Source : Flicker
یو کرائن تنازع ، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
Feb 12, 2022 | 10:30:AM

نیو یارک ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) یو کرائن تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی اور خام تیل کی قیمتیں نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں ۔
نجی ٹی وی( 92 نیو ز)کے مطابق برطانوی برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 3اعشاریہ 83 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 95.25 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ۔ امریکی ڈبلیو ٹی او خام تیل کی قیمت میں 4.02 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا جس کے بعد فی بیرل کی قیمت 93.90 ڈالر پر پہنچ گئی۔
یوکرائن تنازع نے سونے کی قیمتوں کو بھی بڑھا دی ، عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 23 ڈالر اور 20 سینیٹ مہنگا ہو گیا ہے ، جس کے بعد فی اونس سونے کی قیمت ایک ہزار 860 ڈالرز ہو گی ہے ۔
ادھر امریکی سٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھنے میں آئی ، نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 2.78 فیصد کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد انڈیکس 394.49 پوائنٹ گرا ، ڈاؤ جونز انڈسٹریل انڈیکس مٰں 305.53 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ ایس اینڈ پی انڈیکس میں 85.44 پوائنٹس کی کمی ہوئی ۔
https://dailypakistan.com.pk/12-Feb-2022/1402357?fbclid=IwAR29dAehv4N-O8jH4hEA_LAuFx0vMVS53PpROZwR6LnazTVLS4XGbBryopQ
سری لنکا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر لیکن آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کردیا
Feb 11, 2022 | 21:09:PM

سورس: File
کولمبو (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا کے بعد شدید معاشی مشکلات کا شکار سری لنکا دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے تاہم حکام کاکہنا ہے کہ انہیں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
سری لنکا کے وزیر خزانہ کے قریبی ساتھی ملندا راجا پکسے کا کہنا ہے کہ لوکل مسائل کو حل کیے بغیرمدد کیلئے بھاگنے کی جلدی نہیں کریں گے، مقامی سپلائی چین اور کاروباروں کو کھلوانے میں چار سے پانچ مہینے لگ سکتے ہیں، اس کے ساتھ امید ہے کہ ترسیلاتِ زر اور سیاحت کے شعبے میں بھی بہتری آجائے گی۔
انہوں نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی قرضوں کو اندرونی مسائل سے الگ کرکے دیکھنا ہوگا اور ہم یہی کچھ کرنے جا رہے ہیں، کیا ہم آئی ایم ایف سے پیکج لیں گے؟ کیا ہم اپنے ہمسایہ اور دوست ممالک سے قرضے لیں گے؟ اس بارے میں دیکھنا ہوگا۔
خیال رہے کہ سری لنکا کے زرِ مبادلہ کے ذخائر صرف 2.36 ارب ڈالر رہ گئے ہیں لیکن حکومت کو اس سال چار ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے ہیں۔ سری لنکا کی معیشت کا بڑا حصہ سیاحت پر منحصر ہے اور کورونا کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ تقریباً بند ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے سے ملک سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Feb-2022/1402012?fbclid=IwAR0_9gbzf86jYiHpSX1-qV3fTIr2PYQH8r7ZxABXje8t2ukylyPZFSnWTZE
اوگرا نے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا تعین کر دیا ہے، اور اس حوالے سے اوگرا کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن کیلئے آر ایل این جی کی نئی قیمت 13.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، جب کہ سوئی سدرن کیلئے آر ایل این جی کی نئی قیمت 14.078 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
موسمی تبدیلیاں، پاکستان کو سالانہ 1 ارب ڈالر کا نقصان
پی ایس او منافع
کپاس کی کم پیداوار
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ہمارے مخالف ملک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہماری مخالفت کررہے ہیں جب کہ فیٹف میں ہمارے خلاف جن ممالک نے پوزیشن لی ہوئی ہے وہ ہمارے دوست ہیں
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ دنیا میں انٹرسٹ ریٹ بڑھ رہے ہیں، سعودی قرض کا شرح سود 4 فیصد ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے، قرض پر شرائط تو ڈالی جاتی ہیں، لازم نہیں کہ ان کا نفاذ بھی کیا جائے، ہم نے تو سعودی عرب سے قرض مانگا ہی ایک سال کے لیے تھا، سعودی عرب نے کہا ہے کہ ہم نے کہیں دیوالیہ کیا تو یہ رقم واپس لے سکتے ہیں، ہم دیوالیہ ہی نہیں کریں گے، پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا، ہم دیوالیہ ہوئے تو سعودی قرض واپس کرنا ہوگا، ضرورت پڑی تو سعودی قرض واپسی میں توسیع کر لیں گے۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل کی درخواست کی، اس وقت اپنے تیل کے ذخائر استعمال کررہے ہیں، پٹرول پر سیلز ٹیکس اور پی ڈی ایل کو کم کیا، ہم کوشش کر رہے ہیں عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، ہم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ کیا، آپ کہیں پٹرول امپورٹ کرنا بند کریں تو ایسا نہیں ہوسکتا، امپورٹڈ کوئلہ سے چلنے والے پلانٹس کیلئے کوئلہ تو امپورٹ کرنا پڑے گا، کچھ پاور پلانٹس چلانے کیلئے تھر سے کوئلہ نکالا جارہا ہے۔
شوکت ترین نے کہا کہ ہماری ایکسپورٹ میں 25 سے 28 فیصد اضافہ ہوا، روپے پر پریشر تھا اب روپیہ 174 پر آگیا ہے، اس وقت روپیہ انڈر ویلیو نہیں ہے، ایک دو روپے کا فرق ہے، ہم نے چینی، گندم امپورٹ کی جس کے باعث امپورٹ بل میں اضافہ ہوا، صرف جنوری میں امپورٹ بل میں 1.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے، ہم نے سی بی یوز پر ڈیوٹی بڑھائی جس کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،دو ارب ڈالر کی کورونا ویکسین خریدی گئی۔
ایف اے ٹی ایف پر جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 28 شرائط تھیں، جن میں سے پاکستان نے 27 شرائط پوری کردی ہے، اور اٹھائیسویں نمبر کے شرط کے بھی کچھ نکات کو پورا کیا ہے، محض ایک شرط ہے وہ بھی ٹرانسزیکنشل ہے، اس کے باوجود ہمیں جان بوجھ پر دباؤ کا شکار اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اگر کوئی اور ملک اٹھائیس میں سے ستائیس شرائط پورا کرتا تو وہ کب کے گرے لسٹ سے نکل جاتے۔
شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے مخالف ملک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہماری مخالفت کررہے ہیں، جب کہ فیٹف میں ہمارے خلاف جن ملکوں نے پوزیشن لی ہوئی ہے وہ ہمارے دوست ہیں، نگراں حکومت میں ہم فیٹف کی گرے لسٹ میں گئے، پچھلی حکومت میں ہم وائٹ لسٹ میں تھے، گزشتہ حکومت کے اقدامات کی ہی وجہ سے ہم نگراں حکومت میں گرے لسٹ میں گئے، امید ہے اگلے سیشن میں ہم گرے لسٹ سے نکل جائیں گے۔
https://www.express.pk/story/2283578/1/
امریکہ میں مہنگائی
زرمبادلہ اور سٹاک مارکیٹ
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1109021720&Issue=NP_PEW&Date=20220211
آئی ایم ایف شرائط
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2022/02/11022022/P6-Lhr-018.jpg
وزیراعظم کی گرین ڈپلومیسی رنگ لے آئی، پاکستانیوں کیلئے سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک میں نوکریاں ہی نوکریاں
Feb 10, 2022 | 15:52:PM

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان اور سعودی عرب کے درميان نو ایریاز میں تعاون کو فروغ دينے کا معاہدہ طے پا گیاہے ،پاکستانی باغبان سعودی عرب جائیں گے، 10 ارب درخت بھی لگائیں گے۔
معاہدہ کے مطابق سمندری آلودگی کے خاتمے، جنگلات کی حفاظت اور نئے جنگلات اگانے میں مدد دی جائے گی جبکہ پاکستان کی نرسریز میں پودے تیار کرکے سعودی عرب بھیجیں جائیں گے۔معاہدہ کے تحت فوری طور ایکسپرٹس ورکنگ گروپ بنایا جائے گا اور ڈیٹا اور معلومات کے ساتھ ساتھ ماہرین کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔ وزیراعظم،سعودی ولی عہد کے گرین وژن کوآگے بڑھانے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔پاکستان اورسعودی عرب ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے میں تعاون کريں گے جبکہ مالیوں سمیت متعلقہ شعبے کے ہزاروں پاکستانی مزدور سعودی عرب جائے گی۔
معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے صحراؤں و ریگستانوں کو سرسبز بنانے کے لیے پودے لگائے جائیں گے۔ خیال رہے کہ دنیا بھر میں سب سے سستے پودے لگانے والے ملک کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے۔
پورے مشرق وسطیٰ کو سرسبز و شاداب بنانے کے سعودی منصوبے کے تحت پاکستانیوں کو یواے ای، قطر ، بحرین سمیت پورے خطے میں گرین جابز ملیں گی۔ریاض میں سعودی وزیر ماحولیات اور وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی ملک امین اسلم نے نو نکاتی معاہدے پر دستخط کردیئے۔
https://dailypakistan.com.pk/10-Feb-2022/1401547?fbclid=IwAR3w7bkDBOPTncNYJL1ZQqrxG5pFnEY5TTGG_xmLiyx2OMjNdfwK6HojkhQ
5G سروس کا آغاز جنوری 2023 تک کردیا جائے گا، وفاقی وزیر آئی ٹی
Feb 10, 2022 | 10:52:AM

سورس: Pixabay.com (creative commons license)
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں 5G انٹرنیٹ سروس دسمبر 2022 یا جنوری 2023 تک شروع کردی جائے گی۔
فائیو جی ایڈوائزری کمیٹی کے قیام پر وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا تھا کہ کمیٹی عالمی معیار کے مطابق پاکستان میں دستیاب اور استعمال ہونے والے اسپیکٹرم کا جائزہ لے گی اور سروسز شروع کرنے کیلئے اسٹریٹجی پلان کے جائزے کے بعد اس کی منظوری دے گی، اسٹریٹیجی پلان کیلئے اسٹیک ہولڈرز خصوصا ٹیلی کام کمپنیوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
سید امین الحق نے کہا کہ کمیٹی کنسلٹنٹ کی تجاویز کی روشنی میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے طریقہ کار کی منظوری بھی دے گی، فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی میں ٹیلی کام سیکٹرز کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے قابل عمل بنایا جائے گا، ڈیجیٹیل پاکستان ویژن کے تحت فائیو جی ایکو سسٹم کا قیام عوام اور ملک کی معاشی ترقی کیلئے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستان میں فائیو جی سروسز کا آغاز دسمبر 2022 یا جنوری 2023 تک کردیا جائے۔ امین الحق نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ملک کے 5 بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز شروع کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ٹیلی کام سیکٹرز پر اضافی ٹیکسز کے نفاذ سے کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں، اصولی طور پر ٹیلی کام سیکٹرز کو جتنی مراعات دی جائیں ملک کو اتنا زیادہ ریونیو حاصل ہوگا۔
قبل ازیں وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے فائیو جی نیلامی کے لئے ایڈوائزری کمیٹی کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کیا، وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں ایڈوائزری کمیٹی 13 ارکان پر مشتمل ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز، وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار، مشیر تجارت و سرمایہ کاری بورڈ، محکمہ فنانس، آئی ٹی اور محکمہ قانون کے سیکریٹریز بھی ایڈوائزری کمیٹی کا حصہ ہوں گے، جب کہ ممبر ٹیلی کام ،چیئرمین پی ٹی اے، فریکیونسی ایلوکیشن بورڈ، سمیت اہم اداروں کے حکام بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
https://dailypakistan.com.pk/10-Feb-2022/1401503?fbclid=IwAR1dYSBVqa2U1-iySkPtQUZQbPwyu4mppOq39SEC6VlR1oFnPCZGARnqtUc
وفاقی حکومت کا تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان لیکن صوبائی ملازمین کا کیا بنے گا؟ بڑی خبر آگئی
Feb 09, 2022 | 23:52:PM

سورس: File
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کردیا گیا ، وفاق نے صوبوں کو بھی تنخواہیں بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کےمطابق گریڈ ایک سے 19سکیل تک کےوفاقی ملازمین کو 15فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دیاجائےگا جس کا اطلاق یکم مارچ سے ہوگا۔ یہ الاؤنس بنیادی تنخواہ پر دیا جائے گا۔ وفاق نے صوبوں کوبھی اسی تناسب سے الاؤنس کااعلان کرنےکی سفارش کردی ہے۔ فنانس ڈویژن نےمناسب وقت پرملازمین کی ترقی کیلئے سمری تیارکرلی ہے ، بنیادی تنخواہ میں الاؤنس شامل کرنےکیلئےپےکمیشن کی رپورٹ کاانتظارہے، ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کرنےکافیصلہ بعدمیں ہوگا۔
https://dailypakistan.com.pk/09-Feb-2022/1401151?fbclid=IwAR2hlYvn-sgPKKyaEizOfKhD29Q0CjKDANZXuTS2VcFqIKo_2ewGoTj-Oog
سٹیٹ بینک نے 5 بڑے بینکوں کو کروڑوں روپے جرمانہ کردیا لیکن کیوں اور کہیں آپ کا بینک تو شامل نہیں؟
Feb 09, 2022 | 18:51:PM

