پاکستان اور دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تشویش کن صورتحال ، کیس مزید بڑھ گئے - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Sunday, 10 May 2020

پاکستان اور دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تشویش کن صورتحال ، کیس مزید بڑھ گئے

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)قطر میں پھنسے 252 پاکستانی خصوصی پرواز سے کراچی پہنچ گئے، جناح ٹرمینل پر مسافروں کی کورونا وائرس کی سکریننگ اور طبی معائنہ کیا گیا۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق تمام مسافروں کو کم از کم 48 گھنٹے کیلئے قرنطینہ منتقل کیا جائے گا، مسافروں کیلئے ناردرن بائی پاس پر لیبر فلیٹس میں سرکاری قرنطینہ بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق قیام اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کرنے والے مسافروں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130883?fbclid=IwAR0FMmWzXSkAnv5OrQy9FI3BWUciew
KFtnhJs-cNT_cblzJdstdxRy6PFws

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان ، کویت کی حکومتوں اور ایک فنانشل انسٹی ٹیوشن کے اشتراک سے چلنے والی کمپنی پاک کویت انویسٹمنٹ کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کووڈ-19 ریلیف فنڈ میں ایک کروڑ روپے کا عطیہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس ضمن میں کمپنی کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا ہے۔پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی اس ا?زمائش کے دوران ملک کے غریب اور پسماندہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے مالی اعانت جمع کرنے پر وزیر اعظم عمران خان کے اقدام کے معترف ہیں اور ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان بھر سے مخیر حضرات کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کے ریلیف فنڈ برائے کورونا فنڈ میں عطیات جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستانی تاجر حسین داود کی جانب سے کورونا ریلیف فنڈ میں ایک ارب روپے جمع کرانے کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بھی ایک کروڑ روپے کا چیک وزیراعظم عمران خان کو پیش کیا تھا۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130930?fbclid=IwAR1AycqpEVfGD63NX5pZavbb-JAgI_Mzz0DUD19E4hIEnTQ22vQdYoV8QS0

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست مزاری کورونا وائرس کا شکار ہو گئے، سلیف آئسولیشن اختیار کر لی۔

ڈپٹی سپیکر سردار دوست مزاری کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا ہے، ڈپٹی سپیکر سردار دوست مزاری کا کہنا ہے کہ ان کا نجی لیب سے کوروناٹیسٹ نگیٹو آیا ہے جبکہ سرکاری لیب سے ٹیسٹ پازیٹو ہے۔

انہوں نے کہا کہ طبیعت بہت بہتر ہے، کورونا وائرس کی بظاہر کوئی علامت نہیں، چند روز بعد دوبارہ ٹیسٹ کراﺅں گا، ڈپٹی سپیکر نے بتایا کہ انہوں نے سیلف آئسو لیشن اختیار کرلی ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130921?fbclid=IwAR3Zi8eU7ffsN-1qlFlK8OsQl-lA4qc4EQRQ5JYOmYECcCyPee20cTZWo9A

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری میں تربیت یافتہ عملے کے فقدان کے باعث 15 مئی سے کورونا وائرس کے ٹیسٹ بند کردیے جائیں گے۔

نجی انگریزی اخبار ” ڈان نیوز “ کی رپورٹ کے مطابق خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بیسک میڈیکل سائنسز کے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ ہم 15 مئی کے بعد کام کرنا بند کردیں گے کیونکہ ہمارے 5 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس سے دیگر ملازمین کے متاثرہونے کے خطرات میں اضافہ ہو گیاہے ۔

صوبائی ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر ظاہر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیا ز نے کووڈ-19 کے ٹیسٹ کے لیے مارکیٹ سے عملے کی بھرتی کے لیے مارچ میں ایک کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کے ایم یو کی انتظامیہ نے انسٹی ٹیوٹ آف بیسک میڈیکل سائنسز کے اراکین کو لیبارٹری کے تجربے کے بغیر وہاں تعینات کردیا تھا اور اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ یہی ہے۔

