوہ، یہ ٹوپی مصنوعی ذہانت سے بھی استفادہ کرے گی اور دماغ کی اندرونی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور خودکار طور پر موزوں ترین حکمتِ عملی اختیار کرے گی۔
اس حوالے سے رائس یونیورسٹی کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹوپی فوجیوں کے علاوہ عام مریضوں کےلیے بھی مفید ثابت ہوگی؛ جس کی بدولت ان میں سوتے دوران اعصابی و دماغی بیماریوں کا علاج کیا جاسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2231469/9812/
گوگل کی ذیلی کمپنی ’’ڈیپ مائنڈ‘‘ نے اپنے الگورتھم کو موسمیاتی پیش گوئی کی تربیت دینے کا آغاز کردیا ہے اور اب تک یہ ایک سے دو گھنٹے بعد بارشوں کی پیش گوئی 85 فیصد درستگی سے کرنے کے قابل ہوچکا ہے۔
واضح رہے کہ ’’ڈیپ مائنڈ‘‘ کے وضع کردہ الگورتھمز اور کمپیوٹر پروگرامز اب تک ذہنی آزمائش کے کھیل میں انسانوں کو شکست دینے اور پچاس سال پرانے سائنسی مسائل حل کرنے کے علاوہ گردوں میں خرابی کی بھی انتہائی درست نشاندہی کے قابل ہوچکے ہیں۔
اپنی ان ہی کاوشوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ڈیپ مائنڈ نے پچاس سے زائد برطانوی ماہرینِ موسمیات کے تعاون سے موسمیاتی پیش گوئیوں کےلیے ایک نیا خودکار ٹول تیار کیا ہے جسے ’’ڈیپ جنریٹیو ماڈل آف رین‘‘ (ڈی جی ایم آر) کا نام دیا گیا ہے۔
اسے بارشوں سے متعلق ڈیٹا اور موسمیاتی ماڈلز پر تربیت دے کر بارش کی قلیل وقتی پیش گوئی کے قابل بنایا گیا ہے جو 85 فیصد تک درست ہوتی ہے۔
البتہ، ڈی جی ایم آر ایک بڑے منصوبے کی ابتداء ہے جسے آنے والے مہینوں اور برسوں میں آگے بڑھاتے ہوئے، اسی الگورتھم کو 24 گھنٹے، ایک ہفتہ، پندرہ روزہ، ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر درست موسمیاتی پیش گوئی کے قابل بنایا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2231474/508/
سویڈن میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے ایک لاکھ سے زائد مریضوں پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن مریضوں میں انسولین مزاحمت زیادہ تھی، انہیں فالج کا خطرہ بھی دوسرے مریضوں سے زیادہ تھا۔
واضح رہے کہ انسولین مزاحمت (انسولین ریزسٹنیس) میں ہمارے جسمانی خلیے انسولین استعمال کرکے خون میں موجود شکر (گلوکوز) جذب کرنے، توڑنے اور توانائی بنانے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں جس کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
نتیجتاً ہمارا لبلبہ (پینکریاز) خون میں شکر کی زائد مقدار معمول پر لانے کےلیے زیادہ انسولین خارج کرتا ہے جس سے اس پر کام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور لبلبے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
اس تحقیق کی تفصیلات گزشتہ دنوں ’’یورپین ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ڈائبٹیز‘‘ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئیں جو اس سال آن لائن منعقد ہوئی تھی۔
کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ اسٹاک ہوم، گوتھنبرگ یونیورسٹی اور نیشنل ڈائبٹیز رجسٹری سویڈن کے ماہرین نے یہ مشترکہ تحقیق ڈاکٹر الگزینڈر زبالا کی نگرانی میں تقریباً سات سال میں مکمل کی۔
اس مطالعے میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے 104,697 مریضوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر اس مطالعے کے آغاز پر 63 سال تھی۔
ان میں سے 46,590 خواتین تھیں جبکہ 58,107 مرد تھے۔ ان تمام مریضوں میں ذیابیطس اور صحت کے حوالے سے مختلف ظاہری کیفیات و علامات کے استعمال سے انسولین مزاحمت معلوم کی گئی۔
مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ ذیابیطس کے جن مریضوں میں انسولین مزاحمت زیادہ تھی، ان پر اوسطاً ساڑھے پانچ سال میں کم از کم ایک بار فالج کا حملہ ضرور ہوا تھا۔
محتاط تجزیئے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن مریضوں میں انسولین مزاحمت سب سے کم تھی، ان میں (سب سے زیادہ انسولین مزاحمت والے مریضوں کے مقابلے میں) فالج کا خطرہ بھی 40 فیصد کم تھا۔
بتاتے چلیں کہ ذیابیطس کو دنیا کی سب سے ہلاکت خیز بیماریوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، ذیابیطس کی وجہ سے 2019 میں تقریباً 15 لاکھ اموات ہوئیں جبکہ خون میں شکر (گلوکوز) کی زیادتی 2012 میں 22 لاکھ اموات کی وجہ بنی۔
انسولین مزاحمت ان دونوں کیفیات پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے لہذا اس پر قابو پانا بھی بہت اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسولین مزاحمت پر قابو پانے کےلیے وزن کم رکھنا، صحت بخش غذا استعمال کرنا، روزانہ تقریباً 30 منٹ کی جسمانی مشقت (بشمول تیزی سے چہل قدمی) اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دواؤں کا پابندی سے استعمال ضروری ہے۔
https://www.express.pk/story/2231142/9812/
امریکہ میں دو نابینا افراد نوبیل انعام یافتہ کرسپرٹیکنالوجی کی بدولت اب دوبارہ رنگوں کو دیکھنے کے قابل ہوچکے ہیں۔
دونوں افراد پیدائشی طور پر نابینا تھے اور ان میں سے ایک کارلین نائٹ اپنے کال سینٹر میں چھڑی کے سہارے سے چلتے ہوئے بھی لوگوں سے ٹکراتی رہتی تھیں۔ اپنے جینیاتی نقص کی وجہ سے وہ تقریباً نابینا تھیں لیکن اب کرسپر ٹیکنالوجی سے وہ میز، دروازوں اور دیگر اشیا کو پہچان سکتی ہیں اور رنگ بھی دیکھ سکتی ہیں۔
کارلین ان سات مریضوں میں شامل ہیں جن سے ڈاکٹروں نے رابطہ کرکے انہیں ایک تجربے کا حصہ بننے کا کہا۔ اس کے تحت جسم کے اندر پہلے سے موجود متاثرہ جین کو کرسپر ٹیکنالوجی کے تحت تبدیل شدہ جین سے بدلنا تھا۔ یہ کرسپر کا پہلا تجربہ بھی ہے جس میں بینائی کو ہدف بنایا گیا ہے۔
تجربے میں شامل سات مریض ایک قسم کی جینیاتی نابینا پن ’لیبر کونجینینٹل ایمیوروسِس‘ کے شکار تھے۔ تاہم تجربے کے بعد تمام لوگوں کی بینائی واپس نہیں آئی بلکہ اس کا اثر مختلف لوگوں پر مختلف ہوا۔
اوریگون میں واقع ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے شعبہ بصریات کے پروفیسر مارک پینیسی نے اسے ایک طاقتور ٹیکنالوجی کہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی بہت سارے مریضوں پر آزمائش باقی ہے جس کے بعد ہی اس جینیاتی ٹیکنالوجی کی افادیت سامنے آسکے گی۔ تاہم انہوں نے ابتدائی نتائج کو بہت امید افزا بیان کیا ہے۔
کارلین اس علاج سے بہت خوش ہیں کیونکہ انہیں اشیا بہت صاف اور شفاف دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک روز قبل انہوں نے باورچی خانے میں چمچہ گرایا اور اسے دیکھ کر اٹھا بھی لیا۔
دوسرے رضاکار مائیکل کیلبرر کا حال مختلف ہے ایک ماہ بعد وہ کئی رنگوں کو دیکھنے کے قابل ہوگئے۔ اسی طرح ایک پارٹی میں رنگ برنگی روشنیاں پہلی مرتبہ دیکھ کر بہت مسرور بھی ہوئے ہیں۔
ڈاکٹروں نے پیدائشی نابینا مریضوں کی ایک ایک آنکھ میں کرسپر ٹیکنالوجی آزمائی۔ انہوں نے ایک بے ضرر وائرس پر کرسپر جین ایڈیٹر رکھ کر ان کی کروڑوں اربوں کاپیاں آنکھ کے ریٹینا میں شامل کردیں۔
سائنسدانوں کے توقع کےمطابق کرسپر جب ریٹینا کے خلیات میں گھسے تو انہوں نے بینائی کھونے والی جینیاتی تبدیلیوں کو روکا اور خوابیدہ خلیات کو جگا کر بینائی کو بحال کرنا شروع کردیا۔
تجربے میں شریک افراد کی عمریں 40 سے 55 برس کے درمیان ہیں اور اس عمر میں بھی یہ کامیابی نابینا افراد کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں مزید رضاکاروں پر اسے آزمایا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2230862/9812/
وہ ننھی بچی خلائی مخلوق کو دیکھ کر برملا کہتی تھی کہ مجھے بھی ان کے ساتھ جانا ہے! گھر والے اسے لاڈلی بچی کا دیوانہ خواب سمجھ کر انجوائے کرتے تھے۔
اس بچی نے بعد میں پروان چڑھتے ہوئے اپنے کزن، بہن بھائیوں سے برملا کہہ دیا تھا کہ وہ ایک روز زمین کو چھوڑ کر خلاء میں جائے گی! وہ بچی نمیرا سلیم ہے۔ نمیرا سلیم پاکستان کی پہلی ممکنہ خلاباز کے طور پر پہلے ہی شناخت رکھتی ہیں۔
15 سال کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد وہ اب اگلے سال 2022 ء میں خلائی سفر پر روانگی کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح نمیراسلیم نہ صرف پہلی پاکستانی خاتون خلاباز بلکہ پاکستان کی سب سے پہلے خلاباز کا اعزاز بھی پالیں گی۔
11جولائی بروز اتوار کو خلاء کی تاریخ میں ایک بڑے بریک تھرو کا آغاز ہوگیا جب دنیا کے ارب پتی اور عالمی ریکارڈ یافتہ مہم جو 70 سالہ رچرڈبرانسن نے خلاء میں دسترس حاصل کرلی اور بے وزنی کا مشاہد ہ کیا تو برانسن کے لیے یہ زندگی کا یادگار اور خوشیوں سے بھر پور موقع تھا جس کے لیے وہ کمپنی کے ساتھ عرصہ 17 سال سے جدوجہد کررہے تھے۔
وہ اپنی فرم ’’ورجن گالیکٹیک‘‘ (Virgin Galactic) کے خلائی جہازVSS Unity”ـ” کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ ہوئے تھے جو کہ امریکی خلائی پورٹ نیومیکسیکو سے روانہ ہوا۔ برطانیہ کے سرچرڈ برانسن نے یہ ارب پتی خلابازی کی دوڑ جیت لی ہے اور اپنے امیر ترین پیش رو ایلون مسک اور جیف بیزوز کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کے پہلے ارب پتی خلاباز بن گئے ہیں۔
دوسرے ہی ہفتے 20 جولائی کو ایمزون کے سابق چیف اور دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوز نے اپنی ذیلی خلائی فرم ’’بلیواورجن‘‘ خلائی جہاز سے خلاء کا سیاحتی سفر کیا اور انہوں نے دنیا کے ’’دوسرے ارب پتی خلاباز‘‘ کا اعزاز حاصل کرلیا۔ ان کے جہاز کو شیپرڈ راکٹ نے خلاء میں پہنچایا۔ بیزوز کے ہم راہ جو تین دیگر افراد سیاحتی خلائی سفر میں شریک تھے ان میں ان کے بھائی مارک بیزوز، 82 سالہ خاتون Wally Funk، اور 18 سالہ ڈچ نوجوان Oliver Daemen شامل ہیں۔
اس طرح خلائی تاریخ کی یہ سب سے معمرترین اور نوعمر خلابازوں کی بھی پرواز بن چکی ہے جب کہ رچرڈبرانسن کے ہمراہ اس تاریخی سفر میں چھے خلاباز (دو خواتین اور چار مرد) شامل تھے، ان میںپائیلٹDavid MackayاورMichael Masucciکے علاوہ تین خلائی مہمات کے ماہربھی تھے جو نئے مستقبل کے خلابازوں کے تجربات میں مدد دینے کے لیے ان کے ساتھ تھے، چیف خلاباز خاتون انسٹرکٹر Beth Moses، لیڈ آپریشن انجینئرColin Bennetاور ورجن گالیکٹیک میں حکومتی افیئر اور تحقیقاتی آپریشن کی نائب صدرانڈین امریکن Sirisha Bandla شامل تھی۔
33 سالہ سریشا کا تعلق بھارتی ریاست آندھرا پردیشن ہے۔ ان دونوں امیرترین انسانوں کے اصل حریف ’’اسپیس ایکس‘‘ کے ایلون مسک جو دنیا کے دوسرے امیر ترین بزنس مین ہیں، ابھی تک بطور خلاباز اپنے آپ کو نہیں منواسکے ہیں لیکن ان کا وژن خلاء باز بننے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ وہ انسانی سفر کو مریخ تک پہنچانے کے لیے سرگرمی سے کام کررہے ہیں۔
ایلون مسک ہی ناسا کے ساتھ مل کر دنیا کی پہلی باقاعدہ کمرشل خلائی پروازوں ’’اسپیس۔ ایکس ڈریگن‘‘ کی شروعات کرچکے ہیں جو کہ خلائی سفر کی تاریخ میں نیا سنگ میل ہے اور اس سلسلے میں وہ تین خلائی مہمات کے ذریعے 10 خلابازوں کو عالمی خلائی اسٹیشن پہنچا چکے ہیں۔ امریکیوں کی حالیہ کام یابیوں کو دیکھتے ہوئے ’’روس کوسموس‘‘ نے بھی عام شہریوں کے لیے خلائی سیّاحت شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ورجن گالیکٹیک کی اس تاریخی کام یابی کا براہ راست تعلق نمیرا سلیم کی خلائی مہم سے جُڑ جاتا ہے، جو اب زیادہ دور کی بات نہیں۔ رچرڈبرانسن کی پرواز کی لاؤنچنگ کے موقع پر انہیں خوش آمدید کہنے والے دیگر مستقبل کے خلابازوں میں نمیرا سلیم بھی شامل تھیں۔ نمیراسلیم اب دنیا کے ان 100 بلندحوصلہ خلائی سیاحوں میں سرفہرست ہیں اور اکلوتی پاکستانی ہیں جنہوں نے خلائی کمرشل فلائیٹ کے لیے ٹکٹ خریدا ہے۔ 2006 ء میں ٹکٹ خریدنے کے بعد سے انہیں زبردست پذیرائی ملتی رہی ہے۔
ان کا خلاء میں پرواز کا ٹائٹل منظرعام پر آتے ہی تیزی سے پروان چڑھا اور اسے فوری طور پر خواتین اور لڑکیوں کی جانب سے تائید حاصل ہوئی۔ نمیرا ایک آرٹسٹ بھی ہیں۔ وہ خلاء کی سفارت کار اور خلاء کے پرامن استعمال کی حامی مہم جو خاتون ہیں۔ خلاء سے محبت و لگاؤ رکھنے اور اپنے خوابوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں نمیرا نے جس طرح ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ اپنے خوابوں کا سفر جاری رکھا، وہ مثالی ہے۔ آخر وہ خلاء کو پانے کی جستجو کی اس دوڑ میں کیسے شامل ہوئیں اور اپنے مقصد کے حصول میں کیسے کام یاب ہوئیں؟ وہ نوجوان نسل اور بالخصوص لڑکیوں کے لیے قابل تائید مثال ہے۔
1975 ء میں کراچی میں پیدا ہونے والی نمیرا سلیم کے لیے مہم جوئی یا ایڈونچر کوئی انجانی شے نہیں ہے، وہ پہلے بھی اپنا مہم جوئی کا شوق پورا کرتی رہی ہیں۔ اپریل 2007ء اور جنوری 2008 ء میں وہ پہلی پاکستانی اور پہلی ایشیائی خاتون ہیں جو شمالی وجنوبی قطبین پر پہنچیں۔2008 ء ہی میں انہوں نے ایورسٹ کی چوٹی سے اسکائی ڈائیو (ٹینڈم) کا مظاہر ہ کیا اور ایسا کرنے والی سب سے پہلے ایشیائی قرار پائیں۔
نمیرا کو شروع سے امید ہوچلی تھی کہ وہ پہلی پاکستانی کے طور پر خلاء میں جائیں گی۔ امن کے جھنڈے کو خلاء میں لے کر جانے کی خواہش مند نمیرا 2005 ء میں ورجن گالیکٹیک کے سیاحتی سفر کی شروعات کی خبریں بریک ہونے کے بعد سے مسلسل ان سے رابطے میں رہیں اور ٹکٹ کے حصول کے لیے معلوم کرتی رہیں، جب تک کہ وہ انہیں دست یا ب نہ ہوگیا۔
مناکو اور دوبئی کی رہائشی نمیرا نے امریکا میں تعلیم کے دوران بالآخر اپنے طویل خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ایک راستہ تلاش کرلیا۔ یونیورسٹی میں امریکی آرٹ ورک سے اسے حوصلہ ملا اور سیاہ تاریک راتوں میں آسمان پرستاروں کے مطالعے نے ان کا شوق جوان رکھا۔ نمیرا نے کولمبیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کیا ہے اور ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
مارچ 2006 ء میں ورجن گالیکٹیک کے بانی رچرڈ نے ذاتی طور پر نمیرا کا تعارف دنیا بھر کے میڈیا سے بطور ورجن گالیکٹیک کے کروایا تھا ’’ابتدائی مستقبل کے بانی خلابازوں میں سے ایک۔‘‘ نمیرا ورجن گالیکٹیک کے خلابازوں کے بانی 600 کے لگ بگ سیاحتی سفر کے امیدواروں میں سے اس پہلے پہل گروپ میں شامل تھیں جنہوں نے اپنے ٹکٹس خریدے اور جن کو بورڈ پر مدعو کیا گیا۔
اگست2006 ء میں حکومت پاکستان نے ایک سرکاری پریس ریلیز کے ذریعے ان کی ورجن گالیکٹیک کی ممکنہ خلائی پرواز کے حوالے سے اعلان کیا تھا جب کہ میڈیا انہیں اکثر ’’پہلی پاکستانی خلاباز‘‘ کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ اکتوبر 2007 ء میں انہوں نے سب آربٹل خلائی پرواز کی ٹریننگ حاصل کی جو کہ ’’NASTAR‘‘ میں مکمل ہوئی۔ یہ امریکا کا قومی ایئرواسپیس اور ریسرچ سینٹر ہے اور یہاں دنیا کا سب سے زیادہ پرفارمنس والا مرکز گریزہ (Centrifuge) ہے۔ مرکزگریزہ ایسی مشین ہے جو نہایت تیزرفتاری سے دائرے کے اطراف گھومتی ہے۔ اس ٹریننگ میں خلاء باز کو مختصر راکٹ کے سفر کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
ماسٹر ڈگری کے حصول کے بعد نمیرا نے2015 ء میں ’’خلائی ٹرسٹ‘‘ کی بنیاد رکھی اور وہ اس کی ایگزیکٹیو چیئرپرسن ہیں۔ یہ ایک غیرمنافع بخش تنظیم ہے جس کا اصل مقصد خلاء و امن کی نئی سرحدوں کو فروغ دینا ہے۔ خلائی ٹرسٹ (Space Trust) ناسا کی معاونت میں بھی خلائی سیاحت کے فروغ کے لیے کام کررہا ہے جب کہ اسے روس کوسموس ، اسپارکو سمیت کئی دوسرے اداروں کی بھی حمایت و تائید حاصل ہے۔
31 مئی 2020 ء کو بطور گیت نگار نمیرا نے ایک پیغام گیت کے ذریعے جاری کیا جس کا عنوان ہے،”Follow me to The Moon!” اس گیت میں خلائی سفر کے فوٹیجز شامل کیے گئے ہیں، جس سے نمیرا کے ’’خلاء برائے امن‘‘ کے مقصد کی نمایاں عکاسی ہوتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ تجارتی خلائی دور کو بھی فروغ حاصل ہو۔
اب وہ امید کررہی ہیں کہ آئندہ اپنے یادگار خلائی سفر کے مناظر کے ساتھ موسیقی کی اس وڈیو کو ایک بار پھر سے ریلیز کرسکیں۔ ان کے اس گیت کی ڈیجیٹل موسیقی یورنیورسل میوزک گروپ نے فراہم کی ہے اور یوں وہ خلائی صنعت میں پہلی کمپوزر بھی بن چکی ہیں، جنہوں نے خلاء سے متعلق گیت کی موسیقی تخلیق کی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں خلاء میں دنیا میں امن کے فروغ کے لیے جارہی ہوں، یقینی طور پر میرے ہاتھ میں ’’عالم گیر امن کا جھنڈا‘‘ اور گیت:”Follow me to The Moon!” ساتھ ہوں گے۔ ہم نئے اور ایک بڑے دَور ’’خلائی سیاحت اور تجارتی خلائی پروازیں‘‘ میں وارد ہورہے ہیں۔
ورجن گالیکٹیک کی کاوشوں کی دوسرے جانب جیف بیزوز اپنے کسٹمرز کو اپنی ’’بلیو اورجن‘‘ کے ذریعے خلاء میں پہنچائیں گے جب کہ ایلون مسک تجارتی بنیاد پر پہلے ہی اسپیس ایکس کے کیپسول ’’ڈریگن‘‘ کی مدد سے کام یابی کے ساتھ خلابازوں کا خلائی اسٹیشن سے الحاق کراچکے ہیں۔ تبدیلی کی شروعات ہوچکی ہیں اور دنیا اب تیزی سے تبدیلی کی جانب گام زن ہے۔
آگے چل کر زیادہ کمرشل بنیادوں پر خلائی سیاحتی سیکٹرز کی کام یابی کے صلے میں کسٹمر سروس میں بھی بہتری اور ریٹس میں کمی آئے گی۔ خاص طور پر اپنے آغاز پر ابھی یہ مہنگا ترین تجربہ ہے۔ نمیرا نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا میرا مطلب ہے کہ کسٹمر تجربے میں اب ورجن دنیا میں آگے ہے، میں لمبے طویل سے ان کے ساتھ منسلک ہوں اور ہمارے تمام ایونٹس کی خوب صورتی کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
یہ حیرت انگیز اور پرفیکٹ ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ آگے بھی مزید کام یابیاں سمیٹے گا۔11 جولائی کی حالیہ پرواز محض ایک انجوائیمنٹ نہ تھی اس کے بعد کسٹمرز کے تجربے اور اس میں کسی بھی دوسری ضروریات کے لیے رپورٹس کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جیساکہ خلائی طیارے، راکٹ فائرنگ اور اوزان کی پیمائش، سیٹس، ونڈوز اور کیبن سمیت مختلف تجربات شامل ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ خلائی صنعت میں آگے آنے والی کمپنیوں میں سے ہر ایک کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ خلائی سیاحت کو ہر ایک کے لیے ممکن بنانے کی کوششوں میں جو بھی حصہ بٹائے گا اسے سپورٹ کیا جائے گا۔ جیف بیزوز اور ایلون مسک کو مساوی کریڈٹ دیتی ہوں کہ وہ سب ایک مشترکہ کاوشیں کے لیے مصروف عمل ہیں۔
انہوں نے ڈیلی میل سے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ حقیقت میں ستاروں کو دیکھنے کی میری خواہش میں امن ایک مرکزی کردار بنتا ہے! ان کا کہنا ہے کہ ’’خلاء امن کی سرحد کا مستقبل ہے!‘‘ جیسا کہ آپ جانتے ہیں میری خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں اس پیغام کو آگے بڑھاؤں اور فروغ دوں اسی لیے میں غیرمنافع بخش کام انجام دے رہی جو کہ میرا فرض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلاء میں جانے والے اکثر مسافر خلاباز جب وہاں سے زمین پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ کرۂ ارض پر دنیا کی مختلف اقوام کو تقسیم بندی کے برعکس اسے ’’یکجا‘‘ دیکھتے ہیں۔
ستاروں سے جُڑی آرٹ و موسیقی ترتیب دینا، بچپن کے خواب، پاکستان میں ایک بچی کے طور پرجو خواب دیکھتی تھی کہ خلاء میں جارہی ہوں، اس سے قطع نظر کہ آپ جو کچھ بھی کرتے ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک کہ اپنے آپ پر یقین کامل نہ ہو۔ میں ایک بچی تھی جو رورو کر کہتی رہی تھی کہ مجھے خلائی لوگوں کے پاس جانا ہے، تو اس وقت کسی نے اس کا زیادہ احساس نہیں کیا تھا۔
ہم جس کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں تو وہ واقعی ہوجاتا ہے، خوابوں میں اِرادوں کی پاکیزگی کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ وہ بچی آج آسمانوں کی جانب اڑان میں سب سے اولین امیدواروں میں سے ایک ہے۔ رچرڈبرانسن نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے جب کہ میں خلائی سیاحت کے گروپ میں شامل ہوچکی ہوں، برانسن ہماری خلائی سیاحت کے گُرو ہیں۔
یہ حقیقی امر ہے کہ نمیرا نے اپنے اس خلائی سفر کا برسہا برس صبر آزما انتظار کیا ہے، اب آنے والا دن ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور یادگار دن ہوگا جو کہ وطن عزیز کی نیک نامی میں بھی اضافہ کرے گا اور یہ دن اب زیادہ دور نہیں۔
( بشکریہ حوالہ جات: ڈیلی میل ڈاٹ کام:10 جولائی 2021 ء)
https://www.express.pk/story/2220721/508/سیئول،جنوبی کوریا:
امراض اور جسمانی کیفیات تشخیص کرنے والے ٹیسٹ اگرچہ سستے ہوتے ہیں لیکن ان سے فالتو کچرا پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک چوکور چاکلیٹی لالی پاپ (ٹوٹسی رول) بنایا گیا ہے جو کسی چاکلیٹ کی بجائے برقی سرکٹ سے بنا ہے۔ اسے چوسنے سے تھوک کے اجزا جمع ہوجاتے ہیں جو مختلف جسمانی کیفیات سے آگاہ کرتے ہیں۔
اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریئلز اینڈ انٹرفیسِس میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ ایک کم خرچ نسخہ ہے جسے بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے اور یوں ایک بار استعمال ہونے والے شناختی سینسر کا کوڑا کم کیا جاسکتا ہے۔ گھر بیٹھے استعمال ہونے والا یہ سینسر کئی طرح کے امراض کی تشخیص کرسکتا ہے۔
لالی پاپ نما یہ سینسر منہ میں جاتے ہیں تھوک میں موجود کیمیکل کو بھانپ لیتا ہے اور ہارمون کی سطح کو نوٹ کرتے ہوئے خواتین میں بیضے کے اخراج یا پھر گردوں کی بیماری کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کیفیات میں لعاب میں بعض کیمیائی اجزا معمول سے بڑھ جاتے ہیں نہیں ٹوٹسی کینڈی شناخت کرسکتی ہے۔
امریکن کیمیکل سوسائٹی اور کوریا کی وزارتِ سائنس نے اس منصوبے کی فنڈنگ کی ہے۔ پروفیسر بیلی چوا اور ڈونگ ہیون لی نے مشترکہ طور پر اسے تیار کیا ہے جو کوریا یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ اسی ٹیم نے 2019 میں بچوں کے لیے لالی پاپ نما جیلی کے اندر سینسر رکھا تھا تاکہ بچوں میں کھانے اور چبانے کی عادت معلوم کی جاسکے۔
سب سے پہلے رول کو ہموار کیا گیا اور ان میں گڑھے بنائے گئے جن میں لعاب جمع ہوکر ٹھہرجاتا ہے۔ اب اس میں المونیئم کی دو باریک نلکیاں داخل کرتے ہیں جس کے بعد اس کا ایک سرکٹ سے رابطہ ہوجاتا ہے اور اسی سے بجلی بھی اندر پہنچتی ہے۔ ابتدائی درجے میں اس نے منہ میں نمکیات اور دیگر اقسام کے کیمیکل محسوس کئے ۔ تجربہ گاہ میں بھی اسے کئی طرح سے آزمایا گیا ہے۔
گردے اگر خراب ہوں تو تھوک میں خاص نمک کی مقدار، معمول سے تین گنا بھی بڑھ جاتی ہے اور اسے بھی آلے نے شناخت کرلیا۔ اس طرح امید ہے کہ بہت جلد برقی لالی پاپ نما طبی سینسر عام ہوجائیں گے۔
https://www.express.pk/story/2230419/9812/
دنیا بھر میں بیٹریوں کے نت نئے ڈیزائن پرتجربات جاری ہیں اور اب کوریا انسٹی ٹیوٹ آف مشینری اینڈ مٹیریئلز نے سانپوں کے جسم اور جلد کو دیکھتے ہوئے ایک ایسی بیٹری ڈیزائن کی ہے جو بل کھاتی ہے اور اسے سکیڑا اور سمیٹا بھی جاسکتا ہے۔
خاص ڈیزائن والی سانپ کی جلد کو دیکھ کر بنائی جانے والی بیٹریاں نرم روبوٹ، روبوٹک جانداروں اور برقی پہناووں (ویئرایبلز) میں لگائی جاسکیں گی۔ اسطرح یہ بیٹریاں روبوٹ اور ویئرایبل کے ساتھ مڑیں گی، کھنچیں گی لیکن بجلی کی فراہمی جاری رہے گی۔

اس کے لیے سائنسدانوں نے چھ خانوں والے بیٹری سیل بنائے ہیں جو لیتھیئم آئن بیٹری کے چھوٹے ٹکڑے کہے جاسکتے ہیں۔ انہیں آپ سانپ کی جلد کا ’چھلکا‘ قرار دے سکتےہیں۔ ہر ٹکڑا کسی پالیمریا تانبے کےمضبوط تار سے جڑا ہوگا جو موڑنے پر بھی اپنا کام کرتا رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیٹری کا ہر ٹکڑا بیٹری کی قوت کو بڑھاتا جائے گا۔