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کے پانچ بڑے بینکوں کو پانچ کروڑ 78لاکھ 30ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ ویب سائٹ ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق مرکزی بینک کی طرف سے ان بینکوں کو اکتوبر سے دسمبر 2021ء کے دوران قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بینک جنرل بینکنگ آپریشنز میں ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جن بینکوں کو جرمانہ کیا گیا ہے ان میں بینک الحبیب لمیٹڈ، بینک آف پنجاب، نیشنل بینک، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور عسکری بینک شامل ہیں۔ انہیں بالترتیب ایک کروڑ 36لاکھ 80ہزار روپے، ایک کروڑ 25لاکھ 40ہزار روپے، ایک کروڑ 2لاکھ 60ہزار روپے، ایک کروڑ 10لاکھ روپے اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/09-Feb-2022/1401109?fbclid=IwAR0rej0RBbM3tEeD1vYJux7zo2gXCYUTMc51UlFVfQP_Ln_VnLY3t1c7zBI
اضافی آمدنی کا سلسلہ بنانا ہم میں سے اکثر کی خواہش ہوتی ہے تاکہ ہم اس اضافی آمدنی سے کچھ اور خواہشات یا ارادوں پر عمل کرسکیں جیسے کچھ اچھے ملبوسات خریدنا، صحت مند کھانا، اچھا طرز زندگی برقرار رکھنا یا سال میں ایک بار ملک یا ملک سے باہر سیر و تفریح کو نکلنا۔
اگرآپکے گھر کے اخراجات آپکی نوکری یا کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں تو اضافی آمدنی امیر ہونے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ آج کے اس جدید دور میں کسی بھی فرد کے لیئے اپنی مہارت یا تجربہ کے ذریعے اضافی آمدنی حاصل کرنے کے بے شمار مواقع دستیاب ہیں۔ اس طرح، اگر آپ کوبھی اپنی صلاحیتوں کے بارے میں یقین ہے تو آپ بھی اپنی خواہشات یا اخراجات کو پورا کرنے کے لیئے اضافی آمدنی کے حاصل کرنے کے کئی طریقوں میں سے کوئی ایک یا دو طریقے اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن اسکے لیئے کچھ اضافی کوشش بھی کرنا پڑتی ہے اور اسکا انحصار اس بات پرہے کہ آپ اپنی آمدنی میں کتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔
انٹرنیٹ کے اس دور میں اضافی آمدنی حاصل کرنے کے بے تحاشہ مواقع موجود ہیں ۔ مثلا
1. آن لائن تدریس
جیسے جیسے ہر شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن بڑھتی جا رہی ہے ویسے ویسے تعلیم و تدریس کے کئی پلیٹ فارم آن لائن ہو گئے ہیں۔ اوردیکھتے دیکھتے ان ، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز نے نمایاں ترقی بھی حاصل کرلی ہے کیونکہ یہ کسی بھی شعبے میں علم اور مہارت حاصل کرنے کا آسان موقع فراہم کرتے ہے۔ لہذا، اگر آپ کچھ پڑھا سکتے ہیں اور خاص طور پر تکنیکی مضامین پر اچھی طرح مہارت رکھتے ہیں تو آپ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے علم کو بانٹ کر آسانی کے ساتھ خود کے لیئے اضافی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ ایک پرائیویٹ ٹیوٹر بن سکتے ہیں اور اپنی ریاضی، سائنس، غیر ملکی زبان، یا ٹیسٹ کی تیاری کی مہارت کو ایک منافع بخش پہلو میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ آپ جو چارج کرتے ہیں اس کا تعین آپ کے تجربے، مہارت اور مارکیٹ کی طلب سے ہوگا۔
2. ایک بلاگ بنائیں یا یوٹیوب چینل مونیٹائز کریں
کیا آپ کھانا پکانے، سفر کرنے، گانے، ناچنے، پڑھانے، یا یہاں تک کہ کھانے پینے کا شوق رکھتے ہیں؟ اگر آپ ان میں سے کسی بھی ایک شوق کے بارے میں پرجوش ہیں تو آپ اپنے شوق کو بلاگ یا یوٹیوب چینل میں تبدیل کر کے اضافی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ آپکے چینل کا یا بلاگ کا مواد جتنااعلیٰ اور دلکش ہوگا یہ اتنا ہی دیکھنے اور پڑھنے والوں کو اپنی راغب کرے گا ۔ بلاگ یا چینل کے ذریعے آپ مختلف کمپنیوں کے ساتھ تعلق قائم کر کے بلاگ یا اپنی پوسٹس کو سپانسر کر سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر، اچھا مواد بنانے اورفالوورز حاصل کرنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے لیکن ایک بار مقبول ہونے کے بعد، آپ اپنے بلاگ یا چینل سے قابل قدراضافی آمدنی پیدا کر سکتے ہیں۔
3. آن لائن ٹریڈنگ
یہ کم سے کم کوشش کے ساتھ اضافی آمدنی حاصل کرنے کا ایک اور غیر روایتی موقع ہے۔ بڑھتے ہوئے آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری تیزی سے عام ہو گئی ، ایسے ہی معروف پلیٹ فارمز میں سے ایک “بی نو مو” Binomo ہے جس کے لیئے اب ٹریڈرز کو اکاؤنٹ کھولنے کے لیے بروکریج ہاؤس جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آن لائن اکاؤنٹ بنا کر اسے اپنے ای میل اور پیمنٹ سسٹم سے جوڑنا ہی کافی ہوتا ہے ۔
“بی نو مو” Binomo پر 70 سے زیادہ اثاثے دستیاب ہیں، بشمول سیکورٹی ایکوئٹی، اشیاء، مالیاتی اشاریہ جات، اور کرنسی پئیرز۔ ڈیمو اکاؤنٹ کے ذریعے نووارد بھی اس پلیٹ فارم کو باآسانی سیکھ سکتے ہیں ڈیمو اکاونٹ پر1000 ہزار “ورچوئل ڈالرز” ملتے ہیں جن کے ذریعے ڈیمواکاؤنٹ ہولڈرز ٹریڈنگ کی پریکٹس کرسکتے ہیں اوراسے سیکھ سکتے ہیں ۔ “بی نو مو ” Binomo کے پلیٹ فارم پر موجود ستر سے زائد ایسٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ اپنے فنڈز متنوع اثاثوں کی ٹریڈ میں استعمال کریں تاکہ فنڈز ضائع ہونے سے بچے رہ سکیں ۔ کیونکہ بہرحال، آن لائن ٹریڈنگ میں آنے سے پہلے، یہ بہت ضروری ہے کہ آپ آن لائن ٹریڈنگ کی مبادیات کو جانتے ہوں کیونکہ اس طرح کی سرمایہ کاری میں فنڈز ڈوبنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور آپ اپنی جمع پونجی کھوبھی سکتے ہیں۔
4. فری لانسنگ
فری لانسنگ آمدنی کا ایک اور ذریعہ ہے جس میں کسی بھی وقت اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ روایتی 9 سے 5 دفتری ملازمت کے برعکس فری لانسنگ کا کام کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے یعنی آپ آفس کے بعد بھی فری لانسنگ کے پراجیکٹس پر کام کر سکتے ہیں ۔ فری لانسنگ میں صرف ایک لیپ ٹاپ کے ساتھ کہیں سے بھی کام کیا جاسکتا ہے ۔ ایسی بہت سی ایڈیٹنگ اور رائٹنگ ویب سائٹس ہیں جو اضافی آمدنی حاصل کرنے کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔ ویب یا گرافک ڈیزائنرز کی مارکیٹ بھی فری لانسگ کے کام سے بھری پڑی ہے جس پر زرا سی توجہ دی جائے تو اضافی آمدنی حاصل کرنا مشکل نہیں۔
5. ورچوئل اسسٹنٹ بنیں
ایک ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر، پیسہ کمانے کا ایک آسان طریقہ مختلف پراجیکٹس کو مکمل کرنے میں دوسروں کو اسسٹ کرنا ہے۔ ورچوئل اسسٹنٹ بننا ڈیجیٹل سروسز کے کاروبار میں داخل ہونے کا ایک کم خطرہ والا طریقہ ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کہاں رہتے ہیں، آپ ان کاموں کو ایک دور دراز کارکن کے طور پر آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ بہت سی بڑی کمپنیاں اپنی کسٹمر سروس کو بہتر بنانے کے لیے ورچوئل اسسٹنٹس کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
6. اپنے ڈیزائن یا فوٹو گرافی بیچیں
ڈیزائننگ آج کل مقبول ہو گئی ہے کیونکہ لوگ تخلیقی صلاحیتوں اور انفرادیت کو پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ ڈیزائننگ میں اچھے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنا پسند کرتے ہیں تو آپ کو ٹیمپلیٹ، فون کور، ٹی شرٹس یا مگ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اپنے ڈیزائن آن لائن فروخت کرنے چاہئیں۔ ڈیزائن کرنے کا ایک متبادل طریقہ فوٹو گرافی ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک اپڈیٹڈ کیمرہ ہے اور آپ فوٹو گرافی کی مہارت رکھتے ہیں تو آپ کواپنے کیمرے کی گرد جھاڑکر اسے اپنے کام میں لانا چاہیئے ۔
7. اپنی کار کرایہ پر دیں
بہت سے لوگوں کے پاس محدود آمدنی اور متنوع اخراجات کی وجہ سے اپنی کار نہیں ہے۔ اور وہ اپنے کام پر یا کہیں آنے جانے کے لیئے کے پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کرتے ہیں ۔ تاہم، ایسے افراد کو ہفتے کے آخر میں اپنے دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ سفر کرنے کے لیے کرائے پر کار کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کو اپنی کار کو کرائے پر لینے کی سہولت دی جاسکتی ہے کیونکہ کار خریدنے کے مقابلے کرائے پر لینا سستا ہے۔ کار ان کمپنیوں کو بھی کرائے پر دی جا سکتی ہے جن کے پاس کلائنٹ کی بڑی تعداد ہے اور کرائے پر لینے کے لیے محدود کاریں ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایک اضافی کار ہے یا آپ اپنی کار بہت زیادہ استعمال نہیں کرتے ہیں تو اضافی آمدنی پیدا کرنے کے لیے اسے کرائے پر دینا چاہیے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ ہفتے کے آخر میں زیادہ مانگ کی وجہ سے کرائے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
8. پراپرٹی سے کرائے کی آمدنی
اگر آپ کے پاس ایک اضافی کمرہ ہے جسے آپ استعمال نہیں کر رہے ہیں تو آپ اسے اضافی آمدنی پیدا کرنے کے موقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایسی کئی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں آپ اپنی پراپرٹی کو رجسٹر کرا کر اپنے گھر کے ایک یا دو کمروں کو ایک دن یا کئی دنوں کے لیئے کرائے دار حاصل کرسکتے ہیں ۔ اور اس طرح آپکے گھر کی نہ استعمال ہونے والی جگہ آپ کے لیے ایک اضافی آمدنی پیدا کر سکتی ہے جسے بچانے یا آگے کہیں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
9. نوکری تبدیل کریں
اگر آپ کا آفس یا کمپنی آپ کی صلاحیتوں کو نہیں پہچانتی اور آپکی مہارتوں کی قدر نہیں کرتی تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنی آمدنی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترقی حاصل کرنے کے لیے اپنی ملازمت کو تبدیل کریں۔ ملازمت تبدیل کرنے سے آپ کو نئی کمپنی یا آفس میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا بہتر موقع مل سکے گا۔
10. سوشل میڈیا مینیجمنٹ
بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن اور مہنگائی نے بہت سے کاروباروں کو سیلز بڑھانے یا اخراجات بچانے کے لیے آن لائن سوئچ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسی طرح، آن لائن کاروباری دنیا میں جگہ حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا ہینڈلرز کو سوشل میڈیا پوسٹس، فالوورز اور صارفین کے فیڈبیک کا انتظام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لیئے انہیں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی سمجھ رکھنے والے افراد کی ضرورت رہتی ہے ۔ اس طرح، اس جدت نے بہت سے افراد کے لیے یہ موقع پیدا کر دیا ہے کہ وہ کسی کے کاروبار کے لیے اپنی سوشل میڈیا کی مہارتوں کا حصہ ڈال کر اپنے لیئے اضافی آمدنی پیدا کرسکیں۔
https://www.express.pk/story/2282860/6/
رواں مالی سال2021-22کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر2021) میں ملک کے بجٹ خسارے میں933.33 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارہ بڑھ کر 1371.82 ارب روپے ہوگیا جو ملکی جی ڈی پی کے 0.7 فیصد سے بڑھ کر2.1فیصد کے برابر ہوگیا ہے ۔
گذشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی(جولائی تا دسمبر2020) کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ 438.491 ارب روپے تھا۔
ایکسپریس کو دستیاب وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کی کاپی میں بتایاگیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے بینکوں سے 269 ارب 38کروڑ روپے اورنان بینکنگ ذرائع سے76ارب 79کروڑ20لاکھ روپے حاصل کئے ہیں جبکہ اداروں کی نجکاری سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوسکی ہے ۔
ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 2919.80ارب روپے ،دفاعی اخراجات520 ارب 45کروڑ 60 لاکھ روپے اور اخراجات جاریہ مجموعی طور پر 46کھرب 75ارب69کروڑ90لاکھ روپے رہے ۔ ملک کے مجموعی اخراجات بڑھ کر ملکی جی ڈی پی کے 8.3فیصد تک پہنچ گئے ہیں ۔
پاکستان نے وفاقی و صوبائی سطح پر مجموعی طور پر 39کھرب 55 ارب 98کروڑ روپے کی وصولیاں حاصل کی ہیں جو کہ ملکی جی ڈی پی کے6.2فیصد کے برابر ہے جبکہ 52کھرب27ارب79کروڑ70 لاکھ روپے کے اخراجات کئے ہیں جو کہ ملکی جی ڈی پی کے 8.3فیصد کے برابر ہیں ۔
ملکی و غیر ملکی قرضوں اور ان پر عائد سود کی واپسی کی مد میں مجموعی طور پر1452ارب 89کروڑ10 لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے ہیں جو ملکی جی ڈی پی کے 2.1فیصد کے برابر ہیں جن میں سے ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں(ڈیٹ سروسنگ) کی مد میں مجموعی طور پر13کھرب 12ارب 53کروڑ80لاکھ روپے اور غیر ملکی قرضوں پرسود کی ادائیگیوں(ڈیبٹ سروسنگ) کی مد میں مجموعی طور پر 140ارب 35کروڑ30لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مجموعی طور پر 2919.80ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی ہیں جن میں سے 1019.52ارب روپے براہ راست ٹیکس اور 1900.28ارب روپے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں اکٹھے کئے گئے ہیں۔
ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 12کھرب 74ارب 46کروڑ روپے،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں145.5ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 480.33ارب روپے کی وصولیاں ہوئی ہیں ۔
https://www.express.pk/story/2283102/6/
آج کیا پکائیں؟ کسی گھر میں یہ الفاظ ہر روزسوال بن کر گونجتا ہے تو کسی گھر میں یہ روزانہ ایک خوف کی طرح روح میں سرائیت کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
جہاں یہ سوال بن کر پوچھا جاتا ہے اُن گھروں میں جواب تقریباً یکساں ہوتا ہے جو مرضی پکا لیں۔ایسے میں تذبذب کا شکار خاتونِ خانہ اگر کہیں ’’دال‘‘ پکا لیں تو ردعمل میں یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے ’’آپ کو دال کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا پکانے کو‘‘؟ ہمارے صاحب ِ حیثیت گھروں میں دال پکنے کی صورت میں اکثر کی تو بھوک ہی ختم ہو جاتی ہے۔
’’ مجھے بھوک نہیں‘‘ کہہ کر فاسٹ فوڈ کے دلدادہ نسل کھانے سے منہ موڑ لیتی ہے۔ ’’ دال‘‘ کے ساتھ اُن کا یہ رویہ دراصل ہماری موجودہ غذائی ترجیحات کا عکاس ہے ۔ جس میں زبان کی لذت ’’دال‘‘ جیسی صحت بخش خوراک کے استعمال پر غالب آچکی ہے۔ جبکہ جن گھروں میں محدود آمدن کی وجہ سے آج کیا پکائیں ؟
ایک خوف کی صورت میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے ۔اُن کے لیے دالوں کی قیمتوں میں اضافہ اُنھیں ’’دال‘‘ سے بھی دور کرتے ہوئے اُن کے اِس خوف کو اور مزید گہرا کر رہا ہے۔ نتیجتاً کسی کے نخرے اور کسی کی معاشی مجبوری نے ہمارے یہاں’’ دال ‘‘کے استعمال کی مقدار نصف سے بھی کم کردی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان میں 1961 ء میں دال کا استعمال فی کس سالانہ 15 کلوگرام تھا جو کم ہوکراب7 کلوگرام رہ گیا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے یہاں ــ’’ دال ‘‘ کو غریب لوگوں کی خوراک سمجھا جاتا ہے اور تمسخرانہ انداز میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ’’ دال خور ‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ بعض لسانی گروہوں کو بھی ’’دال خور ‘‘ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔جبکہ سائنسی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ ’’دال‘‘ اپنی غذائی خوبیوں کے حوالے سے کسی بھی طرح دوسری خوراک سے کم نہیں بلکہ یہ دیگر اجناس کے مقابلے میں زیادہ کثیر الجہتی خواص کی حامل ہیں اور کئی ایک مہنگی خوراک کا بہترین قدرتی نعم البدل بھی ہیں۔
اس کے علاوہ اس کے دیگر فوائد اِسے دوسری اجناس سے منفرد بنا دیتے ہیں۔ اس لیے دالوں کے صحت و غذائی، معاشی، سماجی، ماحولیاتی اورزرعی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور ترکی کی تجویز پر اقوام متحدہ نے 2016 کو دالوں کا بین الاقوامی سال قرار دیا ۔
اس کے بعد 2018 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے10 فروری کو ’’ دالوں کے عالمی دن‘‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی اور دنیا میں 2019 میں فروری کی دس تاریخ کو ’’ دالوں کا پہلا عالمی دن ‘‘ منایا گیا ۔اِمسال یہ چوتھا عالمی دن ہے جو خوراک کی پائیدار پیداوار ، فوڈ سیکورٹی اور غذائیت کو بڑھانے میں دالوں کے اہم کردارکے بارے میں شعور پیدا کرنے کی غرض سے منایا جا رہا ہے۔
دالیں پھلی دار اجناس کے وہ خوردنی بیج ہیں جو خشک اور کم چکنائی کے حامل ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت ایسی گیارہ اقسام کو بطور دال تسلیم کرتا ہے، جو سبز ی کے طور پر نا پکائی جائیں، جن سے تیل نہ نکالا جاتا ہواور جو بوائی کے مقاصد کے لیے استعمال نا ہوتی ہوں۔ دالیں انسانی صحت اور غذائیت، غربت، غذائی تحفظ، مٹی کی صحت اور ماحولیات کے چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کرداد ادا کرتی ہیںیوں یہ پائیدار ترقی کے اہداف کو بہتر طور پر حاصل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہیں اسی لیے انھیں ’’ چھوٹے عجائبات‘‘ (little marvels)بھی کہا جاتا ہے۔