ڈاکٹر زبیر ظاہر نے کہا کہ فزیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر عنایت خان جمعے کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جبکہ بعد میں ان کے والد اور والدہ کا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کورونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے عملے کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اراکین متعلقہ شعبوں میں تحقیق کریں۔ان کا کہناتھا کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی غیر تربیت یافتہ عملے کے ساتھ ہائی ٹیک لیبارٹری کیسے چلا سکتی ہے ،جس کا بنیادی کام اناٹومی ، فارماکالوجی اور فزیالوجی پڑھانا ہے ۔

ڈاکٹر زبیر ظاہر نے کہا کہ ہم پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری میں کام کرنے سے ڈر گئے تھے اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں 15 مئی سے بند کردیں گے اور اسی لیے ہم ٹیسٹ نہیں کرپائیں گے۔وائس چانسلر کو پی ایچ آر ایل میں ماہر اور تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی کے عنوان سے خط لکھا گیا ہے جس میں اراکین نے کہا ہے کہ انہیں وائس چانسلر نے مارچ میں لیبارٹری میں ہنگامی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی تھی اور وائرس سے متعلق تجربہ نہ ہونے کے باوجود احکامات پر عمل کیا گیا۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130913?fbclid=IwAR01Ohoml4pqE-ercwvjEqyvR9li3O76pyLLpeZl9VqZecvHrfR4dgP-_6Y

نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی ریاست نیویارک کے گورنراینڈریو کومو نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس سے منسلک ایک پراسرار اور نایاب بیماری سامنے آئی ہے جس کا شکار کم سن بچے ہیں۔انہوں نے افسوسناک خبربتاتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کی وجہ سے نیویارک میں تین بچے لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔ان تینوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

ہفتے کو پریس بریفنگ کے دوران اینڈریو کومو نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کی علامات میں زہر پھیلنا، (ٹاکسک شاک) اور رگوں کی سوجن شامل ہیں جس سے دل کو مہلک نقصان پہنچتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تین بچے اب تک ان علامات سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان کا کورونا وائرس یا اس جیسی اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ریاستی حکام ایسے مزید 73 معاملات کی پڑتال کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ بچے کووِڈ-19 سے متاثر نہیں ہوتے تاہم یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ وبا کا خطرہ نہایت کم عمر افراد میں بھی موجود ہے۔

سائنسدان اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ عارضہ کورونا وائرس سے منسلک ہے یا نہیں، کیونکہ اس سے متاثر بچوں میں سے کئی ایسے ہیں جن کا کورونا کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

 اس سے قبل برطانیہ میں بھی کاواساکی بیماری کے کچھ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ان میں بھی بچوں کو رگوں کی سوجن جیسی پریشان کن علامات سہنا پڑی ۔ جبکہ کچھ بچے انتقال بھی کرگئے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130906?fbclid=IwAR1Ros3QD1yZfaPlKcWGTtjpmQMeY

k6jqguNvWao2PYc08WfZ0f0eSW3P00

ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن )کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس کے خلاف جنگ میں ڈاکٹرز ، نرسیں اور پیرا میڈیکس سٹاف فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں تاہم ا س دوران کئی ڈاکٹرز اور نرسیں بھی متاثر ہوئیں ۔

تفصیلات کے مطابق ” انڈی پینڈنٹ اردو “ نے کورونا کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والی نرس ” امبر “ کا انٹرویو کیا جس میں بتایا گیا کہ ملتان کی تحصیل شجاع آباد سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ امبر شفیع بھی ایک ایسی نرس ہیں، جو کووڈ۔19 بیماری کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہو گئی ہیں۔امبر کے مطابق وہ نشتر ہسپتال، ملتان میں معمول کی ڈیوٹی پر تھیں کہ آئسولیشن وارڈ میں کرونا وائرس کا ایک مشتبہ مریض داخل ہوا۔مریض کے نمونے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے۔ تاہم ذاتی حفاظتی سامان نہ ہونے کے باعث امبر کو دو دن تک اس مریض کا درجہ حرارت لینا اور دیگر طبی امداد بغیر حفاظتی دستانوں کے دینا پڑی۔