سانپ سے سبق لے کر بنائی گئی بیٹری کے پہلے نمونے کو ٹیسٹ کیا گیا تو 90 فیصد کھینچنے پر بھی وہ برقرار رہا اور اسے 3600 مرتبہ چارج اور ڈسچارج کرنے پر بھی بیٹری کارآمد رہی۔ ان خواص کی بنا پر لچکدار بیٹری ایک انقلابی ایجاد ثابت ہوسکتی ہے۔
ایسی بیٹریاں کسی سانحے کے بعد تلاش اور مدد کرنے والے روبوٹ میں لگائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی پٹھوں (مسلز) اور جسمانی پیوند میں بھی انہیں استعمال کرنا ممکن ہوگا۔ اگلے مرحلے میں اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
https://www.express.pk/story/2230361/508/
برطانیہ میں کووڈ 19 سے بچانے والا ناک کی پھوار پر مبنی ایک اسپرے بنایا گیا ہے جسے اب استعمال کی منظوری مل گئی ہے۔
سائنسدانوں نے اسے فوکس ویل کا نام دیا ہے جو کووڈ 19 کے چنگل میں آسانی سے آجانے والے افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسے بھارت میں 600 تندرست ایسے طبی کارکنان پرآزمایا گیا ہے جو کورونا وائرسکے مریضوں کے علاج میں مدد کررہے تھے۔ ناک کے دونوں نتھنوں میں ایک ایک مرتبہ اسپرے کرنے کے بعد یہ آٹھ گھنٹے تک کسی وائرس کے حملے کو محفوظ رکھتا ہے۔
برطانوی سرجن اور اسٹارٹ اپ کے سربراہ راکیش اوپل نے اسے تیار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایجاد کو ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ویکسین ہی اس وبا سے سب سے مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے نیزل اسپرے کو حفاظتی لباس جیسا اہم قرار دیا ہے۔
اسے بھارت میں طبی عملے کے 600 ایسے افراد پر آزمایا گیا جو کورونا وبا سے متاثر مریضوں کا علاج کررہے تھے۔ ابتدائی تجربات سے انکشاف ہوا کہ ایک اسپرے کا اثر آٹھ گھنٹوں تک رہتا ہے اور اسپرے کی افادیت 66 فیصد ظاہر ہوئی یعنی 66 فیصد افراد کورونا کی وبا سے محفوظ رہے۔ واضح رہے کہ کچھ افراد کو اصل اور بعض کو پانی بھرا اسپرے دیا گیا تھا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اینجیلا رسل نے کووڈ روکنے والے ناک کے اسپرے کو ایک ایک اہم ایجاد قرار دیا ہے۔ اگرچہ وہ اس تحقیق اور ایجاد کا حصہ نہیں رہیں لیکن انہوں نے کہا کہ یہ اسپرے دنیا کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرسکتا ہے۔
ڈاکٹر راکیش کے مطابق اس چھوٹے سے اسپرے کو اپنے بیگ میں رکھا جاسکتا ہے اور دن میں کئی بار استعمال کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق اسپرے میں شامل طاقتور ترین اجزا کووڈ 19 وائرس کو صرف 30 سیکنڈ میں تباہ کردیتے ہیں اور ناک کے اندر کئی گھنٹے تک موجود رہتےہیں۔
https://www.express.pk/story/2230006/9812/
دنیا کے مختلف ممالک میں نہایت محدود پیمانے پر اُڑن ٹیکسیوں کی سروس شروع ہوچکی ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں اڑتی پھرتی ٹیکسیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے گی۔
اس ممکنہ صورتِ حال کے پیشِ نظر برطانیہ کی ایک اسٹارٹ اپ ’’اربن ایئر پورٹ‘‘ نے ہنڈائی کمپنی کے ’’اربن ایئر موبیلیٹی ڈویژن‘‘ کے تعاون سے ایک ایسے ہوائی اڈے پر کام شروع کردیا ہے جو شہر کے بیچوں بیچ ہوگا اور جہاں صرف اُڑن ٹیکسیاں ہی ٹیک آف اور لینڈنگ کرسکیں گی۔
اُڑن ٹیکسیوں کے ایسے ہوائی اڈوں کو ’’ورٹی پورٹس‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو عام ہوائی اڈوں کے مقابلے میں نہ صرف بہت چھوٹے ہوں گے بلکہ انہیں کسی عام فٹبال گراؤنڈ جتنی جگہ پر یا کسی بڑی عمارت کی چھت پر بھی بنایا جاسکے گا۔
توقع ہے کہ ہنڈائی اور اربن ایئر پورٹ کے اشتراک سے برطانیہ کی پہلی ورٹی پورٹ اگلے سال یعنی 2022 میں کام شروع کردے گی۔
اس ورٹی پورٹ کےلیے کووینٹری، برطانیہ میں جگہ کا انتخاب کر لیا گیا ہے جہاں سے اُڑن ٹیکسیاں پرواز کرسکیں گی اور وہاں اُتر بھی سکیں گی۔
ایسی بیشتر اُڑن ٹیکسیوں میں بیٹریاں نصب ہوں گی لہذا ورٹی پورٹ میں بڑے بڑے بیٹری چارجر بھی لگائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اُڑن کاریں اور ٹیکسیاں کسی ہیلی کاپٹر ہی کی طرح ہوتی ہیں یعنی یہ بالکل سیدھی ہوا میں بلند ہوتی ہیں اور اسی طرح بالکل سیدھی زمین پر اترتی ہیں؛ یعنی انہیں رن وے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اگر اُڑن گاڑیوں کی ٹیکنالوجی عام ہوگئی تو عوامی سفر میں بہت سی ایسی نئی سہولیات پیدا ہوں گی جن کے بارے میں آج صرف سوچا ہی جاسکتا ہے۔
ورٹی پورٹ اسی میدان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد آزمائش ثابت ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2229695/508/
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ریت کے ذرے کے برابر پرواز کرنے والا روبوٹ بنایا ہے، جسے دنیا کی سب سے مختصر اڑن مشین بھی کہا جاسکتا ہے۔
اس مختصر ترین مشین کو ’مائیکروفلائر‘ کا نام دیا گیا ہے کو میپل درخت کے ایک باریک سے پتے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ یہ کسی پنکھے کی طرح ہوا میں تیرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی، پی ایچ، فضا میں موجود کثافتوں اور دیگر اقسام کا ڈیٹا حاصل کرسکتا ہے۔

اس پر باریک ترین سینسر بھی نصب کئے جاسکتے ہیں جو فضا میں موجود کیمیکل بلکہ کئی طرح کی آلودگیوں کو نوٹ کرسکتے ہیں۔ اسے نارتھ ویسٹرن جامعہ کے سائنسدان، جان راجرز اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے جس کی تفصیل ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر کی 23 ستمبر کی اشاعت میں پیش کی گئی ہیں۔
مائیکروفلائر کا بہترین ڈیزائن منتخب کرنے کے لئے کمپیوٹر ماڈل سے بھی استفادہ کیا گیا۔ لیکن ابتدائی ڈیزائن میپل درخت کے پتوں سے ہی لیا گیا ہے جو بڑی تعداد میں اس کے موجد کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ راجر نے دیکھا کہ بہت چھوٹے پتے بھی ہوا میں پنکھوں کی طرح گھومتے ہوئے بہت دور نکل جاتے ہیں۔ تاہم مائیکروفلائر کے ڈیزائن کو بہتر بنا کرے اس کے پروں کو خاص ترتیب دی گئی۔

اس طرح باریک ترین ڈیزائن والا ہیلی کاپٹر نما روبوٹ بھی بہت اچھے انداز میں پرواز کرنے لگا۔ اڑان بھرنے والے خرد روبوٹ 28 سینٹی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین پر گرتے ہیں جو عام پتوں کے مقابلے میں نصف رفتار ہے۔
صرف اس کا ڈیزائن ہی اسے خردبینی اڑن کھٹولہ بناتا ہے کیونکہ اس میں کوئی موٹر اور سرکٹ موجود نہیں لیکن یہ انسان کی تیارکردہ مختصر ترین اڑن مشین ضرور ہے۔ مائیکروفلائر پر طرح طرح کے خردبینی برقی سینسر لگاکر کسی علاقے میں وبا، آلودگی، سمندری طوفان اور آفات، یا پھر ہوا میں موجود مضر اجزا سے آگہی حاصل کی جاسکے گی۔
اس کا طریقہ کچھ یوں ہوسکتا ہے کہ ایسے سینکڑوں ہزاروں ’مائیکروفلائرز‘ کو ایک ساتھ یا وقفے وقفے سے اڑائے جاسکیں گے جو تھوڑا تھوڑا ڈیٹا جمع کریں گے جسے ایک مقام پر رکھ کر پورے علاقے کی صورتحال معلوم کی جاسکے گی۔ اس کے موجد راجر ایک بایو انجینیئرہیں جو اگلے مرحلے میں تمام اڑن ذرات کو قدرتی طور پر تلف ہوجانے کی خاصیت دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح خردبینی ہیلی کاپٹر کا ماحولیاتی بوجھ بھی کم سے کم ہوسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2229191/508/
برطانوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ لاما اور اونٹ میں بننے والی مختصر اینٹی باڈیز یعنی ’نینو باڈیز‘ سے انسانوں میں کورونا وائرس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ لاما اور اونٹ کا تعلق جانوروں کے ایک ہی خاندان سے ہے اور ماہرین نے جو ’نینو باڈی‘ دریافت کی ہے وہ ان دونوں میں یکساں طور پر بنتی ہے۔
روزالن فرینکلن انسٹی ٹیوٹ، برطانیہ کے سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر تجربہ گاہ میں رکھے گئے ایک لاما میں ناول کورونا وائرس (سارس کوو 2) داخل کیا تو لاما کے جسم میں موجود ایک خاص نینو باڈی نے وائرس کو جکڑ کر مزید پھیلنے سے روک دیا۔
لاما میں سے یہ نینوباڈی الگ کی گئی اور اگلے مرحلے میں اسے ہیمسٹرز (چوہوں جیسے جانوروں) پر آزمایا گیا جو ’سارس کوو 2‘ وائرس سے متاثر کیے گئے تھے۔
ہیمسٹرز میں بھی اس نینوباڈی نے وہی کارکردگی دکھائی جس کا مظاہرہ یہ لاما میں کرچکی تھی۔
’’لاما سے حاصل شدہ نینو باڈی کو پھوار (اسپرے) کی شکل میں براہِ راست ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچایا جاسکتا ہے، جو اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے،‘‘ ڈاکٹر ریمنڈ اوونز نے کہا جو اس تحقیق کے نگراں اور ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مرکزی مصنف بھی ہیں۔
اب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کےلیے دی جانے والی اینٹی باڈیز انجکشن یا ڈرپ کے ذریعے متاثرہ فرد کے خون میں براہِ راست شامل کی جاتی ہیں۔
یہ اینٹی باڈیز اُن افراد کے بلڈ پلازما میں شامل ہوتی ہیں جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے ہوں۔
یہ بھی بتاتے چلیں کہ عام اینٹی باڈیز کے مقابلے میں نینو باڈیز کی جسامت بہت کم ہوتی ہے لیکن اب تک کی تحقیق میں انہیں ایسے کئی وائرسوں اور جرثوموں کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے کہ جن پر روایتی اینٹی باڈیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
1989 میں لاما اور اونٹ پر تحقیق کے دوران پہلی بار نینوباڈیز دریافت ہوئیں جبکہ ان سے اوّلین علاج وضع کرنے میں مزید 30 سال
https://www.express.pk/story/2229461/9812/
ہبل خلائی دور بین
28 September, 2021

تحریر : امجد احسان
چار دہائیوں کی منصوبہ بندی کے بعد 24اپریل 1990 کو شٹل ڈسکوری کے ذریعے ہیلی سپیس ٹیلی سکوپ (ہبل خلائی دوربین) زمین کے گرد 381 میل بلند مدار میں پہنچائی گئی۔ زمین سے کنٹرول کیا جانے والا بارہ ٹن وزنی اور ایک کار کی جسامت کا یہ خلا میں چھوڑا جانے والا سب سے بڑا جسم تھا۔ اس کا نام ایڈون پاول ہبل کے نام پر رکھا گیا تھا۔
ایڈون پاول ہبل (Edwin Powell Hubble) امریکی ماہر فلکیات تھے۔ انہوں نے 1923ء میں نو تعمیر شدہ سوانچی انعکاسی دوربین سے اینڈرومیڈا میں کچھ عام ستارے (یعنی نووا کے علاوہ) دریافت کیے تھے جن میں سیفیڈ بھی شامل تھے۔کرۂ ہوائی فلکی اجسام سے خارج ہونے والی مرئی، بالائے بنفشی اور انفراریڈ شعاعوں کا ایک خاصا بڑا حصہ روک لیتا ہے اور وہ جسم دھندلا جاتے ہیں۔ بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہ دور بین فلکی اجسام کی طیف کے وہ حصے بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو زمین پر ممکن نہیں تھا۔ ہبل دوربین کی مدد سے زمین پر موجود آلات سے 10 گنا زیادہ صاف طیف بنانا ممکن ہو جاتا ہے۔
ہبل کے عد سے میں کردی کجی نامی ایک فنی خامی کے باعث یہ مرئی روشنی کی شبہیں متوقع صفائی کے ساتھ حاصل نہیں کر سکا۔ پھر سورج کی روشنی کے باعث بھی اس کی بھیجی تصاویر میں 15 سے 20 فیصد تک دھندلاہٹ شامل ہوتی تھی۔ اس کے باوجود ہبل نے پہلے دو سال کے دوران ایسی معلومات ارسال کیں جن تک پہلے رسائی نہیں تھی ۔ اس نے بڑے میگینک بادل میں پھٹنے والے سپر نوا کے گرد گیس کے ایک دمکتے ہالے کی نشان دہی کی۔ اس کی بھیجی گئی تصاویر میں سے ایک کہکشاں M51 کے مرکز میں ایک تاریک علاقہ دریافت کیا گیا جو ایک بلیک ہول کے گرد کے علاقے ہو سکتے ہیں۔ اس دوربین کی خامیاں دور کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
ہبل خلائی دوربین Hubble Space Telescope زمین کے مدار میں گردش کرنے والی ایک خلائی رصد گاہ و دوربین ہے۔ اسے خلائی جہاز ڈسکوری کے ذریعے اپریل 1990ء میں مدار میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا نام امریکی خلائی سائنسدان ایڈون ہبل کے نام پر رکھا گیا ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-28/25249#
دوا ساز کمپنی کا میوزک سر دردِ کم کرنے میں معاون
27 September, 2021
مائگرین اور دردِ سر کی دوا بنانے والی مشہور کمپنی نیوروفین نے محنت سے ایک میوزک ترتیب دیا ہے جسے سن کر دردِ سر کم کیا جاسکتا ہے
لندن(نیٹ نیوز)موسیقی کے اس ٹکڑے کا نام ‘ٹیون آؤٹ پین’ رکھا گیا ہے جسے سپاٹیفائی پر سنا جاسکتا ہے لیکن اس کیلئے آپ کو ویب سائٹ پر خود کو رجسٹر کرانا ہوگا۔ اس کی تیاری میں دماغی ماہرین اور موسیقاروں نے مل کر اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ موسیقی سے سر میں درد پیدا کرنیوالے سگنل کو کمزور کیا جاسکتا ہے ۔یونیورسٹی کالج ڈبلن کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کلیئر ہاؤلِن اور موسیقار جوناتھن بیکر نے مشترکہ طور پر موسیقی ترتیب دی جسے ہزاروں مریضوں کو درد کی کیفیت میں سنایا گیا ،80 فیصد مریضوں نے کہا کہ میوزک سننے کے بعد ان کے دردِ سر میں افاقہ ہوا ہے ۔ تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔ کمپنی کے مطابق سائنسی اور صوتی اصولوں پر یہ میوزک بنایا گیا ہے جو اہم تاثیر رکھتا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-27/1887113
دو امریکی جامعات نے سوئی لگوانے سے خوفزدہ افراد کےلیے ویکسین سے بھرا ہوا پیوند تیار کیا ہے جو ابتدائی آزمائش میں سوئی والی ویکسین سے بہتر اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔
اسٹینفرڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا چیپل ہِل نے اسٹیکر نما پیوند تیار کیا ہے جس میں بہت ساری باریک سوئیاں نصب ہیں۔ جب انہیں جلد پر چپکایا جاتا ہے تو سوئیوں میں موجود ویکسین کی خوراک جلد کے اندر سرایت کرجاتی ہیں اور یوں ویکسین دینے کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جلد میں امنیاتی خلیات موجود ہوتے ہیں جو عموماً ویکسین کا ہدف ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ روایتی طور پر ویکسین دینے سے کئی گنا بہتر ہے جس میں عموماً بازو میں ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اس کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع کی گئی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر تھری ڈی پرنٹر سے کاڑھا گیا ہے جس میں ڈاک ٹکٹ کی جسامت کے پولیمر ٹکڑے پر باریک سوئیاں لگائی گئی ہیں۔ اس سے سوئی کی تکلیف کم ہوتی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد کو بہت تیزی سے ویکسین یا کسی اور دوا کا ٹیکہ لگایا جاسکتا ہے۔
’اس ٹیکنالوجی کی بدولت پوری دنیا کے لوگوں میں ویکسین کی کم، درمیانی یا زیادہ خوراک لگائی جاسکتی ہے۔ اس کےلیے خاص مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی اور سوئی کا خوف بھی جاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ خود مریض بھی اسے استعمال کرسکتا ہے،‘ پروفیسر جوزف ڈی سائمن نے کہا جو اس تحقیق کے سربراہ ہیں۔
اس ایجاد کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سوئیوں کی تعداد اور خوراک کی مقدار کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے جبکہ معمولی مقدار پر بھی وہی امنیاتی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ جلد پرموجود خلیات امنیاتی طور پر بہت سرگرم ہوتے ہیں۔ تھری ڈی پرنٹر سے کئی اقسام کے پیوند بنا کر انہیں، فلو، خسرہ، کووڈ اور ہیپاٹائٹس کی ویکسین سے لیس کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2229230/9812/
سنگاپور سٹی: آلودہ پانی اس وقت دنیا کے اکثرممالک میں کئی امراض کی وجہ بنا ہوا ہے۔ اب ایک اسمارٹ فون کیمرے کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پانی میں آلودگی کی شرح کتنی ہے لیکن اس کے لیے سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے ایک نہایت عمدہ تکنیک وضع کی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ترقی پذیرممالک میں ہسپتالوں کے 30 فیصد بستر آلودہ پانی سے متاثر ہونے والے مریضوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ سنگاپوریونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے ڈیزائن نامی کمپنی کی مدد سے جھیلوں اورتالابوں میں موجود غیرصاف شدہ پانی جانچنے کا ایک طریقہ وضع کیا ہے جس میں اسمارٹ فون کے کیمرے سے پانی کے خردنامئے کی حرکات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ تحقیق سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔
یہ نظام منٹوں میں کام کرتا ہے جس میں پانی میں موجود یک خلوی (سنگل سیل) جاندار پیرامیشیا کی تیز یا سست حرکت کو نوٹ کیا جاتا ہے، یہ جاندار پوری دنیا کے پانیوں میں عام موجود ہوتا ہے۔ ماہرین نے سب سے پہلے صاف پانی میں پیرامیشیئم کی رفتار نوٹ کی ۔ اس کے بعد مختلف آلودہ پانیوں میں اسے تیرایا۔ معلوم ہوا کہ مختلف آلودگیوں کی موجودگی میں پیرامیشیئم کی رفتار بدلتی رہتی ہے۔ اسی بنا پرایک پیمانہ مقررکیا اوراسمارٹ فون کیمرے میں تبدیلی لاکر اس قابل بنایا گیا کہ وہ یک خلوی جانور کی رفتار معلوم کرسکے۔
جیسے ہی پانی میں بھاری دھاتیں اور اینٹی بایوٹکس ڈالی گئیں پیرامیشیئم کی حرکت بھی بدل گئی۔ تجرباتی طور پر اسمارٹ فون کیمرے پر ایک خردبینی (مائیکرواسکوپک) لینس لگایا گیا جس سے پیرامیشیئم دکھائی دینے لگے۔ پھر ان کی رفتار کو ایک الگورتھم سے ناپا گیا۔ معلوم ہوا کہ پیرامیشیئم جتنی سست رفتار سے تیرتا ہے وہ پانی اتنا ہی آلودہ ہوتا ہے۔ یعنی بھاری دھاتوں والے پانی میں اس کی رفتار نصف رہ گئی۔
تحقیق کے مرکزی سائنسداں ہاویئرجی فرنینڈِز کہتے ہیں کہ یہ ایک سیدھا اور آسان طریقہ ہے جو پانی کے قابلِ نوش یا ناقابلِ استعمال ہونے کے متعلق بہت کچھ بتاتا ہے۔ پیرامیشیئم پوری دنیا کے پانیوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی رفتار کو پانی کی آلودگی ناپنے کا ایک پیمانہ بنایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2229184/508/
کراچی میں تیز ہواﺅں کے ساتھ موسلادھار بارش ، ماہر موسمیات نے مائیکرو برسٹ قرار دے دیا ، اس اصطلاح کا کیا مطلب ہے ؟
Sep 27, 2021 | 18:10:PM

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )شہر قائد میں آج اچانک ہونے والی تیز ہواوں کے ساتھ موسلا دھار بارش نے ہر طرف جل تھل کردیا۔ماہر موسمیات کے مطابق صدر کے اطراف میں اچانک ہونے والی تیز بارش مائیکرو برسٹ کے باعث ہوئی، چاروں جانب سے تیز ہوائیں چلیں اور بارش مختلف سمتوں سے برسی۔ماہر موسمیات کا کہنا ہے کہ مائیکروبرسٹ میں اچانک شدید بارش اور تیز ہوائیں چلتی ہیں، تیزبارش اور تیز ہواوں کے باعث درخت اور دیواروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کے شمال مشرق اور مشرقی علاقوں میں تھنڈر سیلز موجود ہیں، بحریہ ٹاون،گڈاپ، ملیر اور آس پاس کے علاقوں میں مزید بارش ہو سکتی ہے اور شہر میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کل دوپہر کے بعد بھی ایک بار پھر تھنڈرسیلز بن سکتے ہیں اورکل کہیں تیز اور کہیں موسلا دھار بارش ہوسکتی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/27-Sep-2021/1346066?fbclid=IwAR1cI2366B8dvwGWEV6fljLlhCvMwRb1hhjVySymT-dom2410M4-CK8TVic
”مچھلی ذبح نہیں کی جاتی، پھر یہ حلال کیسے ہوئی؟“سائنس نے غیر مسلموں کے سب سے بڑے سوال کا جواب دیدیا، ایسی حقیقت کہ جان کر آپ بھی بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے
Oct 08, 2020 | 17:53:PM

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام نے حلال کھانے کا حکم دیتے ہوئے حرام کھانے سے منع کیا ہے اور ایسے جانور کا گوشت استعمال کرنے کا حکم دیا ہے جسے اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو۔
غیر مسلم ناصرف حرام گوشت استعمال کرتے ہیں بلکہ اسلام کے اس حکم سے متعلق مچھلی کی مثال پیش کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اسے ذبح نہیں کیا جاتا تو پھر یہ کیسے حلال ہو گئی تاہم اب سائنس نے یہ اس سوال کا جواب دیدیا ہے اور ایسا حیران کن انکشاف کیا ہے کہ آپ بھی بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں موجود ہر چیز بہترین انداز میں بنائی ہے اور ایسا ہی معاملہ مچھلی کے ساتھ بھی ہے جو جیسے ہی پانی سے باہر آتی ہے تو اس کے جسم میں موجود تمام خون فوراً اپنا راستہ بدل لیتا ہے اور مچھلی کے منہ میں واقعہ ”ایپی گلوٹس“ میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
مچھلی کے پانی سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کے جسم میں موجود خون کا ایک ایک قطرہ ایپی گلوٹس میں جمع ہو جاتا ہے اور اس کا گوشت خالص اور حلال رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی اور جس دوران مچھلی کا گوشت بنایا جاتا ہے تو ”ایپی گلوٹس“ کو بھی نکال دیا جاتا ہے۔
یہی نہیں سائنس نے اسلام کے حلال کھانے کے حکم کے پیچھے چھپی حقیقت بھی آشکار کی ہے جس کے باعث غیر مسلم بھی ہکا بکا رہ گئے ہیں کیونکہ جب کسی جانور کو ذبح کیا جاتا ہے تو اس کے دل اور دماغ کا رابطہ ختم نہیں ہوتا اور دل جانور کی وریدوں اور شریانوں میں موجود تمام خون کے باہر نکلنے تک دھڑکتا رہتا ہے اور اس طرح اس کا گوشت خون سے پاک اور حلال ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب جب کسی جانور کو غیر اسلامی طریقے یعنی ”جھٹکے“ وغیرہ کے ذریعے ہلاک کیا جاتا ہے تو اس کا دل بھی فوراً دھڑکنا بند کر دیتا ہے اور یوں جسم سے خون کا اخراج ہو ہی نہیں پاتا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مختلف قسم کی سنگین بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیموں اور بیکٹریاز کی افزائش کیلئے خون بہترین چیز ہے اور جب جانور کے جسم سے خون کا اخراج نہیں ہوتا تو یہ گوشت کو ہی خراب کر دیتا ہے اور جب انسان اسے کھاتے ہیں تو بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/08-Oct-2020/1194348?fbclid=IwAR3H9VYobT-VWkp5L3OYd18tLYKBRqb3ArRS51lkNmaJPm1q7VjDWuNua1Y
امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینئروں نے دنیا کا سب سے مختصر ڈرون ایجاد کرلیا ہے جو شکر کے دانے جتنا چھوٹا ہے اور ہوا کے زور سے اُڑ سکتا ہے۔
’’مائیکروفلائر‘‘ نامی اس ڈرون کی جسامت ایک ملی میٹر سے بھی کم ہے جبکہ اس کی تین پنکھڑیاں اسے اُڑنے میں مدد دیتی ہیں۔
اس کے درمیانی حصے میں مائیکروچپ سمیت وہ تمام آلات ہیں جو اسے توانائی ذخیرہ کرنے، ارد گرد ماحول کے بارے میں جاننے اور ان معلومات کو نشر کرنے تک میں مدد دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس مائیکروفلائر ڈرون کی ننھی منی پنکھڑیاں گھمانے کےلیے کوئی موٹر نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوا کے دوش پر دُور دُور تک بکھر جانے والے بیجوں کی طرح ہوا میں اُڑتا پھرتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی عام استعمال کے آلات سے لے کر طبّی تشخیص اور ماحول پر نظر رکھنے تک، متعدد مقاصد میں ہمارے کام آسکے گی۔
مائیکروفلائر بنانے والے انجینئروں کا کہنا ہے کہ اتنی مختصر جسامت والے ڈرونز کو استعمال کے بعد دوبارہ جمع کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ لہذا مائیکروفلائرز کی تیاری میں ایسے مادّے استعمال کیے گئے ہیں جو قدرتی ماحول میں کچھ روز بعد خود ہی تحلیل ہو کر بے ضرر مادّوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
ریسرچ جرنل ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ’’مائیکروفلائر‘‘ ابھی تجرباتی طور پر بنایا گیا ہے جسے مستقبل میں مخصوص ماحولیاتی یا طبّی مقاصد کے لحاظ سے بڑے پیمانے پر تیار کیا جاسکے گا۔
مثلاً ماحولیاتی تحقیق کےلیے مائیکروفلائرز کی بڑی تعداد کسی طیارے یا ڈرون میں بھر کر بہت اونچائی پر پہنچائی جائے گی اور وہیں سے ہوا میں چھوڑ دی جائے گی۔
یہ مائیکروفلائرز ہوا کے ساتھ دور دور تک پھیل جائیں گے۔ اسی دوران وہ مطلوبہ مشاہدات کرکے اعداد و شمار جمع کریں گے جنہیں وہ فوری طور پر قریبی ریسیور/ ڈیٹا کلکشن یونٹ تک نشر کردیں گے۔
https://www.express.pk/story/2228749/508/
انسان کے متعلق حیران کن معلومات
25 September, 2021

تحریر : عثمان عمر
انسان ایک رات کی نیند میں ساڑھے چھ ہزار مرتبہ سانس لیتا ہے ۔انسان دو ہفتوں تک بغیر کھائے تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر وہ صرف دس دن کے لئے بھی نہ سوئے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔ہماری ناک کا سائز ہمارے انگھوٹھے کے سائز کے برابر ہوتا ہے ۔پیدائشی اندھے لوگ بھی خواب دیکھتے ہیں ،لیکن وہ تصویر یں نہیں بلکہ صرف خوشبو، جذبات اور چھونے کے احساسات کو استعمال کرتے ہیں۔ انسانی آنکھ کو اندھیرے سے مکمل عادی ہونے کے لیے تقریباًایک گھنٹہ لگ سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے کے ڈاکواپنی ایک آنکھ پر پٹی باندھے رکھتے تھے اور جب اندھیرے میں جاتے تھے تو پٹی اتار دیتے تھے ،چونکہ ان کی ایک آنکھ پہلے سے ہی اندھیرے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے اس لئے انہیں اندھیرے میں دیکھنے کے لئے زیادہ پریشانی نہیں ہوتی تھی۔انسانی جسم کی سب سے بڑی ہڈی ران کی ہڈی ہوتی ہے اور اس کے بعد ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق عورتیں سب سے زیادہ سانپوں سے اور مرد سب سے زیادہ دفن ہونے سے ڈرتے ہیں۔
انسانی جسم میں سب سے سخت چیز اس کے دانتوں کے اوپر کی پالش ہے ۔جب ہم بولتے ہیں تو تقریباً ستر اعضا ء حرکت کرتے ہیں ۔انسانی جسم میں تقریباً پچیس لاکھ مسام ہوتے ہیں۔ انسانی دماغ میں نوے فیصد پانی ہوتا ہے ۔انسانی دماغ ایک سو واٹ بلب جتنی توانائی سے چلتا ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-25/25243
سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک سالڈ اسٹیٹ بیٹری تیار کی ہے جسے بنانے کے بعد اس کے بعض ان دیکھے خواص سامنے آئے ہیں جنہیں جان کر وہ خود حیران رہ گئے ہیں۔
تحقیقی جرنل سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اس نئی بیٹری میں دو جدید بیٹریوں کے تصورات کو ایک بیٹری میں ڈھالا گیا ہے۔ ایک جانب تو اس میں سالڈ اسٹیٹ الیکٹرولائٹ ہیں دو دوسری جانب اس کا اینوڈ سلیکان سے بنایا گیا ہے جو اسے ’سلیکان سالڈ اسٹیٹ‘ بیٹری بناتا ہے۔
ابتدائی ٹیسٹ میں یہ دیرپا، محفوظ اور توانائی سے بھرپور ثابت ہوئی ہے۔ اسے گاڑیوں سے لے کر گرڈ بجلی محفوظ رکھنے کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جامعہ کیلیفورنیا سان ڈیاگو نے ایل جی انرجی کمپنی کے اشتراک سے اسے تیار کیا ہے۔
آج کی عام لیتھیئم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں سلیکان اینوڈ دس گنا تک توانائی جمع رکھ سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بیٹری چارج ہونے اور چارج نکلنے کے دوران سلیکان اینوڈ پھیلتے اور سکڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ استعمال نہیں ہورہے تھے خواہ ان میں بجلی جمع کرنے کی کتنی ہی خاصیت کیوں نہ ہو۔ لیکن اب سلیکان اینوڈ کو اس قابل بنایا گیا ہے کہ وہ کسی طرح بیٹری کا حصہ بن سکے۔
اس پرکام کرنے والے مرکزی ماہرپروفیسرڈیرن ایچ ایس ٹان کہتے ہیں کہ اگر روایتی دھاتی لیتھیئم سے اینوڈ بنائے جائیں گو ان میں حرارت بڑھ جاتی ہے۔ بسا اوقات ان کا درجہ حرارت 60 درجے سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ لیکن سلیکان اینوڈ کمرے کے درجہ حرارت پر تیزی سے چارج ہوتا ہے اور اپنے اندر بجلی کی قدرے زیادہ مقدار جمع رکھتا ہے اور گرم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سالڈ اسٹیٹ بیٹری میں آگ نہیں لگتی۔
تجرباتی بیٹری کو 500 مرتبہ چارج اور ڈسچارج کیا گیا تو اس نے بجلی برقرار رکھنے کا 80 فیصد ہدف مکمل کیا اس طرح سلیکان سالڈ اسٹیٹ بیٹری کا خواب تعبیر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس میں مائیکروسلیکان استعمال کیا گیا ہے جو دیگر اجزا کے مقابلے میں کم خرچ ہے اور اسے تیار کرنا آسان بھی ہے۔
اگرچہ سلیکان سے بنی سالڈ اسٹیٹ بیٹری کی عملی منزل ابھی دور ہے لیکن ایل جی اس پر مزید کام کرنا ہوگا۔ اگرچہ اسٹارٹ اپ نے اس کے لائسینس پر کام شروع کردیا ہے لیکن ایل جی اس پر مزید تجربات جاری رکھے گی۔
https://www.express.pk/story/2228457/508/
ملك كی تاریخ میں پہلی بار پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپا ٹائٹس سی كے ٹیسٹ بلوچستان سے شروع كرنے كا منصوبہ تیار، عملے كی تربیت شروع كر دی گئی، پہلے مرحلے میں پی ایس سی كے ذریعے 3ماہ تک جیلوں میں ٹیسٹنگ كا آغاز كیا جائے گا۔
بلوچستان حكومت نے صوبے میں جدید پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپاٹائٹس سی كے ٹیسٹ كرنے كا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیسٹنگ کے لیے عملے كی تربیت شروع كردی ہے۔
ہیپاٹائٹس فری پروگرام بلوچستان كی كوآرڈی نیٹر ڈاكٹر گل سبین اعظم غوریزئی كے مطابق پارلیمانی سیكریٹری صحت ڈاكٹر ربابہ بلیدی، سیكریٹری صحت عزیز احمد جمالی كی كوششوں سے پاكستان میں پہلی بار پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپاٹائٹس سی كے ٹیسٹ كرنے كا منصوبہ بلوچستان سے شروع كیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا كہ پہلے مرحلے میں پی ایس سی كے ذریعے نومبر سے 3 ماہ تک جیلوں میں ٹیسٹنگ كا آغاز كیا جائے گا، جن كے نتائج كا مشاہدہ كرنے كے بعد صوبے كے دیگر علاقوں میں اس منصوبے كو وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے كہا كہ پی ایس سی ٹیسٹنگ کے لیے عملے كی تربیت شروع كردی گئی ہے اس سلسلے میں پہلی ٹریننگ قومی ادارہ برائے ہیپاٹائٹس، کراچی كی ڈاكٹر ہما قریشی نے دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے كیے جانے والے ٹیسٹ کے لیے درجہ حرارت اور وقت كی كوئی قید نہیں ہوتی اس سے پہلے جن ٹیوبز میں خون كے نمونے اكٹھے كئے جاتے تھے وہ اكثر ٹوٹ جاتی تھیں جس سے بعض اوقات غلط نتائج بھی آتے تھے۔
پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے پی سی آر ٹیسٹنگ كے لیے نمونے لئے جاسكتے ہیں، اس كے استعمال سے زائد بجٹ اور غلط نتائج آنے كے امكانات بھی ختم ہوجائیں گے۔
https://www.express.pk/story/2228804/1/
امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ کم سوتے ہیں وہ الٹی سیدھی چیزیں کھانے کی عادت میں مبتلا ہو کر موٹاپے کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ دریافت 18 سے 60 سال کے تقریباً 20 ہزار امریکیوں کی مجموعی صحت، موٹاپے اور کھانے پینے کی عادات سے متعلق دس سالہ سروے میں جمع کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ رات کے وقت سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند کو صحت کے نقطہ نگاہ سے ’’بالکل ٹھیک‘‘ یعنی معمول کے مطابق قرار دیا جاتا ہے۔
اب تک دل اور دماغ کی کئی بیماریوں کا تعلق معمول سے کم اور زیادہ، دونوں طرح کی نیند کے ساتھ ثابت کیا جاچکا ہے۔
البتہ یہ پہلی تحقیق ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ معمول سے کم نیند کس طرح موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔
اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹوفر ٹیلر اور ان کے ساتھیوں کی اس تحقیق پتا چلتا ہے کہ معمول سے کم وقت سونے والے اکثر لوگ جب رات کو دیر تک جاگ رہے ہوتے ہیں تو اسی دوران وہ کچھ نہ کچھ کھانے کی شدید ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
یہی ضرورت پوری کرنے کےلیے وہ چپس، برگر، بروسٹ اور ایسی دوسری چیزیں کھاتے ہیں جن کا شمار ’’جنک فوڈ‘‘ یعنی الٹی سیدھی چیزوں میں ہوتا ہے۔
رات گئے ایسی چیزیں کھانے کے بعد وہ جسمانی سرگرمی (مثلاً چہل قدمی) بھی نہیں کرتے۔ نتیجتاً ان غذاؤں میں شامل چکنائی، شکر، کیفین اور کاربوہائیڈریٹس زیادہ مقدار میں ان کے جسموں میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔
اگر یہی معمول لمبے عرصے تک جاری رہے تو وہ افراد تیزی سے موٹے بھی ہوجاتے ہیں چاہے وہ دن میں کتنی ہی مشقت کیوں نہ کرلیں۔
اس تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دن کے اوقات میں جنک فوڈ کی یکساں مقدار استعمال کرنے والوں میں موٹاپے کی شرح اتنی زیادہ نہیں تھی کہ جتنی رات گئے یہ سب کچھ، اتنی ہی مقدار میں کھانے والوں میں دیکھی گئی۔
پروفیسر ٹیلر کے مطابق، اس کی ایک اور ممکنہ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ رات کو دیر تک جاگنے کی کوشش میں ہم ان چیزوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں جو کم وقت میں تیار ہوجائیں اور جنہیں کھانے یا پینے پر ہم میں جلد ہی زیادہ توانائی آجائے۔
’’اس سے وقتی طور پر تو کچھ فائدہ ہوتا ہے لیکن لمبے عرصے میں یہی عادت ہمارا وزن بے ہنگم انداز سے بڑھنے کا باعث بن جاتی ہے،‘‘ پروفیسر ٹیلر نے کہا۔
اس تحقیق کی تفصیلات ’’جرنل آف دی اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹکس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2227715/9812/
زمین کے مدار میں سیٹلائٹس بھیجنے کا عام لوگوں کو کیا نقصان ہے؟ ماہرین نے خبردار کردیا
Sep 22, 2021 | 19:31:PM

سورس: Pxhere (creative commons license)
اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) سپیس ایکس اور ایمازون جیسی کمپنیاں اور حکومتیں سالوں سے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں بھیج رہی ہیں، جن کی تعداد ہزاروں میں ہو چکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ اب کینیڈین ماہرین نے زمین کے مدار میں سیٹلائٹس کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تحقیقاتی کام میں رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔
دی سن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ عام لوگ بھی چند سال پہلے تک آسمان میں ستاروں کی کہکشائیں دیکھ سکتے تھے، اب ان کہکشاﺅں کو دیکھنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ستاروں سے زیادہ ہمیں انسانوں ہی کی بھیجی ہوئی سیٹلائٹس رات کے وقت نظر آتی ہیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ریجینا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس قدر تیزی سے مدار میں سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، بہت جلد ایسا وقت آئے گا جب ہمارے لیے زمین سے ستاروں کی کہکشاﺅں کو دیکھنا لگ بھگ ناممکن ہو جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ یونیورسٹی آف ریجینا کی ماہر فلکیات سمانتھا لالر کا کہنا تھا کہ ”ہم نے مدار میں موجود سیٹلائٹس کی ایک سمیولیشن بنائی ہے۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابھی سے رات کے وقت آسمان پر سیٹلائٹس اتنی زیادہ تعداد میں روشن ہوتی ہیں کہ ستاروں پر حاوی آ رہی ہوتی ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ آئندہ چند سالوں میں مدار میں سیٹلائٹس کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ماہرین فلکیات کے لیے تحقیق کی غرض سے کہکشاﺅں کو دیکھنا ناممکن ہو جائے گا۔“
https://dailypakistan.com.pk/22-Sep-2021/1344009?fbclid=IwAR0W6BASZOedhCFfgmxZJBQ5s-S70z7_d4vwDOtAWweuA6HBbXMnagzKwsY
ویانا جوہری کانفرنس میں پاکستان کیلئے تین ایوارڈز کا اعلان
22 September, 2021

فیصل آباد کا ادارہ نایاب بہترین انسٹیٹیوٹ ڈکلیئر ،دو ماہرین کیلئے ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ
اسلام آباد (خصوصی وقا ئع نگار )ویانا میں ہونے والی آئی اے ای اے کی 65ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر پاکستان کو تین ایوارڈز سے نوازا گیا، ان ایوارڈز میں زرعی تحقیقی ادارہ نا یاب جوفیصل آباد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت قا ئم ہے ، کو بہترین انسٹیٹیوٹ اور وہاں کی کپاس پر تحقیقی سائنسدانوں کو اور ڈاکٹر کاشف ریاض خان کو نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور بین الاقوامی ادارہ برائے جوہری توانائی کی جانب سے ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، ڈاکٹر کاشف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زرعی ترقیاتی ادارے نایاب سے منسلک ہیں، یہ ایوارڈز آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے عطاکئے ، یہ اعزازات پاکستان میں ہونے والی نیوکلیئر تکنیک کے ذریعے سے زرعی شعبہ میں تحقیق کے اعلیٰ معیار کا عالمی اعتراف ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/city/islamabad/2021-09-22/1885056
دماغی افعال بہتر بنا کر ذہنی تنزلی سے بچانے والی عادات
22 September, 2021
عمر کے ساتھ ساتھ ہر شخص کے دماغ میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہے
لاہور(نیٹ نیوز)اور دماغی افعال بھی بدلتے ہیں اور دماغ تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے ۔کچھ عادات سے دماغی افعال کو بہتر بنا کر عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ اچھی غذا جیسے پھلوں، سبزیوں، مچھلی، گریوں، زیتون کے تیل اور نباتاتی پروٹینز پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال دماغی افعال میں تنزلی اور ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کرتا ہے ۔طبی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ذیابیطس دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔یہ بات تو واضح ہے کہتمباکو نوشی جسم کیلئے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہتمباکو نوشی دماغی تنزلی کی بھی اہم وجوہات میں سے ایک ہے ۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سماجی میل جول، لوگوں سے ملنا جلنا دماغی صحت کی بہتری کیلئے بے حد ضروری ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-22/1884892
بہت سے لوگ مختلف قسم کے فوبیا (خوف) میں مبتلا ہوتے ہیں اور لاکھ کوشش کے باوجود وہ پیچھا نہیں چھوڑتے۔ لیکن اب ایک سادہ سی ایپ کم ازکم مکڑیوں کا خوف تو دور کیا جاسکتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات مختلف فوبیا دور کرنے کے لیے مریضوں کو اسی ماحول کا عادی بناتے ہیں جسے ’ایکسپوژرتھراپی‘ کہا جاتا ہے۔ اب اسی طریقے پر آگمینٹڈ ٹیکنالوجی آپ کے ہاتھ پر ایک مکڑی دکھاتی ہے جو درحقیقت موجود نہیں ہوتی۔ اسے دیکھ کر مکڑی کا خوف دھیرے دھیرے کم ہوتا رہتا ہے۔
یہ ایپ یونیورسٹی آف بیسل کے ماہرین نے تیار کی ہے اور اسے کئی لوگوں پرآزمایا بھی ہے جس کی روداد جرنل آف اینزائٹی ڈس آرڈر میں شائع ہوئی ہے۔ صرف دو ہفتے میں لوگوں میں مکڑی کا خوف کم ہوگیا اور وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگے۔ تاہم یہ بھی دیکھا گیا کہ ان میں دماغی تناؤ بھی کم ہوگیا اور ان کے دیگر اقسام کے خوف میں بھی کمی ہوئی ہے۔
مکڑی سے خوف کا مرکز آرچنوفوبیا کہلاتا ہے جسے دورکرنا بہت محال ہوتا ہے۔ علاج کے طور پر ماہرین اپنے دفتر میں بالوں والی بڑی لیکن بے ضرور ٹورنٹیولا مکڑی رکھتے ہیں۔ اس مکڑی کو اپنی نگرانی میں مریض کے ہاتھ پر رکھی جاتی ہے اور ان کا خوف زائل ہوتا رہتا ہے۔ مگر اب مجازی حقیقت (وی آر) اور اے آر کی بدولت ایک سادہ ایپ سے اس کا علاج ممکن ہوا ہے جس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس ایپ کو فوبس کا نام دیا گیا ہے جو ہاتھ پر متحرک مکڑی کی تصاویر دکھاتی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے 66 افراد پر آزمایا گیا ہے۔ ماہرین نے دیکھا کہ ایپ کے استعمال کے بعد لوگوں میں نہ صرف مکڑی کا خوف کم ہوا بلکہ دیگر دماغی الجھنوں میں بھی کمی واقع ہوئی۔
https://www.express.pk/story/2227410/9812/
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی 65 ویں جنرل کانفرنس ، پاکستان پر ایوارڈز کی بارش کردی گئی
Sep 22, 2021 | 10:26:AM

ویانا(اکرم باجوہ) آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والی آئی اے ای اے (انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ) کی 65 ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر پاکستان کو تین ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ان ایوارڈ میں زرعی تحقیقی ادارا نیاب جوفیصل آباد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت قائم ہے کو بہترین انسٹیٹیوٹ اور وہاں کی کپاس کے تحقیقی سائنسدانوں کو اورخصوصا ڈاکٹر کاشف ریاض خان کو نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر فوڈ اینڈ ایگریکلچر اورگنائیزیشن اور بین الاقوامی ادارہ برائے جوہری توانائی کی جانب سے ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر کاشف ریاض خان پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زرعی ترقیاتی ادارے نایاب سے منسلک ہیں۔ آئی اےای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے یہ اعزازات عطاکئے۔
یہ اعزازات پاکستان میں ہونے والی نیوکلئیر تکنیک کے ذریعے سے زرعی شعبہ میں تحقیق کے اعلیٰ معیار کا عالمی اعتراف ہے۔ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے چئیرمین محمد نعیم نے بیک وقت تین عالمی اعزازات ملنے پر پی اے ای سی ٹیم کو مبارکباد اور شاباش دی ہے انہوں نے کہا کہ اٹامک انرجی کمیشن زراعت کے شعبہ میں پر امن جوہری توانائی کے استعمال میں اضافہ کرے گا-
مزید براں انسٹیٹیوٹ کا ایوارڈ چئیرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے خود وصول کیا۔اور چیئرمین آٹامک انرجی کمیشن پیس پاکستان محمد نعیم نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کا پاکستان کو ایوارڈز دینے پر اپنے مختصر خطاب میں شکریہ ادا کیا۔ینگ سائنٹسٹ کا ایوارڈ ملنے پر ڈاکٹر کاشف ریاض خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت شکرگزار ہوں آئی اے ای اے کا اور ایف اے او کا جس نے اس چیز کو آرگنائز کیا اور یہ میرے لیے قابل مسرت ہے بلکہ میں مبارک باد دیتا ہوں اہل وطن کو اور میں شکر گزار ہوں آئی اے ای اے کا بھی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا بھی جس نے مجھے موقع دیا اور میں یہاں تک پہنچا پوری قوم کو میری اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور میری آللہ پاک سے دعا ہے کہ میں اسی طرح پاکستان کے لیے کامیابیاں حاصل کرتا رہوں اور پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں۔
https://dailypakistan.com.pk/22-Sep-2021/1343959?fbclid=IwAR2VsDWMs__A4QWAmsV3iOmZA6Lr7jZzDRg_nMjD_dIVEYI0aMrDZsaBy9k
پھلوں کے چھلکوں سے زخم کی جراثیم کش پٹیاں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی (این ٹی یو) نے وہاں کے مشہور پھل ڈوریان کے چھلکے سے ہائیڈروجیل بنائے ہیں۔
سنگاپوراوردیگرعلاقوں میں ڈیوریان نامی پھل بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے اور اس کا چھلکا بڑی تعداد میں جمع ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کا چھلکا خشک کرکےسیلیولوز کے پاؤڈر میں تبدیل کیا۔ اسے فریج میں رکھا گیا اور اگلے مرحلے میں گلیسرول سے ملاکراس نرم ہائیڈروجل میں ڈھالا گیا۔ ہائیڈروجل پانی سے بھرے نرم پھائے ہوتے ہیں اور طب میں بڑے پیمانے پر استعمال ہورہے ہیں۔
’صرف سنگاپور میں سالانہ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈیوریان پھل کھائے جاتے ہیں، اگرچہ اس کی تیس میں سے صرف چند اقسام ہی کھائی جاسکتی ہیں لیکن میٹھے کسٹرڈ کے ذائقے والے پھل میں عجیب و غریب بو بھی ہوتی ہے۔ چھلکے کی بڑی مقدار ماحول میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اب اس کے چھلکے اور سوئے پھلیوں تک کے چھلکوں سے طبی پٹیاں (بینڈیج) تیار کی گئی ہیں،‘ این ٹی یو نے پروفیسر ولیم نے کہا۔
اچھی بات یہ ہے کہ ڈیوریان اینٹی بایوٹکس پٹیاں، روایتی پٹیوں کے مقابلے میں زخم کے اطراف کو ٹھنڈا اور نم رکھتی ہیں۔ دوسری جانب یہ مہنگی اینٹی بیکٹیریا پٹیوں کا بہترین حل ہے کیونکہ ان میں دھاتی مرکبات کی معمولی مقدار شامل کی جاتی ہے جو بہت مہنگی ثابت ہوتی ہے۔
ان سب کے باوجود انسانوں پر اس کا استعمال ابھی قدرے دور کی بات ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2226936/9812/
سعودی عرب کی جامعۃ الملک عبدالله للعلوم و التقنية (کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) کے سائنسدانوں نے نمکین پانی اور دھوپ کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرنے والا ایک ایسا نظام ایجاد کرلیا ہے جسے بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
فی الحال یہ نظام تجرباتی مرحلے پر ہے اور اسے مختصر پیمانے پر کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے
تفصیلات کے مطابق، اس نظام کی تیاری میں ’’حالت کی تبدیلی‘‘ (فیز چینج) کہلانے والا ایک قدرتی مظہر استعمال کیا گیا ہے۔
اس مظہر کے تحت، نمک کی ٹھوس قلمیں (سالڈ کرسٹلز) پانی میں حل ہوتے دوران توانائی جذب کرتی ہیں۔ یعنی کہ گرم پانی میں نمک کی قلمیں شامل کرنے پر وہ تیزی سے ٹھنڈا ہوجائے گا۔
کئی طرح کے نمک استعمال کرنے کے بعد ماہرین کو معلوم ہوا کہ ٹھنڈک پیدا کرنے کے معاملے میں ’’امونیم نائٹریٹ‘‘ کہلانے والے ایک نمک کی کارکردگی سب سے زیادہ ہے۔
یہ پانی میں بہت تیزی سے حل ہوتا ہے لہذا اس میں ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت نوشادر (امونیم کلورائیڈ) سے چار گنا زیادہ ہے، جو اس موازنے میں دوسرا سب سے بہتر نمک ثابت ہوا تھا۔
ابتدائی تجربات کے دوران جب امونیم نائٹریٹ اور پانی کو دھاتی کپ میں رکھا گیا تو صرف 20 منٹ بعد ہی پانی کا درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو کر 3.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
اس کے بعد بھی تقریباً 15 گھنٹوں تک اس دھاتی کپ کا درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امونیم نائٹریٹ کا استعمال بڑے پیمانے پر مصنوعی کھاد بنانے میں ہوتا ہے جبکہ یہ بہت کم خرچ بھی ہے۔ لہذا ٹھنڈک پیدا کرنے والے کسی نظام میں اس کا استعمال بھی بہت آسان رہے گا۔
اب ماہرین اس نظام کو مزید بہتر بنا کر ایسی صورت میں لانا چاہ رہے ہیں کہ جس میں سورج کی گرمی سے پانی کو بھاپ بنا کر اُڑا دیا جائے اور بچ رہنے والے امونیم نائٹریٹ کو ایک بار پھر سے استعمال کرلیا جائے۔
خشک اور صحرائی علاقوں میں پانی بچانے کےلیے اسی نظام کے ساتھ اضافی طور پر شمسی قرنبیق (solar stills) بھی لگائے جاسکتے ہیں جو بھاپ جمع کرکے اسے پانی میں تبدیل کریں اور دوبارہ سے اس نظام میں بھیج دیں۔
تکنیکی طور پر ایسا ممکن ضرور ہے لیکن اس کےلیے ماہرین کو درجنوں، بلکہ شاید سیکڑوں ڈیزائن آزمانے ہوں گے تاکہ ایک ایسا مؤثر نظام وضع کیا جاسکے جو نہ صرف بڑے پیمانے پر کارآمد ہو بلکہ کم خرچ بھی رہے۔
https://www.express.pk/story/2227327/508/
انسانی جینوم کو پڑھنے اور پروسیسنگ میں بہت وقت لگتا ہے لیکن اب ایک انقلابی ٹیکنالوجی کی بدولت عام پرسنل کمپیوٹر پر صرف چند منٹوں میں انسانی جینوم کی پروسیسنگ کا پورا عمل انجام دیا جاسکتا ہے۔
میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور فرانس کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ نے انسان سمیت تمام تمام مخلوقات کے مکمل جینوم کو پڑھنے اور تشکیل دینے کی نئی ٹیکنالوجی وضع کی ہے۔ اس میں روایتی طریقوں کے مقابلے میں صرف 20 فیصد وسائل استعمال ہوتے ہیں لیکن جینوم پڑھنے کا کام 100 گنا تیزرفتار سے ہوتا ہے۔ اس کی تمام تفصیلات سیل نامی جرنل میں 14 ستمبر کو شائع ہوئی ہے۔
’ اس طرح ایک جدید لیپ ٹاپ پر پورا جینوم اور میٹا جینوم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بدولت معدے کے خردنامیوں اور اس سے وابستہ بیماریوں کی فوری طور پر جینیاتی وجوہ معلوم کی جاسکتی ہیں،‘ پروفیسر بونی برجر نے کہا جوایم آئی ٹی میں مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہ سے وابستہ ہیں۔
واضح ہے کہ 2003 میں جب پہلا انسانی جینوم پڑھا گیا تھا تو اس میں دس برس لگے تھے اور دو ارب 70 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوئی تھی۔ اب ایم آئی ٹی اور پاسچر کے ماہرین نے پھل مکھی یعنی ڈروزوفیلا کے جینوم کو پڑھا اور دوسری جانب پہلے سے موجودانسانی جینوم کے پورے ڈیٹا کو پروسیس کیا۔ انہوں نے ایم ڈی بی جی سافٹ ویئر پرکام کیا تو روایتی طریقوں سے 33 گنا کم وقت خرچ ہوا اور میموری بھی 8 گنا کم خرچ ہوئی۔
اب انہوں نے اپنا تیارکردہ سافٹ ویئرآزمایا جس میں 661406 بیکٹیریا کے جینوم پڑھے گئے جس کا ڈیٹا بہت ہی بڑا تھا۔ اس ٹیکنالوجی سے پورا ڈیٹا 13 منٹ میں سرچ کرلیا گیا جبکہ روایتی طریقوں سے اس میں سات گھنٹے کا وقت لگ سکتا تھا۔ اس میں غلطی کا احتمال ایک فیصد تک سامنے آیا۔
https://www.express.pk/story/2227052/508/
مردوں میں سب سے زیادہ پائے جانے والے کینسر کا سائنسدانوں نے سب سے آسان علاج ڈھونڈ لیا
Sep 20, 2021 | 18:45:PM

سورس: Pixabay (creative commons license)
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) پراسٹیٹ کینسر مردوں میں پائی جانے والی کینسر کی عام اقسام میں سے ایک ہے جس کے باعث سالانہ لاکھوں مرد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تاہم اگر اس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو جان جانے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ اب تک اس کینسر کی اس قسم کا علاج ایک ماہ میں 20تابکاری خوراکوں کے ذریعے کیا جاتا تھا تاہم اب رائل مرسڈین اور انسٹیٹیوٹ آف کینسرریسرچ لندن کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ پراسٹیٹ کینسر کا علاج محض ایک ہفتے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
میل آن لائن کے مطابق تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہ پراسٹیٹ کینسر کے مریضوں کو تھوڑی تھوڑی مقدار میں 20بار ریڈیو تھراپی دینے کی بجائے اگر زیادہ مقدار میں کم بار تھراپی دے دی جائے تو وہ جلد صحت یاب ہو سکتے ہیں اور ایسے میں تابکاری کی مقدار بڑھانا مریض کے لیے محفوظ بھی ہوتا ہے۔ڈاکٹروں نے اس تحقیق میں کئی مریضوں پر تجربہ کیا ہے۔ ان مریضوں کو زیادہ مقدار میں ایک ہفتے کے دوران 5بار ریڈیو تھراپی دی گئی جس سے وہ صحت مند ہو گئے۔
اور اب ماہرین اس سے بھی زیادہ مقدار میں محض 2بار ریڈیو تھراپی دے کر مریض کو صحت مند کرنے کا تجربہ کر رہے ہیں اور یہ تجربہ بھی دومریضوں پر کامیاب ہو چکا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر الیسن ٹری کا کہنا ہے کہ اب تک کے تجربات میں زیادہ مقدار میں دو بار ہی ریڈیو تھراپی دینا بھی محفوظ اور کافی ثابت ہو چکا ہے۔ جن دو مریضوں کو دو بار زیادہ مقدار میں تھراپی دی گئی ان میں بھی اس کے اثرات کم و بیش ان مریضوں کے برابر تھے جنہیں کم مقدار میں مہینے میں 20بار ریڈیو تھراپی دی گئی۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2021/1343173?fbclid=IwAR2njcqMIYMuo55Hz5MPuffGXtnhd5Of13QtsvSN-qrVJnIEM5lfx7X21MU
’شہد کی نرمکھیوں کی جنسی سرگرمیاں بھی عیاش مردوں جیسی ہوتی ہیں‘ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
May 22, 2021 | 19:23:PM

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا شہد کی مکھیوں میں بھی انسانوں کی طرح کی جنسی عادات پائی جاتی ہیںاور کیا ان کے چھتوں میں بھی ’نائٹ کلب‘ ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف کر دیا ہے ۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے شہد کی مکھیوں پر کی جانے والی طویل تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ شہد کی نر مکھیوں کی جنسی زندگی مردوں کے مشابہہ ہوتی ہے۔ نر مکھیاں بعض مخصوص علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں، جس طرح مرد نائٹ کلبوں میں زیادہ جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں خواتین کی طرح دیگر علاقوں کی مادہ مکھیاں بہت کم جاتی ہیں۔
لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تحقیق میں نر اور مادہ مکھیوں کی نقل و حرکت اور جنسی تعامل کا سراغ لگانے کے لیے ریڈار ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ جس میں معلوم ہوا کہ نر مکھیاں بڑے بڑے گروپوں کی شکل میں بعض مخصوص جگہوں پر اکٹھی ہوتی ہیں۔ جن جگہوں پر یہ نر مکھیاں اکٹھی ہوتی ہیں، ریڈار کے ذریعے ’کنواری‘ مادہ مکھیوں کے ان جگہوں کی طرف جانے کا بھی سراغ ملا ہے۔ تحقیق میں ان جگہوں کی طرف دیگر مادہ مکھیوں کو بہت کم جاتے دیکھا گیا ۔
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ووڈگیٹ کا کہنا تھا کہ یہ جگہیں ہوا میں موجود ہوتی ہیں جہاں یہ نر اور ملکہ مکھیاں ملاپ کرتی ہیں۔ ان جگہوں پر عام طور پر 10ہزار تک نر مکھیاں اکٹھی ہوتی ہیں۔ تاحال اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مکھیاں نسل درنسل انہی مخصوص جگہوں پر ہی ملاپ کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں، یا آئندہ نسلیں اپنے لیے مختلف جگہوں کا تعین کرتی ہیں۔ اس کے لیے ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہو گی۔
https://dailypakistan.com.pk/22-May-2021/1292257?fbclid=IwAR1GJGbX-cDDtIy69cwfAQxPyNCxzvudtmcyVTNnHK_w2djbmF9S-hJM_Eg
4سیاحوں کو خلا کی سیر کروا کر شٹل واپس زمین پر پہنچ گئی
20 September, 2021
امریکی ادارے سپیس ایکس کی شٹل چار افراد کوخلا کی سیاحت کروانے کے بعد کامیابی کیساتھ واپس آگئی
فلوریڈا(مانیٹرنگ ڈیسک)واپسی پر شٹل نے فلوریڈا میں لینڈ کیا۔ ان سیاحوں نے تین روز تک زمینی مدار میں چکر لگایا۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی شٹل تھی جس میں پرواز کرنے والے سبھی سیاح عام شہری تھے ۔ اس طرح خلا میں سیاحت کا دروازہ کھل گیا ہے ۔ مشن کے کریو ممبرز نے غروب آفتاب سے قبل سمندر میں پیرا شوٹ کے ذریعے لینڈنگ کی۔ سیاحوں کو سپیس ایکس کے یوٹیوب چینل پر ایک خودکار طریقے سے اترتے ہوئے لائیو دکھایا گیا۔اس مشن کوانسپریشن 4 کا نام دیاگیاتھا۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-09-20/1884260
اسپین میں کیتھولک یونیورسٹی آف ویلنسیا کے ماہرین نے ’انٹیلی جنٹ فیبرک‘ کہلانے والا کپڑا استعمال کرتے ہوئے ایسے ماسک تیار کرلیے ہیں جو صرف چند سیکنڈ میں کورونا وائرس کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
حفاظتی طبّی آلات بنانے والی ہسپانوی کمپنی ’وائسر میڈیکل‘ نے اس فیس ماسک کی تجارتی پیمانے پر تیاری شروع کردی ہے تاہم ابھی تک اس کی قیمت کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔
البتہ، تکنیکی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ماسک نہ صرف کورونا وائرس بلکہ اسی قسم کے دوسرے کئی وائرسوں کے علاوہ اُن سخت جان جراثیم (بیکٹیریا) کا بھی خاتمہ کردیتا ہے جن پر روایتی جراثیم کش دوائیں بہت کم اثر کر پاتی ہیں۔
اس ماسک کی افادیت ’انٹیلی جنٹ فیبرک‘ (ذہین کپڑے) میں پوشیدہ ہے جو ہوا میں موجود جرثوموں اور وائرسوں کو جکڑ کر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ مخصوص حیاتی کیمیائی مادّوں کو اپنی طرف کھینچ کر انہیں کیمیائی تعامل (کیمیکل ری ایکشن) سے ناکارہ بنانے والے کپڑوں کو تکنیکی اصطلاح میں ’ذہین کپڑے‘ کہا جاتا ہے۔
اس نئے ماسک کےلیے ذہین کپڑے کو بطورِ خاص کووِڈ 19 وائرس، انفلوئنزا وائرس، دیگر کئی اقسام کے وائرسوں اور ’اسٹیفائیلوکوکس‘ قسم سے تعلق رکھنے والے سخت جان اور خطرناک جرثوموں کا خاتمہ کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔
ذہین کپڑے والا یہ ماسک اتنا مؤثر ہے کہ جیسے ہی کوئی وائرس یا جرثومہ اس سے چپکتا ہے، یہ صرف چند سیکنڈ میں اس کا غلاف ’پنکچر‘ کرکے اسے ختم کردیتا ہے۔
اس طرح یہ ماسک اپنے فلٹر سے باہر نکلنے والی ہوا کو بھی صاف کرتا ہے اور نہ صرف اپنے پہننے والے کو، بلکہ ارد گرد کے لوگوں کو بھی محفوظ کرتا ہے۔
ان تمام خوبیوں کے باوجود، یہ نیا ’’کورونا شکن‘‘ ماسک صرف ایک بار ہی، چند گھنٹوں تک، استعمال کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد اسے پھینکنا پڑتا ہے۔
ماسک کی آن لائن بکنگ شروع ہوچکی ہے جبکہ پہلے مرحلے میں اسے صرف یورپی ممالک ہی میں فروخت کیا جائے گا۔ اس کے بعد باقی دنیا کی باری آئے گی۔
https://www.express.pk/story/2226869/9812/
سائنسدانوں نے ہماری جلد میں ایک بالکل نئی قسم کا خلیہ(سیل) دریافت کیا ہے جسے جان کر ہم جلد کے کئی امراض کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔
خبر یہ ہے کہ نیا خلیہ جلن پیدا کرنے والے کئی اہم امراض مثلاً ایٹوپک ڈرما ٹائٹس (اے ڈی) اور سوریسِس(پی ایس او) کی وجہ بن رہا ہے ۔ اس خلیے کو سمجھ کر ہم ان امراض کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے اور علاج کی نئی راہیں کھلیں گی۔ واضح رہے کہ اے ڈی اور پی ایس او جیسے جلدی امراض مریضوں کو بہت تنگ کرتے ہیں۔
ان دونوں بیماریوں کی صورت میں ٹی سیل کی ذیلی قسم جلن بڑھانے والے سائٹوکنز خارج کرتی ہے۔ اس طرح پورے عمل کو سمجھ کر ہم جلد کی کئی بیماریوں کا علاج کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اسی لیے سنگاپور کے ماہرین نے بین الاقوامی اشتراک کے ساتھ انسانی جلد میں امنیاتی خلیات کی آراین اے سیکوئنسنگ کی ہے جن میں میکروفیج اور ڈینڈرائٹِک سیل (ڈی سی) بھی شامل تھے۔
ماہرین نے کئی تندرست اور مریض افراد کا جائزہ لیا اور بتایا کہ پی ایس او کے مرض میں ڈینڈرائٹک خلیات کی تعداد بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ اسے جلد میں نئے قسم کا خلیہ قرار دیا اور اسے CD14+ DC3 کا نام دیا گیا ہے۔ اب اسے سمجھ پر پی ایس او مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جلد کی پورے حیاتیاتی عمل کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔
تحقیق میں شامل مرکزی سائنسداں پروفیسر فلورینٹ جنہوکس کے مطابق اٹوپک ڈرماٹائٹس اور سوریسِس جیسے امراض ایک عرصے سے ہمیں پریشان کررہے تھے۔ اب نئے انکشاف سے انہیں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اس نئے خلیے کا مفصل مطالعہ کرنا ابھی ضروری ہے۔
https://www.express.pk/story/2226699/9812/
وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا
19 September, 2021

تحریر : خاور نیازی
وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہر شعبہ زندگی کی رسائی انسانی ہاتھوں سے نکل کر بذریعہ ٹیکنالوجی جدید مشینوں پر منتقل ہوتی جا رہی ہے اسی طرح انسائیکلوپیڈیا بھی اب کتابوں سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چند انچ کی ایک چھوٹی سی سکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔ ذرا غور کریں کہاں موٹی موٹی ضخیم اور بھاری بھر کم کتابوں پر مشتمل معلومات کا ذخیرہ اور کہاں چند انچ کی سکرین جہاں چند سیکنڈ کے اندر اندر دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ آپ کی انکھوں کے سامنے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کی سکرین پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اس جدید دور کا یہ انسائیکلو پیڈیا ''وکی پیڈیا ‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہے
وکی پیڈیا ایک ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا ہے جو انٹر نیٹ سے منسلک ہے۔ یوں کہیں کہ یہ انسائیکلو پیڈیا کی ایک جدید شکل ہے۔ جس پر دنیا بھر کے انٹر نیٹ صارفین باہمی خیالات اور نظریات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔
یہ انسائیکلو پیڈیا جسے '' وکی میڈیا فاؤنڈیشن ‘‘ کے نام سے ایک غیر منعفتی تنظیم نے شروع کیا۔ وکی پیڈیا دراصل'' نیو پیڈیا‘‘ کی ابتدائی شکل ہے ۔
یہ 9 مارچ 2000 میں ایک ویب پورٹل کمپنی ''بومس ‘‘ کی نگرانی میں شروع کی گئی۔ اس کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو جمی ویلز تھے اور ایڈیٹر انچیف لیری سینگر تھے۔ جنہوں نے 15جنوری 2001 کو مل کر وکی پیڈیا کا آغاز کیا۔
انسائیکلو پیڈیا کے بنیادی تصور کی توسیع کے نظرئیے کے تحت اس کا نام ''وکی پیڈیا " تجویز کیا گیا اور یہی حتمی قرار پایا۔ ابتدا میں وکی پیڈیا صرف انگریزی زبان تک محدود تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت اور افادیت کے باعث یہ دوسری زبانوں تک پھیلتا چلا گیا۔ اردو وکی پیڈیا کا اجراء 27جنوری 2004 کو کیا گیا تھا۔یکم ستمبر 2021 سے اردو وکی پیڈیا میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد مضامین شائع کئے گئے جبکہ 11ہزار پانچ سو کے لگ بھگ فائلیں لوڈ کی گئیں۔اب وکی پیڈیا پر 130 سے بھی زائد زبانوں کے 30لاکھ سے زیادہ موضوعات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
وکی پیڈیا ویب پر مبنی ایک کثیرالاستعمال انسائیکلوپیڈیا کا نعم البدل ہے۔جو پوری دنیا میں ہر لمحے کروڑوں انسانوں کے زیر استعمال رہتا ہے۔اس کی خاص اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے مواد کی ہرخاص وعام کو ترمیم کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ انٹر نیٹ کی دنیا کی مقبول ترین اور مشہور ترین ویب سائٹ ہے جس پر ہر لمحے لاکھوں لوگ معلومات شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-19/25232
فرانسیسی اور امریکی ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے ’’بیکٹیریوفیج وائرس‘‘ اور ایک اینٹی بایوٹک کے ملاپ سے سخت جان بیکٹیریا کا خاتمہ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
ریسرچ جرنل ’’ڈِزیز ماڈلز اینڈ مکینزمز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق فی الحال ایک چھوٹی سی مچھلی ’’زیبرا فش‘‘ پر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) کے خلاف جرثوموں (بیکٹیریا) کی بڑھتی ہوئی مزاحمت اس وقت ایک سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے جسے حل کرنے کےلیے دنیا بھر کے طبّی ماہرین سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔
فرانس کی مونت پیلیے یونیورسٹی اور امریکا کی یونیورسٹی آف پٹس برگ کے ماہرین نے ان تجربات کے دوران زیبرا فش کو ’’مائیکوبیکٹیریم ایبسیسس‘‘ (Mycobacterium abscessus) کہلانے والے ایک سخت جان جرثومے سے متاثر کیا۔
یہ جرثومہ انسانی پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے جبکہ اینٹی بایوٹکس بھی اس کے خلاف غیر مؤثر ہوتی جارہی ہیں۔
وہ زیبرا مچھلیاں جنہیں صرف اینٹی بایوٹک دی گئی، اُن میں سے صرف 40 فیصد کو دوا سے افاقہ ہوا۔ اسی طرح جن زیبرا مچھلیوں میں صرف ’’بیکٹیریوفیج وائرس‘‘ داخل کیے گئے، ان میں بھی صحت یاب ہونے کی شرح 40 فیصد کے لگ بھگ رہی۔
البتہ جن زیبرا مچھلیوں کا علاج اینٹی بایوٹک اور بیکٹیریوفیج وائرس سے ایک ساتھ کیا گیا، ان میں یہ صحت یابی کی شرح 70 فیصد تک دیکھی گئی۔
یہ تجربات ابتدائی نوعیت کے ہیں جنہیں اگلے مرحلے میں مزید جانوروں پر کیا جائے گا۔ اگر اس مرحلے پر بھی کامیابی حاصل ہوئی تو پھر یہی تجربات انسانوں پر بھی کیے جائیں گے لیکن محدود پیمانے پر۔
ان محدود انسانی تجربات کی کامیابی پر ان کا دائرہ بڑھایا جائے گا اور کامیابی کے بعد ہی یہ علاج کا یہ طریقہ رائج ہوسکے گا۔
اس پورے عمل میں ممکنہ طور پر مزید سات سے آٹھ سال لگ سکتے ہیں لہٰذا بیکٹیریوفیج وائرس اور اینٹی بایوٹکس کے ملاپ سے بیماریوں کے بہتر علاج کی فوری توقع نہیں کی جاسکتی۔
https://www.express.pk/story/2226282/9812/
سال کے وہ دن جب پیداہونیوالے بچے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں
Sep 18, 2021 | 19:25:PM
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سال کے کون سے دن خوش قسمت ترین ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں پیدا ہونے والے لوگ سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں؟ مائی ہیریٹیج کے تحقیق کاروں نے اپنی نئی تحقیق میں اس حوالے سے حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔
دی سن کے مطابق ماہرین نے اس تحقیق میں ایک ہزار ایسے لوگوں کی تاریخ پیدائش معلوم کی جو مختلف ایوارڈز جیت چکے ہیں اور اپنے شعبوں میں کامیاب ترین لوگ گردانے جاتے ہیں۔ان لوگوں نے جو ایوارڈز جیت رکھے تھے ان میں گرامی، آسکر، ورلڈ کپ، مشعیلین سٹار ایوارڈ، گولڈ گلوبز، پلٹزرپرائز، نوبل پرائز،، دی پام ڈی اور دی بُکر پرائزاور اولمپکس میڈلز شامل تھے۔
جب ان لوگوں کی تاریخ پیدائش کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ 30اپریل سال کا سب سے خوش قسمت ترین دن تھا جس روز پیدا ہونے والے سب سے زیادہ لوگ ان ایوارڈز یافتہ لوگوں میں شامل تھے۔ ان 1000لوگوں میں سے 11افراد 30اپریل کو پیدا ہوئے تھے۔
اس کے بعد بالترتیب جن تاریخوں کو خوش قسمت قرار دیا گیا وہ 27اپریل، 20جنوری، 23مارچ، 26مارچ، 29اپریل، 14ستمبر، 26ستمبر، 12نومبر اور 30دسمبر تھیں۔ مہینوں میں بھی اپریل کا مہینہ سب سے زیادہ خوش قسمت قرار دیا گیا جس میں پیدا ہونے والے لوگوں نے سب سے زیادہ 99ایوارڈز حاصل کیے۔ اس کے بعد بالترتیب نومبر، مارچ، ستمبر، جنوری، اکتوبر، مئی، جولائی، جون، اگست، دسمبر اور فروری میں پیدا ہونے والوں نے زیادہ ایوارڈز حاصل کیے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Sep-2021/1342376?fbclid=IwAR0BdymdAYbaA1Z97K95rxRv6WJYbIgoFLzro0plhusAmui_GC4yuDs0V1o
موٹاپے کی پانچ بڑی وجوہات اور ان کا تدارک
Sep 17, 2021 | 19:24:PM

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) موٹاپے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم اب ماہرین نے اس کی پانچ بڑی وجوہات اور ان کا تدارک لوگوں کو بتا دیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرین نے ذہنی دباﺅ، بے خوابی کی بیماری، غیرمتحرک تھائیرائیڈ، خواتین میں حیض کی بے قاعدگی اور پولی سسٹک اووری سنڈروم کا عارضہ اور بسیار خوری کی بیماری کو موٹاپے کی سب سے بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش اور صحت مند انہ خوراک ہمیں ان تمام نقصان دہ عوامل سے بچا کر موٹاپے سے محفوظ رکھ سکتی ہیں تاہم تھائیرائیڈ کے غیرمتحرک ہونے،حیض کی بے قاعدگی، پولی سسٹک اووری سنڈروم اور بسیارخوری کی بیماری Binge-eating disorder کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ان بیماریوں میں ہمارے جسم میں ہارمونز کی کمی بیشی یا عدم توازن پیدا ہوتا ہے جس سے موٹاپے کے علاوہ دیگر کئی طرح کے عارضے بھی لاحق ہو سکتے ہیں
https://dailypakistan.com.pk/17-Sep-2021/1341914?fbclid=IwAR26GcLOgnPboL9i0yU27rnn0QxLqrydi0roHogdTYz26RPijejlRRRJEZQ
وہ 8 باتیں جو بچوں کے سامنے کبھی نہیں کرنی چاہئیں، ماہرِ نفسیات نے خبردار کردیا
Sep 17, 2021 | 19:20:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ ایسے فقرے بھی ہوتے ہیں جو ماں باپ اپنے بچوں سے بولیں تو ان کی پرورش پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب ایک ماہر نفسیات نے ایسی آٹھ باتیں بتا دی ہیں جو والدین کو ہرگز اپنے بچوں سے نہیں کہنی چاہئیں۔
دی سن کے مطابق اینجلا کیرانجا نامی اس ماہرنفسیات خاتون کا کہنا ہے کہ بچوں کے سامنے اپنے شریک حیات، سابق شریک حیات یا فیملی کے لوگوں کے بارے میں منفی باتیں کبھی مت کریں۔ اس سے بچے میں ایک اندرونی تقسیم پیدا ہو گی اور اس کی شخصیت شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گی، کیونکہ ایسی باتوں کے ذریعے آپ بچے میں نفرت کا زہر بھر رہے ہوتے ہیں جو انجام کا خود اسی کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔
اینجلا کیرانجا کا کہنا تھا کہ ”اپنے بچوں سے بلوغت کے ساتھ آنے والے مسائل کے بارے میں باتیں مت کریں اور انہیں ان مسائل سے مت ڈرائیں۔ انہیں رقم، روزگار، امراض اور دیگر ایسے عوامل سے خوفزدہ مت کریں جن سے انہیں بالغ ہونے کے بعد واسطہ پڑنا ہے۔اس کے علاوہ بچوں کے سامنے اپنے آپ کے بارے میں بھی منفی فقرے مت بولیں۔ بعض والدین اپنے بچوں کے سامنے اپنے آپ کو کوسنے دیتے ہیں کہ ’میں ایک ناکام شخص ہوں، میں کچھ بھی ٹھیک نہیں کر سکتا، میں موٹا ہو، میں بدصورت ہوں، وغیرہ‘ بچے اپنے ماں باپ کو اپنے لیے ایک لیڈر اور رول ماڈل خیال کرتے ہیں، چنانچہ ماں باپ کو ان پر مثبت انداز میں اثرانداز ہونا چاہیے۔“
اینجلا کا کہنا تھاکہ”بعض ماں باپ کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بچے کے سامنے اس کے وجود پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ ”تمہیں تو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے تھا“ یا ” تمہارے پیدا ہونے سے تو ہم بے اولاد ہی اچھے تھے“ وغیرہ جیسے فقرے بولتے ہیں۔ ایسے فقرے بچوں کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس سے ان میں خود اعتمادی کا فقدان ہوتا ہے اور وہ ذاتی شناخت کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔کچھ والدین بچوں کو ہر بات سکھانے کے خواہش مند ہوتے ہیں، وہ انہیں یہ بھی سکھانا چاہتے ہیں کہ انہیں کس چیز کے بارے میں کیسا محسوس کرنا چاہیے۔ یہ روش بچوں کی پرورش کے حوالے سے بہت خطرناک ہوتی ہے۔ بچے کو کب اور کس بات پر مسکرانا ہے، کب اور کس چیز پر دُکھی ہونا ہے، ایسی چیزیں آپ بچے پر چھوڑ دیں اور ان میں اس پر حکم مت چلائیں۔“
اینجلا بتاتی ہے کہ ”اس کے علاوہ اپنے بچے کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنا، دوسرے بچوں سے انہیں کمتر قرار دینا، لڑکے کبھی نہیں روتے اور اچھی لڑکیاں خاموش رہتی ہیں جیسی گھسی پٹی پٹیاں پڑھانا اور بچے کے سامنے اپنی یا دوسروں کی شکل و صورت اور وزن کے حوالے سے منفی باتیں کرنا بھی بچے کی شخصیت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ بچے کی کبھی حد سے زیادہ تعریف بھی نہیں کرنی چاہیے۔ جب آپ اسے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ’تم پرفیکٹ ہو‘ تو آپ ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہوتے ہو جس میں بچے کی بڑھوتری نہیں ہو پاتی اور وہ مزید اچھا کرنے اور مزید سیکھنے کی خو کھو دیتا ہے۔ ان تمام باتوں کے علاوہ بچے کے ساتھ کسی بھی بات پر طویل تکرار نہیں کرنی چاہیے۔ بحث اور عدم اتفاق بچے کے لیے اچھے ہوتے ہیں لیکن بحث کو تکرار کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے اور اس کا نتیجہ تصادم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بچوں کے ساتھ ایک نتیجہ خیز بحث کرنی چاہیے۔“
https://dailypakistan.com.pk/17-Sep-2021/1341909?fbclid=IwAR1ec_9yWNYWv0QTDa_jCJGbrT4dr2UQS1JwPNCN9y2Nu4NpzyNzwV8rEEs
ناقابل یقین،40مختلف پھل اگانے والا ایک درخت
17 September, 2021
کیا آپ ایک ہی درخت میں مختلف قسم کے اپنے پسندیدہ پھل اگاسکتے ہیں لیکن ایک شخص نے ایسا کردکھایا ہے
نیویارک (نیٹ نیوز)اس کا سہرا سیرا کیوز یونیورسٹی کے پروفیسر وان ایکن کو جاتا ہے جنہوں نے دو ہزار آٹھ میں نیویارک میں قدیم درختوں کا ایک باغ خریدا اور قدیم نسل کے پھلدار درختوں کو بچانے کیلئے مختلف اقسام کو ایک ہی درخت پر پیوند کرنا شروع کیا ، پانچ سال بعد ان کی محنت رنگ لائی، جس کے نتیجے میں ایک ایسا درخت تیار ہوگیا جو سال کے مختلف حصوں میں مختلف قسم کے پھل پیدا کرتا ہے ۔اس درخت پر اخروٹ، بادام، کاجو، پستہ، آلو بخارا، خوبانی، آڑو اور چیری سمیت چالیس قسم کے پھل لگتے ہیں۔پروفیسر سیم گرافٹنگ کے تحت سردیوں کے دوران مرکزی درخت کو چھیل کر اس درخت کی شاخوں کو دیگر درختوں کی ٹہنیوں سے پیوست کر دیتے ہیں جو کچھ عرصے بعد یکجان ہوجاتے ہیں۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-17/1882595
انسان ہی نہیں بلکہ بلیوں کی شخصیت بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اس بارے میں نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بلیاں سات مختلف طرح کی شخصیات اور طرز عمل رکھتی ہیں۔
اس بات کا انکشاف بلیوں کے کردار پر ہونے والی ایک تحقیق کے بعد ہوا ہے۔
فن لینڈ کی ہیلینسکی یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق میں بلیوں کے طرز عمل پر جامع تجزیہ کیا گیا، جس میں 26 مختلف نسلوں کی 4 ہزار 300 سے زائد بلیوں کی عادات و اطوار سے متعلق معلومات اور اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔
اس تحقیق کی شریک مصنفہ سیلا میکولا کے مطابق، بلی دنیا کا سب سے عام پالتو جانور ہے، لیکن کتوں کو پسند کرنے والے انہیں کتوں کے مقابلے میں کم حساس سمجھتے ہیں۔
تاہم تحقیق کاروں (ریسرچرز) کا کہنا ہے کہ کتوں کے مقابلے میں بلیوں کے طرز عمل اور شخصیت سے متعلق اب تک ہم بہت کم جانتے ہیں جبکہ انہیں زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔
’’ہمیں بلیوں کے پریشان کن طرز عمل کو مزید جاننے کی ضرورت ہے،‘‘ سیلا میکولا نے کہا۔ بلیوں کا سب سے عام مسئلہ ان میں پیدا ہوجانے والا جارحانہ مزاج ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بلیوں میں شخصیت اور کردار کے حوالے سے 7 خصوصیات میں سرگرمی اور خوش مزاجی، خوف زدہ ہونا، انسانوں پر حملہ کرنا، انسانوں سے ملنساری، دوسری بلیوں کے ساتھ گھل مل جانا، رہنے کی جگہ پر گندگی پھیلانا اور بہت زیادہ بناؤ سنگھار کرنا شامل ہیں۔
اس مطالعے کی سربراہ پروفیسر ہینیس لوہی کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ خوف زدہ رہنے والی بلیوں میں روسی بلیاں جبکہ سب سے کم خوف زدہ بلیوں میں ایبی سینیئن (Abyssinian) نسل کی بلیاں شامل ہے۔
اسی طرح بینجل بلی کو سب سے زیادہ متحرک جبکہ فارسی (پرشین) اور ایگزوٹک نسل والی بلیوں کو سب سے سست پایا گیا۔
سیامی اور بولونیائی (بولونیز) بلیاں سب سے زیادہ بناؤ سنگھار کی شوقین ہوتی ہیں جبکہ دنیا میں بلیوں کی سب سے نایاب نسل ’’ٹرکش‘‘ انسانوں پر حملہ کرنے میں سب سے نمایاں ہونے کے علاوہ دیگر بلیوں سے میل جول رکھنا بھی پسند نہیں کرتی۔
https://www.express.pk/story/2225845/509/
برطانوی ماہرین نے چاند اور مریخ پر انسانی بستیاں تعمیر کرنے کےلیے ’’ایسٹروکریٹ‘‘ (AstroCrete) کے نام سے ایسا مضبوط اور پائیدار کنکریٹ تیار کرلیا ہے جس میں خلائی راکھ کے علاوہ انسانی خون، پسینہ اور آنسو بھی شامل ہیں۔
یہ ایجاد یونیورسٹی آف مانچسٹر، برطانیہ کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’مٹیریلز ٹوڈے بایو‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اس کنکریٹ کی تیاری میں ایسی مٹی استعمال کی گئی جسے مصنوعی طور پر بالکل مریخی مٹی جیسا بنایا گیا
اس مٹی کو کنکریٹ کی شکل دینے کےلیے اس میں ’’البومین‘‘ نامی پروٹین ملائی گئی جو انسانی خون میں بکثرت پائی جاتی ہے جبکہ کنکریٹ کو مضبوط اور پائیدار بنانے کی غرض سے اس میں یوریا کا اضافہ بھی کیا گیا جو انسانی پیشاب، پسینے اور آنسوؤں میں وافر پایا جانے والا مرکب ہے۔
مختصر اور محدود پیمانے پر تجربات سے معلوم ہوا کہ صرف خون (البومین) کی ملاوٹ والے کنکریٹ کی مضبوطی ویسی ہی تھی جیسی عام کنکریٹ کی ہوتی ہے۔
البتہ، جب اس میں یوریا کی معمولی مقدار شامل کی گئی تو کنکریٹ کی مضبوطی میں 300 فیصد اضافہ ہوگیا اور وہ کئی گنا زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل ہوگئی۔
اس کنکریٹ کا مقصد مستقبل میں مریخ اور چاند پر پہلے سے دستیاب وسائل کے استعمال سے انسانی بستیاں تعمیر کرنا ہے جو نہ صرف پائیدار ہوں گی بلکہ ان پر اٹھنے والے اخراجات بھی قابلِ برداشت حد میں ہوں گے۔
واضح رہے کہ اگر ہمیں صرف ایک اینٹ بھی زمین سے مریخ تک پہنچانی ہو تو اس کا خرچہ کم از کم بیس لاکھ ڈالر (تقریباً 32 کروڑ پاکستانی روپے) ہوگا۔
اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسی صورت میں مریخ پر انسانی رہائش کےلیے لاکھوں کروڑوں اینٹوں والی کوئی عمارت تعمیر کرنا کس قدر مہنگا اور ناقابلِ برداشت منصوبہ ہوگا۔
یہ اور اس جیسی کئی دوسری وجوہ کی بناء پر زیادہ مناسب یہی خیال کیا جاتا ہے کہ مریخ اور چاند پر پہلے سے موجود قدرتی وسائل استعمال کرتے ہوئے وہاں انسانی بستیاں بسائی جائیں۔
’’ایسٹروکریٹ‘‘ بھی ایسی ہی ایک ایجاد ہے جو مریخ اور چاند پر انسانی رہائش کےلیے ’’کم خرچ اور پائیدار عمارتوں‘‘ کا خواب حقیقت بنا سکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2225450/508/
آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دماغ کی ایک خطرناک بیماری ’’الزائیمرز‘‘ کے اسباب دراصل جگر سے شروع ہوتے ہیں اور وہیں سے دماغ تک پہنچتے ہیں۔
الزائیمرز بیماری میں دماغ کے خلیے تیزی سے مرتے ہیں اور دماغ بھی بتدریج سکڑنے لگتا ہے۔ آخرکار یہ عمل مریض کی موت پر جا کر ہی رکتا ہے۔
اب تک الزائیمرز کے بارے میں ہم صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کی وجہ دماغ میں بننے والے پروٹین ’’ایمیلائیڈز‘‘ (Amyloids) ہوتے ہیں جو دماغی خلیوں کو آہستہ آہستہ ختم کر ڈالتے ہیں۔
البتہ یہی پروٹین ہمارے جگر میں بھی بنتے ہیں لہذا ایک متبادل مفروضہ یہ بھی تھا کہ شاید انسانی جگر میں بننے والے ایمیلائیڈز کسی نہ کسی طرح ہمارے دماغ تک پہنچتے ہیں جہاں یہ الزائیمرز بیماری کی وجہ بن جاتے ہیں۔
اس مفروضے کو ’’ایمیلائیڈز ہائپوتھیسس‘‘ بھی کہا جاتا ہے تاہم اس بارے میں اب تک ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
چوہوں پر کی گئی ایک نئی تحقیق میں بینٹلی، آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے چوہوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جس کے جگر میں انسانی ایمیلائیڈز بن رہے تھے جنہوں نے دماغ تک پہنچ کر وہاں موجود خلیوں کے مرنے کی رفتار میں اضافہ کردیا جس سے ان کی یادداشت بھی تیزی سے ختم ہونے لگی۔
یہ وہی مخصوص علامات ہیں جو الزائیمرز بیماری کی ابتداء سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس طرح کم از کم چوہوں کی حد تک اتنا ضرور ثابت ہوگیا ہے کہ الزائیمرز کی ابتداء میں دماغ سے زیادہ جگر کا کردار ہوتا ہے۔
ماہرین کی یہی ٹیم اب انسانی مشاہدات کی تیاری کررہی ہے تاکہ انسانوں کےلیے بھی ایمیلائیڈز مفروضے کی حتمی طور پر تصدیق کی جاسکے۔
اگر یہ بات انسانوں میں بھی درست ثابت ہوئی الزائیمرز کی روک تھام اور ممکنہ علاج میں جگر پر بھی توجہ دی جاسکے گی۔
نوٹ: یہ تحقیق آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس بائیالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2226002/9812/
اس وقت دنیا بھر میں لگ بھگ چارارب افراد ایسے ہیں جنہیں مختلف امراض کی تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ اور ایکس رے کی سہولت میسر نہیں۔ اس کا بہترین حل ییل یونیورسٹی کے سائنسداں نے دنیا کے سب سے چھوٹے، کم خرچ اور مؤثر ترین الٹراساؤنڈ نظام کی صورت میں پیش کیا ہے۔
جینیات داں پروفیسر جوناتھن روتھبرگ اور ان کی ٹیم نے بٹرفلائی آئی کیو نامی ایک آلہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایک عرصے تک تحقیق و تخلیقی عمل انجام دینے کے بعد یہ اہم ایجاد کی ہے۔ اس میں دسیوں لاکھوں روپے کے بھاری بھرکم الٹراساؤنڈ نظام کی بجائے اسے ایک دستی آلے میں سمویا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں خردبرقیات(مائیکروالیکٹرانکس) کو آزمایا گیا ہے اور بڑے سرکٹ کو بہت چھوٹا کرکے ایک ایسے آلے میں سمویا گیا ہے جو ہاتھ میں سما سکتا ہے۔
یہ آلہ اس وقت 150 ایسے ممالک کو فروخت کیا جارہا ہے جو اس کی قیمت ادا کرسکتے ہیں جبکہ بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے 53 غریب ترین ممالک کو بلاقیمت فراہم کیا جائے گا۔ پروفیسر جوناتھن کے مطابق اگرچہ یہ روایتی الٹراساؤنڈ نظام کی جگہ تو نہیں لے سکتا لیکن عین ممکن ہے کہ اس سے الٹراساؤنڈ عکس بندی عام ہوگی اور اس سے فوائد حاصل ہوں گے۔

