
عمر امین نے الیکشن کمیشن کافیصلہ کالعدم قرار دینےکے ساتھ فیصلےکی معطلی کی متفرق درخواست بھی دائر کی تھی جس میں درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست میں الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر، ریجنل الیکشن کمشنر اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بھی فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا الیکشن کمیشن شفافیت کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا، قانون کے مطابق شک کا فائدہ امیدوار کو ملنا چاہیے تھا، سمری انکوائری کے بغیر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عمر امین گنڈا پور کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوٹس نہیں دیا گیا اور ساری کارروائی علی امین کے خلاف ہوتی رہی پھر آرڈر عمر امین کے خلاف جاری کردیا۔
عمر امین کے وکیل کا کہنا تھا کہ سمری انکوائری کے بعد 50 ہزار تک جرمانہ کیا سکتا ہے اور دوسری مرتبہ خلاف ورزی ہوتو ایکشن ہوسکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment