مسلم لیگ نواز کی کرپشن اور کالے کرتوت ::: چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ جعلی آڈیو ::: جج بنا مافیا کا ساتھی ،رانا شمیم کا بیان ::: پیراگون ریفرنس ،سعد ،سلمان رفیق کیس ::: میڈیا اور ججوں سے بلیک میلنگ ،چینلز کو اشتہارات ::: کاشف محمود جعلی ڈگری ::: احد چیمہ کیس ::: شہبازشریف کیس ،چپڑاسیوں کے اکاؤنٹ سے 16 ارب ::: کسی ادارے کا دباؤ نہیں، چیف جسٹس ::: شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس ::: ڈالر قیمت اضافہ ،نجی بنکوں کا عملہ ملوث ::: ٹی ٹی سکینڈل ::: مریم نواز اثاثے کیس ::: رانا شمیم بیان پر اعتزاز ::: رانا شمیم کا نواز شریف سے براہ راست رابطہ ،میرے والد کی نواز شریف سے ذاتی دوستی ،صاحبزادے کا اہم انکشاف ::: آشیانہ کیس ،فواد حسن اور دیگر ::: نواز شریف کی جائیداد نیلام ::: دہشت گردی ،جہانزیب خان کو بیٹے اور بھائی ::: نواز شریف تاحیات نااہلی پر سپریم کورٹ بار کو تکلیف ::: بجلی معاہدوں کے باعث سالانہ 850 ارب کی کرپشن یا نااہلی ::: سیاسی سرکاری ملازم مافیا اور لیگی کونسلر کا گٹھ جوڑ ،زمین پر قبضہ ::: حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس ::: حکومت کو شوگر ملز پر چھاپے مارنے کا اختیار نہیں ،لاہور ہائیکورٹ ::: شوگر ملز کے 5 سالہ آڈٹ سے 619 ارب وصول کئے ،شہزاد اکبر ::: ایل این جی ریفرنس ::: مریم نواز ،شمیم شوگر ملز قرض ::: پنڈورا لیکس کی تحقیقات ::: نیب آرڈیننس آنے کے بعد کیسز ::: امیر ممالک ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں ::: پنڈورا لیکس پاکستانی میڈیا مالکان ::: ایل این جی منصوبہ ::: آف شور کمپنی کیا؟ ::: ن لیگ کا ’جشن‘ بلا وجہ قرار ::: شہباز شریف خاندان کے خلاف ثبوتوں سے بھرے 5 بکس ::: سانحہ ماڈل ٹائون ::: پینشن میں کرپشن ::: عطاء الحق قاسمی تقرر کیس ::: جعلی بینک اکائونٹس بنانے کے کیس میں نجی بینک کے نائب صدرعاصم سوری گرفتار ::: فلیگ شپ ریفرنس ::: چوری ہونےوالی لگژری گاڑی رکن اسمبلی کے گھر سے برآمد ::: برطانوی فرم براڈ شیٹ ::: امریکی قونصل جنرل سے ملاقات ::: نصرت شہباز پرآئندہ پیشی ::: برجیس طاہر آمدن ::: شاہد خاقان عباسی کیخلاف ریفرنس ::: احسن اقبال ،مصطفی کمال ضمانت ::: میاں منور اقبال زیادتی کیس ::: شریف خاندان ،برطانوی وزیرداخلہ اور بھارت کا تعلق - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Monday, 14 February 2022

مسلم لیگ نواز کی کرپشن اور کالے کرتوت ::: چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ جعلی آڈیو ::: جج بنا مافیا کا ساتھی ،رانا شمیم کا بیان ::: پیراگون ریفرنس ،سعد ،سلمان رفیق کیس ::: میڈیا اور ججوں سے بلیک میلنگ ،چینلز کو اشتہارات ::: کاشف محمود جعلی ڈگری ::: احد چیمہ کیس ::: شہبازشریف کیس ،چپڑاسیوں کے اکاؤنٹ سے 16 ارب ::: کسی ادارے کا دباؤ نہیں، چیف جسٹس ::: شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس ::: ڈالر قیمت اضافہ ،نجی بنکوں کا عملہ ملوث ::: ٹی ٹی سکینڈل ::: مریم نواز اثاثے کیس ::: رانا شمیم بیان پر اعتزاز ::: رانا شمیم کا نواز شریف سے براہ راست رابطہ ،میرے والد کی نواز شریف سے ذاتی دوستی ،صاحبزادے کا اہم انکشاف ::: آشیانہ کیس ،فواد حسن اور دیگر ::: نواز شریف کی جائیداد نیلام ::: دہشت گردی ،جہانزیب خان کو بیٹے اور بھائی ::: نواز شریف تاحیات نااہلی پر سپریم کورٹ بار کو تکلیف ::: بجلی معاہدوں کے باعث سالانہ 850 ارب کی کرپشن یا نااہلی ::: سیاسی سرکاری ملازم مافیا اور لیگی کونسلر کا گٹھ جوڑ ،زمین پر قبضہ ::: حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس ::: حکومت کو شوگر ملز پر چھاپے مارنے کا اختیار نہیں ،لاہور ہائیکورٹ ::: شوگر ملز کے 5 سالہ آڈٹ سے 619 ارب وصول کئے ،شہزاد اکبر ::: ایل این جی ریفرنس ::: مریم نواز ،شمیم شوگر ملز قرض ::: پنڈورا لیکس کی تحقیقات ::: نیب آرڈیننس آنے کے بعد کیسز ::: امیر ممالک ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں ::: پنڈورا لیکس پاکستانی میڈیا مالکان ::: ایل این جی منصوبہ ::: آف شور کمپنی کیا؟ ::: ن لیگ کا ’جشن‘ بلا وجہ قرار ::: شہباز شریف خاندان کے خلاف ثبوتوں سے بھرے 5 بکس ::: سانحہ ماڈل ٹائون ::: پینشن میں کرپشن ::: عطاء الحق قاسمی تقرر کیس ::: جعلی بینک اکائونٹس بنانے کے کیس میں نجی بینک کے نائب صدرعاصم سوری گرفتار ::: فلیگ شپ ریفرنس ::: چوری ہونےوالی لگژری گاڑی رکن اسمبلی کے گھر سے برآمد ::: برطانوی فرم براڈ شیٹ ::: امریکی قونصل جنرل سے ملاقات ::: نصرت شہباز پرآئندہ پیشی ::: برجیس طاہر آمدن ::: شاہد خاقان عباسی کیخلاف ریفرنس ::: احسن اقبال ،مصطفی کمال ضمانت ::: میاں منور اقبال زیادتی کیس ::: شریف خاندان ،برطانوی وزیرداخلہ اور بھارت کا تعلق



Source : Daily Times / https://dailytimes.com.pk/195335/sharif-family-involved-corrupt-practices-nab-report/



آڈیو ٹیپ کس نے اور کیسے ریلیز کی ، کیا ہم ان کے ہاتھوں میں کھیلیں جنہوں نے یہ کیا ہے ؟، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
Nov 29, 2021 | 09:57:AM


اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آڈیوٹیپ کس نے اورکیسےریلیزکی؟ کیا ہم ان کےہاتھ میں کھیلیں جنہوں نے یہ کیاہے؟۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو لیک سکینڈل کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینےسے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مبینہ آڈیو ٹیپ زیر التوا اپیلوں والے کیسز سے متعلق ہے جن کے کیسزسے متعلق ٹیپ ہے انہوں نے عدالت آنے میں دلچسپی نہیں دکھائی، سیاسی قوتیں مختلف بیانیے بناتی ہیں مگرعدالت نہیں آتیں، جب وہ عدالت نہیں آتے توکورٹ کویہ بھی دیکھناہے نیت کیاہے، آڈیوٹیپ کس نےریلیزکی اورکیسےریلیزکی؟ ۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جو اصل متاثرہ فریق ہیں وہ سامنے نہیں آتے،یہی مسئلہ ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ اس بات کا تعین ضروری ہےکہ ثاقب نثارکی آڈیو اصلی ہےیاجعلی؟ ، عدالت نےاستفسار کیا کہ بتایا جائے یہ درخواست قابل سماعت کیسےہے،کس کیخلاف دائرکی گئی؟، کیا آپ کی درخواست حاضرسروس چیف جسٹس کےآڈیوکلپ سےمتعلق ہے؟۔ درخواست گزار نے کہا کہ موجودہ نہیں،سابق چیف جسٹس کےآڈیوکلپ سےمتعلق ہے۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ عدلیہ کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، عدلیہ کی آزادی کے لیے بارز نے کردار ادا کیا، ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا کسی ریگولیشن کے بغیر ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ یہی بات تکلیف دہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ چیز وائرل ہوئی اور اس پر بحث بھی ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے، آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ ، میرےمتعلق کہا جاتا ہےکہ کوئی فلیٹ لےلیا، عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کوئی فلڈ گیٹ نہیں کھل جائے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے درخواست قابل سماعت ہونے پر معاونت طلب کر لی ۔ درخواست گزار نے گزارش کی کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کر دیں ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گے اور قابل سماعت ہونے پر بات کریں گے۔
https://dailypakistan.com.pk/29-Nov-2021/1371545?fbclid=IwAR3KMQvIWErx20-HppxmLVFiCNM8mE9r3jf0dDvk36TqovmNIe3Es1Trc3E



پسنی فش ہاربر کی بحالی کے منصوبے میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پسنی فش ہاربر کی بحالی کے منصوبے میں بھاری مالیت کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، اور نیب نے پروجیکٹ ڈائریکٹرز سمیت 6 افراد کے خلاف احتساب عدالت میں دائر کردیا ہے، ملزمان میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز منیر احمد، علی گل کرد،اسسٹنٹ انجینئرخلیل احمد، سی ای او مہران انجنیئرنگ ورکس ندیم ظفر او ر ضہیم عباس شامل ہیں۔

نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، بلوچستان حکومت نے پسنی فش ہاربر کی بحالی اور توسیع کے لئے 800 ملین روپے کی گرانٹ کے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے 2010 میں پی سی ون بنایا، پی سی ون کے مطابق پسنی فش ہاربر کو فعال بنانے کے لئے ڈریجر خرید کر بریک واٹر،حفاظتی پشتوں کی توسیع اور مرمت کرنی تھی، لیکن ملزمان نے کام کئے بغیر منصوبہ کے لئے جاری رقم میں کرپشن کرتے ہوئے قومی خزانے کو 32 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا، اور منصوبہ کرپٹ عناصر کی کرپشن کی وجہ سے 11 سال گزرنے کے بعد بھی تا حال نا مکمل ہے۔
https://www.express.pk/story/2251821/1/


جج بنا مافیا کا ساتھی ،رانا شمیم کا بیان
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/28112021/p1-lhr002.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/25112021/P6-Lhr-006.jpg



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-25&edition=KCH&id=5856756_40840095



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108825313&Issue=NP_PEW&Date=20211125



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108825195&Issue=NP_PEW&Date=20211125



وزارت اطلاعات و نشریات نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق آڈیو میری ہی ہے، جس پر وفاقی وزرا کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مریم نواز کا اشتہارات کنٹرول کرنے کا اعتراف سنگین مالی بے ضابطگیوں کا ایک اور اعتراف ہے، امید ہے وہ بیرون ملک جائیدادوں کا بھی اعتراف کرلیں گی۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ مریم نواز کس حیثیت میں عوام کے ٹیکس سے دیے جانے والے اشتہارات کو اپنے ذاتی مفاد اور چوری کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہی تھیں، میڈیا کی آزادی پر ان کی منافقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔

اب وزارت اطلاعات و نشریات نے مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی ن لیگ کے دور حکومت میں میڈیا کو جاری کئے جانے والے اشتہارات میں بے ضابطگیوں اور میڈیا سیل کے ذریعے من پسند صحافیوں اور مختلف میڈیا گروپس کو نوازنے سے متعلق اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی سرپرستی میں قائم میڈیا سیل کے ذریعے قومی خزانے سے وفاقی حکومت کے 9 ارب 62 کروڑ 54 لاکھ 3 ہزار 902 روپے خرچ کئے گئے، مذکورہ میڈیا سیل سے پنجاب کی ایڈورٹائزمنٹ کو کنٹرول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، تحقیقاتی کمیٹی میڈیا سیل کے ذریعے سرکاری رقوم کے غیر قانونی استعمال کے معاملات کی تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔
https://www.express.pk/story/2251406/1/



ن لیگ دورمیں میڈیاکو دیئے گئے اشتہارات کی تفصیلات جاری
جمعرات 25 نومبر 2021ء

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراطلاعات نے مسلم لیگ ن کے دورمیں میڈیا کو اشتہارات کی تفصیلات جاری کردیں، 2013سے 2018تک کتنی رقم کے اشتہارات جاری ہوئے ، تفصیلات سامنے آگئیں۔جنگ اورجیوگروپ کون لیگ کے دورمیں 3ارب سے زائدکے اشتہارات دیئے گئے ۔92نیوزکو5سال میں صرف 13کروڑ72لاکھ روپے کے اشتہاردیئے گئے ۔اے آروائے نیوزکوساڑھے 8کروڑ،ایکسپریس گروپ کو پونے دو ارب ،دنیاگروپ کو1.1ارب اورسرکاری ٹی وی کو 21کروڑروپے کے اشتہارات دیئے گئے ۔
https://www.roznama92news.com/%D9%86-%D9%84%DA%AF-%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%85%DB%8C-%D9%85%DA%A9-%D8%AF



92نیوزسمیت 4چینلزکے اشتہار روکنے کی تحقیقات ہونگی: حکومت
جمعرات 25 نومبر 2021ء

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،92نیوزرپورٹ، نیوز ایجنسیاں )وفاقی حکومت نے 92نیوزسمیت 4 چینلزکو اشتہارات روکنے کی تحقیقات کااعلان کردیا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے وفاقی وزیر توانائی حماداظہرکیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا مریم نوازنے 10ارب روپے من پسند چینلزکودیئے ،جن چینلز کوپیسے دیئے گئے اورکن کوسزادی گئی انکے نام نہیں بتاسکتا، سابق دورمیں 15سے 18ارب روپے صحافیوں میں بانٹے گئے ،منظم طریقے سے صحافیوں کوخریداگیا،ان میں پیسے بانٹے گئے ،اپنے مخالف گروپوں کوسزائیں دی گئیں،یہ ایف آئی اے کے تحت بھی جرم بنتاہے ، پنجاب میں بھی اشتہارات کویہی سیل کنٹرول کر رہاتھا،پنجاب میں بھی تقریبااتنی ہی رقم اشتہارات کی مدمیں بانٹی گئی،جوگورکھ دھندہ یہاں کھیلاگیااس کی سب سے بڑی شہادت آج سامنے آئی، یہ ساراکام مریم نوازکررہی تھیں،پرویز رشیدتوکٹھ پتلی تھے ،پرویزرشیدکے دورمیں تووزارت اطلاعات کٹھ پتلیوں پرمشتمل تھی،ہم ان کے کیسز پربہت فوکسڈہیں،عام آدمی سمجھتا ہے سارے چوروں سے پیسے واپس آنے چاہئیں،ہم نے واضح کہاہے اگرآپ جیل نہیں جاناچاہتے توقوم کے پیسے واپس کر دیں،ہم سپریم کورٹ کے احکامات کے پابندہیں،اس معاملے پرہم نے سنجیدہ تحقیقات کرنے کافیصلہ کیاہے ،جن صحافیوں کوپلاٹس یاپیسے دیئے گئے ان کی تحقیقات کاآغازکیاگیاہے ،یہ ایک مجرمانہ فعل ہے ،عدالتوں سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ حماد اظہر نے کہاقوم کے اربوں روپے میڈیاکوخاموش کرنے یاخریدنے پرخرچ کئے جس کاحساب ہوگا،مریم نوازنے اعتراف کیا یہ انکی ہی ویڈیوہے ،مریم نوازنے یہ نہیں بتایا وہ کون سے چینلزتھے جن کے پیسے روکے نہیں گئے ، انعام دیاگیا،ہم دیکھیں گے کن چینلزکونوازاگیا،کن کوخریداگیا، تمام حقائق اعدادوشمار کیساتھ قوم کے سامنے رکھیں گے ،ایسانہیں ہوسکتااشتہارات کو ہتھیار بنا کر میڈیا کو کچلاجائے جیسے انہوں نے کچلا،مریم نوازبتائیں وہ کونسے چینل ہیں جس پرمن پسند پروگرام کرائے جاتے تھے ،تمام سوالوں کاجواب لیکرقوم کے سامنے رکھیں گے ۔اپنے ٹویٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہامریم نواز نے بڑے چینلز کے اشتہار کنٹرول کرنے کا اعتراف کیا جو سنگین مالی بے ضابطگیوں کا ایک اور اعتراف ہے ، امید ہے مریم نواز اپنی اور خاندان کی بیرون ملک جائیدادوں کا اعتراف بھی کرلیں گی۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہاہے چلومریم نوازنے آخرکچھ توسچ بولا،سوال یہ ہے مریم نوازنے کس حیثیت میں چینلزکے اشتہارات روکنے کاحکم دیا؟ کیامریم نے سمجھ لیاتھانوازشریف اپنی بادشاہت چلارہے ہیں۔وزیراعظم کے ترجمان و معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے کہا مریم نواز اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں ، جعلی ویڈیو آڈیو کا مقصد احتساب کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے ، جھوٹ بولنا اور دشنام ترازی کرنا ان کا پرانا وطیرہ ہے ۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب اور پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات کنول شوزب کیساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ نے کچھ چینلز کے ایڈ بند کرنے کی بات کی، آج بھی آپ نے اپنے پسندیدہ چینل کے رپورٹر سے سوال لیا ،مریم نواز آپ اسقدر بدتمیز ہیں آپکو معلوم نہیں ججز کے بارے میں بات کسطرح کرنی ہے ۔ یہ ازل کے جھوٹے ہیں، ان کو ان کے جھوٹوں پر سزا ملنی چاہئے ۔وزیرمملکت فرخ حبیب نے کہا مسلم لیگ ن کی جانب سے عدلیہ پر حملے آج بھی جاری ہیں، چاہے وہ جعلی ویڈیو ہوں یا ٹیپ سے ہوں، مریم صفدر نے تسلیم کرلیا میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اشتہارات بند کرنے والی آڈیو انکی ہے ، مریم صفدر کس حیثیت میں عوام کے ٹیکس سے دئیے جانے والے اشتہارات کو ذاتی مفاد اور چوری کے تحفظ کیلئے استعمال کررہی تھیں،میڈیا کی آزادی پرانکی منافقت کھل کر سامنے آگئی،یہ شریف خاندان کی ڈھٹائی ہے ہر غلط کام کا اعتراف ندامت کی بجائے فخر یہ انداز سے کر تے ہیں، مریم صفدر وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر ٹی وی چینلز کے اشتہارات بند کرکے صحافیوں کو بیروزگار کررہی تھی، ایک طرف میڈیاکی آزادی کاڈھونگ رچاتے ہیں دوسری جانب من پسند میڈیاکونوازنے اورصحافت کاگلا گھونٹے کیلئے اشتہار بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بنیادی طورپربڑا انکشاف ہے کہ کس طریقے سے اس وقت ایک فاشسٹ رجیم نوازشریف کی سربراہی میں موجودتھا،انکی بیٹی میڈیاکوکنٹرول کررہی تھی،جس کااعتراف انہوں نے پریس کانفرنس میں کیا،اب دیکھنا ہے صحافتی تنظیمیں اور میڈیا مالکان کی تنظیمیں اس پر کیا ردعمل دیتی ہے ، انکاسیاہ چہرہ سامنے آیاہے ،ہم دیکھتے ہیں کتنے احتجاج ہوتے ہیں۔ لاہور(92نیوزرپورٹ)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے مریم نوازکیخلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائرکرنے کافیصلہ کرلیا۔صدرپی ایف یوجے جی ایم جمالی نے کہا آزاد ی صحافت پرحملہ کرنیوالوں کامحاسبہ کرینگے ،مریم نوازکااعتراف باقاعدہ اقبال جرم ہے ،عدلیہ کوسووموٹو لینا چاہئے ،پہلے مرحلے میں ہم قانونی راستہ اپنائیں گے ،امیدہے عدالتوں سے انصاف ملے گا،،ہم انٹرنیشنل فیڈریشن یونین آف جرنلسٹ کوبھی یہ بتائیں گے پاکستان میں میڈیاہائوسزکوکنٹرول کرنے کیلئے حکومتیں کسطرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔پہلے مرحلے میں عدالت جائیں گے اور دوسرے مرحلے میں پورے ملک میں احتجاج کرینگے ۔سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے راناعظیم نے کہا پی ایف یوجے کی طرف سے مریم نوازکیخلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائرکی جارہی ہے ،میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کوبھی خط لکھوں گا،تمام انٹرنیشنل تنظیموں ،بارزکومریم نوازکے اعتراف سے متعلق خط لکھنے جارہاہوں،مریم نوازنے پاکستان کے آزادمیڈیا کیخلاف سازش کی،یہ آزادی صحافت پرحملہ کرنے کااقبال جرم ہے ، جن کے پاس کوئی عہدہ نہیں وہ وزیراعظم ہائوس میں بیٹھ کرمیڈیاکو کنٹرول کرتے ہیں،جوکنٹرول میں نہیں آتاانکے اشتہارات بندکرکے سزادیتے ہیں،مریم نوازنے صحافیوں کامعاشی قتل کیا۔ادھرماہرقانون اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے 92نیوزسے گفتگوکرتے ہوئے کہاایک بات واضح ہے مریم نوازنے اپنے والد کے ایماپریہ اختیار استعمال کیا،یہ جرم کااقرار ہے ،بنیادی طورپردھوکہ دہی،فراڈ،فریب اوراگر دیکھاجائے تونوازشریف کے اختیارات مریم نوازنے استعمال کئے ، میری ذاتی رائے میں یہ نیب کاکیس بنتاہے ،حیران ہوں ابھی تک صحافتی تنظیمی خاموش کیوں بیٹھی ہیں، یہ فوجداری مقدمہ ہے ، حیران ہوں ابھی تک حکومت نے ایکشن کیوں نہیں لیا،سپریم کورٹ کومریم نوازکوطلب کرناچاہئے ،ان کیخلاف باقاعدہ کارروائی ہونی چاہئے ۔
https://www.roznama92news.com/%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%AA-%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D8%AD%D9%88%D9%85



مریم نواز کی ایک اور آڈیو کال سامنے آ گئی ، کس اینکر پرسن کو ٹارگٹ کیا ؟ جانئے
Nov 25, 2021 | 17:29:PM


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستانی سوشل میڈ یا پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کال سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صد رمریم نواز کی ایک اور آڈیو کال لیک ہوگئی جس میں انہوں نے اینکر پرسن ندیم ملک کو نشانہ بنا یا ۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ندیم ملک نے مریم نواز کی ایک آڈیو کال شیئر کی جس میں مریم نواز کہتی ہیں ’سماءنیوز کو بہت موقع دیا ہے لیکن جس طرح سماءنیوز کے اینکر ندیم ملک اور جس طرح کی سماءکی خبریں ہیں ، اب ہم مزید ساتھ نہیں چل سکتے ۔‘واضح رہے مریم نواز کی گزشتہ آڈیو لیک میں ان کا کہنا تھا کہ سماء، اے آر وائی ،92نیوزاور 24نیوزکو اشتہارات نہ دئیے جائیں ۔
https://dailypakistan.com.pk/25-Nov-2021/1369968?fbclid=IwAR2mwAH3FLmcImlZZCBkpZLofNB4796OVZNyqf-hebmxhnV596S_aLJa8ws



ثاقب نثار کے نام سے منسوب کی جانے والی مبینہ آڈیو کا فرانزک کروایا تو کیا چیز سامنے آئی ؟ سینئر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے بڑا دعویٰ کر دیا
Nov 25, 2021 | 16:12:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب مبینہ آڈیو اور گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ،سینئر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دعویٰ کیاہے کہ آڈیو کا فرانزک کروا لیا گیاہے اور وہ جعلی ثابت ہوئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اظہر صدیق کا کہناتھا کہ میاں ثاقب نثار سے منسوب کی جانب سے والی مبینہ آڈیو لیک کا فرانزک کروا لیا گیاہے جو جعلی ثابت ہوئی ہے ، فرانزک پاکستان کے صحافی اور انگلینڈ کے صحافی کی جانب سے کروایا گیاہے ، آڈیو فرانزک پاکستان اور انگلینڈ میں کروایا گیاہے ، فرانزک کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ آڈیو جعلی ہے ۔

اظہر صدیق کا کہناتھا کہ جلد ہی فرانزک رپورٹ بھی منظر عام پر لا رہے ہیں ، ، نوٹری پبلک ہر قسم کے بیان کی تصدیق کر دیتاہے ،ایک شخص نے گورنر ہاﺅس لاہور کے مالک ہونے کا دعویٰ کیا ، نوٹر ی پبلک نے اس بیان حلفی کی بھی تصدیق کر دی تھی ۔رانا شمیم کے بیان کی تصدیق چارلی گتھری نے کی ہے ، نوٹری پبلک نے گورنر ہاﺅس کی ملکیت کی بھی تصدیق کر دی ۔ ان کا کہناتھا کہ مریم نواز کو چیلنج ہے کہ وہ آڈیو لے کر عدالت جائیں ۔
https://dailypakistan.com.pk/25-Nov-2021/1369964?fbclid=IwAR0z7tdqlzfyX4DMRtZrwgJKHmWNNNXKoGbc_BqIcTAsUecLBk87DcYQiKE



ن لیگ دور میں اے آر وائی کو صرف ساڑھے 8 کروڑ کے اشتہارات ملے لیکن جیو کو کتنے ارب روپے دیے گئے؟
Nov 24, 2021 | 19:59:PM
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ایک آڈیو لیک نے میڈیا انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ انہوں نے ن لیگ کے دور حکومت کے دوران چار ٹی وی چینلز کے اشتہارات بند کرنے کا حکم دیا تھا جن میں اے آر وائی نیوز، سماء، 92 نیوز اور 24 نیوز شامل ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت 2013 سے 2018 کے دوران ان کے چینل کو صرف ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کے سرکاری اشتہارات جاری کیے گئے۔ دوسری جانب جیو نیوز کو ن لیگ کے دور میں تین ارب روپے کے سرکاری اشتہارات دیے گئے۔ اس کے علاوہ ن لیگ نے ایکسپریس گروپ کو پونے دو ارب روپے کے اشتہارات دیے۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Nov-2021/1369572?fbclid=IwAR1BDLY4rDw33eqUf7LHuVCBI6CG8zXZ0__szu9WZRi6SgNoN926XxiC0Dc



پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کے حوالے سے سامنے آنے والی آڈیو کو درست قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وائرل ہونے والی آڈیو کلپ میں ان کی ہی آواز ہے اور وہ آڈیو کلپ بھی اوریجنل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نہ ہی میں یہ کہہ رہی ہوں کہ اس آڈیو کو ٹکڑوں میں جوڑ کر بنایا گیا ہے، یہ کلپ اس وقت کی ہے جب میں اپنی جماعت کا میڈیا سیل چلا رہی تھی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مریم نوازکی ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کے حوالے سے سامنے آنے والی آڈیو سے متعلق وضاحت پیش کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی گفتگو پارٹی اشتہارات سے متعلق تھی، اس آڈیو پر طوفان برپا کرنے کی ضرورت نہیں، اصل معاملے سے توجہ ہٹائی نہیں جاسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اشتہار سے متعلق فیصلہ پارٹی ہی کرتی ہے۔ یہ ایک پرانی ویڈیو ہے جس پر مریم نواز نے جرات کے ساتھ سچ بولا، انہوں نے اس وڈیو کو مانا کیونکہ اس میں چھپانے والی کوئی بات تھی ہی نہیں کیوں کہ جب کچھ غلط نہ کیا ہو تو اسی طرح کھل کر اعتراف کیا جاتا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس آڈیو کا حساب دیں جس سے ایوانِ عدل کے ماتھے پر داغ لگ گیا ہے، اس آڈیو کا جواب دیں جس نے 22 کروڑ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری کے جہنم میں دھکیل دیا ہے، اس آڈیو کا جواب دیں جس کی وجہ سے معیشت کا کباڑا ہوا اور قوم کا ووٹ چوری کرکے کٹھ پتلیاں مسلط کی گئیں۔
https://www.express.pk/story/2251039/1/


کاشف محمود جعلی ڈگری
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-24&edition=KCH&id=5855300_38630541



مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ نے اہم رہنما کی نا اہلی کے خلاف اپیل مسترد کردی
Nov 23, 2021 | 12:47:PM


اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے محمد کاشف کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے بہاولنگر سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے کاشف محمود کو نا اہل کرنے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی ڈگری کی بناء پر محمد کاشف کو نااہل قرار دیا تھا۔

ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف محمد کاشف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری پر ن لیگی ایم پی اے کاشف محمود کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/23-Nov-2021/1369095?fbclid=IwAR3JPM47PisMHwwsKVGJ5z0axdvIX4WDjOCPsWQyCTJ39OpC3NurIVyAmZQ



پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹی وی چینلز کے اشتہارات کے حوالے سے سامنے آنے والی آڈیو کو درست قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وائرل ہونے والی آڈیو کلپ میں ان کی ہی آواز ہے اور وہ آڈیو کلپ بھی اوریجنل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نہ ہی میں یہ کہہ رہی ہوں کہ اس آڈیو کو ٹکڑوں میں جوڑ کر بنایا گیا ہے، یہ کلپ اس وقت کی ہے جب میں اپنی جماعت کا میڈیا سیل چلا رہی تھی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مریم نوازکی ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کے حوالے سے سامنے آنے والی آڈیو سے متعلق وضاحت پیش کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی گفتگو پارٹی اشتہارات سے متعلق تھی، اس آڈیو پر طوفان برپا کرنے کی ضرورت نہیں، اصل معاملے سے توجہ ہٹائی نہیں جاسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اشتہار سے متعلق فیصلہ پارٹی ہی کرتی ہے۔ یہ ایک پرانی ویڈیو ہے جس پر مریم نواز نے جرات کے ساتھ سچ بولا، انہوں نے اس وڈیو کو مانا کیونکہ اس میں چھپانے والی کوئی بات تھی ہی نہیں کیوں کہ جب کچھ غلط نہ کیا ہو تو اسی طرح کھل کر اعتراف کیا جاتا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس آڈیو کا حساب دیں جس سے عدل کے ایوان کے ماتھے پر داغ لگ گیا ہے، اس آڈیو کا جواب دیں جس نے 22 کروڑ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری کے جہنم میں دھکیل دیا ہے، اس آڈیو کا جواب دیں جس کی وجہ سے معیشت کا کباڑا ہوا اور قوم کا ووٹ چوری کرکے کٹھ پتلیاں مسلط کی گئیں۔
https://www.express.pk/story/2251039/1/



سابق چیف جسٹس ثاقب کی جس آڈیو کو کال کہا جا رہا ہے وہ دراصل ہائیکورٹ بار سے خطاب نکلا، اب تک کا تہلکہ خیز دعویٰ، ویڈیو بھی سامنے آگئی
Nov 22, 2021 | 22:25:PM


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیربرائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کال لیک ہونے کے بعد اس کے ' فیک' ہونے کے حوالے سے حقائق سامنے لے آئے۔

وفاقی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نجی ٹی وی سما نیوز کا ایک کلپ شئیر کیا ہے۔ویڈیو کلپ میں مبینہ آڈیو کال اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اسلام آباد ہائی کوٹ بار سے خطاب کی ویڈیو کو دکھایا گیا ہے۔سابق چیف جسٹس خطاب کے دوران وہی باتیں کررہے ہیں جو کہ مبینہ طور پر لیک ہونے والی آڈیو کال میں سنائی دے رہی ہیں۔ویڈیو کلپ شئیر کرنے کے ساتھ فواد چوہدری نے کیپشن لکھا ہے کہ 'کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صحافی احمد نورانی کی جانب سے سابق چیف جسٹس سے منسوب آڈیو ریکارڈنگ جاری کی گئی تھی۔جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے "ہمارے پاس ججمنٹ ادارے دیتے ہیں،اس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہےاور کہا گیا ہے کہ ہم نے خان صاحب کو لانا ہے، بنتا ہے نہیں، اب کرنا پڑے گا، بیٹی کو بھی نہیں۔"مبینہ آڈیو کال میں دوسری طرف موجود شخص نے کہا "لیکن میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے۔"اس پر مبینہ طور پر ثاقب نثار کا کہنا تھا "آپ بالکل جائز ہیں ، میں نے اپنے دوستوں سے یہی کہا کہ جی اس پر کچھ کیا جائے اور میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا ۔ عدلیہ کی آزادی بھی نہیں رہے گی، تو چلیں۔"

صحافی احمد نورانی نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے اس آڈیو ریکارڈنگ کا فرانزک امریکہ سے کروایا ہے جس کی رپورٹ میں واضح ہوا کہ اس کال میں کوئی ایڈیٹنگ موجود نہیں ہے۔ احمد نورانی کے مطابق انہوں نے سابق چیف جسٹس سے بات کی تو انہوں نے کہا " میں نے کبھی بھی احتساب عدالت کے کسی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم نہیں دیا۔ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا، میرا میاں نواز شریف سے کوئی بغض نہیں ہے تو میں ایسا کیوں کروں گا؟"
https://dailypakistan.com.pk/22-Nov-2021/1368711?fbclid=IwAR3x8PF9InWey2IWgVWo-p8XnLsuj8INuKUs8nGYAWfOxCrPqSwXBjwS9FU


احد چیمہ کیس
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/23112021/P6-Lhr-035.jpg



"نواز شریف اور بیٹی کو سزا دینی ہے" سابق چیف جسٹس سے منسوب مبینہ آڈیو ، ثاقب نثار کا موقف بھی آگیا
Nov 21, 2021 | 23:08:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صحافی احمد نورانی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا دینے کیلئے کی گئی کال کی ریکارڈنگ سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب سابق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس آڈیو میں آواز ان کی نہیں ہے، یہ ان کے خلاف گھڑی گئی آڈیو ہے۔

سابق چیف جسٹس سے منسوب آڈیو ریکارڈنگ میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے "ہمارے پاس ججمنٹ ادارے دیتے ہیں،اس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہےاور کہا گیا ہے کہ ہم نے خان صاحب کو لانا ہے، بنتا ہے نہیں، اب کرنا پڑے گا، بیٹی کو بھی نہیں۔"

مبینہ آڈیو کال میں دوسری طرف موجود شخص نے کہا "لیکن میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے۔"

اس پر مبینہ طور پر ثاقب نثار کا کہنا تھا "آپ بالکل جائز ہیں ، میں نے اپنے دوستوں سے یہی کہا کہ جی اس پر کچھ کیا جائے اور میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا ۔ عدلیہ کی آزادی بھی نہیں رہے گی، تو چلیں۔"

صحافی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس آڈیو ریکارڈنگ کا فرانزک امریکہ سے کروایا ہے جس کی رپورٹ میں واضح ہوا کہ اس کال میں کوئی ایڈیٹنگ موجود نہیں ہے۔ احمد نورانی کے مطابق انہوں نے سابق چیف جسٹس سے بات کی تو انہوں نے کہا " میں نے کبھی بھی احتساب عدالت کے کسی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم نہیں دیا۔ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا، میرا میاں نواز شریف سے کوئی بغض نہیں ہے تو میں ایسا کیوں کروں گا؟"

دوسری جانب نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے یہ آڈیو ابھی سنی ہے، یہ آواز ان کی نہیں ہے، ان کے خلاف اس طرح کی چیزیں بنا کر لائی جا رہی ہیں۔ اینکر پرسن وسیم بادامی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی کچھ دیر قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ آڈیو من گھڑت ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/21-Nov-2021/1368348?fbclid=IwAR39J3Sek6cxPOcAIw4BHKxrzVMo0_HjL0_p1sP5aCyi1-laTEzUcm5I1uU



مجھ سے منسوب آڈیو من گھڑت: جسٹس ثاقب نثار
پیر 22 نومبر 2021ء

اسلام آباد(92نیوزرپورٹ)سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکامبینہ لیک آڈیوآنے پرردعمل آگیا،انہوں نے خودسے منسوب آڈیوکومن گھڑت قراردیدیا اورکہا میں نے آڈیوسنی،یہ فیبریکیٹڈ آڈیو ہے ،میرے خلاف اس طرح کی چیزیں لائی جارہی ہیں،اللہ دیکھ رہاہے ۔
https://www.roznama92news.com/%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%86%D8%B3%D9%88%D8%A8%D8%B3-%D8%AB%D8%A7%D9%82%D8%A8-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1


 ، شہبازشریف کیس ،چپڑاسیوں کے اکاؤنٹ سے 16 ارب
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108815165&Issue=NP_PEW&Date=20211121


کسی ادارے کا دباؤ نہیں، چیف جسٹس

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108815160&Issue=NP_PEW&Date=20211121



شہباز شریف کیخلاف شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس، بینکنگ کورٹ کی ایف آئی اے کو چالان جمع کرانے کی آخری مہلت
Nov 20, 2021 | 10:03:AM


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) بینکنگ کورٹ لاہور میں شہباز شریف اور حمزہ کے خلاف شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ایف آئی اے کو ملزمان کے خلاف چالان جمع کرانے کی آخری مہلت دے دی ۔

بینکنگ کورٹ لاہور میں شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی ، شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت پیش ہوئے اور حاضری مکمل کرائی ، دوران سماعت ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کیلئے مزید مہلت طلب کرلی ، ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ملزمان ابھی تک تفتیش میں شریک نہیں ہو رہے اس لئے مزید مہلت دی جائے ۔ عدالت نے کہا کہ ہم تمام ملزمان کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ تفتیش کا حصہ بنیں ۔

دوران سماعت شہباز شریف نے چند گزارشات پیش کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ میں اسلام آباد میں تھا آج آپ کی عدالت پیش ہوا ہوں، میرے خلاف یہ کیس پہلے ہی نیب دیکھ چکا ہے، شوگر ملز میں تنخواہ لی ،نہ فائد ہ لیا اور نہ ہی شئیر ہولڈر ہوں، میرے اکاونٹ میں دھیلا بھی نہیں آیا، میرے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے میرے بچوں کو اربوں کا نقصان ہوا، میں نے گنے کی قیمت کم نہیں کی تاکہ کسان کو نقصان نہ ہوا، میرے عمل کا حساب ہوگا، میں نے کاشت کار کوفائدہ پہنچایا۔

جج بینکنگ کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا ان سب باتوں کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے؟۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ سب مجھے بے نامی دار بنا رہے ہیں ،میں نے ایتھنول پر 2 روپے ایکسائز ڈیوٹی لگائی، ڈھائی ارب اکٹھے کیے، موجودہ حکومت نے یہ ڈیوٹی واپس لے لی ،اگر میں نے کرپشن کرنی تھی تو خاندان کو اربوں روپے کا نقصان کیوں کرواتا؟ ۔

عدالت نے ایف آئی اے سے استفسارکیا کہ ایف آئی اے سے چالان کا کہا گیا تھا چالان کہاں ہے؟، ایف آئی اے نے مزید مہلت مانگی, عدالت نے کہا کہ ملزمان کی طرف سے ایک بھی تاریخ نہیں مانگی گئی ، ملزم فریق کو تو اچھالگتا ہے آپ چاہے دو ماہ کی تاریخ لیں ، عدالت نے شہباز شریف سمیت تمام ملزمان کی عبوری ضمانت میں 11 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نامکمل چالان طلب کرلیا۔
عدالت نے ایف آئی اے سے کہا کہ آئندہ تاریخ پر چالان کے لئے مہلت نہیں ملے گی ۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Nov-2021/1367918?fbclid=IwAR0lOF6Zw8bby9hWhzFpXlaTdkDq2mIJuslGMO-BjWA7JB0NliApUNS2DnM



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/20112021/p1-lhr014.jpg



سابق چیف جج رانا شمیم کے بیٹے نے فیصل واوڈا کو انوکھا چیلنج دیدیا
Nov 20, 2021 | 00:26:AM


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف جج گللت بلتستان رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے سینیٹر فیصل واوڈا کو گاڑی پر ریس لگانے کا چیلنج دیا ہے۔

صحافی عمر انعام کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ میرے پاس مرسڈیز سمیت دیگر گاڑیاں ہیں اور اپنا فارم ہاؤس بھی ہے۔ فیصل واوڈا کو بھی گاڑیوں کا شوق ہے میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ گاڑیوں کی ریس لگائیں۔ احمد حسن رانا کے اس کلپ کو فیصل واوڈا نے بھی شیئر کیا ہے اور کیپشن میں لکھا ہے کہ چیلنج قبول ہے وقت اور جگہ بتائیں۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Nov-2021/1367625?fbclid=IwAR2fT7VOCBla1AudmxBUxI5RzrhcGjmBxUt4YT3EqCvTs7UbECNRWi4Fczw


ڈالر قیمت اضافہ ،نجی بنکوں کا عملہ ملوث
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/19112021/P1-LHR-023.jpg



ٹی ٹی سکینڈل، ملزم نے شہباز فیملی کیلئے سہولت کاری کی: نیب، رپورٹ احتساب عدالت میں پیش
جمعه 19 نومبر 2021ء

لاہور،اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی،نامہ نگار، نیوز ایجنسیاں)نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف خاندان کے ٹی ٹی سکینڈل میں گرفتار ملزم علی احمد خان سے متعلق رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق ملزم نے منی لانڈرنگ میں نہ صرف مدد کی بلکہ سہولت کاری بھی کی،علی احمد خان شہباز شریف کا بے نامی دار بھی ہے اور 2010 ئسے 2018 ئتک ڈی جی پی آر اور چیف منسٹر ہاؤس میں ملازم رہا،شہباز شریف نے ملزم کی بھرتی کے لیے رولز میں نرمی کی۔احتساب عدالت اسلام آباد نے آصف زرداری وغیرہ کیخلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی اور میگامنی لانڈرنگ ریفرنسز میں نیب کی طرف سے بریت کی درخواستوں پر جواب کیلئے مہلت کی استدعا پر سماعت چھ دسمبر تک ملتوی کردی،عدالت نے آصف زرداری،فریال تالپور و دیگر کی ایک روزہ حاضری استشنیٰ کی درخواست منظورکرلی۔احتساب عدالت نے آصف زرداری کیخلاف آٹھ ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کے ریفرنس پر سماعت بغیر کارروائی نو دسمبر تک ملتوی کردی۔احتساب عدالت نے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی وغیرہ کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں نیب کی طرف سے بریت کی درخواست پر جواب کیلئے مہلت کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی،عدالت نے سابق صدرو دیگر کی ایک روزہ حاضری استثنی کی درخواستیں منظور کرلیں۔ مسلم لیگ(ن)کے صدر شہبازشریف اوراپوزیشن لیڈرپنجاب اسمبلی حمزہ شہبا آج نیب عدالت جوہر ٹاؤن میں پیش ہوں گے ۔احتساب عدالت لاہور نے شریف فیملی کے سی ایف او محمد عثمان کی ضمانت پر رہائی کا تین صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔احتساب عدالت لاہور نے سستی گاڑیوں کے نام پر ساڑھے 3 کروڑ فراڈ کیس میں ملوث 2 ملزمان شفیق حالی اور محمد اعظم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 12 روز کی توسیع کردی جبکہ نندی پور پراجیکٹ میں 22 کروڑ کے فرنس آئل چوری کیس میں ملوث 5 ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر نیب سے 2دسمبر تک جواب طلب کرلیا،عدالت نے 4 ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرکے آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیدیا۔احتساب عدالت نے ایم ڈی نیشنل فرٹیلائزرکمپنی ودیگرکے خلاف کیس میں ایم ڈی ملزم کامران سعید کی بریتپرنیب سے 30نومبرکوجواب طلب کرلیا جبکہ آئی جی آفس میں ملازمین کی میرٹ سے ہٹ کر بھرتی کے کیس میں آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کے حوالے سے ملزمان کو طلب کر لیا۔
https://www.roznama92news.com/%D8%B2%D9%85-%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%DB%8C%D8%B4



نیب شہباز شریف خاندان کیخلاف ٹی ٹی سکینڈل میں گرفتار ملزم علی احمد خان کا کردار سامنے لے آیا
Nov 18, 2021 | 10:39:AM


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نیب شہباز شریف خاندان کے خلاف ٹی ٹی سکینڈل میں گرفتار ملزم علی احمد خان کا کردار سامنے لے آیا ، نیب رپورٹ کے مطابق ملزم نے منی لانڈرنگ میں نہ صرف مدد کی بلکہ سہولت کاری بھی کی ۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق نیب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملزم علی احمد خان شہباز شریف کا بے نامی دار بھی ہے ، ملزم سال 2010 سے 2018 تک ڈی جی پی آر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملازمت کرتا رہا ، شہباز شریف نے ملزم کی بھرتی کے لئے رولز میں نرمی کی ، ملزم نے ملازمت کے دوران دو بے نامی کمپنیاں بنانے میں مدد اور سہولت کاری فراہم کی ۔

نیب رپورٹ کے مطابق ان دونوں کمپنیوں سے ایک ہزار 884 ملین( ایک ارب 88 کروڑ 40 لاکھ ) روپے سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی ۔ ملزم نے کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لئے بیرون ممالک سے ترسیلات وصول کیں۔ ملزم کے اثاثوں کی مالیت سال 2016 میں 1.372 ملین تھی جو بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات کے بعد 43.726 ملین ہو گئی ۔

نیب رپورٹ کے مطابق ملزم جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہے جسے یکم دسمبر کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Nov-2021/1367118?fbclid=IwAR0pXbYbx50DGvKUlti_fxpT722k8nZOgHY1yQK4EdohTyURCPhY9Q0sLD8


مریم نواز اثاثے کیس
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108808035&Issue=NP_PEW&Date=20211118


رانا شمیم بیان پر اعتزاز
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-18&edition=KCH&id=5848358_94928179



گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کا معاملہ ، اعتزاز احسن بھی میدان میں آگئے
Nov 18, 2021 | 10:26:AM