بٹرفلائی آئی کیو کی بنیاد پر اس میں مزید اختراعات کی گئی ہیں ۔ تھوڑی سی تبدیلی کے بعد اسے جانوروں کے امراض میں استعمال کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بٹرفلائی ایکسیس اور بٹرفلائی اینٹرپرائز سسٹم کی بدولت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ایک چھوٹے سے دیہات میں طبی تشخیص کا پورا نظام مرتب کیا جاسکتا ہے۔
اس ایجاد کو ٹیلی میڈیسن کے لیے بھی کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے۔ بعض ہسپتالوں کی ایمبولینس میں اسے ایمرجنسی کے طور پر بھی کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے۔ اسی آلے کو ایک خلانورد نے خلائی اسٹیشن میں دل کی کیفیت ناپنے کے لیے بھی آزمایا ہے۔
اس طرح بٹرفلائی آئی کیو کو کئی اہم طبی امور کے لئے کامیابی سے آزمایا جارہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2225637/9812/
جدید بلڈ ٹیسٹ،علامات سے قبل مرض کی تشخیص ممکن
16 September, 2021
امریکی سائنسدانوں نے ایسا بلڈ ٹیسٹ تیار کرلیا ہے جس میں علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی کینسر کی تشخیص کی جاسکے گی
واشنگٹن(نیٹ نیوز)یعنی بلڈ ٹیسٹ سے بھی کینسر کی تشخیص ممکن ہوگی۔ہولی گریل طریقہ ڈی این اے میں موجود نہایت چھوٹے کیمیکل سے پتا لگاتا ہے کہ کینسر کے جینز متحرک ہیں یا نہیں، نئی ٹیکنالوجی انسانی جسم میں ایک ہی وقت میں 50 اقسام کے کینسر کی تشخیص کرسکتی ہے ۔برطانوی این ایچ ایس میں ہولی گریل بلڈ ٹیسٹ کا تجربہ ایک لاکھ چالیس ہزار افراد پر شروع کردیا گیا ہے جسے کینسر کے علاج میں ایک نیا انقلاب قرار دیا جارہا ہے ۔تاہم یہ ٹیسٹ کینسروں کا پتہ نہیں لگا سکے گا اور این ایچ ایس سکریننگ پروگراموں کی جگہ نہیں لے گا۔ ٹیسٹ خلیوں کے ذریعے خون میں جاری ڈی این اے کی اسکریننگ کے ذریعے کام کرے گا تاکہ غیر معمولی کیمیائی تبدیلیوں کا پتہ لگا کر ٹیومر کی نشاندہی کی جا سکے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-16/1882244
گردے ناکارہ ہونے کی صورت میں مریضوں کو ہفتےمیں کم ازکم ایک مرتبہ تکلیف دہ اور پیچیدہ ڈائلیسس کرانا پڑتا ہے۔ لیکن اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو (یوسی ایس ایف) کے سائنسدانوں نے مسلسل دس سال کی محنت سے ایک مصنوعی حیاتیاتی گردہ تیار کیا ہے جو آپ کی مٹھی میں سما سکتا ہے۔ جسم اسےقبول کرتا ہے اور اضافی دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔
ہم جانتے ہیں کہ گردے بدن کی چھلنی ہوتے ہیں اور جسم کے زہریلے مائعات فلٹر کرتے رہتے ہیں۔ یہ خون کو صاف کرتے ہوئے، بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتے ہیں اور جسمانی مائعات میں الیکٹرولائٹس کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
گردوں کے شدید مرض میں اکثر گردے کا بالکل درست عطیہ نہیں مل پاتا اور یوں مریض کو ڈائلیسس کے ایک نہ ختم ہونے والے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ تاہم گردے کی پیوندکاری کے بعد بھی جسمانی امنیاتی نظام کی جانب سے گردے کو مسترد کرنے کو زائل کرنے والے ادویہ استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یہ نیا قدرتی لیکن مصنوعی گردہ دس سال کی محنت سے تیارکیا گیا ہے۔ کڈنی پروجیکٹ کے تحت یہ اہم ایجاد ممکن ہوئی ہے۔ اسے مریض کے جسم میں پیوند کرکے حقیقی کام انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کوئی دوا، خون پتلا کرنے والے محلون اور دیگراشیا کی ضرورت نہیں رہتیں۔
چوکور بیٹری نما گردہ دو اہم حصوں پر مشتمل ہے۔ سب سے اہم ہیموفلٹر ہے جو سلیکان سیمی کنڈکٹر چادر سے بنا ہےجو خون سے مضر مادے فلٹر کرتا ہے۔ دوسری جانب ایک حیاتیاتی (بایو) ری ایکٹر ہے جس میں گردے کے ایسے زندہ خلیات موجود ہیں جنہیں جینیاتی انجینئرنگ سے تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ خلیات پانی کی مقدار، الیکٹرولائٹ، اور دیگر افعال کو منظم رکھتےہیں۔
سب سے پہلے گردے کے الگ الگ حصوں کو کئی انداز سے جانچا گیا۔ اب مکمل نظام کو کئی طرح کے ٹیسٹ سے گزارا گیا ہے۔ گردے کو خون کی دو اہم شریانوں سے جوڑا جاتا ہے اور اس کی تیسری نلکی پیشاب کی نالی سے جوڑی جاتی ہے۔
یہ آلہ اترتے چڑھتے بلڈ پریشر میں بالکل درست کام کرتا ہے اور اس کا فالتو مائع پیشاب کی صورت میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ تاہم مزید طبی آزمائش کے لیے اس میں کئی تبدیلیاں لانا ہوں گی اور ان پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے بعد ہی انسانی آزمائش کا کوئی مرحلہ سامنے آسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2225239/9812/
برطانیہ میں اس وقت کینسرکی 50 سے زائد اقسام کی ممکنہ شناخت کرنے والے خون کے ٹیسٹ کی دنیا میں سب سے بڑی آزمائش شروع ہوگئی ہے جس میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد حصہ لیں گے۔ یہ آزمائش نیشنل ہیلتھ سروس ( این ایچ ایس) کی جانب سے کی جارہی ہے۔
اس طرح ظاہری علامات سے پہلے ہی سرطان کی شناخت میں مدد ملے گی اور انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوگا۔ اس ٹیسٹ کا نام گیلیری بلڈ ٹیسٹ ہے جو گریل انکارپوریٹڈ کمپنی کا وضع کردہ ایک مؤثر ٹیسٹ بھی ہے۔ خون کا ٹیسٹ مریض کے ڈی این اے کا جائزہ لیتا ہے۔ ڈی این اے میں ممکنہ خرابی کی بنا پر کینسر کی شناخت یا پھر پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔ قبل ازوقت شناخت سے ڈرامائی انداز میں علاج آسان ہوجاتا ہے اور کئی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
کنگزکالج لندن سے وابستہ کینسر سے بچاؤ کے ماہر، پیٹر سیسینی اس پروگرام کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ افراد پر ٹیسٹ کے بعد اس کی بھرپور افادیت سامنے آئے گی۔ ڈیڑھ لاکھ افراد میں شامل نصف افراد کو گیلیری ٹیسٹ سے گزارا جائے گا۔
’ برطانیہ میں پھیپھڑوں کا کینسر عام ہے، اس کے ساتھ معدے، پروسٹیٹ، اور سینے کے سرطان مجموعی طور پر 45 فیصد اموات کی وجہ ہیں۔ توقع ہے کہ خون کا صرف ایک ٹیسٹ ہی ان سب سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہوگا،‘ پروفیسر پیٹر نے کہا۔
دوسری جانب گیلیری بلڈ ٹیسٹ امریکہ میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2224820/9812/
پوری دنیا میں بیٹریوں کی افادیت، صلاحیت اور بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کےلیے غیرمعمولی کوششیں جاری ہیں۔ اس ضمن میں بالکل نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ڈیزائن پیش کیا گیا ہے جس میں لیتھیم سلفر سے بنی بیٹری میں شکر (گلوکوز) شامل کی گئی تو اس کی بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں پانچ گنا تک اضافہ دیکھا گیا۔
دنیا بھر کے کیمیاداں غیرمعمولی تحقیق کررہے ہیں اور اب میلبورن کی موناش یونیورسٹی میں بیٹریوں کا نیا ڈیزائن بنایا گیا ہے جو 1000 مرتبہ ری چارج کرنے پر بھی اپنی افادیت برقرار رکھتی ہے۔ سائنسدانوں نے ایک جڑنے والا (بائنڈنگ ایجنٹ) بنایا ہے جو سلفرذرات کے درمیان اضافی جگہ بناتا ہے اور وہ پھیلتے ہیں۔ اس طرح چارجنگ کے دوران ذرات کو پھیلنے کی جگہ مل جاتی ہے اور یوں تجرباتی بیٹری 200 سائیکلز تک چلتی رہتی ہے۔
واضح رہے کہ ایک بیٹری کی مکمل چارجنگ اور مکمل خالی ہونے کے چکر کو ایک بیٹری سائیکل کہا جاتا ہے۔
لیکن مشکل یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ لیتھیم سے بنا منفی الیکٹروڈ (برقیرہ) سلفر سے متاثر ہوکر خراب ہوتا رہتا ہے۔ اسے روکنے کےلیے شکر ملے بعض محلول آزمائے گئے۔ ان تجربات سے الیکٹروڈ کی خرابی رک گئی اور مسئلہ بڑی حد تک ختم ہوگیا۔
تاہم منفی الیکٹروڈ پر شکرکے سالمات کو ایک پیچیدہ جالے کی صورت میں بناکر آزمایا گیا تو 700 ایم اے ایچ فی گرام کی بیٹری نے کامیابی سے 1000 چکر مکمل کرلیے، ہر دفعہ چارج اچھی طرح برقرار رہا اور بیٹری کی زندگی میں بھی اضافہ ہوا۔
اس عمل کےلیے مہنگے، ماحول دشمن اور زہریلے کیمیکل کے بجائے شکریات کو استعمال کیا گیا ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
موناش یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ایسی بیٹریوں کو بہ آسانی اسمارٹ فون اور الیکٹرک سواریوں میں لگایا جاسکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج استعمال ہونے والی لیتھیم آئن بیٹریوں سے یہ دو سے پانچ گنا زائد چارج رکھتی ہیں اور بیٹریوں کو بھی دیرپا اور پائیدار بنایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2224395/508/
چین ن دنیا کا پہلا ایسا تجارتی ایٹمی بجلی گھر تیار کرلیا ہے جس میں نیوکلیائی ایندھن کے طور پر یورینیم یا پلوٹونیم کی جگہ تھوریئم استعمال کی جاتی ہے۔
یہ ایٹمی بجلی گھر اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کیونکہ اسے ٹھنڈا رکھنے کےلیے روایتی ایٹمی بجلی گھروں کے برعکس، پگھلا ہوا نمک استعمال ہوتا ہے۔
’’مولٹن سالٹ ری ایکٹر‘‘ کہلانے والی یہ ٹیکنالوجی آج سے تقریباً 60 سال پہلے امریکا میں ایجاد کی گئی تھی لیکن 1969 میں اس پر کام ترک کردیا گیا تھا۔
اس ٹیکنالوجی میں عام نمک کو بجلی گھر کے مرکزی حصے (core) کے اندر، مائع حالت میں، نیوکلیائی ایندھن کے ساتھ حل کیا جاتا ہے جو نہ صرف ری ایکٹر کا درجہ حرارت قابو میں رکھتا ہے بلکہ بجلی بنانے میں نیوکلیائی ایندھن کی مدد بھی کرتا ہے۔
چین نے اسی ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دیتے ہوئے ایک ایسا تجارتی ایٹمی بجلی گھر تیار کرلیا ہے جس کا ایندھن ’’تھوریئم‘‘ دھات ہے۔
حفاظتی نقطہ نگاہ سے یہ بجلی گھر شمالی چین میں صحرائے گوبی کے ایک ایسے ویران علاقے میں بنایا گیا ہے جو انسانی آبادی سے بہت دور ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم اور پلوٹونیم ایندھن والے ایٹمی بجلی گھروں کے مقابلے میں تھوریئم ایندھن والے ایٹمی بجلی گھر زیادہ بہتر ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ ’’مولٹن سالٹ‘‘ ٹیکنالوجی سے انہیں اور بھی زیادہ محفوظ اور ماحول دوست بنایا جاسکتا ہے۔
اگرچہ تھوریئم ایندھن والے ایٹمی بجلی گھروں (تھوریئم نیوکلیئر ری ایکٹرز) کے معاملے میں بھی خطرات و خدشات موجود ہیں لیکن وہ روایتی (یورینیم/ پلوٹونیم ایندھن والے) ایٹمی بجلی گھروں کے مقابلے میں خاصے کم ہیں۔
دنیا کے اس پہلے تھوریئم نیوکلیئر ری ایکٹر سے نہ صرف چین بلکہ عالمی ماہرین کو بھی بہت امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اگر یہ ری ایکٹر کامیاب رہا تو ایٹمی طاقت کے پرامن اور ماحول دوست استعمال کا ایک نیا راستہ ہمارے سامنے ہوگا۔
چینی ذرائع کے مطابق، صحرائے گوبی میں بنایا گیا پہلا تھوریئم نیوکلیئر ری ایکٹر اسی مہینے میں کام شروع کر دے گا۔ البتہ اس حوالے سے کسی خاص دن اور تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2224659/508/
کیا پینگوئن خلائی مخلوق ہے؟ فضلے میں ایسا کیمیکل مل گیا کہ محققین نے سر جوڑ لیے
Sep 13, 2021 | 18:52:PM

سورس: Pixabay
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) پینگوئن ایک معروف پرندہ ہے جس کے فضلے میں اب ماہرین نے ایک ایسا کیمیکل دریافت کر لیا ہے کہ اس پرندے کے خلائی مخلوق ہونے کا شبہ ظاہر کر دیا ہے۔ڈیلی سٹار کے مطابق ماہرین نے اپنی ایک تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ پینگوئن کے فضلے میں ایک ایسا کیمیکل بھی پایا جاتا ہے جو دراصل زہرہ نامی سیارے پر پایا جاتا ہے۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ پینگوئن ممکنہ طور پر زمین کا پرندہ نہیں ہے بلکہ خلائی پرندہ ہے جو ستارے زہرہ سے کسی طرح زمین پر آیا۔
رپورٹ کے مطابق پینگوئن کے فضلے میں پایا جانے والا یہ کیمیکل فاسفین ہے جس کے متعلق ماہرین حیران ہے کہ یہ زمین پر کیسے آیا کیونکہ کیمیکل ہماری زمین سے 3کروڑ 80لاکھ میل کے فاصلے پر واقع ستارے زہرہ پر پایا جاتا ہے۔ زہرہ پر یہ کیمیکل ایک گیس کی صورت میں موجود ہے جس کی تیز بو ہوتی ہے۔امپیرئیل کالج لندن کے ڈاکٹر ڈیو کلیمنٹس کا کہنا ہے کہ ”پینگوئن کے فضلے میں فاسفین کی موجودگی ایک حقیقت ہے تاہم تاحال ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ پینگوئن کے اندر یہ کیمیکل پیدا کیسے ہوتا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Sep-2021/1340156?fbclid=IwAR2d5tKo5-8OjkQegOYqOOu0otqN1KHg5nlXXImj-cPF9SfpLQ06Ng6-jlU
دنیا بھر میں بالخصوص کارسازی کے شعبے میں مائیکروچپ کی کمی ایک بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس میں کووڈ وبا، عالمی تجارتی تناؤ اور ممالک کی بدلتی ہوئی ترجیحات بھی شامل ہیں۔
لگتا یوں ہے کہ ایک ساتھ کئی عناصرنے مائیکروچپ کے بحران کو جنم دیا ہے۔ پہلے کووڈ کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود رہے اور کاروں کی عالمی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس سے بڑی کمپنیوں نے پیداوارنصف کردی۔ اسی لحاظ سے متعلقہ چپ ساز کمپنیوں نے اپنی پیداوار کم کردی تاہم کئی ممالک میں حالات بہتر ہونے کے بعد گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا تو اب چپ کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔
واضح رہے کہ کاروں، بسوں اور دیگر سواریوں کے برقی نظام، سینسر اور دیگراہم امور کے لئے برقی چِپ لگائی جاتی ہیں۔ مائیکروچپ ہی کی بدولت جدید کاروں کے بریک کام کرتے ہیں اور اسٹیئرنگ گھومتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آب اوڈی، بی ایم ڈبلیو سمیت کئی کارساز کمپنیوں میں مائیکروچپ کی شدید کمی پیدا ہوچکی ہے۔
بحران کی ایک اور وجہ اشیا کی ترجیحی خریداری بھی ہے یعنی کووڈ لاک ڈاؤن میں لیپ ٹاپ، کیمروں، ٹیبلٹ کی فروخت کئی گنا بڑھی۔ والدین کو بچوں آن لائن کلاسوں کے لیے لیپ ٹاپ درکارتھے تو گھروالوں کو دوردراز عزیزوں سے بات کرنے کے لیے ٹیبلٹ خریدنا پڑے۔ یوں چپ ساز اداروں نے آٹو انڈسٹری پر توجہ کم کرکے گھریلو مصنوعات سازی میں منتقل ہوگئی۔ یہاں تک کہ پاکستان میں بھی لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن (ایس آئی اے) کے مطابق جنوری 2021 تک مائیکروچپ سازی کی صنعت 40 ارب ڈالر تک جاپہنچی کیونکہ ان چپس چھوٹے آلات میں لگائی جارہی ہیں۔
اب یہ حال ہے کہ ایک بڑٰی کارساز کمپنی نے تائیوان کی چپ ساز کمپنی سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کی پیداوار بڑھائیں ورنہ ان کی کمپنی دم توڑدے گی۔ واضح رہے کہ دنیا کی 80 فیصد مائیکروچپ تائیوانی کمپنیاں بناتی ہیں اور اس میں پانی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔ تائیوانی چپ ساز کمپنیوں کی تنظیم (ٹی ایس ایم سی) کے مطابق ملک کے درجن چپ ساز ادارے ایک روز میں ڈیڑھ لاکھ ٹن پانی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن تائیوان میں ایک عرصے خشک سالی کا راج رہا جس سے چپ سازی پر بھی فرق پڑا۔
تاہم کارسازی کے سے ہٹ کر اس وقت مائیکروچپ کا بحران ہمہ وقت بڑھ رہا ہے۔ اس ضمن میں پہلی خبریہ ہے کہ کل ریلیز ہونے والے آئی فون 13 کی قیمت کچھ زیادہ ہوسکتی ہے اور ایپل کمپنی نے اس کا ذمے دار بھی چپ کے بحران کو ٹھہرایا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس دور کو ’مائیکروچپ کا عالمی قحط‘ قرار دے رہے ہیں جو اگلے برس مزید شدید ہوجائے گا اور یوں 2023 کے آخرتک ہی حل ہوسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2224002/508/
امریکا میں تیار کیا گیا، دنیا کا سب سے طاقتور مقناطیس ’’سینٹرل سولینوئیڈ‘‘ ایک طویل سفر کے بعد بالآخر فرانس میں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گیا ہے جہاں اسے عالمی اشتراک سے بننے والے فیوژن ری ایکٹر یعنی ’’آئی ٹی ای آر‘‘ میں نصب کیا جائے گا۔
سینٹرل سولینوئیڈ کو امریکی ادارے ’’جنرل اٹامکس‘‘ نے کئی سال کی محنت سے تیار کیا ہے۔ یہ اتنا طاقتور ہے کہ ایک لاکھ ٹن وزنی، طیارہ بردار بحری جہاز تک کو اپنی مقناطیسی طاقت سے کھینچ سکتا ہے۔
یہ مقناطیس 14 فٹ چوڑا اور 60 فٹ اونچا ہے جو سپر موصل (سپر کنڈکٹر) مادّے استعمال کرتے ہوئے اتنی شدید مقناطیسی قوت پیدا کرسکتا ہے جو مبینہ طور پر زمینی مقناطیسی میدان کے مقابلے میں 28000 گنا زیادہ ہے۔
فرانس میں پہنچ جانے کے بعد اسے ’’انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیریمنٹل ری ایکٹر‘‘ (ITER) کی سائٹ تک پہنچایا جائے گا، جہاں یہ عملِ گداخت (فیوژن ری ایکشن) سے تجارتی پیمانے پر بجلی بنانے کے اوّلین عالمی منصوبے کا حصہ بن جائے گا۔
واضح رہے کہ فیوژن ری ایکٹر، جسے ’’تھرمو نیوکلیئر ری ایکٹر‘‘ بھی کہتے ہیں، عین اسی اصول پر کام کرتا ہے کہ جس پر نہ صرف سورج بلکہ کائنات کے تمام ستارے اربوں سال سے زبردست توانائی پیدا کررہے ہیں۔
اس عمل میں ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم بناتے ہیں اور نتیجتاً زبردست توانائی خارج ہوتی ہے۔
پچھلے 70 سال سے جاری کوششوں کے باوجود، زمین پر اب تک ایسا کوئی ایٹمی ری ایکٹر (بجلی گھر) نہیں بنایا جاسکا جس میں فیوژن کا عمل قابو میں رکھتے ہوئے، تجارتی پیمانے پر توانائی پیدا کی جاسکے۔
آئی ٹی ای آر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو سابق سوویت یونین کے ’’ٹوکامیک ری ایکٹر‘‘ کا منطقی تسلسل بھی ہے۔
اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو امید ہے کہ آئی ٹی ای آر سے توانائی کی اوّلین تجرباتی پیداوار 2026 تک شروع ہوجائے گی۔ تاہم اسے مکمل طور پر رُو بہ عمل ہونے میں مزید دس سال لگ جائیں گے اور یہ 2036 تک ہی بھرپور پیداوار دینے کے قابل ہوسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2224290/508/
دنیا بھر میں لوگ مصنوعی دانت (ڈینٹل امپلانٹ) لگواتے ہیں لیکن ان کی عمر ایک حد تک ہی ہوتی اور دوسری جانب وہ مسوڑھوں کی مجموعی صحت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اب اس کا حال جامعہ پنسلوانیہ کے ماہرین نے ایک ایسے مصنوعی دانت کی صورت میں پیش کیا ہے جو بجلی بناتا ہے جس سے میل نہیں جمتا اور مسوڑھے بھی تندرست رہتے ہیں۔
صرف امریکہ میں ہی 30 لاکھ لوگ ایسے ہیں جو مصنوعی دانت کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں۔ اب جامعہ پنسلوانیہ میں اسکول آف ڈینٹل میڈیسن سے وابستہ پروفیسر گیلسو ہوانگ اور ان کے ساتھیوں نے مصنوعی دانت بنایا ہے جو برش کرنے اور چبانے کے دوران خود اپنی بجلی بناتا ہے۔ اس بجلی سے دو کام لیتا ہے یعنی دانت پرمیل کچیل کی تہہ نہیں جمتی اور دوم اطراف کے مسوڑھے تندرست رہتے ہیں۔
اپنی بجلی کی بدولت مصنوعی دانت معمولی سی روشنی خارج کرتا رہتا ہے جو مسوڑھوں کی افزائش کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کی مصنوعی دانت کتنے بھی اچھے ہوں اکثر پانچ سے دس برس میں گرجاتےہیں۔ یا پھر وہ مسوڑھوں میں جلن اور بیماریوں کی وجہ بھی بنتے ہیں۔
مصنوعی دانت کا بیرونی خول خاص نینو ذرات سے بنا ہے جہاں بیکٹیریا جمع نہیں ہوسکتے دوم اس میں روشنی خارج کرنے والا نظام ہے جو فوٹوتھراپی کی طرز پر کام کرتا ہے۔ اس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چبانے اور مسواک کرتے ہوئے دانت بجلی بناتا رہتا ہے۔ اس کی تفصیلات اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریئلز اینڈ انٹرفیسس جرنل میں شائع ہوا ہے۔
پروفیسرگیلسو کے مطابق فوٹوتھراپی دانتوں کے کئی مسائل حل کرسکتی ہے۔ ضروری تھا کہ ایک ایسا دانت بنایا جائے جو داب برق (پیزوالیکٹرک) کی بدولت بجلی پیدا کرے۔ اس کام کے لیے الیکٹرانکس میں پہلے سے ہی استعمال ہونے والے مٹیریئل بیریئم ٹیٹانیٹ کا انتخاب کیا گیا۔ دوسری جانب یہ دانت اور مسوڑھوں پر بیکٹیریا جمع نہیں ہونے دیتا۔
پہلے تجربے میں سائنسدانوں نے بیریئم ٹیٹانیٹ پر دانتوں کو کیڑے لگانے والے بدنام بیکٹیریئم ’اسٹریپٹوکوکس میوٹانس‘ کو آزمایا۔ یہ دانتوں پر جمع ہوکر گہری پیلی پرت کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ مصنوعی دانت کے مٹیریئل پر اس ڈھیٹ بیکٹیریا کی ایک نہ چلی اور وہ اپنی آبادی بڑھا کر جمع ہونے میں ناکام رہا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرئیم ٹٰیٹانیٹ اس بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے مزید ثبوت دیکھنا ہوں گے۔
دوسری جانب مصنوعی دانت کی فوٹوتھراپی سے مسوڑھوں کو آرام ملے گا اور دیگر صحتمند مسوڑھوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ مصنوعی دانت جس مسوڑھے میں بٹھایا جائے گا وہ فوٹوتھراپی سے اسی جگہ کو مضبوط بنائے گا۔
https://www.express.pk/story/2224041/9812/
ایٹمی روشنی کے نشانات (منفرد خصوصیات )
11 September, 2021

