کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اب تک کی کامیابی ::: لاک ڈاؤن ناکام ::: کرونا سے متعلق مزید بیماریاں ::: موبائل فون سے کرونا ::: کرونا کی پیشن گوئی ::: مشکوک بیماری ::: گھروں کی صفائی، لوگ زہریلے کیمیکلز کا شکار - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Friday, 8 May 2020

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اب تک کی کامیابی ::: لاک ڈاؤن ناکام ::: کرونا سے متعلق مزید بیماریاں ::: موبائل فون سے کرونا ::: کرونا کی پیشن گوئی ::: مشکوک بیماری ::: گھروں کی صفائی، لوگ زہریلے کیمیکلز کا شکار

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107416809&Issue=NP_PEW&Date=20200508

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کے متعلق نئے اعدادوشمار میں ایسا انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ لاک ڈاﺅن کی اثرپذیری پر ہی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق امریکہ میں لاک ڈاﺅن ہے اور ناگزیر سروسز کے ورکرز کے علاوہ باقی تمام لوگوں کو گھر میں رہنے کا حکم ہے تاہم ریاست نیویارک کے اعدادوشمار میں انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتالوں تک پہنچنے والے کورونا وائرس کے مریضوں میں 66فیصد ایسے لوگ ہیں جو ناگزیر سروسز کے ورکرز نہیں تھے اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے گھروں میں رہ رہے تھے، اس کے باوجود انہیں وائرس لاحق ہو گیا۔

اس انکشاف کے بعدلاک ڈاﺅن کی اثرپذیر ی پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ اگر ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کی اکثریت پہنچ رہی ہے جو گھروں میں بیٹھے ہیں تو پھر لاک ڈاﺅن کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے کتنا موثر ثابت ہو رہا ہے۔ریاست میں ایک سروے کیا گیا ہے جس میں 90فیصد لوگوں نے کہا کہ اگر انہیں کبھی گھر سے نکلنا بھی پڑے تو وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتے۔ اس کے باوجود یہ لوگ وائرس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ریاست نیویارک کے اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالت تشویشناک ہونے پر جتنے نئے مریض ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں ان میں 73فیصد 51سال سے زائد عمر کے ہیں اور 96فیصد پہلے سے کسی نہ کسی بیماری کا شکار تھے۔ریاست نیویارک میں اب تک کورونا وائرس کے 3لاکھ 21ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں اور 19ہزار 877اموات ہو چکی ہے۔ امریکہ بھر میں مریضوں کی تعداد ایک ملین سے زائد ہو چکی ہے اور 72ہزار جانیں جا چکی ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/07-May-2020/1129735?fbclid=IwAR3OL2ujkJCR1E1hGkTyeXONHaQry

Ar45l6ZYR8ks5FpZzpcQlM-tB1sNcQ

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس عام طور پر کھانسی، بخار اور پھیپھڑوں کی شکست و ریخت کا سبب بنتا ہے لیکن اب برطانیہ میں یہ وائرس ممکنہ طور پر ایک نئے اور انتہائی سنگین عارضے کا سبب بھی بن رہا ہے جو بالخصوص کورونا وائرس سے متاثرہ بچوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ نیا عارضہ انفلیمیٹری بخار ہے جس کی علامات ’کاواساکی ‘ نامی بیماری سے مشابہہ ہیں۔ اس عارضے میں دل اور خون کی نالیوں میں شدید انفلیمیشن شروع ہو جاتی ہے جو مریض کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانوی سائنسدانوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ 8بچوں پر تحقیق کی ہے جن میں یہ نیا عارضہ رونما ہوا۔ اگرچہ اس تحقیق میں حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ اس نئے عارضے کی وجہ کورونا وائرس ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف مدافعت کرتے ہوئے آٹو امیون ریسپانس کے نتیجے میں بچوں کو یہ انفلیمیشن لاحق ہو رہی ہو۔ تاہم نیشنل ہیلتھ سروسز کے سائنسدانوں نے ڈاکٹروں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں، بالخصوص متاثرہ بچوں کا علاج کرتے ہوئے اس نئے عارضے کو بھی ذہن میں رکھیں۔برطانوی وزیرصحت میٹ ہین کاک کا کہنا ہے کہ ”این ایچ ایس کے سائنسدانوں کی طرف سے جاری ہونے والے اس الرٹ نے مجھے بہت پریشان کر دیا ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو دنیا میں اور کہیں رپورٹ نہیں کی گئی۔ اس کی حقیقت جاننے کے لیے مزید تحقیق کی جائے گی۔“