لاہور (ویب ڈیسک) سینیئر سیاستدان اور وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کو مشکوک قرار دے دیا، جسٹس عمر فاروق صاحب نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں پر سماعت کرنے والے بینچ میں شامل نہیں تھے اور اس وقت وہ ملک میں بھی نہیں تھے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے کہا کہ رانا شمیم کا بیان حلفی بظاہر بالکل بوگس ہے، یہ بیان حلفی ماضی کے کیلبری فونٹ اور قطری خط جیسا معرکہ ہے، کوئی چیف جسٹس کھلے عام اس طرح کی ہدایات نہیں دے سکتے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ رانا شمیم کے بیان حلفی کے پیچھے کون ہے۔ رانا شمیم کے بھائی 6 تاریخ کو فوت ہوئے اور وہ 8 تاریخ کو لندن میں بیان حلفی تیار کررہے تھے، لندن سے یہ بیان حلفی بنایا جاتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ لندن نواز شریف کا گھر ہے، نواز شریف آج تک اپنی منی ٹریل تو دے نہیں سکے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Nov-2021/1367111?fbclid=IwAR3r_Wl57zenV0KB7wKI1Qp6TsJxfi8BK3QAOiI_iHzVcZ7mML3df1iojlY


رانا شمیم کا نواز شریف سے براہ راست رابطہ
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-17&edition=KCH&id=5847068_86328372



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-17&edition=KCH&id=5847046_66450555



 سینیئر سیاستدان اور وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کو مشکوک قرار دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے کہا کہ رانا شمیم کا بیان حلفی بظاہر بالکل بوگس ہے، یہ بیان حلفی ماضی کے کیلبری فونٹ اور قطری خط جیسا معرکہ ہے، کوئی چیف جسٹس کھلے عام اس طرح کی ہدایات نہیں دے سکتے۔ جسٹس عمر فاروق صاحب نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں پر سماعت کرنے والے بینچ میں شامل نہیں تھے اور اس وقت وہ ملک میں بھی نہیں تھے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ رانا شمیم کے بیان حلفی کے پیچھے کون ہے۔ رانا شمیم کے بھائی 6 تاریخ کو فوت ہوئے اور وہ 8 تاریخ کو لندن میں بیان حلفی تیار کررہے تھے، لندن سے یہ بیان حلفی بنایا جاتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ لندن نواز شریف کا گھر ہے، نواز شریف آج تک اپنی منی ٹریل تو دے نہیں سکے۔
https://www.express.pk/story/2248299/1/



"میرے والد کی نواز شریف سے ذاتی دوستی، کورونا سے پہلے دونوں کی ملاقات ہوئی تھی" جسٹس (ر) رانا شمیم کے صاحبزادے کا اہم انکشاف
Nov 16, 2021 | 22:30:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے صاحبزادے اور وکیل احمد حسن رانا کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی نواز شریف سے پرانی دوستی ہے، کورونا سے پہلے جب وہ انگلینڈ گئے تو ان کی سابق وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تھی، 26 نومبر کو ان کے والد ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں گے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن رانا نے کہا کہ وہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے والد کی طرف سے کیس کی اگلی تاریخ لینے کیلئے پیش ہوئے تھے۔ والد صاحب نے کہا کہ جتنا کہا جائے اتنا ہی کرو، وہ اپنی مرضی سے بات کرتے ہیں، جتنا انہوں نے بتایا اتنا بول دیا اور جتنا منع کریں گے وہ نہیں بولوں گا۔

انہوں نے کہا"میرےوالد سابق چیف جسٹس ہیں اور انہیں آرڈر دینے کی عادت ہے، میرے دوستوں سے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ اپنے والد کے سامنے میری کیا حیثیت ہے، میں 43 سال کا ہوگیا ہوں ، اگر میں نے رات کو سنوکر کھیلنے جانا ہو تو والد صاحب سے اجازت لینی پڑتی ہے۔میں نے فون کیا اور کہا کہ کیا میں بات کرسکتا ہوں تو بچوں نے بتایا کہ وہ آرام کر رہے ہیں۔ میری بیگم اجازت لے کر دیں گی تو ہی ان سے کیس کے بارے میں مزید بات کرسکتا ہوں۔"

احمد حسن نے بتایا کہ ان کے والد کورونا سے پہلے انگلینڈ گئے تھے اور وہاں انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ ان کے والد کا نواز شریف سے براہ راست رابطہ رہا ہے،انہوں نے میمو گیٹ سکینڈل میں بھی ان کی وکالت کی، دونوں دوست ہیں اور ذاتی طور پر ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جس وقت نواز شریف گرفتار ہوئے تو اس وقت وہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تھے، وہ جیل میں نواز شریف سے ملاقات کیلئے گئے تو اپنا تعارف کرایا جس پر نواز شریف بڑے تپاک کے ساتھ ملے۔ احمد حسن نے کہا کہ 26 نومبر کو اگلی پیشی ہے جس پر ان کے والد جسٹس (ر) رانا شمیم عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے ایک حلف نامہ جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سامنے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک جج کو فون کرکے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں دینی۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Nov-2021/1366323?fbclid=IwAR0CdyXrB9ZxvBtQXpcxCQBfCWTvFHdaXyN508YzDsQO74VmbG8xxD9yeuc



ریونیوکورٹ نےنواز شریف کو بڑی خوشخبری سنا دی
Nov 16, 2021 | 16:33:PM


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کےقائداورسابق وزیر اعظم نواز شریف کی لاہور میں واقع جائیداد کی 19 نومبر کو ہونے والی نیلامی روک دی گئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف سے 80 لاکھ پاؤنڈز جُرمانہ وصولی کےکیس میں اُن کی اَپرمال پر واقع جائیداد کی نیلامی رواں ماہ 19 نومبر کو ہوناتھی جسے ریونیو جج نے روک دیا ہے۔ریونیو جج نےاسٹنٹ کمشنر(اے سی)کینٹ اور اے سی رائیونڈ کو نیلامی نہ کروانے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر (اے سی)لاہور نےاحتساب عدالت نمبر تین کےحکم پررواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو نوازشریف کی 135 اپر مال لاہور میں واقع جائیداد 19نومبر کو نیلام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ جائیداد کی نیلامی کے لیے کینٹ ٹاؤن ہال سمیت دیگر مقامات پر اشتہار آویزاں کیے جائیں۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Nov-2021/1366283?fbclid=IwAR1BHa40sbYNFSJimtur8-wbbRDpPM9_m419CYCO-lZ5KfegHio9tYDW14U






"سابق جج رانا شمیم 2019 سے حسن نواز سے رابطے میں تھے" تہلکہ خیز دعویٰ
Nov 15, 2021 | 20:15:PM


لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی اظہر جاوید نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز سے سنہ 2019 سے رابطے میں تھے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اظہر جاوید نے کہا کہ رانا شمیم 2019 سے حسن نواز کے ساتھ رابطے میں تھے اور بار بار اپنی گواہی دینے کا کہہ رہے تھے۔ وہ 9 نومبر کو امریکہ سے لندن آئے اور 10 نومبر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے بعد واپس چلے گئے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ لندن میں ان کی میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے یا نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پہلی چیز ہے، اور بھی چیزیں تیار ہیں جو آ رہی ہیں، جلد ہی بڑا دھماکہ ہوگا جو کہ ویڈیو کی شکل میں ہوگا۔ ویڈیوز حتمی مراحل میں ہیں، ان کا فرانزک ہو چکا ہے اور ایڈیٹنگ مکمل ہو چکی ہے، ان ویڈیوز میں ثاقب نثار کا براہ راست نام موجود ہے۔

خیال رہے کہ سابق جج رانا شمیم نے لندن میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ثاقب نثار اپنی فیملی کے 27 افراد کے ساتھ گلگت بلتستان میں چھٹیاں گزارنے آئے تو اس وقت انہوں نے فون پر ایک جج سے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں ہونی چاہیے۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365901?fbclid=IwAR2_45WE3XsAiZ6ot2JVutEoNytNDDXAzh91yNrLLlFqKHRhs0isbWmy3QU



جسٹس (ر) رانا شمیم کا نوازشریف اور ثاقب نثار سے متعلق بیان، یوکے نوٹری پبلک کا موقف بھی آگیا
Nov 16, 2021 | 10:19:AM


کراچی (ویب ڈیسک) یوکے نوٹری پبلک نے جسٹس (ر) رانا شمیم کے رضاکارانہ طور پر دیے گئے بیان کی تصدیق کردی، چارلس گھتری نے کہاکہ راناشمیم نے حلف نامہ 10 نومبرکو ملاقات میں ریکارڈکرایا۔اس کےعلاوہ چارلس گھتری نے نواز شریف کے ہیلتھ ریکارڈ کی بھی تصدیق کی تھی۔

جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ رانا شمیم حلف پربیان دیتے ہوئے تنہا تھے اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔نوٹری پبلک نے پاناما جےآئی ٹی کی کارروائی کے دوران پاکستان ہائی کمیشن کیلئےبھی کام کیاتھا اور چارلس گھتری نے ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق نیب کے لیے دستاویز کی بھی تصدیق کی تھی۔

واضح رہےکہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

سابق چیف جسٹس نے رانا شمیم کے انکشافات پر اپنے رد عمل میں کہا کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبرحقائق کے منافی ہے، سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے سفید جھوٹ پرکیا جواب دوں۔ثاقب نثار نے کہا کہ رانا شمیم بطورچیف جسٹس گلگت بلتستان ایکسٹینشن مانگ رہے تھے جو میں نے منظورنہیں کی اور ایک مرتبہ رانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نا دینے کا شکوہ بھی کیا تھا۔

گلگت بلتستان کی سپریم ایپلٹ کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو میری مدت ملازمت میں توسیع کا کوئی اختیار نہیں تھا، وہ اپنی کی ہوئی باتوں پر قائم ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Nov-2021/1366240?fbclid=IwAR09ARi1wkU64mZHH2cMCxVtPp-xj7WuUvBDAgYiRIl30wD8kWOMdOmZ1Ac



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/16112021/P6-Lhr-002.jpg



چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا حلف نامہ جوڈیشل ریکارڈ کا حصہ نہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں سے متعلق خبر پر سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، صحافی انصار عباسی ، خبر شائع کرنے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے خلاف کیس پر سماعت کی۔ سماعت سے قبل ‏رانا شمیم کے بیٹے نے عدالتی عملے سے کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگ لی۔

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے خبر شائع کرنے والے اخبار کے چیف ایڈیٹر کو روسٹرم پر بلا کر ریمارکس دیئے کہ آزادی اظہار رائے بھی بہت ضروری ہے لیکن انصاف کی فراہمی بھی اہم ہے، آپ کی رپورٹ نے لوگوں کے حقوق کو متاثر کیا ہے، اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نا ہوتا تو یہ سماعت شروع نہ کرتا، میں نے سماعت اس لیے شروع کی کیونکہ ہم بھی احتساب کے قابل ہیں، اس عدالت کے ہر جج نے کوشش کی کہ عوام تک انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے ، اگر عوام کا اعتماد عدلیہ پرنا ہو تو یہ بہت الارمنگ ہے، آپ ایک بڑے میڈیا ہاؤس اور اخبار کے مالک ہیں، اگر کوئی حلف نامہ کہیں بھی دے دے تو کیا آپ اس کو پہلے صفحے پر چھاپ دیں گے؟۔

دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی انصار عباسی سے استفسار کیا کہ یہ حلف نامہ تو جوڈیشل ریکارڈ کا بھی حصہ نہیں، 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ہوئی ، 16 جولائی کو اپیلیں فائل ہوئیں ، میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت بیرون ملک چھٹی تھے، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے سامنے کیس مقرر ہوا، اپیلوں کی پیروی خواجہ حارث کررہے تھے، کیا آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ الیکشن سے پہلے کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کی انہوں نے کوئی درخواست کی تھی؟، خواجہ حارث جانتے تھے کہ اسی روز سزا معطل ہو ہی نہیں سکتی ، عدالت نے سب سے جلدی کی تاریخ 31 جولائی کی دی کیونکہ ان دنوں چھٹیاں تھیں، جس جج کا نام آپ نے لکھا نہیں اور عدلیہ پر سوال اٹھا ہے، لوگوں کا عدالت پر اعتماد تباہ کرنے کے لیے باتیں بننا شروع ہو گئیں، کیا اس عدالت کا جج کہیں سے ہدایات لیتا ہے؟۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ میری عدالت کے جج کے گھر یا چیمبر میں کوئی رسائی لے رہا ہے تو میں اس کا جواب دہ ہوں، اگر رانا شمیم یا انصار عباسی ثبوت لے آئیں تو میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف کارروائی کروں گا۔

معاملہ کیا ہے؟

گزشتہ روز اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حلف نامے کا ذکر ہے، حلف نامے میں رانا شمیم نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 14جولائی 2018 کو ایک 27 رکنی وفد کے ہمراہ گلگلت بلتستان آئے تھے، وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لان میں بیٹھے تھے اور ٹیلی فون پر ہدایات دے رہے تھے۔

رانا شمیم اپنے حلف نامے میں مزید کہتے ہیں کہ انھوں نے دیکھا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار پریشان تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے، انھیں ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کے پاس جاؤ۔ اس جج سے میری بات کرواؤ اور اگر بات نہ ہو سکے تو اس جج کو میرا پیغام دے دیں کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے۔ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو میاں ثاقب نثار پُرسکون ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔

ثاقب نثار کا موقف

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ نہ تو انھوں نے اس وقت کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے ملاقات کی اور نہ ہی انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے سلسلے میں کسی کو ہدایات دی تھیں، جب وہ خود پاکستان کے چیف جسٹس تھے تو انھیں سابق وزیر اعظم کو جیل میں رکھنے سے متعلق کسی جج سے ملاقات کرنے یا ہدایات دینے کی کیا ضرورت تھی۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے وہ اس بیان پر چارہ جوئی کرکے رانا شمیم کے اس بیان کو اہمیت نہیں دینا چاہتے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، عامر غوری اور انصار عباسی کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے۔
https://www.express.pk/story/2247789/1/



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-16&edition=KCH&id=5846005_78033757



"ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے جج کو حکم دیا تھا کہ نوازشریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے "سابق جج کا تہلکہ خیز دعویٰ، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا
Nov 15, 2021 | 11:20:AM


کراچی (ویب ڈیسک)سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی تحریر میں دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

مقامی اخبار ’’روزنامہ جنگ‘‘ میں انہوں نے لکھا کہ گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔‘‘ شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

نوٹری پبلک کی مہم کے ساتھ لکھا ہے کہ شمیم نے حلفیہ میرے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو اس دستاویز پر دستخط کیے۔ رابطہ کرنے پر رانا شمیم نے پہلے تو حلف نامے کے مندرجات کی تصدیق کی۔ اس نمائندے نے حلف نامے کے مندرجات اُنہیں واٹس ایپ کال کے ذریعے پڑھ کر سنائے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ صحیح سے سُن نہیں پا رہے۔

رپورٹ کے مطابق اُنہیں ایک مرتبہ پھر فون کال کی گئی لیکن پھر اُن کا واٹس ایپ بند ہوگیا۔ اُنہوں نے باقاعدہ کی گئی فون کالز بھی وصول نہیں کیں اور پھر اُن کا فون بھی بند ہوگیا۔چند گھنٹے بعد، گلگت بلتستان کے سابق جج نے اِس نمائندے کو ایک اور فون نمبر سے پیغام بھیجا جس میں انہوں نے اپنے بیان کے مندرجات کی تصدیق کی۔

اس حوالے سے جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا اور کہا انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے چاہے وہ آرڈر نواز شریف، شہباز، مریم کیخلاف ہو یا کسی اور کیخلاف،،،ہائی کورٹ کے جج کا نام ایڈیٹ کرنے کے سوا، شمیم کا حلفیہ بیان ذیل میں پیش کیا جارہا ہےجو کچھ اس طرح تھا "میں جسٹس ڈاکٹر رانا محمد شمیم، سابق چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ آف گلگت بلتستان(31اگست 2015ء تا 30؍ اگست 2018ء) حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ:

۱) جولائی 2018ء میں جب میں چیف جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا، اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار تعطیلات کے سلسلے میں اپنی فیملی کے 27؍ افراد کے ہمراہ گلگت آئے اور انہوں نے عدالت کے مہمان خانے میں قیام کیا۔

۲) جس شام کا یہ واقعہ ہے اس دن میں، میری مرحوم اہلیہ، جسٹس ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ باغ میں چائے پی رہے تھے، میں نے دیکھا کہ چیف جسٹس پاکستان پریشان تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے اور انہیں ہدایات دے رہے تھے کہ جسٹس ۔۔۔ کی رہائش گاہ پر جاؤاور ان سے درخواست کرو کہ مجھے (ثاقب نثار کو) فوراً فون کرے۔

۳) اگر فون کال نہ لگ پائے تو اُن تک میری (ثاقب نثار کی) طرف سے یہ پیغام پہنچانا کہ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں ملنا چاہئے۔

۴) اس کے تھوڑی ہی دیر بعد اُن کی جسٹس ۔۔۔ سے فون پر بات چیت ہوگئی اور انہوں نے اُسے بتایا کہ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔

دوسری طرف سے یقین دہانی ملنے پر وہ پرسکون ہوگئے اور خوشی سے چائے کا ایک اور کپ مانگا۔

۵) میں نے بحیثیت ایک ساتھی اور میزبان کے، اُن سے کہا کہ وہ گلگت بلتستان میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں منائیں اور ان سے کہا کہ انہوں نے جسٹس ۔۔۔۔ کو یہ پیغام کیوں پہنچایا اور کس لیے۔ انہوں نے مجھے جواب دیا، رانا صاحب آپ نہیں سمجھیں گے، آپ اس بات کو یوں سمجھیں کہ جیسے آپ نے کچھ نہیں سنا۔

میں نے اُنہیں اپنی مرحومہ اہلیہ اور اُن کی اہلیہ کے روبرو کہا کہ میاں نواز شریف کو غلطی سے پھنسایا گیا ہے اور ان کی سزا اور مریم نواز شریف کی سزا کو دیکھ کر اور ان کی فون کال سن کر یہ واضح ہو جاتا ہے۔

پہلے تو وہ (ثاقب نثار) ناراض ہوگئے لیکن فوراً ہی لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ رانا صاحب پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔

۶) جو کچھ میں نے یہاں بیان کیا ہے وہ رضاکارانہ ہے اور مکمل طور پر سچ ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز دونوں کو احتساب عدالت نے 25؍ جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے قبل کرپشن کیس میں سزا سنائی تھی ان کے وکلاء نے سزا کی معطلی کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن ابتدائی سماعت کے بعد کیس جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردیا گیا تھا"۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365837?fbclid=IwAR3OsCSZpRffjMAVuuTptrpuY9iXH7nW2R12VbTpw2Mi2EtH-u-Txclg1Ds



سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے الزامات پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا رد عمل سامنے آ گیا
Nov 15, 2021 | 12:21:PM


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے الزامات پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے خاموشی توڑتے ہوئے رد عمل جاری کر دیاہے جس میں انہوں نے ان تمام دعوﺅں کو جھوٹ قرار دیاہے ۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبر حقائق کے منافی ہے، سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے سفید جھوٹ پر کیا جواب دوں۔ثاقب نثار نے کہا کہ رانا شمیم بطور چیف جسٹس گلگت بلتستان عہدے کی توسیع مانگ رہے تھے جو میں نے منظور نہیں کی۔ ایک مرتبہ رانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نہ دینے کا شکوہ بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایک معروف صحافی انصار عباسی نے خبر دی ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ءکے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365847?fbclid=IwAR0jxbRRB3F0gralalR73zVj2DoO8dPx1djaeTLmUjVaqz0eyB_TrqjyTXY



سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزامات کے بعد گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم ایک مرتبہ پھر میدان میں آ گئے
Nov 15, 2021 | 13:29:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم ایک مرتبہ پھر سے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کے ردعمل پر میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے کہاہے کہ میں خبر میں دی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے پاس قانون کے مطابق مجھے ایکسٹینشن دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا شمیم کا کہناتھا کہ میں نے اپنی مدت پوری کی ،مجھے ایکسٹینشن مانگنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، ثاقب کون ہوتے ہیں مجھے ایکسٹینشن دینے والے ، ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان تھے، میں نے ثاقب نثار کے گلگت آنے پر کوئی سرکاری خرچ نہیں کیا تھا ۔رانا شمیم کا کہناتھا کہ ایکسٹینشن دینے کا اختیار وزیراعظم کے پاس تھا جسٹس ثاقب نثار کے پاس نہیں تھا ۔ حلف نامے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلف نامہ کب اور کس کو دیاہے یہ درست وقت آنے پر سامنے لاﺅں گا ۔ان کا کہناتھا کہ جی بی اور آزاد کشمیر کی گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے ، میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں ہوں جو سیاسی بیانات دوں ، جو بھی حقائق معلوم تھے سامنے لے آیا ہوں ۔

یاد رہے کہ سینئر صحافی انصار عباسی نے خبر شائع کی تھی جس میں کہا تھا کہ” گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ”میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔“ رانا شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ئ کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

اس معاملے پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا رد عمل بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ میرے متعلق رپورٹ ہونے والی خبر حقائق کے منافی ہے، سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے سفید جھوٹ پر کیا جواب دوں۔ثاقب نثار نے کہا کہ رانا شمیم بطور چیف جسٹس گلگت بلتستان عہدے کی توسیع مانگ رہے تھے جو میں نے منظور نہیں کی۔ ایک مرتبہ رانا شمیم نے مجھ سے ایکسٹینشن نہ دینے کا شکوہ بھی کیا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365856?fbclid=IwAR03V9lNTYehsz-36p5NZUgZ1E65ZhtvQQ56zRxgrnuGUQcbxxrKeG5OduY



نواز شریف اور مریم نواز کو نشانہ بنانے کا کھیل ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا، شہباز شریف
Nov 15, 2021 | 12:16:PM


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو نشانہ بنانے کا کھیل ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ انصار عباسی کی دھماکہ خیز سٹوری نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف میگا سکیم کو بے نقاب کیا ، حق کے ظہور کے لئے اللہ کا اپنا ایک طریقہ ہے ۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ عوام کی عدالت میں نواز شریف اور مریم نواز ایک بار پھر سرخرو ہوئے ، الحمد للہ ۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365846?fbclid=IwAR1ZxVPvoCHrk-6RQyqctrEOs0nQYbr_WeB-ZoHUcjmDlFDhk_zoDIC1TlY



جی بی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے حلفیہ بیان کس ملک میں ریکارڈ کروایا ؟ شاہد خاقان عباسی نے بتاد یا
Nov 15, 2021 | 15:47:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ سابق چیف جسٹس جی بی رانا شمیم نے حلف اٹھا کر بیان دیاہے ، یہ بیان لندن میں ایک اوتھ کمشنر کے سامنے دیا گیاہے ، کہا گیا کہ نوازشریف ، مریم نواز کی جنرل الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں ہونی چاہیے ۔

تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کو نااہل قرار دے کر سیاست سے الگ کر دیا گیا ،ہم کب تک ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیلیں گے ،رانا شمیم کے بیان پر یقین کرنا پڑے گا ، انہوں نے حلفیہ یہ بیان دیا ہے ، رانا شمیم اور ثاقب نثار سمیت تین ججز کو حقیقت کا علم ہے ،پاکستان کے عوام کو بھی سچ کا پتا چلنا چاہیے ۔

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ ثاقب نثار نے ہسپتالوں کے دورے کیئے ، ڈیم بنانے کی کوشش کی ، یہ ملک کے نظام میں غیر آئنی مداخلت ہے ۔اگر ملک کا چیف جسٹس ملوث ہو تو انصاف کہاں سے ملگا ، دعا ہے کہ وہ ملوث نہ ہوں ،اگر رانا شمیم جھوٹ بول رہے ہیں تو سزا دی جائے ، اگر سچ بول رہے ہیں تو پھر ثاقب نثار کی جگہ جیل میں ہے، الیکشن کے عمل میں مداخلت ہو تو کیا ہم پوچھنے کا بھی حق نہیں رکھتے ؟ ۔ان کا کہناتھا کہ رانا شمیم نے لندن میں بغیر کسی دباﺅ کے اوتھ کمشنر کے سامنے بیان دیاہے ۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365863?fbclid=IwAR1R3yciCSOEQ2M9wGLstDZkNw1r495FTU3-BmIYzo9v6jypobV0jjD2Stc



جی بی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانا شمیم کا دعوی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا ، سماعت کب ہو گی ؟ جانئے
Nov 15, 2021 | 15:07:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے الزامات پر نوٹس لے لیاہے ، کچھ دیر میں سماعت ہو گی ۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شیم کے نوازشریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق دعوے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معاملے کا نوٹس لے لیاہے ۔ معاملے کا نوٹس ہائیکورٹ کے جج کا نام آنے کے بعد لیا گیاہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کچھ دیر کے بعد سماعت کریں گے ۔
https://dailypakistan.com.pk/15-Nov-2021/1365861?fbclid=IwAR2LRk1i_r9JVOhMyf_h5th5QX46j_SFz6o96vZbg9-1zSrGOvYz5pcuScY



چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق سابق جج کے انکشافات پر سابق سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اور دیگر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی نیب ریفرنسز فیصلوں پر نظر ثانی اپیلوں سے متعلق انکشافات کا نوٹس لے لیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا نام آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی انصار عباسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کردیا ۔ اس کے علاوہ سابق جج رانا شمیم کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

’مجھے اس عدالت کے ہر جج ہر فخر ہے‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کو کمرہ عدالت طلب کرلیا ، انہوں نے صدر اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن ثاقب شیر سے استفسار کیا کہ اس عدالت نے ہمیشہ اظہار رائے کی قدر کی ہے اور اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے ، مجھے اس عدالت کے ہر جج ہر فخر ہے، اگر اس عدالت کے غیر جانبدارانہ فیصلوں پر اگر اسی طرح انگلی اٹھائی گئی یہ اچھا نہیں ہے، یہ عدالت آپ سب سے توقع رکھتی ہے کہ لوگوں کا اعتماد اداروں پر بحال ہو،زیر سماعت کیسسز پر اس قسم کی کوئی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ اس عدالت کی آزادی کو کوئی مشکوک بنائے گا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے تمام فریقین کو منگل کی صبح 10 بجے طلب کرلیا۔ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

معاملے کا پس منظر

پیر کے روز ایک مقامی انگریزی آخبار میں خبر شائع ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے 10 نومبر 2021 کو اوتھ کمشنر کے روبرو اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہچیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا“۔
https://www.express.pk/story/2247462/1/



شہباز شریف خاندان کےخلاف منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیشرفت ، مرکزی ملزم گرفتار
Nov 16, 2021 | 18:29:PM


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے صدر اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ،قومی احتساب بیورو (نیب)نےٹی ٹی کیس کے مرکزی ملزم علی احمد خان کو گرفتار کر لیاہے،ملزم سلمان شہباز کا کلاس فیلو بتایا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی کےمطابق ٹی ٹی سکینڈل کےمرکزی ملزم علی احمد خان کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیاگیاہے،ملزم نیب کودو سال سے مطلوب تھا ،ملزم علی احمد خان شہباز شریف دور میں وزیراعلی ہاوس میں تعینات تھا،ملزم کی کمپنی کے ذریعے شہباز شریف کا منی لانڈرنگ کرنےکاالزام ہے۔ نیب لاہور کی ٹیم نےنجی ہوٹل کےسامنےسےملزم کی گرفتاری عمل میں لائی، گرفتار ملزم کو راہداری ریمارنڈ کیلئے کل احتساب عدالت پیش کیا جائیگا، راہدری ریمارنڈ کے بعد ملزم کوتفتیش کیلئے نیب لاہور منتقل کیا جائےگا۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Nov-2021/1366299?fbclid=IwAR03S7FNkoNcwrvXUJ_HBxrTj0_haJfd_xb2DsG8-UJDDCxZ5LManUhpLuQ


آشیانہ کیس ،فواد حسن اور دیگر
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/16112021/P6-Lhr-037.jpg


نواز شریف کی جائیداد نیلام
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108802240&Issue=NP_PEW&Date=20211116



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/13112021/p1-lhr036.jpg



دہشت گردی عدالت کا ن لیگی رہنما کو بڑا جھٹکا ، بھا ئی اور بیٹے سمیت درخواست ضمانت مسترد ، احاطہ عدالت سے گرفتار
Nov 11, 2021 | 19:14:PM


لوئر دیر(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی تیمرگرہ کی خصوصی عدالت نے سابق صوبا ئی وزیر اور مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر ملک جہانزیب خان کو بیٹے اور بھا ئی کی سانحہ طور منگ کیس میں درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری مسترد کردی ، ملک جہانز یب خان کو پولیس نے بھا ئی او ربیٹے سمیت احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق 16ستمبر کو طور منگ خال میں نماز جنازہ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق جبکہ 15سے زائد زخمی ہو گئے تھے ،جس کے بعد فریق اول جانی خیل نے ملک جہانزیب ،ملک اورنگزیب ایڈوکیٹ اور ملک نعمان کو ایف آئی آر میں نامز د کیا تھا،نامز د ملزمان نے اے ٹی سی کورٹ تیمرگرہ سے ضمانت قبل از گرفتاری کروائی تھی تاہم انسداد دہشت گردی کی مقامی عدالت کے جج ریاض ا حمد نے جمعرات کو مستقبل بنیادوں پر ضمانت کی استدعا مسترد کر دی جس کے بعد ملزمان کو مقامی پولیس نے احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا ۔واضح رہے کہ مذکورہ واقعہ میں ملک جہانزیب کا ایک بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا اور بھتیجا شدید زخمی ہوئے تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Nov-2021/1364355?fbclid=IwAR0rXMsII-bY_T47NR8p56JeHBsq5w6MfoSYyTxTyuy6l_FUNmG9Cj-yBD0



نواز شریف تاحیات نااہلی پر سپریم کورٹ بار کو تکلیف
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108789552&Issue=NP_PEW&Date=20211111


بجلی معاہدوں کے باعث سالانہ 850 ارب کی کرپشن یا نااہلی

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-11&edition=KCH&id=5840187_95932660


نواز شریف کی جائیداد نیلام
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-09&edition=KCH&id=5837339_70321104



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-10&edition=KCH&id=5838879_56668075



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/07112021/p6-lhr006.jpg



منی لانڈرنگ کیس ، احتساب عدالت نے شہباز شریف کی لمبی تاریخ دینے کی استدعا مسترد کر دی
Nov 05, 2021 | 10:13:AM


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) احتساب عدالت لاہور نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی لمبی تاریخ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت لاہور پیش ہوئے ، شہباز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی کا اجلاس ہے لہذا کیس میں لمبی تاریخ دی جائے ۔

جج احتساب عدالت نے شہباز شریف کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دینا ، ساتھ ہی جج نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی ۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ مہنگائی سے لوگ پریشان ہوگئے ہیں،عمران خان مہنگائی پر خطے کی مثالیں دے رہے ہیں ، عمران خان ہر خطاب میں عوام سے غلط بیانی کرتے ہیں ،ا انا کے پہاڑ سے اتر کر عوام کا درد محسوس کریں۔

حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ آج ڈالر کہاں پر ہے،چینی کی قیمت قابو سے باہر ہوگئی ہے ،خطے میں سب سےزیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/05-Nov-2021/1361768?fbclid=IwAR0Y9WEDqB_te3SzDQRu7C2Udat7EdZCQOuGd2O1yKqxOulFUnZqWvpmejA


سیاسی سرکاری ملازم مافیا اور لیگی کونسلر کا گٹھ جوڑ ،زمین پر قبضہ
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/11/05112021/P6-Lhr-011.jpg


زمین پر قبضہ
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/31102021/bp-lhe-007.jpg


حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108761978&Issue=NP_PEW&Date=20211031



پیراگون ریفرنس:بیانات قلمبند کرانے کیلئے نیب گواہ 17نومبر کو طلب30
 October, 2021

احتساب عدالت نے خواجہ برادران کے خلاف پیراگون ریفرنس میں کارروائی 17 نومبر تک ملتوی کر دی

لاہور(اپنے خبر نگارسے ) احتساب عدالت کے جج نسیم احمد ورک نے پیراگون ریفرنس پر سماعت کی ۔ خواجہ برادران نے عدالت میں پیش ہوکر حاضری مکمل کرائی تاہم نیب آرڈیننس میں گواہ کے بیان کی ریکارڈنگ کے معاملے پر صورتحال واضح نہ ہونے پر ریفرنس میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں کو بیانات قلمبند کرانے کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت خود ہی گرنا چاہتی ہے ، انہوں نے کہا وزیر اعظم کچھ بیان دیتے ہیں، وزرا کچھ کہتے ہیں، الیکشن دور نہیں ہے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-30/19024



’ ہم نے غلط الزام لگایا ‘ اسحا ق ڈار کے بعد جج ارشد ملک کی ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ سے معافی مانگ لی
Oct 29, 2021 | 12:15:PM


لندن (مجتبی علی شاہ )پاکستان کے معروف ٹی وی چینل ” اے آر وائے نیوز “ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بعد اب برطانوی عدالت کے سامنے ’ ناصر بٹ ‘ سے پر بے بنیاد الزامات لگانے کا اعترا ف کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے اور ساتھ ہی ہرجانہ اور جرمانہ ادا کرنے کیلئے رضا مندی ظاہر کر دی ہے ۔

ن لیگی رہنما ناصر بٹ کا نام اس وقت سامنے آیا جب مریم نواز نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی ویڈیو ریکارڈنگ جاری کی جس میں جج ارشد ملک نے یہ دعویٰ کیا کہ نوازشریف کے خلاف ناکافی ثبوتوں کے باوجود انہیں مجبوری میں سزا سنانی پڑی کیونکہ مجھے ایک پرانی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا جاتا رہا ، اس ویڈیو میں ناصر بٹ جج ارشد ملک سے بات چیت کر رہے تھے ۔

اے آر وائے نیوز کے برطانیہ میں پروگرام نشر کرنے والے چینل ” این وی ٹی وی “ (NVTV)نے معافی نامے میں کہاہے کہ ” ناصربٹ نے ہمیں بتایا ہے اور ہم ان کا موقف تسلیم کرتے ہیں کہ ان پر قتل، غنڈہ گردی، منشیات فروشی، سمگلنگ کے علاوہ پاکستان میں قانون سے بھاگ کر برطانیہ میں پناہ لینے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ہم ناصر بٹ سے معذرت کرتے ہیں اور ہم ہرجانہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی وکلا کی فیسیں بھرنے کا بھی عہد کرتے ہیں۔“

ادارے نے معافی نامے میں مزید لکھا کہ انہوں نے 14 جولائی 2019 کو پروگرام نشر کیا تھا جس میں وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ناصر بٹ پاکستان میں قانون سے بھاگ کر برطانیہ میں بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ 7 جولائی کو چینل پر چلنے والی ایک رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات پر بھی معذرت طلب کی گئی ہے۔

اس موقع پر حکومتی عہدیداروں اور متعدد ٹی وی چینلز کے اینکرز اور رپورٹرز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ناصر بٹ ایک بلیک میلر، ڈرگ ڈیلر اور ایک جرائم پیشہ شخص تھے۔ یہ الزامات انہوں نے اے آر وائے نیوز پر بیٹھ کر لگائے تھے اور NVTV جو کہ برطانیہ میں ARY کا مواد نشر کرتا ہے، یہ اس پر بھی نشر کیے گئے تھے۔

ناصر بٹ نے برطانوی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا ، اس مقدمے میں NVTV کے علاوہ جیو نیوز، دنیا ٹی وی، ہم نیوز، سماءاور 92 نیوز بھی فریق ہیں لیکن سب سے پہلے NVTV نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دعوے کو درست تسلیم کیا ہے اور نہ صرف اپنے چینل پر معافی نشر کی ہے بلکہ جرمانہ ادا کرنے، ناصر بٹ کے وکلا کی فیس ادا کرنے اور ان کی ہتکِ عزت کے عوض ان کو ہرجانہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/29-Oct-2021/1358937?fbclid=IwAR38IQ1VESF4k111mSLOKLJvl4zAb6DMGtMl1m1p9gjS5KWjC3h8T8XL8WM



نوازشریف کی 1128کنال اراضی نیلام کرنے کیلئے اشتہار جاری
 27 October, 2021

کینٹ میں 135اپر مال پر کمرشل ،رائیونڈ میں 2زرعی جائیدادوں کی نیلامی کا تخمینہ 4ارب 15کروڑ روپے ، نیلامی 19نومبر کو اسسٹنٹ کمشنر آفس میں ہوگی،ضلعی انتظامیہ نے تیاریوں کے حوالے سے احکامات دیدئیے

لاہور (عمران اکبر )سابق وزیر اعظم نوازشریف کی 1128کنال اراضی نیلام کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے اشتہار جاری کردیا ۔ دوتحصیلوں میں واقع جائیدادوں کی نیلامی 19نومبر بروز پیر اسسٹنٹ کمشنرز آفس میں ہو گی ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزاعظم کے نام تحصیل رائیونڈ میں دو زرعی اراضی ہیں جبکہ تحصیل کینٹ میں 135اپر مال پر کمرشل جائیداد ہے ۔ 1128کنال زمین کا تخمینہ چار ارب 15کروڑ روپے لگایا گیا ہے ،موضع میاں میر ،مانک اور بدوکی ثانی کی جائیدادیں نیلام کی جائیں گی ۔ موضع میاں میر فی کنال سرکاری بولی 8کروڑ 55لاکھ سے شروع ہو گی ۔موضع میاں میر 135 اپر مال پر واقع دو کنال 8 مرلہ کمرشل پلاٹ نیلام کیا جائے گا ۔ تخمینہ 20کروڑ48لاکھ 32ہزار روپے لگایا گیا ہے ۔تحصیل رائیونڈ میں موضع مانک فی ایکڑ رقبہ کا تخمینہ 2کروڑ60لاکھ رکھا گیا ۔موضع مانک کی 936 کنال 10 مرلہ زرعی اراضی کی نیلامی 3ارب 4کروڑ میں کی جائے گی۔موضع بدوکی ثانی میں فی ایکڑ 4کروڑ 48لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔موضع بدوکی ثانی میں 279 کنال زرعی اراضی کی نیلامی 91کروڑ 34لاکھ روپے میں ہوگی ۔ضلعی انتظامیہ لاہور نے نیلامی کی تیاریوں کے حوالے سے احکامات جاری کر دئیے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کری
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-27/1901175



ضلعی حکومتوں کو شوگر ملز پر چھاپے مارنے کا اختیار نہیں : لاہورہائیکورٹ
 21 October, 2021

کیاآپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پنجاب میں شوگر کا کوئی بحران نہیں ،کنٹرولر کون ہے ؟عدالت کا وکیل سے استفسار ، علی ترین کیخلاف نوٹس تاحکم ثانی معطل،سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جے آئی ٹی کیخلاف درخواست کی سماعت ملتوی ، برجیس طاہر کو نیب طلبی کے معاملے میں یکم نومبر تک حفاظتی ضمانت، ڈینگی سپر ے کیلئے جاری ٹینڈرکے خلاف نوٹس جاری

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہورہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس شاہد کریم پر مشتمل ڈویژن بینچ نے قراردیاہے کہ ضلعی حکومتوں کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ ملوں پر چھاپے مارے ،فاضل بینچ نے یہ ریمارکس چینی کی قیمتیں مقرر کرنے اور شوگر ملوں پر چھاپوں کے خلاف دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیتے ہوئے 26اکتوبر کو وکلائکومزیددلائل دینے کی ہدایت کردی۔کیس کی سماعت شروع ہوئی توشوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وکلائنے موقف اختیارکیا کہ وفاقی حکومت کے پاس قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار نہیں ،حکومت نے غیر قانونی طریقے سے قیمتیں مقرر کی ہیں،شوگر ملوں کے موقف کو صحیح طریقے سے سنا ہی نہیں گیا،ڈپٹی کمشنرز اختیارات نہ ہونے کے باوجود چھاپے مار کر ہراساں کررہے ہیں،زبردستی چینی کا سٹاک اٹھانے کے لیے ملوں پر چھاپے مارے گئے ،عدالت نے شوگر ملوں پر چھاپے مارنے سے روکنے کا حکم دیا ،119روپے کی چینی منگوا کر 90روپے میں دے رہے ہیں ،حکومت اربوں روپے کا ریلیف دے رہی ہے اور ہمیں کہتی ہے بچت بہت کما رہے ہیں ، پنجاب میں اس طرح سے چینی کی فراہمی کی جارہی ہے ، حکومت خود 119روپے کی چینی امپورٹ کررہی ہے تو وہ منافع نہیں کما رہے ،فاضل بینچ نے شوگرملز کے وکیل سے استفسارکیا کہ کیاآپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پنجاب میں شوگر کا کوئی بحران نہیں ہے ؟وکیل نے کہا کہ چینی بحران نہیں وافر مقدار میں موجود ہے ،کہیں بھی حکومت معاملے کے حل کے لئے ہمارے ساتھ نہیں بیٹھی ، فاضل بینچ نے استفسارکیا کہ کنٹرولر جنرل کون ہے ؟شوگر ملز کے وکیل نے کہا کہ سیکرٹری نیشنل فوڈ اینڈ سکیورٹی ہی کنٹرولر جنرل ہے ،رولز آف بزنس کے تحت تو سیکرٹری فوڈ لوکل اجلاس طلب کر ہی نہیں سکتا ،فاضل بینچ نے مذکورہ بالاریمارکس اور حکم کے ساتھ کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ ادھر عدالت نے ایف بی آر کی طرف سے پی ٹی آئی کے رہنماجہانگیر خان کے بیٹے علی خان ترین کوغیر ملکی اثاثے ڈکلیئر نہ کرنے پربھجوائے گئے نوٹس تاحکم ثانی معطل کردئیے ،عدالت نے سیکرٹری ریونیو ڈویژن اورچیئرمین ایف بی آر سمیت مدعاعلیہان سے آئندہ سماعت پرجواب طلب کرلیاہے ۔ادھر لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جے آئی ٹی کیخلاف درخواست کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ، دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کو چیلنج کرنے والے اہلکاروں کے وکیل درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل جاری رکھیں گے ۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگی رہنما ایم این اے برجیس طاہر کو نیب طلبی کے معاملے میں یکم نومبر تک حفاظتی ضمانت دے دی اور احتساب عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ۔ لاہور ہائیکورٹ میں نادرا کو وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اختیارات کی منتقلی کے خلاف کیس میں درخواست گزار وکیل کو مزید دلائل دینے کی مہلت دیدی ،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کی آسانی کے لیے اختیار نادرا کو دیا گیا ہے ، نادار کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دینا کوئی برائی نہیں ۔؟ جسٹس عائشہ اے ملک نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے عوام کی آسانی کے لیے نادرا کو جانشینی سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار دیا،آپ کو کیا پرابلم اور پریشانی ہے ،اگر آپ کو کوئی اعتراض تھا تو آرڈیننس کو چیلنج کرنا چاہیے تھا ؟۔ ادھرلاہور ہائیکورٹ نے ڈینگی سپرے کے جاری ٹینڈر کے خلاف درخواست پر ڈائریکٹر جنرل پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگ لیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-21/1898315



شہباز فیملی جائیدادوں کے ذرائع بتانے میں ناکام ، نیب وکیل
 19 October, 2021

اپوزیشن لیڈر ، حمزہ کے خلاف تین مختلف ریفرنسز پر کارروائی 5نومبر تک ملتوی

لاہور(اپنے خبر نگار سے ،مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کے خلاف نیب کے تین مختلف ریفرنسز پر کارروائی 5نومبر تک ملتوی کردی ۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال ،رمضان شوگر ملز اور منی لانڈرنگ ریفرنسز پر سماعت ہوئی ۔ شہباز شریف،حمزہ سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے ۔ دوران سماعت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور عدالت سے استدعا کی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے باعث اسلام آباد جانا ہے لہذا کارروائی ملتوی کی جائے ۔ شہبازشریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد گواہ کے بیانات ریکارڈ ہوتے وقت ویڈیو ریکارڈنگ کرنا ضروری ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے ،عدالت نے کارروائی ملتوی کردی ۔ احتساب عدالت میں شہبازشریف خاندان کے اثاثہ جات منجمد کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، نیب کے پراسیکیوٹر عاصم ممتاز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے شہباز شریف کی درخواست پرجواب جمع کروایا جاچکا ہے ، شہباز شریف نے اپنی اہلیہ کے نام پرجائیدادیں بنا رکھی ہیں ۔ منی لانڈرنگ ایکٹ اور فنانس ایکٹ کے مطابق جائیدادوں کے ذرائع بتانا لازم ہے ، شہباز شریف خاندان سے جائیدادوں سے متعلق بار بارجواب مانگا گیا مگر وہ اورانکی فیملی جواب دینے میں ناکام رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف سمیت دیگر کے اثاثہ جات قانون کے مطابق منجمد کیے گئے ۔ شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ انویسٹی گیشن کے دوران اثاثے منجمد نہیں کیے جاسکتے ، عدالت اثاثے منجمد کرنے کے حکم پرنظرثانی کرے ۔عدالت نے وکلا کو بحث کے لیے 5 نومبر کو طلب کرلیا ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-19/1897616



احد چیمہ نے بھی نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ریلیف مانگ لیا
Oct 20, 2021 | 10:22:AM

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ریلیف مانگنے والوں میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ بھی شامل ہو گئے ، احد چیمہ نے بھی اپنے لئے ریلیف مانگ لیا ہے ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سابق ڈی جی ایل ڈی اےاحدچیمہ کیخلاف اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت احد چیمہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ریلیف مانگ لیا، عدالت نےگواہوں کوطلب کرتےہوئےسماعت 5 نومبرتک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ احد چیمہ کے خلاف نیب کی جانب سے اندرون و بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ عدالت اب تک 21 گواہ اپنابیانات قلمبند کر چکی ہے ۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Oct-2021/1355181?fbclid=IwAR3Jvcq2J6phtx41hY3GRUd45vsDGV12UJfVHdyVJ2H0_ks-CPHzxZ_LKe0



"میں نے یا اے آر وائی نے اسحاق ڈار سے معافی نہیں مانگی" ارشد شریف نے واضح کردیا
Oct 19, 2021 | 22:14:PM

سورس: File

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا ہے کہ انہوں نے یا ان کے چینل اے آر وائی نیوز نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے کوئی معافی نہیں مانگی۔

اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ارشد شریف نے کہا کہ انہوں نے یا ان کی ٹیم نے اسحاق ڈار سے کوئی معافی نہیں مانگی، اس کے علاوہ اے آر وائی نیوز نے بھی سابق وزیر خزانہ سے معافی نہیں مانگی۔

