سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!
19 September, 2021

تحریر : عبدالحفیظ ظفر
سری لنکا کو نو آبادی بنانے کا عمل 1505 ء میں شروع ہوا جب پرتگیزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ پھر1815ء میں برطاینہ نے پورے جزیرے کو فتح کرلیا۔ 1948ء میں سری لنکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ جب برطانیہ نے سری لنکا پر قبضہ کیا تو اس نے اسے سیلون ( Ceylon )کا نام دیا آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی 1972ء تک سری لنکا کی نو آبادی حیثیت( Dominion Status )برقرار رہی ۔اصل میں1802ء میں ہی ایمنیز معاہدے کے بعد برطانیہ کے پاس جزیرے کا وہ حصہ چلا گیا جو ولندیزیوں کے پاس تھا۔1803ء میں برطانیہ نے کنیڈی پر حملہ کردیا لیکن اس حملے کو پسپا کردیا گیا۔ اسے کنیڈی کی پہلی جنگ(Kandyan war )کہا جاتا ہے کنیڈی کی دوسری جنگ میں اسے فتح کرلیا گیا اور یوں سری لنکا کی آزادی کا خاتمہ ہوگیا۔
سری لنکا مجموعی طورپر 443 برس تک نو آبادی بنا رہا۔ پہلے پرتگیزیوں نے نو آبادی( 1505-1658) بنائے رکھا پھر یہ جزیرہ ولندیزیوں (1658-1796 )کے زیر تسلط رہا اور پھر اسے1796 سے 1948 تک برطانیہ نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا۔ 1815ء میں جب برطانیہ نے اسے مکمل طورپر فتح کیا تو سری لنکا کے ساحلی علاقوں کو فرانس نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا تھا۔ 1815ء میں یہ ساحلی علاقے بھی برطانیہ کے قبضے میں آگئے۔ البتہ سری لنکا کے اندرونی علاقوں پر سنہالہ کے بادشاہ کی حکومت تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ کو یہ ضرورت کیوں پڑی کہ وہ سری لنکا کو نو آبادی بنائے۔ اس کی وجہ نپولین کی مشہور جنگیں تھیں۔ برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر فرانس نے نیدر لینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا تو پھر سری لنکا فرانس کی نو آبادی بن جائے گا۔1802ء میں ایمنیز معاہدے کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ کی دشمنی عارضی طورپر ختم ہوگئی۔
سری لنکا کی آزادی کی تحریک بہت پر امن تھی جس کا مقصد آزادی کا حصول اور حکومت خود کرنے کا اختیارلینا تھا۔ برٹش سیلون کو اقتدار پر امن طریقے سے منتقل کرنے کا مطالبہ آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا۔ ایشیا میں برطانوی راج نے اس وقت زور پڑا جب نپولین کو واٹر لو میں شکست سے دو چار ہوتا پڑا۔ برطانوی راج کے وقار کوبھارت، افغانستان اور جنوبی افریقہ میں ہلکا سا نقصان پہنچا۔ 1914ء تک برطانوی راج کو کوئی چیلنج نہ کرسکا۔ سری لنکا کی معیشت کا دارومدار زراعت اور غیر ملکی زر مبادلہ پر تھا۔ سری لنکا میں زمین بڑی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس کی وجہ سے مختلف ممالک کی آپس میں کئی جنگیں ہوئی تھیں۔ 1830ء کے عشرے میں سری لنکا میں کافی( Coffee )متعارف کروائی گئی اس کے علاوہ سیلون ٹی بڑی مشہور ہوئی۔ چائے کے باغات بنائے گئے اور یورپ کے لوگوں نے خوب دولت بنائی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے جنوبی بھارت سے بڑی تعداد میں تامل کارکنوں کو بلایا جو بہت جلد سری لنکا کی آبادی کا 10 فیصد حصہ بن گئے۔
سیلون قومی کانگرس( CNC )کی بنیاد خود مختاری حاصل کرنے کے لئے رکھی گئی لیکن یہ پارٹی جلد ہی نسلی بنیادوں پر ٹوٹ گئی۔ اس کاسب سے بڑا سبب یہ تھا کہ سیلون کے تاملوں نے اقلیتی حیثیت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سیلون قومی کانگرس آزادی کی خواہاں نہیں تھی۔ تحریک آزادی کے آرزو مند واضح طورپر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جوآئین پسند تھے یہ لوگ آہستہ آہستہ تبدیلی کے ذریعے سیلون کی حیثیت میں تبدیلی چاہتے تھے تا کہ آزادی کا سفر آسان ہوجائے۔ زیادہ انقلابی گروپ کولمبو یوتھ لیگ ، گونا سنگھے کی مزدور تحریک اور جافنا یوتھ کانگرس سے منسلک ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران سری لنکا جاپان کے خلاف برطانوی اڈہ تھا۔15 اپریل 1942ء کو جاپان کی نیوی نے کولمبو پر بمباری کی جس کی وجہ سے بھارتی تاجرسری لنکا سے نکل گئے۔ آخر کار سنہالی لیڈر ڈی ایس سنہانائکے کی قیادت میں جدوجہد کرنے والے آئین پسندوں نے آزادی کی جنگ جیت لی۔
جنگ عظیم دوم کے بعد سنہالی لیڈرنے آزادی کے مسئلے پر سیلون نیشنل کانگرس کی چھوڑ دی ۔ انہوں نے بعد میں یونائٹیڈ نیشنل پارٹی بنالی۔1947ء کے انتخابات میں یو این پی نے پارلیمنٹ کی اتنی زیادہ نشستیں نہیں جیتیں لیکن سولومان نیدرانائیکے اور جی جی پونم بالم کی تامل کانگرس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہوگئی۔ سری لنکا1972ء میں جمہوریہ بنائے1978ء میں آئین متعارف کروایا گیا۔ جس کی رو سے صدر کو ریاست کا سربراہ بنایا گیا۔1983ء میں سری لنکا میں خانہ جنگی شروع ہوگئی1971ء اور 1987ء میں مسلح بغاوتیں ہوئیں۔2009ء میں25 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-19/25233
ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ
18 September, 2021

تحریر : خاورنیازی
اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ تاریخ اچھے الفاظ میں صرف انہی کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مفاد عامہ کے لئے بے لوث خدمات سرانجام دی ہوں ۔ تاریخ جہاں فلاحی کام کرنے والوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے وہیں سیاہ کرتوت کے حامل افراد کے سیاہ کارناموں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں کثرت سے ملتا ہے۔
جب ہم خلافت عباسیہ کے پانچویں خلیفہ ہارون الرشید کے دور خلافت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی نیک نامی کے ساتھ کچھ نہ کچھ انتظامی خامیوں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے۔ ہارون الرشید اس لحاظ سے خوش قسمت گردانے جائیں گے کہ ان کی شریکِ حیات ایک نیک، پارسا،خدا ترس اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار خاتون تھیں ۔
زبیدہ بنت جعفر ، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی چچازاد اور بیوی تھیں۔ ان کا ابتدائی نام اگرچہ " امۃ العزیز " تھا لیکن ان کے دادا جنہیں ان سے بے پناہ پیار تھا اسے ''زبیدہ ‘‘کہہ کر مخاطب کرتے تھے چنانچہ بچپن ہی سے ان کا یہ نام شہرت اختیار کر گیا اور اصل نام امۃ العزیز قصہء پارینہ بن گیا۔
زبیدہ 762 عیسوی میں موصل میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت ان کے والد موصل کے گورنر تھے۔ زبیدہ انتہائی خوش شکل،ذہین ، نرم گو ،رحم دل مخیراور انتہائی خوش پوش خاتون تھیں۔سن 782 عیسوی میں جب یہ بیس برس کی عمر کو پہنچیں تو انکی شادی خلیفہ ہارون الرشید سے ہو گئی۔کہتے ہیں ہارون الرشید اس شادی پر اسقدر خوش تھے کہ انہوں نے بلا تفریق ہر خاص و عام کو شادی کی تقریب میں مدعو کیا تھا۔
ملکہ زبیدہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ 23سال تک ایک
وسیع و عریض سلطنت کی خاتون اول رہیں۔ ہارون الرشید کا 23 سالہ دورخلافت ملکہ زبیدہ کے شاہانہ عروج کا دور تھا۔ انہوں نے اقتدار میں رہ کر فلاحی کاموں میں حیرت انگیز طور پر حصہ ڈالا۔ انہوں نے عراق سے مکہ معظمہ تک حاجیوں اور مسافروں کے لئے جگہ جگہ سرائیں تعمیر کرائیں ، کنویں کھدوائے۔