٭ دالیں اور انسانی صحت و غذائیت
دالیں ایک صحت مند، متوازن غذا کا حصہ ہیں۔ یہ ہاضمے کو بہتر بنانے، خون میں گلوکوز کو کم کرنے، سوزش کو کم کرنے، خون میں کولیسٹرول کو کم کرنے، اور دائمی صحت کے مسائل جیسے ذیابیطس، کینسر ،دل کی بیماری اور موٹاپے کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ کہنا ہے لاہور سے تعلق رکھنے والی ماہر غذائیت جویریہ محمود قریشی کا ۔ اُنھوںنے بتا یا کہ’’دالیں ہڈیوں کی صحت کو فروغ دیتی ہیں۔ان میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس میں حل پذیر اور ناقابل حل دونوں ریشے ہوتے ہیں۔
حل پذیر فائبر خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے اور خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے اور ناقابل حل ریشہ پاخانہ کی مقدار اور نقل و حمل میں اضافہ کرتاہے اور آنتوں میں موجود زہریلے مادوں کوجسم سے نکالنے میں معاون ہوتا ہے۔ دالیں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح کو مستحکم کرنے میں مدد کرتی ہیں جس سے دالیں وزن کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک مثالی غذا بنتی ہیں۔دالوں میں سوڈیم بھی کم ہوتا ہے۔
سوڈیم کلورائڈ یا نمک ہائی بلڈ پریشر کا باعث ہوتا ہے اور سوڈیم کی کم سطح والی غذائیں جیسے دالیں کھا کر اس سے بچا جا سکتا ہے۔دالوں میں پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دل کی صحت کو سہارا دیتی ہے اور ہاضمہ اور پٹھوں کے افعال کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔دالیں بائیو ایکٹیو مرکبات جیسے فائٹو کیمیکلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جن میں کینسر کے خلاف خصوصیات ہو سکتی ہیں۔
ماہر غذائیت جویریہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’’غذائیت کی کمی کئی قسم کی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں سے ایک ہے اور بعض صورتوں میں موت کا باعث بنتی ہے۔ غذائیت کی کمی بہت کم، بہت زیادہ کھانے یا غیر متوازن غذا کھانے کا نتیجہ ہے جس میں صحت مند رہنے کے لیے غذائی اجزاء کی صحیح مقدار اور معیار موجود نہیں ہوتا۔ دالیں غذائیت سے بھرپور خوراک ہیں۔ یہ پودوںپر مبنی پروٹین اور مائیکرو نیوٹرینٹس کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔
صحت مند غذا کے حصے کے طور پر دالیں کھانے سے غذائیت کی کمی کے متعدد پہلوؤں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔جس میں غذائیت اور مائیکرو نیوٹرینٹ کی کمی سے لے کر زیادہ وزن اور موٹاپا شامل ہیں۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کے مطابق متوازن غذا کے لیے ضروری ہے کہ ہماری خوراک میں روزانہ80 گرام دال شامل ہو‘‘۔جویریہ قریشی کہتی ہیں کہ ’’دالیںپروٹین، غذائی ریشہ، وٹامنز، معدنیات، فائٹو کیمیکلز اورکاربوہائیڈریٹ فراہم کرتی ہیں۔
دالیں خاص طور پر فولیٹ، آئرن، کیلشیم، میگنیشیم، زنک اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہیں۔ آئرن پورے جسم میں آکسیجن پہنچانے میں مدد کرتا ہے جو توانائی کی پیداوار اور میٹابولزم کو بڑھاتا ہے۔ دالیں آئرن کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔ آئرن کی کمی کو غذائی قلت کی سب سے زیادہ عام شکلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ خون کی کمی کی سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔
دالوں میں آئرن کی زیادہ مقدار انہیں خواتین اور بچوں میں آئرن کی کمی کی وجہ سے ہونے والی خون کی کمی کو روکنے کے لیے ایک طاقتور غذا بناتی ہے۔ خاص طور پر اسے جب وٹامن سی پر مشتمل کھانے کے ساتھ ملا کراستعمال کیا جائے تو اس سے فولاد کو جذب کرنے کی صلاحیت کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔ دالوں میں کیلوریز کم ہوتی ہیں (260-360 kcal/100 g خشک دالیں) یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں اور سیر پن کا احساس دیتی ہیں۔
100 گرام خشک دال میں 25 گرام پروٹین ہوتی ہے ۔کھانا پکانے کے دوران دالیں کافی مقدار میں پانی جذب کرتی ہیں اس طرح ان کی پروٹین کی مقدار تقریباً 8 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجودآپ پکی ہوئی دالوں کی پروٹین کوالٹی کو اپنے کھانے میں اسے اناج کے ساتھ ملا کر بڑھا سکتے ہیں، مثال کے طور پرچاول کے ساتھ دال۔دالیں دیکھنے میں توچھوٹی سی ہوتی ہیں لیکن پروٹین سے بھری ہوئی ہیں یہ نعمت گندم سے دگنا اور چاول سے تین گنا زیادہ پروٹین کی حامل ہیں۔
جانوروں سے حاصل پروٹین کے ذرائع گوشت یا دودھ کے برعکس دالوں میں جانوروں کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ہارمونز یا اینٹی بائیوٹکس کی باقیات نہیں ہوتی ہیں۔دالیں قدرتی طور پر گلوٹین(gluten) سے پاک ہوتی ہیں‘‘۔
٭ دالیں اور غربت
دالیں پروٹین اور غذائی اجزاء کا بھرپور ذریعہ ہیں اور خاص طور پر اسے علاقوں میں جہاں روزمرہ کی اشیاء اور گوشت آسانی سے اور اقتصادی طور پر قابل رسائی نہیںہو وہاں یہ پروٹین کا ایک بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
بہت سے ممالک میں گوشت، ڈیری اور مچھلی مہنگی ہے اور اس طرح بہت سے لوگوںخاص طور پر غریبوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس لیے یہ آبادی اپنی پروٹین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پودوں کی خوراک پر انحصار کرتی ہے جس میں سے دال سب سے اہم پیداوار ہے۔ دال کی پیداوار کم زرعی مداخل کی متقاضی ہونے کی وجہ سے چھوٹے کسان کوکسی معاشی دبائو میں مبتلا نہیں کرتی اور جانوروں سے حاصل شدہ پروٹین کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی ہے۔انھیں سخت موسمی حالات میں بھی کاشت کیا جاسکتا ہے۔
چھوٹا کسان نہ صرف دال کو نقد آور فصل کے طور پر فروخت کرسکتا ہے بلکہ اپنی غذائیت کی ضروریات کی تکمیل کے لیے استعمال بھی کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دال کی فصل کی باقیات کو اپنے مویشیوں کی چارے کی ضروریات کے لیے بھی استعمال میں لاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں دالوں کو بغیر غذائیت کھوئے طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے ۔ یعنی ان کو ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی یوں اس سے غریب افراد کے خوراک کے تنوع کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کیونکہ غربت غذائی عدم توازن کا باعث بنتی ہے جس سے کام کی صلاحیت اور انسانی سرمائے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
نتیجتاً غربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔دالیں پروٹین اور معدنیات کا سستا ذریعہ ہیں جو غریب افراد کی غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ان کی کام کی صلاحیتوں کو متاثر ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ اُنھیںبیماری سے محفوظ رکھتی ہیں یوں یہ اپنے غریب استعمال کنندہ کو مزید غربت کا شکار ہونے سے اور بھوک سے بچاتی ہیں۔
٭ دالیں اور غذائی تحفظ(فوڈسیکورٹی
عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق’’ فوڈ سکیورٹی ایک ایسی صورتحال ہے جس میں فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے لئے لوگوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے واسطے کافی، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تمام افراد کے لئے ہر وقت جسمانی اور معاشی طور پر پہنچ میں ہونی چاہیئے۔‘‘ یہ تعریف فوڈ سکیورٹی کے چار پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ دستیابی، استحکام، محفوظ استعمال اور رسائی۔
فوڈ سکیورٹی کے ان چار پہلوؤں کو دالیں پورا کرتی نظر آتی ہیں۔ یعنی دالوں کو مہینوں تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے بغیر ان کی اعلیٰ غذائیت کو کھوئے جس سے فصلوں کے درمیانی عرصہ خوراک کی پائیدار دستیابی ممکن رہتی ہے۔ دالیں خشک آب و ہوا میں کاشت کی جا سکتی ہیں جہاںبارش محدود اور اکثر بے ترتیب ہوتی ہے۔ یہ وہ زمینیں ہیں جہاں دوسری فصلیں ناکام ہو سکتی ہیں یا کم پیداوار دے سکتی ہیں۔ مزید برآں خشک سالی کے خلاف مزاحم اور گہری جڑوں والی نسلیں نہ صرف معمولی ماحول میں رہنے والے کاشتکاروں کے غذائی تحفظ اور غذائیت کو بہتر بنانے کو یقینی بناتی ہیںبلکہ ساتھی فصلوں کو زمینی پانی بھی فراہم کر سکتی ہیں۔
خشک ماحول میں رہنے والے افرادجہاں غذائی تحفظ ایک بہت بڑے چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے وہاںمقامی طور پر موافق دالوں کی کاشت سے کسان اپنے پیداواری نظام کو پائیدار طریقے استحکام دے سکتے ہیں۔دالیں جلد خراب نہیں ہوتیں اس لیے ان کا استعمال طویل عرصہ تک محفوظ رہتا ہے۔ بہت سے ممالک میں گوشت، دودھ اور مچھلی پروٹین کا ایک مہنگا ذریعہ ہیں اور اس طرح بہت سے لوگوں کے لیے اقتصادی طور پر ناقابل رسائی ہے۔
اس صورتحال میں دالوں کا استعمال پروٹین کے حصول کا ایک بہترین اور سستا قدرتی متبادل ہے اور معاشرے کی اکثریت کی رسائی میں ہے۔ خوراک کا ضیاع دنیا بھر میں فوڈ سیکورٹی کو درپیش خطرات میں سے ایک ہے ۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں انسانی استعمال کے لیے پیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی حصہ ضیاء ہوجاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ ضیاع خوراک کی تیاری اور ترسیل کے دوران ہوتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں کھپت کے مرحلے میں یہ ضیاع واقع ہوتا ہے۔ چونکہ دالوں کی(Shelf life) انتہائے تاریخ استعمال(Expiry date) مستحکم ہوتی ہیں اس لیے جلدخراب نا ہونے کی وجہ سے اس کا کھپت کے مرحلے پر کھانے کے ضیاع کا تناسب بہت کم ہوتا ہے۔
اس طرح گھریلو خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ ایک بہت اچھا انتخاب ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر میںبھوک کے خاتمے میں دالیں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیںاورقدرتی اور انسان کی پیدا کردہ آفات کے دوران اور مہاجرین کے کیمپس میں جب خوراک کو ایک عرصہ تک محفوظ رکھنا ممکن نا ہواور لوگ مہنگی خوراک خریدنے کی سکت نا رکھتے ہوں توایسے وقت میںدالیں ڈیزاسٹرز اور ایمرجنسی کی صورتحال کے شکار متاثرین کے غذائی تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہیں۔
دالیں اورموسمیاتی تبدیلی( کلائیمیٹ چینج)
آب و ہوا کی تبدیلی ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ کے طور پر ابھری ہے ۔خوراک کی پیداوار، خوراک کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ناکافی،بے وقت وبے ترتیب بارش، درجہ حرارت میں اچانک اضافہ اورخشک سالی سے دیگر فصلوں کے ساتھ ساتھ دالوں کی پیداوار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ مون سون میں تبدیلی خریف کی فصلوں کی بوائی میں تاخیر کا سبب بنتی ہے جس کے نتیجے میں ربیع کے موسم میں دالوں کی فصلوں کی بوائی میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔
تاخیر سے بوئی جانے والی فصلوں کو اس کی نشوونما کے دوران شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس کی ممکنہ پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔دوسری طرف فروری،مارچ کے مہینے کے دوران ان کی تولیدی نشوونما کے دورانیے میں بے وقت بارش سے بھی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بدلتی ہوئی آب و ہوا اکثر کیڑوں کی بیماریوں کے انفیکشن، گھاس پھوس کے پیدا ہونے میں سہولت فراہم کرتی ہے جو فصل کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی کا سبب بن سکتے ہے۔
دالیں جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا شکار ہیں وہیں یہ اُن محرکات کو کم کرنے کا بھی باعث ہیں جن کی وجہ سے کلائیمیٹ چینج رونما ہو رہی ہے۔دالیں چونکہ پھلی دار اجناس ہیں ان کی جڑوں میں بیکٹریا ہوتے ہیں جو نوڈیولز بناتے ہیں اور ہوا سے نائٹروجن اکٹھی کرکے پودوں کو مہیا کرتے ہیں۔ جس سے مٹی میں مصنوعی طور پر نائٹروجن داخل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعی کھادوں پر انحصار کو کم سے کم کرکے ان کی تیاری سے خارج ہونے والی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میںاپنا کردار ادا کرکے موسمیاتی تبدیلیوں کو محدود کرنے میں بہت بڑا حصہ ڈالتی ہیں۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق عالمی سطح پر تقریباً 190 ملین ہیکٹر پر کاشتہ دالیں 5 سے 7 ملین ٹن نائٹروجن کو مٹی کا حصہ بناتی ہیں۔مقامی دالوں کا استعمال کرتے ہوئے انٹرکراپنگ سسٹم کے ذریعے مٹی میں کاربن کی ضبطی کی صلاحیت کو مونو کراپ سسٹم کے مقابلے میں بہتر کیا جاسکتا ہے۔ دالوں کی پیداوارپروٹین کے دیگر ذرائع( جو زیادہ تر جانوروںپر مشتمل ہیں ) کی پیداوارکے مقابلے میں کم کاربن کے فٹ پرنٹس کا باعث بنتی ہیں ۔
مثلاً ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کلو دالیں(پھلی) کی پیداوار سے صرف 0.5 کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کااخراج ہوتا ہے۔ جب کہ 1 کلو گائے کے گوشت کی تیاری سے9.5 کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔مزید برآں جب دالوں کومویشیوں کی خوراک میں شامل کیا جاتا ہے تو اِن کا اعلیٰ پروٹین پر مبنی مواد جانوروں میںfood conversion کے تناسب کو بڑھانے میں معاون ہوتا ہے اور چگالی کر نے والے جانوروں (ruminants)سے میتھین کے اخراج کو کم کرتا ہے ۔اس طرح دالیںگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو بھی کم کرتی ہیں۔
دالوں کی انواع میں وسیع جینیاتی تنوع ہوتا ہے جسکی بدولت آب و ہوا کی مناسبت سے اقسام کا انتخاب کرکے اِسے کاشت کیا جاسکتا ہے خاص کر کلائیمیٹ چینج سے متاثرہ علاقوں میں ماحول سے مطابقت رکھنے والی قسم کو کاشت کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ دالیں آب و ہوا کے لحاظ سے سمارٹ ہیں وہ بیک وقت موسمیاتی تبدیلیوں کو اپناتی ہیں اور اس کے اثرات کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔مثلاً خشک سالی کے خلاف مزاحمت کرنے والی دالیں خشک آب و ہوا میں کاشت کی جا سکتی ہیں کیونکہ پروٹین کے دیگر ذرائع کے مقابلے دالوں کی پانی کی ضروریات بھی قدرے کم ہے۔
اس حوالے سے تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایک کلو مسور کی دال(Lentils) کی پیداوار میں1250 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ ایک کلو مرغ کے گوشت(Mutton) کی تیاری میں 4325 لیٹر، چھوٹے گوشت(Mutton) کی تیاری میں 5520 لیٹر اور بڑے گوشت(Beef) کی تیاری میں 13000لیٹر پانی صرف ہوتا ہے۔
دالیں اور زرعی فوائد
دالیں چونکہ پھلی دار اجناس ہیں ان کی جڑیںگلنے سڑنے کے بعد زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں۔ لہذا دالوں کی کاشت سے زمین کی زرخیزی کو بحال رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ کماد کی بہاریہ کاشت اور مونڈھی فصل میں مخلوط طور پر کاشت کی جاسکتی ہیں۔ کماد ،چاول اور کپاس والے علاقوں میں جہاں گندم یا ربیع کی فصلات کاشت نہ ہوسکتی ہوں اس رقبے پر دالوں کی بہاریہ کاشت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دالیں مٹی میں اپنی نائٹروجن کو ٹھیک کر سکتی ہیں اس لیے انہیں کم کھاد کی ضرورت ہوتی ہے نامیاتی اور مصنوعی دونوں۔دالوں کی نائٹروجن ٹھیک کرنے والی خصوصیات مٹی کی زرخیزی کو بہتر بنا تی ہے جو کھیتوں کی پیداوار کو بہتر اور بڑھاتی ہے۔مزید برآںدالیں ساتھی فصلوں کو زمینی پانی فراہم کر سکتی ہیں جب انٹرکراپنگ سسٹم میں کاشت کیا جائے۔اس سسٹم میں دالوں کو شامل کرنے سے مٹی کے کٹاؤ اور تنزلی کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ مقامی دالوں کا استعمال کرتے ہوئے انٹرکراپنگ سسٹم کے ذریعے مٹی میں کاربن کی ضبطی کی صلاحیت کو مونو کراپ سسٹم کے مقابلے میں بہتر کیا جاسکتا ہے۔
دالوں کو دیگر فصلوں کے مقابلے میں کم زرعی مداخل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرچنے کی فصل کو ایک سے دو آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ گندم کو چار سے پانچ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح چنے کو 9 کلو گرام نائٹروجن اور 23 کلوگرام فاسفورس فی ایکڑ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ گندم کی نائٹروجن کی ضرورت 54 کلوگرام، فاسفورس کی ضرورت 34 کلو اور پوٹاشیم کی ضرورت 25 کلوگرام ہے۔ مزید برآںچنے کی جڑوں پر نوڈولز بنتے ہیں جو زمین میں فضا میں موجود نائٹروجن کو حاصل کرکے زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔

دالیں عالمی منظر نامہ
دالوں کی کاشت ہزاروں سالہ پرانی تاریخ کی حامل ہے یہ صدیوں سے لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کررہی ہیں۔دالیں11 ہزار سال قبل ابتدائی اناج کے ساتھ کاشت کی جانے والی اوائل فصلوں میں شامل تھیں ۔ دالیں دنیا کے تقریباً ہر کونے میں اُگائی جاتی ہیںایف اے او کے اعدادوشمار کے مطابق2020 میں دنیا کے 169 ممالک میں دالوں کی کاشت کی گئی۔ جس سے 94621001ٹن دالیں حاصل ہوئیں۔مذکورہ سال دنیا میں دالوں کی پیداوار کے بڑے تین ممالک میں انڈیا اول، کینڈا دوم اور چین تیسرے نمبر پر رہے۔
عالمی پیداوار کا 24.7 فیصد بھارت میں پیدا ہوا، 8.6 فیصد کینڈا اور 5.1 فیصد چین میں پیدا ہوا۔بھارت دنیا میں دالوں کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ، صارف اور درآمد کنندہ ہے۔دنیا میں دالوں کی کھپت کا 27 فیصد بھارت میں استعمال ہوتا ہے اور دنیا میں دالوں کی درآمدات کا 14 فیصد بھارت کرتا ہے۔جبکہ کینڈا دنیا بھر میں دالوں کا سب سے بڑا بر آمد کنندہ ہے 2018 میں کینڈا نے 4359946 میٹرک ٹن دالیں برآمد کیں جن کی مالیت 2000 ملین ڈالر تھی۔دنیا میں دالوں کے استعمال کی اوسط 8 کلوگرام فی کس سالانہ ہے۔
دالیں صدیوں سے انسانی خوراک کا اگرچہ ایک لازمی حصہ رہی ہیں اس کے باوجود ان کی غذائی قدر کو عام طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور دالوںکی پیداوار کی اوسط سطح دنیا بھر میںکم رہتی ہے۔پچھلے 50 سالوں میں مکئی، گندم، چاول اور سویابین کی پیداوار میںجتنا اضافہ ہوا دالوں نے اس کے مقابلے میں بہت معمولی اضافہ حاصل کیا۔ 1961 سے 2012 کے درمیان سبز انقلاب کی پیشرفت نے کاشتکاری میں ہونے والی جدت کی بدولت بہت سی بنیادی غذائی اشیاء کی پیداوار میںبڑے پیمانے پر اضافہ حاصل کیا۔
اس مدت کے دوران مکئی، گندم، چاول اور سویا بین کی مجموعی پیداوار میں 200 فیصدسے 800 فیصد کے درمیان اضافہ دیکھا گیا جب کہ اسی مدت کے دوران دالوں کی پیداوار میں صرف 59 فیصد اضافہ ہوا۔اگرچہ سبز انقلاب کو دنیا بھر میں اربوں اضافی لوگوں کو کھانا کھلانے کا سہرا دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سی دیگر فصلوں کی بہتر اقسام اور کاشت کے طریقے تیار کرنے کے لیے مساوی کوششیں نہیں کی گئیں ۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق آج صرف چاول، مکئی اور گندم عالمی غذائی توانائی کی 60 فیصد سے زیادہ مقدار فراہم کرتے ہیں۔ لیکن دنیا میں 50000 قسم کے خوردنی پودے دستیاب ہیں۔
دالوں کے کل استعمال کا 60 فیصد سے زیادہ اگرچہ انسانی استعمال میں آتا ہے۔ لیکن انسانی خوراک میں دالوں کی اہمیت خطے سے دوسرے خطے اور ملک کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔کم آمدنی والے ممالک میں عموماًزیادہ کھپت کا عمومی رجحان موجود ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں دالوں کے کل استعمال میں خوراک کے لیے استعمال کا حصہ 75 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 25 فیصد ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق دالوں کی کھپت میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں سست لیکن مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے برعکس دودھ کی مصنوعات اور گوشت کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس میں اضافہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جبکہ دالوں کی فی کس کھپت میں کسی بڑی تبدیلی کی پیشین گوئی نہیں کی گئی ہے اس وقت دنیا میں دالوںکا اوسط استعمال تقریباً 21 گرام فی کس یومیہ ہے۔
دالیں اور پاکستانی منظر نامہ
عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سال 2020 کے دوران دالوں کی 747004ٹن پیداورا حاصل ہوئی جو عالمی پیداورا کاصفر عشاریہ سات نو فیصد (0.79%)ہے۔
پاکستان مذکورہ سال دنیا بھر میں دالوں کی پیداوار کے حوالے سے 21 ویں نمبر پر رہا۔مذکورہ سال دنیا میں چنے کی تیسری بڑی پیداوار پاکستان میں ہوئی جو 497608ٹن تھی۔پاکستان ایگری کلچرریسرچ کونسل کے مطابق دالیں ملک کے کاشت شدہ رقبہ کے صرف 5 فیصد حصہ پر اُگائی جاتی ہیں۔ پاکستان نے مالی سال2020-21 کے دوران ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 1266287 میٹرک ٹن دالیں درآمد
کیں جن کی مالیت 70 کروڑ 97 لاکھ 31 ہزارڈالر تھی۔ دالوں کی یہ درآمد گزشتہ مالی سال یعنی2019-20 کے مقابلے میں مقدار کے حوالے سے 4.5 فیصد اور مالیت کے حوالے سے 15.4 فیصد زائد تھی۔ 2020 کے دوران چنے کی دوسری سب سے بڑی درآمد پاکستان نے ہی کی۔اس کے علاوہPeas, dry کی بھی تیسری بڑی درآمد وطنِ عزیز نے کی۔Beans, dry کی چوتھی بڑی درآمد ہم نے کی۔مسور (Lentils)کی پانچویں بڑی مقدار پاکستان میں مانگوائی گئی۔جبکہ ملک میں دالوںکا استعمال 7 کلوگرام فی کس سالانہ ہے۔پاکستان میں دالوں کے زیر کاشتہ فصلوں کا کل رقبہ 2018-19 میں 11 لاکھ67 ہزار ہیکٹر رہا۔ ان دالوں میں چنا سردیوں کی اہم پھلی ہے اور مونگ موسم گرما کی اہم پھلیاں ہیں۔
مذکورہ مالی سال چنے دالوں کے کاشتہ رقبہ کے81 فیصد حصہ پر کاشت ہوئے اور یہ دالوں کی کل پیداوارکے65 فیصد پر مشتمل رہے۔ مونگ دالوں کے کل رقبہ کے 14 فیصد پر کاشت ہوئی اوراُس نے د الوں کی کل پیداوار میں 17 فیصد حصہ ڈالا۔مسور اور ماش کی دال ہر ایک کو دالوں کے کل رقبہ کے 1.2فیصد پر کاشت کیاگیا اور ان میں سے ہر ایک دالوں کی کل پیداوار میں1 فیصد کا حصہ ڈالا۔
بدقسمتی سے ملک کے زرعی شعبے میں دالوں کی کاشت کس قدر نظر انداز شدہ شعبہ ہے اس کا اندازہ وفاقی ادارہ شماریات کی دستایز 50 ائیرز آف پاکستان والیم ون (1947-1997)اور پاکستان کی وفاقی وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کی دستاویز ’’ ایگریکلچرل اسٹیٹسٹکس آف پاکستان2018-19 ‘‘ سے حاصل اعدادوشمار کے تجزیہ سے باخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے 71 سالوں میں ملک میںمکئی، گندم، چاول، کپاس اورگنا کی پیداوار میں جتنا اضافہ ہوا دالوں نے اس کا عشر عشیر بھی اضافہ حاصل نہیں کیا۔
1947-48 سے 2018-19 کے دوران زرعی شعبے میں ہونے والی جدت اور ترجیحات کی بدولت بہت سی بنیادی اجناس کی پیداوار میںبڑے پیمانے پر اضافہ حاصل ہوا۔ اس مدت کے دوران مکئی، گندم، چاول، کپاس اورگنا کی مجموعی پیداوار میں 941فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ ان فصلوں کے زیر کاشت رقبہ میں مجموعی طور پر 151 فیصد اضافہ ہوا ۔ جب کہ اسی مدت کے دوران دالوں کی مجموعی پیداوار میں اضافہ کی بجائے4.5 فیصدکمی واقع ہوئی۔یعنی جتنی دالیں ہم نے1947-48 میں پیدا کیں2018-19 میں ہم اُس سے بھی کم دالیںپیدا کرسکے۔ اس طرح مذکورہ عرصہ کے دوران دالوں کے زیر کاشتہ مجموعی رقبہ میںبھی 9.2 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اب سوال یہ ہے کہ دوسری فصلوں کی طرح دالوں کی پیداوار میںخاطر خواہ اضافہ حاصل کیوں نا کیا جا سکا؟اس بارے میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت (توسیع)پنجاب ڈاکٹرمحمد انجم علی بٹر نے بتایا کہ ’’ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ملک میں دالوں کے معیاری بیج کی کمی ہے کیونکہ نجی شعبہ دالوں کے بیج تیار کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا ۔ دوسرا دال کی کاشت اور کٹائی کے لیے مشینی ذرائع کی بھی کمی ہے اور زیادہ تر کام ہاتھوں سے انجام پاتا ہے جس کی وجہ سے لیبر کاسٹ بڑھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ دال کی کاشت میں درکار خصوصی مداخل پر سبسڈی میں کمی اور فصل کی امدادی قیمت کہ نا ہونے کی وجہ سے کسانوں کی توجہ دالوں کی کاشت پر دیگر فصلوں کے مقابلے میںکم ہے ۔ہمارے یہاں دالیںعموماً ایسے علاقوں میں کاشت کی جاتی ہیں جنہیں زرعی حوالے سے کمزور علاقے کہا جاتا ہے۔یہ علاقے عموماً بارانی ہوتے ہیں جہاں بارشوں کے نظام پرموسمیاتی تبدیلیاں اثر انداز ہورہی ہیں۔
زمین زیادہ تر ریتیلی ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کی افزائش اور پانی کی دستیابی میں کمی دالوں کی پیداوار کو غیر یقینی صورتحال کی حامل بنادیتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ایسی دالیں بھی درآمد کی جارہیں جو کم قیمت میں آتی ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا کہ’’ پنجاب میں ہم زمیندار کی حالت بہتر بنانے کے لیے ان کے وسائل میں اضافہ کر رہیں تووہ دالوں کی کاشت کی طرف کیوں آئیں۔
ملک کے ایسے علاقوں میں جہاں اراضی موجود ہے اور بیکار پڑی ہے وہاں دالوں کی کاشت کی جائے تاکہ پورے ملک میں دالوں کی فصل بڑھے‘‘۔ دالوں کی پیداوار میں اضافہ کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت (توسیع)پنجاب ڈاکٹرمحمد انجم علی بٹر کاکہنا ہے کہ ’’وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے دالوں کی کاشت میں اضافہ کے لیے کئی ایک اقدامات اور منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔
اسی تناظر میں پنجاب میں دالوں کی کاشت کے فروغ کے لییــ’’دالوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے تحقیق کو فروغ دینے‘‘ کے نام سے ایک پانچ سالہ منصوبہ پر کام جاری ہے جس کے تحت پورے پنجاب میں دالوں کے سرٹیفائیڈ بیج اور مشنری/ سامان فراہم کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس منصوبہ کے تحت میانوالی، بھکر،لیہ اور خوشاب(نورپور تھل تحصیل صرف)میں پورٹیبل سولر ایریگیشن سسٹم بھی فراہم کیے جارہے ہیں‘‘۔
اس پراجیکٹ کے تحت بیجوں کی تبدیلی، رقبہ میں اضافہ، مشینری کی تقسیم اور دالوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بہتر پیداواری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے مونگ، ماش، چنے، مسورکے 64208 کاشتکاروں کا انتخاب کیا جائے گا ۔اِن دالوں کی اعلیٰ اور نئی منظور شدہ اقسام کے بنیادی اور تصدیق شدہ بیج کی 63608 بوریوں کی پیداوار اور 63608 ایکڑ پر اِن کی کاشت کے لیے کاشتکاروں کو 50 فیصد لاگت کے اشتراک کی بنیاد پر تصدیق شدہ بیج کی فراہمی پراجیکٹ کا حصہ ہے۔
اس کے علاوہ دالوں کے کاشتکاروں میں 50فیصد لاگت کے اشتراک کی بنیاد پر مشینری کی تقسیم یعنی200 سیڈ ڈرل 100 ملٹی کراپ تھریشر، جڑی بوٹیوں کی صفائی کے لیے 500 چھوٹی مشینیں(Small Weeders) ،300 مکینیکل ویڈراور20 پورٹیبل سولر ایریگیشن سسٹم فراہم کیے جائیں گے۔جبکہ دالوں کی بہتر اقسام اور کاشت کے طریقوں پر مبنی72 نمائشی پلاٹ بھی تیار کیے جائیں گے‘‘۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ’’ اس پراجیکٹ کے تحت اب تک چنے کی کاشت کے غالب علاقوں میں 14221 ایکڑ چنے کا بیج اور پنجاب کے مونگ اگانے والے سرفہرست دس اضلاع میں 7548 ایکڑ مونگ کا بیج 50 فیصد لاگت کے اشتراک کی بنیاد پر تقسیم کیا جا چکا ہے۔پنجاب میں اڈاپٹیو ریسرچ فارمز پر بیج کی پیداوار کے مقصد کے لیے 164.5 ایکڑ پرچنے کا بیج بویا گیا جس سے 2020-21 میں سے 642.24 من پیداوار فی ایکڑ حاصل ہوئی ۔ مزید برآں293.5 ایکڑ پر مونگ کا بیج کاشت کیا گیا اور اس کی پیداوار 723.72 من فی ایکڑ رہی ‘‘۔
اُنہوں نے بتاتے ہوئے کہا کہ ’’سال2020-21 کے دوران دالوں کی فصل میں میکانائزیشن کو فروغ دینے کے لیے پورٹ ایبل سولر اریگیشن سسٹم کے 10 یونٹ، 18 سیڈ ڈرلز، 17 ملٹی کراپ تھریشر، 6 مکینیکل ویڈر اور 55 چھوٹے ویڈرز تقسیم کیے جاچکے ہیں۔جبکہ رواں مالی سال کے دوران 182 سیڈ ڈرلز، 83 ملٹی کراپ تھریشر، 445 سمال ویڈرز اور 294 مکینیکل ویڈرز کی تقسیم کا عمل شروع کیا گیا ہے اور پورٹ ایبل سولر اریگیشن سسٹم کے 10 یونٹ بھی رواں مالی سال میں تقسیم کیے جائیں گے‘‘۔
ملک میں دالوں کے لیے کاشت کی گئی زمین کا رقبہ اور دالوں کی پیداوار گزشتہ کافی سالوں سے جمود کا شکار ہے۔جبکہ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے کھپت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ یوں پیداوار اور کھپت کے درمیان کمی کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی درآمدات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے پر تشویش کے باعث 2007 میں پاکستانی حکومت نے گھریلو استعمال کے لیے ملکی پیداوار کو محفوظ بنانے کے ارادے سے دالوں کی برآمدات پر 35 فیصد ٹیکس لگادیا۔
چونکہ ہم اپنی دالوں کی کھپت کے ایک بڑے حصے کو درآمدی دالوں کے ذریعے پورا کرتے ہیں توجب دالوں کی بین الاقوامی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور دالیں مہنگی درآمد ہوتی ہیںتوپاکستان میں دالوں کی قیمتیں غریب صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن جاتی ہیں۔ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں غریب شہری شدید موسمی حالات، قدرتی آفات اور کئی ایک انسانی عوامل کی وجہ سے خوراک کی تواترکے ساتھ دستیابی اور استحکام کے حوالے سے اکثر غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔
جسمانی طور پر خوراک تک رسائی کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر خوراک کا دسترس میں ہونا بھی فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہے۔ اس حوالے سے شہری مکین اور شہروں کے مضافاتی علاقوں کے باسی دیہی افراد کی نسبت زیادہ غیرسود مند صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں اکثر اپنی خوراک خریدنا پڑتی ہے جس کی وجہ سے انھیں فوڈ مارکیٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ قیمتوں میں اضافہ کے خطرے کا زیادہ شکار رہتے ہیں۔ ایسے میں خوراک کی قیمتیں اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ خوراک کیسی اور کتنی حاصل اور استعمال کی جائے۔
خوراک کی قیمتوں میں اضافہ سے یا تو صارف اپنی خوراک کی مقدارکم کر دیتے ہیں اور کم خوراکی سے اُن کی صحت کو خطرات لاحق رہتے ہیں یا پھر وہ غیر معیاری خوراک کا استعمال کرتے ہیں جو اُن کی صحت کے لئے غیر محفوظ ہوتی ہے۔
ایسے میں پاکستان جس کے52 فیصد شہری گھرانے جو نیشنل نیوٹریشن سروے2011 کے مطابق خوراک کے حوالے سے پہلے ہی غیر محفوظ ہیں۔ان کے لئے ملک میں مہنگائی کی موجودہ لہر اور خاص کر شہری علاقوں میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی32 فیصد آبادی (سوشل پالیسی اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر کی دستاویز پاورٹی اینڈ ویلنربیلٹی اسٹیمیٹس پاکستان2016) جو اپنی آمدن کا پہلے ہی 50 سے 80 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں اُن کے لئے فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے دالوں تک رسائی اور ان کا کافی مقدار میں استعمال مزید بے معنی ہو گیا ہے۔
اس صورتحال سے بچنے کے لیے ہمیں دالوں کی مقامی پیداوار میں اضافہ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کو ششوں کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ ہم دالوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرتے ہوئے اپنی فوڈ سیکورٹی کو یقینی بناسکیں۔
https://www.express.pk/story/2280739/9812/
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1109019107&Issue=NP_PEW&Date=20220210
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1109019099&Issue=NP_PEW&Date=20220210
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-02-10&edition=KCH&id=5951998_90994479
بھارت میں 3 سال میں 17 ہزار کسانوں کی خود کشیاں
Feb 08, 2022 | 19:32:PM
نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ صرف تین سال کے عرصے میں ملک بھر میں 17 ہزار کسانوں نے خود کشیاں کیں۔
بھارت کے راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) میں کسانوں کے حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا نے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سنہ 2018 سے 2020 کے دوران بھارت کے مختلف علاقوں میں 17 ہزار کسانوں نے خود کشیاں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) ملک بھر سے حادثاتی اموات اور خود کشیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ این آر سی بی کی جانب سے ہی کسانوں کی خود کشیوں کے اعد و شمار مرتب کیے گئے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/08-Feb-2022/1400724?fbclid=IwAR0xaR4wGj_YuJUgB4ErxIJ-wVBBbEMk4MPtpqca2V3y2cJ4tKkMzMKZQnE
حکومت نے ریلوے کی نجکاری کا عمل شروع کردیا
Feb 08, 2022 | 22:41:PM

