صحت ، متوازن خوراک اور ورزش کا آپس میں کیا تعلق ہے جانیں اس پوسٹ میں - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Monday, 7 February 2022

صحت ، متوازن خوراک اور ورزش کا آپس میں کیا تعلق ہے جانیں اس پوسٹ میں


Source : Havard Bussines School


کافی پینے والوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس کا باقاعدہ استعمال دماغی انحطاط کے امراض مثلاً ڈیمنشیا اور الزائیمر کو ٹال سکتا ہے۔

آسٹریلیا کی ایڈتھ کووان یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ’عمررسیدگی، طرزِحیات اور اس کی عکس نگاری اور بایومارکر تحقیق‘ کے قومی پروگرام ‘ کے تحت یہ مشاہدات جمع کئے ہیں۔ اس میں 200 آسٹریلوی باشندوں پر ایک عشرے تک سروے کیا گیا تھا۔

تحقیق میں شامل مرکزی سائنسداں ڈاکٹر سمانتھا گارڈنر نے کافی اور کئی اہم بایومارکر( جسم میں مرض اور صحت بتانے والے عناصر مثلاً کولیسٹرول وغیرہ) کا جائزہ لیا ہے۔

’ہم نے دیکھا کہ بظاہر یادداشت میں کوئی خرابی نہ رکھنے والے لیکن زیادہ کافی پینے والے افراد میں اکتسابی خرابی کا رحجان قدرے کم تھا۔ اسے مائلڈ کوگنیٹو امپیئرمنٹ کہتے ہیں جو بڑھتے بڑھتے الزائیمر کی وجہ بنتا ہے اور پھر یہ مرض پیدا بھی ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب کافی پینے سے دماغی افعال مثلاً کام کرنے کی صلاحیت، منصوبہ بندی، خود پر کنٹرول اور توجہ بھی بڑھتی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ کافی پینے سے دماغ میں ایمولوئڈ پروٹین جمع ہونے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ یہ پروٹین اگر دماغ میں بڑھ جائے تو بھی الزائیمر لاحق ہوسکتا ہے۔

تاہم سائنسدانوں نے اتفاق کیا ہے کہ اس ضمن میں غیرمعمولی اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ روزانہ ایک سے زائد کافی کپ پینے سے زائد فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں۔ مثلاً 18 ماہ تک روزانہ دو کپ کافی پینے سے دماغی زوال کا خطرہ 18 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2253017/9812/


جدیدتحقیق میں داڑھی کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا کہ آپ بھی سبحان اللہ پکار اٹھیں گے
Nov 30, 2021 | 18:20:PM

سورس: File

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) داڑھی سنت نبویﷺ ہے اور دین اسلام نے ہر مرد کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک جدید سائنسی تحقیق میں بھی اب داڑھی کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا ہے کہ آپ دین فطرت کے اس حکم پر سبحان اللہ پکار اٹھیں گے۔ دی سن کے مطابق برطانیہ کے ڈاکٹر کرن راجن نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ داڑھی مردوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کرن راجن بتاتے ہیں کہ داڑھی مردوں کے چہروں کو خطرناک بیکٹیریا سے بچاتی ہے۔ اس حوالے سے ایک ہسپتال کے ورکرز پر تحقیق کی گئی ہے جس میں معلوم ہوا کہ جن ورکرز کے چہرے پر داڑھی تھی ان کے چہرے پر ’ایم آر ایس اے‘ (MRSA)نامی مہلک بیکٹیرئیل سپر بگ تین گنا کم موجود تھا۔ یہ ایسا خطرناک بیکٹیریا ہے جس پر کئی اینٹی بائیوٹکس بھی بے اثر ہوتی ہیں اور اس کا علاج لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کرن کا کہنا تھا کہ بغیر داڑھی والے ہسپتال کے مرد ورکرز کے چہرے پر یہ بیکٹیریا تین گنا زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ داڑھی والے مردوں کے چہروں پر دیگر جراثیم اور بیکٹیریا بھی بغیر داڑھی والے مردوں کی نسبت کئی گنا کم پائے گئے۔لہٰذاماہرین کی طرف سے اس تحقیق کی روشنی میں تمام مردوں کو داڑھی رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/30-Nov-2021/1372010?fbclid=IwAR1AscqctQBbHgnkDmDrSZU3s3UGW4BS35jSpRsQ2hAs7C20oTqo6E3oRLE


ڈنمارک کے ماہرین نے ایک طویل تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے کہ مختلف نفسیاتی مسائل میں مبتلا افراد ذیابیطس کا آسان شکار بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کی نینا لندیکلدے کی سربراہی میں یہ جامع تحقیق ڈنمارک اور ہالینڈ کے مختلف تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرین نے انجام دی جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’ڈائبیٹالوجیا‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

اس تحقیق کےلیے انہوں نے 245 مطالعات اور 32 تجزیات سے استفادہ کیا جو پچھلے کئی سال کے دوران میڈیکل لٹریچر میں شائع ہوچکے ہیں۔

انہیں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو شیزوفرینیا، بائی پولر ڈس آرڈر، اضمحلال (ڈپریشن)، اضطراب (اینگژائٹی)، کھانے میں بے اعتدالی، نیند میں خلل اور ڈیمنشیا سمیت 11 مختلف نفسیاتی امراض یا کیفیات کا شکار ہوتے ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح دوسرے افراد کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ تھی۔

ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح سب سے زیادہ نیند کی خرابی کا شکار افراد میں دیکھی گئی جو 40 فیصد تھی جبکہ نفسیاتی تناؤ کی وجہ سے کھانے میں بے اعتدالی برتنے والوں کےلیے یہ شرح 21 تھی۔

بلانوش قسم کے شرابیوں اور بہت زیادہ منشیات استعمال کرنے والوں کی 16 فیصد، اینگژائٹی کے مریضوں کی 14 فیصد، بائی پولر ڈس آرڈر اور سائیکوسس کہلانے والے نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کی 11 فیصد جبکہ فکری معذوری (انٹلیکچوئل ڈس ایبیلٹی) کے مریضوں کی 8 فیصد تعداد ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا دیکھی گئی۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ عام لوگوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح 6 سے 9 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔

البتہ، اس تحقیق کی روشنی میں انہوں نے بطورِ خاص نیند کی خرابی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف ذیابیطس کا امکان بڑھانے میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے بلکہ اگر نیند ایک لمبے عرصے تک مسلسل متاثر رہے تو اس سے دل اور دماغ کی دوسری کئی بیماریاں بھی لاحق ہوسکتی ہیں جو ذیابیطس کا معاملہ مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اب تک مختلف تحقیقات سے یہ بات کئی مرتبہ سامنے آچکی ہے کہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ مستقل فکر، پریشانی اور تشویش بھی ٹائپ 2 ذیابیطس کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔

نئی تحقیق سے بھی یہی تصدیق ہوئی ہے اور خطرے کی نوعیت مزید واضح ہو کر ہمارے سامنے آئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2253648/9812/



بہترین جلد کے لئے کتنے منٹ نہانا چاہیے؟ معروف ڈاکٹر نے انتہائی واضح جواب دے دیا، لوگوں کو خبردار کردیا
Feb 03, 2018 | 18:35:PM


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سردیوں میں جلد کی خشکی کا مسئلہ ہر ایک کو درپیش ہوتا ہے تاہم اب ایک معروف امریکی ڈاکٹر نے اس سے نجات پانے اور جلد کو بہترین بنانے کا ایک انتہائی آسان طریقہ بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق معروف ڈرماٹالوجسٹ ڈاکٹر ہورڈ سوبیل نے بتایا ہے کہ ”سردیوں میں جلد کی خشکی سے بچنے کے لیے روزانہ نیم گرم پانی سے صرف چار منٹ تک نہانا چاہیے۔ کبھی بھی سردیوں میں 4منٹ سے زیادہ مت نہائیں ، حتیٰ کہ 5یا 6منٹ تک نہانے سے بھی جلد کی خشکی کا مسئلہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔“

ڈاکٹر سوبیل کا کہنا تھا کہ ”سردیوں میں نہانے کے لیے صابن کی بجائے کسی نرم کلینزر کا استعمال کرنا چاہیے اور نہانے کے بعد تولیے کا استعمال لازمی ہونا چاہیے لیکن تولیے سے جسم کو رگڑیں مت، بلکہ نرمی سے جسم کو خشک کریں۔اس کے بعد کوئی بھی اچھا موئسچرائزر پورے جسم پر لگائے۔ اس سے آپ کے جسم نے نہانے کے دوران جو پانی جذب کیا ہو گا وہ جسم میں ہی رہے گا اور تمام دن آپ کی جلد خشکی سے محفوظ، نرم اور تروتازہ رہے گی۔نہانے کے بعد موئسچرائزر جتنا زیادہ استعمال کریں اتنا ہی بہتر ہو گا۔“
https://dailypakistan.com.pk/03-Feb-2018/725396?fbclid=IwAR3jQl0vxwRvYY3gkiEna4jvkiJe6Fe8m2bHmzgJLTiqV6Bbv1wsKlCLV1s


روزانہ تھوڑا سا ڈرائی فروٹ کھانے کا صحت کے لیے ناقابل یقین فائدہ سامنے آگیا
Nov 06, 2018 | 19:54:PM


لندن(نیوز ڈیسک) طرح طرح کی بیماریوں اور خصوصاً موٹاپے سے بچنا چاہتے ہیں تو خشک میوہ جات کھائیے، کہیے کیسا اچھا نسخہ ہے ، لطف و ذائقہ بھی کمال اور صحت کے فوائد بھی بے مثال۔ حال ہی میں کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اخروٹ ، مونگ پھلی ، بادام اور پستہ وغیرہ جیسے خشک میوہ جات کا روزانہ کی بنیاد پر استعمال موٹاپے میں کمی کرتا ہے ، دل کی صحت کو بہتر کرتا ہے اور ذیابیطس جیسی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

تحقیق کار کہتے ہیں کہ خشک میوہ جات میں ’ان سیچوریٹڈ‘ چکنائی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے جو آپ کی بھوک بھی مٹاتی ہے اور آپ کو موٹا بھی نہیں ہونے دیتی۔ یہ آپ کی بلڈ شوگر کو اور انسولین کو کنٹرول کرتی ہے اور کولیسٹرول کے لیول کو بھی متوازن رکھتی ہے۔ خشک میوہ جات میں فائبر ، پروٹین ، وٹامن اور معدنیات بھی پائی جاتی ہیں، خاص طور پر فولیٹ ، وٹامن ای ، پوٹاشیم اور میگنیشیم حاصل ہوتی ہے۔

یہ تحقیقات امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی شکاگو میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہلکی پھلکی خوراک کے طور پر چپس اور میٹھی چیزیں کھانے کی بجائے اگر آپ روزانہ ایک 40سے 50 گرام خشک میوہ جات یا مونگ پھلی کھا لیں تو صحت پر اس کے نتائج دیکھ کر آپ واقعی حیران رہ جائیں گے۔ یہ تحقیق ہارورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے کی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/06-Nov-2018/876583?fbclid=IwAR0v0jiYMgjW4qo6fMgvmiMwPylsIOB-3UeE25jzfnyNUwx3-2s9xqzLIUQ


انسان زیادہ کھانے سے موٹا نہیں ہوتا، تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے وزن میں اضافے کی اصل وجہ بتادی
Sep 20, 2021 | 18:57:PM


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عام خیال ہے کہ بسیار خوری موٹاپے کا سبب بنتی ہے لیکن سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس عام تاثر کے برعکس ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کرآپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق بوسٹن چلڈرنز ہسپتال اور ہارورڈ میڈیکل سکول کے ماہرین نے اس مشترکہ تحقیق میں بتایا ہے کہ بسیاری خوری سے آدمی موٹاپے کا شکار نہیں ہوتا بلکہ یہ ’پراسیسڈفوڈ‘ (Processed food)ہمیں موٹاپے میں مبتلا کرتا ہے۔

امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں ڈاکٹر ڈیوڈ لوڈویگ اور ان کی ٹیم بتاتی ہے کہ پراسیسڈ فوڈ کے ساتھ ساتھ آدمی کے کھانے کے پیٹرن اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ وہ موٹاپے کا شکار ہو گا یا نہیں۔ ایسے کھانے جن میں گلائسمیک (Glycemic)اور قابل ہضم کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ پائے جاتے ہیں، سب سے زیادہ موٹاپے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے کھانے ہارمونز میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہیں جس سے ہمارا میٹابولزم تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس سے ہمارے جسم میں چربی زیادہ جمع ہونے لگتی ہے اور وزن بڑھنے لگتا ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ جب ہم بہت زیادہ پراسیسڈ کاربوہائیڈریٹس کھاتے ہیں تو ہمارا جسم انسولین کی مقدار بہت زیادہ پیدا کرنی شروع کر دیتا ہے جبکہ گلوکیگن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس سے چربی کے خلیے زیادہ کیلوریز جمع کرنی شروع کر دیتے ہیں جبکہ ہمارے پٹھوں کو طاقت دینے اور دیگر میٹابولک پراسیسز کے لیے بہت کم کیلوریز استعمال ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا دماغ سمجھتا ہے کہ جسم کو مناسب توانائی نہیں مل رہی لہٰذا ہمیں بھوک زیادہ محسوس ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اس سائیکل میں ہمارے جسم میں چربی زیادہ جمع ہوتی چلی جاتی ہے اور ہمارا جسم توانائی کے لیے مزید خوراک مانگتا چلا جاتا ہے اور حتمی نتیجہ موٹاپے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2021/1343180?fbclid=IwAR2txeWumns7xmGt0YPSgznplWyAH3mVicu9ghTD6h7y0v-dEyqUERyxyYE


’سونے سے ایک گھنٹہ قبل یہ کام کرنا بند کردیں‘ اگر آپ کوبھی اچھی نیند نہیں آتی تو یہ خبرآپ کیلئے ہے
Aug 03, 2021 | 19:02:PM


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ بے خوابی کا شکار ہیں، آپ کو نیند کم آتی ہے یا نیند کا معیار ناقص ہے تو برطانوی ڈاکٹر کا یہ مشورہ آپ ہی کے لیے ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس ڈاکٹر کا نام کرن راجن ہے جنہوںنے اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ @dr.karanrtiktokپر بے خوابی کے شکار لوگوں کو ایک فارمولا بتایا ہے جس پر عمل کرکے لوگ اپنی نیند کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ فارمولا’ 10-3-2-1‘ہے۔

اس فارمولے کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر کرن نے بتایا کہ آپ بستر میں جانے سے 10گھنٹے قبل کیفین لینا بند کر دیں، کیونکہ ہمارے جسم کو کیفین کے اثرات سے نکلنے میں 10گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے بعد سونے سے 3گھنٹے قبل کوئی بھاری کھانا مت کھائیں، اس طرح آپ سینے کی جلن اور نیند میں خلل سے بچ سکیں گے۔ نیند سے 2گھنٹے قبل کوئی بھی کام کرنا بند کر دیں اور یہ دو گھنٹے فراغت میں گزاریں۔ اس طرح آپ کے دماغ کو سکون کی حالت میں جانے میں مدد ملے گی اور آخر میں بستر میں جانے سے 1گھنٹہ قبل کسی بھی طرح کی سکرین دیکھنا بند کر دیں۔ اس میں موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹی وی غرض ہر طرح کی سکرین شامل ہے۔ ڈاکٹر کرن کا کہنا تھا کہ اس فارمولے پر عمل کرنے سے آپ کو بہت جلد نیند آئے گی اور نیند کا معیار بھی بہت بہتر ہو جائے گا۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Aug-2021/1323587?fbclid=IwAR3e75wna9Mt9ny3qren0yA-6IgSgpnI96lv51diS7OpurrmALxn72pJeiE



امریکی سائنسدانوں نے چار ہزار سے زائد نوزائیدہ بچوں پر سات سالہ تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے کہ اپنی زندگی کے پہلے 12 مہینوں میں باقاعدگی سے پھلوں کا رس پینے والے بچے، بعد کی عمر میں موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق میں امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور دوسرے طبّی اداروں کے ماہرین نے بچوں کی ماؤں سے سوال جواب کیے اور سروے فارمز بھروائے جن کا تعلق ان کے بچوں کی روزمرہ غذاؤں سے تھا۔

اگرچہ بچوں کی غذا اور صحت کے حوالے سے ’امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس‘ کی واضح ہدایات ہیں کہ جب تک کسی بچے کی عمر ایک سال نہ ہوجائے، تب تک اسے پھلوں کا رس (فروٹ جوس) نہ پلایا جائے کیونکہ اس میں صرف مٹھاس ہوتی ہے جبکہ دوسرے اہم غذائی اجزاء موجود نہیں ہوتے۔

ان ہدایات کے باوجود، اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ تقریباً 25 فیصد خواتین نے اپنے بچوں کو پیدائش کے پہلے 6 ماہ میں ہی پھلوں کا رس پلانا شروع کردیا تھا، 49 فیصد نے یہ استعمال 7 سے 12 ماہ کی عمر میں شروع کیا جبکہ صرف 26 فیصد خواتین نے بچوں کی عمر ایک سال (12 ماہ) ہوجانے کے بعد انہیں پھلوں کا رس پلانا شروع کیا تھا۔

سات سالہ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ایک سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی پھلوں کے رس کا استعمال شروع کردیا تھا، وہ اپنی عمر کے آئندہ برسوں میں نہ صرف زیادہ شکر کے عادی ہوگئے تھے بلکہ ان میں موٹاپے کے آثار بھی نمودار ہونے لگے تھے۔

بہت چھوٹی عمر میں پھلوں کے رس اور دوسرے میٹھے مشروبات کے عادی ہوجانے والے بچوں میں پانی کا استعمال بھی خاصا کم دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ پانی کو ’بے ذائقہ‘ ہونے کی وجہ سے زیادہ پینا پسند نہیں کرتے اور اس کی جگہ فروٹ جوس، میٹھے مشروبات اور دیگر سافٹ ڈرنکس کو ترجیح دینے لگتے ہیں جن میں بہت زیادہ مٹھاس ہوتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کو پھلوں کے رس اور میٹھے مشروبات کا عادی بنانا ان کی آئندہ صحت کےلیے خطرناک ہے کیونکہ زیادہ میٹھا استعمال کرنے کی یہی عادت انہیں بہت جلد موٹاپے میں مبتلا کرسکتی ہے جبکہ موٹاپا بذاتِ خود کئی خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کی جڑ ہے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات آکسفورڈ اکیڈمک کے ’’دی جرنل آف نیوٹریشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2252820/9812/


دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہوا عرض ’ ذیابیطس‘ جسے عوام نے مرض سمجھ رکھا ہے، نظامِ اعصاب پرتباہ کن اثرات کا ذمہ دارہے۔

ذیابیطس کا سبب طبقہِ اطباء کے نزدیک گردے کی خرابی ہے، جبکہ ڈاکٹرزکے مطابق لبلبے کے ’ بیٹا ‘ خلیات کے فعل میں کوتاہی ہے۔ لبلبہ دراصل غدہ (گلینڈ) ہے اور غدود کا فعل کسی عضو کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ دورِ حاضرمیں کیونکہ ذیابیطس کا علاج کرتے وقت گردوں کو نظر انداز کیاجاتا ہے، لہذا گردے خراب ہوتے ہوتے عدم فعل (کڈنی فیلئیر) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ’ڈایالیسس‘ کی نوبت آجاتی ہے۔

زمانہ قدیم میں ذیابیطس کا علاج مصفی خون اور گردے کی ادویہ سے کیا جاتا تھا ، مگر جدید تحقیق بھی شاہد ہے کہ لبلبہ کا فعل نظام ِہضم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر یہ کسی وجہ سے کمزور یا متورم ہوجائے تو تلی ہوئی اشیاء ہضم نہیں ہوتیں، کبھی قے اور متلی کی شکایت رہتی ہے تو کبھی شکم کے درمیانی حصے میںدرد رہتا ہے ، پیٹ پھولا رہتا ہے۔ لبلبہ کے جہاں ’ بیٹا ‘ خلیے انسولین کے افراز کا ذریعہ ہیں وہاں لبلبے کے ’ ایلفا ‘ خلیے شکر پیدا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسان کے جسم میں گرمی اور توانائی رہتی ہے۔

ہمارے ہاں اکثر انسولین کے افراز کی ادویہ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں گلوکومیٹر پر شوگر کی مقدار بڑھتی رہتی ہے چہ جائیکہ مریض ذیابیطس کی کتنی ہی ادویہ استعمال کرے۔ مگر ذیابیطس کی موجودگی اعصاب کو برباد کرتی رہتی ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ گردے کی خرابی انسان کا دماغ اس قدرمتاثر کرتی ہے کہ آدمی بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔ گلوکوز انسانی خلیات کی حیات کے لیے نہایت اہم ہے، مگر زیادہ مقدار دو وجوہات کی بنا پر خطرناک ہے۔

اوّل یہ کہ خون کا پی۔ایچ خراب کرتی ہے، جس سے جسمانی خلیات کو نقصان پہنچتا ہے،

دوم : گلوکوز کی زیادہ مقدارکی مثال بدہضمی جیسی ہے کہ معتدل مقدارمیں خوراک جسم کی ضرورت ہے جبکہ زیادہ مقدار (بدہضمی) متلی،قے، ورمِ امعاء کا باعث ہے۔

شوگر کے اسباب
1۔ دماغی مشقت : دماغی مشقت ’ کارٹی سول‘ ہارمون کے افرازکا ذریعہ ہے ، یہ ہارمون گلوکوز کی مقدار خون میں تیزی سے بڑھاتا ہے، گوکہ یہ فائدہ مند ہے کہ انسان کی مہم کو انجام دینے کے لیے توانائی حاصل کرتا ہے۔

2۔ معدے کی خرابی: معدے کی خرابی ، تیزابیت کی زیادتی کا باعث ہے، شوگر بھی خون میں تیزابیت بڑھاتی ہے۔ ریح جب زیادہ ہوتی ہے تو شوگر کی مقدار بھی خون میں بڑھ جاتی ہے۔

3۔ وٹامن ڈی کی کمی: یہ وٹامن انسولین رزسٹینس کم کرتا ہے جس سے خلیات انسولین کے اثر کو قبول کرتے ہیں اور گلوکوز کی مقدارخون میں معتدل رہتی ہے۔

4۔ ورزش کی کمی: اکثر لوگ ایک عرصے تک زیادہ ورزش کے عادی ہوتے ہیں ، ورزش کے لیے طاقت و توانائی کا ضامن گلوکوز ہے، یوں جسم گلوکوز کی مقدار اپنی ضرورت کے تحت زیادہ پیدا کرتا ہے اور جسم اس مقدار کا عادی بن جاتا ہے کیونکہ خلیات اسی گلوکوز کی وجہ سے جذب بھی خوب کرتے ہیں۔ جب یہ حضرات سست ہوجاتے ہیں اور جسم عادت کے تحت گلوکوز کی زیادہ پیدا ہی کرتا رہتا ہے تو خون میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ خلیات کو سستی کی وجہ سے گلوکوز کی ضرورت نہیں رہتی لہذا خلیات گلوکوز کو اس قدر جذب نہیں کرتے۔