تحریر : ملک محمد شاہد اقبال
جب کسی عنصر کو گرم کیا جائے تو وہ منفرد خصوصیات کی حامل فریکوئنسیز والی روشنی خارج کرتا ہے۔
دریافت کا سال: 1859
دریافت کنندہ: گستاو کرچوف اور رابرٹ بنسن
اہمیت:۔اس کیمیائی تجزیاتی تیکنیک کے ذریعے 1860کے بعد 20 نئے عناصر دریافت کئے گئے۔ اس تیکنیک کے ذریعے ماہرین فلکیات نے لاکھوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ستاروں کی کیمیائی ساخت بھی معلوم کی۔ اس کی مدد سے ماہرین طبیعیات کو سورج کی نیوکلیائی توانائی کو سمجھنے کا بھی موقع ملا جو روشنی اور حرارت پیدا کرتی ہے۔ اسی طریقے کی مدد سے ماہرین فلکیات نے دور دراز ستاروں اور کہکشائوں کی درست رفتار اور حرکت کی پیمائش ممکن بنائی۔
کرچوف اور بنسن کی دریافت کردہ تجزیاتی سپیکٹرمم نگاری کی یہ تیکنیک کسی جلتے ہوئے کیمیائی مادے یا دور دراز ستاروں سے خارج ہونے والی روشنی کا تجزیہ کرتی ہے۔ ان دونوں سائنسدانوں نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ ہر عنصر اپنی مخصوص فریکوئنسی کے ساتھ روشنی خارج کرتا ہے۔سپیکٹرم نگاری کی اس تیکنیک نے ہی اس بات کے اولین ثبوت مہیا کئے کہ زمین پر پائے جانے والے عناصر، دیگر فلکیاتی اجسام پر بھی پائے جاتے ہیں۔ یعنی ہماری زمین کیمیائیلحاظ سے کائنات میں منفرد نہیں ہے۔ ان دونوں سائنسدانوں کا وقع کردہ یہ طریقہ اب حیاتیاتی، طبیعیاتی اور ارضی سائنس سمیت کئی دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
دریافت کا عمل:۔1814میں جرمن ماہر فلکیات جوزف فران ہوفر نے دریافت کیا کہ سورج کی توانائی، روشنی کے سپیکٹرم کی تمام فریکوئنسیز (تعددات) میں یکساں نہیں ہوتی بلکہ صرف مخصوص فریکوئنسی پر ہی ان کی توانائی کا ارتکاز زیادہ ہوتا ہے۔ اس دریافت کو دلچسپ سمجھا گیا لیکن اگلے 40 سال تک کسی نے بھی اس کی اہمیت کو محسوس نہ کیا گیا۔
گستاوکر چوف 1824میں پولینڈ میں پیدا ہوئے۔ اس نے یونیورسٹی آف بریسلا میں سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1850کے عشرے میں اپنی تحقیق کو برقی کرنٹ پر مرکوز کیا۔ 1858میں جب وہ ایک سائنسی پراجیکٹ میں اپنے ایک ساتھی پروفیسر کی معاونت کر رہا تھا، اس نے دھات کے شعلوں کے ذریعے روشنی کے سپیکٹرم میں پیدا ہونے والی روشن لائنوں کو دیکھا۔ اچانک اس کے ذہن میں فران ہوفر کے مضامین میں بیان کی گئی ایسی ہی لائنوں کی موجودگی کا خیال آیا۔ اپنے تجربات کے دوران کرچوف نے دیکھا کہ شعلے کی روشنی میں موجود روشن نقطے (spikes) بالکل اسی فریکوئنسی اور طول موج کے حامل تھے ، جیسے فران ہوفر نے شمسی روشنی میں دیکھے تھے۔
کرچوف نے اس حیرت انگیز مماثلت پر غور کرنا شروع کیا اور پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک بالکل نیا خیال وارد ہوا۔ اس نے شعلے کی روشنی کو مروجہ طریقے (رنگدار گلاس فلٹر میں سے گزار کر دیکھنے) کی بجائے منشور میں سے گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ کہ اس طرح وہ کسی بھی جلنے والی گیس سے آنے والی روشنی میں موجود روشن نقطوں (spkies) کو تلاش کر سکے گا۔ تاہم اس کا یہ طریقہ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوا۔ اس نے اپنی گیسیں گرم کرنے کے لئے جو شعلہ استعمال کیا، وہ اس قدر زیادہ روشن تھا کہ اس کے مشاہدات میں رکاوٹ بنتا تھا۔
رابرٹ بنسن جرمنی سے تعلق رکھنے والا ایک کیمیادان تھا۔ 1858میں 47 سالہ بنسن ضیائی کیمیا (جلتے ہوئے عناصر سے خارج ہونے والی روشنی کا مطالعہ: فوٹوکیمسٹری) کو بہتر بنانے پر کام کر رہا تھا۔ اپنی اس تحقیق کے دوران، بنسن نے ایک نئی قسم کا برنر ایجاد کیا، جس میں گیس اور ہوا کو ملا کر جلایا جاتا تھا۔ یہ برنر (جو آج بھی استعمال ہوتا ہے اور بنسن برنر کہلاتا ہے) 2700 فارن ہائیٹ تک کا انتہائی گرم شعلہ پیدا کرتا تھا لیکن اس کی روشنی بہت کم ہوتی تھی۔
کرچوف اور بنسن کا 1859میں یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ میں پہلی بار باہمی رابطہ ہوا۔ اس دونوں نے اپنی تحقیقات کو باہم ملایا اور اگلے چھ ماہ ایساسپیکٹرم نگار آلہ (سپیکٹرو گراف) تیار کرنے میں صرف کئے جس میں کیمیائی نمونے جلائے جا سکیں اور پیدا ہونے والی روشنی کے سپیکٹرم کو منشور کے ذریعے مختلف فریکوئنسیز (تعددات) پر الگ الگ کر کے دیکھا جا سکے۔
انہوں نے تمام معلومہ عناصر کی سپیکٹرمی لائنوں (وہ مخصوص فریکوئنسی جہاں ہر عنصر اپنی روشنی کی توانائی خارج کرتا ہے) کی فہرست بنانی شروع کی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ہر عنصر ہمیشہ سپیکٹرمی لائنوں کے ایسے اشارے (سگنیچر) پیدا کرتا ہے، جن کی مدد سے اس عنصر کی موجودگی کو شناخت کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار اور تمام عناصر کی مخصوص سپیکٹرمی لائنوں کی فہرست کی مدد سے، کرچوف اور بنسن نے سورج کی روشنی کا پہلا کیمیائی تجزیہ کیا اور دریافت کیا کہ زمین پر پائے جانے والے ہائیڈروجن، ہیلیم اور سوڈیم سمیت کئی عناصر سورج کی فضا میں بھی موجود ہیں۔ اس طرح انہوں نے پہلی بار یہ ثابت کیا کہ زمین کائنات میں کیمیائی طور پر کوئی منفرد جسم نہیں ہے۔
کرچوف اور بنسن نے سائنس کو ایک نہایت کثیر المقاصد اور جدید تجزیاتی ایجادفراہم کی اور ایک ایسا طریقہ دریافت کیا جس کی مدد سے کسی بھی ستارے کی کیمیائی ترکیب نہایت درستگی کے ساتھ معلوم کی جا سکتی ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-11/25214
کووڈ ویکسین کے انسانی جسم پر مرتب ہونے والے اثرات پر مطالعوں سے انکشاف ہوا ہے کہ کچھ افراد میں کورونا کے خلاف اعلیٰ درجے کی مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔
العربیہ نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق بہت سے مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ mRNA ویکسین ( وبائی امراض کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کی نئی قسم، جو ہمارے جسم کے خلیات کو پروٹین بنانا سکھاتی ہے) لگوانے والے کچھ افراد میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت کسی سپر ہیومن کی طرح بہت زیادہ طاقت ور ہوسکتی ہے۔ اور ان کا مدافعتی نظام SARS-CoV-2 کے خلاف کسی بلٹ پروف کی طرح کام کرسکتا ہے۔
اس نوعیت کے متعدد مطالعوں کی سربراہی کرنے والے راکر فیلر یونیورسٹی کے ماہِر سمیات( وائرس سے پیدا ہونے بیماریوں کا ماہِر) پال بیانیئز کا کہنا ہے کہ ایسے افراد میں ان کا جسم نہ صرف بہت بلند درجے کی اینٹی باڈیز (ضِد جَراثیم) پیدا کرتا ہے بلکہ ان میں بہت زیادہ لچک پذیری پائی جاتی ہے، جس کی بدولت ان کا جسم کورونا کی ہلاکت خیز اقسام کے خلاف بھی بھرپور ردعمل دینے کا اہل ہوجاتا ہے۔
طبی جریدے ’ دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں سائنس دانوں نے 2002 اور 2003 میں اوریجنل سارس وائرس SARS-CoV-1 سے متاثر ہونے والے افراد کی اینٹی باڈیز کا تجزیہ کیا۔ ان افراد نے اسی سال mRNA ویکسین لگوائی تھی۔ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں اینٹی باڈیز بہت بلند سطح پر پیدا ہورہی ہیں جو کہ سارس جیسے وائرس کے تمام ویرئینٹس کو بے اثر کر سکتی ہیں۔ اور ان نتائج کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کا معدافعتی نظام اس وائرس کے خلاف بہت طاقت ور ہوچکا ہے۔
اسی طرح کے ایک اور مطالعے میں بیانیئز اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ ایسے افراد میں پائی جانے والی اینٹی باڈیز نے کورونا کے 6 ویرئینٹس بشمول ڈیلٹا اور بی ٹا کو بے اثر کر دیا۔ جب کہ SARS-CoV-2 سے متعلقہ متعدد وائرس بھی بے اثر ہوگئے جن میں سے ایک وائرس چمگاڈر اور 2 وائرس کورونا وبا کی وجہ بننے والے پینگولین کے بھی تھے۔
گزشتہ دنوں ’’نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن آف چائنا‘‘ (NNSFC) کے ایک اعلان میں چینی سائنسدانوں کو دیگر بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایک ’’بہت بڑے خلائی جہاز/ خلائی اسٹیشن‘‘ پر تحقیق کی دعوت دی گئی ہے جس پر مغربی ممالک، بالخصوص امریکا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ممکنہ طور پر یہ خلائی جہاز یا خلائی اسٹیشن تقریباً ایک میل لمبا ہوگا جہاں خلا نورد طویل مدت تک قیام کرسکیں گے۔ اس حوالے سے ابتدائی تحقیق کےلیے ڈیڑھ کروڑ یوآن (تقریباً ایک ارب پاکستانی روپے) کی رقم بھی منظور کی جاچکی ہے۔
یہ خبر سب سے پہلے چین سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ کی ویب سائٹ پر 24 اگست 2021 کے روز شائع ہوئی۔
اس خبر کو بنیاد بناتے ہوئے لائیو سائنس، دی نیکسٹ ویب، انٹرسٹنگ انجینئرنگ اور یونیورس ٹوڈے پر بھی مضامین شائع کیے گئے جن میں چین کے خلائی منصوبوں پر اعتراضات کے علاوہ بطورِ خاص ایک بہت بڑے خلائی جہاز/ خلائی اسٹیشن کے تصور پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان تمام مضامین میں کہا گیا ہے کہ سولہ ملکوں کے مشترکہ ’’عالمی خلائی اسٹیشن‘‘ (آئی ایس ایس) پر اب تک 150 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ اس کا سالانہ بجٹ تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
آئی ایس ایس کی لمبائی 361 فٹ ہے جبکہ چین کا مجوزہ خلائی اسٹیشن/ خلائی جہاز اس کے مقابلے میں بھی تقریباً 15 گنا طویل ہوگا۔
لہٰذا، یہ بات یقینی ہے کہ چینی خلائی اسٹیشن/ خلائی جہاز کی لاگت بھی آئی ایس ایس کی نسبت پندرہ بیس گنا زیادہ ہوگی۔
ویب سائٹ ’’لائیو سائنس‘‘ نے اس بارے میں ناسا کے سابق چیف ٹیکنالوجسٹ اور کورنیل یونیورسٹی میں ایئرو اسپیس انجینئرنگ کے موجودہ پروفیسر، میسن پیک کی رائے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ منصوبہ بے حد مشکل ضرور ہے لیکن اسے ناممکن نہیں کہا جاسکتا۔
میسن پیک کے مطابق، اس منصوبے میں دو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہوگا: پہلا اس کی جسامت کا اور دوسرا اس کی لاگت کا۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چینی ماہرین بھی اس پہلو سے بے خبر نہیں کیونکہ ’’نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن آف چائنا‘‘ نے اپنے اعلان میں واضح کیا ہے کہ انہیں ایسے ہلکے پھلکے لیکن مضبوط مادّوں کی تلاش ہے جو خلاء کے بے وزن اور خطرناک شعاعوں سے بھرپور ماحول کا سامنا برسوں تک کرسکیں۔
دوسری جانب چین کے خلائی تحقیقی ادارے بھی ایسے راکٹوں پر کام کررہے ہیں جو موجودہ طاقتور ترین خلائی راکٹوں سے بھی کئی گنا طاقتور ہوں گے اور ایک پرواز میں سیکڑوں ٹن وزنی سامان خلاء میں پہنچا سکیں گے۔
یہ اور ان جیسے دوسرے پہلوؤں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ غالباً چین میں ایسے بڑے منصوبوں کی تیاریاں بہت پہلے شروع کرلی گئی تھیں جنہیں عملی جامہ پہنانے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2223621/508/
کورونا ویکسین پر ہونے والی حالیہ امریکی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا ویکسین دیگر خطرناک بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے ساتھ ہی شرح اموات میں کمی لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکا کے بیماریوں سے تحفظ اور ان پر کنٹرول پانے کے مراکز (سی ڈی سی) میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسی نیشن نہ کرانے والے افراد میں خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ساڑھے 4 گنا زائد ہے جب کہ مکمل طور پر ویکسی نیٹڈ افراد کے مقابلے میں ویکسین نہ کرانے والے افراد میں مرنے والوں کی تعداد 11 گنا زائد ہے۔
اس بابت سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول ( سی ڈی سی) کی ڈائریکٹر روشیل ویلینسکی کا کہنا تھا کہ تحقیق سے سامنے آنے والے اعداد و شمارسے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسی نیشن ہمیں کووڈ 19 کی پیچیدگیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مطالعے میں رواں سال اپریل تا جولائی کے وسط تک 13 ریاستوں کے بڑے شہروں میں اسپتالوں میں داخل ہونے والے کووڈ19 کے 6 لاکھ کیسز کو شامل کیا گیا۔
ولینسکی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں آخری 2 ماہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جس وقت ملک میں کورونا کا ڈیلٹا ویرئینٹ تباہی مچا رہا تھا اس وقت ویکسین نہ کروانے والے افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تعداد ساڑھے 4 گنا، اسپتالوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد 10 گنا سے زائد اور شرح اموات 11 گنا زائد تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب کہ مکمل ویکسی نیشن کروانے افراد کے نہ صرف اسپتالوں میں داخلے اور شرح اموات کے ساتھ ساتھ ڈیلٹا ویریئنٹ کے پھیلاؤو کی شرح بہت کم اور خصو صا ً 75 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ تھی۔
https://www.express.pk/story/2223645/9812/
امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گٹھیا کے علاج میں پچھلے پچاس سال سے استعمال ہونے والی عام اور کم خرچ دوا ’’پروبینیسڈ‘‘ (Probenecid) سے کورونا وائرس (سارس کوو 2) کے علاوہ انفلوئنزا وائرس کا حملہ بھی ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔
اب تک کے تجربات میں اسے انسانی ناک، حلق اور پھیپھڑوں سے لیے گئے خلیوں کے علاوہ ہیمسٹر (چوہے جیسے ایک جانور) میں ان وائرسوں کے خلاف کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔
آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق پروفیسر ڈاکٹر رالف ٹرپ کی نگرانی میں کی گئی جن کا تعلق یونیورسٹی آف جیورجیا، امریکا سے ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی کووِڈ 19 وبا کے خلاف جنگ میں یہ دوا ہماری ایک اہم مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ دنیا بھر میں بہ آسانی دستیاب ہے جبکہ اس کی قیمت بھی بہت کم ہے، جو اسے کم وسائل والے ترقی پذیر ممالک کےلیے نہایت پرکشش بناتی ہے۔
تجربات کے پہلے مرحلے میں انسانی ناک، حلق اور پھیپھڑوں سے خلیات لے کر انہیں پیٹری ڈش میں کلچر کیا گیا۔ یہ خلیے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ کورونا وائرس ان ہی پر حملہ آور ہوتا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: گٹھیا کا علاج… ایک سے بہتر 2 دوائیں
دوسرے مرحلے کے دوران خلیوں کے کلچر میں ’’پروبینیسڈ‘‘ کی کچھ مقدار جذب کروائی گئی، جس کے بعد انہیں کورونا وائرس، فلو وائرس اور ’’آر ایس وی‘‘ (سانس کی بیماری پیدا کرنے والے ایک اور وائرس) سے متاثر کیا گیا۔
اس صورت میں ’’پروبینیسڈ‘‘ نے ان تمام اقسام کے وائرسوں کو خلیوں میں داخل ہونے اور اپنی نقلیں تیار کرنے سے باز رکھا۔ یعنی یہ دوا ان تمام وائرسوں کا حملہ ناکام بنا رہی تھی۔
بعد ازاں ان تینوں اقسام کے وائرسوں سے متاثر کیے گئے ہیمسٹرز میں ’’پروبینیسڈ‘‘ آزمائی گئی۔
جب ہیمسٹرز کو یہ دوا دی گئی تو ان میں کورونا وائرس سمیت، باقی دونوں اقسام کے وائرسوں کی تعداد بڑھنا بھی بند ہوگئی۔ یعنی یہاں بھی اس دوا نے ان وائرسوں کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔
ڈاکٹر رالف کے مطابق ’’پروبینیسڈ‘‘ کئی اقسام کے آر این اے وائرسوں کے خلاف مؤثر ہے لہٰذا امید ہے کہ یہ کورونا وائرس کے تمام موجودہ اور آئندہ ویریئنٹس کی روک تھام میں بھی یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ’’پروبینیسڈ‘‘ کی باضابطہ انسانی آزمائشیں نہ کرلی جائیں، تب تک اسے کورونا وائرس کے خلاف تجویز نہ کیا جائے۔
تاہم انہیں امید ہے کہ کورونا وائرس کے علاج میں ’’پروبینیسڈ‘‘ کی انسانی آزمائشوں کی اجازت بھی جلد ہی مل جائے گی۔
https://www.express.pk/story/2223256/9812/
ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ دمے، ڈپریشن اورزیابیطس کی عام ادویہ اگرچہ اپنا اثر تو کرتی ہیں لیکن طویل مدتی اثر میں یہ آنتوں کے بیکٹریا (جرثوموں) میں جمع ہوتی رہتی ہیں اور آگے چل کر کئی ادویہ کے اثر کو کم کرسکتی ہیں یا کررہی ہیں۔ کیونکہ ادویہ جمع ہونے سے بیکٹیریا غیرمعمولی طور پر تبدیل ہورہے ہیں۔
اس معلومات سے ہم مختلف افراد پر دوا کے مختلف اثرات سمجھ سکتے ہیں اور ان کے منفی اثرات (سائیڈ افیکٹس) بھی سمجھ سکتےہیں۔ ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بعض بیکٹیریا کیمیائی طور پر بعض ادویہ کو بدل سکتےہیں جسے بایوٹرانسفارمیشن کا عمل کہتے ہیں۔
جامعہ کیمرج اور یورپی مالیکیولر بائیلوجی تجربہ گاہ ( ای ایم بی ایل)، جرمنی کی کھوج بتاتی ہے کہ کئی عام ادویہ دھیرے دھیرے سے بیکٹیریا میں جاتی رہتی ہیں اور نہ صرف انہیں اندر سے بدلتی ہیں بلکہ ان کے افعال بھی بدل دیتی ہیں۔ اب خیال ہے کہ بیکٹیریا کے بدلنے سے براہِ راست نئی دواؤں پر اثر پڑسکتا ہےاور بالراست بھی بیکٹیریا کے افعال بدل سکتے ہیں جس سے دوا کے مضر اثرات بڑھ سکتے ہیں۔
ہمارے معدے، آنت اور نظامِ ہاضمہ میں سینکڑوں، ہزاروں اقسام کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو نہ صرف صحت بلکہ امراض میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس پورے مجموعے کو گٹ مائیکروبایوم کہا جاتا ہے۔ لوگوں میں اس کی ترتیب مختلف ہوتی ہے اور اب یہ حال ہے کہ ہم تندرست بیکٹریا کے گچھوں کی شناخت بھی کرچکے ہیں۔ ان کے بگڑنے سے موٹاپا، امنیاتی نظام اور دماغی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں 25 عام بیکٹیریا شناخت کئے اور انہیں کھائی جانے والی 15 عام ادویات کا سامنا کرایا گیا۔ اس طرح کل 375 ادویہ اور بیکٹیریا کے ٹیسٹ کئے گئے۔ تحقیق میں 70 ملاپ ایسے تھے جن میں 29 کو اس سے قبل نہیں دیکھا گیا تھا۔
اس طرح بیکٹیریا اور ادویہ کے نئے 29 تعاملات میں سے 17 میں دوا بدلےکسی تبدیلی کے بغیر جمع ہونے لگیں۔ پھر ڈپریشن کی ایک دوا ڈیولوکزیٹائن نے تو بیکٹیریا کی کالونی ہی بدل دی اور ان کا توازن شدید بگڑ گیا۔ پھر ایک کیڑے پر ان کی آزمائش کی گئی اور اس کے بعد کیڑوں کا برتاؤ بھی بدل گیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق کا ایک نیا باب ہے جس پر مزید چھان بین کی ضرورت ہے۔
https://www.express.pk/story/2223013/9812/
چیونٹی کے دانت کس طرح لکڑی چبا تے ہیں، راز دریافت
9 September, 2021
چیونٹیوں کے دانت کس طرح سخت لکڑی بھی چبا جاتے ہیں؟اس کا راز دریافت ہوگیا ہے
اوریگون(نیٹ نیوز)جامعہ اوریگون اور پیسیفک نارتھ ویسٹ نیشنل لیبارٹری کی مشترکہ تحقیق کیمطابق چیونٹیوں کے دانت پروٹین اور پولی سیکرائڈ پالیمر سے بنے ہوتے ہیں اب اگر اس میں کیلشیئم کاربونیٹ مل جائے تو یہ مزید سخت ہوجاتا ہے ۔سائنسدانوں نے چیونٹی کے دانتوں کی سختی، لچک، توانائی ، رگڑسے بچاؤ کی خاصیت پر غورکیا،اس عمل میں چیونٹی کے دانتوں کو بجلی کے جھماکوں سے گرم کیا گیا تاکہ ان کی اوپری سطح اڑجائے ۔اس کے بعد چیونٹی کے دانتوں پر انفرادی ایٹم واضح ہوگئے ۔ ماہرین نے دیکھا کہ جست کے ایٹم ایک خاص ترتیب میں جمع ہیں اور سائنسدانوں نے انہیں انفرادی طور پر بھی نوٹ کیا۔ زنک ایٹموں کی یہ ترتیب چیونٹیوں کے دانتوں کو تیز اور مضبوط بناتی ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-09/1878905
سوئٹزرلنڈ، اٹلی اور امریکا کے سائنسدانوں نے ناک کی کرکری ہڈی سے لیے گئے خلیوں کی مدد سے ایک مریض میں گھنٹوں کی گٹھیا کا علاج کیا ہے۔
اس کامیاب تجربے کی تفصیلات ’’سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں، جن کے مطابق، یہ تحقیق پچھلے دس سال سے جاری ہے جس میں ابتدائی طور پر معلوم ہوا تھا کہ ناک کی کرکری ہڈی (کارٹلیج) کے خلیے استعمال کرتے ہوئے، گھٹنے کے جوڑ والی کرکری ہڈی کی مرمت کی جاسکتی ہے۔
تحقیق کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے پہلے یہ تکنیک جانوروں پر آزمائی گئی، جس کے بعد گزشتہ سال سوئٹزرلینڈ میں انسانی آزمائشوں کےلیے بھی اجازت لی گئی۔
علاج کی غرض ایک ایسا رضاکار بھرتی کیا گیا جس کے گھٹنوں میں گٹھیا (آرتھرائٹس) کی وجہ سے شدید تکلیف رہتی تھی۔ طبّی تحقیقی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مریض کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں رضاکار کی ناک کی کرکری ہڈی سے خلیے حاصل کرکے ان کی ایک پیٹری ڈش میں افزائش کرکے انہیں ایک جھلی کی شکل میں لایا گیا۔
اگلے مرحلے میں محتاط آپریشن سے مریض کے ایک گھٹنے میں متاثرہ کرکری ہڈی پر اس جھلی کی پرت چڑھا دی گئی اور اسے اپنی جگہ پر پختہ ہونے کےلیے مناسب وقت دیا گیا۔
تین ماہ بعد اس مریض کے گھٹنے میں گٹھیا کی وجہ سے ہونے والی تکلیف تقریباً ختم ہوگئی جبکہ گھٹنے پر معمول کی حرکت بھی بحال ہوگئی۔
اگرچہ یہ تجربہ صرف ایک مریض پر کیا گیا ہے لیکن اس میں ہونے والی کامیابی بہت بڑی ہے۔ اب یہ تکنیک دیگر مریضوں پر آزمائشوں کےلیے بھی تیار ہے تاہم اس سے پہلے ماہرین کو مجاز اداروں سے اجازت لینا ہوگی۔
البتہ، امید ہے کہ پہلی کامیابی کو دیکھتے ہوئے یہ اجازت بھی جلد ہی مل جائے گی۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ناک کی کرکری ہڈی سے گھٹنے میں گٹھیا کا علاج کب تک عوام کےلیے دستیاب ہوگا اور اس پر کتنے اخراجات آئیں گے۔
اس کےلیے ممکنہ طور پر ہمیں مزید چھ سے سات سال تک انتظار کرنا ہوگا۔
https://www.express.pk/story/2221565/9812/
پاکستان میں پہلی بار پیدائشی معذور یا کسی حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی روبوٹک آرم (مشینی بازو) تیار کرلیا گیا۔
ایکسپریس کے مطابق سینسر کے ذریعے دماغ کی مدد سے چلنے والا یہ مصنوعی ہاتھ حرکت بھی کرسکتا ہے اور وزن بھی اٹھا سکتا ہے، روبوٹک آرم کے ذریعے معذور افراد عام افراد کی طرح اپنے روزمرہ کے کام باآسانی کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے جامعہ کراچی میں منعقدہ دو روزہ ’’صحت کی دیکھ بھال میں ٹیکنالوجی کی فعالیت‘‘ کے موضوع پر مبنی کامسٹیک آئی سی سی بی ایس میں بین الاقوامی نمائش ہوئی جس میں پاکستان کی ایک نجی کمپنی ’بایونکس‘ نے تیار کیے جانے والے اس بازو کو متعارف کرایا۔

اس بازو میں کئی سینسر کے علاوہ بیٹری نصب ہے جو مکمل چارجنگ پر بازو کو مسلسل 8 گھنٹے متحرک رکھتی ہے۔ بازو ساڑھے تین کلو وزن اٹھاسکتا ہے جس کی کلائی گھوم سکتی ہیں اور انگلیاں متحرک ہوتی ہیں۔
بایونکس نے مصنوعی ہاتھ کے تین ماڈل بنائے ہیں ان میں بلیک ایکس کا رنگ سیاہ ہے، انسانی جلد کی رنگت میں زندگی 2.0 ماڈل بنایا گیاہے اور سپر ہیرو ورژن میں بچے بازو کو اپنی مرضی سے بنواسکتے ہیں تاہم اس کی قیمت ساڑھے تین لاکھ روپے تک ہے۔ ایسا ہی ایک بازو شہری معاذ زاہد کو بھی لگایا گیا ہے۔
معاذ نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں ڈیڑھ سال قبل ایک حادثے سے متاثر ہوگیا تھا جس میں میرا سیدھا ہاتھ ضائع ہوگیا تھا، ایک ہاتھ سے معذور ہونے کے بعد اپنے روز مرہ کے کام نہیں کر پارہا تھا۔ دل بہت اداس تھا، میں زندگی میں کچھ کرنا چاہتا تھا جب اس ٹیکنالوجی کا پتا چلا تو فوری طور پر کمپنی سے رجوع کیا اور روبوٹک آرم لگوایا۔
انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت میں اب اپنے روز مرہ کے کام آسانی سے کرلیتا ہوں، گاڑی چلا لیتا ہوں، گٹار بجا لیاتا ہوں، دانت برش کرسکتا ہوں، چائے پی سکتا ہوں اور بہت کچھ کرسکتا ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ روبوٹک آرم کا استعمال انتہائی آسان ہے، اس ٹیکنالوجی کے بعد ان کے دل سے احساس محرومی کا جذبہ بھی ختم ہوا ہے اور اب زندگی حسین لگنے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو ہاتھ سے محروم ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، خوشی ہے کہ اب پاکستان بھی دوسرے ممالک کی طرح ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہا ہے۔

کمپنی حکام کے مطابق پاکستان میں اس وقت 100 سے زائد افراد بایونکس کے روبوٹک آرم سے مستفید ہورہے ہیں اور اپنے روزمرہ کے کام باآسانی کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر معذور افراد کے دل سے احساس محرومی کو ختم کرنے کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اس موقع پر بایونکس سے وابستہ ماہر نے بتایا کہ ان کی کمپنی دنیا میں سب سے کم عمر بچے میں روبوٹ بازو نصب کرچکی ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے بایونکس کی ویب سائٹ www.bioniks.org اور3562103-0300 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2222898/9812/
فیس بک اور رے بین نے سمارٹ ڈیجٹیل عینک متعارف کروادی، اہم فیچرز کے بارے میں آپ بھی جانیں
Sep 10, 2021 | 21:48:PM

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) فیس بک اور رے بین نے سمارٹ عینک متعارف کروائی ہے ، یہ ڈیجٹیل سمارٹ عینک ' رے بین ' کے سٹورز پر فروخت کے لیے دستیاب ہے۔
تفصیلات کے مطابق عینک کی دونوں جانب 5 میگاپکسل کیمرے نصب ہیں جنہیں ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاسکتی ہیں۔ دوکیمروں کی بدولت صارفین تھری ڈی تصاویر اور ویڈیو تیار کرسکتے ہیں۔ اس میں موجود طاقتور اسپیکر موسیقی سناتے ہیں جبکہ اس عینک سے آپ فون کال کرسکتے ہیں اور وصول بھی کرسکتے ہیں۔اسے چلانے کے لیے اینڈروئیڈ یا آئی او ایس ایپ اور ڈیوائس (فون یا ٹیبلٹ) درکار ہوگی۔ تمام خوبیوں کے باوجود یہ عینک صرف 50 گرام وزنی ہے اور قیمت 299 ڈالر کے لگ بھگ رکھی گئی ہے۔ اس قیمت کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو راغب کرنا ہے۔ اس عینک کا کیس خالص چمڑے کا ہے کہ لیکن اس میں عینک رکھ کر اسے چارج کیا جاسکتا ہے اور بیٹری پورے دن چل سکتی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/10-Sep-2021/1338895?fbclid=IwAR318dHxb1a59NwBqU_0kEaf7OW0jSxLO8Q50PlEXlfxdMbwOetmiYiF_aE
ماہرین نے جھوٹ پکڑنے کا ایک اور طریقہ دریافت کر لیا
6 September, 2021
فرانس کی سوربون یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک دلچسپ تجربہ کیا ہے جس میں صرف آواز کی شدت اور جھوٹ کے درمیان تعلق واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے
پیرس(نیٹ نیوز)اس تحقیق کیلئے فرانسیسی قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق نے بھی کلیدی کردار کیا۔تجربے کے دوران معلوم ہوا کہ آواز کی پچ، بولنے کی شرح اور شدت بھی بتا سکتی ہے کہ بولنے والا جھوٹ بول رہا ہے یا سچائی سے کام لے رہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کی آواز میں غنایت اس کے سچ بولنے کی معلومات دے سکتی ہے ۔ ایسا یوں ہوتا ہے کہ دماغ زبان کا ساتھ نہیں دے پاتا اور آواز دھیمی ہوتی جاتی ہے اور یوں الفاظ پر زور بھی کم ہوجاتا ہے کیونکہ بولنے والا جانتا ہے کہ وہ غلط بیانی کررہا ہے ۔اس کیفیت کو پروسوڈی بھی کہا جاتا ہے جس میں الفاظ اور جملوں کے بجائے آواز کے زیر و بم کو دیکھا جاتا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-06/1877576
امریکی ماہرِ اعصابیات و نفسیات اور اس شعبے میں ڈاکٹریٹ کرنے والی ماہرہ وینڈی سوزوکی نے اپنے تجربے کے بنیاد پر انتہائی قیمتی مشورے دیئے ہیں جن پر عمل کرکے دماغی مضبوطی، نفسیاتی اور اعصابی سکون اور توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان کے 6 ٹوٹکے درج ذیل ہیں:

1: مثبت نتائج کا تصور کیجئے
دن کے آغاز سے انجام تک، اپنے، اپنے گھر کے اور بچوں کے تمام چھوٹے بڑے معاملات جب بھی یاد آئیں ان میں سے ہر ایک کا اختتام مثبت طور پر سوچیں اور اس کا ایک نقشہ یا خیالی منظر ذہن میں جمائیں۔ یہ نہیں کہ صرف اچھا انجام سوچیں بلکہ سب سے بہترین صورتحال کا تصور کیجئے۔
اس سے نہ صرف دماغ مثبت سوچنے لگے گا، جسم پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے بلکہ مسائل کے حل کے نئے راستے بھی نکلیں گے۔
2: بے چینی اور اضطراب کو ترقی میں بدلیں
مشکلات اور چیلنج میں ہماری دماغی لچک بڑھ جاتی ہے اور کوشش کی جائے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ پرسکون کیسے ہیں، صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، خیالات کو مثبت انداز میں جمع کرکے درست فیصلے کئے جائیں۔
یعنی بے چینی اور منفی جذبات کو گھماکر دوسرے مثبت کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جس کی لاتعداد مثالیں ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
غصہ آپ کی توجہ کھاجاتا ہے اور عمل کو روکتا ہے لیکن اسی سے آپ جذبہ لے کر اپنی توجہ بڑھا سکتےہیں۔
خوف وہ جذبہ ہے جو ماضی کی ناکامیاں بھی یاددلاتا ہے، یہ توجہ اور ارتکاز کو تباہ کرتا ہے اور آپ کی صلاحیتوں کو گھن لگادیتا ہے ، یا پھر آپ کو درست اور واضح فیصلے میں مدد بھی دے سکتا ہے اور بدلتی ہوئی فضا میں آپ کے لیے مواقع بھی بڑھاتا ہے۔
اداسی سے دل بجھ جاتا ہے اور انسان حوصلہ ہارنے لگتا ہے یا پھر اس کی بدولت آپ اپنی ترجیحات نئے سرے سے مرتب کرسکے، ماحول اور واقع کو اپنے حق میں ہموار کرسکتے ہیں۔
پریشانی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اور انسان اپنے مقصد سے دور ہوتا جاتا ہے یا پھر آپ اپنے مسائل کے حل پر توجہ دے سکتےہ یں، اپنی توقعات کی درجہ بندی کرسکتے ہیں اور حقیقت پر مبنی منصوبے بناسکتے ہیں۔
فرسٹریشن سے دل بیٹھنے لگتا ہے یا پھر آپ اسے استعمال کرکے مزید بہتر کام کرسکتے ہیں۔

3: نئے کام آزمائیں
آج کل آن لائن سیکھنے کے مواقع بہت زیادہ ہیں اور ان پر توجہ دیجئے، کوئی نیا اور بالکل مختلف کورس کیجئے، کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیجئے یا کسی ورچول تقریب میں شرکت فرمائیں۔ خلاصہ یہ کہ بار بار اپنے دائرہ آرام (کمفرٹ زون) سے باہر نکلیں اور کچھ نیا ضرور کیجئے۔

4: لوگوں سے رابطہ کیجئے
مایوسی، پریشانی اور اداسی میں دوستوں، اہلِ خانہ اور گھروالوں سے رابطہ کیجئے۔ ان کے تسلی بخش الفاظ سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف ایک نیا حوصل ملتا ہے بلکہ پریشانی اور گھبراہٹ کم ہوتی ہے کیونکہ جیسے جیسے آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ویسے ویسے آپ کا اعتماد بڑھتا جاتا ہے۔
اگر لوگ آپ کی سن رہے ہیں تو دل کی بات کرنے کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ اس لیے شدید ذہنی تناؤ کے دوران اپنے پیاروں سے مدد ضرور لیجئے۔

5: اپنے آپ کو مثبت ٹویٹس کیجئے
لِن مینوئل مرنڈا نے ہر روز اپنے آپ کو مثبت ٹویٹس کرتی ہے۔ انہوں نے ایک عرصے سے صبح اور شام کا یہ معمول بنارکھا ہے اور اب اس پر ایک چھوٹی سی کتاب بھی لکھ دی ہے۔ وہ مزاحیہ، شگفتہ اور مثبت جملے خود کو بھیجتی ہیں۔
یہی وجہ یہ ہے کہ وہ دماغی طور پر توانا اور پرامید ہیں ۔ اس کے بعد ان کی کارکردگی اور مسائل جھلینے کی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ٹویٹس لوگوں کو بھیجے جائیں بلکہ خود اپنے آپ کو کئے جائیں جس کو ایک مثبت یاددہانی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اگر آپ خود یہ نہیں کرسکتے یا کسی الجھن میں ہیں تو کسی قریبی دوست یا جیون ساتھی سے کہیں کہ وہ اس میں آپ کی مدد کریں اور ٹویٹس بھیجیں۔

6: فطرت سے قریب رہیں
کئی تحقیقات سے واضح ہے کہ سبزے، درخت اور پرسکون قدرتی مقامات پر جار کر دماغی سکون ملتا ہے اور اس کے اثرات کئی ہفتوں تک برقرار رہتے ہیں۔ جذباتی صحت کے لیے گھنے درختوں میں جائیں، پارک میں بیٹھیں، وہاں کا سکوت محسوس کریں اوراسے روح میں اتارئیے۔
اسی جگہوں پر لمبےاور گہرے سانس لیجئے۔ اس سے پورے بدن میں ایک ایسی توانائی بڑھے گی جو آپ کو نامساعد حالات سے لڑنے میں مدد دے گی۔
https://www.express.pk/story/2221401/9812/
آپ مانیں یا نہ مانیں، اسمارٹ فون کا جارچ ختم ہونا ہمارے عہد کا سب سے بڑا دردِ سر بلکہ خوف بن چکا ہے۔ اس کا حل اب جاپانی ماہرین نے ایک انقلابی کمرے کی صورت میں پیش کیا ہے جو حدود میں موجود ہر برقی آلے کو کسی تار کے بغیر(وائرلیس)چارج کرسکتا ہے۔
اگرچہ وائرلیس چارجنگ والے فون، اسمارٹ واچ اور ایئرفون عام ہوچکے ہیں لیکن ٹوکیویونیورسٹی کے پروفیسر ٹاکویا ساساتانی نے ایک نئی طرح کی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جسے ’ملٹی موڈ کواسی اسٹیٹک کیویٹی ریزوننس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے تین میٹر چوڑے، دو میٹر لمبے اور تین میٹر اونچے کمرے میں جگہ جگہ کیپیسٹر کوائلیں لگائی ہیں۔ اس طرح پورے کمرے میں ان دیکھا مقناطیسی میدان قائم ہوجاتا ہے۔ تاہم برقی میدان کیپیسٹر میں ہی پھنسا رہتا ہے۔ پھر کمرے کے عین درمیان بچھی ہوئی تانبے کے گول چھلے (دائرے) کو بچھایا جس سے نکلنے والا مقناطیسی میدان گھڑی وار اور مخالف گھڑی وار گھومتا ہے۔ یوں کمرے میں کوئی جگہ خالی نہیں رہتی اور ہرجگہ چارج پہنچتا ہے۔ اب وہاں فون سے لے کر ٹیبلٹ تک جو بھی شے رکھی جائے وہ بجلی پاتی رہتی ہے اور چارج ہوتی رہتی ہے۔
لیکن کمرے کے دو فیصد علاقے یا کونوں میں وائرلیس سگنل پہنچتے رہتے ہیں اور لگ بھگ 50 واٹ بجلی ملتی رہتی ہے۔ دوسری جانب کمرے میں موجود مقناطیسی میدان اتنا طاقتور نہیں کہ وہ انسان پر اثرڈال سکے اور یوں پورا بجلی بھرا کمرہ ہی انسانوں کے لیے بالکل بے ضرر ہے۔ اگرچہ چارج ہونے والے آلے کو درست زاویے پر رکھا جائے تو یہ بھرپور انداز میں چارج ہوتا ہے لیکن رخ سے ہٹنے پر بھی کچھ نہ کچھ چارجنگ جاری رہتی ہے۔
واضح رہے کہ 2017 میں ڈزنی کے شعبہ تحقیق نے بھی چارجنگ کمرہ بنایا تھا جس میں بعد ازاں تانبے کی مرکزی کوائل بھی ہٹادی گئی تھی۔ تاہم اس اہم کامیابی کے بعد بھی ڈزنی سے اب تک کوئی پیشرفت کی خبر نہیں مل سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے چارجنگ روم کو مزید عملی اور بہتر قرار دیا ہے۔ جاپانی ماہرین کا اصرار ہے کہ اگر آپ کمرہ نہ بنانا چاہیں تو وائرلیس چارجنگ الماری اور ڈبے سے بھی عین یہی کام لیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں شیاؤمی نے ایئرچارج بکس بنایا ہے جس کے اندر رکھا ہر آلہ بے تار چارج ہوجاتا ہے۔ شیاؤمی نے بھی اب تک اسے مارکیٹ میں لانے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2221451/508/
چینی خاتون مسلسل 40سال سے جاگ رہی ہے ،ڈاکٹر حیران
5 September, 2021
چین کے صوبے ہنان سے تعلق رکھنے والی خاتون لی جین ہیہی نے دعویٰ کیاہے
بیجنگ(نیٹ نیوز)کہ وہ 10 یا 15 دن نہیں بلکہ مسلسل 40 سال سے جاگ رہی ہیں۔ لی کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ آخری مرتبہ اس وقت سوئی تھیں جب وہ 4 یا 5 سال کی تھیں۔ لی جین ہیہی کے شوہر اورپڑوسیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مسلسل جاگتی رہتی ہیں ۔ ڈاکٹرز نے ان کی نیند کے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے انہیں 48 گھنٹوں کیلئے مشاہدے میں رکھا تو انہیں مانیٹرنگ سنسر پر چونکا دینے والی معلومات ملیں۔ ڈاکٹرز نے اپنے مشاہدے میں کہا ہے کہ لی جین سوتی ضرور ہیں لیکن وہ عام انسانوں کی طرح نہیں سوتیں،ان کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں اور وہ باتیں بھی کرتی ہیں۔ڈاکٹرز نے ان کی اس خاصیت کو جاگتے ہوئے سونا قرار دیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-05/1877298
ہم ایک عرصے سے کولیسٹرول گھٹانے والے ٹیکوں کے متعلق سنتے آرہے ہیں جسے انسلیسیرین کا نام دیا گیا ہے۔ بہت جلد اس ’گیم چینجر‘ انجیکشن کو برطانیہ میں ہزاروں افراد پر آزمایا جائے گا۔ برطانیہ نے باضابطہ طور پر اس کی منظوری دیدی ہے۔
پہلے مرحلے میں اسے 30 ہزار افراد کو لگایا جائے گا۔ سال میں دو مرتبہ انجیکشن کی خوراک کی مجموعی قیمت 3600 سے 6000 ڈالر رکھی گئی ہے۔ اسے بنانے والی کمپنی نووارٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ دوا ایسے مریضوں پر آزمائی جائے گی جو ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی طویل تاریخ رکھتے ہیں یا پھر فالج کے چھوٹے بڑے حملوں سے گزرچکے ہیں۔
بعض مریض ایسے ہوتے ہیں جو دل کے عارضے میں گرفتار ہونے یا فالج کا تلخ تجربہ جھیلنے کے باوجود بھی کولیسٹرول کم نہیں کرپاتے کیونکہ ان پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور وہ مسلسل مضر کولیسٹرول کی بڑی مقدار اپنے خون میں لئے پھرتےہیں۔ یہ دوا نووارٹس کمپنی نے بنائی ہے جس کی بدولت کئی ہزار افراد کی جانیں بچانا ممکن ہوگا۔
خود پاکستان میں بھی ہزاروں مریضوں کے لہو میں کولیسٹرول موجود ہے جو انہیں کئی جان لیوا امراض کا نشانہ بناسکتا ہے۔ صرف برطانیہ میں ان کی تعداد کسی بھی طرح 70 لاکھ سے کم نہیں۔ پھربعض مریضوں میں موروثی اور جینیاتی طور پر بھی کولیسٹرول کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ ایسے مریض دن میں تین سے چار مرتبہ اسٹاٹن دوا کھاتے ہیں لیکن شفا نہیں ہوتی۔
انسلیسیرین کئی طبی مراحل سے گزرچکا ہے اور کئی مریضوں پر صرف تین ماہ میں اپنا اثردکھایا ہے۔ بعض مریضوں کے خون میں کولیسٹرول کی سطح چند ماہ میں 50 فیصد تک کم دیکھی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2220771/508/
امریکی سائنس دانوں نے لچک دار کاربن نینو فائبر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی قمیص ایجاد کرلی ہے جو اپنے پہننے والے کے دل کی دھڑکنوں پر مسلسل نظر رکھ سکتی ہے۔
یہ ’ذہین قمیص‘ رائس یونیورسٹی کے ماہرین کی قیادت میں کئی امریکی جامعات کے اشتراک سے تقریباً دو سال میں تیار کی گئی ہے۔
ریسرچ جرنل ’’نینو لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس ذہین قمیص کی تیاری میں سب سے بڑا چیلنج نینومیٹر جتنے چوڑے، لچک دار کاربن ریشوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر ایک ایسا دھاگہ تیار کرنا تھا جس میں سے بجلی گزر سکے اور اسے لباس کی سلائی میں استعمال بھی کیا جاسکے۔
اس مقصد کےلیے بال سے بھی زیادہ باریک، صرف 22 مائیکرومیٹر جتنی چوڑائی والے سات کاربن ریشوں کو ایک دوسرے کے گرد بل دے کر ان کے بنڈل بنائے گئے، اور پھر ایسے تین بنڈلز کو آپس میں لپیٹ کر کاربن نینو فائبر والا دھاگہ تیار کیا گیا۔
زگ زیگ پیٹرن کی طرز پر اس نینو فائبر دھاگے کو قمیص کے ساتھ سی دیا گیا۔ اس طرح تیار ہونے والی ٹی شرٹ ایک ادھیڑ عمر رضاکار کو پہنا کر اس کی دل کی دھڑکنوں پر کئی گھنٹوں تک مسلسل نظر رکھی گئی۔
نینو فائبر والے ان دھاگوں میں سے نہ صرف بجلی گزرسکتی ہے بلکہ یہ آرام دہ اور پائیدار بھی ہیں جو قمیص دھوئے جانے پر بھی خراب نہیں ہوتے۔
تجربے کے دوران یہ قمیص پہننے والا رضاکار بھی مطمئن رہا اور اسے کسی قسم کی بے چینی یا الجھن کا سامنا نہیں ہوا۔
یہ قمیص چست لیکن نرم اور لچک دار کپڑے سے بنی ہے، جبکہ یہ لگاتار کئی گھنٹوں تک اپنے پہننے والے کی دھڑکنوں کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ’’ذہین قمیص‘‘ فی الحال تجرباتی مرحلے پر ہے جس کا مقصد اس کی تیاری کو کم خرچ اور تیز رفتار بنانا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں یہ بڑے پیمانے پر تیار کی جاسکے؛ اور ممکنہ طور پر اسمارٹ واچ یا اس جیسے دوسرے آلات کی جگہ لے سکے جو آج کل صحت پر نگاہ رکھنے کےلیے عام استعمال ہورہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2220576/9812/
ماں قدرت کا انمول تحفہ ہے اوراب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ماں کی آواز بھی بچے میں تکلیف کے احساس کو کم کرتی ہے۔
معمول کی مدتِ حمل سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کو ماں سے الگ کرکے کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک انکیوبیٹر اور دیگر نگہداشت میں رکھا جاتا ہے۔ اس طرح بچہ پیدائش کے بعد ماں س الگ ہوجاتا ہے۔ اب یہاں ادویہ، ٹیکے اور نلکیاں لگانے سے بچہ درد سے بےحال ہوجاتا ہے جس کے لیے طرح طرح کی درد کش ادویہ دی جاتی ہیں ۔ اب اگر اس دوران والدہ کو بچے کے پاس لایا جائے اور وہ اس سے باتیں کریں تو نومولود کی تکلیف کم ہوجاتی ہے۔
یونیورسٹی آف جنیوا میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اٹلی کی یونیورسٹی آف ویلے ڈی اوسٹا اور پارینی ہسپتال کے اشتراک سے ایک مطالعہ کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جب ماں بچے سے بات کرتی ہے تو اس میں آکسیٹوسِن کی شرح بڑھتی ہے جس سے درد کم ہوجاتا ہے۔ آکسیٹوسِن ایک ہارمون ہے جو کسی سے لگاوٹ یا پھر تناؤ، دونوں میں ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح ڈاکٹر اور ہسپتال انتظامیہ ماں کو بچے کے پاس بلاکر درد کا قدرتی علاج کرسکتی ہے۔
اس سے قبل ایک اور جائزہ بتاتا ہے کہ ماں اور باپ کی موجودگی بھی بچے کا درد بٹاسکتی ہے۔ تجربے میں پارینی ہسپتال کے 20 ایسے بچوں کو لیا گیا جنہوں نے اپنے وقت سے قبل دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔ تمام مائیں اپنے بچوں کے پاس اس وقت موجود تھیں جب ٹیسٹ کے لیے ایڑھی سے خون کے چند قطرے لئے گئے۔ ماؤں سے یہ بھی کہا گیا کہ بچے کے سامنے کچھ نہ کچھ بولتی رہیں۔
اس تجربے میں تین روز تک تین ٹیسٹ کئے گئے۔ پہلے بچوں کو ماں کے بغیر ٹیکہ لگایا گیا، دوسرے روز بچے کو انجیکشن لگاتے ہوئے ماں نے بچے سے باتیں کیں اور تیسرے روز ماں نے بچے کے سامنے واضح آوازمیں گانے گائے۔ ماں سے کہا گیا کہ ٹیکہ لگانے سے پہلے، اس دوران اور ٹیکے لگانے کے بعد پانچ پانچ منٹ تک گانا گائے۔ تینوں تمام مراحل میں خون کے ٹیسٹ لیے گئے۔
اس کے علاوہ ہرے اور جسمانی انداز کو دیکھتے ہوئے بچوں میں درد کا ایک پیمانہ استعمال کیا گیا جسے ’پری ٹرم پین پروفائل ( پی آئی پی پی) کہتے ہیںل۔ اس میں صفر سے 21 تک درجے ہوتے ہیں۔ خون نکالتے وقت ماہر کوبچے کے چہرے کی ویڈیو دکھائی گئی۔ لیکن آواز بند کردی گئی تاکہ ماہر ماں کی آواز نہ سن سکے اور اس پر غلط فیصلہ سامنے نہ آسکے۔
معلوم ہوا کہ ماں غائب ہونے کی صورت میں پی آئی پی پی کی شرح 4.5 نوٹ ہوئی اور جیسے ہی ماں نے بچے سے بات کی تو پی آئی پی پی کی شرح تین درجے کم ہوگئی جو غیرمعمولی بات ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی آواز بچے کے لیے قدرتی پین کلر کا درجہ رکھتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2220604/9812/
گزشتہ ماہ کی ناکامی کے بعد مریخ پر اترنے والے ناسا کے خلائی جہاز پریزرورینس نے ایک سخت چٹان پر گول سوراخ کرکے وہاں سے پتھر اور مٹی کا نمونہ حاصل کیا ہے۔ اسے ماہرین نے ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایک روز یہ نمونہ زمین پر لایا جائے گا تاکہ مریخ کی ارضی کیمیائی ترکیب اور خود وہاں موجود خردنامیوں کا جائزہ لیا جاسکے گا۔ ناسا کے مطابق یکم ستمبر کو مریخی تحقیقی گاڑی نے اپنی برما مشین سے ایک پتھر پر سوراخ کرکے اس کا ٹکڑا نکالا ہے۔ جس بڑے پتھر سے یہ ٹکڑا لیا گیا ہے وہ ہموار اور لمبوتری چٹان ہے جسے روشیٹ کا نام دیا گیا ہے۔
چند ہفتوں قبل مریخی جہاز نے ایک پتھر پر طبع آزمائی کی تھی جس میں ناکامی ہوئی تھی. ڈرلنگ کے مکمل عمل کی کئی تصاویر بھی ناسا کو موصول ہوئی تھی۔ ناسا روور نے سوراخ کے اندر کا منظر بھی بھیجا ہے جو بالکل گول اور واضح ہے۔ ایک ٹیوب کی بدولت پتھر کا نمونہ لیا گیا ہے جو موٹائی میں عام پینسل کی طرح ہے جو اب مریخی جہاز کے اندر جمع ہوچکا ہے۔
لیکن اب تک اس نمونے کو زمین پر لانے کا کوئی نظام سامنے نہیں آسکا ہے۔ آج نہیں تو شاید کئی برس بعد یہ پتھر مریخی میدان میں اگل دیا جائے گا جسے کسی اور خلائی جہاز سے اچک کر زمین تک لانا ممکن ہوگا۔ اگرچہ پریزرورینس کے اندر بھی ایک چھوٹی تجربہ گاہ موجود ہے لیکن وہ زمینی تجربہ گاہوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ 2030 سے قبل اس نمونے کو زمین تک لانا محال ہے۔
https://www.express.pk/story/2220739/508/
نیند سے اٹھنے کے بعد تھکاوٹ کیوں محسوس ہوتی ہے؟ ماہرین نے اصل وجہ بتادی
Sep 03, 2021 | 18:49:PM

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بہتر نیند مجموعی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ اب ماہرین نے نیند کے معیار اور مقدار کے حوالے سے مفید باتیں لوگوں کو بتا دی ہیں۔
دی سن کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی مقدار یہ ہے کہ آپ کتنے گھنٹے سوتے ہیں اور نیند کا معیار یہ ہے کہ پوری رات میں آپ نیند کی ہر سٹیج میں کتنا وقت گزارتے ہیں۔بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ تمام رات سونے کے بعد صبح بیدار ہوتے ہیں تو آپ تھکے ماندے اور غنودگی کے عالم میں ہوتے ہیں۔اس کا سبب آپ کی نیند کا معیار بہتر نہ ہونا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی نیند کے آخری چکر کے درمیان میں بیدار ہو گئے ہیں۔ چکر کے درمیان میں گہری نیند کا وقت ہوتا ہے، چنانچہ اس وقت بیدار ہونے سے آپ دن بھر تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتے ہیں۔
رات بھر میں نیند کے کئی چکر ہوتے ہیں۔ چکر کی ابتداءہلکی نیند سے ہوتی ہے اور پھر گہری نیند سے ہوتے ہوئے واپس آدمی ہلکی نیند کی طرف آتا ہے۔ اگر آپ اس ہلکی نیند کے مرحلے پر بیدار ہوں تو آپ تروتازہ اٹھیں گے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو 6سے 9گھنٹے کے درمیان نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Sep-2021/1336132?fbclid=IwAR3070G3S7uMkmNSac-Jd4mz2xkq3-iQOOCRbPApf8I9zpgCEVHjXk-cam8
مائیکروسافٹ ونڈوز 11 کا نیا یوزر انٹرفیس، اسٹارٹ مینیو اور دیگر بہت سے فیچر آن لائن لیک ہوگئے ہیں۔
ونڈوز کے نئے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 11 میں موجود تمام فیچر کے اسکرین شاٹس چین کے سرچ انجن بیدو پر شائع ہوگئے ہیں، جس میں نئی آنے والی ونڈوز کا نیا یوزر انٹر فیس، اسٹارٹ مینیو اور دیگر فیچرز شامل ہیں۔
نئی ونڈوز 11 کا یوزر انٹر فیس اور اسٹارٹ مینیو تو ونڈوز 10x سے ملتا جلتا ہی ہے، بصری طور پر سب سے زیادہ تبدیلی جو صارفین کو نظر آئے گی وہ ٹاسک بار میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ مائیکرو سافٹ نے ایپ آئیکونز کو وسط میں کرتے ہوئے ٹرے ایریا کو صاف کردیا ہے جب کہ نیا اسٹارٹ بٹن اور مینیو بھی دیا گیا ہے۔

ونڈوز 11 کا اپ ڈیٹڈ اسٹارٹ مینیوونڈوز10 میں موجود مینیو کا بنا لائیو ٹائلز کا آسان ورژن ہے۔ جس میں ایپس کو پِن کرنے، ریسینٹ فائلزاور ونڈوز11 ڈیوائسز کو جلد شٹ ڈاؤن کرنے کی اہلیت دی گئی ہے۔ نئی آنے والی ونڈوز کا یوزر انٹر فیس درحقیقت مارکیٹ میں موجود ونڈوز10 کے مقابلے میں بہت زیادہ آسان ہے۔
اگر آپ کو ایپ آئکون اور اسٹارٹ مینیو کو درمیان میں رکھنا پسند نہیں ہے تو اس نئی ونڈوز میں انہیں الٹی طرف رکھنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔ مائیکرو سافٹ نے پوری ونڈوز 11 میں راؤنڈ کارنر بھی استعمال کیے ہیں جو کہ کونٹیکسٹ مینیو، ایپ کے اطراف اور فائل ایکسپلورر میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ The Verge کے سینئر ایڈیٹر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں ونڈوز11 کے یوزر انٹر فیس اور اسٹارٹ مینیو میں تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2190814/508/
کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک بہت ننھا منا نینو کیمرہ بنایا ہے جسے ’سالماتی گوند‘ سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں کیمیائی تعاملات (کیمیکل ری ایکشن) کے مشاہدے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے لیے انہوں نے بہت چھوٹے سیمی کنڈکٹر نینوکرسٹلز تیار کئے ہیں جنہیں کوانٹم ڈوٹس بھی کہا جاتا ہے۔ اسےسونے کے نینوذرات سے جوڑا گیا ہے جسے ایک خاص قسم کی سالماتی گوند سے جوڑا گیا ہے۔ اس گوند کو ’کیوکربیٹیورل (سی بی ) کا نام دیا گیا ہے۔ پانی ملانے پر یہ سیکنڈوں میں جڑجاتے ہیں اور ان کا استعمال یہ ہے کہ حقیقی وقت میں ان سے کیمیائی تعاملات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ کیمرہ سیمی کنڈکٹر کے اندر بنایا گیا ہے۔ اس میں الیکٹرون کی منتقلی کا عمل عین فوٹوسنتھے سز (ضیائی تالیف) کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں نینوذرات سینسر کا کام کرتےہیں اور طیفی (اسپیکٹرواسکوپک) طریقے پر کام کرتا ہے۔ اس طرح کیمرے کیمیائی عمل دیکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ہم وہ کیمیائی تعاملات جان سکیں گے جن کے متعلق نظری معلومات تو ہیں لیکن ٹھوس ثبوت اب تک نہیں مل سکے ہیں۔
اس طرح کیمیائی عمل اور سالمات کو کئی اندازوں سے دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب اس کے عملی استعمالات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اس تحقیق کی تفصیل ہفت روزہ سائنسی جرنل نیچر میں شائع ہوئی ہے۔ کیمبرج میں واقع ڈاکٹر یوسف حمید ڈپارٹمنٹ آف کیمسٹری کے پروفیسر اورن شرمن اور ان کے ساتھیوں نے یہ اختراع کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نینوساختوں کو بنانا اور جوڑنا بہت مشکل تھا۔
ضروری تھا کہ دو طرح کے سیمی کنڈکٹروں کو جوڑنے کے لیے قابلِ بھروسہ طریقہ وضع کیا جاسکے۔ اس کے لیے کیوکربیٹیورل یا سی بی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ ایک سالماتی گوند ہے جو کوانٹم ڈوٹس اور سونے کے نینوذرات دونوں کو باہم جوڑسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں فوٹوکیٹے لائسِس کا کیمیائی عمل دیکھا گیا اور دوم روشنی کی بدولت الیکٹرون ٹرانسفر کو نوٹ کیا گیا۔
اس کےنتائج طیف نگاری کی بدولت دیکھے گئے اور یوں حقیقی وقت میں کیمیائی ری ایکشن دیکھے گئے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2220383/508/
قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) نے پیڈیاٹرک کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی (بچوں میں دل کی دھڑکن کی بیماریوں) سے متعلق پاکستان کے پہلے پروگرام کا آغاز کرکے ایک اور سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔
ترجمان این آئی وی ڈی کے مطابق، سکھر میں رہائش پذیر 8 سالہ بچہ دل دھڑکن کی بیماری میں مبتلا تھا جس کا دل 200 دھڑکن فی منٹ کی رفتار سے دھڑکنے لگتا تھا۔
اس بچے کا این آئی سی وی ڈی کراچی میں الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی اینڈ ابلیشن پروسیجر بالکل مفت کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں یہ پروسیجر کسی چھوٹے بچے پر کیا گیا۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو ڈاکٹر محمد محسن کی نگرانی میں حاصل کی گئی۔
ڈاکٹر محمد محسن نے کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی سے پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجی میں 2 سالہ تربیت کے بعد این آئی سی وی ڈی میں شمولیت اختیار کی اور آج وہ این آئی سی وی ڈی میں اسسٹنٹ پروفیسر، پیڈیاٹرک کارڈیک الیکٹروفزیالوجی کے طور پر کام کررہے ہیں۔
اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پروسیجر بغیر کسی پیچیدگی کے کامیابی سے انجام دیا گیا۔ دل کے مسائل جن میں دل بہت تیز یا بہت سست ہو جاتا ہے، بچوں میں یہ غیرمعمولی نہیں۔ ماہر ڈاکٹر ان بچوں کا علاج ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے کرسکتے ہیں جسے الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی اینڈ ابلیشن کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجسٹ نہیں تھے جس کے باعث اب تک ان بچوں کا مناسب علاج نہیں ہوسکا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پیچیدہ پروسیجرز کےلیے کارڈیالوجسٹ، پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ، ٹیکنالوجسٹ، اینستھزیالوجسٹ اور الیکٹروفزیالوجی فزیشن کی ضرورت پیش آئی ہے جو این آئی سی وی ڈی میں موجود ہیں۔
پروفیسر اعظم شفقت (ہیڈ آف الیکٹروفزیالوجی، این آئی سی وی ڈی) کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی ملک میں دل کی دھڑکن کی بیماریوں کے علاج لیے صفِ اول کے اداروں میں سے ایک ہے لیکن پہلے صرف بالغ افراد میں دل کی دھڑکن کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا تھا، مگر اب بچوں میں دل کی دھڑکن کی بیماریوں کے علاج کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔
این آئی سی وی ڈی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے پروفیسر ندیم قمر (ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، این آئی سی وی ڈی) کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی نے ملک میں پہلا پیڈیاٹرک کارڈیک الیکٹروفزیالوجی پروگرام شروع کرکے ایک اور سنگِ میل عبور کیا ہے، یہ ادارے کی بڑی کامیابی ہے۔
اس طرح این آئی سی وی ڈی دنیا میں امراضِ قلب کا علاج کرنے والے بہترین اسپتالوں میں شامل ہوچکا ہے
https://www.express.pk/story/2220567/9812/
میٹھا سوڈا کینسر کا مفید علاج ثابت ہوسکتا ہے :ماہرین
2 September, 2021
کینسر جیسے موذی مرض سے بچاؤ کیلئے ماہرین نے بیکنگ سوڈا سے نیا طریقہ علاج دریافت کرلیا
نیو یارک(نیٹ نیوز)طبی ماہرین جانتے ہیں کہ کینسر کی رسولیوں کا بڑا حصہ ایسا ہوتا ہے جہاں آکسیجن نہیں پہنچتی اور اسی وجہ سے ان مقامات کا علاج کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ اس موقع پر ایم ٹی او آر سی ون نامی ایک مالیکیولر سوئچ خلیے کی صورتحال کا جائزہ لے کر بتاتا ہے کہ خلیے کو تقسیم ہونا ہے یا نہیں۔ اگر ایم ٹی او آر سی1 موجود نہ ہو تو خلیہ کا اندرونی کام ٹھپ ہوجاتا ہے اور سرطانی رسولی کے اندر اس مالیکیول کی سرگرمی ختم ہوجاتی ہے اور بیکنگ سوڈا سرگرمی کو دوبارہ سے شروع کرتا ہے ۔یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بیکنگ سوڈے میں آٹو امیون امراض سے مقابلے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے ، بیکنگ سوڈا کو اگر پانی میں ملا کر کینسر کے مریض کو پلایا جائے تو علاج کی نئی راہیں کھلیں گیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-09-02/1876011
پاکستان میں تو یہ رحجان کم ہے لیکن امریکہ اور دیگر ممالک کے گھروں اور دفاترمیں فرش پر لکڑی کی پرت چڑھائی جاتی ہیں۔ اب لکڑی کے اس فرش پر سلیکن کی باریک تہہ چڑھا کر اس میں دھاتی آئن ملاکر اب چلتے پھرتے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔
نظری طور پر اس ماحول دوست ٹٰیکنالوجی سے یہ ممکن ہے کہ لوگوں کی چلت پھرت سے ایک ایل ای ڈی بلب بھی جلایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کسی تقریب اور کانفرنس وغیرہ میں اس فرش اور قدموں سے اس سے بھی زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ بعض اقسام کے مٹیریئل جب دوسری قسم کے مادوں سے ملتے یا جدا ہوتے ہیں تو چارج پیدا کرتے ہیں۔ اس مظہر کو ’ٹرائبو الیکٹرک اثر‘ کہتے ہیں۔ اس میں ایک سطح سے الیکٹران اتر کر دوسرے مٹٰیریئل پر جاتے ہیں۔ جو مادہ الیکٹرون لے وہ ٹرائبو نگیٹوو کہلاتے ہیں اور جو الیکٹرون دیتے ہیں وہ ٹرائبوپازیٹوو کہلاتے ہیں۔
اسی بنا پر ای ٹی ایچ زیورخ کے پروفیسر گوئیڈو پینزراسا اور ان کے محقق ساتھیوں نے لکڑی کی ٹائل نما چادر پر سلیکن لگایا۔ اب سلیکن والی لکڑی کسی شے سے متصل ہونے پر الیکٹران لینے لگی۔ اس کے بعد دوسرے پینل میں نینوکرسٹل شامل کئے گئے۔ یہ نینو کرسٹل ’زیولیٹک آئمائی ڈیزولیٹ فریم ورک8 پرمشتمل تھے جسے مختصراً زیڈ آئی ایف ایٹ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مرکب ہے ہے جس میں دھاتی آئن اور کچھ نامیاتی سالمات ہوتے ہیں۔ ان کرسٹلز کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ الیکٹرون کھودیتے ہیں۔ فزکس کی زبان میں یہ عمل ’فنکشنلائزیشن‘ کہلاتا ہے۔
اس طرح عام لکڑی کے مقابلے میں الیکٹرون لینے اور دینے کی شرح 80 فیصد تک بڑھ گئی اس طرح لکڑی کی دو پرتوں پر چلنے سے اتنی بجلی ضرور بنی کہ اس سے ایک ایل ای ڈی بلب جلایا جاسکتا ہے۔ اس طرح 2 سینٹی میٹر چوڑے اور 5 سینٹی میٹر لمبے لکڑی کے ٹکڑے پر جب 50 نیوٹن کی قوت لگائی جائے تو اس دباؤ سے 23 وولٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح عام اے فور کاغذ کی جسامت کی لکڑی سے چھوٹے بلب اور دیگر دستی آلات مثلاً کیلکیولیٹر چلائے جاسکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سلیکن کی تہہ چڑھانا ایک ماحول دوست عمل ہے اور اس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2220037/508/
بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو روگ بن جاتے ہیں اور ٹھیک نہیں ہوتے جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کے اکثر زخم بہت دیر میں مندمل ہوتے ہیں۔ اس کے لیے اب ایک انقلابی ہائیڈروجل بنایا گیا ہے جو زخم پرآکسیجن شامل کرکے انہیں تیزی سے ٹھیک کرسکتا ہے۔
اگرچہ آکسیجن تھراپی سے زخموں کا علاج پہلے سے ہی ہورہا ہے لیکن اب پانی سے بھرے پھائے میں خردبینی موتی شامل کئے گئے ہیں جو زخم پربراہِ راست آکسیجن ڈالتے ہیں۔ آکسیجن سے زخم تیزی سے مندمل ہوتا ہے اور ناسور بھی درست ہوجاتے ہیں۔
سینٹ لوئی میں واقع میسوری واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بنیادی طور پر ایک مائع تشکیل دیا اور اس میں خول والے خردبینی دانے شامل کئے جن میں اینزائم کیٹیلیز ملا ہوا تھا۔ جسے ہی اس مائع کو ایک پٹی پر رکھ کر زخم پر ڈالا جاتا ہے تو وہ جلد کی گرمی سے لچکدار جیلی کی طرح بن جاتا ہے۔ اس کے بعد دانوں کے خول میں موجود کیٹیلیز ہائیڈروجن پرآکسائیڈ سے ملاپ کرتا ہے اور سالماتی آکسیجن بنتی ہے۔ یہ عمل دوہفتوں تک جاری رہتا ہے اور آکسیجن سے سوجن کم ہوتی ہے اور جلد کے نئے خلیات بنتے ہیں۔
اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ پٹی ری ایکٹیو آکسیجن اسپیشیز( آراوایس) نامی خطرناک کیمیکل کو تلف کرتی ہے ۔ آر او ایس کی سطح اس وقت بڑھتی ہے جب زخم پر آکسیجن ڈالا جاتا ہے۔ اس طرح ہائیڈروجل زخم پر آکسیجن کو قابو میں بھی رکھتا ہے۔