وہ بتاتی ہیں کچھ دن میں مریض کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے وارڈ میں ڈیوٹی کرنے والے تمام ڈاکٹرز، نرسوں اور عملے کو قرنطنیہ میں رکھ دیا۔امبر کے مطابق ہمارے ٹیسٹ لیبارٹری بھجوائے گئے، اگلے دن رپورٹ آئی تو پتہ چلا مجھ سمیت تین نرسوں، ایک ڈاکٹر اور عملے کے ایک اور فرد میں کرونا وائرس پایا گیا ہے۔ یہ سن کر میرے تو جیسے پاو¿ں کے نیچے سے زمین سی نکل گئی۔وہ کہتی ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان میں کرونا وائرس اس مریض سے منتقل ہوا جو ان کے وارڈ میں آئسولیٹ تھے تو انہیں مریض کی حالت سے حوصلہ ہوا کیونکہ اس مریض کی حالت خراب نہیں تھی بلکہ وہ صحت مند لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا تھا۔

امبر نے کہالیکن اس کے اہل خانہ بہت پریشان تھے، جو اس سے فون پر باری باری بات کرتے۔ جب وہ مریض بچوں سے بات کرتا تو اس کے آنسو نکل پڑتے۔ جب مجھے بھی یہ خیال آیا کہ اب اکیلے رہنا پڑے گا تو بہت رونا آیا۔

ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 11 اپریل کو امبر اور ان کے ساتھی عملے کو ملتان سے 50 کلومیٹر دور انڈس ہسپتال مظفر گڑھ منتقل کر دیا گیا،اب وہ بالکل صحت یاب ہیں اور کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد آٹھ مئی سے انہوں نے نشتر ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی جوائن کر لی ہے۔امبر بتاتی ہیں کہ کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد وہ بہت پریشان تھیں اور دو دن مسلسل روتی رہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان میں کوئی مستقل معذوری ہو گئی ہے اور اس کے مستقل گہرے اثرات ہوں گے

انہوں نے مزید کہا کہ گھر والوں سے فون پر بات کرتے ہوئے انہیں معلوم ہوا کہ خاندان کے بعض لوگ اب انہیں عیب زدہ سمجھنے لگے ہیں اور ان کی حالت پر تنقیدی ہمدردیوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے رویوں سے انہیں بہت مایوسی ہوئی۔امبر کے مطابق جب انہوں نے دو دن آئسولیشن میں گزار لیے اور علیحدگی میں مختلف خیالات آئے تو انہوں نے خود کو بہت مضبوط پایا۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب ان کے مریض کو کرونا کی تشخیص نہیں ہوئی تھی تو اس دن وہ ڈیوٹی ختم کر کے گھر گئیں اور اگلے دن شب برات کا روزہ بھی رکھا تھا، جس میں انہیں تھکن اور کمزوری محسوس ہوئی۔ تاہم جب مریض کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تو انہیں لگا کہ شاید ان کو وہ کیفیت بھی کرونا وائرس لاحق ہونے کی بعد کی تھی۔

نشتر ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں امبر کے دو بھائی بھی داخل ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر امبر سے ہی کرونا وائرس لاحق ہوا۔امبر کے مطابق مریض کی تشخیص ہونے اور ان سمیت عملے کے قرنطینہ میں جانے سے پہلے تک وہ ڈیوٹی کے بعد گھر جاتی رہیں۔ ان کے دو بھائی مختلف اوقات میں موٹر سائیکل پر انہیں ہسپتال چھوڑتے اور گھر واپس لے جاتے رہے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130908?fbclid=IwAR2Zi91UX6zRwLFdJedM_V2n2i3Om

LlYZgscxokosIgH79fEilYe2g3rOj8

بیجنگ،سیول(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائر س کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون میں گرمی کی بات ہو رہی تاہم دوسری جانب چین اور جنوبی کوریا میں ایک بار پھر کووڈ انیس کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں جس سے یہ خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ کہیں کوروناوائرس کی دوسری لہر تو نہیں اٹھ رہی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق  گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں جنوبی کوریا میں کورونا کے 34 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک ماہ میں سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دارالحکومت سیئول میں ایک مصدقہ متاثر شخص کے نائٹ کلب جانے کی وجہ سے نائٹ کلبز جانے والے افراد میں وبا کی ایک چھوٹی سی لہر پھیلی تھی۔کورین سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق ان نئے متاثین میں سے 26 مقامی طور پر متاثر ہوئے جبکہ آٹھ متاثرین بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔اتوار کو سامنے آنے والی تعداد نو اپریل سے سب سے زیادہ تھی۔ چین کے بعد وبا ابتدائی طور پر سب سے زیادہ جنوبی کوریا میں پھیلی تھی مگر اس پر قابو پا لیا گیا تھ۔ جنوبی کوریا نے گذشتہ 10 دنوں تک یا صفر یا نہایت کم مقامی متاثرین کی اطلاع دی تھی اور یومیہ مجموعی تعداد حالیہ ہفتوں میں 10 یا اس سے بھی کم رہی۔

دوسری جانب چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مزید 14 متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ 28 اپریل کے بعد سامنے آنے والے نئے متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ان میں سے دو کیس بیرون منلک سے منتقلی کبکہ 12 مقامی منتقلی کے ہیں تاہم کوئی نئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

چین میں کورونا وائرس سے اب تک 82901 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 4633 ہے۔

 ادھرکینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبوں نے اپنی معیشتیں کھولنے میں جلد بازی کی تو کورونا وائرس وبا کی دوسری لہر کینیڈا کو ‘رواں گرمیوں میں ایک مرتبہ پھر نظربند کر دے گی۔’

سپین کے وزیراعظم نے بھی دوسری لہر سے بچنے کیلئے لاک ڈاون میں نرمی کے دوران احتیاط کرنے کی تلقین کی ہے۔

خیال رہے دنیا میں متاثرین کی کُل تعداد 40 لاکھ 24 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی سطح پر کم از کم دو لاکھ 79 ہزار 313 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں 13 لاکھ سے زائد افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 79 ہزار 794 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ برطانیہ ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130900?fbclid=IwAR2JwJhf_h_KegpM96xtxc7LCrXZGH

b-YSxAWmdCV3j1iSgSshkoGoES69M

ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب میں کوروناوائرس کے پھیلاو کا سلسلہ تاحال جاری ہے، سعودی وزارت صحت کے مطابق مملکت بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 1704نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد وہاں کورونا سے متاثرین کی مجموعی تعداد 37,136ہوگئی ہے۔ اسی طرح دس نئی اموات کے بعد جاں بحق افراد کی کل تعداد 239ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر10,144افراد صحتیاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مدینہ منورہ کے نواحی علاقوں میں پابندیوں کو نرم کیا گیا ہے اور لوگوں کو صبح نو سے شام پانچ بجے تک گھروں سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق یہ اقدام وزارت صحت کی مشاورت سے اٹھایاگیا ہے جبکہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید علاقوں میں بھی پابندیاں مرحلہ وار ختم کردی جائیں گی۔

خیال رہے دنیا میں متاثرین کی کُل تعداد 40 لاکھ 24 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی سطح پر کم از کم دو لاکھ 79 ہزار 313 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

 جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں 13 لاکھ سے زائد افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 79 ہزار 794 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ برطانیہ ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130889?fbclid=IwAR0v_Vqg3olU-YXdGAV-MpFvKassfYzOAorSw30Kkw6CC39lfJY3zzgCaQg

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گھر میں قرنطینہ کے قواعد کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ، متعلقہ ضلع کا ڈی سی ہوم آئسولیشن کمیٹی ارکان نامزد کر ے گا ، ضلعی ہوم آئسولیشن کمیٹی کی سبراہی اسسٹنٹ کمشنر کرے گا ۔

تفصیلات کے مطابق کمیٹی میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکاروں کو شامل کیا جائے گا ، شہری اور دیہی یوسی سطح پر سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی ، کمیٹٰ گھروں کا سائز اور اہلخانہ کی تعداد دیکھ کر قرنطینہ کی اجازت دے گی ،ہلکی علامات پر ہی مریض گھر میں قرنطینہ کا اہل ہو گا ،مریض کی حالات خراب ہو تو قرنطینہ کی اجازت نہیں ہو گی ۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 29 ہزار 465 ہو گئی ہے جبکہ 639 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں تاہم 8 ہزار 23 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں ۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130894?fbclid=IwAR1ik83YaZNBbKIpHMi6O7vN4OBV7