5۔ لبلبے کے بیٹا خلیات کا فعل انجام دینے میں کوتاہی: جب لاغری کی وجہ سے بیٹا خلیات انسولین کا افراز کم کرتے ہیں تو گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ذیابیطس کے یادداشت پر اثرات
یاداشت کا بنیادی تعلق استحالہ (میٹابولزم) اور توانائی سے ہے۔ اس لیے آج کل کے نوجوان نسل کی بھی یادداشت نہیں رہی جیسے بزرگ حضرات کی یادداشت ان کے عالم شباب میں تھی۔ کیونکہ اب خوراک ویسی نہیں رہی یعنی ’ ہائیبرڈ‘ خوراک زیادہ تر دستیاب ہے۔ نہ اب نوجوان نسل ویسی ورزش کرتی ہے، جو توانائی کا ذریعہ ہے۔

توانائی کی پیداوار کا ذریعہ گلوکوز ہے،شوگر کے مریض اسی گلوکوز کی مقدار کم معتدل کرنے کے لیے ادویہ کا سہارا ضرور لیتے ہیں، مگر کسی وقت گلوکوز اس قدر کم ہوجاتی ہے کہ توانائی تو درکنار اپنی ضرورت کے لیے گلوکوز کی مقدار کم پڑ جاتی ہے، اس لیے یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ شوگر کے مبتلا اشخاص دوا کھانے سے پہلے ورزش کریں۔ چاہے چلنا پھرنا (واکنگ) ہی ہو کم از کم دو گھنٹے ، پھر شوگر کی مقدارگلوکومیٹر سے دیکھ کر دوا لیں۔ اگر معتدل مقدار شوگر ہو تو دوائی نہ کھائیں۔ جب شوگر پرانی ہوجاتی ہے ۔ پھر اپنے زہریلی اثرات کی وجہ سے اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے اور یاداشت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

شوگر کے عرض سے کیسے بچیں؟

1۔ ورزش کی عادت بنائیں۔

2 ۔ نیند پوری لیں، سوتے وقت کسی قسم کی سوچ بچار ذہن میں نہ آنے دیں، اطباء کے نزدیک اگر صبح کا پہلا بول زرد رنگ کا آئے تو سمجھ لیں کہ ضرورت کی نیند پوری ہو گئی۔

3۔ ناشتے میں شکر کا استعمال کریں مگر باقی وقت بہتر ہے کہ شکر کے استعمال سے گریز کریں۔

4۔غصے والے امور سے بچیںکیونکہ غصے کے وقت گلوکوز کی مقدار اور بلڈ پریشر بڑھتے ہیں۔

5۔بڑے گوشت کا ہفتے میں ایک سے دو بار استعمال کافی ہے کیونکہ یہ ریح کا موجب ہے اور ریح زیادہ رہنے سے لبلبہ کے فعل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
6۔تلی ہوئی اشیا سے پرہیز کریں تا کہ لبلبہ پر خوراک کا اثر کم پڑے۔
https://www.express.pk/story/2251255/9812/


فالج دماغ میں خون کی نالی کی بندش یا رساؤ کے باعث ہوتا ہے جو ناکافی آکسیجن اور غذائیت کی فراہمی کا باعث بنتا ہے اور اس کا نتیجہ دماغی خلیوں کی خرابی یا تباہی ہے۔

یہ مخصوص دماغی افعال جیساکہ اعضائی حرکات اور گفتار پر اثرانداز ہوتا ہے۔بعض مریض اپنی نگہداشت کی اہلیت میں مزید کمی کا سامنا کرسکتے ہیں۔ فالج کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں۔

اسکیمک فالج دماغ خلیے کی جانب خون کی گردش کی تجدید یا اچانک کمی کے باعث واقع ہوتی ہے اور یہ بہت عام ہے۔ یعنی 80 فیصد سے زائد فالج اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، دیگر وجوہات میں سیریبل آرٹریز میں ایتھروسیلزوسس اور جسم کے دیگر حصوں بالخصوص دل سے خون کے لوتھڑوں کا بننا جو کہ دماغ کی طرف کم اصراف کا باعث بنتا ہے۔ ہیموریجک فالج بیماریوں جیساکہ بلند فشار خون کونجیٹیبل سیریبرل وسیکولر بیماری کے نتیجے میں دماغ کی خون کی نالی پھٹ جاتی ہے۔

فالج کی علامات
اکثر افراد میں فالج سے قبل کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ فالج کی ظاہری شکل کا انحصار خون کی نالی کے مقام کے ساتھ ساتھ نقصان کے درجے پر منحصر ہوتا ہے۔ جب درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو مریضوں کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔

1۔ سن ہونے کی کیفیت، چہرے پر کسی عضو یا کوئی بدن کا حصے میں۔

2 ۔اعضائی اور بدنی کمزوری عام طور پر جسم کے ایک طرف ہو۔

3 ۔توازن کا اچانک چلے جانا۔

4 ۔غیر واضح گفتگو۔ تھوک گرنا، نگلنے میں دشواری، منہ کا ٹیڑھا پن۔

5 ۔بصری فیلڈ کی تجدید، نظر کی دھندلاہٹ، دہری بصارت

6 ۔غنودگی، کوما۔

7 ۔دیگر مثلاً اچانک مسلسل شدید سردرد مسلسل چکر آنا۔

ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک (ٹی آئی۔اے) فوکل برین، ریڑھ کی ہڈی یا ریٹینل اسکیمیا کے باعث ہونے والے نیورو لاجک ڈس فنکشن کا ایک عارضی واقعہ ہوتا ہے جوکہ عموماً 24 گھنٹوں سے کم وقت کے لیے قائم رہتا ہے۔ ایک مریض کو ٹی آئی اے ایک بار یا زائد مرتبہ ہوسکتا ہے۔ یہ ایک اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ اصل فالج کا حملہ ہونے والا ہے۔

ایک قسم کے فالج میں خون کی شریان پھٹ جانا، دوسرا دماغ کی خون کی شریانوں میں کسی رکاوٹ کا آجانا، دل میں خرابی، دل کے والوو میں خرابی، گردن کی شریانوں میں چربی کا جم جانا، فالج کی کچھ علامات جو ایک ہفتہ پہلے نظر آجاتی ہیں، فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہو جاتا ہے اور مناسب علاج بروقت مل جائے تو اس کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے تاہم اکثر لوگ اس جان لیوا مرض کی علامات کو دیگر طبی مسائل سمجھ لیتے ہیں اور علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

فالج درحقیقت ہارٹ اٹیک کی طرح ہوتا ہے مگر اس میں دل کی جگہ دماغ نشانہ بنتا ہے ۔

فالج کی دو اقسام ہوتی ہیں ایک میں خون کی رگیں بلاک ہو جانے کے نتیجے میں دماغ کو خون کی فراہمی میں کمی ہوتی ہے دوسری قسم ایسی ہوتی ہے جس میں کسی خون کی شریان سے دماغ میں خون خارج ہونے لگتا ہے۔ ان دونوں قسم کے فالج کی علامات یکساں ہوتی ہیں ۔ ہر فرد کے لیے ان سے واقفیت ضروری ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کی یہ انتہائی نشانیاں مختلف شکلوں میں اصل دورے سے ایک ہفتہ پہلے سامنے آنے لگتی ہیں۔

جسم کے ایک حصے کا سن ہو جانا یا چلنا ناممکن ہو جانا، بولنے سے قاصر ہو جانا یا باتوں کو سمجھ نہ پانا۔ بہت زیادہ ذہنی الجھن ایک جانب سے چہرہ ڈھلک جانا اور مسکرانے کے قابل بھی نہ رہنا۔ شدید سر درد اور قے، ایک یا دونوں آنکھوں سے دیکھنے میں مشکل کا سامنا، چلنے میں مشکلات کا سامنا، کچھ نگلنا مشکل ہو جانا، جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مشکل، جسمانی توازن میں کمی کے باعث چلتے ہوئے لڑکھڑانا، شدید کمزوری، لاغری، ان علامات کا احساس ہوتے ہی اگر فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کیا جائے تو آپ اپنی یا اپنے گھر کے کسی فرد کی زندگی بچا سکتے ہیں۔

فالج کیوں ہوتا ہے اور اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
سیانوں نے کہا ہے کہ حرکت میں برکت ہے۔ حرکت کرتے رہنا یعنی ہلنا جلنا موومنٹ کرنا زندگی کی علاماتوں میں سے ایک علامت ہے اگر کسی وجہ سے حرکت میں کمی واقع ہو جائے اور زیادہ تر بیٹھنا پڑے جامد ہوجانے اور تحرک اگر سکوت میں بدل جائے تو زندگی کا سکون بھی جاسکتا ہے ایک ایسی حالت جس میں عام طور پر ذہن تو مفلوج نہیں ہوتا مگر جسم کا کوئی ایک حصہ اچانک کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔

یہ ایک ایسی صورت حال ہوتی ہے جس میں ہوش تو اکثر باقی رہتا ہے مگر جسم سے جوش اور ولولہ ختم ہو جاتا ہے لامحدود زندگی پر حدیں نافذ ہو جاتی ہیں۔ خود پر سے، اپنے جسم، اپنے بدن سے اختیار ختم ہو جاتا ہے، جیتی جاگتی زندگی فقط کپکپاہٹ اور تھرتھراہٹ تک محدود ہو سکتی ہے اور اکثر اپنے لیے اپنی بنیادی ضروریات کے لیے اپنی روزمرہ حاجات کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہونا پڑ جاتا ہے۔

فالج کی وجہ سے جسم کے یا جسم کے کسی حصے کے مفلوج ہو جانے کی، معذور ہو جانے کی، ساکت ہو جانے کی، جامد ہو جانے کی، ایسی کیفیت کو اس بیماری کو اس مرض کو انگریزی میں سٹروک کہتے ہیں۔ فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان ہوتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہو جاتا ہے اور مناسب علاج بروقت نہ ملنے کی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اس جان لیوا مرض کی علامات کو دیگر طبی مسائل سمجھ لیتے ہیں اور علاج میں تاخیر کردیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے 3 لاکھ سے زائد لوگ فالج کے حملے کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد سے زیادہ لوگ فالج کی وجہ سے کسی بھی مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً دس لاکھ لوگ فالج کے باعث کسی نہ کسی حوالے سے معذوری کا شکار ہیں۔ اسی طرح 20 فیصد لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ فالج ایک اور حوالے سے بھی ایک منفرد اور پیچیدہ بیماری ہے۔ ایک طرف تو خود مریض کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہے دوسری طرف مریض کی دیکھ بھال اور نگہداشت کا طویل اور صبر آزما مرحلہ بھی گھر والوں کو درپیش ہوتا ہے۔

فالج کیا ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کی حرکت ، ہمارے بولنے، ہماری زبان، ہمارے ہوش، ہمارے سوچنے سمجھنے کو ہمارا برین یعنی ہمارا دماغ کنٹرول کرتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گاڑی کو پٹرول یا فیول کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے خون کے ذریعے سے ملتی ہے۔ اب اگر کسی وجہ سے دماغ کو اس خون کی فراہمی متاثر ہو جائے، اس میں رکاوٹ پیدا ہو جائے یا اس میں کمی ہو جائے تو دماغ کے کچھ خلیات مر جاتے ہیں اور ان خلیات کی موت کے نتیجے میں فالج کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر ہمارے دماغ کے ان خلیات کو نقصان ہو جو ہماری زبان، ہماری بول چال کو قابو میں رکھتے ہیں تو فالج کی وجہ سے ہم بول نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو ہماری جسمانی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے تو ہم جسمانی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ معذور ہو جاتے ہیں سو اس طرح اس فالج کے دورے کے بعد ہر گزرتے منٹ میں دماغ 19 لاکھ خلیات سے محروم ہو جاتا ہے اور ایک گھنٹے تک علاج کی سہولت نہ ملنے سے دماغی عمر میں ساڑھے تین سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جتنی تاخیر ہوگی علاج میں اتنی زیادہ بولنے میں مشکلات، یادداشت سے محرومی جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فالج سے پہلے اور فالج کے دوران بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور کوئی چیز کھانا پینا یا نگلنا دشوار ہو جاتا ہے۔

کون کون سے فالج زیادہ خطرناک ہیں؟
وہ لوگ جن کا جسمانی وزن نارمل سے زیادہ ہو یا جو تمباکونوشی یا الکحل استعمال کرتے ہوں ، ہائی بلڈ پریشر ہوں، ذیابیطس کے مریض ہوں ، مستقل ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کے شکار ہوں، ایسے افراد میں فالج کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایسے افراد پر فالج حملہ کرے تو اس کے نتیجے میں موت کا امکان55 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح اپنی غذا میں نمک کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگ اور وہ لوگ جن کی عمر 50 سال سے زائد ہو یا وہ لوگ جن کی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی ہو، ایک کنڈیشن جسے ایٹریل فبریکشن کہتے ہیں موجود ہو، سب فالج کے حملے کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اس طرح مرغن غذاؤں کے شوقین موٹے ہوتے ہیں، بیٹھے رہتے ہیں اور کسی قسم کی ورزش نہیں کرتے ان میں بھی فالج کا حملہ ہونے کے خدشات ہوتے ہیں۔

ہم کیسے فالج کے حملے کو روک سکتے ہیں؟
1۔ اپنے بلڈ پریشر پر چوبیس گھنٹے قابو رکھیں۔
2۔روزانہ ورزش کریں۔

3۔ اپنی غذا میں چربی اور ٹرانس فیٹ میں کمی لانا فالج کے رسک کو کم کرتا ہے۔ میٹھی چیزوں اور چکنائی کا استعمال کم کریں، تمباکونوشی کو ختم کریں۔
پھلوں کا استعمال، سبزیوں، مچھلی، بغیر چربی والا گوشت اور اجناس پر مبنی متوازن غذا کھائیں۔ زیادہ سیب کھائیں۔ ٹماٹر کا استعمال بڑھادیں۔ نمک کا استعمال کم کردیں۔ فالج کے علاج کے لیے سب سے بہترین بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں، صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
فالج کی ہومیوپیتھک ادویات

(1)۔ایکونائیٹ۔ Aconite Naf
ہر قسم کے فالج میں ابتدا میں استعمال کریں، خشک سردی لگنے سے فالج۔

(2)۔رسٹاکس۔ Rhutox
پانی سے بھیگ جانے سے ہونے والا فالج پسینے کی حالت میں گرم سے سرد ہوجانے کے بعد فالج، بخار میں ہوا لگنے کی وجہ سے فالج ۔

(3)۔ کاسٹیکم۔Casticum
یہ دوا اکیلے اکیلے فالج کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ حلق کا فالج، زبان کا فالج، مثانے کا فالج۔

(4)۔جیلیسیم ۔Gelsemium
بچوں کے فالج، مریض سست سست اور غنودگی۔

(5)۔پلبمم۔Plumbum
اگر فالج کے ساتھ ساتھ عضو سوکھتا چلا جائے تو ایسے فالج کی سب سے بڑی دوا اس میں شدید قبض ہوتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2251252/9812/



روزانہ کی ورزش یا سائیکل چلانے کا عمل بالخصوص بزرگوں میں الزائیمر، ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض سے دور رکھتا ہے۔

اس سے قبل ورزش کے دماغی اور جسمانی فوائد سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ تیزقدمی دماغی زوال کو بھی روک سکتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جسمانی طور پر متحرک رہنے کا عمل دماغ میں کسی بھی طرح کی اندرونی جلن یا انفلیمیشن کو کم کرتا ہے۔ یہ اندرونی سوزش جسم کے کسی بھی مقام پر ہو وہ غیرمعمولی امراض کی وجہ بنتی ہے جن میں کینسر، امراضِ قلب اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

نئی تحقیق کے تحت بزرگوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ تیزقدموں سے چلنے اور ممکن ہو تو سائیکل چلانے کو معمول بنائیں کیونکہ اس سے اکتسابی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور دماغ توانا بنتا ہے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کیٹلِن کیسالیٹو اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔

اگرچہ ڈیمنشیا اور الزائمر کو اب بھی مکمل طور پر نہیں سمجھایا گیا ہے۔ پروفیسر کیٹلن کے مطابق دماغ کے امنیاتی خلیات مائیکروگلیا کہلاتے ہیں۔ یہ دماغ سے مضراثرات صاف کرتے ہیں، لیکن ان کی غیرمعمولی سرگرمی سے سوزش، اعصابی بیماری اور دماغی سگنل میں خلل ڈالتی ہے۔ ورزش اس غیرمعمولی تحریک کو لگام دیتی ہے۔

سائنسدانوں نے167 بوڑھے افراد کا جائزہ لیا ہے جس میں ورزش اور مائیکروگلیئل خلیات کے درمیان تعلق نوٹ کیا گیا ہے۔ لیکن کچھ شرکا ایسے بھی تھے جن میں کسی قسم کی دماغی تنزلی نہیں تھی۔ تمام رضاکاروں کو ایک سے دس روز تک دماغی سرگرمی نوٹ کرنے والی ٹوپی بھی پہنائی گئی تھی جو 24 گھنٹے سرگرمی کو نوٹ کرتی رہی تھی۔

معلوم ہوا کہ ورزش سے گلیئل خلیات کی غیرمعمولی بلکہ مضر سرگرمی میں کمی واقع ہوئی۔ پھر یہ بھی پتا چلا کہ اگر کوئی ڈینمشیا یا الزائیمر کا مریض ہے تو ورزش نے اس ک دماغ کو بہت فائدہ پہنچایا اور اعصابی انحطاط کم ہوگیا۔

یہی وجہ ہے کہ اب ڈاکٹر بزرگوں کو بھی ہفتے میں 120 سے 150 منٹ تک تیز قدموں سے پیدل چلنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2251973/9812/



ایک نئی اور چکرا دینے والی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اسپرین کا استعمال مفید کے بجائے دل کےلیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

البتہ یہ خطرہ ان افراد کےلیے ہے جو سگریٹ پیتے ہوں، موٹے ہوں، جنہیں بلڈ پریشر رہتا ہو، کولیسٹرول کی شکایت ہو، جو ذیابیطس کے مریض ہوں یا پھر دل کی کسی بیماری میں مبتلا ہوں۔

اگر ان میں سے کوئی ایک کیفیت بھی کسی فرد میں موجود ہو تو اس کےلیے اسپرین کے روزانہ استعمال سے دل کی دھڑکنیں اچانک بند ہوجانے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔


یہ تحقیق ’’ہومیج‘‘ نامی ایک طویل مدتی مطالعے میں امریکا اور مغربی یورپ سے 30,827 افراد کی صحت سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی ہے جن کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ تھی۔ اس کے نگراں، جرمنی میں فرائیبرگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر بریلم موجاج تھے۔

ان نتائج پر ڈاکٹر موجاج خود بھی حیران ہیں کیونکہ اب تک درجنوں تحقیقات اور وسیع تر مطالعات میں اسپرین ہر بار دل، شریانوں اور دورانِ خون کےلیے ایک مفید دوا کے طور پر ہی سامنے آئی ہے۔

’’اگرچہ ان دریافتوں کو تصدیق کی ضرورت ہے مگر اِن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپرین اور دل کی خرابی میں کوئی نہ کوئی تعلق ایسا ہے کہ جس کا واضح طور پر سامنے آنا ضروری ہے،‘‘ ڈاکٹر موجاج نے اپنی دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔

اسپرین دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے اور اس کا استعمال ہائی بلڈ پریشر یا امراضِ قلب تک ہی محدود نہیں۔

ایسے میں اس نئی تحقیق نے اسپرین کی ثابت شدہ طبّی افادیت پر سوالیہ نشان لگا کر خود ماہرین کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے جو صرف مزید تفصیلی اور محتاط تحقیق کے بعد ہی دور ہوسکے گی۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ’’یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی‘‘ کے ریسرچ جرنل ’’ہارٹ فیلیور‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2251897/9812/



اگر آپ 4 بادام روزانہ کھائیں تو جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ جواب جان کر آپ آج سے ہی استعمال شروع کردیں گے
Aug 20, 2018 | 21:23:PM


برمنگھم(نیوز ڈیسک) اگر آپ نے کبھی ’’سُپر فوڈ‘‘ کے الفاظ سنے ہیں تو ضرور متجسس ہوئے ہوں گے کہ آخر وہ کون سی غذا ہے جسے سُپر فوڈ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ درجہ کئی غذاؤں کو دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اگر کسی ایک غذا پر سب سے زیادہ ماہرین کا اتفاق ہے تو وہ بادام ہے۔ بادام میں ہر طرح کے وٹامن اور دیگر غذائی اجزاء اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں کہ محض معمولی مقدار میں بھی روزانہ استعمال کرلئے جائیں تو حیرتناک فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے ویب سائٹ speakingtree کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بادام میں وٹامن ای بکثرت پایا جاتا، اس کے علاوہ کیلشیم، فاسفورس، آئرن اور میگنیشیم بھی پایا جاتا ہے جبکہ زنک، سلینیم، کاپر، اور نیا سین جیسے کمیاب معدنی اجزاء بھی بادام سے بآسانی حاصل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ان تمام اجزاء سے مستفید ہونے کے لئے آپ ہر روز صرف چار عدد بادام ہی کھا لیں تو بہت ہے۔ اگر بادام کو بھگو کر کھانے سے قبل اس کا چھلکا اتار لیں تو زیادہ مفید ہے۔ باقاعدگی سے چار بادام کھانے کے فوائد کی بات کی جائے تو ایک لمبی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے۔ ماہرین صحت بتاتے ہیں کہ بادام میں پایا جانے والا وٹامن ڈی آپ کے بالوں کیلئے انتہائی مفید ہے اور اسی طرح میگنیشیم بالوں کے ساتھ جلد کو بھی تروتازہ کردیتا ہے۔ جلد کی صحت اور تازگی میں بادام میں پایا جانے والا وٹامن ای بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ بادام میں پایا جانے والا جزوفائٹو سٹیرل اور مونو انسیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ کولیسٹرول کے مسائل کا بہترین علاج ہیں۔بادام میں پائے جانے والے رائبو فلیون اور ایلکارنی ٹائن اجزاء دماغ کی صحت کے لئے شاندار اثرات رکھتے ہیں۔

روزانہ چار بادام آپ کے جسم سے فالتو چربی کو پگھلا کر وزن کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں جبکہ دل کے دورے کا خطرہ بھی تقریباً 50 فیصد کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح فاسفورس اور کیلشیم کے سبب ہڈیاں مضبوط ہوجاتی ہیں جبکہ میگنیشیم، مینگانیز اور پوٹاشیم بھی ہڈیوں کو ضروری غذاء فراہم کر کے مضبوط کرتے ہیں۔ حاملہ خواتین کے لئے بھی بادام کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے، تاہم احتیاط کا تقاضہ ہے کہ بادام کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Aug-2018/834293?fbclid=IwAR36R8ZAjqf1KQP3CIqwe_8VwvZG-5DpD6CNlBlQWFedyiAPU_uXcx0_ByM


سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ موٹاپے، انسولین کی حساسیت یا ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا خواتین میں دیگر کے مقابلے میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اگرخاتون سُن یاس (مینوپاز) کا شکار ہو تو چھاتی کے سرطان کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

سائنس سے ثابت ہوا ہے کہ فربہ خواتین میں استحالہ (میٹابولزم) اور سوزش جیسی کیفیات بڑھ جاتی ہیں لیکن اب بھی اس پورے عمل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اب پہلی بار انکشاف ہوا ہے کہ ایکسوسومز( کئی اقسام کے خلیات کے میں موجود سوراخ سے خارج ہونے والے معائات) بریسٹ کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور اسے مزید پیچیدہ بناکر علاج کو ناممکن بناتے ہیں۔

یہ انکشاف بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر جیرالڈ اور پروفیس شپلے نے کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اپنی خاص کیفیات کی بنا پر ذیابیطس اور موٹاپا خواتین میں پیچیدہ قسم کا بریسٹ کینسر پیدا کرسکتا ہے جو ہماری تمام موجودہ ادویہ کو بھی ناکام بنا سکتا ہے۔

ان میں سے ذیابیطس کو بڑھانے والے عوامل برسٹ کینسر کو بھی بڑھاتے ہیں۔ پھر خون میں گلوکوز، اے ون سی کی بڑھی ہوئی سطح، کولیسٹرول اور دل کے امراض کے طبی عوامل یعنی سی آرپی وغیرہ مل کر چھاتی کے سرطان کے خدشات کو مزید بڑھاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ سرطان کے ماہرین نے اب تک اس پر دھیان نہیں دیا ہے۔

اگلے مرحلے میں سائنس داں بڑے پیمانے پر خواتین کا سروے کریں گے تاکہ اس مفروضے کی حمایت یا رد میں کوئی بات سامنے آسکے۔
https://www.express.pk/story/2251218/9812/


اگر شادی شدہ جوڑے اچھے طریقے سے کئی برس ساتھ گزار دیں تو ان کے دل میں کیا تبدیلی آتی ہے ؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
Nov 23, 2021 | 19:18:PM


نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن )متعدد برس تک ساتھ رہنے والے جوڑوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں مگر ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب ان کا زندگی کا سفر اچھا گزرا ہو۔یہ دلچسپ انکشاف امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

الینواس یونیورسٹی کی تحقیق میں طویل عرصے سے اکٹھے معمر جوڑوں کی نبض اور قربت کی جانچ پڑتال الیکٹرونک مانیٹرنگ ڈیوائسز کی مدد سے کی۔محققین نے دریافت کیا کہ ایک دوسرے کے قریب بیٹھنے پر ہر جوڑے کے کسی ایک رکن نے دوسرے کی دھڑکن کی رفتار پر اثرات مرتب کیے۔مگر تحقیق میں 2 دل ایک دھڑکن کے اس پیٹرن کی وجہ کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔

محققین نے بتایا کہ شادی شدہ جوڑوں پر تحقیق کے دوران ماہرین کی جانب سے مختلف سوالات پوچھ کر خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی جانب سے بامقصد جواب دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مگر عمر بڑھنے کے ساتھ اور بہت زیادہ وقت اکٹھے گزارنے کے بعد جوڑے اس سوال پر ہنستے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے کتنے مطمئن ہیں یا کس حد تک مخلص ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ شادی 30 یا 40 سال بعد وہ خود کو ایک دوسرے کے لیے وقف ہی سمجھتے ہیں۔اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایسے جوڑوں کے تعلق کی جانچ پڑتال کی۔

محققین نے بتایا کہ یقیناً ایک دوسرے کے قریب رہنا ہمیشہ اچھا نہیں ہوتا بلکہ اچھا تعلق زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دھڑکنوں کی ہم آہنگی کی وجہ اور اثر پر توجہ مرکوز نہیں کی تھی مگر ہم نے دریافت کیا کہ جب جوڑے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کے دل کی دھڑکن کچھ طریقوں سے کسی حد تک بامقصد انداز سے اکٹھے دھڑکنے لگتے ہیں۔اس تحقیق میں 10 جوڑوں کو شامل کیا گیا تھا جن کے تعلق کو 14 سے 65 سال ہوچکے تھے اور ان کی عمریں 64 سے 88 سال کے درمیان تھیں۔ان سب کی مانیٹرنگ 2 ہفتے تک کی گئی اور انہیں ایک باڈی ٹریکر دن بھر پہنا کر رکھا گیا تاکہ رئیل ٹائم میں دھڑکن کی جانچ پڑتال کی جاسکے جبکہ ایک اور ڈیوائس بھی استعمال کی گئی تھی۔

تحقیقی ٹیم کی جانب سے ان افراد کو ہر صبح فون کرکے دونوں ڈیوائسز کے استعمال کرنے کی یاد دہانی کرائی جبکہ شام کو رابطہ کرکے صحت، شخصیت اور دن بھر میں ایک دوسرے سے تعلق کے مختلف پہلوو¿ں سے واقفیت حاصل کی گئی۔انہوں نے دریافت کیا کہ جب جوڑے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو دونوں کے دل ایک دوسرے کی دھڑکن کی لے پر کام کرنے لگتے ہیں۔محققین کے مطابق زیادہ تر شوہر کی دھڑکن اس حوالے سے بیوی کی دھڑکن پر اثرانداز ہوتی ہے، مگر کئی بار یہ الٹ بھی ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک فرد دوسرے میں اس طرح کے اثر کو متحرک کرتا ہے تو ان کے اندر ایک منفرد سطح کا تعلق بنتا ہے جو ان کی ذہنیت اور دن بھر کے معمولات پر اثرانداز ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف سوشل اینڈ پرسنل ریلیشن شپ میں شائع ہوئے
https://dailypakistan.com.pk/23-Nov-2021/1369146?fbclid=IwAR0JzX08xyuNaOOKRlAbC0pl6QBSdO7V1R2rB7xzHXKMvdnb6b1NgmbfeE8


محققین کا کہنا ہے کہ انسانی جینز کی مدد سے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے کہ ایک قدرے عام مگر صحیح سے نہ سمجھے جانے والے مرض، اِریٹیبل باول سنڈروم (آئی بی ایس یعنی آنتوں کا حساس ہونا یا ہاضمے کے نظام کا خراب ہونا) کو اکثر بے چینی سے کیوں جوڑا جاتا ہے۔

انسانی جینز پر ایک نئی تحقیق کے مطابق ہو سکتا ہے کہ آئی بی ایس کا تعلق محض ذہنی دباؤ یا بے چینی سے نہ ہو بلکہ یہ ہمارے ڈی این میں شامل ہو۔ عموماً خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اگر ہم بے چینی کا شکار ہوتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں بے چین ہوتے ہیں تو ہمارا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور ہم قبض کا شکار ہو جاتے ہیں یا ہمیں بار بار ٹوائلٹ جانا پڑتا ہے۔ اس کیفیت کو آئی بی ایس (اری ٹیبل باؤل سینڈروم) کہا جاتا ہے۔

ماہرین کو امید ہے کہ اس نئی تحقیق کے بعد ہم اس کیفیت کو محض ایک ذہنی بیماری سمجھتے ہوئے یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ یہ سب کچھ آپ کے ذہن کی اختراع ہے۔ سائنسی جریدے ’نیچر جنیٹِکس‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین نے آئی بی ایس میں مبتلا 50 ہزار سے زیادہ افراد کا مطالعہ کیا اور ان کے جینیاتی مواد (ڈی این اے) کا موازنہ صحت مند افراد کے ڈی این اے سے کیا۔

برطانیہ سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہر دس میں سے ایک فرد آنتوں کی اس خرابی سے دوچار ہوتا ہے جس کی وجہ سے پیٹ میں درد اور کبھی قبض ہو جاتی ہے، کبھی دست آنے لگتے ہیں یا کبھی ایک ساتھ آپ دونوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ ابھی تک آئی بی ایس کا کوئی حتمی ٹیسٹ دریافت نہیں ہوا، اس لیے اس کی تشخیص تبھی ممکن ہوتی ہے جب معدے اور آنتوں کے دوسرے ممکنہ امراض کے امکانات کو رد کر دیا جاتا ہے۔ عموماً مردوں کے مقابلے میں خواتین اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور زیادہ تر افراد 20 سے 40 برس کی عمر کے دوران اس حوالے سے طبی مشورہ کرتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور ماہرِ امراض معدہ پروفیسر مائیلز مارک کا کہنا ہے کہ آئی بی ایس کے بارے میں ڈاکٹروں سمیت ہم سب کی سمجھ ابھی تک ناقص رہی ہے اور چونکہ بدہضمی عموماً ذہنی دباؤ اور بے چینی کے ساتھ ہوتی ہے اس لیے ہم اسے ’سائیکو سومیٹِک‘ مرض یعنی ایسی کیفیت سمجھتے ہیں جس کی بنیاد ہماری ذہنی کیفیت ہوتی ہے۔ پروفیسر مارک کے بقول ہو سکتا ہے اصل میں ایسا نہ ہوتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جب آئی بی ایس کے مریضوں کی جینز کا موازنہ صحت مند افراد کے جینیاتی خلیوں سے کیا تو انھیں کم از کم چھ ایسے فرق نظر آئے جو کسی حد تک ہمارے دماغ اور معدے کے درمیان تعلق کی وضاحت کر سکتے ہیں لیکن تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ذہنی دباؤ یا بے چینی کی صورت میں آپ کو آئی بی ایس ہو جاتا ہے یا اگر آپ کو آئی بی ایس ہو تو آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

’ہماری تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ دونوں کیفیات (بے چینی اور معدے کی خرابی) کی بنیاد ایک ہی قسم کی جینز میں ہوتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کسی ایک جین میں خرابی سے آپ کے دماغ یا دماغی اعصاب میں تبدیلی آ جاتی ہو، جو آگے چل کر آپ کے معدے پر اثر انداز ہو جاتی ہو۔‘ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس تحقیق کی مدد سے ہم ایسے ٹیسٹ بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جن سے آئی بی ایس کی تشخیص اور اس کے علاج میں بہتری آ جائے۔

کیمبرج سے تعلق رکھنے والی 34 برس کی لارا ٹیب آئی بی ایس کی علامات کے ساتھ ساتھ بے چینی اور ڈیپرشن کا شکار رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’میں دس برس تک گاہے بگاہے بے چینی میں مبتلا رہی ہوں، اس لیے میں جانتی ہوں کہ ان کیفیات کے ساتھ زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے لیکن جہاں تک آئی بی ایس کا تعلق ہے تو وہ مجھے اس سال جنوری میں تب ہوا جب میں کووڈ کا شکار ہوئی۔

یہ بات کچھ لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہے لیکن آئی بی ایس کے ساتھ زندگی گزارنا خاصا مشکل کام ہے۔ میں جب بھی کھانا کھاتی مجھے مسلسل درد ہونے لگتا ، میرا معدہ پھول جاتا۔ میری حالت اتنی خراب ہو جاتی کہ میں اپنی پینٹ یا جینز نہیں پہن سکتی تھی۔ میں سارا دن تنگ پاجامہ یا لیگِنگز پہنے رکھتی۔ میں ہر وقت تھکی تھکی اور بیزار رہتی اور کوئی ایسا کام نہ کر سکتی جسے کر کے مجھے عموماً مزا آتا تھا، جیسے دوستوں کے ساتھ باہر کھانے کے لیے جانا۔‘

لارا کہتی ہیں کہ وہ کتنے ہی ڈاکٹروں کے پاس گئیں لیکن انھوں نے ’مجھے چلتا کر دیا‘ اور انھوں نے لارا کی بات کو سْنی ان سْنی کر کے انھیں قبض کی دوائیں تھما دی۔ اب لارا پروفیسر پارکس سے علاج کروا رہی ہیں اور انھوں نے آئی بی ایس پر قابو پانے کے بہتر طریقے سیکھ لیے ہیں۔ ’اب یہ بہت بہتر ہو گیا ہے اور اگر اب بھی یہ (آئی بی ایس) چھِڑ جاتا ہے تو میں اس کیفیت کو ختم کرنے کا بندوبست کر لیتی ہوں۔‘

آئی بی ایس کے لیے چند مشورے

اگر آپ کو بھی آیی بی ایس کی شکایت ہے تو ہو سکتا ہے آپ کو دوا کی ضرورت ہو تاہم برطانیہ کے قومی ادارہ صحت کے مطابق کچھ ٹوٹکے آپ کے لیے مددگار ہو سکتے ہیں۔

پیٹ میں درد یا گیس کے صورت میں: جو کا دلیہ کھا کر دیکھیں۔

فیکٹری میں تیار کردہ کھانوں، چربی اور مصالحہ دار پکوانوں کی بجائے تازہ اجزا سے بنی ہوئی خوارک اچھی ہے لیکن بہت زیادہ پھل اور دالیں وغیرہ کھانے سے بھی گیس اور پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔

گوبھی، بند گوبھی اور پیاز سے بھی کسی وقت گڑ بڑ ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ لوگ یہ چیزیں آسانی سے ہضم نہیں کر سکتے۔

آپ آئی بی ایس کے لیے ایک ماہ تک بروبائیوٹِک یا لیکٹوز کے بغیر والا دودھ، دہی بھی استعمال کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ آپ کے لیے مفید رہے۔ وقت پر کھانا کھائیے اور کوشش کریں کہ خالی پیٹ نہ رہیں۔

الکوحل، کیفین اور گیس والے مشروبات سے پرہیز کیجیے اور کافی مقدار میں پانی پیجیے تاکہ پاخانہ کرتے وقت دقت نہ ہو۔

تیز تیز کھانے کی بجائے کھانا تحمل سے کھائیے۔

قبض کی صورت میں : زیادہ مقدار میں پانی پیجیے، ریشہ دار خوراک (فائبر) یعنی سبزیاں کھائیے۔

پیٹ خراب ہونے کی صورت میں: اگر آپ زیادہ سبزیاں کھا رہے ہیں تو ایسی خوراک کو کم کرنے کے بارے میں سوچیے، شکر کے بغیر، سوربیٹول والے چیوِنگ گم بالکل نہ چبایے کیونکہ اس سے پیٹ مزید خراب ہو سکتا ہے۔

پیٹ خراب ہونے کی صورت میں جو پانی جسم سے خارج ہو جاتا ہے، اس کی کمی پورا کرنے کے لیے پانی و مشروبات پیئں تاکہ آپ ڈی ہائیڈریشن کا شکار نہ ہوں۔ ( بشکریہ بی بی سی اردو)
https://www.express.pk/story/2248509/9812/


پیشاب کی تکالیف کئی طرح کی ہوتی ہیں مثلاً پیشاب جل کر آنا جو اکثر سوزاک میں ہوتا ہے لیکن اور بھی بیماریوں میں ہو سکتا ہے۔ یہ پتھری کی علامت بھی ہے۔

پیشاب کا رک جانا مثانے کی سوجن کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ عورتوں میں حمل کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔ نوزائیدہ بچہ کا بھی کبھی کبھار پیشاب بند ہو جاتا ہے ۔ پتھری کی وجہ سے پیشاب بند ہوتا ہے یا پھر رک رک کر آتا ہے۔ اس کے علاوہ پیشاب میں خون آنا ( عموماً پتھری کی وجہ سے ہوتا ہے۔)، پیشاب کا خواب میں خودبخود نکل جانا ، مثانہ کی کمزوری ، پیشاب کا قطرہ قطرہ گرتے رہنا۔

پیشاب کی نالی میں سوزش یا انفیکشن بہت زیادہ تعداد میں بیکٹیریا کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جسم کا یہ حصہ گردوں سے مثانے تک آ تا ہے جس کے نتیجے میں پیشاب کرتے ہوئے جلن اور تکلیف کا احساس ہو سکتا ہے۔ اس کی دیگر علامات میں زیادہ پیشاب آنا ، پیشاب میں جھاگ یا خون ، بخار،بدبودار پیشاب پہلو اور کمر میں تکلیف۔

مثانے کا انفیکشن : مثانے میں انفیکشن کے نتیجے میں ورم ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں پیشاب میں جلن ، پیشاب کرنے میں مشکل ، مثانے اور ارد گرد کے حصے میں تکلیف، رات کو معمول سے زیادہ پیشاب آنے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔

گردوں میں پتھری: گردوں میں پتھری کیلشیم یا یورک ایسڈ کے جمع ہونے سے ہوتی ہے اس میں بھی پیشاب میں جلن کے ساتھ پہلو اور کمر میں درد، پیشاب کی رنگت گلابی یا بھوری ہو جانا، جھاگ دار پیشاب، قے، دل متلانا، درد کی شدت میں تبدیلی آنا، بخار، ٹھنڈ محسوس ہونا اور معمول سے کم مقدار میں پیشاب آنا۔ بہت دفعہ کیمیکل جیسے پرفیوم وغیرہ بھی جسمانی ٹشوز کو متاثر کرتے ہیں جس سے پیشاب کرتے ہوئے جلن کا احساس ہوتا ہے۔ بعض مخصوص ادویات کا استعمال مثانے کے ٹشوز کو متاثر کرتا ہے جس کے باعث پیشاب کرتے ہوئے تکلیف اور جلن کا احساس ہوتا ہے ۔

جسم سے پیشاب کا اخراج بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گردے اضافی پانی اور کچرے کو خون سے فلٹر کرتا ہے اور اسے مثانے میں منتقل کردیتا ہے اوسطاً ایک فرد روزانہ 4 سے 6 بار پیشاب کرتا ہے اور ہر 4 گھنٹے کے بعد ایک چکر لگ ہی جاتا ہے تاہم پیشاب کرتے وقت ہر بار جلن اور تکلیف ہو تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ پیشاب کی رنگت بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ صحت کے بارے میں بتاتی ہے۔ بعض دفعہ مختلف قسم کے کھانے اور ادویات بھی پیشاب کی رنگت کو بدل سکتے ہیں ۔ پیشاب کی کون سی رنگت خطرہ کی گھنٹی بجاسکتی ہے۔

نارنجی: اگر پیشاب کی رنگت اورنج ہو تو یہ وٹامن بی کی کمی یا گاجر کے بہت زیادہ استعمال سے بھی ہو جاتا ہے۔ اگر ورم کے لیے دوا بھی رنگ کو اورنج کرتی ہے۔ کیموتھراپی ادویات اور جلاب کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن سے بھی پیشاب کی رنگت گہرے زرد سے اورنج میں بدل سکتی ہے۔ اس صورت میں پانی زیادہ پینا چاہیے اور آنکھوں کا معائنہ کرنا چاہیے ۔اگر آنکھوں کے سفید حصے میں ہلکی سی زردی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جگر کے افعال میں خرابی کی علامات ہوتی ہیں۔

بھورا رنگ: اگر پیشاب کی رنگت بھوری ہو تو جسم میں بہت زیادہ پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ اگر پانی زیادہ پینے سے بھی کوئی فرق نہ پڑے تو جگر کے امراض ہیپاٹائٹس اور دیگر علامت ہو سکتی ہیں۔

گلابی اور سرخی مائل: اگر پیشاب کی رنگت گلابی اور سرخی مائل ہے تو یہ خون ہو سکتا ہے کہ گردوں کے امراض، رسولی، پیشاب کی نالی میں انفیکشن یا مثانے کے امراض کی علامت ہو سکتی ہے۔

سبز یا نیلا: اگر سبز یا نیلا ہو جائے تو ایسا فوڈ کلر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر ایک سے دو دن میں یہ مسئلہ حل نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ سبز رنگت پیشاب کی نالی میں سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

جھاگ دار: جھاگ دار پیشاب پروٹین کے اخراج کی نشانی ہوتا ہے جوکہ گردوں کے امراض کی علامت ہو سکتی ہے۔

شفاف رنگت: اگر پیشاب بے رنگ یا بالکل پانی کی طرح شفاف ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بہت زیادہ پانی پی رہے ہیں جوکہ چند خطرات کا باعث بن سکتا ہے، مگر سب سے اہم جسم میں نمکیات کی کمی ہے جس سے جسم میں کیمیائی عدم توازن ہو سکتا ہے۔

ہلکا زرد، شفاف زرد یا گہرا زرد: عام طور پر پیشاب معمولی سا زرد ہو تو اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ صحت مند ہیں اور جسم کو مناسب مقدار میں پانی مل رہا ہے تاہم اگر وہ کچھ زیادہ زرد ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صحت مند ہیں لیکن آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ اگر رنگت شہد جیسی ہو تو یہ واضح طور پر ڈی ہائیڈریشن کی نشانی ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش کی 8 علامت: پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے۔ اس کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں لیکن اکثر لوگ انھیں بیان کرنے سے گھبراتے ہیں اور اپنے مرض کو بگاڑ لیتے ہیں۔

ہر وقت پیشاب کی خواہش

1۔یہ یوٹی آئی (U.T.I) کی عام علامت ہے جس میں ہر وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ پیشاب آ رہا ہے ، چاہے اسی وقت واش روم سے آئے ہوں اور ایسا احساس کہ ابھی آئے اور ابھی پھر جانا ہے ورنہ نکل جائے گا۔2۔ بہت کم پیشاب آنا، پیشاب بہت کم مقدار میں آتا ہے اور محسوس ہو کہ ابھی مزید کرنا ہے مگر کوشش کے باوجود نہ ہو سکے اور اطمینان بھی نہ ہو۔3۔جلن کا احساس: واش روم جانے پر جلن کا احساس ہوتا ہے ایسا محسوس ہو کہ یہ کام کافی تکلیف دہ ہے اس کے علاوہ درد بھی ہو سکتا ہے۔ 4۔ خون آنا: U.T.I کے مرض میں اکثر پیشاب میں خون آتا ہے۔

5۔ بو آنا:مثانے میں کسی بھی قسم کے انفیکشن کی وجہ سے پیشاب میں بو ہو سکتی ہے۔6۔ پیشاب کی رنگت: اگر رنگ زرد یا شفاف سے ہٹ کر اور کسی رنگ کی ہو تو فکر مندی کی علامت ہے۔ سرخ یا بھوری رنگت انفیکشن کی علامت ہے۔7۔ انتہائی شدید تھکاوٹ: پیشاب کی نالی میں سوزش درحقیقت مثانے کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کے انفیکشن کے نتیجے میں جب جسم کو اندازا ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے تو ورم پیدا ہونے لگتا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے ساتھ وہ خون کے سفید خلیات کو خارج کرتا ہے جس کے نتیجے میں تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔

8۔ بخار: بخار پیشاب کی نالی میں سوزش کی شدت میں اضافے اور اس انفیکشن کا گردوں کی جانب پھیلنے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اگر 101 فارن ہائیٹ سے زیادہ بخار یا ٹھنڈک محسوس ہوتی ہو یا رات کو سوتے ہوئے جسم پسینے میں بھیگ جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

پروسٹیٹ اور مثانے کی مشکلات یا The Prostate and Bladder Problem in

پروسٹیٹ ایک ایسا غدود ہے جو صرف مردوں میں ہوتا ہے۔ یہ اخروٹ کے برابر ہوتا ہے اور مثانے کی گردن کے نیچے مثانے سے باہر نکلنے کے راستے کے اردگرد یعنی پیشاب کی نالی کے گرد ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ ایک دودھیا مائع بناتا ہے جیسے مردوں کی عمر بڑھتی ہے ، ویسے ہی یہ غدود بھی بڑھتا رہتا ہے اور اس وقت یہ بہت سے مردوں میں مثانے کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

ہومیوپیتھک علاج

پیشاب کا بند ہونا:

(1)۔نوزائیدہ بچے کے پیشاب کا بند ہو جانا۔ ایکونائیٹAconite۔ (2)۔ ایپس میلی فیکاApis Melifica، اگر ایکونائیٹ سے بچے کا پیشاب نہ کھلے۔ (3)۔ کاسٹیکم Casticum، عورتوں میں وضع حمل کے بعد پیشاب کا بند ہو جانا۔ (4)۔ اگنیشیاSgnatia، باؤ گولہ کی وجہ سے پیشاب بند۔ (5)۔ اوپیم۔ Opium، مثانے کے فالج کی وجہ سے پیشاب نہ آنا مریض کا مثانہ پیشاب سے بھرا ہوا ہو، لیکن مریض کو احساس ہی نہ ہو اور نہ ہی پیشاب کی حاجت ہو۔ (6)۔کمیفر، اخراجات یا جلدی ابھاروں کے دب جانے سے پیشاب کا بند ہو جانا۔ (7)۔آرنیکا۔ Arnica Montana، زیادہ جسمانی محنت یا چوٹ کی وجہ سے پیشاب کا بند ہو جانا۔ (8)۔ایکونائیٹ۔ ڈر کی وجہ سے پیشاب کا بند ہو جانا۔ (9)۔فیرم فاس۔ Ferrum Phas، تیز بخار یا کسی مرض کی وجہ سے پیشاب کا بند ہو جانا۔ (10)۔ڈیکامارا۔ Dulcamara، مرطوب موسم میں یا بھیگنے سے پیشاب کا بند ہو جانا۔ (11)۔سلفر۔ایک ہی خوراک پیشاب کو جاری کردیتی ہے۔

(1)۔کینتھریسCantharis، اس دوا میں سب سے زیادہ جلن پائی جاتی ہے۔ (2)۔ مرکیورس کار:Mere Corr، پیشاب میں جلن اور نہ ختم ہونے والی پیشاب کی حاجت اس کے ساتھ پاخانہ پھرنے کی نہ ختم ہونے والی حاجت۔ (3)۔ نکس وامیکا۔ Nux Vomica، شراب نوشی۔ ادویات کا کثرت سے استعمال پیشاب اور پاخانہ کی بار بار نہ ختم ہونے والی حاجت۔

پیشاب کا کم ہو جانا

(1)۔ایپس میلی فیکا۔ Apis Melifica

پیشاب کم یا بالکل نہ آنا۔ ورم، پیاس نہ ہونا۔

(2)۔ایپوساؤٹینم کینا بینم۔ Apocynumcan، یہ دوا پانی میں جسم میں بھر جانے کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔

(1)۔آرسنک البم۔Arsanic Album، پیشاب کم ہونا اور جسم میں پانی بھر جانا، پیاس زیادہ بار بار تھوڑا تھوڑا پانی پینا۔

پتھری اور ریگ کی شکایت

(1)۔ بربیرس ویگرس۔Berberis Velgaris۔ (2)۔ پرایرابریوا۔ Pareira Brave۔ (3)۔ لائیکو پوڈیم۔Lyco Podium۔ (4)۔ سیپیا۔ Sepia۔ (5)۔ سارسیریلا۔ Sarsarilla۔ (6)۔ تھلاسپی برسا۔ Thiaspi B.P

پیشاب کا خودبخود نکل جانا

(1)۔کاسٹیکم۔Casticum۔ (2)۔میگنیشیا فاس۔Magnesia Phos۔ (3)۔سائنا۔ Cina

پیشاب میں خون آنا

(1)۔ آرنیکا۔ Arnica Montana

(2)۔ٹیری بن تھینا۔Terebinthina

غدہ قدامیہ کی سوزش کی وجہ سے پیشاب کی تکالیف

(1)۔چمافلا۔Chimaphila

(2)۔ڈجی ٹیلس۔Digitalis
https://www.express.pk/story/2248494/9812/



سردیوں کی آمد آمد ہے جس میں نزلہ زکام سمیت کئی مسائل سر اٹھاتے ہیں۔ تاہم بزرگوں نے کہا ہے کہ ہر موسم کا پھل اور سبزی کھانے سے اسی موسم کے منفی اثرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

سردیوں میں ہاتھ پیر سن ہونا عام بات ہے جس کے بہت سے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں نارنجی کا رس ایک بہترین ٹانک ثابت ہوسکتا ہے۔

بالخصوص ایسے بزرگ جو ہاتھ پیر سن ہونے کی شکایت کرتے ہیں اگر دن میں ایک مرتبہ ایک گلاس اورنج جوس پیا جائے تو اس سے خون کی باریک رگیں کھلنے لگتی ہیں اور خون کا بہاؤ بہت بہتر ہونے لگتا ہے۔ اس ضمن میں ہزاروں افراد پر ایک سروے کیا گیا تو اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ اب جان لیجے کہ دورانِ خون بڑھنے سے خود سردی کی شدت کم محسوس ہونے لگتی ہے۔

لیکن یاد رہے کہ چکوترا (گریپ فروٹ)، لیموں، کینو اور سنگترے کا رس بھی یکساں فائدہ دے سکتا ہے۔ یہ تمام لذیذ پھل وٹامن سی سے مالا مال ہیں جو بدن کے اندرونی دفاعی (امنیاتی) نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور ہمیں سردی اور اس سے وابستہ امراض سے بچاتے ہیں۔

دوسرا پھل سیب ہے جو فائبراور کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس سے مالامال ہے۔ سردیوں میں اس پھل کا استعمال قدرتی طور پر آپ کو مضبوط بناکر سردی اور اس کی تکالیف سے بچاتا ہے۔

تیسرا پھل کیوی ہے جو قدرے مہنگا تو ہے لیکن یہ بھی سردیوں سے بچاتا ہے۔ کیوی میں موجود اہم اجزا سردی کی بے چینی دور کرتے ہیں اور گہری نیند لاتے ہیں۔ وہ خواتین و حضرات جو بے خوابی میں مبتلا ہیں وہ سونے سے ایک گھنٹہ قبل کیوی کے دو پھل کھائیں تو اس سے اچھی اور گہری نیند آتی ہے۔

سردی اور سبزیاں

دوسری جانب ایسی کئی سبزیاں ہیں جن کا استعمال سردیوں میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ان میں شاخ گوبھی، سبزچائےاور سرخ مرچیں بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کا استعمال سردی کے حملوں اور اس سے وابستہ امراض سے بچاتا ہے۔

لیکن اس تناظر میں لہسن کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ لہسن بھی عین وہی کردار ادا کرتا ہے جو نارنجی اور دیگر کھٹے رس دار پھل کرتے ہیں۔ یہ دورانِ خون کو تیز کرتے ہیں اور سردی سے بچاتے ہیں۔ اس لیے سردیوں میں لہسن کا استعمال بڑھادینا ہی اصل فائدہ ہے۔

دوسری جانب سرخ شملہ مرچ بھی سردی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ بھی وٹامن سی سے مالامال ہے۔ اس لیے سردیوں میں سرخ شملہ بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

ادرک میں کئی اجزا ایسے ہوتے ہیں جو گلے کی خراش دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ادرک اندرونی سوزش کو بھی کم کرتی ہے۔ سردیوں میں ادرک کی چائے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ کولیسٹرول میں کمی کے علاوہ یہ جوڑوں کا درد بھی دور کرسکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2249955/9812/


فضائی آلودگی کس طرح انسانی جلد کو نقصان پہنچاتی ہے؟ ماہر ڈاکٹر نے سب کچھ بتادیا
Nov 20, 2021 | 17:28:PM

سورس: Pixnio.com (creative commons license)

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے شہروں میں فضائی آلودگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جو ہماری مجموعی صحت کے ساتھ ساتھ جلد کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے۔

ویب سائٹ cosmopolitan.in کے مطابق بھارت کی ماہر ڈاکٹر گیتکا متل گپتا نے بتایا ہے کہ فضائی آلودگی کے زہریلے اجزاءہمارے گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر موجود ہوتے ہیں جو ہماری جلد میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتے اور اسے تباہ کر ڈالتے ہیں۔ ہماری جلد کو ایسی آلودگی سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے جو سموگ اور پارٹیکولیٹ مواد کے آمیزے پر مبنی ہوتی ہے۔

یہ ذرات جب جلد میں جذب ہو کر جسم میں جاتے ہیں تو ایک تبدیلی یہ آتی ہے کہ جسم کے چربی پیدا کرنے والے غدودوں سے تیل کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں اپنی جلد کو دن میں دو بار اچھے کلینزریا صابن وغیرہ سے صاف کرنا چاہیے تاکہ یہ تیل ہماری جلد کے مساموں میں جمع نہ ہونے پائے اور جلد نقصان سے بچ سکے۔

ڈاکٹرگیتکا کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی جلد کو تولیے سے رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جلد کو دھو کر نرمی سے صاف کر لینا کافی ہوتا ہے۔ جلد کو رگڑنے سے کیل مہاسوں اور چھائیوں کا مسئلہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس آلودگی سے دوسرا مسئلہ یہ لاحق ہوتا ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے۔ بالخصوص ہماری جلد کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے موئسچرائزر کا استعمال کرنا چاہیے۔

فضائی آلودگی ہماری جلد کی خود کا دفاع کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ہم سن بلاک کا استعمال کرکے اپنی جلد کو فضائی آلودگی کی اس تباہ کاری سے بچا سکتے ہیں۔ اس معاملے میں کچھ مخصوص غذائیں بھی مددگار ہو سکتی ہیں۔ ان میں سبزپتوں والی سبزیاں، وٹامن سی کی حامل اشیاءلیموں، مالٹا، آملہ، گریپ فروٹ، ٹماٹر، آلو وغیرہ اور اینٹی آکسیڈنٹس کے حامل مشروبات شامل ہیں
https://dailypakistan.com.pk/20-Nov-2021/1367960?fbclid=IwAR2n0dRXTqiXcEyXLzdyCOYq35cqld7u1JAE3fRx8HQ6_0uk_3MyBKeMAYo


جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی جانب سے ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے 8 ویں قومی ذیابیطس سمپوزیم 2021 کا انعقاد کیا گیا۔

8 ویں قومی ذیابیطس سمپوزیم 2021 میں ماہرین صحت نے موجودہ دور میں ذیابیطس کی وجوہات، اس سے بچاؤ، علاج معالجے، ذیابیطس سے رونما ہونے والے نفسیاتی اور ذہنی دباؤ کے اسباب پر روشنی ڈالی اور بتایا گیا کہ ذیابیطس کے پھیلاؤ کے لحاظ سے 33 لاکھ کیسز کے ساتھ پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر اور جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رسول نے سمپوزیم کے انعقاد اور ماہرین صحت کی جانب سے اپنا قیمتی وقت نکالنے پر انکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک ہے، اس پھیلاؤ کو روکنے کیلیے عوام کو ماہرین صحت کی آرا پر بغور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ضیا الدین یونیورسٹی کے پروفیسر میڈیسن ڈاکٹر اعجاز وہرہ نے گلائسمک کنٹرول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو 40 سال کی عمر میں ذیابیطس کی اسکریننگ کرنا چاہیے، پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر قیصر جمال نے ’’لائف اسٹائل مینجمنٹ ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس تشویشناک حد تک پھیل رہا ہے، ذیابیطس کے پھیلاؤ میں امریکا سر فہرست، چین دوسرے نمبر پر ہے، ذیابیطس سے بچنے کیلیے ہمیں صحت مند ناشتے سے دن کا آغاز کرنا چاہیے۔
https://www.express.pk/story/2249646/1/



سردیوں میں بالوں کو گرنے سے روکنے کے 5 موثر ترین طریقے
Nov 20, 2021 | 10:45:AM


لاہور (ویب ڈیسک) موسم سرما میں سر کے بالوں کا گرنا ایک اہم مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ 50 سے 100 تک بالوں کی لڑیوں کا گرنا قدرتی عمل ہے۔ اس عمل کی وجہ سے نئے بال آتے ہیں اور خام بال گر جاتے ہیں لیکن قدرتی مقدار سے زیادہ بال گرنا پریشانی کا باعث ہے۔

موسم سرما میں جلد خشک ہونے کے ساتھ سر کی جلد یعنی ’اسکیلپ‘ بھی خشک ہو جاتی ہے جس وجہ سے بالوں میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے اور مردوں اور عورتوں دونوں کے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

آج ہم آپ کو5 ایسے مؤثر طریقے بتانے جارہے ہیں جن کو استعمال کرکے آ پ گرتے بالوں کو روک سکتے ہیں۔

تیل سے بالوں کا مساج

سردیوں میں آپ کے بالوں کے لیے سر کا مساج کافی ضروری ہے یہ آپ کے سر میں خون کی گردش کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے، جس سے بالوں کو اندر سے مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔

دو تین چائے کے چمچ زیتون کا تیل یا بادام کا تیل گرم کریں اور سر کی جلد پر آہستہ آہستہ مساج کریں تاکہ یہ بالوں کی جڑوں میں گہرائی تک جا سکے۔

بال گرنے کی اصل وجہ تلاش کریں

ذئنی تناؤ سے لے کر غذائیت کی کمی تک، آپ کی روزمرہ کی سادہ عادتیں سردیوں میں بالوں کے گرنے کی وجہ بن سکتی ہیں۔

اس لیے بالوں کے گرنے کی اصل وجہ تلاش کرنے کیلئے ہیئر کنسلٹنٹ کے پاس جائے اور مکمل معلومات حاصل کریں۔

صحت مند چیزیں کھائیں اور زیادہ پانی پیئیں

آپ کی خوراک میں ضروری وٹامنز، اور دیگر غذائی اجزاء کی کمی بالوں کے گرنے کا سبب بن سکتی ہیں اس لیے زیادہ سے زیادہ صحت مند چیزیں کھائیں ۔

وٹامن ای اور بی اور پروٹین کا استعمال کریں یہ بالوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ سرد موسم میں ضرورت کے مطابق سبزیاں اور پروٹین کا استعمال کرتے ہیں ،گوشت، دہی، مچھلی کھانے سے بالوں کی نشوونما ہوتی ہے اور بالوں کے گرنے پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

اس کے علاوہ صحت مند خوراک جتنی ضروری ہے اتنا ہی پانی بھی ہمارے جسم کیلئے نہایت اہم ہے، موسم سرما میں پانی کم پیا جاتا ہے ، بالوں کی گرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

اس لیے سردی کے موسم میں بھی پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ آپ کی جلد اور بال دونوں ہی اس موسم میں ٹھیک رہیں۔

اپنے بالوں مطابق ہیئر پروڈکٹس کا استعمال کریں

ہم بغیر سوچے سمجھے بالوں کے تیل، شیمپو، کنڈیشنر اور دیگر بالوں کی حفاظت کیلئے بہت سی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔

بالوں کی ضروریات کے مطابق بالوں کے لیے صحیح پروڈکٹ کا انتخاب بالوں کے گرنے کو روکنے کا ایک اہم حصہ ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کے بال خشک ہیں، تو ایسی مصنوعات کا انتخاب کریں جو ڈیپ کنڈیشنگ فراہم کریں۔

گرم شاور لینے سے گریز کریں

سردیوں میں طویل گرم شاور لینے یا گرم پانی میں سر دھونے سے گریز کریں، بہت زیادہ گرم پانی آپ کے بالوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے شاور کیلئے نیم گرم پانی کا انتخاب کریں۔

نوٹ: یہ تمام معلومات تحقیق سے حاصل کی گئی ہیں۔ اگر آپ کسی بھی طبی مسئلے یا انفیکشن کا شکار ہیں تو کسی بھی قسم کے ٹوٹکے کے استعمال سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Nov-2021/1367929?fbclid=IwAR1QQjNHdlWEqjF9kXlMsEAgP3Ir2sVcevv-hHEDTrgmczh8DTUZe6aABE4



ورزش کا ایک اور فائدہ سامنے آیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلسل ورزش سے معدے اور اطراف میں موجود مفید بیکٹیریا کی افزائش ہوتی ہے جو جلن اور سوزش کو دباتے ہیں اور انسانی تندرستی میں اضافہ کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تحقیق گٹھیا کے مریضوں پر کی گئی جس سے انکشاف ہوا ہے کہ ورزش سے جسم کے اندر بھنگ جیسی مسکن اور دردکش دوا کی طرح کے مرکبات خارج ہوتے ہیں۔ یہ مرکبات جلن ختم کرتے ہیں اور سوزش اور درد بھگاتے ہیں۔

آپ کو یہ بات عجیب معلوم ہوگی لیکن 1990 کے عشرے میں دماغی تحقیق کے بعد خود ہمارے جسم کے اندر اینڈوکینابینوئڈ سسٹم کا انکشاف ہوا تھا۔ یعنی ہمارے جسم میں یہ نظام ڈپریشن، وزن میں کمی اور اندرونی جلن اور سوزش (انفلیمیشن) میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے جوڑوں کے درد (گٹھیا) میں مبتلا 78 افراد بھرتی کئے۔ ان میں سے نصف تعداد کے لوگوں کو چھ ہفتوں تک روزانہ 15 منٹ کی ایسی ورزش کرائی گئی جو پٹھوں اور عضلات کو مضبوط کرتی تھی۔ دوسرے گروہ نے کچھ نہیں کیا۔ جن لوگوں نے ورزش کی تھی ان کے جسم میں درد اور سوزش کم ہوئی۔ جب ان کے معدے کو جانچا گیا تو وہاں پہلے کے مقابلے میں مفید بیکٹیریا کی مقدار زیادہ دیکھی گئی جو درد بھگانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوم، چھوٹی زنجیر والے فیٹی ایسڈز کی مقدار بڑھی اور یہ بھی درد دور کرتے ہیں۔

تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ورزش ہمارے جسم پر وہی اثرڈالتی ہے جو بھنگ سے وابستہ ہیں۔ اس لیے اب جوڑوں پر بھنگ کا تیل لگانے سے بہتر یہ ہے کہ ورزش اپنائی جائے کیونکہ یہ ایک قدرتی علاج بھی ہے۔
https://www.express.pk/story/2249172/9812/


بہترین نیند کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ برطانوی ڈاکٹرنے سوال کا شاندارجواب دے دیا
Nov 18, 2021 | 19:02:PM
سورس: TikTok/drkaranr

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بہترین نیند کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ٹک ٹاک سے شہرت پانے والے برطانوی ڈاکٹر کرن راجن نے اب اس سوال کا بہترین جواب دے دیا ہے۔ دی سن کے مطابق اپنی ایک ویڈیو میں ڈاکٹر کرن بتاتے ہیں کہ رات کو بہترین نیند لینے کے لیے کبھی بھی سہ پہر 4بجے کے بعد قیلولہ مت کریں، اس طرح آپ کو رات کو نیند مشکل سے آئے گی۔ اس کے بعد روشنی بچنے کے لیے ’سلیپ ماسک‘ کا استعمال کریں۔ اندھیرا جتنا زیادہ ہو، دماغ اتنا ہی زیادہ میلاٹونین پیدا کرتا ہے جس سے نیند کامعیار بہتر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کرن مزید بتاتے ہیں کہ سونے سے کئی گھنٹے قبل چائے، کافی اور شوگری مشروبات وغیرہ کا استعمال ہرگز مت کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ رات 10بجے سوتے ہیں تو دن 12بجے کے بعد ان تمام چیزوں سے اجتناب برتیں۔ سونے سے 3گھنٹے کے دوران کوئی بڑا کھانا مت کھائیں۔ اپنے بیڈروم کا ماحول پرسکون رکھیں۔ سونے سے 2گھنٹے قبل ہر طرح کے کام بند کر دیں اور صرف آرام کریں اور سونے سے ایک گھنٹے قبل موبائل فون سمیت ہر طرح کی سکرین کا استعمال بند کر دیں۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Nov-2021/1367181?fbclid=IwAR1EhO6VBrIYrIHEeLWwV9BDcKRWfHoeIKFzEwIwjDaGbho0Gc8kxQj0zXM



امریکی طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ صرف ایک پاؤ (252 گرام) انگور یا کشمش کھانے سے جسم میں مضر کولیسٹرول کم ہوجاتا ہے۔

یہ بات انہوں نے 20 صحت مند رضاکاروں پر محدود پیمانے کے آزمائشی مطالعے (پائلٹ اسٹڈی) کے بعد دریافت کی ہے جو 8 ہفتے تک جاری رہا۔ رضاکاروں کی عمر 18 سے 55 سال کے درمیان تھی۔

بتاتے چلیں کہ انگور کے طبّی فوائد صدیوں سے ہمارے علم میں ہیں جبکہ جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں کئی طرح کے مفید نباتاتی مرکبات یعنی فائٹو کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن میں کیٹاچنز، پرو اینتھوسیانیڈنز، اینتھوسیانینز، لیوکو اینتھو سیانیڈنز، کوئرسیٹن، کیمپفیرول، اسٹلبینز، ایلاجک ایسڈ اور ہائیڈروسنامیٹس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انگور میں غذائی ریشہ (فائبر) بھی بھرپور ہوتا ہے۔

مزید حالیہ تحقیقات سے انگور، انگور کے رس، یا انگور سے حاصل کردہ ’فینول‘ قسم کے مرکبات کو بھی اینٹی آکسیڈینٹ کے علاوہ جراثیم اور وائرسوں کے خلاف مؤثر پایا گیا ہے۔

نئے مطالعے میں ان تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے جو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس میں ڈاکٹر ژاؤپنگ اور ان کے ساتھیوں نے انجام دیا ہے۔