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ریلوے کی نجکاری کا عمل شروع ہو گیا۔ پہلے مرحلے میں 10 ٹرینوں کی کمرشل مینجمنٹ آؤٹ سورس کر دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پہلے مرحلے میں 10 میل ایکسپریس و انٹر سٹی ٹرینوں کی 8 ارب 95 کروڑ 30 لاکھ روپے میں نیلامی کی گئی۔ بولی کی 10 فیصد رقم بطور پرفارمنس سکیورٹی ایک ماہ میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ شالیمار ایکسپریس 1 ارب 73 کروڑ 60 لاکھ میں کمرشل مینجمنٹ آؤٹ سورس کی گئی۔ سبک خرام ریل کار کی کمرشل مینجمنٹ 33 کروڑ میں نیلام ہوئی۔
https://dailypakistan.com.pk/08-Feb-2022/1400741?fbclid=IwAR2nP99MTKb7CEhmijjkhcXZIgeXGlK2KVafCAlIfmbli1THwqf0tEG6n84
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1109015816&Issue=NP_PEW&Date=20220209
وہ پاکستانی جنہیں قطر نے اپنے ہاں ملازمتیں دینے کی خوشخبری سنادی
Feb 07, 2022 | 16:48:PM

دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک) قطر نے ہنرمند پاکستانیوں کو اپنے ہاں ملازمتیں دینے کی خوشخبری سنا دی۔ ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق پاکستان میں قطر کے سفیر شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی نے یہ خوشخبری اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور تارکین وطن ایوب آفریدی سے ملاقات میں سنائی۔ انہوں نے کہا ہے کہ قطر پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے جا رہا ہے، جس کے تحت پاکستان سے ہنرمند افرادی قوت درآمد کی جائے گی۔
قطری سفیر نے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”قطر نے پاکستان سے ہنرمند لوگوں کو اپنے ہاں ملازمتیں دینے کے ساتھ ساتھ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ بھی 5سالہ معاہدے کر رکھے ہیں۔ باقی ممالک کے ساتھ قطر سہ ماہی معاہدے کرتا ہے۔“انہوں نے کہا کہ ”ہم وزارت برائے امور تارکین وطن کی طرف سے ایک جامع پیشکش کے منتظر ہیں اور پاکستانی حکومت کے ساتھ ہنرمند افرادی قوت کی درآمد کے معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔“
https://dailypakistan.com.pk/07-Feb-2022/1400198?fbclid=IwAR0NAnBHPYczN5geLlE-7hGpXBSbEjrZRWtMt1SE80vjpFYvXdbq21ZSa5I
کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کی کیا صورتحال رہی؟ جانیے
Feb 07, 2022 | 18:21:PM

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا ملا جلا رحجان رہا۔
مجموعی طور پر سٹاک مارکیٹ 100 انڈکس میں 68 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔آج جب کاروبار کا آغاز ہواتو 100 انڈکس 45ہزار909 کی سطح پر تھا۔آج 100 انڈکس کی بلند ترین سطح 46ہزار139 رہی تاہم اس کے بعد انڈکس میں کمی دیکھنے میں آئی جب کاروبار دن کا اختتام ہوا تو100 انڈکس 45ہزار841 کی سطح پر تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/07-Feb-2022/1400220?fbclid=IwAR2obr-ifRt5xSdh8_woqSeWUyG5yP_CBEVs1jHF0d3591GQs8OLRt-N0Yw
پنجاب حکومت نے نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریز کی لائسنس فیس میں کتنا اضافہ کر دیا ؟ بڑی خبر
Feb 07, 2022 | 13:08:PM

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریز کی لائسنس فیس میں اضافہ کر دیاہے ،حکیموں اور ہومیو پیتھک کلینکس کے لائسنس بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیاہے ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حکیم کلینک اور ہومیو پیتھک کلینک ،نرسنگ میٹرنٹی ہومز اور فیملی فزینشنز کلینک کی لائسنس فیس 5 ہزار سے دس ہزار ، ڈینٹل کلینک کی لائسنس فیس 20 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار ،پیتھالوجی لیب کی لائسنس فیس 10 ہزار سے 50 ہزار کر دی گئی ، کولیکشن سینٹرز والی لیبز کی لائسنس فیس 15 ہزار سے 50 ہزار،ایکسرے اور ایمیجنگ سینٹرز کی فیس بھی 10 ہزار سے 50 ہزار کاسمیٹک ، ہیر ٹرانسپلانٹ اور لائیو سیکشن کلینک کی فیس 25 ہزار سے 75 ہزارکردی گئی ہے ، جبکہ 300 سے زائد بستر والے نجی ہسپتالوں کے لائسنس کی فیس آٹھ لاکھ روپے ہو گئی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/07-Feb-2022/1400174?fbclid=IwAR3Z38VW6ZOujKBkqsQFwogbxOGbL96g3xi4YUb5Lnu04Nuy5xEt0FiDwWw
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ طے پانیوالے معاہدے کی تفصیلات جاری کردیں
Feb 07, 2022 | 11:43:AM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات جاری کردی ہیں، آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی سکیم کنٹرول کرے بجلی کی قیمتیں بھی مزید بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے، آئندہ مالی سال ایف بی آرکے لیے 1155 ارب روپےکے اضافی ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے، آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آرٹیکس ہدف 7255 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے،پیٹرولیم لیوی کی مد میں406 ارب روپےکی وصولیوں کی تجویز ہے اور براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 2711 ارب روپے وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہےکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پرعمل درآمد مکمل کرے، پاکستان نےمنی لانڈرنگ کے خلاف27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا ہے، پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے گئےگروپوں کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کرکے سزا دلوائے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ پاکستان اے پی جی کی طرف سے نشاندہی کے بعد مالیاتی نظام میں خامیاں دورکرے، آئندہ مالی سال کے لیے سود ادائیگیوں کی مد میں 3523 ارب روپے کا تخمینہ ہے، اخراجات کا تخیمنہ 12ہزار994 ارب روپے اور آمدن کا تخمینہ 10 ہزار272 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/07-Feb-2022/1400149?fbclid=IwAR1-j7RdSOW9gK9Wku0LtLOEpVESPPjDt6VpdoVK3wRYjD6okAaKRs6Q9Ec
گردشی قرض 2476 ارب روپیہ
’’ڈالر لائیں انعام پائیں ‘‘ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی انعامی سکیم متعارف
پیر 07 فروری 2022ء
اسلام آباد (آن لائن)’’ڈالر لائیں انعام پائیں‘‘ ،سٹیٹ بینک آف (باقی صفحہ4نمبر)پاکستان نے ایک نئی انعامی اسکیم متعارف کرائی ہے ، جس کے تحت ڈالر جمع کرانے پر انعام دیا جا ئیگا۔مرکزی بینک کی جانب سے اعلان کردہ اس نئی سکیم کے تحت منی چینجرز جتنے ڈالرز بینک میں جمع کرا ئینگے اتنے ہی روپے انعام حاصل کر پا ئینگے ۔اس سکیم کے تحت ایکسچینج کمپنیوں کو موصول ہونے والی 100 فیصد ترسیلات زَر انٹر بینک مارکیٹ میں شامل کرنی ہوں گی اور ہر شامل کردہ امریکی ڈالر کے عوض انہیں ایک روپیہ ملے گا۔اس سے قبل ایکسچینج کمپنیوں پر لازم تھا کہ وہ ترسیلات زر کا کم از کم 15 فیصد انٹر بینک مارکیٹ میں شامل کریں۔سکیم پر عمل درآمد کیلئے سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے آنے والی ترسیلات سے متعلق ضابطے میں ترمیم کی ہے ۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ چونکہ ایکسچینج کمپنیاں کافی مقدار میں ترسیلات زر وصول کرتی ہیں اس لیے اس سکیم سے انٹر بینک مارکیٹ میں زر مبادلہ کی سیالیت بہتر ہوگی۔مزید برآں فراہم کردہ ترغیب سے متوقع طور پر تمام ایکسچینج کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ مزید ترسیل کنندگان اور پاکستان میں ان کے وصول کنندگان سے رابطے کریں اور زیادہ سے زیادہ ترسیلات زر لانے کی کوشش کریں۔
https://www.roznama92news.com/%D8%A7%D9%84%D8%B1-%D9%84%D9%81-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C%DB%8C-%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%85-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81
خوردنی تیل منصوبہ
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2022/02/06022022/p1-lhr006.jpg
آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر قسط کی منظوری کے ساتھ ہی ڈومور کا مطالبہ کردیا
Feb 06, 2022 | 10:23:AM

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے پاکستان کے چھٹے اقتصادی جائزے اور ایک ارب ڈالر قسط کی منظوری کے ساتھ ہی ڈومور کا مطالبہ کردیا ہے، رپورٹ کے مطابق ایم ایف نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پرسنل انکم ٹیکس ترمیمی بل کے ذریعے ٹیکس کریڈٹ اور الاؤنسز میں کمی کی جائےڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 529 ارب، سیلز ٹیکس کی مد میں 518 ارب روپے اضافی وصولی کا پلان ہے، اسی طرح 50 ارب کی ایکسائز، 58 ارب کی اضافی کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کی جاری کردہ کنٹری رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبات میں ریونیو میں اضافہ، جاری اخراجات میں کمی، سخت مانیٹری پالیسی، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ، توانائی شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں میں بہتری شامل ہیں۔
کنٹری رپورٹ کے مطابق اگلے سال پیٹرولیم لیوی 50 ارب اضافے سے 406 ارب اکٹھا کرنے کا بھی منصوبہ ہے تاہم تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کو نئے ٹیکس لگانے، بجلی اور گیس ٹیرف بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نےآئی ایم ایف کو آئندہ بجٹ میں کھاد، زرعی ادویات اور ٹریکٹرز پر سبسڈی پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی ہےجبکہ انکم ٹیکس ریٹس اور سلیب کی تعداد کم کی جائے گی۔حکومت نے یہ وعدہ بھی کیا کہ نئی ٹیکس مراعات یا چھوٹ دینے سے مکمل اجتناب ہوگا۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے فیٹف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کرنے کو سراہا ہے تاہم باقی ایک نکتہ جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ فیٹف ایکشن پلان پر عمل درآمد میں تاخیر بیرونی فنڈنگ، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔رپورٹ میں آئی ایم ایف کے مطابق 24-2023 تک جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد ہو جائے گی جبکہ رواں سال معاشی ترقی 4 فیصد جبکہ اگلے سال ساڑھے چار فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/06-Feb-2022/1399725?fbclid=IwAR1hNmiCXOhBauV9wjYS9AijarCwGdvF2OOb8KPljbyzsjTKEzpK7z5TK2k
وزیراعظم عمران خان کی چینی سرمایہ کاروں سے ملاقات، کن منصوبوں پر بات چیت ہوئی؟ تفصیلات منظرعام پر
Feb 05, 2022 | 12:05:PM

بیجنگ (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی چینی سرمایہ کاروں سے ملاقات میں کراچی اور فیصل آباد میں پانی کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی،فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم آج چین کے صدر کی جانب سے سربراہان مملکت کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کریں گے، وزیراعظم عمران خان کی آج شام کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ازبکستان کے صدر اور چین کے وزیراعظم سے ملاقات ہوگی۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ چین میں سرمایہ کاروں کی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں کراچی اور فیصل آباد میں پانی کے منصوبوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی، کراچی میں کے فور منصوبہ، حب کینال جبکہ فیصل آباد میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے حوالے سے بات ہوئی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین کے سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی ٹیم پہلی مرتبہ شریک ہوئی، پاکستان کی ٹیم کا چین کے عوام کی جانب سے والہانہ خیرمقدم کیا گیا، پاک چین دوستی دونوں ملکوں کے عوام کی ایک دوسرے کے لئے محبت کے اظہار پر مبنی ہے۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی تھنک ٹینکس سے بھی ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے زور دیا کہ دنیا ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، امریکہ اور چین کے درمیان تنازعہ کو حل کرنے میں پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ون آن ون ملاقات ہوگی، جس میں پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے مزید گفتگو ہوگی، آج وزیراعظم سے پاکستان کے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوگا۔
https://dailypakistan.com.pk/05-Feb-2022/1399390?fbclid=IwAR1Ou_v_OGj7WKMvVZd1OmN0lrkswexwPKVkFuPBzCwn6byaJQ0_fqm3bY0
فیس بک نے کہا ہے کہ گزشتہ برس پہلی مرتبہ اس کے صارفین کی تعداد میں ہوش ربا کمی ہوئی ہے جو دس لاکھ صارفین یومیہ تک ہے جس کا اثر خود کمپنی کے شیئرز پر ہوا اور 200 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق فیس بک کی جانب سے کمپنی کا دائرہ کار وسیع کرکے میٹا رکھنے اور ہارڈویئر میں تحقیق کے باوجود سرمایہ کاروں نے بھی اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی ہے۔ اس کے علاوہ میٹا کمپنی کی دیگر ایپس واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا گراف بھی کچھ بہت اوپر نہیں گیا ہے۔
لیکن شمالی امریکہ میں فیس بک نے روزانہ 10 لاکھ صارفین کھوئے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں فیس بک اشتہارات کی مد میں غیرمعمولی رقم کمارہا تھا۔ 2021 کی تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں یہ رحجان بہت نمایاں رہا جو بتاتا ہے کہ نوجوان نسل کی فیس بک میں دلچسپی کم ہورہی ہے۔
لیکن میٹا کمپنی کے دیگر شعبوں سے مالی منافع کا سلسلہ جاری ہے اور اس نے گزشتہ سال 40 ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ لیکن سب سے بڑا دھچکا ورچول ریئلٹی ہارڈوئیر کو ہوا ہے جس میں وی آر ہیڈ سیٹ، وی آر سافٹ ویئر اور اس سے متعلق دیگر آلات شامل ہیں۔ اسطرح پورے ہارڈویئر ڈویژن کو دس ارب ڈالر کا مجموعی نقصان ہوا ہے۔
دوسری جانب ٹک ٹاک کی مقبولیت بڑھنے سے نوجوان نسل اس جانب راغب ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور یورپ میں فیس بک پر عدم اعتماد کے کئی مقدمات بھی چل رہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2280217/508/
پینشنرز کو بڑی خوشخبری مل گئی
Feb 03, 2022 | 18:36:PM

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے اپنے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔
پی آئی اے کے 62 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں پینشن میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے جس کا اطلاق یکم جنوری 2022 سے ہوگا۔ ریٹائرڈ ملازمین کو دسمبر 2021 کی پینشن کے حساب سے اضافی ادائیگیاں کی جائیں گی۔ اس سے قبل 14 دسمبر 2021 کو پی آئی اے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Feb-2022/1398612?fbclid=IwAR33kjdGoO_BeLgWvVZ38ohhpM10VCEZh7UB3TxDpByA2MoonC_FSxPoTjs
پاکستان میں مہنگائی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے :آئی ایم ایف
جمعه 04 فروری 2022ء
نیویارک(صباح نیوز)آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہواورکرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ رہا ہے ،پاکستان ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات اور جنرل سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی کی رفتار کو برقرار رکھے ، توانائی شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے ،گردشی قرضوں کے پلان سے پیداواری لاگت وصول ہوگی اور توانائی شعبے کی سبسڈیز کو بہتر کیا جاسکے گا۔آئی ایم ایف کی نائب ایم ڈی انٹونی سایہ نے پاکستان کا جائزہ لیتے ہوئے کہاپاکستان کے ساتھ آرٹیکل فور کے تحت مذاکرات اختتام پذیر ہوچکے ہیں اور ایگزیکٹو بورڈ نے ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے ، پاکستان کو 6 ارب ڈالر قرض میں سے 3 ارب ڈالر موصول ہوچکے ، کورونا کی پہلی لہر کے بعد معاشی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں ، حکومت کے حالیہ اقدامات معیشت اور قرضوں کے استحکام کیلئے مناسب ہیں ،معاشی اصلاحات سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ، رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی 4 فیصد رہنے کی توقع ہے ، مارکیٹ ایکسچینج ریٹ سے جاری کھاتوں کا خسارہ کم ہوگا، پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط اور حکومت کو معاشی اصلاحات میں عملدرآمد میں تاخیر کا سامنا ہے ۔آئی ایم ایف نے سٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا سٹیٹ بینک کو مہنگائی اور معاشی استحکام لانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے ، مانیٹری پالیسی کے ذریعے کیے گئے اقدامات ضروری ہیں،رواں سال مہنگائی کی شرح 10.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے جبکہ جاری کھاتوں کا خسارہ منفی 4 فیصد رہ سکتا ہے ، بجٹ خسارہ 6.9 فیصد اور حکومتی قرضے جی ڈی پی کے 82 فیصد تک رہنے کا امکان ہے ۔
https://www.roznama92news.com/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D9%81
5سے 6فیصد پائیدار نمو حاصل کرلی تو آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت نہیں ہوگی: وزیر خزانہ
جمعه 04 فروری 2022ء
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ 5 سے لیکر6 فیصدکی پائیدارنموکی صورت میں پاکستان کوآئی ایم ایف کے ایک اورپروگرام کی ضرورت نہیں ہوگی، ملک جامع اورپائیداربڑھوتری کی راہ پرگامزن ہے ، حکومت بچت اورکفایت شعاری پریقین رکھتی ہے اورآنیوالے بجٹ میں ہم اپنے اخراجات پرقابوپانے کی کوشش کر ینگے ۔انہوں نے یہ بات بلوم برگ کوانٹرویودیتے ہوئے کہی۔ شوکت ترین نے کہاکہ پاکستان کثیرالجہتی قرضہ فراہم کرنے والوں پرانحصارختم کرنا چاہتاہے ، اس مقصدکیلئے مالیاتی اورتجارتی خسارہ میں کمی اوراپنے سرمایہ کی منڈیوں کی حقیقی استعداد سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی پرگامزن ہے کیونکہ اسی صورت پاکستان پائیداراقتصادی نموکی راہ پرگامزن ہوسکتاہے ۔ جی ڈی پی کی نموکو5 فیصد سے بڑھا کر6 فیصدکرنا ہماراہدف ہے ۔ رواں سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 40 فیصداضافہ کے ساتھ 21 ارب ڈالرسے تجاوزکرجائینگی جبکہ آئندہ مالی سال میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 26 ارب ڈالرہوجائینگی ۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبہ کو بھی اسی طرح کی سہولتیں اورترغیبات دینے کا ارادہ رکھتاہے ۔دریں اثناء چین روانگی سے قبل میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین معاشی ترقی کیلئے بھی اہم ہوگا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے چھٹی قسط منظور ہو گئی ہے جومعیشت کیلئے خوش آئند ہے ۔ آئی ایم ایف موجودہ حکومتی معاشی پالیسیوں سے متفق ہے ۔ انشاء اللہ اس سے ہماری کرنسی اور معیشت میں استحکام آئے گا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان میں اقتصادی زونزتیارہیں، اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے چین کے دورے میں زرعی ٹرانسفرمیشن منصوبے کے حوالے سے بھی بات چیت کرینگے ۔
https://www.roznama92news.com/5%D8%B3%DB%92-6%D9%81%DB%8C%D8%B5%D8%AF-%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85-%DB%8C-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D9%86%DB%81
امریکا میں عوام صدر جو بائيڈن کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں جس کے باعث ان کی مقبولیت میں روز بروز کمی آرہی ہے
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں ہونے والے ایک حالیہ سروے میں عوام کی بڑی تعداد نے صدر جوبائیڈن کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ امریکی صدر کی مقبولیت میں کمی کا گراف کم تر سطح تک پہنچ گیا ہے۔
فروری کے پہلے دو دن میں کیے گئے سروے میں 56 فيصد امريکی شہریوں نے بائيڈن حکومت کی کارکردکی کو ناقص قرار دیا ہے جب کہ 41 فيصد شہری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صدر بائیڈن اپنے فرائض بہتر طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح سروے میں ہر 10 ميں سے 6 امريکی شہريوں نے خیال ظاہر کیا کہ ملک صحيح سمت ميں گامزن نہيں جب کہ بقیہ کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن ان مسائل پر قابو پالیں گے۔
سروے میں امریکی شہریوں کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے باعث اس وقت ملک میں پبلک ہيلتھ اور معيشت سب سے اہم مسائل ہيں جس پر موجودہ حکومت قابو نہیں پاسکی ہے۔
https://www.express.pk/story/2280587/10/
رواں مالی سال جنوری میں 2 ارب 54 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ماہ جنوری میں گزشتہ مالی سال جنوری کے مقابلے میں برآمدات میں 18.7 فیصد کا اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال جنوری میں 2 ارب 14 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی برآمدات تھیں، جب کہ رواں مالی سال جنوری میں 2 ارب 54 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔
مشیر تجارت کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں برآمدات میں 24 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 14 ارب 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر برآمدات تھیں، جب کہ رواں مالی سال اب تک 17 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی برآمدات ہوئی ہیں۔
عبدالرزاق داؤد نے بتایا کہ ماہانہ بنیادوں پر درآمدات میں کمی کا رجحان بھی نظر آرہا ہے، دسمبر 2021 کے مقابلے میں جنوری 2022 میں درآمدات میں 22 فیصد کی کمی ہوئی، دسمبر میں درآمدات 7 ارب 58 کروڑ ڈالر کی تھیں، اور جنوری 2022 میں درآمدات 5 ارب 90 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی درآمدات ہوئیں، جب کہ جنوری 2021 میں 4 ارب 80 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی درآمدات تھیں۔
https://www.express.pk/story/2280509/6/
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-02-04&edition=KCH&id=5944256_29447617
منی بجٹ کے بعد کس موبائل فون پر کتنا ٹیکس لگا؟ تمام تفصیلات جو آپ جاننا چاہتے ہیں
Feb 02, 2022 | 16:54:PM

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ٹیکس بجٹ پر حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے اور انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیز سمیت کئی طرح کے ٹیکسز میں اضافہ کر دیا گیا گیا ہے۔ اس سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ویب سائٹ ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مختلف قیمتوں کے موبائل فونز پر ٹیکسز میں مختلف شرح سے اضافہ کیا گیا ہے۔
201ڈالر سے 350ڈالر قیمت کے موبائل فونز پر ’فکسڈ ٹیکس‘ کو 1ہزار 750روپے سے بڑھا کرحیران کن طور پر 14ہزار 661روپے تک کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح 351ڈالر سے 500ڈالر تک کی قیمت کے موبائل فونز پر فکسڈ ٹیکس اب 23ہزار 420روپے اور 500ڈالر سے زائد قیمت کے موبائل فونز پر 37ہزار روپے لاگو ہو گا۔ پاسپورٹ آئی ڈی پر جو فون درآمد کیے جائیں گے ان پر ٹیکسز کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:۔
$1to $30 = Rs. 430
$31to $100 = Rs. 3,200
$101to $200 = Rs. 9,580
$201to $350 = Rs. 12,200 + 17% Sales Tax
$351to $500 = Rs. 17,800 + 17% Sales Tax
$501and above = Rs. 36,870 + 17% Sales Tax
اسی طرح جو سمارٹ فونز قومی شناختی کارڈز پر درآمد کیے جائیں گے، ان پر ٹیکس کی شرح اس سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:۔
$1to $30 = Rs. 550
$31to $100 = Rs. 4,323
$101to $200 = Rs. 11,561
$201to $350 = Rs. 14,661 + 17% Sales Tax
$351to $500 = Rs. 23,420 + 17% Sales Tax
$501and above = Rs. 37,007 + 17% Sales Tax
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398213?fbclid=IwAR2j6qCnfpMuiSwTh6ZBsN5ZqP4LvkRqKcWcslA-pf-v0YRsF1oxiuGD1XI
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بڑی خوشخبری سنادی، وفاقی وزرا خوشی سے نہال
Feb 02, 2022 | 23:33:PM

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) نے پاکستان کیلئے قرض کی چھٹی قسط کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کیلئے پروگرام کے چھٹے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے معیشت کے استحکام اور اصلاحات کے عمل میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے اس خبر پر رد عمل دیتے ہوئے کہا "اللہ کا شکر ہے۔ اس سے معیشت میں بہتری آئے گی۔ اس کامیابی میں ہم بلاول بھٹو اور شہباز شریف کی خاموش حمایت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنے اپنے سینیٹرز کو غیر حاضر رکھا تا کہ بل پاس ہو سکیں، گیلانی صاحب کا بھی شکریہ، لیکن ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ خان نے این آر او پھر بھی نہیں دینا۔"
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398249?fbclid=IwAR1AP3jG1-U0GrDDZwB52x2tJUxV4UqsmSStupSC11gJ0Va9lKhBfliaOUA
اومی کرون عالمی معیشت پر کیسے اثر انداز ہوسکتا ہے؟ آئی ایم ایف نے ایسی بات کہہ دی کہ پریشانی کی حد نہ رہے
Feb 02, 2022 | 10:36:AM

نیو یارک ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اومی کرون کی وجہ سے ممکنہ لاک ڈاؤن کے باعث رواں سال عالمی معیشت کی شرح نمو میں کمی کا امکان ظاہر کر دیا ہے ۔
نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کی عالمی معیشت کی نئی جائزہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کےمطابق کورونا کے باعث عالمی نمو میں کمی کا امکان نظر آتا ہے ۔
آئی ایم ایف جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس عالمی معیشت کی شرح نمو 5.9 فیصد پر پہنچی تھی ، اومی کرون کے باعث دنیا بھر میں دوبارہ لاک ڈاؤن دیکھا جا رہا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس سے افراط زر میں اضافہ متوقع ہے ۔
آئی ایم ایف جائزہ رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت کی شرح نمو سال 2023 میں 3.8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے ۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398157?fbclid=IwAR14YasePgrT77r3q58g8u-M0D9RzgnRJDyQdMrLUYsuVWAxQA1OOhwBQ7Y
پاکستان معاشی میدان میں کیسے ترقی کرے ؟ ایشیائی ترقیاتی بینک نے مشورہ دے دیا
Feb 02, 2022 | 22:30:PM

سورس: File Photo
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل پر عمل کرتا ہے تو وہ وسط، جنوبی اور مغربی ایشیائی ممالک کے لیے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ پاکستان اقتصادی ترقی کے ماڈل کے ذریعے اقتصادی چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتا ہے؟پیش لفظ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے وسط اور مغربی ایشیا کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل یوجین زوکوف نے نوٹ کیا کہ پاکستان ابھی تک پائیدار ترقی کا راستہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تاکہ اپنی تاریخی پسماندگی اور جمود سے آگے بڑھ سکے،مارکیٹ میں اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو اپنی معیشت کو برآمدات کے ذریعے ترقی کی رفتار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ایک متحرک نجی شعبے کے ساتھ مسابقت کی حامل معیشت اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے علاوہ اس تبدیلی کو سپورٹ کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا بہت ضروری ہے، پاکستان نے اپنی بنیادی ترقی اور نمو کے فریم ورک کے حصے کے طور پر اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل پر مبنی حکمت عملی کو اپنایا اور اسے نافذ کیا ہے۔
یوجین زوکوف نے کہا کہ اقتصادی راہداری کی ترقی کا ماڈل حکومت کو 2025ء تک بالائی متوسط آمدنی والے درجے تک پہنچنے کے اپنے سماجی و اقتصادی مقاصد کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ معیشت کو برآمدات کے ذریعے ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کی ترقی اور ایک منصفانہ اور موثر ٹیکس نظام کی بھی ضرورت ہے۔اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے تحقیق میں کہا گیا کہ اس کا مقصد مختلف اقتصادی ایجنٹوں کو متعین جغرافیائی علاقوں کے ساتھ جوڑ کر اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا کہ گھریلو روابط کو بڑھا کر اور پسماندہ علاقوں کو شہری ترقی کے مراکز سے جوڑ کر اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل کو وسط، جنوبی اورمغربی ایشیائی ممالک کےلیےاقتصادی سرگرمیوں کامرکزبننےمیں مدد دے سکتاہے،اس سلسلے میں کہا گیا کہ ملک معاشی مراکز کی سہولت کے ذریعے مضبوط انفراسٹرکچر اور کاروبار کے قابل بنانے والے پالیسی فریم ورک کی بنیاد پر ایک موثر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی اقتصادی ترقی کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں فی الحال اقتصادی راہداری کی ترقی کے ماڈل کو موثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے انتظامی مشینری کی کمی ہے۔
مطالعے میں سی پیک کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر اسے کامیابی سے لاگو کیا گیا تو یہ بہت سے اقتصادی مقاصد کو حاصل کر سکتا ہے اس حوالے سے خبردار کیا گیا کہ سی پیک اکیلے معیشت کو بہتر نہیں بنا سکتا اور اس کی حقیقی صلاحیت کے حصول کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مدد کی ضرورت ہوگی۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398242?fbclid=IwAR1X50LOOXwl90yTmtVHQfqBJ6i4X6XqkPjr8hKsUG8CnI6WCh8MmOLUa9I
آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق چھٹے اقتصادی جائزے کی منظوری دے دی جس کے تحت ایک ارب ڈالر قرض مل سکے گا۔
آئی ایم ایف کی نائب ایم ڈی انٹونی سایہ نے پاکستان کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ قرض پروگرام کے ذریعے کورونا کے باعث متاثر ہونے والی پاکستان کی معیشت بحال ہورہی ہے اور مالی اثاثے مستحکم ہورہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی سے مقامی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی 4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے لیکن کورونا کے دھچکوں، سخت عالمی معاشی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں میں اضافے اور معاشی اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر سے پاکستان کی معیشت بدستور نازک صورتحال سے دوچار ہے۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں اور مالی استحکام کے لیے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات اور جنرل سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی کی رفتار کو برقرار رکھے۔
https://www.express.pk/story/2280037/1/
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-02-03&edition=KCH&id=5942988_40495933
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-02-03&edition=KCH&id=5943068_57635962
پاکستانیوں سے ٹیکس لینے کے لیے حکومت نے ٹیکنالوجی کی مدد لینے کی تیاری پکڑ لی
Feb 01, 2022 | 17:49:PM

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہےکہ پاکستان میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس، زرمبادلہ سمیت دیگر معاملات میں ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے۔اسلام آباد میں نئے آٹومیشن آف کرنسی ڈیکلیئریشن سسٹم کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس نہ دینے والوں تک پہنچ رہے ہیں، سامان چین سے آتا ہے، انوائسنگ دبئی سے ہوتی ہے، یہ تو اندھے کو بھی سمجھ آجانا چاہیےکہ دال میں کچھ کالا ہے۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ان سب کاموں کو رکاوٹوں سے پاک ہونا چاہیے، چیزوں کو آٹومیشن سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، ٹیکس، زرمبادلہ سمیت دیگر معاملات میں ہم نے ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے، ملک کا ٹیکس اور زر مبادلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت آٹومیشن سمیت سب کام کررہی ہے، حکومتی ادارے ذمہ داری سے کام کر رہے ہیں، اصلاحات کا کام جاری ہے، ہم نے ترقی کرنی ہے اور آگے جانا ہے، ملک کی ترقی کے لیے ہم پرعزم ہیں۔انہوں نےکہا کہ ہماری کوشش ہےکہ ایف بی آرکو مکمل آٹومیٹڈ کیا جائے، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے، انڈر انوائسنگ کے باعث ریونیو محصولات میں نقصان ہو رہا ہے،کسٹم میں بھی سنگل ونڈو سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/01-Feb-2022/1397792?fbclid=IwAR2oU-qZndoz-Tq5C8NempqZtfoj4bUHdqxTMpBPKc9NbdgtBKdm7zF1l_I
پاکستان نے ایک ارب ڈالرز کے سکوک بانڈز جاری کردیے
Feb 01, 2022 | 23:36:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے ایک ارب ڈالرز کے سکوک بانڈز جاری کردیے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ٹرسٹ سرٹیفکیٹس پروگرام کے تحت پہلی بار جاری کیے جانے والے سکوک بانڈز سات سال کیلئے جاری کیے گئے ہیں۔ وزرات خزانہ کا کہنا ہے کہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے سکوک بانڈز میں دلچسپی ظاہر کی جبکہ یورپ کے سرمایہ کاروں نے بھی سکوک بانڈز میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وزارت خزانہ کا کہنا تھاکہ سکوک بانڈز کیلئے 2 ارب 70 کروڑ ڈالرز کی پیش کش موصول ہوئیں۔
https://dailypakistan.com.pk/01-Feb-2022/1397821?fbclid=IwAR1C7_URBjbs7z-4dpYpu0iFlgTPFJ4-mMSLKqAU0THXNAITp_GHmelwLAs
ایف بی آر نے صرف 7 ماہ میں اتنا ٹیکس جمع کرلیا کہ ریکارڈ توڑ دیے
Feb 01, 2022 | 17:26:PM

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ کے دوران 3ہزار 352ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر لیا ہے جو جولائی سے جنوری تک کے لیے مقرر کیے گئے ہدف سے 262ارب روپے یا 30.6فیصد زائد ہے۔
ایف بی آر کی طرف سے جاری محصولات کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2021ءتا جنوری 2022ءکے عرصے کے لیے ایف بی آر نے 3ہزار 90ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں جتنا ٹیکس جمع کیا گیا تھا رواں سال اس سے 30.4فیصد زیادہ رقم اکٹھی کی گئی ہے۔
ایف بی آر نے جنوری 2022ءمیں 430ارب روپے جمع کیے جو کہ جنوری 2021ءمیں جمع کیے گئے 367ارب روپے سے 17.2فیصد زائد تھے۔ ایف بی آر کے مطابق جولائی 2021تا جنوری 2022ءمیں 182ارب روپے کے ری فنڈز جاری کیے گئے تھے جو کہ پچھلے سال اس عرصے میں 134ارب روپے تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/01-Feb-2022/1397781?fbclid=IwAR16iQZKnHQbju-FkJaWCdr2KO8EATfbpVOhOYcoc2lMw3mugM1mazp35DQ
پاکستان سری لنکا کو کتنا قرضہ دینے جا رہا ہے؟ بڑی خبر
Feb 02, 2022 | 11:46:AM