ssOeM7xEVELQvrpvdkyBZcX4AweFpI

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آ ن لائن )چین نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ملکی نظامِ صحت میں خامیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کرلیا۔ نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق چین کے قومی ہیلتھ کمیشن کے سربراہ لی بِن کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا ایک بڑا امتحان تھا جس نے چین میں صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔چینی ہیلتھ کمیشن کے سربراہ لی بِن کا یہ بیان عالمی برادری کی جانب سے چین کے کورونا وائرس سے آغاز میں ہی نمٹنے اور اس کے پھیلاوکو روکنے کے لیے مبینہ ناکافی اقدامات پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ لی بِن کا کہنا ہے کہ یہ وبا چین کے لیے ایک واضح چیلنج تھی جس نے کسی بڑی وبا سے نمٹنے کے لیے ہماری کمزوری کو نمایاں کردیا ہے ، اس لیے ملکی نظام صحت میں اصلاحات کی جائیں گی۔

https://dailypakistan.com.pk/10-May-2020/1130565?fbclid=IwAR0OB3lk4JAZ_Vpd0cD-wDPnsfqQ-ElDvSWxpCW41sTFz5L3Xy0gxFw5i9E

 اسلام آباد (آن لائن) کورونا وباءکو ویڈ19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے کئے گئے لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں پانی کے استعمال میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آبی وسائل کے ماہرین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی احتیاطی تدبیر پر عمل کے دوران پانی کے نلکے کو بند رکھیں تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے ابھی تک کوئی دوا دستیاب نہیں ہے اس لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بار بار بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی تاکید کر رہے ہیں اور مختلف حکومتی ادارے بھی شہریوں کو مختلف مقامات پر ہاتھ دھونے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پانی فراہم کرنے والے سرکاری اداروں نے بل ادا نہ کرنے والے صارفین کے کنکشن کاٹنے کا سلسلہ معطل کر دیا ہے اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ آبی وسائل کے ماہرین نے کہا ہے کہ شہری صفائی ستھرائی کا خیال رکھ رہے ہیں اور مسلسل ہاتھ دھو رہے ہیں جو اچھی بات ہے لیکن اس میں تشویش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پانی کے غیر محتاط استعمال سے پانی کے زیر زمین ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاتھ دھوتے ہوئے صابن کے استعمال کے دوران پانی والی ٹوٹی بند رکھ کر ایک فرد ایک وقت میں دو لیٹر تک پانی بچا سکتا ہے اور اگر پانچ افراد کا خاندان پانی کی بچت کا خیال کرے تو ایک دن میں کم از کم سو لیٹر سے زیادہ پانی ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔اگر پانی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے تو پوری قوم مل کر پانی کے بحران کو ختم کر سکتی ہے۔ آبی امور کے ماہر اور واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور کے مینجنگ ڈائریکٹر سید زاہد عزیز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صرف لاہور میں ایک صارف عام دنوں میں یومیہ 50 گیلن پانی استعمال کرتا تھا لیکن آج کل یومیہ 70 سے 80 گیلن پانی استعمال کر رہا ہے اور یہی صورتحال ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ہے لیکن کراچی، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت ایسے علاقے جہاں زمین سے اوپر ذخیرہ کیا گیا پانی استعمال ہوتا ہے یا ایسے شہر جہاں پر دن میں کم وقت کے لئے پانی آتاہے وہاں پر لوگ پانی کا استعمال قدرے موثر طریقہ سے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں اب ہر گھر میں پانی کے میٹر لگائے جا رہے ہیں اور 7 لاکھ میٹر لگانے کا یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہو گا۔ اس کے بعد دیگر علاقوں میں بھی یہ میٹر لگائے جائیں گے۔ امید ہے کہ اس کے بعد اگر گھر کے کسی پائپ سے پانی لیک بھی ہوا تو شہری اس کا خیال کریں گے۔

https://dailypakistan.com.pk/09-May-2020/1130510?fbclid=IwAR05JAb4PKKCB4u5w1zVvyMGUhz-_XIVQlliT-S1f7th-KnIgS8fzBZ-rcI

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں کورونا کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے اقدامات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ملک بھرمیں ہونے والے ٹیسٹوں کے اعدادوشمار بھی شامل ہیں۔