اس میں پہلے چار ہفتوں کے دوران تمام رضاکاروں کو کم پولی فینول والی غذا پر رکھا گیا جس کے بعد اگلے چار ہفتوں تک یہی غذا جاری رکھتے ہوئے اس میں خشک انگوروں کے صرف 46 گرام سفوف کا یومیہ اضافہ کردیا گیا۔

انگور کے سفوف کی یہ مقدار 252 گرام تازہ انگوروں کے برابر تھی۔

مطالعہ شروع ہونے سے پہلے اور اس کے بعد، تمام رضاکاروں میں کولیسٹرول اور صفراوی تیزاب (بائل ایسڈ) کے علاوہ ان کے پیٹ میں خردنامیوں کے مجموعے (مائیکروبایوم) کا جائزہ لیا گیا۔

جائزے اور موازنے کے بعد معلوم ہوا کہ چار ہفتوں تک خشک انگور کا 46 گرام سفوف روزانہ استعمال کرنے کے بعد ان رضاکاروں میں کولیسٹرول کی مجموعی مقدار 6.1 فیصد کم ہوگئی تھی جبکہ مضرِ صحت کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) 5.9 فیصد کم ہوا تھا۔

ان کے پیٹ میں نقصان دہ جرثومے کم ہوئے تھے جبکہ صحت بخش جراثیم کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا جو بلا شبہ ایک اچھی خبر تھی۔

ان میں سے بھی ’’ایکرمینسیا‘‘ نامی جرثوموں کی ایک قسم میں اضافہ ہوا جو گلوکوز اور چکنائی کو توڑ کر ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ آنتوں کی اندرونی جھلی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

کولیسٹرول کے ہاضمے پر اثر انداز ہونے والے صفراوی تیزابوں کی مقدار بھی مطالعے کے اختتام پر 40.9 فیصد کم دیکھی گئی جو بہتر صحت کی علامت ہے۔

’’ہم نے پیٹ کے جرثوموں پر انگور کے مفید اثرات دریافت کیے ہیں جو بہت زبردست بات ہے، کیونکہ پیٹ کا درست رہنا، اچھی صحت کےلیے بے حد ضروری ہے،‘‘ ڈاکٹر لی نے کہا۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیوٹریئنٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2249036/9812/



چینی طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ روزانہ 2 سے 3 کپ کافی یا 3 سے 5 کپ چائے پیتے ہیں، ان میں فالج اور ڈیمنشیا (دماغی بیماریوں کے مجموعے) کا امکان بھی بہت کم رہ جاتا ہے۔

یہ نتائج انہوں نے 50 سے 74 سال کے 365,682 برطانوی شہریوں کے روزمرہ معمولات اور صحت سے متعلق ایک طویل مدتی مطالعے میں جمع کی گئی معلومات کا تںجزیہ کرنے کے بعد اخذ کیے ہیں۔

یہ مطالعہ 2006 میں شروع ہوا جس میں رضاکاروں کی بھرتی 2010 تک کی گئی جبکہ ان تمام افراد کی صحت پر 2020 تک نظر رکھی گئی۔ تمام رضاکاروں کی صحت سے متعلق معلومات ’’یو کے بایوبینک‘‘ نامی ڈیٹا بیس میں رکھی گئی ہیں جس تک دنیا کا کوئی بھی طبّی ماہر رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

تیانجن میڈیکل یونیورسٹی چین کے یوآن ژانگ اور ان کے ساتھیوں نے ان ہی اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا، جس پر انہیں معلوم ہوا کہ روزانہ باقاعدگی سے چائے اور کافی پینے والوں میں یہ مشروبات نہ پینے والوں کی نسبت فالج کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔

بہترین اثرات اُن رضاکاروں میں دیکھے گئے جو روزانہ 2 سے 3 کپ کافی، 3 سے 5 کپ چائے یا مجموعی طور پر چائے اور کافی کے 4 سے 6 کپ پیتے ہیں۔

ان افراد میں فالج کا خطرہ، چائے اور کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں 32 فیصد کم جبکہ ڈیمنشیا کا خطرہ 28 فیصد کم دیکھا گیا۔

چائے اور کافی، دونوں کا اہم ترین مشترکہ جزو ’’کیفین‘‘ ہے جو اعصابی خلیوں اور دماغ کے درمیان پیغام رسانی کی رفتار بڑھاتے ہوئے دماغ کو کو عارضی طور پر تقویت پہنچاتا ہے۔

ایک کپ کافی میں اوسطاً 40 ملی گرام جبکہ چائے کے ایک کپ میں 11 گرام کیفین ہوتی ہے۔

پچھلے دس سال میں مختصر پیمانے پر کیے گئے بعض مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین کا استعمال ڈیمنشیا سے بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

تازہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس میں ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کی ایک وسیع تعداد کو شامل کیا گیا ہے۔

اگرچہ نئی تحقیق سے بھی ڈیمنشیا اور فالج سے بچاؤ میں کیفین کی اہمیت واضح ہوئی ہے لیکن اب بھی یہ جاننا باقی ہے کہ کیفین کس طرح سے دماغ اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنا کر ہمیں اہم دماغی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس‘‘ (پی ایل او ایس) نیٹ ورک کے آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2248695/9812/



ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے فضائی آلودگی میں رہا جائے تو اس سے بھی دماغی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے وابستہ پروفیسر اینڈریا لا نوز کہتی ہیں کہ فضائی آلودگی کام کرنے والے بالغ افراد کی دماغی صلاحیت اور ان کی عملی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ لیکن سب سے پرخطر بات یہ ہے کہ گندی فضا میں تھوڑی دیر تک رہنے پر بھی دماغی صلاحیت اس طرح متاثر ہوتی ہے کہ وقتی طور پر 30 سالہ شخص کی ذہنی قوت کم ہوکر 15 سال کی رہ جاتی ہے، لیکن یہ اثر تھوڑی دیر تک رہ سکتا ہے۔

اس ضمن میں دماغی تربیت کے مشہور گیمز سے مدد لی گئی ہے جسے لیوموسٹی کا نام دیا گیا ہے۔ امریکی باشندوں نے یہ گیمز کھیلے اور اس کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔ ان گیمز سے سات دماغی افعال کو نوٹ کیا گیا جن میں یادداشت، بولنے کے ذخیرہ الفاظ، توجہ، دماغی لچک، ریاضیاتی صلاحیت، رفتار اور مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت قابلِ ذکر ہیں۔

جب تجربے میں شامل رضاکاروں کو پی ایم 2.5 والے آلودہ ذرات کی حامل درمیانی شدت والی آلودگی میں رکھا گیا تو کھلاڑی کی دماغی صلاحت 6 پوائنٹس گرگئی۔ اس دماغی کھیل کے پیمانے میں کل 100 پوائنٹس ہوتے ہیں اور ٓصرف ایک فیصد افراد ہی 100 میں سے 100 کا درجہ پاچکے ہیں۔

اس کا مطلب ہوا کہ اگر گیمز کی بنیاد پر دماغی صلاحیت کی بات کریں تو آلودگی سے 30 سال شخص کی فکری صلاحیت گر کر 15 برس کے بچے جیسی ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پی ایم 2.5 ذرات آلودگی کے ایسے ذرات کو کہتے ہیں جو ڈھائی مائیکرون یا اس سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ایک مائیکرون ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے کو کہتے ہیں۔ یہ ذرات پھیپھڑوں میں نفوذ کرجاتے ہیں اور خون کی نالیوں تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جن میں بلڈ پریشر، اعصابی، سائنس کے امراض اور امراضِ قلب سرِ فہرست ہیں۔

واضح رہے کہ زندگی کے روزمرہ امور کے لئے اکتسابی افعال کا درست ہونا ضروری ہے یہ ہمیں کار چلانے سے لے کر چائے بنانے تک میں میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایم 2.5 ذرات کے دماغی اثرات پر یہ بہت اہم تحقیق ہے۔ ماہرین کے مطابق 50 سال سے کم عمر کے افراد پر اس کے اثرات معاشی اور معاشرتی طور پر بہت نقصاندہ ہوسکتے ہیں۔ دفاتر اور کام کی جگہوں پر لوگوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

اسی طرح کئی کام ایسے ہیں جو فوری حساب کتاب اور یادداشت کی بنا پر کئے جاتے ہیں اور فضائی آلودگی اس صلاحیت کو بھی متاثرکرسکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2248484/9812/



انسان کو کتنے گھنٹے کام کے بعد بریک لینے کی ضرورت ہوتی ہے؟ ماہرین نے معمہ حل کردیا
Nov 17, 2021 | 17:06:PM

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لوگوں کے لیے کام سے کتنے دن بعد چھٹی لینا ضروری ہو جاتا ہے؟ اس حوالے سے اب برطانیہ میں ہونے والے ایک تحقیقاتی سروے میں حیران کن انکشاف کر دیا گیا ہے۔

دی سن کے مطابق دوہزار لوگوں پر مشتمل اس سروے کے نتائج میں ماہرین نے بتایا ہے کہ ایک اوسط برطانوی بالغ شخص کو 46دن بعد کام سے بریک لینے اور گھوم پھر کر آنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ بصورت دیگر اس کا تھکاوٹ کا لیول بہت بڑھ جاتا ہے جس سے وہ مو¿ثر اندازمیں کام کرنے کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے اور اس کا عمومی مزاج بھی متاثر ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سروے ماہر نفسیات ڈاکٹر اوڈرے ٹینگ کی سربراہی میں اوریجنل کاٹیجز کی طرف سے کرایا گیا ہے جس میں ایک تہائی لوگوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اگر وہ طویل عرصہ چھٹیاں منائے بغیر گزاریں تو ان کے لیے کام پر توجہ مرکوز رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ 62فیصد لوگوں نے کہا کہ ہفتے کے اختتام پر چھٹی کی بجائے ہفتے کے درمیان میںاگر انہیں چھٹی مل جائے تو اس سے ان کے کام کے معیار پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کا مزاج بھی بہت بہتر ہوتا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/17-Nov-2021/1366743?fbclid=IwAR3qhYTe8WmV6mI0nlSySA6JBTAeMtQ60EOVoeQaehKusfrRoGrU1uoMecQ



بیلجیم کے سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ میٹھے مشروبات پینے کے بعد کم عمر لڑکیوں کی ذہانت میں وقتی طور پر اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ کم عمر لڑکوں کی ذہنی صلاحیتیں عارضی طور پر ماند پڑ جاتی ہیں۔

اس سے پہلے کی گئی بعض تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ شکر کا محدود استعمال ذہانت پر اچھا اثر ڈالتا ہے لیکن یہ تمام تحقیقات بالغ افراد پر کی گئی تھیں۔

بچوں کی ذہانت پر شکر کے اثرات جاننے کے لیے لیوون، بیلجیم میں کیتھولک یونیورسٹی کے فرٹز شلز اور ان کے ساتھیوں نے 3 سے 5 سال کے 462 بچوں پر دو الگ الگ تجربات کیے۔


ان تجربات میں آدھے بچوں کو لیموں کے ذائقے والی سافٹ ڈرنک پلائی گئی جس میں 35 گرام شکر حل کی گئی تھی۔

باقی نصف بچوں کو بھی ویسی ہی سافٹ ڈرنک پلائی گئی لیکن اسے شکر استعمال کیے بغیر، کسی اور چیز سے اتنا ہی میٹھا بنایا گیا تھا کہ جتنی میٹھی پہلے والی سافٹ سافٹ ڈرنک تھی۔

پہلے تجربے میں 10 جماعتوں کے بچے شریک کیے گئے جنہیں سافٹ ڈرنک پلانے سے پہلے اور 45 مند بعد ان میں حسابی صلاحیت جانچی گئی۔

دوسرے تجربے میں 15 جماعتوں کے بچے شریک ہوئے۔ اس بار انہیں سافٹ ڈرنک پلانے سے پہلے، سافٹ ڈرنک پلانے کے 30 منٹ، ایک گھنٹے اور دو گھنٹے بعد ان میں حسابی صلاحیت معلوم کرنے کےلیے ٹیسٹ کیے گئے۔

ماہرین پر انکشاف ہوا کہ شکر والا مشروب پینے کے 45 منٹ بعد لڑکیوں کا حسابی اسکور بہتر ہوگیا، تاہم دو گھنٹے بعد یہ صلاحیت معمول پر واپس آگئی۔

اس کے برعکس لڑکوں میں شکر والا مشروب پینے کے ایک گھنٹے بعد حسابی اسکور کم ہونے لگا جبکہ دو گھنٹے بعد بھی یہ کمی خاصی حد تک برقرار رہی۔

سائنسدان خود بھی اس دریافت پر حیران ہیں کہ کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں میں شکر والے مشروبات کا الٹا اثر کیوں ہورہا ہے؟ فی الحال اس بارے میں ان کے پاس کوئی ٹھوس وضاحت نہیں۔

ریسرچ جرنل ’’ہیلتھ اکنامکس‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں ڈاکٹر شلز نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دماغ پر شکر والی غذاؤں کے اثرات سے متعلق سمجھا جاسکے اور یہ معما بھی حل کیا جاسکے آخر کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں پر یہ اثرات اتنے مختلف کیوں ہوتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2247865/9812/



سبز چائے کے متعلق ایک اور خاصیت سامنے آئی ہے جس کے مطابق اس نے چوہوں کی عمر میں اضافہ کیا اور ان میں عمررسیدگی کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایجنگ یوایس نامی سائنسی جریدے میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سبزچائے میں قدرتی فینول اور اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے جس سے چوہوں کی پھرتی، چستی اور عمرمیں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کیمیکل کو کیٹچن کا نام دیا گیا ہے۔

مذکورہ بالا جزو مائٹوکونڈریائی تنفس کو بہتر کرتا ہے، چربی گھلاتا ہے اور زندگی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ اس طرح کیٹچن کے مسلسل استعمال سے بلڈ پریشن بہتر رہتا ہے، وزن کم ہوتا ہے، اور ذیابیطس (ٹائپ ٹو) میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

سبزچائے میں پولی فینول نامی جادوئی اجزا پائے جاتے ہیں جن میں ایپی گیلوکیٹچن گیلٹ، ایپی کیٹچن گیلٹ، ایپی کیٹچن اور دیگر شامل ہیں جو مشترکہ طور پر ٹھوس سفوف میں 30 سے 42 فیصد مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

تاہم تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پیچیدہ انسانی جسم میں جانے کے بعد بعض اقسام کے پولی فینولز کی تاثیر بہت ہی کم رہ جاتی ہے۔ انسانوں میں فوائد کے لیے ضروری ہے کہ اسے جگر کے پیچیدہ ہاضمے والے عمل سے محفوظ رکھا جائے تاکہ یہ جسم میں شامل ہوسکے اور اس ضمن میں مزید تحقیق کی جارہی ہے۔

لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ اس کے باوجود سبز چائے کے حیرت انگیز مفید اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
https://www.express.pk/story/2247288/9812/


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108797026&Issue=NP_PEW&Date=20211114



سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی )نے اپنے مریضوں کے علاج کے لئے روبوٹک سرجری پروگرام آغازکردیا ہے ۔ سرجری کی یہ قسم جدید ترین طریقہ علاج تصور کی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں ہسپتال میں حال ہی میں روبوٹکس کے دو نئے یونٹس کی تنصیب عمل میں آئی ہے۔

اس جدید سرجریکل نظام کو کیمبرج روبوٹکس نے تیار کیا ہے اور یہ بھارت، جنوبی امریکہ ، مشرق وسطیٰ میں سرجری کے پیچیدہ بیماریوں میں کامیابی سے استعمال ہورہی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں نئی ​​سہولت کی تنصیب کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس ٹیکنالوجیکل سرجری کے نئے طریقوں کے علاج کی نئی راہیں کھلیں گی۔

اس وقت روزانہ کی بنیاد پر مریض روبوٹک کے ذریعے سرجری کے میدان میں علاج سے مستفید ہورہے ہیں۔روبوٹک سرجری کو سرجیکل سائنسز کی دنیا کا ایک انقلابی قدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس سرجری کے ذریعے مریض کو نمایاں طور پر درد میں کمی ، خون کا کم زیاں ، اور انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہسپتال سے جلد فراغت ملنے کے علاوہ روزمرہ کے کام معمول کے مطابق کئے جا سکتے ہیں۔

ایس آئی یوٹی میں نصب نئے روبوٹک نظام کے تحت رواں ماہ نومبر کی 4 تاریخ کو چند مریضوں کی سرجری کی گئی جس کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔اس سے قبل 2017میں ایس آئی یو ٹی نے مریضوں کی سرجری کے لئے سول ہسپتال کراچی کے تعاون سے روبوٹک سرجیکل سہولیات فراہم کر نے کا آغاز کیا تھا۔ اب ایس آئی یو ٹی میں دو نئے روبوٹک سرجیکل یونٹس کی تنصیب سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد مستفیض ہو گی جبکہ ادارے میں لیپروسکوپک اور دیگر سرجری کے شعبہ جات کے ساتھ ساتھ شعبہ ایمرجینسی معمول کےمطابق چوبیس گھنٹے جاری رہیں گی۔

ایس آئی یو ٹی کی پریس ریلیز کے مطابق ابتدائی طور پر ورسیس روبوٹک سسٹم کو شعبہ گردہ و مثانہ کے مریض اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہوسکیں گےجس کے بعد اس کا دائرہ ادارے کے دیگر شعبوں جن میں معدہ و جگر، شعبہ امراض نسواں، اور بڑی آنت تک بڑھا دیا جائے گا۔اس کے علاوہ علاقائی سطح پر سرجری سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لئےایس آئی یو ٹی کے زیر اہتمام تربیتی پروگرام کا آغاز بھی جلد ہوگا۔ ایس آئی یو ٹی میں مریضوں کو تمام طبی سہولیات ادارے کے فلسفہ “مفت علاج عزت نفس اورشفقت کے ساتھ ” بغیر کسی تفریق کے بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں اور اس طرح آبادی کا وہ طبقہ جو معاشی طور پر کمزور ہے وہ اس جدید علاج سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
https://www.express.pk/story/2246488/9812/



فیس بک معاشرے کو خراب کررہا ہے : امریکی سروے
جمعه 12 نومبر 2021ء

نیو یارک( نیٹ نیوز) امریکی ٹی وی کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 76 فیصد امریکی سمجھتے ہیں فیس بک معاشرے کوخراب کررہا ہے ۔ ملکی آبادی کے تین چوتھائی افراد یہ سمجھتے ہیں کہ فیس بک معاشرے کوخراب کررہا ہے۔ جن افراد سے رائے لی گئی ان کے نصف فیصد نے بتایا کہ وہ کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے فیس بک کی وجہ سے سازشی نظریات پر یقین کرنا شروع کردیا۔
https://www.roznama92news.com/%D9%81%DB%8C%D8%B3-%D8%A8%DA%A9-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D8%B1%DB%92-%DA%A9%D8%B3%D8%B1%D9%88%DB%92



بچوں کے دودھ کے دانتوں پر نشانات اور موٹائی کو دیکھ کر مستقبل میں ڈپریشن اور دماغی امراض کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

میساچیوسیٹس جنرل ہسپتال ( ایم جی ایچ) کے ماہرین نے اس کا انکشاف کیا ہے جس کی روداد جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) کے اوپن نیٹ ورک میں شائع کی گئی ہیں۔ اس سے دماغی امراض کو سمجھنے اور خود زدپذیر بچوں کو اس سے محفوظ رکھنے میں بھرپور مدد مل سکے گی۔

کئی برس قبل ایم جی ایچ کی ماہر ایرن سی ڈن نے اپنی حیرت انگیز تحقیق میں کہا تھا کہ ابتدائی کم عمری میں بچوں کی مشکلات آگے چل کر ان کی شخصیت اور نفسیات پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بچوں کے ابتدائی ماہ وسال بہت حساس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ناخوشگواری ایک تہائی دماغی عارضوں کی وجہ بن سکتی ہے جس کے واضح اثرات جوانی اور بلوغت میں سامنے آتے ہیں۔

تحقیق کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ڈپریشن اور دیگر امراض میں مبتلا افراد سے ان کے بچپن کے واقعات اور مسائل کے بارے میں پوچھا جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہرفرد کو اپنے بچپن کی باتیں یاد نہیں رہتیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ماہرین کے مطابق ہمارے ساتھ بچپن میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے نقوش دانتوں پر آجاتے ہیں۔ یوں انہیں، زندگی کے اتار چڑھاؤ کا ایک ریکارڈ کہا جاسکتا ہے۔ بیماری ہو، ذہنی تناؤ ہو یا پھر غذائی قلت ان کا اثر دانتوں پر آتا ہے۔ درختوں کے تنوں میں دائروں کی طرح ایسی ہی دھاریاں دانتوں میں بنتی ہیں جنہیں اسٹریس لائن کہا جاتا ہے۔

اس ضمن میں ایم جی ایچ کےماہرین نے 70 بچوں کا جائزہ لیا جس میں ایوون لونگٹیوڈینل اسٹڈی آف پیرنٹس اینڈ چلڈرن کے تحت برطانوی بچوں کا جائزہ لیا گیا اور انہیں 90 کے عشرے کے بچے بھی کہا جاتا ہے۔ والدین نے اپنے بچوں کے دودھ کے دانت عطیہ کئے تھے۔ عموماً یہ نوکیلے دانت تھے جو پانچ سے سات برس کےبچوں سے لیے گئے تھے۔ خردبین سے ان کا جائزہ لیا گیا ۔ پھر ایک سوالنامے میں چار پہلو سے معلومات لی گئیں جن میں حمل کی سختیوں، والدہ کی نفسیاتی مسائل کی تاریخ، پڑوس کا ماحول، غربت اور رویہ اور معاشرتی سپورٹ کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اب جن ماؤں نے ایک تناؤ بھرا ماحول گزارا تھا اور بے چینی سے گزری تھیں ان کے بچوں پر اس کے اثرات دیکھے گئے اور ان کے دانتوں پر اس کے اثرات دیکھے گئے تھے۔ اس تحقیق کی تفصیلات ایک اور ویب سائٹ پر رکھی ہیں:


ماہرین نے اس تحقیق کے بعد زور دیا ہے کہ بچوں میں دودھ کے دانتوں کے مطالعے سے انہیں مستقبل میں کئی امراض سے بچایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2245813/9812/



امریکی سائنسدانوں نے ایک لاکھ سے زائد طبّی کارکنان کے روزمرہ غذائی معمولات اور عمومی صحت سے متعلق طویل مدتی اعداوشمار کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ پودوں سے حاصل کردہ تیل ہمیں فالج سے بچاتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کی روزمرہ غذا میں پودوں اور سبزیوں سے حاصل کی گئی چکنائی کی مقدار سب سے زیادہ تھی، ان میں 27 سال بعد بھی فالج کا خطرہ ایسے افراد سے 12 فیصد کم تھا جو جانوروں یا دوسرے ذرائع سے حاصل شدہ چکنائی استعمال کررہے تھے۔

اس کے برعکس گوشت اور حیوانی چکنائی (اینیمل فیٹ) کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والوں میں فالج کا خطرہ، کم حیوانی چکنائی استعمال کرنے والوں کی نسبت 16 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ فیلو، فینگ لی وانگ کا مشورہ ہے کہ گوشت کی چکنائی کے بجائے زیتون، سویابین، مکئی اور دوسرے سبزیجاتی روغنیات (ویجیٹیبل آئلز) کی صحت بخش خصوصیات اس تحقیق سے ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہیں۔

یہ تحقیق ’’امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘‘ کے آن لائن اجلاس میں ہفتے کے روز پیش کی جائے گی۔

البتہ، دیگر ماہرین ان نتائج سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف غذا میں شامل چکنائی کی بنیاد پر بیماریوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بہت سے دوسرے معمولات بھی ہماری صحت اور بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتے ہی
https://www.express.pk/story/2245944/9812/



طبی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مسلسل بیٹھے رہنے کا عمل ڈپریشن اور یاسیت جیسی کیفیات پیدا کرتا ہے یا پھر اس جانب دھکیل دیتا ہے۔

ایک سروے کے دوران یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ کووڈ 19 کے ابتدائی مہینوں میں لوگ ڈرائنگ روم اور بیڈروم تک ہی محدود رہے۔ پھر ورزش کا وقت ٹی وی نے لے لیا۔ اس کے بعد زوم پرملاقاتوں نے اور باقی وقت فلم بینی میں گزرگیا۔

تحقیق کے مطابق اپریل سے جون تک جن افراد نے اپنا زیادہ تروقت گھر میں بیٹھ کر گزارا تھا ان میں ڈپریشن کی علامات قدرے زیادہ دیکھی گئی تھیں۔ اب ماہرین اس کا تعلق دماغی امراض سے جوڑنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ تحقیق میں شامل آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جیکب میئر کہتے ہیں کہ ’ بیٹھے رہنا اور غیرسرگرمی سوچے سمجھے عمل کے بغیر ہوتا ہے اور اس کے دماغ پر اثرات ہوتے ہیں۔‘

مارچ 2020ء میں کورونا وبا کا عروج تھا اور لوگ گھروں تک محدود تھے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ اس وقت لوگوں کے برتاؤ اور دماغ پر اس کے اثرات نوٹ کیے جائیں۔ اس لیے انہوں نے 50 امریکی ریاستوں کے 3000 افراد کا جائزہ لیا۔ سوال نامے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح روز و شب گزار رہے ہیں اور کتنی دیر بیٹھے رہتے ہیں اور دماغی اور نفسیاتی طور پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟ یہ بھی پوچھا گیا کہ وبا سے پہلے ان کے معمولات کیسے تھے اور دماغی صحت کس طرح کی تھی؟

معلوم ہوا کہ امریکی جسمانی سرگرمی کی رہنما ہدایات ( جس میں ہفتے میں ڈھائی سے پانچ گھنٹے معتدل یا شدید درجے کی ورزش شامل ہے) پر عمل کم ہوگیا۔ یعنی اس عمل میں 32 فیصد کمی دیکھی گئی۔ عین اسی دوران تمام شرکا نے ڈپریشن، تنہائی اور بے چینی کا اعتراف بھی کیا۔ یہ تمام تفصیلات ایک بین الاقوامی جرنل فرنٹیئرز ان سائیکائٹری میں شائع ہوئی ہیں۔

بعض افراد نے کہا کہ کووڈ 19 وبا کے فوری بعد شروع ہونے والی گھریلو قید کی الجھن اور دماغی صحت 8 ہفتوں میں درست ہوگئی کیونکہ انہوں نے معمولات کو بہتر بنایا تھا۔ اس کے بعد دوسری قسم کے لوگوں نے جب اپنے بیٹھنے کے معمولات بڑھائے تو وہ بحال نہ ہوسکے اور ڈپریشن کے گرداب میں چلے گئے۔

اس تحقیق سے نمایاں سبق یہ ملتا ہے کہ مسلسل بے عملی، ورزش سے اجتناب اور بیٹھے رہنے کا عمل ڈپریش کی وجہ بن سکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2245363/9812/



امریکی سائنس دانوں نے 100 عمر رسیدہ افراد پر پانچ سالہ تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ نیند کم ہو یا زیادہ، دونوں صورتوں میں دماغ کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے اور ڈیمنشیا کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نیند کے دورانیے اور معیار پر پچھلے کئی سال سے بحث جاری ہے۔

ایک طرف کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر رات کے وقت گہری اور پرسکون نیند کا دورانیہ چھ گھنٹے سے کم ہو تو دماغ متاثر ہوتا ہے، جس کے اثرات بڑی عمر میں ظاہر ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس، دوسرے کئی مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ روزانہ 9 گھنٹے یا اس سے زیادہ سوتے رہنے کا معمول بھی دماغ کو نقصان پہنچا کر مختلف دماغی و نفسیاتی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔

اس بحث کا حتمی فیصلہ کرنے کےلیے واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر برینڈن لوسی اور ان کے ساتھیوں نے 75 سے 79 سال کے 100 رضاکار بھرتی کیے جو تحقیق کے آغاز میں بالکل صحت مند تھے۔

آئندہ پانچ سال تک ان میں سونے جاگنے کے دورانیے اور دوسرے متعلقہ معمولات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان کی دماغی صلاحیتیں بھی سالانہ بنیادوں پر جانچی جاتی رہیں۔

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جو بزرگ روزانہ ساڑھے چار (4.5) گھنٹے سے کم یا ساڑھے چھ (6.5) گھنٹے سے زیادہ نیند لے رہے تھے، ان کی دماغی صلاحیتیں واضح طور پر کم ہوتی گئیں جبکہ ان میں ڈیمنشیا کے خطرات بھی اوسط نیند لینے والے بزرگوں کے مقابلے میں 12 فیصد تک زیادہ دیکھے گئے۔

یہ تحقیق آن لائن ریسرچ جرنل ’’برین‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

اس بارے میں ڈاکٹر برینڈن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کو حرفِ آخر نہ سمجھا جائے کیونکہ اس میں شریک افراد کا تعلق ایک مخصوص عمر سے تھا جبکہ ان کی تعداد بھی خاصی کم تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں اس حوالے سے تحقیق مزید محتاط اور تفصیلی ہونا چاہیے تاکہ ہمیں صحت بخش نیند کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ حد کے بارے میں بالکل صحیح معلوم ہوسکے۔
https://www.express.pk/story/2244831/9812/


امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر روزمرہ کھانے میں مرچیں اور گرم مصالحہ بھی شامل رکھے جائیں تو اس سے بلڈ پریشر کم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں غذائیات کے پروفیسر پینی کرس ایتھرٹن اور ان کے ساتھیوں نے اس تحقیق کےلیے ایسے 71 رضاکار بھرتی کیے جنہیں دل کی بیماری کا خطرہ تھا۔

ان تمام رضاکاروں کو 16 ہفتوں تک روزمرہ کھانوں پر مختلف مقداروں مرچیں اور گرم مصالحہ جات چھڑک کر کھلائے گئے۔

مطالعے کا آغاز کم مرچ مصالحے سے کیا گیا جس کی مقدار بتدریج بڑھائی گئی۔

پہلے چار ہفتوں میں ان رضاکاروں کو کھانے کے ساتھ کم مقدار میں مرچیں اور گرم مصالحہ کھلائے گئے جس کے بعد دو ہفتے کا وقفہ دیا گیا۔

دوسرے مرحلے میں یہی عمل اوسط مقدار والی مرچوں اور گرم مصالحہ جات کے ساتھ دوہرایا گیا، جس کے بعد ایک بار پھر دو ہفتے کا وقفہ رکھا گیا۔

آخری مرحلے میں مزید چار ہفتوں کےلیے مرچوں اور گرم مصالحے کی یومیہ مقدار سب سے زیادہ یعنی 6.5 گرام رکھی گئی، جو ڈیڑھ کھانے کے چمچے سے کچھ کم ہوتی ہے۔

ہر مرحلے کے بعد تمام رضاکاروں میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کے علاوہ دل کی صحت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

مطالعے کے اختتام پر تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کھانے کے ساتھ مرچوں اور گرم مصالحے کی 6.5 گرام مقدار روزانہ استعمال کرنے پر رضاکاروں میں بلڈ پریشر کم رہا اور کولیسٹرول کی سطح میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔

’’غذا میں سوڈیم، شکر اور مضر چکنائی کی مقدار بڑھائے بغیر اس کا ذائقہ بہتر بنانے کا ایک زبردست طریقہ یہ ہے کہ کھانے میں گرم مصالحہ اور مرچیں شامل کر لی جائیں،‘‘ پروفیسر ایتھرٹن نے کہا۔

انہوں نے یہاں تک تجویز کیا ہے کہ سلاد اور پھل کھاتے وقت بھی ان پر مرچیں اور گرم مصالحہ چھڑک لیا جائے تو یہ صحت کےلیے اور بھی مفید ہوگا۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ’’دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2245530/9812/



ماہرین طب نے جلدی سونے اور امراض قلب کے خطرات میں کمی کے درمیان تعلق دریافت کرلیا ہے۔

برطانوی طبی جریدے یورپیئن ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق رات 10 سے 11 بجے کے درمیان سونے والے افراد کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

طبّی ماہرین نے اس تحقیق میں 88 ہزار رضاکاروں کو شامل کیا، جنہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے انہیں اسمارٹ واچ کی طرز پر بنی ہوئی ڈیوائسز پہنائی گئیں اور 7 دن تک ان کے سونے جاگنے کے اوقات نوٹ کیے گئے۔

اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی کہ انسانی جسم کی قدرتی گھڑی کی ردھم ذہنی اور جسمانی کارکردگی کو بہتر بنانے کےلیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ تحقیق میں شامل رضاکاروں کا وہ گروپ جو مقررہ وقت پر سوگیا ان میں امراض قلب اور دوران خون کی شکایت دوسرے گروپ کی نسبت کم رہی۔ جب کہ ایسے افراد جو آئیڈیل وقت 10 سے 11 کے بجائے دیر سے سونے کے لیے گئے ان میں سے 3 ہزار افراد میں امراض قلب کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔

اس تحقیق کے مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ پلانز کا اس بارے میں کہنا ہے کہ دیر سے سونے والے افراد کے جسم کی حیاتیاتی گھڑی بے ترتیب ہوجاتی ہے جس کے مضر اثرات امراض قلب کی صورت سامنے آتے ہیں۔ اور اس میں سے زیادہ خطرناک وقت آدھی رات کے بعد کا ہے، کیوں کہ ممکنہ طور پر اس سے حیاتیاتی گھڑی کو ری سیٹ کرنے والی دن کی روشنی دیکھنے کا دورانیہ کم ہوجاتا ہے۔

اس مطالعے کے بارے میں برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی سینئر کارڈیئک نرس ریگینا گبلن کا کہنا ہے کہ اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی اس تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ طویل عرصے تک اپنے دل کو صحت مند کھنے کےلیے رات میں 10 سے 11 بجے کے درمیان سو جانا چاہیے، لیکن دل کی صحت پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں محض نیند ہی شامل نہیں۔ اس میں آپ کا بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی سطح، وزن کو قابو میں رکھنے اور متوازن و صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے ورزش کرنا بھی اہم ہے۔
https://www.express.pk/story/2245292/9812/


ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کو پھلوں اور سبزیوں کی بڑی مقدار کھلائی جائیں تو دماغ پر اس کے بہترین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے ماہرین نے 50 اسکولوں کے 9 ہزار بچوں پر ایک طویل سروے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے خواہ ناشتہ ہو یا دوپہر کا کھانا، بچوں کو پھل اور سبزیاں کھلائی جائیں تو ان کی دماغی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور اکتساب کا عمل مضبوط ہوتا ہے۔

برطانیہ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں بالخصوص برطانیہ کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے ہزاروں بچوں کو شامل کیا گیا۔اس تحقیق میں کئی اداروں نے اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ تحقیق کے دوران جن بچوں نے ایک روز میں پھل اور سبزیوں کے چار سے پانچ حصے کھائے انہوں نے ذہنی تندرستی کے تمام ٹیسٹ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔

تحقیق کے مطابق بچوں کی دماغی صلاحیت پوری زندگی کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے جسے ابتدائی عمر میں بھی ہی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ مقالے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ والدین اس پر توجہ دیں اور اسکول اپنی ترجیحات میں پھل اور سبزیوں کو ضرور شامل کریں۔

جامعہ ایسٹ اینجلیا کی پروفیسر ایلسا ویلچ کے مطابق سوشل میڈیاا اور جدید اسکولوں کا تعلیمی کلچر بچوں کے دماغ پر دباؤ ڈال کر انہیں کم دماغی کی عادات کی جانب دھکیل رہا ہے، اگرچہ پھلوں اور سبزیوں کی افادیت پہلے سے ہی معلوم ہے لیکن اب اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مناسب غذا بچوں کی دماغی اور نفسیاتی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے جس کا ایک بڑا مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ سروے 2017ء میں شروع کیا گیا۔ اس کے بعد بچوں کو ان کی دماغی صحت، خوشی، اطمینان، اور پرسکون ذاتی تعلقات والے معیاری دماغی ٹیسٹ سے گزارا گیا۔

سروے میں بچوں نے سوال نامے بھر کر کھانے کی عادات سے آگاہ کیا۔ ان میں 28 فیصد بچوں نے پھل اور سبزیوں کی تجویز کردہ (دن میں پانچ مرتبہ پھل اور سبزیوں کا استعمال) مقدارکھانے کا اعتراف کیا۔ اوسطاً دس میں سےایک بچے نے کسی قسم کی پھل یا سبزی نہ کھانے کا اعتراف کیا۔

ماہرین نے تمام بچوں کو کئی ٹیسٹ سے گزارا تو معلوم ہوا کہ بچے خواہ پرائمری جماعت میں ہوں یا پھر ثانوی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، ان سب میں دیگر کے مقابلے میں بہتر دماغی صلاحیت دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق ناشتے اور دوپہر کے وقت پھل اور سبزی کھانے سے بچوں کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا گیا ہے۔

اس تحقیق میں جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کی خرابیاں بھی سامنے آئیں اور معلوم ہوا کہ اس سے ذہنی صلاحیت متاثرہوتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2244535/9812/


دنیا میں کینسر کی سب سے خطرناک اقسام کون سی ہیں؟
Jul 06, 2021 | 00:51:AM

سورس: Pxfuel

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس کا اگر بروقت علاج نہ ہو تو انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اگر یہ بیماری ابتدائی سٹیج پر ہی ڈائیگنوس ہوجائے تو مریض کے بچنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں لیکن اگر تشخیص میں تاخیر ہوجائے تو یہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک پھیپھڑوں کا کینسر ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں کینسر کے مرض کی وجہ سے ایک کروڑ افراد زندگی کی بازی ہارے۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے نئے کیسز اور اموات کے اعتبار سے کینسر کی مندرجہ ذیل الگ الگ درجہ بندیاں کی گئی ہیں۔

سنہ 2020ء میں سب سے زیادہ نئے کیسز والے کینسر

بریسٹ کینسر، 22 لاکھ 60 ہزار کیسز

پھیپھڑوں کا کینسر، 22 لاکھ 10 ہزار کیسز

کولون اینڈ ریکٹم (بڑی آنت کا کینسر) 19 لاکھ 30 ہزار کیسز

جلد کا کینسر، 12 لاکھ کیسز

معدے کا کینسر، 10 لاکھ 90 ہزار کیسز

کینسر کی سب سے جان لیوا اقسام اور ان سے 2020 میں ہونے والی اموات

پھیپھڑوں کا کینسر، 18 لاکھ اموات

کولون اینڈ ریکٹم (بڑی آنت کا کینسر) نو لاکھ 35 ہزار اموات

جگر کا کینسر، آٹھ لاکھ 30 ہزار اموات

معدے کا کینسر، سات لاکھ 69 ہزار اموات

بریسٹ کینسر، چھ لاکھ 85 ہزار اموات

https://dailypakistan.com.pk/06-Jul-2021/1311904?fbclid=IwAR3v9ibvGuQu-0qmHwT-e_k73Foyf5iGn02b1Ak3WqQt8vae4ls3pwJ5CY8



ماہرین نے برسوں سے طبی طور پر استعمال ہونے والے ایک مشہور پودے میں ایسے اجزا دریافت کئے ہیں جو اسے بہترین اور طاقتور پین کلر بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی افادیت سوزش اور درد کم کرنے والی بہترین دوا آئبیوپروفِن جیسی ہی ہے۔

میٹالیفی نامی یہ پودا ایک چھوٹے سے دورافتادہ ملک سامووا میں عام پایا جاتا ہے اور سینکڑوں برس سے روایتی علاج میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس پودے کا حیاتیاتی نام سائکوٹریا انسیولیرم ہے جس کے پتے اب تک پیس کر استعمال کیا جاتا رہا تھا۔ اس سے جلد کے انفیکشن، سوجن، بخار اور درد دور کیا جاتا ہے۔

سامووا کے ایک سائنسداں سیسیائی مولیمو ساماسونی نے اس پودے پر پی ایچ ڈی کیا ہے۔ انہوں ںے اپنے طویل مطالعے میں اس پر کئی انداز سے تحقیق کی ہے۔ اس میں سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ جسم سے اضافی فولاد نکال باہر کرتا ہے۔ جب اس کے اجزا زندہ خلیات پر ڈالے گئے تو اس سے امنیاتی خلیات مضبوط ہوتے ہیں اور سائٹوکائن نامی مددگار کیمیکل کا افراز بڑھ جاتا ہے۔

دس سالہ تحقیق کے بعد اس میں اندرونی جسمانی سوزش کم کرنے والے اجزا پر سب سے زیادہ اتفاق ہوا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے مطابق پودا دیگر امراض کے علاج میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ دماغ میں فولاد حد سے زائد جمع ہونے سے الزائیمر اور دیگر امراض پیدا ہوتے ہیں اور یوں فولاد کھینچ کر یہ پودا الزائیمر جیسی ہولناک بیماری میں بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اب ایک اور سائنسداں ڈاکٹر اینڈریو مونکاسکی نے پودے میں شامل کمپاؤنڈ کا جینیاتی مشاہدہ کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ مرکب موٹاپے، ذیابیطس اور امراضِ قبل سے وابستہ جین سے عمل کرتا ہے۔ اسی طرح دو سرگرم حیاتیاتی اجزا بھی ہیں جو سوزش کم کرنے اور دماغ کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ تحقیق پی این اے ایس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2243551/9812/


دمہ میڈیکل سائنس میں پھیپھڑوں کی دائمی بیماری کو کہتے ہیں۔ اس میں سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں ، یوں مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

اس بیماری میں خاص طور پر پھیپھڑوں کی دو بڑی نالیاں جو سانس لینے میں مددگار ہوتی ہیں، سوجن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ چونکہ دمہ ہوا کی نالیوں میں تنگی سے ہوتا ہے جس کے سبب سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے ، یوں سانس لینے میں سیٹی کی آواز نکلتی ہے اورکھانسی ہوتی ہے۔

یہ تکالیف اور بھی بیماروں میں ہو سکتی ہیں ، اس لیے شیر خوار بچوں میں اس کی تشخیص ذرا مشکل ہو جاتی ہے۔ دمہ بچے کو ہو جائے تو اس کے پھیپھڑوں کو عمر بھر کے لیے متاثر کرسکتا ہے ۔ جب بچوں کو دمہ کا مسئلہ ہوتا ہے تو ان کی بھی سانس کی نالیاں بہت سکڑ جاتی ہیں ۔ جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو اپنے پھیپھڑوں سے سانس اندر باہر لے جانے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے ۔ بچے کو دمہ کا مسئلہ کی صورت میں جو چیزیں سانس کی نالیوں کے سکڑنے کا سبب بنتی ہیں:

1- ۔سانس کی نالیوں کی تہہ موٹی ہو جاتی ہے اور سوج جاتی ہے یعنی سوزش ہو جاتی ہے۔

2- ۔سانس کی نالیوں کے گرد عضلات سخت ہو جاتے ہیں ، اس کو ہوا کی نالیوں کا کھنچاؤ یا برونکو کنسٹرکشن کہتے ہیں۔

3- سانس کی نالیاں بہت سا صاف، گاڑھا ، مائع بناتی ہیں جسے بلغم کہتے ہیں۔ یہ بلغم نارمل سے زیادہ گاڑھی ہوتی ہے جس سے سانس کی نالیوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

یہ بیماری بچوں میں بعض دفعہ بڑھتی عمر تک جاری رہتی ہے۔ دمہ کی کچھ علامات الرجی سے بھی ملتی جلتی ہیں تاہم کچھ لوگ دمہ کی علامات اور الرجی کی علامات میں فرق نہیں کر پاتے ۔ بلاشبہ اس بیماری کی بہت سی وجوہات تو موجود ہیں مگر آگاہی کی کمی کے باعث اور وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرض شدت اختیار کر جاتا ہے۔


دمہ کیا ہے؟
سانس کی دشواری کی دائمی علامت ہے۔ الرجی اور دمہ میں سب سے واضح فرق یہی ہے۔ دمہ میں مریض سانس لینے میں بہت زیادہ دشواری کا سامنا کرتا ہے اس کے علاوہ بہت سی علامات الرجی سے ملتی جلتی ہیں۔کچھ مریضوں میں دمہ کا حملہ دیر تک رہتا ہے مگر شدت اختیار نہیں کرتا جبکہ کچھ مریضوں میں دمہ کا ایک بار شدت سے حملہ کرتا ہے۔


دمہ کی علامات
اس مرض کی سب سے پہلی اور بڑی علامت کھانسی ہے۔ مرض معمولی کھانسی سے شروع ہوتا ہے اور یہ کھانسی شدت اختیار کرلیتی ہے۔
2۔ سانس لینے میں شدید تکلیف کا سامنا، 3۔سانس کا پھولنا، 4۔مسلسل کھانسی کے دورے پڑنا،5۔ پیشاب میں زیادتی، 6۔رات میں کھانسی زیادہ ہونا، 7۔ نیند میں دشواری اور بے چینی خواہ یہ علامات الرجی سے ملتی جلتی ہیں۔ مگر شدید کھانسی قابل تشویش ہے۔ کچھ مریضوں میں یہ سب علامات ایک ہی ساتھ ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ کچھ مریضوں میں علامات کم ظاہر ہوتی ہیں۔ بروقت علاج مرض کو بڑھنے سے روک سکتا ہے۔

دمہ کی وجوہات

اس مرض کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ تاہم مختلف افراد میں درج ذیل وجوہات کی بنا پر دمہ کا مرض پایا جاسکتا ہے:
1۔ سانس کی نالیوں میں تنگی یا خرابی، 2۔ نالیوں کا سکڑنا،3۔ پھیپھڑوں کی نالی میں تنگی،4۔ اس کے علاوہ دمہ ماحولیاتی آلودگی اور ماحولیاتی وجوہات اور عادات کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے،1۔ سگریٹ نوشی، 2۔ نشہ آور ادویات، 3۔ فضائی آلودگی،4۔ قوت مدافعت کی کمزوری۔
یہ مرض مختلف بیماریوں کی وجہ سے بھی لاحق ہو سکتا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ ٹانسلز ، 2۔ دل کے امراض ، 3۔ بدہضمی یا معدے کے امراض ، 4۔ قبض ، 5۔ ذہنی کمزوری یا ڈپریشن۔

اقسام
دمہ ایک لمبی ممکنہ طور پر جان لیوا بیماری ہے جہاں پھیپھڑوں میں سوجن، تنگ، بلغم میں اضافہ سانس کی قلت سینے کا سخت ہونا، کھانسی، ناک مکھی کا سبب بنتا ہے جبکہ زیادہ تر دمہ بچپن میں ہی شروع ہو تا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ الرجی اور دمہ دونوں کسی بھی عمر میں ہو سکتے اور بڑھ سکتے ہیں۔

1- الرجک دمہ

جب دمہ بہت زیادہ بھڑک جاتا ہے تو اس قسم کا ہوتا ہے۔ اس میں سڑنا پالتو جانوروں کی وجہ سے۔ کھلی عام الرجی ہے کھانے کی حساسیت بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے جس چیز کے کھانے سے انسان کو الرجی ہو وہ بھی جسم میں جا کر زہر کا کام کرتی ہے اور دمہ کو بڑھا دیتی ہے۔ جو لوگ بلی کو بہت زیادہ قریب رکھتے ہیں ، انھیں بھی دمہ کا مرض ہو سکتا ہے کیونکہ بلی کے بال سے دمہ ہوتا ہے۔ دودھ اور پنیر میں پروٹین کے مابین مضبوط تعلق ہے جو دمہ کو متحرک کرسکتی ہے۔ گلوٹین خمیر اور شکر بھی زہر قاتل ہو سکتے ہیں ۔ سب سے پہلے ڈاکٹر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مریض کس کھانے سے الرجک ہے، اس سے احتیاط کروائی جاتی ہے ، یہ مریض خود بتا سکتا ہے کہ کون سی غذا کھانے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔

2- دمہ بغیر الرجی کے

ان لوگوں کو بھی دمہ ہو سکتا ہے جو الرجی سے متحرک نہیں ہیں، عام دمہ (Rhinovirus) سردی فلو۔ میں بعض لوگوں کو سانس کا انفیکشن ہو جاتا ہے۔ جن مریضوں کو بغیر الرجی کا دمہ ہو انھیں چاہیے کہ وہ پروٹین کی چیز مختلف پھل، سبزیاں، گری دار میوے کی صاف ستھری غذا کھائیں۔ اس سے انھیں اندازا بھی ہو جائے گا کہ ان پر کوئی فرق پڑتا ہے کہ نہیں ۔ اگر فرق پڑتا ہے، تکلیف بڑھتی ہے تو پھر یہ الرجی والا دمہ ہے۔

3- اسپیرین بڑھتی ہوئی سانس کی بیماری

اس قسم کو اسپیرین کے ذریعے متحرک کیا جاتا ہے۔ مریضوں کو ناک بہنے ، چھینکنے اور اسپیرین حساسیت کی تاریخ ہو سکتی ہے۔ جب وہ اسپیرین لیتے ہیں تو چھینک آتی ہے اور ناک بھر جاتی ہے جس سے گڑگڑاہٹ اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس طرح کا بچہ کافی سخت ہوتا ہے۔

4- ورزش سے متاثرہ دمہ

کسی بھی طرح کی جسمانی مشقت یا کھیل دمہ کی تکلیف کو بڑھاتے ہیں جس سے کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور سینے میں تنگی کا باعث بنتے ہیں ۔ جیسے ہی وہ مشقت روکتے ہیں بہتری محسوس کرتے ہیں۔

5- کھانسی کی مختلف حالتیں

وہ دمہ جو خشک کھانسی کی خصوصیت ہے۔ یہ جاگتے یا سوتے دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ یہ بالغوں اور بچوں دونوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس قسم کے دمہ کی تشخیص مشکل ہوتی ہے۔ کھانسی کے علاوہ کوئی علامت نہیں ہوتی۔

6- پیشہ وارانہ دمہ

جب ملازمت میں کوئی چیز دمہ کے دورے سے دور ہو جاتی ہے تو دمہ کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ جلد متاثر ہوتی ہے، یہ عام طور پر دھواں یا کلورین جیسی سانس لینے والی جلن سے ہوتا ہے۔ اس کا تعلق الرجی سے نہیں ہوتا۔ ایسے پیشے جو پینٹ یا لیب میں جانوروں جیسے چوہوں یا چوہوں کے جیسے کیمیائی مادوں پر کام کرتے ہیں، اس سے مریض میں تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ ان علامات سے بچنے کے لیے ایسی چیزوں، ایسے پیشوں سے دور رہیں۔

Childhood Onest-Asthma-7

اس قسم کا دمہ عموماً بچپن میں شروع ہوتا ہے۔ اس کی وجہ عام طور پر فضا میں پائی جانے والی مختلف چیزوں سے الرجی ہوتی ہے۔ بچوں کو جن چیزوں سے عام طور پر الرجی ہوتی ہے وہ بلی کے بال، دھول مٹی، زردانے، مچھر مارنے والے کوائل وغیرہ شامل ہیں۔

Adultonest-Asthma-8

دمہ کی یہ قسم 20 سال کی عمر کے لوگوں میں دیکھنے میں آتی ہے اور عام طور پر خواتین میں زیادہ عام ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات بھی مختلف قسم کی الرجی ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات کیمیکل اور بعض ادویات بھی اس قسم کے دمہ کی وجہ ہو سکتی ہیں۔

Noctural Asthma-9

اس قسم کا دمہ عام طور پر درمیانی رات سے شروع ہوکر تقریباً 8 بجے تک جاری رہتا ہے۔ یہ دھول، مٹی، بلی کے بال یا سانس کی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مریض رات کے وقت خرخراہٹ یا سانس کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور تقریباً ساری رات ہی دمہ کی وجہ سے بے چین رہتا ہے خاص طور پر 2-4 بجے کے دوران۔

Steroid Resistant Asthma-10

یہ دمہ شدید قسم کا ہوتا ہے۔
وجوہات و عوامل

ایک عام اندازے کے مطابق پوری دنیا میں تقریباً 300 ملین لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اس مرض کو پھیلانے والے عوامل میں (1)۔ ہوا۔ (2)۔ ماحولیاتی و فضائی آلودگی، دھواں، دھول مٹی، کاکروچ، زردانے، سرد ہوا، ایکسرسائز، پھیپھڑوں یا ہوا کی نالی کا انفیکشن، سگریٹ، یا مچھر مارنے والے کیمیکل کا دھواں، حیوانی فضلہ، پرفیوم، ایئر فریشنر، پینٹ، بعض ادویات، ڈپریشن اور ایسی غذا کا استعمال جن میں سیلفائیڈ موجود ہو۔

دمہ کا حملہ۔Asthmatic Episode۔ دمہ کی وہ حالت جس میں مریض کی علامات بری طرح بگڑ جاتی ہیں۔ یہ حملہ اچانک ہوتا ہے ، اس کی شدت کم، درمیانی یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ بعض دفعہ دمہ کے حملوں میں ہوا کی نالیاں پوری طرح بند ہو جاتی ہیں اور ہوا کی آمد و رفت بالکل رک جاتی ہے جس کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جسم میں بڑھ جاتی ہے اور آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

تشخیص

دمہ کی تشخیص کے 3 بنیادی طریقے ہیں:
Medical History: جسمانی معائنہ اور ٹیسٹ
(1)۔ میڈیکل ہسٹری کے ذریعے دمے کی تشخیص الرجی کی معلومات مثلاً ناک کا بہنا، سانس کا انفیکشن، نفسیاتی دباؤ وغیرہ۔
(2)۔ طبی معائنے میں عام طور پر سانس کی روہری نالی ، سینے اور جلد کا معائنہ کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ناک کا بہنا، ناک کی سوجن، جلد کی بیماری، ایگزیمہ وغیرہ جو دمہ سے تعلق رکھتی ہیں اس کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
(3)۔Asthama Test۔ Liver Function Test اس کے علاوہ Allergy Test، Spirometry Test شامل ہیں۔

Asthmaکا ہومیو پیتھک علاج

چھاتی بلغم سے بھری ہوئی، سانس لینے میں دشواری کھانستے کھانسے قے آجائے۔

(4)۔ Eucalypts۔ یوکلپٹس۔

بلغمی کرانک دمہ، سفید گاڑھا بدبودار بلغم نکلنے، سانس کی نالیاں پھیل گئی ہوں۔

(5)۔ Arsinc Album۔ آرسنیک البم۔

رات کے وقت سانس لینے میں دشواری شدید بے چینی۔ گھبراہٹ۔ موت کا خوف۔ مریض لیٹ نہ سکے۔

(6)۔Vanadium۔ وناڈیم۔

یہ دوا پھیپھڑوں اور جسم کی آکسیجن کی کمی کو پورا کرتی ہے جھٹکوں والی کھانسی جو دورے کی شکل میں آئے، ٹی بی کے پہلے درجے کی دوا۔

(7)۔ Natruma Slup۔ نیٹرم سلف۔

بلغمی دمہ، بچوں کا دمہ، سینے میں گڑگڑاہٹ، گاڑھا سبزی مائل بلغم، مریض کھانسے ہوئے چھاتی پکڑتا ہے۔

(8)۔Kalibi۔ خالی بائی

تکلیف دہ کھانسی سینے میں درد، شام کے وقت کھانسی زیادہ، لیس دار چپکنے والا زرد بلغم، مقدار میں زیادہ۔ آواز بگڑی ہوئی۔

(9)۔Bacillinum۔ بیسی لینیم۔

پھیپھڑوں کی اہم ترین دوا۔ شدید کھانسی جس سے دم گھٹے، سانس کی نالیوں میں بلغم آجاتا ہے۔ کھانسنے سے بلغم کا کم نکلنا، پھیپھڑوں میں خون کی گردش کمزور۔

(10)۔ Senega سینیگا

پرانا دمہ، چھاتی میں بلغم کا جمع ہونا، سینہ پر بوجھ، سانس کی باریک نالیوں میں بلغم، گڑگڑاہٹ کی آوازیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی ادویات جو علامات کے حساب سے دی جاسکتی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2243319/1/


قوت باہ میں اضافے کے لئے ناشتے میں یہ چیز کھائیں، سائنسدانوں نے بہترین مشورہ دے دیا
Aug 14, 2019 | 22:17:PM


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) وٹامن ڈی کی کمی سے خواتین میں جنسی ہارمون اوسٹرجن اور مردوں میں ٹیسٹاسٹرون کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی جنسی قوت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اب ایک غذائی ماہر نے مردوخواتین کو ناشتے میں کچھ ایسی چیزیں کھانے کا مشورہ دے دیا ہے جو ان کی جنسی قوت کو بھرپور بنا دیں گی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق لندن کے غذائی ماہر روب ہوبسن کا کہنا ہے کہ ”ناشتے میں کھمبی، مچھلی (خصوصاً میکرل) یا انڈے کا استعمال مردوخواتین کی جنسی صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتا ہے۔“

ہوبسن کا کہنا تھا کہ ”یہ غذا انسان میں وٹامن ڈی کا لیول بڑھا دیتی ہیں جو مردوخواتین کے جنسی ہارمونزٹیسٹاسٹرون اور اوسٹروجن کی پیداوار میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں ان کی جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ ”غذا سے باقی تمام غذائی اجزاءباآسانی حاصل ہو جاتے ہیں لیکن وٹامن ڈی کا حصول محض غذا سے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے کچھ مخصوص اشیاءکھانی لازمی ہوتی ہیں، جن میں آئلی فش، انڈے اور مشرومز سرفہرست ہیں۔تاہم وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلیمنٹس کا استعمال بھی بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔“
https://dailypakistan.com.pk/14-Aug-2019/1007267?fbclid=IwAR0-4ZTKtKSavtFMRm_xbcbys6Oa2ORUMb5f3v9Jbc6SzDUj8VMsMrv8Tok


گوشت چھوڑ کر صرف سبزیاں کھائی جائیں تو ہڈیاں کمزور ہوسکتی ہیں، تازہ تحقیق میں وارننگ دے دی گئی
Nov 23, 2020 | 19:22:PM


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سبزی خوری کے بہت سے فوائد بھی ہیں مگر کٹڑ سبزی خور بن جانے کے کئی نقصانات بھی ہو سکتے ہیں جن میں سے ایک انتہائی تشویشناک نقصان سائنسدانوں نے اس نئی تحقیق میں بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیق میں بتایا ہے کہ جو لوگ جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک سے مکمل اجتناب برتتے اور کٹڑ سبزی خور بن جاتے ہیں ان کی ہڈیاں اتنی زیادہ کمزور ہو جاتی ہیں کہ ان کے ٹوٹنے کا خطرہ گوشت خوروں کی نسبت 43فیصد زیادہ ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جو لوگ گوشت کھاتے ہیں ان کی ہڈیاں کٹڑ سبزی خوروں کی نسبت 2.3گنا کم ٹوٹتی ہیں۔ اس تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے نوفیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف پاپولیشن ہیلتھ کے سائنسدانوں نے 55ہزار لوگوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا اور ان کی ہڈیوں کی مضبوطی سے کے ساتھ تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ٹیمی ٹونگ کا کہنا تھا کہ ”سبزی خوروں کے جسم میں کیلشیم اور پروٹین کی کمی واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی ہڈیاں فریکچر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ ہمیں کسی بھی غذائی عادت کو اپنانے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات دونوں کو بغور دیکھ لینا چاہیے اور ایسی خوراک اپنانی چاہیے جس میں ہمارا باڈی میس انڈیکس صحت مندانہ رہے۔ ہم نہ ہی انتہائی دبلے پتلے ہو جائیں اور نہ ہی موٹاپے کا شکار۔“
https://dailypakistan.com.pk/23-Nov-2020/1214402?fbclid=IwAR1E865KZEwqEyofU31KT4DJP2v2AV1mwkQSmDiErVMREBBvW1QYYwD-Inc


11 ایسے گھریلو ٹوٹکے جو آپ کو عام بیماریوں میں فوری آرام دیں۔۔۔ اگر آپ کو زکام ہے تو یہ ضرور پڑھیں
Nov 11, 2018 | 18:01:PM


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) کئی بیماریوں کا علاج ہمارے گھر میں ہی موجود ہوتا ہے لیکن لوگ آگہی نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے ماہرین کے حوالے اپنی رپورٹ میں 11مختلف عارضوں سے نجات کے آسان گھریلو ٹوٹکے بتائے ہیں جو ہر کسی کو معلوم ہونے چاہئیں۔یہ ٹوٹکے ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں:

خواتین کو ماہواری کے دوران تکلیف ہونا

ٹھنڈے پانی میں دو یا تین لیموﺅں کا رس ڈالیں اور پی لیں۔ روزانہ یہ عمل کرنے سے حیض کے دنوں میں ہونے والی تکلیف سے نجات مل جائے گی۔

دائمی سردرد

ایک سیب کو چھیل کر باریک ٹکڑے کر لیں۔ ان میں تھوڑا سا نمک اچھی طرح مکس کریں اور یہ آمیزہ صبح نہار منہ کھائیں۔

قبض ، گیس کے باعث پیٹ کا اپھارہ

ایک چوتھائی چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں ڈال کر پئیں

گلے میں درد ہونا

تُلسی کے دو تین پتے پانی میں ہلکی آنچ پر ابالیں، حتیٰ کہ پتوں کا عرق پانی میں آ جائے۔ پھر اس سے غرارے کریں۔

منہ کا السر(منہ میں زخم ہو جانا)

کیلے اور شہد کو ملا کر ایک پیسٹ بنائیں اور اسے منہ کے اندر متاثرہ حصوں پر لگادیں۔

ناک بند ہونا

آدھاکپ پانی لیں اور اسے گرم کر لیں۔ اس میں سیب کا سرکہ اور چٹکی بھر پسی ہوئی لال مرچ ڈالیں اور مکس کر کے پی لیں۔ دن میں دو بار یہ عمل دہرائیں۔

بلند فشارخون(ہائی بلڈپریشر)

دودھ کے ساتھ آملہ کھانے سے بلڈپریشر کم ہوتا ہے۔ اسے صبح کے وقت استعمال کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

دمہ

ایک چمچ شہد میں آدھ چمچ دار چینی ملائیں اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔ باقاعدگی سے روزانہ یہ آمیزہ لیں۔

سر میں خشکی اور سکری آنا

ناریل کے تیل میں کافور ملائیں اور سونے سے قبل سر میں لگا لیں۔ روزانہ یہ عمل دہرائیں۔

کم عمری میں بالوں کا سفید ہوجانا

خشک آملہ کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ناریل کے تیل میں تب تک ابالیں کہ آملہ کے ٹکڑوں کی شکل جھلسی ہوئی گرد جیسی ہو جائے۔ اس کے بعدروزانہ اس تیل کی سر میں مالش کریں۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑنا

گلیسرین میں مالٹے کا رس ملا کر آنکھوں کے گرد متاثرہ جلد پر لگائیں۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Nov-2018/879303?fbclid=IwAR3f4xUAa7Fzt-EsP6DvYUF4k3qAams8o1MRc4awkBUaiGgh9To68QFi7ok


اگر آپ ہر وقت تھکان اور کمزوری محسوس کرتے ہیں تو اس وٹامن کا استعمال فوری طور پر شروع کردیں
May 16, 2021 | 20:03:PM


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ ذرا سے کام کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو آپ کو اپنا وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے کہ کہیں آپ میں اس کی کمی تو نہیں، کیونکہ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے انسان نقاہت اور تھکاوٹ کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے اور بالواسطہ طور پر اس سے انسان کی ہڈیاں بھی کمزور ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق برطانیہ کے شہرایڈمبرگ کی ایک میڈیکل ٹیم نے کی ہے۔ ماہرین نے کچھ رضاکاروں کو 20منٹ تک سائیکل چلانے کو کہاگیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو نقلی گولی یعنی پلیسیبو(Placebo) جبکہ باقی کو وٹامن ڈی کی خوراک دی گئی تھی۔ سائیکل چلانے کے بعد ماہرین نے ان کا معائنہ کیا اور تھکاوٹ کا چیک کی۔ دو ہفتے بعد انہی لوگوں کو ایک بار پھر 20منٹ تک سائیکل چلانے کو کہا گیا مگر اس بار ان لوگوں کی خوراک تبدیل کر دی۔

پہلے جن لوگوں کو پلیسیبو دیا گیا تھا انہیں وٹامن ڈی دے دیا اور جنہیں وٹامن ڈی دیا گیا تھا انہیں پلیسیبو دے دیا گیا۔ دونوں بار ان افراد میں تھکاوٹ کے آثار انتہائی کم تھے جنہیں وٹامن ڈی کی خوراک دی گئی تھی۔ اس کے برعکس جن لوگوں کو پلیسیبو دیا گیا تھا وہ سائیکل چلانے کے بعد بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ برطانوی اخبار ”ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”آج کل لوگوں میں وٹامن کی کمی عام پائی جاتی ہے اس لیے آج کل لوگ زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ چونکہ وٹامن ڈی انسانی جسم میں کیلشیم کے انہضام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے۔ اس لیے وٹامن ڈی کی کمی سے بالواسطہ طور پر انسان کی ہڈیاں بھی کمزور ہوتی ہیں۔ “
https://dailypakistan.com.pk/16-May-2021/1289611?fbclid=IwAR3XjYaphAy8wSn3nb52Y1UWylBkhYxQPvpvJ7MgvjMGnx5hZl8OH8VRYik


ورزش نہ کرنے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ ماہرین نے بتا دیا
Oct 22, 2021 | 21:28:PM


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ورزش صحت مندانہ زندگی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ورزش نہ کرنے کے ہمارے جسم پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ماہرین نے اس سوال کا ایسا پریشان کن جواب دے دیا ہے کہ جان کر ہر کوئی باقاعدگی سے ورزش کرنے لگے گا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل ورزش نہ کرنا شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور بہت زیادہ جنک فوڈ کھانے کے برابریا ان سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ غیرمتحرک رہتے ہوئے زندگی گزارنے سے قبل از وقت موت کا امکان سگریٹ نوشی کرنے والے یا ذیابیطس میں مبتلا لوگوں کی نسبت بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ جو لوگ ورزش نہیں کرتے انہیں دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انہیں سانس کے مسائل بھی زیادہ لاحق ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے پٹھے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں اور وقت سے پہلے ہی یہ لوگ پٹھوں کی کمزوری سے متعلق کئی طرح کے عارضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ورزش نہ کرنے والے لوگوں کو نیند کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور طویل مدت میں جا کر ایسے لوگ زندہ رہنے کی خواہش ہی کھونا شروع کر دیتے ہیں۔ورزش نہ کرنے والے افراد میں بلڈ شوگر لیول بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جس کا حتمی نتیجہ دوسری قسم کی ذیابیطس کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے لوگوں کو موٹاپا اور دیگر کئی ایسے عارضے کئی گنا زیادہ لاحق ہوتے ہیں جو انہیں قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/22-Oct-2021/1356119?fbclid=IwAR33QYukznPEWnDJ0dGN2llC91kfEIl32ONzPdgG9lOh3asLCjiMvLeB0FA


حاملہ خواتین کے سامنے کبھی بھی چیخنا نہیں چاہیے، سائنسدانوں نے انتہائی سخت وارننگ دے دی
Mar 03, 2019 | 16:47:PM


ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) شوہر کا اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور اس پر چیخنا چلانااس کے پیٹ میں موجود بچے کے لیے کس قدر نقصان دہ ہوتا ہے، اب اس حوالے سے سائنسدانوں نے انتہائی سخت وارننگ دے دی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق جاپان کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ جو مرد اپنی حاملہ بیویوں پر چیختے چلاتے ہیں اس سے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی قوت سماعت متاثرہ ہونے کا خطرہ 50فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

جاپان کے کوچی میڈیکل سکول کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”تیز مردانہ آواز ماں کے پیٹ میں موجود بچے پر کو بے سکون کرتی ہے اور اس سے اس کی قوت سماعت کے نظام کی نشوونما میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ مردوں کو ہر حال میں اپنی حاملہ بیویوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے اور چیخنے چلانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ان کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ سماعت کی مختلف بیماریوں سے بچ سکے۔“
https://dailypakistan.com.pk/03-Mar-2019/933527?fbclid=IwAR23TdJxHuXEPPQS4aqeQBbxCZSMceiQJ9-mAvSUwDk4uHsxELCw2aylqAQ