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سری لنکن میڈیا میں خبریں گرم ہیں کہ پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر قرض لیا جائے گا جس سے پاکستانی سمینٹ اور چاول خریدنے کا منصوبہ ہے۔
سری لنکن میڈیاکے مطابق قرض لینے پر اتفاق سری لنکن وزیرتجارت کےحالیہ دورہ پاکستان میں ہوا۔سری لنکن میڈیا کا بتانا ہےکہ پاکستان سے قرض دورانیہ اور معاہدےکی تفصیل طے کی جارہی ہے اور پاکستان سے حاصل قرض سے پاکستانی سیمنٹ، چاول خریدا جائے گا۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398167?fbclid=IwAR1rfTk7m0IA7sIUqZZ-LmAxUjCXAvHptf3RAbtbMU3cb16G6C13qHZaXfE
یوٹیلیٹی سٹورز کے برطرف ملازمین کیلئے سب سے بڑ ی خوشخبری، ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ؟ اعلان ہو گیا
Feb 02, 2022 | 15:58:PM

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )یوٹیلیٹی سٹورز کے برطرف سینکڑوں ملازمین کو ماہانہ وظیفہ ادا کرنے کافیصلہ کیا گیاہے جس کا حکم نامہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے جاری کر دیا گیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے جاری کر دہ حکم نامے میں کہا گیاہے کہ گریڈ 16 اور اوپر کے برطرف ملازمین کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا ، گریڈ 7 سے 12 کے برطرف ملازمین کو ماہانہ30 ہزار، گریڈ دو سے 6 تک کے برطرف ملازمین کو ماہانہ 20 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا ، ماہانہ وظیفے کی ادائیگی کا اطلاق 17 اگست 2021 سے ہو گا ۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کے 17 دسمبر کے فیصلے کے تحت کیا گیاہے ، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے تک وظیفے کی ادائیگی جاری رہے گی ۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398200?fbclid=IwAR3cveD8blMA5-XmxIgBjr4RRv5xXXlsnD9VhJvWKcPdXjwBkd7BIoSNKD8
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کی کیا صورتحال رہی؟ جانیے
Feb 02, 2022 | 17:39:PM
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی کا رحجان رہا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ 100 انڈکس میں 444پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔آج جب کاروبار کا آغاز ہوا تو45ہزار674 کی سطح پر تھا۔100 انڈکس کی بلند ترین سطح 46ہزار139 رہی،تاہم اس کے بعد 100 انڈکس میں معمولی کمی ہوئی۔ جب کاروباری دن کا اختتام ہوا تو100 انڈکس 46ہزار119 کی سطح پر تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/02-Feb-2022/1398215?fbclid=IwAR363pWAuvARcupw1Dy5hvShpq0XvHPAUG_hymoNMwsQFLf9hHjP0at9dbA
یوٹیلیٹی سٹورز پر متعدد اشیا مزید مہنگی ،مہنگائی دوسال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
بدھ 02 فروری 2022ء
اسلام آباد(92نیوزرپورٹ)یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی مہنگائی کی آندھی آگئی، یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کے گھی اور کوکنگ آئل سمیت متعدد اشیاء مہنگی کردی گئیں ،نوٹیفکیشن کے مطابق کوکنگ آئل75روپے فی لٹر،گھی کی فی کلو قیمت میں 66 روپے تک اضافہ کردیا گیا،ہلدی کی 100 گرام قیمت میں 8 روپے ،سفید زیرہ 200 گرام 34 روپے ،25گرام الائچی کی قیمت میں 3روپے اضافہ ہوگیا، گرم مصالحہ 100 گرام 34 روپے ، بچوں کا 400 گرام دودھ 30، ایک لٹر ٹیٹرا پیک دودھ 5 روپے ، کسٹرڈ300 گرام 10 روپے اور ایک کلو اچار کی قیمت95 روپے تک بڑھا دی گئی ، ٹی وائٹنرڈیڑھ کلو گرام کی قیمت میں275 روپے ، مشروبات کی1500 ملی لٹر کی بوتل 15 روپے تک مہنگی کردی گئی،ایک کلوکپڑے دھونے کا پائوڈر 30 اورشیمپوکی 175ملی لٹرکی بوتل 35روپے مہنگی ہوگئی،نہانے ،برتن دھونے کے لیکوئڈ صابن بھی مہنگے کر دیئے گئے ۔ اسلام آباد ( نیوزایجنسیاں ) ملک میں مہنگائی کی شرح دوسال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جنوری میں مہنگائی میں 0.39 فیصد اضافہ ہوا، مہنگائی کی شرح 12.96 فیصد پر پہنچ گئی جبکہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ جولائی تا جنوری کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 10.26 فیصد رہی۔ملک میں مہنگائی کی شرح میں زیادہ اضافہ کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ہے ۔ مالی سال کے دوران صحت، تعلیم اور تفریحی سہولیات بھی مہنگی ہوئیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 10.26 فیصد رہی جبکہ دسمبر 2021ء میں شرح 12.3 اور جنوری 2021 میں 5.7 فیصد تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا جنوری میں سالانہ بنیادوں پر کوکنگ آئل 54.33 فیصد، گھی 47.4 اور دال مسور 41.3 فیصد مہنگے ہوئے ، پھل 28.35 فیصد مہنگے ہوئے ۔ جنوری میں ماہانہ بنیادوں پر گندم 2.68 فیصد، گوشت 1.78 ،پھل 4.11 ، دال مسور 6.13 اور دال چنا 3.37 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ جنوری میں بجلی چارجز56.20 فیصد بڑھے ۔رپورٹ میں بتایا گیا موٹر فیول کی قیمت میں 36.22 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پلاسٹک مصنوعات11.72 فیصد اور ریڈی میڈ گارمنٹس 13.03 فیصد مہنگے ہوئے ۔ جنوری میں مہنگائی 0.39 فیصد اضافے کیساتھ 12.96 فیصد تک پہنچ گئی جو جنوری 2020 کی 14.6 فیصد شرح کے بعد دوسری بلند ترین سطح ہے ۔رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح بھی ڈبل ڈیجٹ یعنی 10.26 فیصد ریکارڈ کی گئی، تاہم شہری علاقوں میں مہنگائی 13 فیصد اور دیہی علاقوں میں 12.9 فیصد تک پہنچ گئی۔موجودہ مالی سال کے سات ماہ میں پٹرول 35 روپے مہنگا ہو کر 148 روپے 57 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 30 روپے 44 پیسے مہنگا ہوکر 145 روپے 38 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ ایل پی جی سلنڈر سات ماہ میں اوسط 644 روپے مہنگا ہوا، قیمت 1682 سے 2326 روپے تک پہنچ گئی۔ جولائی 2021ء سے ابتک گھی 90 روپے ، چکن 184 روپے فی کلو مہنگا ہو چکا جبکہ سالانہ بنیادوں پر ایک سال میں بجلی ٹیرف 56.20 فیصد جبکہ خوراک 12.82 فیصد مہنگی ہوئی ، ٹرانسپورٹ کرایے 23 فیصد سے زیادہ بڑھے ۔ایک سال میں ہاؤسنگ، واٹر، بجلی، گیس 15.5 فیصد مہنگی ہوئی، اس دوران کوکنگ آئل 54.33 ، گھی 47.4 فیصد مہنگا ہوا۔ ایک سال میں دال مسور 41.3 ، چنے 24.7 ، دال چنا 15.67 ، پھل 28.35 ، گوشت 22.38 فیصد مہنگا ہوا،سبزیاں 11.58 فیصد مہنگی ہوئیں، موٹر فیول کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت 36.22 فیصد بڑھ گئی، جوتے 24.47 ، لانڈری 22 ، ریڈی میڈ گارمنٹس 13 فیصد مہنگے ہوئے ، ہوٹل چارجز 13 فیصد بڑھ گئے ، صحت 9.15 فیصد، تعلیم 3.17 فیصد مہنگی ہوئی۔
https://www.roznama92news.com/%DB%8C%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%B7%DB%8C
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108998705&Issue=NP_PEW&Date=20220202
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں؟ وزیراعظم نے فیصلہ سنادیا
Jan 31, 2022 | 19:13:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری موخر کردی ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے مطابق وزیراعظم نےپٹرول 11اورڈیزل 14روپےبڑھانےکی سمری منظورنہیں کی، وزیراعظم نےکہادنیابھرمیں بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے تیل مہنگاہورہاہے۔
واضح رہے کہ اوگر کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی۔ سمری میں پٹرول کی قیمت میں 10 روپے 27 پیسے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 11 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کی سفارش کی گئی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/31-Jan-2022/1397370?fbclid=IwAR2h8ckboWpSyCDhmoNysvY-jPwm-dz6shKAuCWFBpHWcNMlg_LTNS-qAlE
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز تیزی، 100 انڈکس میں بڑا ضافہ ہوگیا
Feb 01, 2022 | 17:28:PM

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج دوسرے روز بھی تیز ی کا رحجان رہا۔
آج (منگل کو) کاروبار کاآغاز ہوا تو100 انڈکس 45ہزار374 کی سطح پر تھا۔آج 100 انڈکس کی بلند ترین سطح 45ہزار754 رہی،تاہم اس کے بعد 100 انڈکس میں کچھ کمی ہوئی۔جب کاروباری دن کا اختتام ہوا تو100 انڈکس 45ہزار674کی سطح پر تھا۔آج مجموعی طور پر100 انڈکس میں 299 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
https://dailypakistan.com.pk/01-Feb-2022/1397783?fbclid=IwAR2qHRXoBOzlEutg8EM4b_kPKZOpp9r0dwrWBNDJt23xp4ssMPj8y5uQZO4
بھارت نے کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دے دیا لیکن ٹیکس کتنا عائد کیا؟ کرپٹو کی دنیا سے بڑی خبر آگئی
Feb 01, 2022 | 18:41:PM

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت نے کرپٹوکرنس اور ڈیجیٹل اثاثوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ٹیکس نظام میں شامل کرنے کا اعلان کردیا ۔
بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتھا رمن نے لوک سبھا میں آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کے ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں سے ہونے والی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ نرملا سیتھا رمن نے ملک کے مرکزی بینک کے ذریعے اپنی کرپٹو کرنسی لانے کا اعلان بھی کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے نرملا سیتھا رمن نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران بھارت کا مرکزی بینک اپنی باضابطہ کرپٹو کرنسی لانچ کرے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ یہ کرپٹو کرنسی بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے لائی جائے گی،اس سے ملک کی معیشت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ ڈیجیٹل کرنسی ایک زیادہ موثر اور سستے کرنسی مینجمنٹ سسٹم کا باعث بنے گی۔
https://dailypakistan.com.pk/01-Feb-2022/1397798?fbclid=IwAR2ah-g6lc-vpR9F8jpeTikdDAmffGLuHFoLuVzt84wffXlksvP5zTBGLpA
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-02-01&edition=KCH&id=5940373_59100196
کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈکس کس سطح پر پہنچ گیا؟ آپ بھی جانیے
Jan 31, 2022 | 17:28:PM

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کا مثبت رحجان دیکھنے میں آیا۔
آج مجموعی طور پر سٹاک مارکیٹ 100 انڈکس میں 296 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ آج (سوموار) کو جب کاروبار کا آغاز ہوا تو 100 انڈکس 45ہزار077 کی سطح پر تھا۔ 100 انڈکس کی بلند ترین سطح 45ہزار462 رہی۔تاہم جب کاروباری دن کا اختتام ہوا تو100 انڈکس 45ہزار374کی سطح پر تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/31-Jan-2022/1397346?fbclid=IwAR2JgJ4w2itO37sqbF2kMUA3BWvQg1ccdp7qMriWtMkLr10VzWDLdQUrDbw
مہنگائی سے بلبلاتے عوام کیلئے گھی اور کوکنگ آئل مزید مہنگا کر دیاگیا
Jan 31, 2022 | 12:36:PM

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) مہنگائی سے بلبلاتے عوام کے لئے ایک اور بری خبر آگئی ، گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق درجہ اول گھی کی قیمت میں 10 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیاگیا ہے جس کے بعد مختلف برانڈز کے درجہ اول گھی کی قیمت 420 روپے فی کلو ہو گئی ہے ۔ اسی طرح درجہ دوم کے گھی کی قیمت میں بھی 10 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے ،جس کے بعد اس کوالٹی کا گھی 360 روپے سے بڑھ کر 370 روپے فی کلو ہو گیا ہے ۔
درجہ دوم کے کوکنگ آئل کی قیمت میں بھی 10 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 370 سے بڑھ کر 380روپے فی لٹر ہو گئی ہے ۔
https://dailypakistan.com.pk/31-Jan-2022/1397304?fbclid=IwAR0iEQ-ggJ-LH6CA2XeP-GV6pEQRZKx1zM-r86ejLAZw1T3hAbOzQxfpDD4
بجلی مہنگی ہونے کا امکان لیکن گزشتہ ماہ دسمبر میں کتنے روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی گئی؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
Jan 31, 2022 | 13:04:PM

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سی پی پی اے نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیلئے نیپرا میں درخواست دائر کر دی ہے جس پر سماعت کل ہو گی ، سی پی پی اے نے دسمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 3 روپے 12 پیسے اضافے کی سفارش کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سی پی پی انے نیپر ا کو بھیجی گئی درخواست میں کہاہے کہ دسمبر 2021 میں 8 ارب 52 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی جس پر 73 ارب 84 کروڑ روپے لاگت آئی، سب سے مہنگی بجلی فرنس آئل سے 22 روپے 24 پیسے فی یونٹ بنائی گئی ، ایل این جی سے 17 روپے 80 پیسے، ڈیزل سے 14 روپے 8 پیسے ، کوئلے سے 13.31 روپے فی یونٹ حاصل کی گئی ۔ایران سے بجلی 13 روپے 26 پیسے فی یونٹ درآمد کی گئی ، بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں صارفین پر 30 ارب سے زائد کا بوجھ پڑے گا ۔
https://dailypakistan.com.pk/31-Jan-2022/1397317?fbclid=IwAR0itWR_fUkcg_-OcAci6Cm0FhhreiOEo5qiJB_k6PA9tEa-DLiCiQfAGqs
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108994495&Issue=NP_PEW&Date=20220131
گنے کی بمپر پیداوار
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-01-31&edition=KCH&id=5938770_13737178
سٹیل مل اور ریلوے کے چور
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-01-30&edition=KCH&id=5937811_86976189

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2022-01-30&edition=KCH&id=5937848_90387197

No comments:
Post a Comment