اس کے علاوہ ارشد شریف کے پروگرام پاور پلے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسحاق ڈار سے موقف لینے کیلئے فون کیا تھا تاہم انہوں نے وقت دینے سے انکار کردیا۔ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ان کے اوپر پیمرا کی پابندی ہے جس کے باعث چینل کیلئے مسائل پیدا ہوں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسحاق ڈار نے لندن کی عدالت میں اے آر وائی نیوز کے خلاف کیس جیتا ہے جس پر چینل نے معافی بھی مانگی ہے۔ اسحاق ڈار نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام " دی رپورٹرز" اور " پاور پلے" میں ان کے خلاف نشر ہونے والے الزامات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Oct-2021/1355159?fbclid=IwAR1IYvrYeODZRl0I_UKgfGLOb383XS3Kw4aTMFlUuCnbravNvrfbvJaEwNM



شوگر ملز کے 5سالہ آڈٹ سے 619ارب وصول کئے :شہزاد اکبر
 17 October, 2021


چینی کی شکایت پرانکوائری کمیشن نے تحقیقات کیں تو ہوش ربا انکشافات ہوئے

اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں ) وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں ایف بی آر نے چینی بنانے والے کارخانوں کے پانچ سالہ آڈٹ سے 619ارب روپے ریکور کئے جبکہ مسابقتی کمیشن نے شوگر مافیا کی کارٹلائزیشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 44ارب روپے اور سٹے بازوں سے جرمانے کی مد میں 13.8ارب روپے ریکور کئے ، پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا چینی کے معاملہ میں جب شکایات موصول ہوئیں تو وزیراعظم عمران خان نے پہلے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس کی تجاویز کی روشنی میں کابینہ نے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا جس نے تحقیقات کیں تو ہوش ربا انکشافات ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر مختلف سفارشات اور تجاویز مرتب کیں تاکہ غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے نظام میں بہتری لائی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کی 89 صنعتوں کا آڈٹ کیا گیا جس میں 67 کا آڈٹ مکمل ہو چکا ہے جبکہ بعض ملز کی طرف سے مقدمات بھی کئے گئے جن میں کچھ شریفوں کی ملز بھی شامل ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ 31ارب روپے کے کیسز زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس بیس میں اضافہ کیا اورٹیکس کی مد میں گزشتہ سال دو گنا زیادہ ریکوری کی گئی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ کسانوں کو گنے کے مقررہ نرخوں کے مطابق ریٹ ادا نہیں کئے گئے جو قانونی جرم ہے ۔ جب حکومت نے یہ اقدام اٹھایا تو کسانوں کو تمام ادائیگیاں کی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کی کرشنگ سے لیکر تمام پیداواری عمل کی نگرانی جدید آلات پرمبنی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقات کے حوالہ سے شہزاد اکبر نے کہا کہ انجینئرنگ کی خامیوں کی وجہ سے جو ایکسٹرا لوپس بنائے گئے تھے ان کو ختم کر دیا گیا ہے ، اس حوالے سے اینٹی کرپشن پنجاب انکوائری کر رہا ہے ، اس سال نئے رنگ روڈ کا افتتاح وزیر اعظم کر ینگے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا آصف علی زرداری اسی نیب آرڈیننس کا فائدہ لیتے ہوئے عدالت گئے تاہم ان کی درخواست مسترد ہو گئی، وہ اپیل میں جاتے ہیں یا نہیں یہ ان کا فیصلہ ہے ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-17/1896795



ایل این جی ریفرنس : شریک ملزموں نے ریلیف مانگ لیا، نیب کی وزارت قانون کی رائے تک نئے آرڈیننس کے تحت فیصلے نہ کرنے کی ہدایت

بدھ 13 اکتوبر 2021ء

اسلام آباد (92 نیوزرپورٹ)نیب ترمیمی آرڈیننس کی تشریح کے سلسلے میں نیب نے اہم قانونی نکات پروزارت قانون سے رائے طلب کرلی،وزارت قانون کی رائے آنے تک تمام بیوروز کو نئے آرڈیننس کے تحت فیصلوں سے روک دیاگیا،چیئرمین نیب کی منظوری سے پراسیکیوٹرجنرل نے تمام ریجنل بیوروزکوخط ارسال کردیا،خط میں کہاگیاہے کہ وزارت قانون کی رائے آنے تک نئے آرڈیننس کے تحت کوئی فیصلہ نہ کیاجائے ،ریجنل بیوروزکوئی رائے یاتجاویزدیناچاہیں توجلد فراہم کریں،نیب ذرائع کے مطابق آرڈیننس کااطلاق کب سے ہوگا؟ تما م نکات پروزارت قانون سے رائے لی جائے گی۔ اسلام آباد ( نامہ نگار،92 نیوزرپورٹ) نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ایک اور بڑے کیس میں ریلیف کی درخواست آگئی۔ ایل این جی ریفرنس کے شریک ملزموں نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے ریفرنس ختم کرنے کی استدعا کر دی۔ایل این جی ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت جج کو نیب ترمیمی آرڈیننس کی کاپی پیش کی گئی۔احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان کی عدالت میں زیر سماعت ایل این جی ریفرنس میں سابق وزیر اعظم شاہدخاقان اور مفتاح اسماعیل کے وکلا کی جانب سے نیب آرڈیننس کے تحت استثنیٰ کی درخواست میں حصہ بننے سے انکار پر دیگر شریک ملزمان کی طرف سے نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ریفرنس خارج کرنے کی استدعا کی گئی ،جس پر عدالت نے نیب سے جواب طلب کرلیا ۔گزشتہ روز سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی اور دیگر عدالت پیش ہوئے ، اس موقع پروکلاء صفائی کی طرف سے نیب ترمیمی آرڈیننس کی کاپی عدالت پیش کی گئی اور ریفرنس ختم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہاگیا کہ نیب کا نیا آرڈیننس آیا ہمیں جائزہ لینے کا وقت دیاجائے ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ راجہ پرویز اشرف کا کیس 2010 میں بنا، 2019 میں ترمیمی آرڈیننس آیا اور ریلیف ملا، آرڈیننس کے بعد نیب اور احتساب عدالت کا دائرہ اختیار ختم کردیا گیا ۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ کابینہ فیصلوں کو جو نیب سے استثنیٰ دیاگیا وہ6 اکتوبر کے بعد ہوگا،دوران سماعت شاہدخاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے وکلا نے نئے نیب آرڈیننس کے تحت درخواست کا حصہ بننے سے انکار کردیا،عدالت نے دیگر شریک ملزمان کی استدعا پر نیب سے مفصل جواب طلب کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ سماعت پر تمام وکلاء کے دلائل سن کر فیصلہ کریں گے اور سماعت 26اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ ایک اور کیس میں نیب آرڈیننس کے تحت بریت کی درخواست دائر کر دی گئی ۔ احتساب عدالت میں زیر سماعت سرمایہ کاری کے نام پر لوٹنے کے کیس میں نجی کمپنی آل پاکستان پراجیکٹ کے مالک آدم امین چوہدری کے خلاف کیس میں نئے نیب آرڈیننس کے تحت بریت کی درخواست دے دی گئی۔عدالت نے ملزم آدم امین کے جوڈیشل میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
https://www.roznama92news.com/%D8%A7%DB%8C%D9%84-%D8%A7%DB%8C%D9%86-%D8%AC%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%D9%81%D8%B1%D9%86%D9%88%DA%BA-%D9%86%DB%92-%D8%B1%DB%8C%D9%84%DB%8C%D8%AA-%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AA%D8%AD%D8%AA-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%92-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%DB%8C%D8%AA


مریم نواز ،شمیم شوگر ملز قرض
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/13102021/P6-Lhr-040.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/13102021/P4-Lhr-011.jpg



”آج کل تو نیب ہر ایک کو پکڑ لیتا ہے چاہے ۔۔“ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کے مریم نواز کی اپیل پر سماعت کے دوران ریمارکس
Oct 13, 2021 | 13:41:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کل تو نیب ہر ایک کو پکڑ لیتاہے ، اس کے خلاف ثبوت ہو یا نہیں، اب نیب والے بھی تھانے کی طرح چلتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈریفرنس میں سزاکیخلاف اپیل پرسماعت کی جس دوران مریم نواز کے وکیل عرفان قادر روسٹرم پر آئے اور کہا کہ اب اس درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہونا ہے ، درخواست میں پولیٹیکل انجینئرنگ کی بات کی گئی ہے ، ایسے واقعات ہوئے جس سے کئی شکوک و شبہات پیدا ہوئے ،نیب نے پہلے درخواست دی کہ اپیل کا 30 دن میں فیصلہ کیا جائے ، اب مجھے اخبارات سے پتا چلا کہ ضمانت منسوخ کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے حالیہ کنڈکٹ پر بھی بات کرنا چاہوں گا ، نیب کی ملزم کوگرفتار کرنے سے متعلق اپنی پالیسی ہے ،نیب مریم نوازکی ضمانت منسوخ کرکے جیل بھیجناچاہتاہے، وائٹ کالرکرائم میں ملزم کوجیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کل تو نیب ہر ایک کو پکڑ لیتاہے ، اس کے خلاف ثبوت ہو یا نہیں، اب نیب والے بھی تھانے کی طرح چلتے ہیں 

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ، ضمانت منسوخی کی درخواست آج ہمارے سامنے سماعت کیلئے مقرر نہیں ، عرفان قادر نے دوبارہ بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہے اور شک کا فائدہ بنتا ہے ،فوجداری مقدمے میں تھوڑاساشک ہوتوفائدہ ملزم کوجاتاہے، ایون فیلڈریفرنس میں تھوڑانہیں،بہت زیادہ شک ہے، ایک بے گناہ کو سزا پوری انسانیت کو سزا دینے کے مترادف ہے ، ہم متفرق درخواست کے ذریعے نئے حقائق عدالت کے سامنے لائے ہیں ، عدالت نے تکنیکی رکاوٹ دور کر کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے تھے ۔

عرفان قادر کا کہناتھا کہ میری بطور جج مدت کم تھی آپ کی زیادہ ہے آپ بھی چیزوں کو بہتر سمجھتے ہیں ، احتساب عدالت کے پاس یہ کیس سننے کا اختیار ہی نہیں تھا ، یہ وہ کیس ہے جس میں کوئی شواہد ہی موجود نہیں ، اس کیس میں قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ، یہ ایسا کیس ہے کہ عدالت کو انصاف کیلئے اس میں مداخلت کرنی چاہیے ، چند چیزیں رکھوں گا تاکہ مرکزی اپیل میں جانے کا ٹائم بچ سکے ، اس کیس میں بہت سے شکوک و شبہات ہیں جس کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے ۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل اور متفرق درخواست کو ساتھ ساتھ چلائیں گے ،آپ بنیادی طور پر سزا کو کالعدم قرار دینا چاہتے ہیں، عرفان قادر نے کہا کہ آپ متفرق درخواست پر فیصلہ سنا دیں تو اپیل کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ، عدالت کے پاس اختیار ہے کہ اپیل سے پہلے اس درخواست پر فیصلہ کرے۔

ایڈووکیٹ عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں کیلبری فونٹ پربھی بات کرناچاہتاہوں،کریمنل کیس میں مقدمہ ثابت کرنا استغاثہ کاکام ہوتا ہے،ایون فیلڈکیس میں نوازشریف کوبے گناہی ثابت نہ کرنے پرسزادی گئی،ایسی کوئی دستاویزنہیں جس سے نوازشریف کاایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے تعلق ثابت ہو، سب سے پہلے نیب ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت کی دستاویزات پیش کرے،ایون فیلڈاپارٹمنٹس نوازشریف نہیں ،آف شورکمپنیوں کےنام ہے،نوازشریف کاآف شورکمپنیوں سے تعلق اب کیسے جڑتاہے؟۔

عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز شریف پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں، پبلک آفس ہولڈر بننے کی صلاحیت موجود اور لوگ اس بات کے معترف ہیں ۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف کیا کیس ہے ، عرفان قادر نے کہا کہ کیپٹن صفدر خود عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں ، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ نہیں آپ موجود ہیں تو آپ ہی دلائل دیں، عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو نشست پر بیٹھے رہنے کی ہدایت کی ، عرفان قادر نے کہا کہ کیپٹن صفدر کا تو کوئی کر دار ہی نہیں انہیں بھی ملزم بنا دیا گیا ، ٹرائل سے پہلے کارروائی پر عدالت کو دلائل دوں گا ۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Oct-2021/1352774?fbclid=IwAR0u0As-j0MxfT2vrdugVdp8Q6rB9labdVJzAMHiD-_SDHutCudEsNkbA_Q



پیراگون ریفرنس کی کل سماعت
 11 October, 2021

لاہور کی احتساب عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کیخلاف پیراگون ہاؤ سنگ سوسائٹی ریفرنس کی سماعت( کل) بروز منگل ہوگی

لاہور (اے پی پی) عدالتی حکم پر سابق وفاقی وزیر ریلوے و ممبر قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق ایم پی اے کل پیش ہونگے ۔عدالت نے نیب کے دو گواہوں کو بیانات قلمبند کرانے کیلئے طلب کیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-11/1894326



ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم کو خط
 8 October, 2021

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم عمران خان کو پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے خط لکھ دیا

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں) خط میں کہا گیا ہے کہ پنڈورا لیکس میں شامل افراد کی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے طریقہ کار کی تحقیقات کی جائیں، خط میں پانامااور پنڈورا لیکس میں شامل افراد کے اثاثے ضبط کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پنڈورا لیکس میں شامل افراد کو پابند کیا جائے کہ وہ3ماہ میں ایف بی آر کو اثاثوں سے متعلق مطمئن کریں۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-08/1892768



فواد چودھری نے شہباز شریف اور حمزہ کے منی لانڈرنگ مقدمے میں اکاؤنٹس کی تفصیلات شیئر کر دیں
Oct 09, 2021 | 10:19:AM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر فواد چودھری نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف پنجاب حمزہ شہباز کے منی لانڈرنگ مقدمے میں اکاؤنٹس کی تفصیلات شیئر کر دیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ کو شوگر ملز کیس میں 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں 30 اکتوبر تک ضمانت ملی ہے اس کیس میں ان اکاؤنٹس کی تفصیل دیکھیں یہ صرف ان ہوشرباء کرپشن کیسز میں سےصرف ایک کیس ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ آگے بڑھیں ۔
https://dailypakistan.com.pk/09-Oct-2021/1351112?fbclid=IwAR1WPWznagFJ50DkIA6vkL3FNjHaErDrJAS0RfQYsQ-1SOXiNntaeBmdfGs



پینڈورا پیپرز میں شامل 700 پاکستانیوں کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پینڈورا پیپرز میں 700 پاکستانیوں کی غیر ملکی آف شور کمپنیاں رکھنے کے شواہد سامنے آئے تھے، وزیراعظم عمران خان نے پینڈورا پیپر کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ اعلی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس حوالے سے اپنی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تحقیقات میں ملک بھر کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور نادرا سے بھی مدد لی جائے گی، تحقیقات کی روشنی میں رپورٹس ایف آئی اے، نیب اور ایف بی آر کو فراہم کی جائیں گی تاکہ پاکستانی قوانین کے مطابق قانونی کاروائی ہوسکے۔

پینڈورا پیپرز تحقیقات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے تحت موجودہ یا سابق پبلک آفس ہولڈرز اور دیگر کاروباری شخصیات کے خلاف الگ الگ تحقیقات ہوں گی۔ تحقیقات کے پہلے مرحلے میں پینڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے تمام پاکستانیوں کے ملک میں کاروبار، بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں، اس کے علاوہ ان کے روزانہ کے اخراجات، بچوں کی تعلیم اور شادیوں سم یت دیگر تفصیلات بھی اکھٹی کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کے بیرون ممالک دوروں، علاج معالجہ، شاپنگ اور فضائی سفر کے دوران کیے گے دیگر اخراجات کی تفصیلات بھی اکھٹی کی جارہی ہیں، ان کے سرکاری و نجی بینکوں کے اکاؤنٹس، موبائل نمبرز کا ڈیٹا، ان کے ٹریول ایجنٹس اور پرائیوٹ ہوٹلز کی بکنگ کی تفصیلات بھی اکھٹی کی جائیں گی۔
https://www.express.pk/story/2233882/1/



شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل ، احسن اقبال کی موج لگ گئی، نیب آرڈیننس آنے کے بعد کیسز ختم ہونے کا امکان
Oct 06, 2021 | 23:39:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس 2021 سے بعض حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے کیسز ختم ہوجائیں گے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق نیب آرڈیننس کے اطلاق سے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے کیسز ختم ہوجائیں گے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کے تحت قواعد کی بے ضابطگی کے حوالے سے عوامی یا حکومتی منصوبے قومی احتساب بیورو کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے۔ اس آرڈیننس کے اطلاق کے بعد مذکورہ بالا تینوں شخصیات احتساب عدالت میں مقدمات ختم کرنے کی درخواست کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آرڈیننس کے بعد موجودہ حکومت کے چینی اور آٹا سکینڈلز بھی ختم ہوسکتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/06-Oct-2021/1349943?fbclid=IwAR0bgjcBqy2MJ0FS1ZoMDlfyz3c6_-hLx5HedFsOjvBDY9qxkBxKRaQxzF8


احد چیمہ
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/07102021/P4-Lhr-003.jpg



پنڈورا لیکس: وزیر اعظم کی سربراہی میں تحقیقاتی سیل قائم


منگل 05 اکتوبر 2021

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کردیا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطح سیل قائم کیا ہے ، یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے ۔فواد چودھری نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کا نام پنڈورا لیکس میں شامل ہے اور کئی ایک پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں، وزارت اطلاعات اس ضمن میں شفاف تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے اور پیمرا کو جواب طلبی کیلئے کہا جا رہا ہے ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ پنڈورا پیپرز میں انکشافات پر تحقیقات کے لئے 3رکنی سیل قائم کیا جا رہا ہے جو فوری طور پر اپنا کام شروع کر دے گا، سیل کے سربراہ وزیراعظم عمران خان ہونگے ، سیل دیکھے گا اثاثے ڈکلیئر ڈ ہیں؟ اگر نہیں تو پھرایف بی آر کارروائی کر یگا، منی لانڈرنگ کا عنصر ملا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا ئے گی ۔قبل ازیں وزیراعظم کے زیرصدارت حکومتی رہنمائوں کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا،اٹارنی جنرل پرمشتمل کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کی۔اجلاس میں تحقیقات کیلئے سیل بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پنڈوراپیپرزمیں سامنے آنیوالے پاکستانیوں سے تحقیقات کی جائیں، قومی دولت ملک سے باہرلے جانیوالے رعایت کے مستحق نہیں،تحریک انصاف کی حکومت بلاامتیازاحتساب پریقین رکھتی ہے ۔ادھر ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سیل کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے ، یہ آف شور کمپنیوں کے سرمایے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات کرے گا، ایف آئی اے ، ایف بی آر، نیب، اینٹی کرپشن کے نمائندے سیل کا حصہ ہوں گے ،وزارت قانون سیل کے تمام قانونی امور دیکھے گی۔ سیل پنڈورا پیپرز میں آنے والے تمام پاکستانیوں کے ناموں کے اثاثوں کی چھان بین کرے گا، سیل دیکھے گا آیا ان افراد نے ٹیکس دیا یا چوری کی۔سیل دیکھے گا کہ ان افراد کی آمدن کے ذرائع جائز تھے ؟ جبکہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے گی کہ ان افراد نے اثاثے ڈکلیئر کئے یا نہیں؟ اس بات کی بھی جائزہ لیا جائے گا کہ منی لانڈرنگ ہوئی یا نہیں؟ذرائع کے مطابق وفاقی وزرا، اٹارنی جنرل پر مشتمل کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کو ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ ڈی جی ایف آئی اے نے سائبر کرائم ونگ کو متحرک کر دیا ہے ۔
https://www.roznama92news.com/%D8%B3-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D8%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%B1-%D9%85%DB%8C-%DB%8C-%D8%B3%DB%8C%D9%84-%D9%85


امیر ممالک ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں
https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108703725&Issue=NP_PEW&Date=20211006



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/06102021/P6-Lhr-043.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/06102021/P6-Lhr-044.jpg



پنڈورا لیکس میں کن کن پاکستانی میڈ یا مالکان کا نام شامل ہیں ؟ جانئے
Oct 04, 2021 | 19:48:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیشن جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) کی جانب سے جاری پینڈورا لیکس میں پاکستانی میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

مقامی اخبار دی نیوز کے مطابق پینڈورا لیکس کے لیے کام کرنے والے نمائندوں کے مطابق جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمن ، ڈان میڈیا گروپ کے حمید ہارون کی آف شور کمپنیاں ہیں ، ایکسپریس کے سلطان لاکھانی، گورمے گروپ کے مالکان اور پاکستان ٹوڈے کے مرحوم عارف نظامی کا بھی نام شامل ہے۔ ان دستاویزات میں بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ کا نام بھی موجود ہے۔ بعض سرکردہ میڈیا گروپس کے مالکان نے بیرون ملک کمپنیاں بنائی ہیں۔ لیک ہونے والی دستاویزات نے انکشاف کیا کہ جنگ گروپ کے پبلشر میر شکیل الرحمٰن ایک آف شور کمپنی بروک ووڈ وینچرز لمیٹڈ کے مالک ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/04-Oct-2021/1349094?fbclid=IwAR2WY7pHkEg21NltHmXB-84p6Duolkms3D0ejk2hItZIDqci0RWdQvj1IpY



ایل این جی منصوبہ سے متعلق کس صدر اور وزیر اعظم نے ہدایت دی ، نیب گواہ کا ایسا جواب کہ کسی کو یقین نہ آئے
Oct 05, 2021 | 11:03:AM


اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت ہوئی جہاں شاہد خاقان عباسی کے وکیل نیب گواہ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی عاصم ترمذی کے بیان پر جرح کی ۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے سوال کیا کہ ایل این جی منصوبہ سے متعلق کس صدر اور وزیر اعظم نے ہدایت دی تھی ، نیب گواہ سید عاصم ترمذی نے کہا مجھے یاد نہیں کہ کون تھے ، انرجی سکیورٹی ایکشن پلان کے ذریعے ایل این جی کو فاسٹ ٹریک پر لایا گیا ، ظفر اللہ نے پوچھا کہ انرجی سکیورٹی ایکشن پلان کیا ہے ؟نیب گواہ نے جواب دیاکہ مجھے علم نہیں ۔

شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے نیب گواہ کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ سوئی سدرن گیس کا بورڈ کتنے ممبران پر مشتمل ہوتاہے جس پر گواہ نے جواب دیا کہ بورڈ 11سے 14 ممبران پر مشتمل ہوتاہے ، مجھے علم نہیں کہ بورڈ اجلاس میں کون کون شرکت کرتا تھا ۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے پوچھا کہ ایل این جی کو پرائیویٹ سیکٹر سے امپورٹ کرنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر ہوا تھا ، نیب گواہ نے جواب دیاکہ یہ فیصلہ اس وقت کے صدر اور وزیر اعظم کی ہدایت پر ہوا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/05-Oct-2021/1349399?fbclid=IwAR13powUSeYcugDVX1I3nPaWxqypCZ0H23BEMyRj-iA3_Tr0w43yK3aSaqo



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/10/05102021/P1-Lhr-002.jpg



پاناما پیپرز کے بعد "پنڈورا پیپرز" عالمی سکینڈل منظر عام پر لانے کو تیار
Published On 02 October,2021 10:33 pm


اسلام آباد: (دنیا نیوز) پناما پیپرز کے بعد "پنڈورا پیپرز" تہلکہ مچانے کو تیار، ٹیکس چوری اور بے نامی دولت چھپانے کا ایک اور عالمی اسکینڈل منظر عام پر لانے کی تیاریاں، پاکستان سمیت ایک سو سترہ ممالک کی اہم شخصیات سے متعلق مالی تفصیلات شامل ہیں، آئی سی آئی جے آج رات ساڑھے نو بجے تفصیلات جاری کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی دنیا میں ہلچل مچانے والے پانامہ پیپرز کی طرز پر ایک اور عالمی سکینڈل سامنے آنے والا ہے۔ آئی سی آئی جے آج رات گیارہ اعشاریہ 9ملین دستاویزات شائع کرے گی۔ ایک عالمی تحقیقات جو 2016ء کے پاناما پیپرزکوبھی پیچھے چھوڑدے گی، اس تحقیقات میں 117 ممالک کے 600 صحافیوں، 150میڈیا تنظیمیوں نے حصہ لیا۔

آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز کے نام سے پروجیکٹ میں 117 ممالک کی اہم شخصیات کی مالی تفصیلات شامل ہیں۔ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں پاکستان کے بھی دو صحافی شامل ہیں، پنڈورا پیپرز میں کئی پاکستانی شخصیات کی مالی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔

پاناما پیپرز کیا ہیں؟

بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔

ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔

یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔

بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔

ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/HeadLineRoznama/622409_1



پانامہ کے بعد’ ’پنڈورا پیپرز‘‘آج کھلے گا،اہم پاکستانی شخصیات کے نام شامل


اتوار 03 اکتوبر 2021ء

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پانامہ طرز پر دنیاکی نامورشخصیات کے مالی امورکی بڑی بین الاقوامی تحقیق ’’پنڈوراپیپرز‘‘ کے نام سے مکمل ہوگئی۔ذرائع کے مطابق یہ ایک طرح کی نئی ہسٹری ہے ،اتناڈیٹاآج تک ریلیزنہیں ہواجواس میں آرہاہے ،اس پردوسال کام ہوا،اسے پانامہ سے بڑاکہاجاسکتاہے ،پانامہ میں اتنے لیول پراتنے جرنلسٹ انوالونہیں تھے جتنے اس میں ہیں، ’’پنڈورا پیپرز‘‘ میں اوورآل ایک کروڑ20لاکھ ڈاکومنٹس تھے جن کوانویسٹی گیٹ کیاگیا،جسے ویریفائی بھی کیاگیاہے ،’’پنڈوراپیپرز‘‘1 کروڑ19لاکھ فائلوں پرمشتمل ہے ، نامورشخصیات کے مالی امورکی بڑی بین الاقوامی تحقیق’’پنڈوراپیپرز‘‘ میں دنیابھرسے 600سے زائدرپورٹروں نے حصہ لیا،’’پنڈوراپیپرز‘‘ کے لئے دنیابھرکے 117ملکوں کے 150میڈیااداروں نے حصہ لیا،’’پنڈوراپیپرز‘‘ میں بہت زیادہ پاکستانی شخصیات کے بھی نام ہیں،کافی دلچسپ نام ہیں،امیدہے آئندہ 24گھنٹے تک ریلیزکردی جائے گی۔
https://www.roznama92news.com/%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AE-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%B4%D9%85%D9%84



پاناما سے بھی بڑا سکینڈل، ’ پینڈورا پیپرز‘ تاریخ کی سب سے بڑی تحقیقات، کتنے پاکستانی شامل؟ اب تک کی سب سے بڑی تہلکہ خیز خبر آگئی
Oct 02, 2021 | 21:50:PM

سورس: Screen Grab

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس (آئی جی آئی جے) نے پاناما سے بھی بڑے سکینڈل کی تحقیقات مکمل کرلیں۔ پاناما سے بھی زیادہ پاکستانیوں کے نام ان تحقیقات میں شامل ہیں۔

نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی عمر چیمہ نے بتایا کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا سکینڈل ہے جس کو ’پینڈورا پیپرز‘ کا نام دیا گیا ہے، اس سکینڈل کی دو سال تک تاریخ کی سب سے بڑی صحافتی ٹیم نے تحقیقات کی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ پینڈورا پیپرز کی تحقیقات میں 117 ممالک کے 150 اداروں کے 600 سے زائد صحافی شامل تھے جنہوں نے دو سال تک ایک کروڑ 19لاکھ ڈاکیومنٹس پر کام کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق ہے جس میں پاناما سے بھی زیادہ پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سکینڈل 24 گھنٹے میں شائع کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ عمر چیمہ 2016 میں ریلیز ہونے والے پاناما پیپرز کی تحقیقات کا بھی حصہ تھے۔ یہ سکینڈل سامنے آنے کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔



جس کا تھا انتظار ، وہ شاہکار آگیا، پنڈورا پیپرز جاری، کتنے پاکستانیوں کے نام شامل ہیں؟
Oct 03, 2021 | 21:24:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے صحافتی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل پنڈورا پیپرز بریک کردیا۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں مجموعی طور پر 200 سے زائد ممالک کی 29 ہزار سے زائد آف شور کمپنیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس سکینڈل نے دنیا بھر کی اشرافیہ کی چھپی ہوئی دولت کو بے نقاب کیا ہے۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پنڈورا پیپرز میں 45 ممالک کے 130 سے زائد ارب پتی افراد کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ آئی سی آئی جے نے دو سال کی کڑی محنت کے بعد پنڈورا پیپرز تیار کیے ہیں۔ اس سکینڈل کی تیاری میں 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں سے وابستہ 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا۔ یہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی صحافتی تحقیق ہے جو ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ دستاویزت پر مشتمل ہے۔ یہ دستاویزات 14 آف شور سروس فرمز سے حاصل کی گئی ہیں۔

صحافیوں کی اسی تنظیم نے 2016 میں پاناما پیپرز جاری کیے تھے جس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ انہی کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Oct-2021/1348674?fbclid=IwAR3SZhPf70u9C4GDs65InllpNmzJDwRlHhA0sBuV9UPeeb3FXRt6wxZ8Lg4



پنڈورا پیپرز جاری، پاکستان کے موجودہ و سابق وزرا، بیورو کریٹس، سابق جرنیل، کاروباری شخصیات کے نام شامل
Oct 03, 2021 | 21:35:PM


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے پنڈورا پیپرز جاری کردیے ہیں جن میں 700 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔ آف شور کمپنیاں رکھنے والے پاکستانیوں میں موجودہ اور سابق وزرا، سابق فوجی جرنیل ، کاروباری شخصیات اور ان کے رشتہ دار شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیر برائے صنعت خسرو بختیار، وفاقی وزیر آبی وسائل و مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہٰی، پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان، سابق وفاقی وزیر و سینیٹر فیصل واوڈا کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار، امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی، ایگزیکٹ اور بول نیوز کے مالک شعیب شیخ کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہیں۔

سابق گورنر پنجاب جنرل (ر)خالد مقبول کے داماد احسن لطیف، پرویز مشرف کے سابق ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ میجر جنرل (ر) نصرت نعیم، لیفٹننٹ کرنل اور سابق وزیر راجہ نادر پرویز، وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے خزانہ و ریونیو وقار مسعود کے صاحبزادے کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔

جنرل (ر) افضل مظفر کے صاحبزادے حسن مظفر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ زہرہ تنویر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی قلی خان کی بہن شہناز سجاد، سابق ایئر مارشل عباس خٹک کے صاحبزادے عمر اور احد خٹک کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں معروف تاجر بشیر داؤد، امپیریل شوگر ملز کے مالک نوید مغیث شیخ، نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی، معروف تاجر عارف شفیع، ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی اورمعروف تاجر آصف حفیظ کے نام بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پنڈورا پیپرز میں مجموعی طور پر 200 سے زائد ممالک کی 29 ہزار سے زائد آف شور کمپنیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پنڈورا پیپرز میں 45 ممالک کے 130 سے زائد ارب پتی افراد کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ آئی سی آئی جے نے دو سال کی کڑی محنت کے بعد پنڈورا پیپرز تیار کیے ہیں۔ اس سکینڈل کی تیاری میں 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں سے وابستہ 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا۔ یہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی صحافتی تحقیق ہے جو ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ دستاویزت پر مشتمل ہے۔

صحافیوں کی اسی تنظیم نے 2016 میں پاناما پیپرز جاری کیے تھے جس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ انہی کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Oct-2021/1348675?fbclid=IwAR0Mu5TRyhiu1CNuSHjQiQc-aMj4jLDDSKtB9IpXx0u_lQ7GpAsKLVi3Tnk



پینڈورا لیکس میں کن عالمی رہنماؤں کے نام شامل ہیں؟ آپ بھی جانیے
Oct 03, 2021 | 21:38:PM


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پینڈورا لیکس میں 700 پاکستانی شہریوں سمیت اہم عالمی رہنماؤں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پینڈورا لیکس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر،روس کے صدر ولادی میر پیوٹن،اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ،یوکرین ، کینیا،چیک ری پبلک اور لبنان کے وزائے اعظم اور آذربائیجان کے صدر کے نام بھی شامل ہیں۔



جنگ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی بھی آف شور کمپنی نکل آئی، عمر چیمہ نے موقف کیلئے رابطہ کیا تو کیا جواب ملا؟
Oct 03, 2021 | 22:01:PM


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ جنگ، جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی بھی آف شور کمپنی تھی۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عمر چیمہ نے کہا کہ جنگ، جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی بھی آف شور کمپنی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر ہم آپ کا نام نہیں دیں گے تو اخلاقی طور پر ہمارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ باقی لوگوں کے بارے میں بات کریں۔

عمر چیمہ کے مطابق میر شکیل الرحمان نے انہیں بتایا کہ ان کی ایک آف شور کمپنی تھی جو انہوں نے ڈکلیئر کی ہوئی تھی اور وہ 2018 میں بند ہوگئی تھی اس لیے انہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کا نام بھی دیا جانا چاہیے۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Oct-2021/1348677?fbclid=IwAR3SZhPf70u9C4GDs65InllpNmzJDwRlHhA0sBuV9UPeeb3FXRt6wxZ8Lg4



"شرجیل میمن اور علی ڈار کی کوئی حیثیت نہیں، یہ زرداری نواز کے پیسوں کے پہرے دار ہیں" پنڈورا لیکس پر فواد چوہدری بھی بول پڑے
Oct 03, 2021 | 22:37:PM

سورس: File

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن اور اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کی کوئی حیثیت نہیں، یہ زرداری نواز کے پیسوں کے پہرے دار ہیں۔ واضح رہے کہ شرجیل میمن اور علی ڈار کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہیں۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فواد چوہدری نے کہا کہ شرجیل میمن اور اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار جو کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد بھی ہیں، کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے پیسوں کے پہرے دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنڈورا لیکس سے نواز زرداری کرپشن کے مزید پرت سامنے آئے ہیں۔ قوم نے پہلے پانامہ اور اب پنڈورا میں ان کے چہروں سے نقاب اترتا دیکھا۔

خیال رہے کہ پنڈورا پیپرز میں مجموعی طور پر 200 سے زائد ممالک کی 29 ہزار سے زائد آف شور کمپنیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جن میں موجودہ اور سابق وزرا، سابق جرنیل، بیورو کریٹس اور کاروباری شخصیات شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پنڈورا پیپرز میں 45 ممالک کے 130 سے زائد ارب پتی افراد کا پردہ بھی فاش کیا گیا ہے۔

آئی سی آئی جے نے دو سال کی محنت کے بعد پنڈورا پیپرز تیار کیے ہیں۔ اس سکینڈل کی تیاری میں 117 ملکوں کے 150 میڈیا اداروں سے وابستہ 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا۔ یہ انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی صحافتی تحقیق ہے جو ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ دستاویزت پر مشتمل ہے۔

صحافیوں کی اسی تنظیم نے 2016 میں پاناما پیپرز جاری کیے تھے جس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ انہی کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/03-Oct-2021/1348683?fbclid=IwAR0QDWsoPMFk8djv4twZ2irlp3Y5aQqND-CkJ7-7NsCCN02J5Y83pPq7Jcs



واشنگٹن: فراڈ، جعلسازی، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ سے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور اثاثے بنانے کی عالمی تحقیقی تفتیشی رپورٹ ’پینڈورا پیپرز‘ کے نام سے سامنے آگئی ہے۔

یہ رپورٹ بین الاقوامی صحافیوں کی غیرسیاسی تنظیم ’انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے۔ اس میں 200 ممالک کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک کروڑ بیس لاکھ دستاویز دیکھی گئی ہیں جن کا ڈیٹا تین ٹیرابائٹ کے برابر بنتا ہے۔

رپورٹ میں اثاثے جمع کرنے ، انہیں پوشیدہ رکھنے یا ٹیکس چوری سے دولت جمع کرنے کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ آف شور کمپنیاں اور اثاثے بنانا غیرقانونی نہیں لیکن پینڈورا پیپرز میں بطورِ خاص ایسے معاملات پر زور دیا گیا ہے جن میں دولت کو ان کے اپنے ملک میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

ان تحقیقات دنیا بھر کے 330 حکومتی اہلکار اور سیاستداں شامل ہیں جبکہ فوربس کے تحت 130 ارب پتی افراد، مشہور کھلاڑی، فنکار، اسلحہ فروش اور منشیات کے اسمگلر بھی شامل ہیں۔ اس تحقیقات میں 117 ممالک کے 600 صحافیوں نے اپنا تحقیقاتی کردار ادا کیا ہے۔

تحقیق کے لیے افشا شدہ دستاویز کا جائزہ لیا گیا جو 14 آف شور کمپنیوں سے جاری ہوئی تھیں۔ تمام افراد نے ایسے ممالک میں سرمایہ کاری کی جہاں دھن کے متعلق کوئی سوال جواب نہیں کیا جاتا، قوانین نرم ہیں یا پھر ٹیکس کی شرح کم ہے۔

ڈیٹا کا سونامی

آئی سی آئی جے نے ان دستاویز کو ڈیٹا کا طوفان قرار دیا ہے جس میں 64 لاکھ ٹیکسٹ دستاویز شامل ہیں جن میں 40 لاکھ پی ڈی ایف ہیں اور بعض فائلیں تو دس ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں ای میلز، اسپریڈ شیٹ اور تصاویری دستاویز بھی شامل ہیں۔ دستاویز انگریزی، عربی، ہسپانوی، روسی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی ہیں۔ یہ ڈیٹا 27 ہزار کمپنیوں سے لیا گیا ہے۔

پانامہ پیپرز سے بڑا اسکینڈل

واضح رہے کہ یہ دستاویز پانامہ لیکس کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔ اس میں 330 سیاستدانوں اور حکومتی اہلکاروں کا احوال شامل کیا گیا ہے۔ ان کا تعلق 90 ممالک سے ہے جن میں 35 ایسے افراد ہیں جو اس وقت یا سابق سربراہان میں شامل تھے۔ تاہم روس اور لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن میں ارجنیٹٰینا، برازیل اور ویینزویلا سرِ فہرست ہیں۔
https://www.express.pk/story/2231889/10/



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108699228&Issue=NP_PEW&Date=20211004



آف شو ر کمپنیاں ، کس پاکستانی نے کیا وضاحت دی ؟
 4 October, 2021

کمپنی اورفلیٹ 15سال سے ڈکلیئرہیں،ہربارآف شورلیکس قرار:علیم خان ، تمام اثاثے ڈکلیئرڈ :ترجمان چودھری برادران،کمپنیاں قانونی تھیں:علی ڈار

لاہور،اسلام آباد(دنیا نیوز،سیاسی رپورٹرسے ،آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک)آف شورکمپنیوں بارے کس پاکستانی نے کیا وضاحت دی ؟۔ پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ یہ وہی کمپنی اور وہی فلیٹ ہیں جو15سال سے ڈکلیئر ہیں۔ میں نے ایف بی آر کے سامنے تمام اثاثے ظاہر کیے ہوئے ہیں۔ پندرہ سال سے الیکشن کمیشن کو بھی اثاثے ظاہر کیے ہوئے ہیں۔ہر دفعہ اسی کمپنی کو آف شور لیکس قرار دے دیا جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں چودھری شجاعت حسین اور پرویزالٰہی کے ترجمان نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کے تمام اثاثے قانونی طور پر ڈکلیئرڈ ہیں۔ چودھری برادران کو ماضی میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ۔مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے نام نہاد احتساب کے نام پر فائلوں کے پیٹ حقائق کے برعکس گمراہ کن مواد سے بھرے گئے ۔ بے بنیاد پراپیگنڈ ا کیا گیا تاکہ ان کے خلاف بے بنیاد اعداد و شمار کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکے ۔ ن لیگ کے رہنما اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے کہا کہ تمام کمپنیاں قانونی تھیں ، قانونی مقاصد کے لیے بنی تھیں ۔ ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ گریجوایشن کے بعد سے امارات میں مقیم ہوں ، حق حلال کا کاروبا ر کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا 
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-04/1890997



ڈالرباہرگئے ،مغرب خودآف شورکمپنیاں بنواتاہے :تھنک ٹینک
 4 October, 2021

کوئی بھی ٹیکس نہیں دیناچاہتا:ایازامیر، احتسابی نظام بہتر نہیں رہا :سلمان غنی ، مغرب دولت لانے کاکہتاہے :حسن عسکری،سیاستدان اثاثے ظاہر کریں:خاورگھمن

لاہور ( دنیا نیوز )دنیا نیوز کے پروگرام تھنک ٹینک میں گفتگوکرتے ہوئے تجزیہ نگاروں نے کہاکہ ڈالرملک سے باہرگئے ،مغرب خودآف شورکمپنیاں بنواتاہے ۔پروگرام کی میزبان مریم ذیشان نے کہا کہ پنڈورا پیپرز سکینڈل پاناما سے بھی بڑا ہے ۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا کہ پاناما میں نام آنے سے سابق وزیر اعظم پکڑ میں آئے اور کسی کو کو ئی فرق نہیں پڑا ۔پاکستان میں کوئی ٹیکس نہیں دینا چاہتا ، جن لوگوں کے نام آف شور میں آئے وہ دولت چھپانا چاہتے ہیں ،کیا یہ پاکستان کے حق میں ہیں؟ ۔جن کے نام اس میں ہیں وہ سب قصور وار ہیں ۔ دنیا نیوز کے گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر سلما ن غنی نے کہا کہ زمان پارک کی نمبرنگ تبدیل ہوئی ہے ، عمران کے گھر کا نمبر فریدالدین کے نام سے رجسٹر ہے ، ان کی ڈاک بھی اکثر تبدیل ہو جاتی ہے ،پاناما میں صرف نواز شریف کا نام نہیں تھا 456 اور لوگوں کے نام بھی تھے ، رگڑا صرف ان کو دیا گیا ۔ ہمارے یہاں احتسابی نظام بہتر نہیں رہا ۔ جوڈیشل کمیشن بننا چاہئے ۔ہمارے بجٹ سے زیادہ ڈالر باہر گئے ۔ انہوں نے مزیدگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جام کمال کی اپنی پارٹی میں بھی بغاوت ہے ، سنجرانی بھی وہاں پہنچے ہیں ، اگر وہ منانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عدم اعتماد رک سکتی ہے ۔ سب ملکر جام کمال کو ہٹانا چاہتے ہیں عدم اعتماد مضبوط دکھائی دیتی ہے ۔معروف تجزیہ کار و کالم نگار ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ مغرب میں پیسہ اگر لیگل ہے تو ا س پر بات نہیں ہو سکتی ،مغرب والے خود اس کا انتظام کرتے ہیں تاکہ ان کے ملک میں وہ سب اکٹھے ہوں ، آئی لینڈ میں آف شور کمپنیاں خود بنواتے ہیں ،خود کہتے ہیں دولت یہاں لائو ۔ انہوں نے کہاکہ باپ پارٹی میں تضادات سامنے آ رہے ہیں ، بلوچستان میں جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے گی اس کو بھی انہی مسائل کا سامناہو گا ۔ اسلام آباد سے بیورو چیف خاور گھمن نے کہا کہ سیاست دانو ں کے لیے ضروری ہے کہ اثاثے ظاہر کریں ۔انہوں نے کہاکہ جام کمال کو تبدیل کرنے کی اطلاع تو ہمیں موصول نہیں ہوئی ، وہاں کی سیاست ذرا مختلف ہوتی ہے ،سنجرانی وہاں پہنچ گئے ہیں امید تو ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-04/1890993



آف شور کمپنی کیا ؟
 4 October, 2021

آئی سی آئی جے رپورٹ میں اثاثے جمع کرنے , انہیں پوشیدہ رکھنے یا ٹیکس چوری سے دولت جمع کرنے کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے

لاہور (دنیا مانیٹر نگ ) اگرچہ آف شور کمپنیاں اور اثاثے بنانا غیرقانونی نہیں لیکن پینڈورا پیپرز میں بطورِ خاص ایسے معاملات پر زور دیا گیا ہے جن میں دولت کو ان کے اپنے ملک میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ اگر آف شور کمپنی رجسٹرد اور اثاثوں میں ظاہر کی گئی ہے تو یہ کوئی غلط کام نہیں ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-10-04/1890989



پاناما پیپرز کے بعد "پنڈورا پیپرز" عالمی سکینڈل منظر عام پر لانے کو تیار
Published On 02 October,2021 10:33 pm


اسلام آباد: (دنیا نیوز) پناما پیپرز کے بعد "پنڈورا پیپرز" تہلکہ مچانے کو تیار، ٹیکس چوری اور بے نامی دولت چھپانے کا ایک اور عالمی اسکینڈل منظر عام پر لانے کی تیاریاں، پاکستان سمیت ایک سو سترہ ممالک کی اہم شخصیات سے متعلق مالی تفصیلات شامل ہیں، آئی سی آئی جے آج رات ساڑھے نو بجے تفصیلات جاری کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی دنیا میں ہلچل مچانے والے پانامہ پیپرز کی طرز پر ایک اور عالمی سکینڈل سامنے آنے والا ہے۔ آئی سی آئی جے آج رات گیارہ اعشاریہ 9ملین دستاویزات شائع کرے گی۔ ایک عالمی تحقیقات جو 2016ء کے پاناما پیپرزکوبھی پیچھے چھوڑدے گی، اس تحقیقات میں 117 ممالک کے 600 صحافیوں، 150میڈیا تنظیمیوں نے حصہ لیا۔

آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز کے نام سے پروجیکٹ میں 117 ممالک کی اہم شخصیات کی مالی تفصیلات شامل ہیں۔ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں پاکستان کے بھی دو صحافی شامل ہیں، پنڈورا پیپرز میں کئی پاکستانی شخصیات کی مالی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔

پاناما پیپرز کیا ہیں؟

بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔

ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔

یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔

بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔

ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/HeadLineRoznama/622409_1



پانامہ کے بعد’ ’پنڈورا پیپرز‘‘آج کھلے گا،اہم پاکستانی شخصیات کے نام شامل
اتوار 03 اکتوبر 2021ء

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پانامہ طرز پر دنیاکی نامورشخصیات کے مالی امورکی بڑی بین الاقوامی تحقیق ’’پنڈوراپیپرز‘‘ کے نام سے مکمل ہوگئی۔ذرائع کے مطابق یہ ایک طرح کی نئی ہسٹری ہے ،اتناڈیٹاآج تک ریلیزنہیں ہواجواس میں آرہاہے ،اس پردوسال کام ہوا،اسے پانامہ سے بڑاکہاجاسکتاہے ،پانامہ میں اتنے لیول پراتنے جرنلسٹ انوالونہیں تھے جتنے اس میں ہیں، ’’پنڈورا پیپرز‘‘ میں اوورآل ایک کروڑ20لاکھ ڈاکومنٹس تھے جن کوانویسٹی گیٹ کیاگیا،جسے ویریفائی بھی کیاگیاہے ،’’پنڈوراپیپرز‘‘1 کروڑ19لاکھ فائلوں پرمشتمل ہے ، نامورشخصیات کے مالی امورکی بڑی بین الاقوامی تحقیق’’پنڈوراپیپرز‘‘ میں دنیابھرسے 600سے زائدرپورٹروں نے حصہ لیا،’’پنڈوراپیپرز‘‘ کے لئے دنیابھرکے 117ملکوں کے 150میڈیااداروں نے حصہ لیا،’’پنڈوراپیپرز‘‘ میں بہت زیادہ پاکستانی شخصیات کے بھی نام ہیں،کافی دلچسپ نام ہیں،امیدہے آئندہ 24گھنٹے تک ریلیزکردی جائے گی۔
https://www.roznama92news.com/%D9%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AE-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%B4%D9%85%D9%84



پاناما سے بھی بڑا سکینڈل، ’ پینڈورا پیپرز‘ تاریخ کی سب سے بڑی تحقیقات، کتنے پاکستانی شامل؟ اب تک کی سب سے بڑی تہلکہ خیز خبر آگئی
Oct 02, 2021 | 21:50:PM

سورس: Screen Grab

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس (آئی جی آئی جے) نے پاناما سے بھی بڑے سکینڈل کی تحقیقات مکمل کرلیں۔ پاناما سے بھی زیادہ پاکستانیوں کے نام ان تحقیقات میں شامل ہیں۔

نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی عمر چیمہ نے بتایا کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا سکینڈل ہے جس کو ’پینڈورا پیپرز‘ کا نام دیا گیا ہے، اس سکینڈل کی دو سال تک تاریخ کی سب سے بڑی صحافتی ٹیم نے تحقیقات کی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ پینڈورا پیپرز کی تحقیقات میں 117 ممالک کے 150 اداروں کے 600 سے زائد صحافی شامل تھے جنہوں نے دو سال تک ایک کروڑ 19لاکھ ڈاکیومنٹس پر کام کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق ہے جس میں پاناما سے بھی زیادہ پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سکینڈل 24 گھنٹے میں شائع کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ عمر چیمہ 2016 میں ریلیز ہونے والے پاناما پیپرز کی تحقیقات کا بھی حصہ تھے۔ یہ سکینڈل سامنے آنے کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ ریفرنس میں بڑی پیش رفت ہوئی۔
احتساب عدالت لاہور میں شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز پر فرد جرم عائد کردی۔ نصرت شہباز خود پیش نہیں ہوئیں اور ان پر پلیڈر کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں کو طلب کرلیا جبکہ شہباز شریف کی حاضری سے معافی کی درخواست منظور کرلی۔ کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت نے شہباز شریف فیملی کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف درخواست پر بھی سماعت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر شہبازشریف فیملی کے وکلاء سے جواب طلب کر لیا۔ درخواست حمزہ شہباز اور نصرت شہباز کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

نیب کورٹ نے شہبازشریف،حمزہ شہباز،نصرت شہباز،تہمینہ درانی اور ان کی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔ شہبازشریف فیملی کی جانب سے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2231043/



چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے 2005 کے زلزلے سے خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ایرا کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کردی۔ عدالت عظمیٰ نے ایرا سے مکمل کیے گئے تمام منصوبوں کی تفصیلات تصویری شواہد سمیت طلب کرلیے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایرا کی رپورٹ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، زلزلہ متاثرین کی مدد تو قوم نے کی تھی، کراچی سے بھی لوگ متاثرین کی امداد کے لئے گئے تھے، لوگوں نے تو حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دے دیا تھا، ایرا نے کیا کیا؟ بین الاقوامی امداد بھی آئی، لوگوں نے بھی پیسہ دیا اور حکومت نے بھی، متاثرہ علاقوں میں تو مثالی ترقی ہونی چاہیے تھی، زلزلہ متاثرہ علاقوں کو تو دو سال میں دوبارہ بن جانا چاہیے تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دو ماہ میں 148 اسکول تعمیر کرکے فعال کر دیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسکول اب بن رہے ہیں 16 سال بچے کیا کرتے رہے؟ کتنے بچے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے ہوں گے، جیسی عمارتیں بن رہی ہیں وہ تو چھ ماہ میں گر جائیں گی، بچوں اور اساتذہ کی زندگیاں خطرے میں لگ رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا۔

دوران سماعت ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگنے کا انکشاف ہوا، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیئے کہ دہشت گرد ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگ رہے اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، کئی ٹھیکیدار بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کام چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، لگتا ہے کمشنر اور ڈی سی نے آپ کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ نہیں کیا، عدالت کے روبرو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے بھتہ مانگنے کے واقعات سے اظہار لاعلمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی نشاندہی پر متعلقہ حکام سے رپورٹ لوں گا۔
https://www.express.pk/story/2230174/1/



برطانیہ میں اکائونٹس ،منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا حصہ کبھی نہیں رہے :نیب ذرائع
 29 September, 2021

نیب کے اہم ذرائع نے بتایا کہ شہبازشریف اور سلمان شہباز کے برطانیہ میں موجود اکائونٹس نیب کے منی لانڈرنگ کیس کے دوران کبھی تحقیقات کا حصہ رہے ہی نہیں نہ ہی نیب نے دونوں باپ بیٹے سے کبھی ان دو اکائونٹس پر سوالات کئے

لاہور(محمد حسن رضا سے ) نیب کے اہم عہدیدار نے بتایا کہ نیب نے تاحال جو بھی انویسٹی گیشن کی وہ جعلی بینک اکائونٹس کا استعمال کرتے ہوئے لگائی جانیوالی ٹی ٹیز تھیں جو کمال مہارت اور فنکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اربوں روپے حاصل کرنے کے لئے استعمال کی گئیں ۔ نیب حکام کی جانب سے بتایا گیا شہباز شریف اور انکے خاندان کے افراد نے مجموعی طور پر لگ بھگ سوا دو ارب روپے اس طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے یوکے اور عرب امارات سے اپنے پاکستان میں موجود ذاتی اکائونٹس میں منتقل کروائے اور یہی نیب کا کیس تھا ۔نیب کا کیس این سی اے کے کیس سے بالکل مختلف بلکہ ٹھوس شواہد پر مبنی ہے جو احتساب عدالت لاہور میں زیر سماعت ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-29/1888480



منیب فاروق نے شہباز شریف کی بریت پر ن لیگ کا ’جشن‘ بلا وجہ قرار دے دیا
Sep 28, 2021 | 19:55:PM

سورس: Facebook

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن منیب فاروق کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے بریت پر مسلم لیگ ن کے کیمپ میں جشن بلا وجہ ہے کیونکہ یہ بالکل الگ معاملہ تھا۔

اپنے ایک ٹویٹ میں منیب فاروق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے کیمپ میں جشن بلا وجہ منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں چلنے والے سات اور 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیسز بالکل مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این سی اے نے کبھی بھی ان پیسوں کی تفتیش نہیں کی۔ این سی اے نے مشکوک سرگرمی والی ٹرانزیکشن کی تحقیقات کی تھیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ برطانوی عدالت نے شہباز شریف فیملی کو منی لانڈرنگ اورمجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات سے بری کردیا۔ این سی اے نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شہباز شریف کے منجمد بینک اکاؤنٹس کی تحقیقاتی رپورٹ ویسٹ منسٹر کورٹ میں جمع کرائی جس کے مطابق شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ، کرپشن اور مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ کرائم ایجنسی نے21 ماہ کی تحقیقات میں 20 سال کے مالی معاملات کا جائزہ لیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ لندن میں شہباز شریف کے خلاف کیس تھا ہی نہیں ۔ مقدمہ سلیمان شہباز پر تھا لیکن تاثر یہ دیا گیا کہ شہباز شریف بری ہوگئے۔
https://dailypakistan.com.pk/28-Sep-2021/1346552?fbclid=IwAR3iNrRVzMRKZusXYms2Kx2VzkScyQXiO-T8V9wXJO1gxvn8CAERHxPPFrM


شہباز شریف خاندان کے خلاف ثبوتوں سے بھرے 5 بکس
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/28092021/P6-Lhr-046.jpg



شہباز شریف کیخلاف برطانیہ میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا: شہزاد اکبر
Published On 28 September,2021 12:35 pm


اسلام آباد: (دنیا نیوز) شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کا لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، تاثر دیا گیا کہ شہباز شریف کو کیس میں بریت ملی ہے، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا فیصلہ سلمان شہباز کے دو اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق تھا۔

مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عدالت نے شہباز شریف کیس کا 2 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کیا، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے فیصلہ 10 ستمبر کو جاری کیا، فیصلہ 2 اکاؤنٹس کو منجمد کرنے سے متعلق تھا، سلمان شہباز کے 2 اکاؤنٹس منجمد کرنے کا آرڈر تھا، اس پورے آرڈر میں شہباز شریف کا نام نہیں تھا، برطانوی عدالت نے بریت کا کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ستمبر 2019 کو ذوالفقار، سلیمان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ آیا، شہباز شریف کیخلاف برطانیہ میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، تاثر دیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف سرخرو ہوگئے، شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کے 2 مقدمے پاکستان میں چل رہے ہیں، شہباز شریف کے سرخرو ہونے کی منطق پر حیران ہوں، نیشنل کرائم ایجنسی نے اس معاملے پر پاکستان سے کچھ نام شیئر کیے، کرائم ایجنسی شک کی بنیاد پر اکاؤنٹ 12 ماہ کیلئے منجمد کرسکتی ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/HeadLineRoznama/621730_1



برطانوی عدالت نے شہباز شریف اور خاندان کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے بری کردیا
Published On 27 September,2021 06:39 pm


لندن: (دنیا نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے برطانوی عدالت نے بری کر دیا۔

واضح رہے کہ شہبازشریف،سلیمان شہباز کےبینک اکاؤنٹس دسمبر2019 میں عدالتی حکم پر منجمد کیے گئے تھے۔ شہباز اور سلیمان کے بینک اکاؤنٹس کو اعلیٰ درجے کی تحقیقات سے مشروط کیا گیا تھا ان اکاؤنٹس کو پاکستان کی برطانوی حکومت سے کرپشن کا پیسہ واپس لانے کی درخواست کے بعد منجمد کیا گیا تھا۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شریف کے منجمد بینک اکاؤنٹس کی تحقیقاتی رپورٹ ویسٹ منسٹر کورٹ میں جمع کرائی۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ، کرپشن اور مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ 21 ماہ کی تحقیقات میں 20 سال کے مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

برطانوی ایجنسی نے حکومت پاکستان، نیب اورایسٹ ریکوری یونٹ کی درخواست پر تحقیقات شروع کی تھیں، تحقیقات کے دوران شہباز شریف اور شریف خاندان کے برطانیہ اورمتحدہ عرب امارات میں اکاؤنٹس کی چھان بین کی گئی۔

عدالت نے شہباز شریف اور ان کے خاندان کو منی لانڈرنگ اورمجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات سے بری کردیا اور منجمد اکاؤنٹس بھی بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/HeadLineRoznama/621621_1



درخواست پر آج سماعت
 27 September, 2021

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو مسلم لیگ ن کے رہنما ایم این اے برجیس طاہر کی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب لاہور کے دفتر میں طلبی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت آج ہوگی

لاہور (اے پی پی) جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دورکنی بینچ درخواست پر سماعت کرے گا۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-27/1887470



سانحہ ماڈل ٹائون:لاہورہائیکورٹ کا لارجر بینچ 29ستمبرسے سماعت کریگا
 26 September, 2021

56 کمپنیوں کو غیر قانونی قرار دینے بارے دائر درخواست 30 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر ، راولپنڈی میں ہسپتال روڈ بلاک کر کے فوڈ سٹریٹ کھولنے کیخلاف درخواست مسترد

لاہور (کورٹ رپورٹر)سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں 7رکنی لارجر بینچ 29ستمبر سے درخواستوں پر سماعت کرے گا ، لاہور ہائیکورٹ میں انسپکٹر رضوان قادر سمیت دیگر نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کو چیلنج کیا تھا، درخواست گزار نے نقطہ اٹھایا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات ہوچکی ہیں، چالان جمع ہوچکا ہے ، اب نئی جے آئی ٹی تشکیل نہیں دی جاسکتی، جس پر لارجر بینچ نے نئی جے آئی ٹی کو تحقیقات سے روک دیا ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے 7رکنی نیا لارجر بینچ تشکیل دیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں گے ۔لار جر بینچ میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان،جسٹس مس عالیہ نیلم ،جسٹس شہباز رضوی ،جسٹس سردار احمد نعیم ،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔ ادھر عدالت نے 56 کمپنیوں کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے دائر درخواست 30 ستمبر کو سماعت کے لئے مقررکردی ۔ درخواست گزار کے وکیل سعد رسول ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کے وکلاکے دلائل جاری ہیں، عدالت نے کمپنیوں کے رجسٹرڈ کرنے کے متعلق ایس ای سی پی اور رجسٹرار جوائنٹ سٹاک کمپنیز کے دائرہ اختیار بارے جواب بھی طلب کررکھا ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے راولپنڈی میں ہسپتال روڈ بلاک کر کے فوڈ سٹریٹ کھولنے کے اقدام کیخلاف دائر درخواست مسترد کردی ۔ جسٹس جواد حسن نے 33صفحات پر مشتمل جاری فیصلے میں تحریر کیا کہ درخواست گزار کوئی ایسا نوٹیفکیشن پیش کرنے میں ناکام رہے جس سے ثابت ہو کہ فوڈ سٹریٹ کے لئے ہسپتال روڈ بلاک کیا گیا ہے ،درخواست گزار اپنے دلائل سے عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-26/1886962



منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف، حمزہ کیخلاف ثبوتوں کے 5 صندوق عدالت پیش 26 September, 2021


ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہے ،سوالات کرتے ہیں تو وہی پرانی کہانیاں سنائی جا تی ہیں،ایف آئی اے ، افسران جھوٹ بول رہے ،مجھ سے بدتمیزی کی گئی:شہبازشریف ، عبوری ضمانتوں میں 9اکتوبر تک توسیع

لاہور (کورٹ رپورٹر، نمائندہ دنیا )لاہور کی بینکنگ عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کے مقدمات میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 9اکتوبر تک توسیع کردی ۔ بینکنگ جرائم عدالت لاہور کے جج نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی ، دوران سماعت ملزموں کے وکیل عدالت پیش نہ ہوئے اور کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی، دوران سماعت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر محمد رضوان نے شواہد سے بھرے پانچ بکس عدالت میں پیش کردیئے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ رمضان شوگر ملز کے 20 لوئر سٹاف کے نام 57اکاؤنٹس بنائے گئے جن میں 55ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز ہو ئیں ،ایسے ظاہر کیا جاتا تھا کہ جیسے یہ لین دین کے پیسے ہیں، ان لوگوں کو اس پیسے کا معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، 20 ملازمین کے 57 اکاؤنٹس کا ایف آئی اے پتا لگا چکی ہے جبکہ 55 ہزار 498 ٹرانزیکشنز کو ایف آئی اے دیکھ رہی ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکارہے جس پر ایف آئی اے نے ملزموں پر عدم تعاون کا الزام لگایا کہ اور کہا ملزم شروع دن سے ہی تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے ہم سوالات کرتے ہیں تو ہمیں وہی پرانی کہانیاں سنائی جا تی ہیں۔ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون ڈاکٹر محمد رضوان نے کہاکہ غریب اور مجبور ملازمین کے اکائونٹس کو کم از کم 25 ارب روپے کی کرپشن چھپانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا شہباز شریف کو یہ تک یاد نہیں کہ ان کے خاندانی کاروبار حمزہ شہباز یا سلمان شہباز چلاتے تھے ۔ حمزہ شہباز کو بھی یہ تک یاد نہیں کہ ان کے اکائونٹ میں کروڑوں روپے کا کیش کون جمع کرواتا رہا۔بینک بھی تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے ۔ تحقیقات میں تعاون کا واضح حکم دیا جائے ۔شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی اے کے سینئر افسر جھوٹ بول رہے ہیں، میں اس شوگر مل کا ڈائریکٹر نہیں، نہ ہی تنخواہ لیتا ہوں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے وکیل نے ایف آئی اے کو مناسب جواب بھجوا دیا ، ایف آئی اے نے جس دن مجھے بلایا اس دن بد تمیزی کی، شہباز شریف نے کہا کہ میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں، مجھے بولنے کی اجازت دی جائے جس پر جج نے کہا کہ آپ کو اب بولنے کی اجازت نہیں، آپ کو ایک بار سن لیا، اب آپ خاموش رہیں۔عدالت نے ملزموں کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں 9اکتوبر تک توسیع کردی ۔ادھر بینکنگ کورٹ نے شہباز شریف خاندان کے لیے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کے کیس میں ملزم اظہر محمود کی عبوری ضمانت میں 29 ستمبر تک توسیع کر دی۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کے الزام میں گرفتار ملزم عاصم سوری کی ضمانت پر سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-26/1886923


پینشن میں کرپشن
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-09-24&edition=KCH&id=5781633_89639003



نوازشریف کی اراضی چند روز میں نیلام کیئے جانے کاامکان، 1128 کنال زمین کی مالیت کتنی ہے ؟ جانئے
Sep 24, 2021 | 15:04:PM


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )نوازشریف کی اراضی اائندہ چند روز میں نیلام کیئے جانے کا امکان ہے ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق نیلا م کی جانے والی اراضی میں موضع میاں میر، مانک اور بدوکی ثانی کی جائیدادیں شامل ہیں ، 1128 کنال اراضی کاتخمینہ 4 ارب 15کروڑ روپے لگایاگیا ہے۔

نوازشریف کی موضع میاں میر میں 135 ، اپر مال پر دو کنال اور آٹھ مرلہ کا پلاٹ ہے جسے 20کروڑ 48 لاکھ 32ہزار روپے میں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ موضع مانک میں 936 کنال 10 مرلہ اراضی ہے جسے 3 ارب 4 کروڑ میں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جبکہ موضع بدوکی ثانی میں 279 کنال زرعی اراضی بھی نیلام ہوگی جو کہ 91 کروڑ 34لاکھ روپے میں نیلام کی جائےگی ۔ نیب کورٹ کے حکم پر نیلامی کیلئے تین کمیٹیاں تشکیل دیدی گئیں ہیں ۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Sep-2021/1344782?fbclid=IwAR0JpM4kQAytoqtnYxswSGo5Zjc852zC2Kmnk29KvmF5pe-RGwBxbfx2Cns



عدالت نے جاتی عمرہ کے وارثتی انتقال کی منسوخی کے خلاف نوازشریف کی بہن کوثر یوسف کو نوٹس جاری کر دیا
Sep 24, 2021 | 15:51:PM


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور کی مقامی عدالت نے شریف خاندان کی جاتی عمرہ اراضی کے وراثتی انتقال کی منسوخی کے خلاف درخواست پر چیف سیٹلمنٹ کمشنر اور نواز شریف کی بہن کوثر یوسف کو یکم اکتوبر کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق سول جج عمران اسحاق نے یوسف عباس شریف کے دعوے پر تحریری حکم جاری کیا۔عدالت نے تحریری حکم میں لکھا ہے کہ عدالت کا تعمیل کنندہ نوٹس وصول کرانے کی تصاویر بھی بنائے۔ عدالتی نوٹس کی تعمیل کے بعد نوٹسز کے پیچھے نقشہ موقع بھی بنایا جائے۔

عدالت نے چیف سیٹلمنٹ کمشنر اور کوثر یوسف کو ڈاک کے ذریعے نوٹس بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔یوسف عباس نے درخواست میں مو¿قف اپنایا ہے کہ دادی کے انتقال کے بعد وراثت کا انتقال کرانے کیلئے محکمہ مال کے پٹواری کو درخواست دی لیکن پٹواری نے موجودہ حکومت کے دباو¿ پر اراضی کا وراثتی انتقال درج کرنے سے انکار کر دیا۔

درخواست گزار کا مو¿قف ہے کہ موجودہ حکومت کے دباو¿ پر غیرقانونی طریقے سے اراضی کی ملکیت و حیثیت تبدیل کی جارہی ہے، استدعا ہے کہ متعلقہ حکام کو دادی کی ملکیتی اراضی کی ملکیت اور حیثیت تبدیل کرنے سے روکا جائے۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Sep-2021/1344785?fbclid=IwAR0prXmgVZqUbYpN6i0jlqswc3YftNPxPG272iVvH9dIEAYy9Cv4Xsca7BI



عطاء الحق قاسمی تقرر کیس :جسٹس منصور شاہ کی معذرت،بینچ ٹوٹ گیا
 23 September, 2021

سپریم کورٹ میں سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطاء الحق قاسمی کی تقرری کیس میں نظر ثانی درخواستیں سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر،این این آئی)جسٹس منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی ۔ دوران سماعت وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے وکیل تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ،عطاء الحق قاسمی کیس میں خود دلائل دینا چاہتے ہیں۔ عدالت عطاء الحق قاسمی کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کی سماعت نہیں کر رہے تو حکم نہیں دے سکتے ۔ عدالت نے بینچ تبدیلی کیلئے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-23/1885725



نواز شریف کی زرعی اراضی 80لاکھ فی ایکڑ، کمرشل پلاٹ 20کروڑ میں نیلام کرنیکا منصوبہ
 23 September, 2021

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زرعی اراضی 80لاکھ فی ایکڑاور کمرشل پلاٹ20کروڑ میں نیلام کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی

لاہور (عمران اکبر)ضلعی انتظامیہ کے شعبہ ریونیو کے مطابق موضع میاں میر میں 135 ،اپر مال پر دو کنال 8 مرلہ پر مشتمل کمرشل پلاٹ ، موضع مانک کی 936 کنال 10 مرلہ ،موضع بدوکی ثانی میں 269 کنال زرعی اراضی نیلام کی جائے گی،احتساب عدالت کے حکم پر نیلامی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس نے نیلامی سے متعلق ورکنگ مکمل کرلی،ایل ڈی اے اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے زرعی اراضی اور کمرشل لینڈ کی ایویلیوایشن کرنے کیلئے رابطہ کرلیاگیا، موضع مانک اور موضع بدوکی ثانی میں ڈی سی ریٹ 80 لاکھ فی ایکڑلگایا گیا ہے ،جبکہ اپر مال پر واقع کمرشل پلاٹ کی 20 کروڑ میں نیلامی کی منصوبہ بندی کرلی گئی ،نیلامی کمیٹی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، ڈپٹی ڈائریکٹر نیب، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ اور اسسٹنٹ کمشنر کینٹ کو شامل کیا گیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-23/1885689



"ہمارے علاوہ سب جماعتیں اقتدار میں حصہ چاہتی ہیں "شاہد خاقان عباسی نے ایسی بات کہہ دی کہ اپوزیشن جماعتیں بھی دنگ رہ جائیں
Sep 22, 2021 | 22:03:PM


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہماری اصولوں کی سیاست ہےاور اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ،ہمارا بیانیہ بہت واضح ہے جس سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا،ہمارے علاوہ اصول کی بات اور کوئی جماعت نہیں کرے گی کیونکہ ہمارے علاوہ سب جماعتیں اقتدار میں حصہ چاہتی ہیں۔

سرگودھا ڈویژن کےتنظیمی اجلاس سےخطاب کرتےہوئےشاہد خاقان عباسی نےکہاکہ پارٹی سےمخلص کارکنوں کی ہمیشہ ضرورت پڑتی ہے،ان لوگوں کو آگے لائیں جو پارٹی سےمحبت کرتے ہیں،یہ پارٹی کی بہت بڑی طاقت ہیں ،اس سے آپ کے حلقے میں رابطہ بھی بڑھ جائے گااور پارٹی بھی مضبوط ہوگی،اگر آپ پارٹی کا بیانیہ آگے پہنچائیں گے تو اس میں آپ کی اور پارٹی کی کامیابی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے ہماری جماعت نے پرفارم کیا ،ہمارے پاس ایک نظریہ اور بیانیہ بھی ہے،یہ ہماری کامیابی ہے کہ مخالفین کو ہر جگہ ہماری فکر ہے ،آج پورا ملک نوازشریف اور ن لیگ کی قیادت کو دیکھ رہا ہے ،ہمارے منصوبوں کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ،جتنے ترقیاتی کام نواز شریف اور شہباز شریف نے کرائے یہ دوبارہ پیدا بھی جائیں تو نہیں کراسکتے ۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جہاں حکومت چھوڑی آج ملک اس سے نیچے زوال پذیر ہے ،صرف مہنگائی اس حکومت کھاجائے گی،دھاندلی نہ ہوتی تو ہماری سیٹیں 100سے زائد ہوتیں،آج بنگلہ دیش آئین پر عمل کرنے سے ہی ترقی کررہا ہے ،پارٹی کابیانیہ آگے پہنچائیں گے ،اس میں آپ کی اور پارٹی کی کامیابی ہے ۔
https://dailypakistan.com.pk/22-Sep-2021/1344038?fbclid=IwAR035OLqIeoL9LfAqKWmrtjfWrIpBF_KRnIK7T0E_U3887c92Dw3-Sw8qRY



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-09-22&edition=KCH&id=5778628_43448014



ایون فیلڈ کیس، عدالت کے فیصلہ پرعملدرآمد : نواز شریف سے 80لاکھ پاؤنڈ جرمانہ وصولی کیلئے کارروائی کا آغاز
 22 September, 2021

متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو سابق وزیر اعظم کی جائیدادیں فوری فروخت کرنے کا حکم، تفصیلات سے بھی آگاہ کردیا گیا ، جرمانہ مکمل نہ ہوا تو مزیداثاثے تلاش کئے جائینگے :نیب ،العزیزیہ میں سزابڑھانے کی اپیل پرنیب کوحقائق تیارکرنیکی ہدایت

لاہور،اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے ) نیب لاہور نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے 8ملین( 80لاکھ) پائونڈ جرمانے کی وصولی کیلئے کارروائی کا آغاز کردیا ۔ایون فیلڈ کیس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال قید اور 8 ملین پائونڈ جرمانہ کی سزا سنائی تھی ۔شریک ملزموں مریم نواز کو 7 سال قید اور 2 ملین پائونڈ جرمانہ جبکہ کیپٹن (ر)صفدر کو 1 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔نواز شریف پر عائد جرمانہ کی رقم کی موجودہ ویلیو 1 ارب 85 کروڑ روپے کے برابر بنتی ہے ۔نیب لاہور نے عدالتی فیصلہ پرعملدرآمد کروانے کیلئے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کیلئے مراسلے ارسال کردیئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے ۔مراسلوں میں ضلع لاہور کے موضع مانک میں 940کنال 2مرلے 85فٹ ، موضع بدوکی سانی میں 299کنال 12مرلے ،موضع مال میں 103کنال 6مرلے ،موضع سلطان کے میں 312کنال 14مرلے ،اپر مال لاہور پر بنگلہ نمبر 135 کو فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دیگر جائیدادوں میں موضع منڈیالی ضلع شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی کو فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونیوالی تمام رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہوگی۔نیب کے مراسلے کے مطابق جرمانہ کی مکمل رقم موجودہ جائیدادوں کی فروخت سے ریکور نہ ہونیکی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات بھی تلاش کئے جائینگے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کیجانب سے نواز شریف کی دائر کردہ اپیل کو رواں سال جون میں رد کردیا گیا جبکہ سپریم کورٹ میں نہ جانیکی وجہ سے سزا فائنل ہوگئی۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے کرپشن کیس میں سزا پر جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے ۔ مزیدبرآں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کی نیب اپیل پر نیب کوحقائق کی تفصیلات تیار کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس عامر فاروق کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایاکہ نواز شریف کو7سال قید کی سزا ہوئی تھی، عدالت نے نواز شریف کو قصور وار پایا لیکن زیادہ سے زیادہ سزا نہیں دی،استدعا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے ،جسٹس عامر فاروق نے کہانواز شریف کی سزا کیخلاف اپیل خارج ہو چکی،نوازشریف خودبھی اب موجود نہیں ہیں آپ کی اپیل آگے کیسے چلے گی؟کیا ہم میرٹ پر جا کر پورا کیس دیکھیں گے ؟،نیب پراسیکیوٹر نے کہازیادہ سزا نہ دینا وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی آلہ قتل یا کوئی چیز نہ ملی ہو،یہاں مختلف معاہدے شواہد کی صورت میں موجود تھے ،عدالت نے کہا کیا احتساب عدالت نے شواہد سے مطمئن ہو کر سزا دی؟،کیا احتساب عدالت نے کچھ لکھا نہیں کہ زیادہ سے زیادہ سزا کیوں دے رہے ہیں؟،اگر نوازشریف موجود ہی نہیں تو کیا ہم ان کی عدم موجودگی میں آپ کی اپیل سنیں ؟مزید سماعت3 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-22/1885193



بینک کے گرفتار نائب صدرکی درخواست پرایف آئی اے کونوٹس جاری
 22 September, 2021

بینکنگ کورٹ نے شہباز شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کیلئے جعلی بینک اکائونٹس بنانے کے کیس میں گرفتار نجی بینک

لاہور(اپنے خبر نگار سے )بینکنگ کورٹ نے شہباز شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کیلئے جعلی بینک اکائونٹس بنانے کے کیس میں گرفتار نجی بینک کے نائب صدرعاصم سوری کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا ۔سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔ بینکنگ عدالت کے جج سردار طاہر صابر نے درخواست پر سماعت کی۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-22/1885167


فلیگ شپ ریفرنس
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/21092021/P6-Lhr-020.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/21092021/P4-Lhr-014.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/21092021/P1-LHR-039.jpg



منی لانڈرنگ :بینک افسروں کیخلاف کارروائی کیلئے نوٹس
 21 September, 2021

کارروائی نہ ہوئی توسٹیٹ بینک کو لیٹر بھجوایا جائیگا، عاصم سوری کا ریمانڈ ، بینک نے 2008سے 2018تک ٹرانزیکشن بارے کسی کو آگاہ نہیں کیا:نوٹس

لاہور (عدالتی رپورٹر، نمائندہ دنیا )ایف آئی اے نے شہباز شریف فیملی کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس میں بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسرعمران مقبول کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت لیگل نوٹس جاری کرتے ہوئے بینک افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے نوٹس بھجوا دیا ۔بینک انتظامیہ کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر سٹیٹ بینک کو لیٹر بھجوایا جائے گا۔ ایف آئی اے شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کر ر ہی ہے اور اس ضمن میں جعلی اکاؤنٹس کھلوانے میں سہولت کاری کے فرائض انجام دینے والے بینکرز کو عدالت میں بیانات کے لیے طلب کیا گیا تھا ۔ذرائع کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کی کافی تعداد مقامی بینک میں ہے اور تقریباً 10سے 12 بینکرز ملوث ہیں، لیکن بینک کے گرفتار وائس پریذیڈنٹ عاصم سوری اورسابق ڈائریکٹر ایف آئی اے اظہر محمود مبینہ طور پر ملوث بینکرز پر من پسند بیان کے لیے دبائو ڈال رہے تھے جس پر عاصم سوری کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اظہر محمود نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت کروا لی ہے ۔ ایف آئی اے نے شواہد چھپانے اور بینکرز پردبائو ڈالنے پربینک کے صدر کو مذکورہ دونوں افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق شواہد چھپانے ،ریکارڈ میں ٹمپرنگ پر 5 سال قید کی سزا ہے ۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بینک نے 2008 سے 2018 تک شریف فیملی کے جعلی اکاؤنٹس اور مشکوک ٹرانزیکشن بارے کسی بھی ادارے کو آگاہ نہیں کیا ۔بینک ٹاپ مینجمنٹ کو فوری طور پر بینکرز پر دبائو نہ ڈالنے کی ہدایات جاری کی جائیں ۔ ادھرمقامی عدالت نے شہباز شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے لیے جعلی بینک اکائونٹس بنانے کے الزام میں گرفتار نجی بینک کے وائس پریذیڈنٹ عاصم سوری کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔عدالت نے ملزم کو تفتیشی رپورٹ کے ساتھ 3 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-21/1884721



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108662953&Issue=NP_PEW&Date=20210920



شہبازشریف جعلی اکائونٹس کیس، بینک کانائب صدرگرفتار
 20 September, 2021

ہیڈآف کمپلائنس عاصم سوری پربینکرزاورگواہان پردبائوڈالنے کاالزام ہے سابق ڈائریکٹرایف آئی اے اظہرکے بھی رابطے ،گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل

لاہور (نمائندہ دنیا )ایف آئی اے نے شہباز شریف کے جعلی اکا ئونٹس کیس میں نجی بینک کے نائب صدرکو گرفتار کر لیا ۔ملزم کے ساتھ رابطوں کے انکشاف پر سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے اظہر کی گرفتاری کیلئے بھی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ۔ ایف آئی اے لاہور نے شہباز شریف فیملی کے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بینکرز اور گواہان پر دباؤ ڈالنے کے الزام میں نجی بینک کے وائس پریذیڈنٹ اور ہیڈ آف کمپلائنس عاصم سوری کو گرفتار کر لیا ۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں بینکرز اور گواہان پر بیان بدلنے کے لئے دبائوڈالاتھا، ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے عاصم سوری کے ساتھ رابطوں کے انکشاف پر ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لاہور کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دیں ۔سابق ڈائریکٹر اظہر ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر بینکنگ سرکل کے ہیڈ رہ چکے ہیں ۔ایف آئی اے نے سابق ڈائریکٹر اور ملزم عاصم سوری کے درمیان موبائل چیٹ قبضے میں لے لی جبکہ نجی بینک کے مالک کے ساتھ بھی دونوں کے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس کیس میں نجی بینک کے مالک اور معروف کاروباری شخصیت میاں منشا کو سوالنامہ بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-20/1884198



کئی ماہ قبل اسلام آباد سے چوری ہونےوالی لگژری گاڑی رکن اسمبلی کے گھر سے برآمد کرلی گئی
Sep 18, 2021 | 12:55:PM


اسلام آباد (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مبینہ چوری شدہ بلٹ پروف گاڑی خیبر پختونخوا کے رکن اسمبلی فیصل زمان کے گھر سے برآمد کرلی، 8 ماہ قبل بلٹ پروف وی 8 گاڑی اسلام آباد سے چوری ہوئی تھی جس کی رپورٹ تھانہ کراچی کمپنی اسلام آباد میں درج کروائی گئی تھی۔

سٹی 42 نیوز کے مطابق جوڈیشنل مجسٹریٹ کے حکم پر ڈی ایس پی غازی کی سربراہی میں اسلام آباد پولیس اور تھانہ غازی پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی کے گھر پر چھاپہ مار کر گمشدہ وی ایٹ گاڑی برآمد کرلی، کروڑوں روپے مالیت کی بلٹ پروف وی ایٹ گاڑی تھانہ غازی پولیس نے اپنے قبضے میں کر لی۔

واضح رہے کہ رکن صوبائی اسمبلی فیصل زمان پر سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کے دور میں سینٹ انتخابات میں سینٹ کا ووٹ بیچنے کا بھی الزام ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Sep-2021/1342331?fbclid=IwAR05zBRNL7ADKcMb8e-5kBcB01LeV0aloQSZGXmWFgjdOTPnxelRJWMakaI
Faisal Zaman




Assembly Business

Bills

Questions
Privilege Motions
Adjournment Motions
Resolutions
Call Attentions







Personal Info
Name:Faisal Zaman

Fathers Name:Muhammad Usman

Date of Birth:1976-12-05

Place of Birth:Karachi

Religion:Islam

Political Info
Seat Type:General Seat


Constituency:PK-42 Haripur-III

Contact Info
Permanent Contact:Cell: 0300-8591935

Political Career
Political Party Pakistan Muslim League(Q)Position MPATenure 2002-2007

Political Party Pakistan Tehrek InsafPosition MPATenure 2013-2018

https://www.pakp.gov.pk/member/pk-42-2018/



برطانوی فرم براڈ شیٹ نے نیب سے مزید رقم مانگ لی
Sep 18, 2021 | 18:39:PM


لندن (مجتبیٰ علی شاہ )پاکستان سے 30 ملین ڈالر وصول کرنے والی برطانوی فرم براڈ شیٹ نے حکومت پاکستان اور نیب سے مزیدپیسے مانگ لیے۔براڈ شیٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اورحکومت پاکستان سے مزید 1.2 ملین پاونڈز قانونی فیس اور ادائیگیوں کی مد میں مانگے ہیں۔

براڈ شیٹ کیس پرپاکستان کے اب تک تقریباً 65 ملین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور اب براڈ شیٹ نے نیب سے 11لاکھ 13 ہزار 261 پاونڈز لیگل فیس اور 61 ہزار497 پاونڈز ادائیگیوں کی مد میں طلب کیے ہیں۔برطانوی ہائیکورٹ کا نیب کو 13 اگست تک اربوں روپے براڈشیٹ کو ادا کرنے کا حکم بینک ذرائع لندن کے مطابق 17 اگست کو براڈ شیٹ کو 9 لاکھ20 ہزارپاونڈز ادا کیے گئے ہیں۔

براڈ شیٹ کے وکلا نے لندن میں نیب کے وکلا ایلن اینڈ ایوری کو خط بھیجا ہے جس کے مطابق یہ رقم پاکستان سے اصل رقم لینےمیں خرچ ہوئی جس کا عدالت جائزہ لے چکی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ نیب کو یہ رقم اپنے اور وکلا کے طرزعمل اورغیرفعال ہونے پر دینی پڑے گی، نیب پہلے آربٹریشن ایوارڈ کو مطمئن نہیں کرسکا تھا۔وکلا براڈ شیٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے احکامات کی تعمیل کرانے کیلئے بہت کام کرنا پڑا۔خط میں نیب کو سست اور غیر ضروری تاخیر کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا ہے جبکہ براڈ شیٹ کے وکلا کا خط اسلام آباد میں نیب ہیڈ کوارٹر پہنچ گیا ہے۔براڈ شیٹ کے چیف ایگز یکٹو کاوے موسوی کا کہنا ہے کہ معاملہ خوشگوار طریقے سے حل نہ ہوا تو کارروائی آگے بڑھائیں گے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Sep-2021/1342363?fbclid=IwAR0Q1hou1SaETpvTrDeVzuxlsd2hX9KwKGcdmYchaPv58JoMiUKpN0Gkf7s



امریکی قونصل جنرل سے ملاقات
 18 September, 2021


اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف سے امریکی قونصل جنرل ولیم کے میکانیول نے ملاقات کی

لاہور ( اپنے سیاسی رپورٹر سے ) امریکی قونصل جنرل نے حمزہ شہباز شریف کو کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔امریکن قونصل جنرل نے خطے کی مجموعی صورتحال پر حمزہ شہبازکو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-18/1883235



منی لانڈرنگ :نصرت شہبازپرآئندہ پیشی پرفردجرم
 17 September, 2021

احتساب عدالت میں تین مختلف ریفرنسز پر سماعت،شہباز،حمزہ پیش
لاہور(اپنے خبر نگارسے )اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی اہلیہ نصرت شہباز نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں ٹرائل جوائن کرلیا ،احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر نصرت شہباز کو نمائندے کے ذریعے فرد جرم کی کارروائی کے لیے طلب کر لیا ۔ دیگر مقدمات میں ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔ احتساب عدالت میں شہبازشریف خاندان کے خلاف نیب کے تین مختلف ریفرنسز پر سماعت ہوئی۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔شہبازشریف کی اہلیہ نصرت شہباز نے اپنے نمائندے کے ذ ریعے ٹرائل جوائن کیا ۔عدالت نے نمائندے کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فرد جرم کی کارروائی کے لیے طلب کرلیا ۔ادھر احتساب عدالت نمبر پانچ کے جج ساجد علی نے رمضان شوگر ملز اور آشیانہ اقبال ریفرنس پر سماعت کی، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ شہباز شریف خاندان کے ریفرنس الگ الگ تاریخ میں مقرر کیے جائیں۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تینوں ریفرنسز میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے ہیں، ایک ہی روز تاریخ مقرر کرنے سے سماعت متاثر ہوسکتی ہے ۔عدالت نے ریمارکس د ئیے کہ آئندہ سماعت پر اس کو دیکھیں گے ۔عدالت نے کارروائی یکم اکتوبر تک ملتوی کردی ۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-17/1882771



سانحہ ماڈل ٹائون کے 7سال بعد بھی کاغذات نا مکمل :ہائیکورٹ
 17 September, 2021

ورثا دھکے کھا رہے ،عدالت،ادھوری دستاویزات پرحکومت سے اظہارناراضی گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر خارج

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کیخلاف درخواست میں پنجاب حکومت کی جانب سے مکمل دستاویزات پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دئیے کہ اس واقعہ کے متاثرین سات سال سے دھکے کھا رہے ہیں اتنے سال سے کاغذات بھی مکمل نہیں کیے گئے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف دائر دو درخواستوں پر سماعت کی درخواست گزاروں کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے دلائل دیئے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے زبانی حکم پر جے آئی ٹی نہیں بن سکتی تھی، سپریم کورٹ نے حکم نہیں دیا تھا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے ،اگر ایسا حکم دیا ہوتا تو معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں نہ آتا،جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ دوسری جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی جس پر اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ جے آئی ٹی بسمہ امجد کے کہنے پر بنی جو ایک مقتولہ کی بیٹی ہے ۔ عدالتی استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ کابینہ کے جے آئی ٹی کی منظوری دینے کے کمنٹس موجود ہیں تاہم پنجاب حکومت کے وکیل کی جانب سے مکمل دستاویزات پیش نہ کرنے پر جسٹس ملک شہزاد نے ناراضی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ کسی بھی فائل میں دستاویزات مکمل نہیں ہیں، اتنا اہم کیس ہے ، جج صاحبان کی فائلوں میں دستاویزات ہی نہیں ہیں۔جو بیچارے اس واقعہ میں شہید ہوگئے ، انکے لواحقین سات سال بعد بھی دھکے کھا رہے ہیں ۔لارجربینچ نے درخواست گزار کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی 29 ستمبر تک ملتوی کر دی ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو عہدے سے ہٹانے اور کام سے روکنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ گورنر کو آئین میں استثنٰی حاصل ہے انہیں عدالت کیسے عہدے سے ہٹاسکتی ہے ، درخواست شاہد اورکزئی نے دائر کی تھی
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-17/1882743



ہائیکورٹ نے شوگرملز سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی روک دی
 17 September, 2021

لاہور ہائیکورٹ میں شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی فیس وصولی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے

لاہور( کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی فیس وصولی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے انتظامیہ کو مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی سے روک دیا اور پنجاب حکومت سمیت فریقین سے جواب طلب کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے درخواستوں پر سماعت کی ۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-17/1882754



سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت 29ستمبر تک ملتوی
Sep 16, 2021 | 12:04:PM


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی ، سرکاری وکیل نے کہا کہ کابینہ نے لکھ کر دیا کہ کابینہ نے لکھاکہ سپریم کورٹ کے کہنے پر جے آئی ٹی بنی ۔

جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ یہ لکھ دیتے کونسی جے آئی ٹی بنانے کی بات کر رہے ہیں ، وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے وجہ نہیں لکھی جے آئی ٹی کیوں بنائی جا رہی ہے ۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کابینہ ربڑ سٹیمپ بن کر منظوری نہیں دے سکتی ، آئندہ سماعت پر آدھے گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں گا۔عدالت نے کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کیس کو نئے سرے سے شروع کرنے کا کہا تھا ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ کیس کو نئے سرے سے شروع کریں کیونکہ میں سابق بنچ میں شامل نہیں تھا۔

جنگ نیوز کے مطابق انسپکٹر رضوان قادر سمیت دیگر نے سانحہ ماڈل ٹائون کی دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل و چیلنج کر رکھا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں 7رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی بینچ میں جسٹس ملک شہزاد احمد، جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس سرفراز ڈوگر ، جسٹس شہباز رضوی، جسٹس سردار احمد نعیم اورجسٹس طارق سلیم شیخ شامل تھے۔درخواست گزاروں کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ جبکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن متاثرین کی طرف سے بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے۔
https://dailypakistan.com.pk/16-Sep-2021/1341427?fbclid=IwAR0KpOkAV7l8eGlbuHxtKjCTDIdZ4nmKzYtuyvi0dYlfMFac-HgO1XYBFKE


برجیس طاہر آمدن
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/15092021/P6-LHR-030.jpg



شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس :گواہوں پرجرح جاری
 15 September, 2021


احتساب عدالت میں زیر سماعت سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی وغیرہ کے خلاف ایل این جی ریفرنس میں گواہوں پر جرح جاری رہی

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے ) دوران سماعت شاہد خاقان عباسی نے عدالت کو بتایاکہ بیرسٹر ظفر اللہ راستے میں ہیں کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے جس پر سماعت میں وقفہ کردیا گیا،دوبارہ سماعت پر عدالت نے استفسار کیاکہ شریک ملزم اسلم کے وکیل کہاں ہیں، عدالت نے کہااگر وکیل صاحب نہیں آئیں گے تو ہم حق جرح ختم کر دیں گے ،بعدازاں سماعت21 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-15/1882170



سانحہ ماڈل ٹائون کیس:نئی جے آئی ٹی کیخلاف ہائیکورٹ کا لارجر بینچ آج سماعت کریگا
 14 September, 2021

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کیخلاف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں 7رکنی لارجر بینچ آج درخواستوں پر سماعت کرے گا

لاہور (کورٹ رپورٹر)سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کیخلاف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں 7رکنی لارجر بینچ آج درخواستوں پر سماعت کرے گا،انسپکٹر رضوان قادر سمیت دیگر نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کو چیلنج کیا تھا ۔
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
https://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2021-09-14/1881510


احسن اقبال ،مصطفی کمال ضمانت
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/14092021/p4-lhe-001.jpg


میاں منور اقبال زیادتی کیس
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/14092021/P6-Lhr-050.jpg


شریف خاندان ،برطانوی وزیرداخلہ اور بھارت کا تعلق
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/09/13092021/P6-Lhr-051.jpg

No comments:

Post a Comment