اس زمانے میں تواتر سے آتی آندھیوں کے سبب سال کے بیشتر حصے یہ رستہ مٹی سے ڈھک جاتا تھا جس کے سبب مسافر اکثر راستہ بھول جاتے اور کئی کئی دن صحرا میں بھٹکتے رہتے تھے۔ چنانچہ ملکہ زبیدہ نے لاکھوں دینار خرچ کر کے راستے کے دونوں جانب پختہ دیواریں تعمیر کرائیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملکہ نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مسجدیں بنوائیں۔ علاوہ ازیں ملکہ زبیدہ نے ایک نہر عار کوہ بنان سے بیرو تک بنوائی اور اس پر متعدد پل بھی بنوائے۔ جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں ۔انہیں اب بھی
'' تناظر زبیدہ ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
''انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا‘‘ کے مطابق ملکہ زبیدہ نے ایران کے ایک پر فضا مقام سے متاثر ہو کر تبریز نامی ایک شہر بھی آباد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کی کتابوں میں مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ کا ذکر بھی ملتا ہے جو دوسری ہجری میں حادثاتِ زمانہ کے ہاتھوں تقریباً اجڑ چکا تھا , ملکہ زبیدہ نے اس تاریخی شہر کے تشخص کو بحال کرنے کے لئے اسکی ازسرنو تعمیر کرائی۔یوں تو ملکہ زبیدہ کے رفاہی کاموں کی فہرست خاصی طویل ہے لیکن ملکہ کا ایک کارنامہ جو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔
وہ '' نہر زبیدہ ‘‘ جیسے کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبے کی تکمیل تھی۔
نہر زبیدہ کی تعمیر کا پس منظر: صدیوں سے مکہ مکرمہ اور دیگر سعودی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔کہتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید سے بہت پہلے بھی ایک دفعہ پانی کا اس قدر سنگین بحران پیدا ہو گیا تھا کہ محض ایک مشکیزہ دس درہم تک بکنے لگا۔ ایک دفعہ جب ملکہ زبیدہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں تھیں تو انہوں نے اہل مکہ اور حجاج کرام کو درپیش پانی کی قلت دیکھی تو اسی لمحے انہوں نے مکہ مکرمہ میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے مستقل انتظام کرنے کا ارادہ کر لیا ۔اس کا مقصد اہل مکہ اور حجاج کرام کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کو یقینی بناناتھا۔
ملکہ نے ہنگامی بنیادوں پر جب دنیا بھر کے ماہرین کو یہ ذمہ داری سونپی تو طویل جدوجہد کے بعد ماہرین نے اطلاع دی کہ انہیں دو جگہوں سے بہتے چشموں کا سراغ ملا ہے۔ایک مکہ مکرمہ سے لگ بھگ پچیس میل کی دوری پر جبکہ دوسراچشمہ کرا کی پہاڑیوں میں نعمان نامی وادی کے دامن میں واقع ہے ۔ ان چشموں کا مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہیں تھا کیونکہ درمیان میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے رکاوٹ ڈالتے نظر آ رہے تھے۔ ملکہ جو اس نیک کام کا تہیہ کر چکی تھیں انہوں نے اس موقع پر جو احکامات جاری کئے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے آج بھی زندہ ہیں،
''ان چشموں کا پانی مکہ تک پہنچانے کے لئے ہر قیمت پر نہر کھودو۔اس کام کے لئے جتنا بھی خرچ آئے پروا نہ کرو حتی کہ اگر کوئی مزدور ایک کدال مارنے کی اجرت ایک اشرفی بھی مانگے تو دے دو ‘‘۔