جیونیو ز کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ ٹیسٹ پنجاب میں ہورہے ہیں۔ پنجاب کی 23لیبارٹریز میں روزانہ پانچ ہزار آٹھ سو دس افراد کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔

پنجاب کے بعد سندھ کا نمبر آتا ہے جہاں کورونا وائرس سے کے ٹیسٹ کیلئے 13لیبارٹریاں فعال ہیں اور وہ ایک دن میں پانچ ہزار ٹیسٹ کررہی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں سات لیبارٹریوں اور چوبیس گھنٹے کام کے ساتھ روزانہ دوہزار سات سو چھپن ٹیسٹ ہورہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں کورونا ٹیسٹ کیلئے آٹھ لیبارٹریاں ہیں جو ایک دن میں ایک ہزار سات سو اٹھاسی افراد کے ٹیسٹ کررہی ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں صرف دو لیبارٹریاں ہیں اور وہاں روزانہ کی بنیاد پر 894 افراد کے کووڈ 19 کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

آزاد جموں کشمیرکی تین لیبارٹریوں میں روزانہ ایک سو اٹھاسی جبکہ گلگت بلتستان کی دولیبارٹریوں میں روزانہ ایک سو ساٹھ افراد کا ٹیسٹ کیاجارہاہے۔

https://dailypakistan.com.pk/09-May-2020/1130501?fbclid=IwAR0nK4saffarwPm0ly7H9SWS4_Mj1py

iyfVt_uB1GepuxK3lhZdvkXZjDTg

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکا کے بعد برطانیہ دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہونے والا ملک بن چکا ہے جہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بتیس ہزار تک پہنچ چکی ہےجو کہ امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد دولاکھ گیارہ ہزار ہوچکی ہے۔

برطانیہ میں کورونا کاشکار ہونے والوں میں جہاں بزرگ اور نوجوان شامل ہیں وہی معصوم بچے بھی اس موذی مرض کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ برطانوی محکمہ صحت کے مطابق ڈیڑھ ماہ کا ایک بچہ بھی آج کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگیا ہے۔ یہ بچہ برطانیہ بھرمیں کورونا سے متاثر ہونے والا سب سے کم عمر مریض تھا۔

برطانیہ میں کورونا وائرس کی بدترین صورتحال کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہوچکے ہیں، وزیراعظم بورس جانسن لاک ڈاون کے حوالے سے کل اہم فیصلے کرنے والے ہیں جن میں چودہ دنوں تک انفرادی قرنطینہ سمیت مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔

دوسری جانب بی بی سی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ برطانیہ کی حکومت کچھ دیر میں اعلان کرے گی کہ لوگ اگر گھر سے کام نہیں کر سکتے، تو وہ اپنے کام کی جگہوں پر پیدل یا سائیکل پر جائیں تاکہ لاک ڈاؤن اٹھائے جانے پر پبلک ٹرانسپورٹ کو دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وزیرِ ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس سفر کے لیے زیادہ فعال ذرائع استعمال کرنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

انگلینڈ کے مقامی حکام کو ممکنہ طور پر اضافی فنڈنگ فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اس مقصد کے لیے سڑکوں میں تبدیلی لا سکیں۔

سائیکل چلانے اور پیدل چلنے سے متعلق معاملات برطانیہ کی خود مختار اقوام سنبھالتی ہیں۔ مثال کے طور پر ویلز میں ان دونوں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 2013 سے قانون موجود ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/09-May-2020/1130508?fbclid=IwAR37ccW4kya_XzOiR6gOqkGyDfX4hY

wQsaafAZv2Yo87taMabm0tQg9AfR0

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اب تک کورونا وائرس لاحق ہونے اور اس سے موت ہونے کے امکانات کے متعلق بہت محدود پیمانے پر تحقیقات ہوئیں لیکن اب برطانوی محکمہ صحت نے پہلی بار ایک وسیع اور جامع تحقیق میں حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔ اس تحقیق میں کورونا وائرس کی زد میں آنے والے 1کروڑ 74لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور نتائج مرتب کیے گئے۔ میل آن لائن کے مطابق نتائج میں ماہرین نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس سے خواتین کی نسبت مردوں کی موت ہونے کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔ نسل کا فرق بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سب سے کم سفید فام لوگوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ اس سے ایشیائی اور سیاہ فام باشندوں کی موت ہونے کا خطرہ سفید فام شہریوں کی نسبت بالترتیب1.6اور 1.7فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