ہمیشہ کی طرح اس ٹیکنالوجی پربھی چوہے تختہ مشق بنے۔ دانوں والے ہائیڈروجل استعمال کرنے سے زخم 90 فیصد تک سکڑ گیا یعنی اصل سے 10 فیصد رہ گیا۔ اس کے مقابلے میں دانوں کے بغیر جل سے زخم 70 فیصد تک چھوٹا ہوا۔ جبکہ لاعلاج زخموں کو ایسے ہی چھوڑدیا گیا تو ان کی جسامت نصف رہ گئی۔
علاج میں ایک فائدہ اور بھی سامنے آیا کہ دانوں والے ہائیڈروجل نے زخموں پر جو کھال چڑھائی وہ بہت موٹی تھی اور یہ سب کچھ صرف آٹھ روز میں ہی ہوا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے پیچیدہ زخموں اور ذیابیطس کے اچھے نہ ہونے والے زخموں کو مندمل کرنے میں غیرمعمولی مدد ملے گی۔
https://www.express.pk/story/2219969/9812/
بھار میں نایاب نسل کی مچھلی نے راتوں رات ماہی گیروں کو کروڑ پتی بنا دیا، ایک رات میں سوا کروڑ روپے سے زائد کما لیے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ممبئی میں ماہی گیری پر عائد پابندی ہٹنے کے پہلے روز ہی شکار پر جانے والے ناخدا چندرا کانت اور اس کے ساتھیوں کی قسمت چمک گئی۔ ماہی گیروں نے گہرے سمندر میں جال پھینکا تو اسے اندازا نہیں تھا کہ یہ شکار اس کی قسمت بدل دے گا۔ جال کھینچنے پر ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں کیوں کہ ان کا جال بیش قیمت ’سوا‘ مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا۔
چندرا کانت نے ساحل پر پہچنے سے قبل ہی شکار کی گئی 157 سوا مچھلیوں کی ویڈیو اپنے دوستوں کو بھیج دی جو کہ وائرل ہوگئی۔ جب وہ ساحل پر پہنچا تو خریدار یہ مچھلی خریدنے کے لیے لائن لگا کر کھڑے ہوئے تھے۔
ماہی گیروں نے فی مچھلی 85 ہزار بھارتی روپے کے حساب سے فروخت کرکے راتوں رات 1 کروڑ 33 لاکھ بھارتی روپے کما لیے۔
واضح رہے کہ ’سوا‘ مچھلی کے مہنگا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بالغ سوا کی جھلی سے سرجری کے دھاگے (ٹانکے) بنتے ہیں اور یہ دھاگے جسم کی اندرونی جراحی میں استعمال ہوتے ہیں، سوا مچھلی کی اندرونی جھلی سے بننے والے ریشے قدرتی طور پر بایو ڈگریڈیبل ہوتے ہیں اور جسم کے اندر جاکر کچھ عرصے بعد از خود گھل کر ختم ہوجاتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2219991/509/
امریکی بحریہ کے ایک انجینیئر نے لوگوں کو چپ کرانے اور ہجوم کو پریشان کرنے والا غیرنقصاندہ آلہ بنایا ہے جو بولنے والے کی آواز کو ریکارڈ کرکے تھوڑے وقفے کے بعد اس کی جانب لوٹادیتی ہے۔
پیٹنٹ آفس کے مطابق انڈیانا کے ایک بحریہ افسر کرسٹوفر براؤن نے لاؤڈاسپیکر جیسے ایک آلے کا حقِ ملکیت (پیٹنٹ) حاصل کیا ہے جسے ’اکوسٹک ہیلنگ اینڈ ڈسرپشن‘ (اے ایچ اے ڈی) کا نام دیا گیا ہے۔ اپنی سادگی کے باوجود یہ بولنے والے کی آواز کو پکڑتا ہے اور دوبارہ اسے دو آوازوں میں لوٹاتا ہے اول یہ گفتگو کو فوری طور پر اصل آواز میں خارج کرتا ہے اور دوم کچھ وقفے بعد اسی آواز کو فضا میں بکھیرتا ہے۔
اسے تاخیری صوتی ردِ عمل یا ڈیلیڈ آڈیٹری فیڈ بیک کہا جاتا ہے۔ جب سننے والا اپنی ہی آواز کچھ لمحے بعد سنتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر پریشان یا مضطرب ہوسکتا ہے۔ بسا اوقات ہم ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اپنی ہی آواز دوبارہ سنتے ہیں اور پریشان ہوجاتے ہیں۔ عین اسی اصول پر یہ شے ایجاد کی گئی ہے۔
اس صورتحال میں بولنے والا متاثر ہوتا ہے اور گفتگو روک دیتا ہے۔ یہ سادہ ایجاد ایک پیالے نما چھوٹی ڈش، مائیکروفون اور الٹرسونک اسپیکر پرمشتمل ہے۔ اسے جس سمت میں پھیرا جائے یہ وہاں موجود شخص کی آواز سن کر دوبارہ اسی کے چہرے پر بھینک دیتا ہے۔ اس طرح منتخب شخص ہی اسے سن سکتا ہے۔
اس طرح لوگوں کو خبردار کرنے یا غیرمتعلقہ افراد کو آبی سرحدوں سے دور رکھنے کے لیے یہ ایک بہترین ایجاد ہے۔ اس طرح احتجاج کرنے والوں کو خبردار کرنے کے لیے یہ ایک بہترین نسخہ ثابت ہوسکتا ہے۔ فوجی چوکیوں پر اسے دوسروں کو روکنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کسی مجمعے میں بدتمیز لوگوں کو چپ کرانے میں بھی اس کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن واضح رہے کہ یہ نظام ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے استعمال ہورہے ہیں لیکن اس کا پورا نظام بہت بڑا اور بھاری بھرکم تھا اور اب اسے چھوٹا کرکے دستی بنایا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2220008/509/
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108615020&Issue=NP_PEW&Date=20210902
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے گزشتہ روز کورونا وائرس کی ’قابلِ توجہ‘ اقسام میں ایک نئے ’میو ویریئنٹ‘ (Mu variant) کا اضافہ کردیا ہے جسے B.1.621 کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔ البتہ مبہم خبروں کی وجہ سے اس بارے میں تشویش پھیل رہی ہے۔
حالیہ عالمی کووِڈ 19 وبا کا باعث بننے والے ناول کورونا وائرس (سارس کوو2) کی اب تک درجنوں اقسام (ویریئنٹس) سامنے آچکی ہیں۔
تاہم ان میں سے چار ویریئنٹس (الفا، بی-ٹا، گیما، ڈیلٹا) کو زیادہ وبائی پھیلاؤ کی بناء پر عالمی ادارہ صحت نے ’قابلِ تشویش اقسام‘ (variants of concern) قراد دیا ہے۔ ان میں سے بھی اس وقت ’ڈیلٹا ویریئنٹ‘ دنیا بھر کے بیشتر ملکوں میں سب سے زیادہ لوگوں کو متاثر کررہا ہے۔
ان کے علاوہ ’سارس کوو 2‘ وائرس کی بعض اقسام ایسی بھی سامنے آئی ہیں جو فی الحال قابلِ تشویش تو نہیں مگر اِن کی ساخت اور وبائی پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں وہ سنجیدہ صورت اختیار کرسکتی ہیں۔
اسی لیے اِن ویریئنٹس پر زیادہ توجہ رکھنا ضروری خیال کیا جارہا ہے، لہذا انہیں ’قابلِ توجہ اقسام‘ (variants of interest) کا مجموعی عنوان دیا گیا ہے۔
اب تک ’سارس کوو2‘ وائرس کے پانچ ویریئنٹس (اِیٹا، آئیوٹا، کاپا، لیمبڈا اور میو) کو ’قابلِ توجہ اقسام‘ میں شامل کیا جاچکا ہے۔
قابلِ توجہ اقسام کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ’میو ویریئنٹ‘ کا ہے جو عالمی ادارہ صحت نے 30 اگست 2021 کے روز کیا تھا جبکہ اس کا باضابطہ اعلان گزشتہ روز یعنی 31 اگست 2021 کو اسی ادارے کی ویب سائٹ پر کووِڈ 19 کے وبائی پھیلاؤ سے متعلق ہفتہ وار اپ ڈیٹ میں کیا گیا تھا۔
’میو ویریئنٹ‘ پہلے پہل جنوری 2021 میں جنوبی امریکی ملک کولمبیا سے سامنے آیا تھا جو بعد ازاں دیگر جنوبی امریکی اور یورپی ممالک سے بھی رپورٹ ہوا۔
29 اگست 2021 تک ’میو ویریئنٹ‘ سے 39 ملکوں میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 4650 ہوچکی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ جنوری سے اگست تک اس سے متاثر ہونے والوں کی شرح بتدریج کم ہوتی چلی گئی جو آج 0.1 فیصد ہوچکی ہے۔
تاہم آج اس کا زیادہ پھیلاؤ جنوبی امریکا کے صرف دو ملکوں یعنی کولمبیا (39 فیصد) اور ایکواڈور (13 فیصد) تک محدود رہ گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’میو ویریئنٹ‘ میں کچھ ایسی تبدیلیاں (میوٹیشنز) دیکھی گئی ہیں جو ممکنہ طور پر اسے موجودہ ویکسینز یا انسانی جسم کے دفاعی ردِعمل سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ’میو ویریئنٹ‘ کے خلاف موجودہ کورونا ویکسینز کے ناکارہ ہونے کا خدشہ ضرور ہے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔
اس حوالے سے ابتدائی نوعیت کی کچھ رپورٹیں سامنے آئی ہیں مگر ابھی ان کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
یعنی یہ کہ ’میو ویریئنٹ‘ سے محتاط رہیے، گھبرائیے نہیں!
https://www.express.pk/story/2219841/9812/
بسا اوقات عینک کے عدسے پرلگنے والے دھبے بڑی مشکل سے دور ہوتے ہیں اور کئی بار کپڑا رگڑنے کے باوجود بھی براجمان رہتے ہیں۔ اب اس کا حل ’لینس ایچ ڈی‘ کی صورت پیش کیا گیا ہے جو عینک سے ہرطرح کے دھبے اور گردوغبار کو بڑی حد تک صاف کرکےعینک کو شفاف بناتی ہے۔
لینس ایچ ڈی بنانے والوں نے اسے عینک صاف کرنے کا ایک اسٹیشن قراردیا ہے۔ اس میں چار موٹریں لگی ہیں جن کی بیرونی سطح نرم فوم کے گول ٹکڑے لگے ہیں جو موٹر کے بل پر گھومتے ہیں۔ اس کے اوپر نرم اور خاص قسم کا کپڑا لگا ہے۔ بس آپ کو یہ کرنا ہے کہ بہتر نتائج کے لیے فوم پر پانی کا اسپرے کیجئے اور اس کے بعد ڈبے میں چشمہ رکھنے کے بعد اسے بند کردیں۔

اندر کا نظام ازخود چلتا ہے اور موٹریں گھومتی ہیں اور دھیرے دھیرے چشمے سے گرد، تیل اور دھول مٹی کو صاف کردیتی ہیں۔ موٹریں عین اسی طرح گھومتی ہیں جس طرح واشنگ مشین کا پہیہ گھومتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا کمال بیرونی کپڑے کا ہے جس میں ’خردریشے‘ یا مائیکروفائبر استعمال کئے گئے ہیں جو بہت نرمی سے دھول مٹی اور چکنائی صاف کرکے عینک کو شفاف بناتےہیں۔ واضح رہے کہ کپڑے کے ریشوں کی موٹائی انسانی بال سے بھی 100 درجے کم ہیں اور یوں شیشے پر کوئی خراش یا نشان نہیں پڑتا۔
میلے ہونے پر آپ اسفنج اور کپڑے کو نکال کر دھوسکتے ہیں جو فوری طور پر صاف ہوجاتے ہیں اور دوبارہ عینک کو شفاف بناتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2219163/508/
روسی خلانوردوں نے امریکا کے زیرِ انتظام عالمی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں مزید دراڑوں کا انکشاف کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دراڑیں اور بھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔
یہ دراڑیں ’آئی ایس ایس‘ کے سب سے پرانے ماڈیول ’زاریا‘ میں نمودار ہوئی ہیں۔ مارچ 2021 کے دوران اسی ماڈیول کی بیرونی سطح پر کچھ باریک دراڑوں کا پتا چلا تھا جنہیں خلائی اسٹیشن میں مقیم خلا نوردوں نے بند کردیا تھا۔
کارگو ماڈیول ’زاریا‘ عالمی خلائی اسٹیشن کے اُن اوّلین حصوں میں شامل ہے جنہیں 1998 کے دوران خلاء میں پہنچا کر اس کی تعمیر شروع کی گئی تھی۔ یہ ماڈیول روس کا تیار کردہ ہے جسے مدار میں پہنچے ہوئے آج 23 سال ہوچکے ہیں۔
خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آئی ایس ایس‘ میں دراڑوں کا نمودار ہونا کوئی عجیب یا غیر متوقع واقعہ ہر گز نہیں کیونکہ خلائی اسٹیشن کو ہر وقت خلاء میں تیز رفتاری سے آوارہ گردی کرتے ہوئے ’خلائی کچرے‘ کے علاوہ زبردست اندرونی دباؤ کا سامنا بھی رہتا ہے۔
حفاظت کے نقطہ نگاہ سے خلائی اسٹیشن کی بیرونی سطح کا وقفے وقفے سے جائزہ لیا جاتا رہتا ہے تاکہ اس پر پڑنے والی دراڑوں اور چھوٹے چھوٹے شگافوں کا سراغ لگا کر انہیں بروقت بند کیا جاسکے۔
ویب سائٹ ’اسپیس ڈاٹ کام‘ کے مطابق، پچھلی بار دریافت ہونے والی دراڑیں بال جتنی باریک تھیں جبکہ نئی دراڑیں ان سے کچھ بڑی، یعنی ریت کے ذرّوں جتنی موٹی ہیں۔
دوسری جانب خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ نے روسی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’راکٹ اینڈ اسپیس کارپوریشن انرگیا‘ کے چیف انجینئر ولادیمیر سولوفیوف نے زاریا ماڈیول کی سطح پر ’چند مقامات پر‘ دراڑوں کا انکشاف کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دراڑیں بتدریج پھیل کر پورے ماڈیول کو ناکارہ بھی بنا سکتی ہیں۔
عالمی خلائی اسٹیشن پر پڑنے والی دراڑوں کے بارے میں اب تک صرف روسی ذرائع سے ہی خبریں ملی ہیں لیکن امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ نے اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
https://www.express.pk/story/2219454/508/
آسٹریلوی طبّی ماہرین نے تقریباً چار سال تک جاری رہنے والی ایک تحقیق سے دریافت کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو زیادہ مقدار میں ایک دوا کے بجائے چار دواؤں کی تھوڑی تھوڑی مقدار ایک ساتھ دی جائے تو انہیں زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز کی یونیورسٹی آف سڈنی میں یہ طبّی آزمائشیں ہائی بلڈ پریشر کے 591 مریضوں پر ساڑھے تین سال تک جاری رہیں جبکہ ان میں شریک رضاکاروں کی عمر 18 سال سے زیادہ تھی۔
تحقیق کی غرض سے بلڈ پریشر کی چار مختلف دواؤں (اربیسارٹن، ایملوڈیپائن، انڈاپامائیڈ اور بائیسوپرولول) کی بہت کم مقدار (الٹرا لو ڈوز) کیپسول میں ایک ساتھ بند کی گئی۔
تفصیلی اور محتاط مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ مذکورہ چار دوائیں (بہت کم مقدار میں) ایک ساتھ لینے والے 80 فیصد مریضوں میں 12 ہفتے بعد ہائی بلڈ پریشر بخوبی کنٹرول ہوگیا جبکہ وہ دوسرے مریض جو ایک وقت میں کوئی ایک یا دو دوائیں قدرے زیادہ مقدار میں استعمال کررہے تھے، ان میں اسی وقفے کے دوران بلڈ پریشر کنٹرول ہونے کی شرح 60 فیصد کے لگ بھگ رہی۔
طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 20 فیصد کا فرق بھی بہت اہم ہے کیونکہ آج تک بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں دواؤں کے استعمال سے متعلق کوئی ایک حکمتِ عملی بھی ایسی نہیں جسے ہر ایک کےلیے یکساں طور پر مؤثر قرار دیا جاسکے۔
مریض میں ہائی بلڈ پریشر کی علامات سامنے آنے پر بیشتر ڈاکٹر صاحبان پہلے ایک دوا سے شروع کرتے ہیں اور جب اس دوا کی تاثیر کم ہونے لگتی ہے تو اس کے ساتھ کوئی دوسری دوا بھی تجویز کردیتے ہیں۔
تاہم اس دوران اکثر خاصا وقت گزر چکا ہوتا ہے لہذا دونوں دوائیں مل کر بھی اچھے نتائج نہیں دے پاتیں۔
یہ اور ان جیسے کئی مسائل کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر آج تک ایک عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے جسے انسان کا ’’دشمن نمبر ایک‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اگر ہائی بلڈ پریشر کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہے تو یہ دل کی مختلف بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کے علاوہ فالج کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
’’کوارٹیٹ‘‘ کے عنوان سے کیے گئے مذکورہ مطالعے کی تفصیلات طبّی جریدے ’’دی لینسٹ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ساتھ چار دوائیں (معمولی مقدار میں) دینے کے مفید اثرات زیادہ لمبے عرصے تک برقرار رہے۔
’’اگر اس نئی حکمتِ عملی سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو پہلے سے صرف 20 فیصد زیادہ بھی افاقہ ہوتا ہے تو یوں سمجھیے کہ ہم ہر سال اس (ہائی بلڈ پریشر) سے متاثرہ، لاکھوں لوگوں کی جانیں بھی بچا سکیں گے،‘‘ ڈاکٹر کلارا چاؤ نے کہا، جو اس تحقیق کی نگراں اور یونیورسٹی آف سڈنی میں شعبہ طب کی پروفیسر بھی ہیں۔
البتہ انہوں نے اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ کوئی بہتر اور زیادہ مؤثر نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
https://www.express.pk/story/2219489/9812/
بجلی کے معمولی جھٹکوں سے کمر کا شدید درد ختم کرنیکا طریقہ
30 August, 2021
برطانوی اور امریکی سائنسدانوں نے بہت کم فریکوینسی والی بجلی کے معمولی جھٹکوں سے کمر کا شدید درد ختم کرنے میں اتنی غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے
لندن(نیٹ نیوز)کہ جس پر خود انہیں یقین نہیں آرہا۔کنگز کالج لندن کے ماہرین نے 20 مریضوں پر تجربات کئے جن کی کمر کے نچلے حصے میں پچھلے کئی سال سے شدید درد تھا۔مریضوں کی کمر میں، معمولی آپریشن کے بعد، ریڑھ کی ہڈی کے قریب دو چھوٹے چھوٹے برقیرے نصب کردئیے گئے جن میں سے روزانہ تھوڑی دیر تک بہت کم فریکوینسی پر معمولی سی بجلی گزاری گئی۔بجلی گزرنے پر ریڑھ کی ہڈی میں موجود اعصاب سے درد کے سگنل دماغ تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور یوں ان مریضوں میں کمر کا درد بہت کم ہوگیا۔ تجربات میں 90 فیصد مریضوں کی کمر کا درد اوسطاً 80 فیصد کم ہوگیا ،کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے یا پھر کچھ نیا دریافت کرلیا گیا ہے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-30/1874638
قدیم جانور موجودہ چھپکلیوں اور سانپوں کا اصلی باپ قرار
30 August, 2021
ارجنٹینا سے ملنے والے ایک رکاز پر نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے
بیونس آئرس(نیٹ نیوز)کہ یہ چھپکلی نما جانور تھا جو وہاں 23 کروڑ 10 لاکھ سال پہلے پایا جاتا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید یہی جانور موجودہ زمانے کی چھپکلیوں اور سانپوں کا ارتقائی جدِامجد یعنی ‘اصل باپ’ بھی تھا۔مطلب یہ کہ ‘‘ٹیٹالورا الکوبیری’’ کہلانے والے اسی جانور کی بعد والی نسلیں بتدریج ارتقاء پذیر ہو کر سانپوں اور چھپکلیوں کی شکل اختیار کرگئیں۔آج یہ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کا سب سے بڑا گروہ بھی ہے جس میں چھپکلیوں، سانپوں اور سیکڑوں جل تھلیوں سمیت 11 ہزار سے زیادہ انواع شامل ہیں۔اس گروہ کا نام ‘‘لیپیڈوسارس’’ رکھا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا ارتقاء آج سے 26 کروڑ سال پہلے شروع ہوا تھا ۔ٹیٹالورا کی دریافت سے ریپٹائلز کے ارتقا سے متعلق جاننے میں مدد ملنے کی امید ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-08-30/1874641
بوسٹن ڈائنامکس کے اٹلس روبوٹ بہت مہنگے ہیں لیکن اسی طرح کا چھوٹا پالتو چوپایا روبوٹ بنایا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت سے سیکھتا ہے اور آواز کے اشارے پر حکم بجالاتا ہے۔
بچے اس سے ٹیکنالوجی اور سائنس کے سبق سیکھ سکتے ہیں تو بڑے اسے دیکھ کر محظوظ ہوسکتےہیں۔ روبوٹ دیکھنے میں کتے جیسا لگتا ہے لیکن اس سے بھی کہیں بڑھ کرہے۔ آواز سن کر یہ احکامات بجالاتا ہےاور 12 درجے کےتحت یہ گھوم پھرسکتا ہے۔ اس کا پورا نام ایکس گو مِنی ہے جو آپ کی دفتری میزپر آرام سے بیٹھا رہتا ہے۔

اسے ہموار رکھنے کے لیے آئی ایم یو پوسچر ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جبکہ اس پورا پروگرام اوپن سورس ہے۔ اگر آپ کو پروگرامنگ آتی ہے تو آپ اس روبوٹ کو مزید کرتب سکھاسکتے ہیں۔
اے آئی کے مختلف ماڈیولز کی بدولت ایکس گو صوتی اور بصری اشاروں کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ رنگوں کو پہچانتا ہے اور کیو آر کوڈز کو بھی جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اطلاقات اور کرتب کی فہرست بہت طویل ہے۔ ان میں چہرے کی شناخت، انگلی کی حرکت کا مطلب سمجھنا، رنگوں کی پہچان اور شناخت، تصاویر پہچاننے، دائرہ ڈھونڈنے، لکیر پیٹنےاور دیگر صلاحیتیں شامل ہیں۔
اے آئی کے لیے روبوٹ کا دل و دماغ کینڈرائٹ کے 210 چپ ہے جسے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اپنے ایکچوایٹرز اور موٹروں کی بدولت یہ دائیں، بائیں، آگے، پیچھے، اور دیگر سمتوں میں چل پھرسکتا ہے۔ اپنی ٹانگیں لمبی کرتے ہوئے مالک سے اپنائیت کا اظہار بھی کرتا ہے۔
ایکس گو کو اسمارٹ فون ایپ سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور بچے اسے دیکھ کر بہت خوش ہوسکتےہیں۔ ایکس گو کرتب اور کھیل میں بچوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے کئی اہم اصول سکھا سکتا ہے۔ روبوٹ دو ماڈلوں میں دستیاب ہے جن میں سے ایکس گو لائٹ کی قیمت 199 ڈالر اور ایکس گو مِنی کی قیمت 549 ڈالر رکھی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2218828/508/
ییل یونیورسٹی نے حال ہی میں ایک اہم مطالعہ مکمل کیا ہے جس میں دنیا کی پہلی موبائل ایم آر آئی مشین کو استعمال کیا ہے جس کے شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یہ مشین پہیوں پرسفر کرتی ہے یعنی یہ دنیا کی پہلی موبائل ایم آرآئی مشین بھی ہے۔
اس مشین کے خواص جان لیں جو بھاری بھرکم ایم آر آئی مشینوں سے 10 گنا کم وزنی ہے اور اس کے پینتیسویں حصے کے برابر بجلی استعمال کرتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کی قیمت روایتی مشینوں سے بھی 20 گنا کم ہے۔ اپنے تمام خواص کی بنا پر یہ مشین مہنگے، بھاری اور بجلی کھانے والے ایم آر آئی نظاموں کو بہترین متبادل ثابت ہوسکتی ہے۔
ہائپرفائن نامی کمپنی نے یہ مشین بنائی ہے جسے ’پورٹیبل پوائںٹ آف کیئر ایم آر آئی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا دل ودماغ کمپیوٹنگ کی طاقت ہے جسے استعمال کرتے ہوئے اسے روایتی طاقتور مقناطیسی میدان کی ضرورت نہیں رہتی اور کم طاقت میں ہی وہی نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

اس مشین کو چلاکر خود مریض کے بستر تک لے جایا جاسکتا ہے اور بجلی کے عام ساکٹ میں پلگ لگا کر ایم آرآئی کا پورا عمل انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس پر ایک سال کے دوران 30 ایسےمریض لائے گئے جن کے دماغ میں رسولی تھی یا پھر وہ فالج کے شکار ہوئے تھے۔ 30 میں سے 29 مریضوں میں اس نے مرض کی درست تشخیص کی جو بہت ہی حیرت انگیز ہے۔
فالج کی فوری شناخت
اس مشین پر کئے گئے تجربات میں یہ اہم بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ مشین بالخصوص بہت درستگی کے ساتھ فالج کا پتا لگاسکتی ہے۔ فالج کی صورت میں وقت کم ہوتا ہے کیونکہ دماغ کی انتہائی باریک شریانوں میں خون کا لوتھڑا پھنس جاتا ہے ۔ اس سے دماغ کو خون اور آکسیجن نہیں پہنچتا اور وہاں کے حصے بہت تیزی سے مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں خون پتلا کرنے والی دوائیں یا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن دوسری صورت میں دماغ کی رگ پھٹنے سے اندر خون کا بہاؤ شروع ہوجاتا ہے جس کے لیے فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مشین دونوں کیفیات میں ڈاکٹروں کو بتاتی ہے کہ کس موقع پر سرجری کی ضرورت ہے۔
اس مطالعے میں 144 افرد کو شامل کیا گیا جنہیں پہلے روایتی دماغی عکس نگاری (نیوروامیجنگ) کے عمل سے گزارا گیا اور اس کے بعد نئی ایم آر آئی مشین سے ان کی تشخیص کی گئی ہے۔ پھر ماہرین کو اسکین دکھائے گئے جنہیں دیکھ کر انہوں نے دماغی رگ پھٹنے یا پھر خون کے لوتھڑے جمنے کے درمیان اپنی رائے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی ایم آر آئی مشین اس کی 80 فیصد درست شناخت کرچکی تھی۔
دنیا کا یہ ہلکا پھلکا ایم آر آئی سسٹم قیمتی جانوں کو بچاسکتا ہے جسے دوردراز علاقوں اور دیہاتی ہسپتالوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اب سائنسداں مزید تجربات کرکے ڈیٹا حاصل کررہے ہیں تاکہ اس نئی مشین کی مزید افادیت سامنے آسکے۔
https://www.express.pk/story/2218139/9812/


No comments:
Post a Comment