ملکہ کا حکم اور ارادے رنگ لے آئے۔تین سال دن رات ہزاروں مزدور پہاڑیاں کاٹنے میں مشغول رہے۔ منصوبے کے تحت مکہ مکرمہ سے 35 کلو میٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ''جبال طاد ‘‘سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ایک نہر جس کا پانی ''جبال قرا ‘‘ سے '' وادی نعمان ‘‘ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا۔یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب واقع تھا۔علاوہ ازیں منٰی کے جنوب میں صحرا کے مقام پر واقع ایک تالاب ''بئیر زبیدہ ‘‘کے نام سے تھا جس میں بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جاتاتھا۔چنانچہ اس تالاب سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر تک لے جایا گیا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔اور یوں اللہ نے اہل مکہ اور حجاج کرام کی سن لی اور نہر کا یہ تاریخی منصوبہ تکمیل کو پہنچا۔
بہت سارے لوگوں کے لئے یہ انکشاف شاید نیا ہو گا کہ اس نہر کا بنیادی نام ''عین المشاش ‘‘تھا لیکن اللہ تعالی کو شاید ملکہ زبیدہ کے نام کو اسی نہر کے توسط سے دوام بخشنا مقصود تھا جس کے سبب یہ ''نہر زبیدہ ‘‘کے نام سے شہرت اختیار کر گئی۔
نہر زبیدہ 1200 سال تک مکہ مکرمہ اور ملحقہ علاقوں تک فراہمی آب کا بڑا ذریعہ رہا۔ پھر 1950 کے بعد اس نہر سے پمپوں کے ذریعہ پانی کھینچنے کاسلسلہ زور پکڑتا گیا جو رفتہ رفتہ نہر کی خشکی تک آن پہنچا۔آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں موجود ہے۔
بلا شبہ یہ ایک کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبہ تھا جسے ملکہ زبیدہ کی مدبرانہ حکمت عملی اور انتھک کاوشوں کے طفیل کامیابی ملی۔
نہر زبیدہ درحقیقت اسلامی ورثے کا ایک نادر نمونہ اور انجنئیرنگ کا لازوال شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر دیکھ کر آج بھی انجینئر اور ماہر تعمیرات حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم اور کٹھن منصوبے کو کیسے پایہء تکمیل تک پہنچایا گیا ہوگا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-09-18/25228
امریکی سائنس دانوں نے مراکش سے ملنے والے، ایک لاکھ 20 ہزار سال قدیم اوزاروں پر تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ انہیں چمڑے سے انسانی لباس بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔
اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ انسان نے آج سے لگ بھگ 40 ہزار سال پہلے ہی اپنے لیے لباس بنانا شروع کیا تھا جبکہ اس سے قبل وہ جانوروں کی کھال اوڑھ کر خود کو موسم کی سختیوں سے بچایا کرتا تھا۔
نئی تحقیق جو ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی، امریکا کی ایمیلی ہیلٹ اور کرٹس میرین کی سربراہی میں کی گئی ہے، انسانی لباس کی تاریخ کو ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کم از کم 80 ہزار سال زیادہ قدیم ثابت کرتی ہے۔
اس تحقیق کی تفصیل ریسرچ جرنل ’’آئی سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے جس میں مراکش کے ’’کونٹریبینڈیئرز‘‘ غاروں سے ملنے والے 60 سے زیادہ قدیم اوزاروں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔

2011 میں دریافت ہونے والے یہ اوزار 90 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار سال قدیم ہیں جنہیں وہیل اور ڈولفن جیسے جانوروں کی ہڈیوں سے تیار کیا گیا ہے۔
ان میں سے کئی اوزاروں پر کچھ مخصوص نشانات ایسے تھے کہ جیسے انہیں جانوروں کی کھال سے لباس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہوگا۔ اس بات کی تصدیق کےلیے ایمیلی ہیلٹ نے لباس بنانے کے حوالے سے دریافت شدہ، قدیم انسانی اوزاروں سے ان کا موازنہ کیا۔

موازنے پر ایمیلی اور ان کے دیگر ساتھیوں کا خیال درست ثابت ہوا۔ ایک لاکھ بیس ہزار سال پہلے بنائے گئے یہ اوزار، لباس سازی میں استعمال ہونے والے قدیم اوزاروں سے بے حد مماثلت رکھتے تھے؛ البتہ یہ ایسے قدیم ترین اوزاروں سے بھی 80 ہزار سال زیادہ قدیم تھے۔