حمل کے دوران پیراسٹامول ہرگز استعمال نہ کریں، سائنسدانوں نے حاملہ خواتین کو سخت وارننگ دے دی
Oct 31, 2019 | 17:59:PM


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) پیراسیٹا مول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے اور لوگ معمولی درد یا تھکاوٹ کی صورت میں بھی اس کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے حاملہ خواتین کے لیے اس گولی کا ایک انتہائی خطرناک نقصان بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پیراسیٹا مول جسے ٹائیلینول (Tylenol)اور اسیٹامینوفین (Acetaminophen)بھی کہا جاتا ہے، ماں کے پیٹ میں پرورش پاتے بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ جو مائیں دوران حمل یہ گولی کھائیں ان کے پیش میں موجود بچوں کو اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم جیسی بیماریوں اور دیگر معذوریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ دو گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے سینکڑوں حاملہ خواتین کے پیٹ میں پرورش پاتے بچوں کی ’امبیلیکل کورڈ‘ (Umbilical Cord)سے خون کے نمونے لیے اور ان میں پیراسیٹا مول کی موجودگی کا پتا چلایا۔ بعد ازاں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی صحت کے ساتھ ان کا موازنہ کیا گیا۔ جس میں پتا چلا کہ جن کے امبیلیکل کورڈ میں پیراسیٹامول پائی گئی تھی ان میں سے کئی بچے ماں کے پیٹ میں ہی نشوونما کے بگاڑ کا شکار ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ ان میں آگے چل کر اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم سمیت دیگر کئی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی دوسرے بچوں کی نسبت دوگناہ زیادہ تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/31-Oct-2019/1042812?fbclid=IwAR3f4xUAa7Fzt-EsP6DvYUF4k3qAams8o1MRc4awkBUaiGgh9To68QFi7ok


کھائیں پئیں اور موٹاپا بھگائیں، موٹاپے سے نجات کے 9 آسان طریقے
Oct 05, 2020 | 17:40:PM



لاہور(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ خواتین اور حضرات اس کے علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں، کھیل کے میدانوں اور جم کے چکر کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر موٹاپا ہے کہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ خوراک میں معمولی تبدیلوں کے ذریعے سے موٹاپے سے نجات پا سکتے ہیں۔ خوراک میں شامل بعض اجزا جسم میں چینی اور چربی کو جلا کر زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ اس سے موٹاپا خود بخود بھاگ جاتا ہے۔عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موٹاپے سے بچنا ہے تو خوراک کم کر دو، اس طرح کم کھانے سے وزن خود بخود بھاگ جائے گا، یہ سوچ غلط ہے۔ یہ ہر شخص پر صحیح ثابت نہیں ہوتی۔البتہ کچھ خاص قسم کے پھل اور سبزیاں کھانے سے نظام ہاضمہ بہتر کام کرنے لگتا ہے۔ یہ پھل چربی اور چینی کی مقدار کو جلا کر موٹاپا ختم کر دیتے ہیں۔ غذائی ماہرین اس سلسلے میں 9 پھلوں اور سبزیوں کو انتہائی قرار دیتے ہیں۔

ناشپاتی

موٹاپے سے نجات کے لیے یورپی دنیا میں اسے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ چینی آہستہ آہستہ جسم میں شامل ہوتی ہے تو یہ اس میں کام آتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ چینی کے توانائی میں کمی کر دیتا ہے۔چینی کی مقدار میں کمی ہونے سے جسم چربی کو توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے جس سے موٹاپا خود بخود کم ہو جاتا ہے۔

ادرک

زرد زنگ کی یہ سبزی عمومی طور پر جسمانی سوزش کے علاج میں استعمال ہوتی ہے مگر ادرک میں ایک خاص قسم چربی کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق اس قسم کی پروٹین کھانے والے افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ موٹاپے کا باعث بننے والی چربی کے اجزا کو یہ خود ہی جلا کر ختم کر دیتا ہے۔ اس سے وزن اور چربی دونوں میں کمی ہوتی ہے۔

ناریل کا تیل

بسا اوقات چربی سے زرخیز خوراک بھی وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ ناریل کا تیل بھی انہی میں سے ایک ہے جس کے بے تحاشا طبی فوائد ہیں۔ جب ہم چینی سے پاک قدرتی چربی کا استعمال کرتے ہیں اور بہتر کاربوہائیڈریٹس لیتے ہیں۔پروٹین کی مقدار مناسب ہو تو پھر ہم اپنی خوراک کو اچھی خوراک کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مٹھاسس کی مقدار اور چربی مناسب مقدار میں جسم میں رہتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم کو پہلے سے جمع شدہ چربی کو جلا کر توانائی حاصل کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اور آپ بھوک کا شکار بھی نہیں ہوتے۔ناریل کا تیل دراصل نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ اس میں شامل خاص قسم کی چربی کھانے کے فوراً بعد ہضم ہو جاتی ہے۔ توانائی کا اخراج نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے جس سے چربی جمع ہونے کی بجائے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پہلے سے جمع شدہ چربی بھی پگھلنا شروع ہو جاتی ہے۔

سٹرابری

سٹرابری میں جو چربی کو پگھلانے والے کئی اقسام کے اینٹی اوکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ اسے اکثر پانی کے ساتھ سٹور کیا جاتا ہے تا کہ یہ زیادہ عرصہ تازہ رہ سکے۔ بلیو بیریز بھی ایک اچھی خوراک ہے اور یہ بھی چربی کو پگھلانے کا باعث بنتی ہے۔ اس سے پیٹ کا سائز کم ہوتا ہے۔

پائن ایپل

پائن ایپل میں ایک خاص قسم کا کیمیکل برومی لین پایا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل پیٹ میں موجود دیگر انزائمز کے ساتھ مل کر چربی کو ہضم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اناناس بھوک مٹاتا ہے جس سے چربی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

انڈے

انڈے میں پروٹین اور کم چربی والے اجزا پائے جاتے ہیں جس سے جسم میں پہلے سے موجود چربی کے استعمال میں مدد ملتی ہے۔ انڈے میں موجود امائنو ایسڈز چربی کو جلانے اور پھٹوں کو مضبوط بنانے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔ امائنو ایسڈز کی ایک خاص قسم لیو سین بھی موٹاپا کم کرنے میں مفید ہے۔

بادام

جدید تحقیق میں جہاں باداموں کے بہت سے فائدے گنوائے گئے ہیں۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن نے اپنے جریدے میں لکھا ہے کہ روزانہ 22 گرام باداموں کے استعمال کو کولسٹرول پر قابو پانے مدد دیتا ہے۔ بادام کولسٹرول پیدا کرنے والے ایل ڈی ایل نامی پروٹین کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے۔ اس سے پیٹ کی چربی اور کمر کے سائز میں بھی کمی آتی ہے۔

سفید لوبیا

سفید لوبیا میں پائے جانے والے کچھ اجزا کاربورہائیڈریٹس پیدا کرنے کے عمل کو سست بناتے ہیں جس سے جسم میں چینی کی مقدار جمع نہیں ہو پاتی۔ چینی کی مقدار کے کم استعمال کے باعث چربی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔

مرچیں

سرخ مرچ جسم کو دبلا پتلا کرنے کے عمل میں انتہائی اہم سمجھتی جاتی ہے بلکہ سلمنگ سنٹر والے یورپ میں اس کے استعمال کو بڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/05-Oct-2020/1192938?fbclid=IwAR2dzAJPOCBKPPEb46R9-LUXG_IBDxDJlXlSSSEiJM8bz1YZhkjKEhF-rKM



اب تک بے خوابی( نیند کی کمی) اور کئی بیماریوں کے درمیان براہِ راست تعلق کا انکشاف ہوچکا ہے ۔ اب امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ مسلسل بے خوابی سے عین اسی طرح کا فالج ہوسکتا ہے جو تمباکونوشی اور بلند بلڈ پریشر سے لاحق ہوتا ہے۔

فالج کی ایک قسم نازک دماغی رگ (یا رگوں) میں خون کا جمع ہونا ہے جس سے رگ غبارے کی طرح پھول جاتی ہے۔ پھر یہ رگ پھٹ جاتی ہے اور ہیمریج یا جریانِ خون لاحق ہوجاتا ہے جو کئی مرتبہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ طبی زبان میں اسے انٹرکرینیئل انیوریزم بھی کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں تین فیصد بالغان اس عمل سے گزرتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے صرف ڈھائی فیصد کیسز میں رگ پھٹ پڑتی ہے جسے ہم ایک قسم کا فالج کہہ سکتے ہیں۔ اس میں رگ سے خون بہہ کر دماغ اور کھوپڑی کےدرمیان جمع ہوتا رہتا ہے اور اکثر جان لیوا ہوتا ہے۔

اسٹاک ہوم میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر سوسانہ لارسن اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ دیگر کئی وجوہ میں بے خوابی بھی شامل ہے جو اس خطرے کو بڑھاسکتی ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ سائنسدانوں نے 6300 اور پھر 4200 کیس ایسے دیکھے جن کا جینیاتی تعلق تھا۔ یعنی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جریانِ خون والا فالج ہوا تھا۔ محتاط اندازے کےبعد معلوم ہوا کہ 24 فیصد جین کا تعلق اس جین سے نکلا جو نیند کی کمی کی وجہ بنتے ہیں۔

اس سے قبل بے خوابی اور ہیمریج کے درمیان تعلق سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم اس تحقیق سے اتنا ضرور پتا چلا ہے کہ خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

تاہم 2016 میں ہی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک سائنسی جائزے کے بعد کہا گیا تھا کہ نیند کی کمی اور خرابی نیند سے بلڈ پریشر میں اضافہ ضرور ہوسکتا ہے۔ اب سائنسداں اس پر ایک بڑے سروے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2243292/9812/


ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی بڑھنے کی وجہ سے گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔

یہ انکشاف برازیل میں 2000 سے 2015 کے دوران گردوں کی بیماریوں کے باعث اسپتال میں داخل ہونے والے 27 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی معلومات کھنگالنے کے بعد ہوا ہے، جبکہ اس تحقیق میں بتدریج بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔

ماہرین کو معلوم ہوا کہ پندرہ سال کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اسپتال پہنچ جانے والوں کی تعداد میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا۔

اگر اعداد و شمار کی بنیاد پر بات کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں گردوں کے امراض میں مبتلا ہونے والے برازیلی شہریوں کی تعداد میں 202,000 کا اضافہ ہوا۔

یہ تحقیق آسٹریلوی اور برازیلی سائنسدانوں کی ٹیم نے کی ہے جس کی سربراہی موناش یونیورسٹی کے ڈاکٹر یومنگ گئو کررہے تھے۔

ڈاکٹر گئو کا کہنا ہے کہ یومیہ اوسط درجہ حرارت میں صرف ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے گردوں کے امراض میں بھی ایک فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’دی لینسٹ ریجنل ہیلتھ – امریکا‘‘ کے تازہ شمارے میں ڈاکٹر گئو اور ان کے ساتھیوں نے برازیل کے 1816 اسپتالوں میں روزانہ بنیادوں پر داخل ہونے والوں کے پندرہ سالہ اعداد و شمار حاصل کیے۔

واضح رہے کہ 2017 میں بھی ایسی ہی ایک دس سالہ تحقیق ’’دی لینسٹ‘‘ میں شائع ہوئی تھی، جس میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ اس عرصے میں گردوں کے امراض کی وجہ سے دنیا بھر میں 26 لاکھ اموات ہوئیں جبکہ امراضِ گردہ میں مبتلا افراد کی تعداد میں بھی 26.6 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

نئی تحقیق اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی بتاتی ہے کہ اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کس طرح اس صورتِ حال کو سنگین بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2243459/9812/


نہار منہ اُبلا ہوا انڈا کھانا کیوں ضروری ہے ،جانئے
 2 November, 2021



صحت مند ناشتے کیلئے صبح سویرے ابلا ہوا انڈا بہترین انتخاب ہوسکتا ہے

لاہور(نیٹ نیوز)صبح نہار منہ ایک انڈا کھانے سے سارا دن انسان چست و توانا رہتا ہے جبکہ بہت دیر تک بھوک کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ روزانہ ایک انڈا وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے ۔ انڈوں میں موجود پروٹین جسم میں ضروری امینو ایسڈ کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔انڈوں میں دو ایسے ضروری اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو آنکھوں کی بینائی بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں،اس کے علاوہ انڈے کم عمری میں موتیا ہونے کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔انڈے میں موجود ضروری وٹامنز اور معدنیات دماغی خلیات، یادداشت، اعصابی نظام اور میٹابولزم کے کام کو برقرار رکھتے ہیں۔ انڈوں کی زردی میں زنک اور سیلینیم ہوتا ہے ۔ یہ دونوں معدنیات قوت مدافعت بڑھانے کیلئے بہت اہم ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-11-02/1903636


اوساکا: جاپانی سائنسدانوں نے چوہوں پر تجربات سے معلوم کیا ہے کہ خمیر شدہ سویابین کی غذائی مصنوعات سے دمے کی علامات اور شدت میں کمی آتی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں میں تصدیق ہونا باقی ہے۔

تجربات کے دوران چوہوں کو خمیری سویابین سے بنا ہوا ایک غذائی سپلیمنٹ کھلایا گیا جو ’’اِمیوبیلنس‘‘ کے نام سے دستیاب ہے۔

اس سپلیمنٹ میں ’آئسوفلیوونز‘ کہلانے والے اہم غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جنہیں نظامِ ہاضمہ کے علاوہ دماغ اور ہڈیوں کےلیے بھی مفید سمجھا ہے جبکہ یہ کینسر کی بعض اقسام کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں کچھ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا تھا کہ سویابین کے استعمال سے دمے کی شدت بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس حوالے سے 2015 میں شائع ہونے والی ایک طویل طبّی آزمائش بے نتیجہ ثابت ہوئی۔

اسی تسلسل میں ریسرچ جرنل ’’نیوٹریئنٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ سویابین والے فوڈ سپلیمنٹ کے استعمال سے چوہوں میں سانس کی نالی میں الرجی کم ہوتی دیکھی گئی۔

اس کے علاوہ، دمے سے متعلق خون کے سفید خلیات (اِیوسینوفلز)، پھیپھڑوں کی رگوں میں سوزش اور بلغم بننے کی مقدار میں بھی کمی کا مشاہدہ ہوا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دمہ اور سانس کی دیگر تکالیف میں خمیر شدہ سویابین میں شامل فائبرز کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید محتاط اور فیصلہ کن انسانی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دمے کی صورت میں سویابین کے فوائد کی حتمی طور پر تائید یا تردید ہوسکے۔
https://www.express.pk/story/2242426/9812/


کڑی پتہ، تُلسی اور شہد سے قوتِ مدافعت بڑھائیں
 1 November, 2021


ماہرین کی جانب سے ایک آسان نسخہ بتایا گیا ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی قوتِ مدافعت بڑھا سکتے ہیں

لاہور(نیٹ نیوز)کڑی پتے اور تلسی کے پتے لیں اور انہیں اچھی طرح پیس لیں کہ اُن کا پیسٹ بن جائے ۔اُس کے بعد اُس پیسٹ کو ایک پیالے میں ڈالیں اور اس میں 1 چمچ شہد ڈال کر مکس کرلیں، اس طرح آپ کا مفید نسخہ تیار ہے ۔اس پیسٹ کو روزانہ استعمال کریں، اگرچہ اسے دن کے کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے لیکن اسے صبح خالی پیٹ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ تلسی کے پتوں کا عرق سفید خون کے خلیوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔کڑی پتے وٹامن اے ، بی، سی، بی 12 اور آئرن اور کیلشیم جیسے معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ شہد میں فائٹو کیمیکل، اینٹی سوزش اور اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات کے ذریعے بیماری کی روک تھام اور علاج میں قوت مدافعت بڑھانے کے فوائد موجود ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/weird/2021-11-01/1903253


مچھلی کھانے کا وہ فائدہ جو آپ کو آج تک کسی نے نہیں بتایا تھا، تازہ تحقیق میں سامنے آگیا
Jul 16, 2020 | 18:34:PM


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مچھلی بے شمار فوائد کی حامل غذا ہے تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کا ایک ایسا حیران کن فائدہ بتا دیا ہے کہ کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ میل آن لائن کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے اس تحقیق میں بتایا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے مچھلی کھاتے ہیں، ان کے دماغ فضائی آلودگی کے سنگین نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 1ہزار 315عمر رسیدہ مردوخواتین پر تجربات کیے۔

رپورٹ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان لوگوں کے دماغ کے ایم آر آئی سکین کرکے فضائی آلودگی سے انہیں پہنچنے والے نقصانات کا پتا چلایا اور پھر ان کی غذائی عادات سے موازنہ کرکے نتائج مرتب کیے، جن میں معلوم ہوا کہ مچھلی جن لوگوں کی خوراک کا باقاعدہ حصہ رہی تھی ان کی دماغی صحت دوسروں کی نسبت بہترین تھیں اور ان کے دماغوں میں سکڑاﺅ بھی بہت کم تھا۔

پنجاب حکومت کی این اے 133 میں ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنادیا تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کاہی کا کہنا تھا کہ ”مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا 3فیٹی ایسڈزانسانی دماغ کو ماحول میں پائے جانے والے آلودگی کے زہریلے مادوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ذہنی استعداد کار میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ ایسڈز انفلیمیشن کے خلاف بھی مزاحمت کرتے ہیں اور بڑھتی عمر میں دماغ کے سٹرکچر کو مستحکم رکھتے ہیں
https://dailypakistan.com.pk/16-Jul-2020/1159046?fbclid=IwAR2L9LLuNWa5EgsoFKNhjRHKi19FVaYrOH7PSQGE6a4WVP2P_ZKI6N_Q1E0


کیلے کے ساتھ کیا چیز کھائیں تو صحت کے لیے انتہائی مفید ہے؟ انتہائی آسان نسخہ جو آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھے
Jul 23, 2020 | 19:02:PM


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءنے لوگوں کو صحت کے متعلق مزید محتاط کر دیا ہے کیونکہ تاحال اس موذی وباءکی کوئی دوا تیار نہیں ہو سکی اور اس سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم اپنی صحت کا خیال رکھیں اور ایسی چیزیں استعمال کریں جس سے جسم میں قوت مدافعت بڑھے۔ اب ماہرین نے کیلے کے ساتھ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کھانے کا مفید مشورہ دے دیا ہے جو نہ صرف کورونا وائرس بلکہ دیگر کئی طرح کی بیماریوں سے ہمیں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی قوت مدافعت میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے اور اگر ہم کیلے کے ساتھ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ استعمال کریں تو ہمارے جسم میں وٹامن ڈی کو جذب کرنے کی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”کیلے میں میگنیشیم پایا جاتا ہے جو دوران خون میں شامل ہو کر ہمارے جسم میں وٹامن ڈی کو ایکٹو کر دیتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ہمارا جسم زیادہ وٹامن ڈی جذب کرتا ہے بلکہ وٹامن ڈی کے فوائد بھی اس صورت میں زیادہ حاصل ہوتے ہیں، کیونکہ خون میں میگنیشیم ہونے کے سبب یہ زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ “ ماہرین کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ کیلا پسند نہیں کرتے تو وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کے ساتھ برڈ، پین کیک یا موفن کھا لیں اور اگر یہ بھی نہیں کھانا چاہتے تو وٹامن ڈی کے ساتھ میگنیشیم کا سپلیمنٹ بھی استعمال کریں۔
https://dailypakistan.com.pk/23-Jul-2020/1161957?fbclid=IwAR0MUjiAtaHPvXa9u6BM8rbBbUZ9oLp3CKftw8U8pAZjHBl6XOTImwjnLsQ


صرف 7 روز ایلوویرا جوس پینے سے آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ جان کر لڑکیاں اس کی دیوانی جائیں
Aug 19, 2020 | 18:50:PM


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی ایک خاتون ماہر غذائیات نے خود پر ایلوویرا جوس پینے کا ایک تجربہ کرکے اس کے ایسے حیران کن نتائج بتادیئے ہیں کہ سن کر لڑکیاں ایلوویرا جوس پینامعمول بنا لیں گی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پریانکا نامی اس ماہر کا کہنا تھا کہ ایلوویرا کے جلد کے متعلق فوائد کے بارے میں سنتے آئے تھے تاہم میں نے خود اس کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے مسلسل سات روز تک ایلوویرا جوس پیا جس کے ایسے نتائج سامنے آئے کہ مجھے خود اپنی آنکھوں پر بھی یقین نہ آیا۔

میں نے اپنے گھر کے باغیچے میں لگے ایلوویرا سے دو پتے کاٹے اور انہیں درمیان سے چیر کر ان سے جیل نکال کر ایک جار میں محفوظ کر لی۔ پھر میں نے اس میں سے تھوڑی سی جیل لے کر ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں ڈالی اور اسے بلینڈ کیا۔ میرا ایلوویرا جوس پینے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ ایک دن ہی یہ جوس پینے سے اگلے روز میری جلد واضح طور پر پہلے سے زیادہ صاف اور زیادہ روشن ہو چکی تھی تاہم میں سمجھی کہ شاید یہ ایلوویرا جوس پینے کا نفسیاتی اثر ہو گا اور مجھے دھوکا ہو رہا ہو گا۔ دوسرے دن جوس پینے کے بعد جب تیسرا دن ہوا تو میں جلد میں ہونے والی انفلیمیشن ڈرامائی انداز میں کم ہو گئی جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ واقعی ایلوویرا جوس کا فائدہ ہے جسے میں نفسیاتی اثر سمجھ رہی تھی۔اس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ میری جلد مزید صاف و شفاف اور نرم و ملائم ہوتی چلی گئی۔ اب میری جلد پر دھوپ کی جلن بھی کم محسوس ہوتی تھی جو یقینا ایلوویرا کے اینٹی آکسیڈنٹ اثر کا نتیجہ تھا۔ میرے جسم پر چند کیل مہاسے تھے، وہ بھی چھٹے تک تک کم ہونے شروع ہو گئے اور 7دن یہ جوس پینے کے بعد میری جلد انتہائی نرم و ملائم ہو چکی تھی حالانکہ حالیہ چند سالوں سے یہ کافی سخت اور کھردری ہو چکی تھی۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Aug-2020/1172589?fbclid=IwAR32-VgWgyv3ct5pIHb5IsGFo6jFqAJLYDuuqb4jpUue9U9YxF8C0FP9AN4

No comments:

Post a Comment