گھر پر ماسک بنانا ہو تو کونسا کپڑا سب سے بہترین؟ ::: کورونا وائرس کی 3علامات ::: کرونا سے خون کا جماؤ ::: کرونا سے بچوں کو نیا خطرہ - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Tuesday, 28 April 2020

گھر پر ماسک بنانا ہو تو کونسا کپڑا سب سے بہترین؟ ::: کورونا وائرس کی 3علامات ::: کرونا سے خون کا جماؤ ::: کرونا سے بچوں کو نیا خطرہ

گھر پر ماسک بنانا ہو تو کونسا کپڑا سب سے بہترین؟ سائنسدانوں نے مشکل آسان کردی

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے فیس ماسک کی قلت ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے لوگ گھر پر ہی ماسک بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اب ماہرین نے گھر پر فیس ماسک بنانے کے حوالے سے انتہائی مفید معلومات دے دی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک بنانے لیے کپڑے کا انتخاب سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ کورونا وائرس بظاہر موٹے نظر آنے والے کپڑے سے بھی اندر داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ گہرا بنا ہوا کاٹن کا کپڑا فیس ماسک کے لیے سب سے بہترین ہے۔ اس کے ساتھ پولسٹر سپینڈیکس شیفون (Polyester-spandex-chiffon)کی دو تہیں استعمال کی جائے تو یہ کورونا وائرس کے خلاف این 95ماسک جتنا مو¿ثر ماسک بن جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 10اقسام کے انتہائی باریک ذرات کو مختلف قسم کے کپڑوں سے گزار کر دیکھا۔ کپڑے کی دوسری طرف انہوں نے ایک پنکھا لگایا جس کی ہوا کی شدت انسانی سانس کے برابر تھی۔ ان میں سے سخت بنائی والے کاٹن کے کپڑے اور پولیسٹر سپینڈیکس شیفون کی دو تہوں نے سب سے زیادہ زرات کو روکا۔ یہ کپڑے 80سے 90فیصد ذرات کو روکنے میں کامیاب ہوئے، کورونا وائرس کے لیے سب سے بہترین کہا جانے والا ماسک این 95بھی اتنا ہی مو¿ثر ثابت ہوتا ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/27-Apr-2020/1125696?fbclid=IwAR1hQhZX14aUnT77XcIe0qbcFOYsbc

hQi2UFrHQ-XD50G1WVHJgcVVTqEkQ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ابتدائی طور پر امریکی ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کی 3علامات بتائیں جو سب سے زیادہ مریضوں میں دیکھی جا رہی تھیں لیکن جوں جوں امریکہ میں کورونا کے مریض بڑھتے گئے، ڈاکٹر اس فہرست کو اپ ڈیٹ کرتے گئے اور اب تک وہ 6ایسی علامات بتا چکے ہیں جو سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہیں۔ دی مرر کے مطابق ان 6علامات میں سردی لگنا، سردی لگنے کے ساتھ جسم کا کپکپانا، پٹھوں میں درد ہونا، سردرد ہونا، گلے میں تکلیف ہونا اور سونگھنے کی حس کا کم یا ختم ہونا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ کورونا وائرس کی ایسی ابتدائی علامات ہیں جو مریضوں میں سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہیں۔ معروف شیف 34سالہ ویلری لومس نے اس حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ”مجھے وائرس لاحق ہوا تو پانچ دن تک میری سونگھنے کی حس بالکل ختم ہو گئی تھی۔“ایرانی ماہرین نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے جتنے مریضوں میں سونگھنے کی حس ختم ہوئی ان میں سے 76فیصد نے بتایا کہ یہ حس ایک دم ختم ہو گئی اور یہ باقی علامات میں سب سے پہلے ظاہر ہوئی۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Apr-2020/1126129?fbclid=IwAR0FLgeClrRvhFaWcQupy1mwCWxT

lu2ooMaSb39h-s3J5JJxxce2M2mmdO0

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/28042020/P1-LHR011.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/28042020/P1-LHR011.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/28042020/P6-Lhr-002.jpg

Daily Roznama 92 , Dated:28-04-20

No comments:

Post a Comment