واضح رہے کہ اب تک قدیم ترین انسانی لباس کے بارے میں ہماری معلومات بہت محدود ہیں کیونکہ چمڑے سے بنا ہوا لباس بے حد نرم ہوتا ہے جسے احتیاط سے سنبھال کر رکھا نہ جائے تو وہ صرف چند صدیوں کے بعد ہی گل کر مکمل ختم ہوجاتا ہے۔
ایسی صورت میں ہمارے پاس انسانی لباس سازی کے واحد ثبوت کے طور پر وہ قدیم اور سخت اوزار ہی باقی بچتے ہیں جنہیں لباس بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا؛ اور جو ہزاروں لاکھوں سال تک موسم کی سختیاں جھیلنے کے بعد بھی کسی نہ کسی حد تک باقی رہ گئے ہیں۔
انسانی تہذیب کے آغاز میں مکانات اور زراعت کے علاوہ لباس نے بھی یکساں طور پر اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ تازہ دریافت بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم انسان ہمارے سابقہ خیالات کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ اور ہنر مند بھی تھا۔
https://www.express.pk/story/2225981/508/
غزوہ بنی قریظہ، جب فرشتوں نے بھی ہتھیار باندھے ہوئے تھے، یہودیوں کی تینوں تجاویز کو کیوں رد کیا گیا؟
Sep 12, 2021 | 18:23:PM

غزوہ خندق کے دوران مسلمانوں کے ساتھی یہودی قبیلے بنوقریظہ نے عین جنگ کی حالت میں بد عہدی کی اور مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑ دیا، رسول اللہ ﷺ کو اس بات سے سخت صدمہ ہوا اور آپ نے تحقیق کیلئے حضرت سعد بن معاذ ،سعد بن عبادہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو تحقیق کے لیے روانہ فرمایا اور یہ حکم دیا کہ اگر یہ خبر صحیح نکلے تو وہاں سے واپس آکر اس خبر کو ایسے مبہم الفاظ میں بیان کرنا کہ لوگ سمجھ نہ سکیں اور اگر غلط ہو تو پھر علی الاعلان بیان کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ یہ حضرات بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گئے اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ یاد دلایا تو کعب نے کہا کیسا معاہدہ اور کون محمد ؟میرا ان سے کوئی معاہدہ نہیں۔ غزوہ خندق کے اختتام پر یہودیوں کی اس بد عہدی پر ان کے ساتھ جنگ کی گئی جس کو غزوہ بنو قریظہ کہا جاتا ہے، یہ غزوہ خندق کے فوری بعد ہوا جس میں یہودیوں کو ان کے کیے کی سزا ملی اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح و کامیابی عطا کی۔
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ خندق سے فارغ ہو کر اپنے مکان میں تشریف لائے اور ہتھیار اتار کر غسل فرمایا، ابھی اطمینان کے ساتھ بیٹھے بھی نہ تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ یا رسول اﷲ ! آپ نے ہتھیار اتار دیا لیکن ہم فرشتوں کی جماعت نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارا ہے، اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ آپ بنی قریظہ کی طرف چلیں کیونکہ ان لوگوں نے معاہدہ توڑ کر اعلانیہ جنگ خندق میں کفار کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کیا ہے۔
چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ لوگ ابھی ہتھیار نہ اتاریں اور بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو جائیں، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود بھی ہتھیار زیب تن فرمایا، اپنے گھوڑے پر جس کا نام ” لحیف ” تھا سوار ہو کر لشکر کے ساتھ چل پڑے اور بنی قریظہ کے ایک کنویں کے پاس پہنچ کر نزول فرمایا۔