 عمر کے لحاظ سے 18سے 40سال عمر کے لوگوں میں موت کا خطرہ محض 0.07فیصد، 40سے 50سال کے لوگوں میں 0.31فیصد، 50سے 60سال کے لوگوں میں 1فیصد، 60سے 70سال کے لوگوں میں 2.09فیصد، 70سے 80سال کے لوگوں میں 4.77فیصد اور 80سال سے زائد عمر کے لوگوں میں کورونا وائرس سے موت ہونے کا خطرہ 12.64فیصد ہوتا ہے۔ موٹاپے کے لحاظ سے دبلے پتلے لوگوں میں 1فیصد(جو کم از کم درجہ ہے)، کلاس ون موٹاپے والوں میں 1.27فیصد، کلاس ٹو موٹاپے والوں میں 1.56فیصد اور کلاس تھری موٹاپے والوں میں موت ہونے کا خطرہ 2.27فیصد ہوتا ہے۔

 غربت اور تنگدستی بھی کورونا وائرس سے موت ہونے کی شرح میں ایک اہم فیکٹر ہے۔ امیر لوگوں میں اس سے شرح موت کم از کم درجے پر 1فیصد ہوتی ہے۔ اس کے بعد غربت کی مختلف سطحوں پر موت کی شرح بڑھتی ہوئی بالترتیب 1.13فیصد، 1.23فیصد، 1.49فیصد اور 1.75فیصد تک چلی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی چھوٹی تحقیقات میں سائنسدان بتا چکے تھے کہ سگریٹ نوشی حیران کن طور پر کورونا وائرس کے خلاف ایک ہتھیار ثابت ہو رہی ہے اور سگریٹ پینے والے لوگ نہ صرف اس میں کم مبتلا ہوتے ہیں بلکہ ان کی موت ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ اس بڑی تحقیق میں بھی این ایچ ایس، آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن سکول آف ہائی جین کے سائنسدانوں اس کی تصدیق کی ہے۔

نتائج میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی ان کورونا وائرس لاحق ہونے کی شرح 46فیصد اور موت ہونے کی شرح 0.02فیصد رہی۔ جو لوگ وباءکے دنوں میں سگریٹ نوشی کر رہے تھے ان کو وائرس لاحق ہونے کی شرح صرف 17فیصد اور ان کی موت ہونے کی شرح 0.01فیصد رہی۔ اس کے برعکس جو پہلے سگریٹ پیتے تھے اور اب کچھ عرصے سے ترک کر چکے تھے، ان کو وائرس لاحق ہونے کا خطرہ 33فیصد رہا جبکہ موت ہونے کا امکان ان میں سب سے زیادہ 0.06فیصد رہا۔

https://dailypakistan.com.pk/09-May-2020/1130523?fbclid=IwAR0uHCcIC5UjuaBt6ln7yFZhm22zTa

ZW0chf3DJFFJ-glM0ChfQcc-8d_Ck

ایڈنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس کا ایک مریض کئی دن سے کوما میں تھا لیکن وہ جیسے ہی ہوش میں آیا، اس نے ڈاکٹروں سے ایسا سوال پوچھ لیا کہ سن کر ڈاکٹر بھی دنگ رہ گئے۔ دی مرر کے مطابق 63سالہ روز فین وِک نامی یہ شخص گزشتہ 6ہفتوں سے کورونا وائرس سے لڑ رہا تھا۔ وہ ایڈنبرا کے رائل انفرمیری ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں تھا۔ جب اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، دواﺅں کے ذریعے اسے بے ہوش کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کئی دن بعد جب وہ اس کوما سے باہر آیا تو اس نے ڈاکٹروں سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ ”اس کی فیورٹ فٹ بال ٹیم ہبرنیان کا سکور کیا ہے؟“روز فین وِک کی بہو سیوبھن کا کہنا تھا کہ ”ہم نے یہ چھ ہفتے انتہائی اذیت میں گزارے۔ وہ کوما میں تھے اور ہم مسلسل ان کی زندگی کی دعائیں کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھاکہ وہ ہوش میں آ کر اپنی پوتی کے بارے میں پوچھیں گے جس سے وہ بہت محبت کرتے ہیں لیکن انہوں نے پہلا سوال اپنی پسندیدہ فٹ بال ٹیم کے متعلق کیا جس سے ہمیں پتا چلا کہ وہ سب سے زیادہ محبت فٹ بال سے اپنی پسندیدہ ٹیم سے کرتے ہیں۔ وہ اب صحت مند ہو کر گھر پہنچ چکے ہیں اور ان کے ہوش میں آنے کے بعد کیے گئے پہلے سوال پر ہم اب بھی ہنستے ہیں۔“

https://dailypakistan.com.pk/09-May-2020/1130527?fbclid=IwAR3tDHWpQsoSl1BG-JSYa91rMzgo9I6wYm3sm1daaKmKmNzFbv8c8DXSvvI

تائپی(مانیٹرنگ ڈیسک) تائیوان نے کورونا وائرس کے خلاف ایسی شاندار فتح حاصل کر لی ہے کہ باقی دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 26دن سے تائیوان میں مقامی سطح کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ ووہان میں وائرس پھیلنے کے بعد تائیوان سب سے پہلے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل تھا کیونکہ ووہان سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں براہ راست لوگ تائیوان آتے جاتے تھے لیکن تائیوان کی حکومت نے ابتداءہی سے ایسے اقدامات کیے کہ وائرس کے پھیلاﺅ کے تمام راستے مسدود کر دیئے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ کورونا وائرس کو 30جنوری کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ڈکلیئر کیا تھا لیکن تائیوان نے اس سے ایک ماہ پہلے31دسمبر 2019ءسے ہی کورونا وائرس کو روکنے کے لیے کڑے اقدامات شروع کر دیئے تھے۔ اس نے ووہان اور چین کے دیگر علاقوں سے آنے والے مسافروں کی کڑی چیکنگ شروع کر دی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ لاک ڈاﺅن کرکے بڑے پیمانے پر ٹیسٹ شروع کیے گئے۔ اب تک تائیوان حکومت نے 66ہزار 460ٹیسٹ کیے ہیں جن میں سے 65ہزار 211منفی آئے۔

تائیوان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد صرف 440تک پہنچی۔ ان میں سے 349بیرون ملک سے آئے جبکہ 55مقامی کیس تھے۔اب ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد صفر ہو جانے کے باوجود حکومت نے کسی حد تک لاک ڈاﺅن جاری رکھا ہوا ہے۔ سماجی میل جول میں فاصلے کی پابندی عائد ہے اور بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے 14روز قرنطینہ میں رہنا لازمی ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/09-May-2020/1130528?fbclid=IwAR23nBEkhu89e222LenD_HK04tu3l

cAgpOL-9tFEcF44a78NR9QD7Yi3eTI

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P1-ISB-018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P1-ISB-018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P1-ISB-024.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P1-ISB-024.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P2-ISB017.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P2-ISB017.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P2-ISB004.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P2-ISB004.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P2-ISB008.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P2-ISB008.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/bp-isb-058.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/bp-isb-058.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P1-ISB-010.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/05/10052020/P1-ISB-010.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p7-lhr019.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p7-lhr019.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p1-lhr013.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p1-lhr013.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p1-lhr017.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p1-lhr017.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p1-lhr006.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p1-lhr006.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/P02-LHR-006.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/P02-LHR-006.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/P02-LHR-010.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/P02-LHR-010.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/P03-LHR-005.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/P03-LHR-005.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p6-lhr030.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p6-lhr030.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p6-lhr015.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p6-lhr015.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p6-lhr018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p6-lhr018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p7-lhr001.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/10052020/p7-lhr001.jpg

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422929&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422931&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422904&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422943&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422960&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422898&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422899&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422900&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422901&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422902&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422903&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422926&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422888&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422889&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422890&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422891&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422892&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422760&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422763&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422826&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422833&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422850&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422851&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422728&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422726&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422732&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422733&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422745&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107422746&Issue=NP_PEW&Date=20200510

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175778_71880573

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175783_55534462

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175789_64408025

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175785_17058715

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175788_43229406

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175779_44781794

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175794_57485781

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-10&edition=KCH&id=5175848_86054265

No comments:

Post a Comment