کورونا وائرس نے چینی ڈاکٹروں کی جلد کا رنگ کالا کر دیا ::: کورونا وائرس یورپ میں زیادہ خطرناک کیوں؟ - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Sunday, 3 May 2020

کورونا وائرس نے چینی ڈاکٹروں کی جلد کا رنگ کالا کر دیا ::: کورونا وائرس یورپ میں زیادہ خطرناک کیوں؟

Coronavirus

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے کئی چینی ڈاکٹروں کے رنگ کالے ہو گئے۔ میل آن لائن کے مطابق متاثرہ ڈاکٹرز بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور ان کی حالت تشویشناک رہی تاہم خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی تاہم اس موذی وائرس کی وجہ سے ان کے جگر کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے ان کی جلد کی رنگت سیاہ ہو گئی۔جن ڈاکٹروں کی رنگت سیاہ ہوئی ان میں ووہان ہسپتال کے 42سالہ ڈاکٹر ژی اور ڈاکٹر ہو شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان ڈاکٹروں کی حالت اس قدر تشویشناک ہو گئی تھی کہ ان کا بچنا محال تھا تاہم ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے انہیں لائف سپورٹ مشین ’ای سی ایم او‘ کے ذریعے نئی زندگی دی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جگر کو شدید نقصان پہنچنے کی وجہ سے ان ڈاکٹروں کے جسم میں ہارمونز عدم توازن کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے ان کی رنگت سیاہ پڑ گئی۔ ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی ہے کہ وقت کے ساتھ جیسے ان کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو گا ان کی اصل رنگت بھی واپس آتی جائے گی۔

https://dailypakistan.com.pk/21-Apr-2020/1123271?fbclid=IwAR1qZT66LotIA7DWtSJyK4rAU9fDc

UYxihGp13KoGly5DhYPC2LfFzw-hB4

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن یورپ میں سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اب چینی سائنسدانوں نے اس کے یورپ میں زیادہ خطرناک ہونے کی وجہ بتا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس میں مسلسل میوٹیشنز آ رہی ہیں جس سے اس کے خطرناک ہونے میں کمی یا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ہر میوٹیشن کو وائرس کی نئی قسم بھی کہا جا سکتا ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب تک اس کی 30میوٹیشنز مل چکی ہیں۔ ان میں سے بعد کم خطرناک اور بعض زیادہ خطرناک ہیں۔

چین کی ژی جیانگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا تھا یورپ میں کورونا وائرس کے جو ’سٹرینز‘ (Strains)زیادہ پھیلے وہ خطرناک ترین میوٹیشن والے تھے۔ یہ وائرس چین میں صرف ژی جیانگ میں پائے گئے۔ ان سٹرینز میں ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے کی صلاحیت اور وائرل لوڈ کم خطرناک کورونا وائرس سٹرینز سے 270گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں یہ وائرس زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور وہاں زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں وہ سٹرینز زیادہ پائے گئے جو نسبتاً کم خطرناک ہیں۔ امریکہ میں بھی ریاست واشنگٹن میں کم خطرناک سٹرینز سب سے زیادہ پائے گئے۔ باقی ریاستوں میں خطرناک سٹرینز بھی کافی مقدار میں پھیلے ہوئے ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/21-Apr-2020/1123267?fbclid=IwAR1pak9eh5_GZUAjB8mQwH-gHXH_qSKVvFypU8nqtiyVN6Vqj7lg7dMpvSw

No comments:

Post a Comment