جس وقت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے وہ ظہر کا وقت تھا، آپ ایک خچر پر سوار تھے اور عمامہ باندھ رکھا تھا، حضرت انس(رض) فرماتے ہیں کہ اللہ نے جب احزاب کو شکست دی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ جب جبرئیل امین فرشتوں کی جماعت کے ساتھ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو کوچہ بنی غنم تمام گردوغبار سے بھر گیا۔ حضرت انس(رض) فرماتے ہیں کہ وہ غبار کہ جو حضرت جبرائیل کی سواری سے کوچہ بنی غنم میں اُٹھا تھا وہ اب تک میری نظروں میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اعلان کرنے کے لئے ایک منادی بھیج دیا جس نے آپ ﷺ کا یہ حکم لوگوں کو سنایا ’’کہ کوئی آدمی عصر کی نماز نہ پڑھے جب تک کہ بنو قریظہ میں نہ پہنچ جائے‘‘۔راستہ میں جب نماز عصر کا وقت آیا تو اختلاف ہوا بعض، نے کہا کہ ہم تو بنی قریظہ ہی پہنچ کر نماز پڑھیں گے، بعض نے کہا ہم نماز پڑھ لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا یہ مقصد نہ تھا کہ نماز ہی قضا کر دی جائے بلکہ مقصد جلدی پہنچنا تھا۔ رسول کریم ﷺ کو جب صحابہ کرام کے اس اختلافِ عمل کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے دونوں فریقوں میں سے کسی کے لئے اظہارِ ناراضی نہیں فرمایا بلکہ دونوں کی تصویب فرمائی۔
بنو قریظہ سے جہاد کے لئے نکلتے وقت رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا، مسلمانوں کے لشکر میں تین ہزار صحابہ موجود تھے ۔ یہودیوں نے جب مسلمانوں کے آنے کی خبر سنی تو قلعہ بند ہوگئے، جب مسلمانوں کا لشکر قلعے کے باہر پہنچا تو ۔۔۔۔
https://dailypakistan.com.pk/12-Sep-2021/1339711?fbclid=IwAR3u-tK0jpAA5-NpjsN6A_wAMyNTq2bZPP_UfwC7B8ppwKX7VjWGmatoTZw
مصر سے ہزاروں سال پرانا شہر دریافت، یہ کس نے بنوایا تھا اور وہاں کیا کچھ ہے؟ تفصیلات ایسی کہ کوئی بھی دنگ رہ جائے
Apr 09, 2021 | 18:47:PM

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر میں بوائے کنگ (معروف فرعون طوطن خامن)کے ’عالی شان‘مقبرے کے بعد اب تک کی سب سے بڑی دریافت کر لی گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ نئی دریافت اس گمشدہ شہر کی ہے جو آج سے ساڑھے 3ہزار سال پہلے طوطن خامن نامی فرعون کے دادا بادشاہ امن ہوتیب سوئم نے تعمیر کرایا تھا۔ اس شہر کو ’گمشدہ گولڈن سٹی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ مصر کے شہر لکسور کے قریب دریافت ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس شہر میں گھروں کے سٹرکچر، سڑکیں، بیکریاں، ورکشاپس اور حتیٰ کہ مقبرے بھی ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ نے اس شہر سے ملنے والے برتنوں اور دیگر اشیاءسے اس کے تعمیر کیے جانے کے دور کا اندازہ لگایا ہے۔ یہاں سے ملنے والی اینٹوں پر بادشاہ امن ہوتیب سوئم کی مہر پائی گئی ہے چنانچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شہرممکنہ طور پر انہوں نے ہی تعمیر کرایا تھا۔
اس شہر کے اندر ایک ’انتظامیہ علاقہ‘ ہے، جس کے چاروں طرف زگ زیگ کے انداز میں ایک دیوار کرکے اسے باقی شہر سے الگ کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں جانے کے لیے دیوار میں ایک ہی جگہ پر دروازہ لگایا گیا تھا۔ اس دیوار و دیگر تنصیبات کا ڈیزائن سکیورٹی سسٹم کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ پورے شہر کا سٹرکچر کچھ اس طرح کا تھا کہ ہر علاقے کے مکینوں کو اپنے علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر کنٹرول حاصل تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک صدی قبل دریافت ہونے والے طوطن خامن کے لگژری مقبرے کے بعد یہ اب تک کی سب سے بڑی دریافت ہے، جس سے ہمیں قدیم مصری تہذیب کے بارے میں بہت کچھ جاننے کو ملے گا۔
https://dailypakistan.com.pk/09-Apr-2021/1274553?fbclid=IwAR0FWIawIEmGjOjnpJv8m3XPOeE8oQdC2PrY4-N_6khvM-ELG8-tvuTvLPg

No comments:
Post a Comment