https://dailypakistan.com.pk/07-May-2020/1129732?fbclid=IwAR09o9RJwGpUq4ZQ83tdE-g9xJp8kP6CNtNVEqD4MlOdsNJdBs3_YYTijvk

سڈنی(ڈیلی پاکستان آن لائن)موبائل فونز ہر قسم کے وائرس اپنے ساتھ اٹھا سکتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے دوران ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے نقصانات  اور اس کے پھیلاو سے بچنے کیلئے موبائل فونز کی باقاعدگی سے صفائی بہت ضروری ہے۔اس  تحقیق کا نتیجہ  56مختلف مطالعاتی جائزوں کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔

یہ جائزے موبائل فونز کے بیکٹیریا ، فنگی یا وائرسز کے پھیلاو سے متعلق تھیں۔

ویب ایم ڈی پر شائع رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تحقیق کیلئے 2006 سے 2019 تک چوبیس مختلف ممالک میں تحقیقات کی گئیں۔ اور اس وقت تک کورونا وائرس ابھی منظر عام پر نہیں آیا تھا۔

آسٹریلیا کی بانڈ یونیورسٹی ان کوئنز لینڈمیں کی گئی تحقیق کے مطابق  یہ بات سامنے آئی ہے کہ موبائل فونز نہ صرف بیکٹیریا بلکہ وائرسز ، فنگی اور پروٹوزا جیسے ہزاروں جراثیم کےایک جگہ سے دوسری جگہ پھیلاوکا سبب بن سکتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ اوسطاً 68 فیصد موبائل فونز میں متعدد اقسام کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔

محققین نے فونز پر نئے نوول کورونا وائرس کی موجودگی پر کوئی نیا ٹیسٹ نہیں کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ ایسا ٹھوس امکان ہے کہ موبائل فونز کووڈ 19 کے تیزی سے پھیلنے کا ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس گلاس، پلاسٹک اور اسٹین لیس اسٹیل پر کئی دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور موبائل فونز جراثیموں کے میزبان ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ہم انہیں صاف نہیں کرتے اور ہم انہیں ہر جگہ لے جاتے ہیں اور ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

اس میں کھانے کا عمل بھی شامل ہے، سونے کی جگہ اور بلکہ متعدد افراد تو ٹوائلٹ بھی لے جاتے ہیں جبکہ طیاروں اور ٹرینوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/07-May-2020/1129669?fbclid=IwAR3fKNYoWhErJDSxIMGiZACKyM6X

xTL9RsaP4iQCQrxn7JxBfyIF9I_5pu4

 نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی پہلی لہر نے ہی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس وائرس کی دوسری لہر بھی آسکتی ہے جو اس سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اب نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے حیران کن دعویٰ کر دیا ہے کہ انسانوں کے پاخانے کے ذریعے کورونا وائرس کی دوسری ممکنہ لہر کو روکا جا سکتا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق امریکہ کی ایپڈیمیالوجی فرم ’بائیو باٹ‘ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سائنسدان لوگوں کے پاخانوں پر تحقیق کریں۔ ا س سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا کہ دوسری لہر میں کورونا وائرس کن ممالک اور کن خطوں میں زیادہ پھیل سکتا ہے اور یہ پتا چلانے کے بعد وہاں وائرس کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔

بائیو باٹ کی بانی نیوشا گھیلی کا کہنا تھا کہ”یہ بات کئی تحقیقات میں ثابت ہو چکی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے پاخانے میں وائرس شامل ہوتا ہے چنانچہ اس سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ کن علاقوں میں وائرس زیادہ پایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ہمیں لوگوں کے پاخانے کے الگ الگ نمونے لے کر انہیں ٹیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم شہروں میں مختلف علاقوں کے سیوریج سسٹم سے نمونے لے کر پتا چلا سکتے ہیں کہ کس علاقے میں کورونا وائرس زیادہ ہے۔ اس طرح ہمارے سامنے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے واضح تصویر آ جائے گی اور ہم اس کو روکنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔“نیوشا کا کہنا تھا کہ ان کی فرم امریکہ بھر سے سیوریج سسٹم سے نمونے حاصل کر رہی ہے اور ان کے ٹیسٹ کرکے جلد نتائج سامنے لائے جائیں گے۔

https://dailypakistan.com.pk/07-May-2020/1129740?fbclid=IwAR3m8C2GbTVxRikkef_kJQXr7Qzxek

s64MtKuJ9HwefDhAJ6OuImA85Xhg

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بالآخر کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یورپ کے سائنسدان بالآخر اس اینٹی باڈی کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کورونا وائرس کو انسانی خلیوں کو نشانہ بنانے سے روکتی اور اس کا خاتمہ کرتی ہے۔ اس اینٹی باڈی کا نام ’47ڈی 11‘ (47D11) ہے۔ یہ اینٹی باڈی کورونا وائرس کے انسانی خلیوں کو متاثر کرنے کا طریقہ ہی بدل دیتی ہے اور اسے ناکارہ بنا کر رکھ دیتی ہے۔

یوٹریکٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ اینٹی باڈی نہ صرف مریض کے جسم میں موجود کورونا وائرس کو ختم کرتی اور مریض کے خلیوں کو بچاتی ہے بلکہ اگر کسی صحت مند انسان کے جسم میں داخل کر دی جائے اور وہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے قریب بھی رہے تو وائرس سے محفوظ رہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس اینٹی باڈی کے چوہوں پر تجربات کیے ہیں جن کے انتہائی مو¿ثر نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان تجربات کی کامیابی سے کورونا وائرس کی مو¿ثر ویکسین تیار ہونے کے متعلق نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر بیرینڈ جین بوچ کا کہنا تھا کہ 2003ءمیں پھیلنے والے وائرس ’سارس‘ (SARS-CoV-1) پر یہ اینٹی باڈی انتہائی مو¿ثر رہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ ’SARS-CoV-2‘ پر بھی اتنی ہی مو¿ثر ثابت ہو گی جو کہ حالیہ وباءکی صورت میں دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور چوہوں پر اس کے تجربات کے نتائج بہت تسلی بخش آئے ہیں۔ ہماری اس تحقیق کی بنیاد اس اینٹی باڈی پر ماضی میں ہونے والی تحقیقاتی کے نتائج پر مبنی ہے۔ سارس پھیلنے کے بعد جن اینٹی باڈیز کا پتا لگایا گیا تھا ہم نے ان تمام کا تجزیہ کیا اور ان میں سے یہ ایک اینٹی باڈی ہمیں حالیہ کورونا وائرس پر مو¿ثر ملی جس کے ہم نے چوہوں پر تجربات کیے اور نتائج ہماری توقع سے بڑھ کر سامنے آئے۔“

https://dailypakistan.com.pk/05-May-2020/1128898?fbclid=IwAR2N5GkGHvAizliImB_tayKcZ6H3S7F

zdjmR4DUj43IN_a3JhowoeVzhzQs

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/06052020/P6-Lhr-021.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/05/06052020/P6-Lhr-021.jpg

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں لوگ گھروں اور اپنے جسم کی صفائی کا خاص اہتمام کرنے لگے ہیں لیکن اسی کوشش میں وہ ایک اور طریقے سے خود کو موت کے قریب کر رہے ہیں، جس کے متعلق کینیڈا کے ماہرین نے متنبہ کر دیا ہے۔ دی مرر کے مطابق ہیلتھ کینیڈا کے ماہرین نے بتایا ہے کہ لوگ ہاتھوں کی صفائی اور گھروں میں سپرے وغیرہ کے لیے جو کیمیکلز استعمال کر رہے ہیں یہ انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے ان زہریلے کیمیکلز کا استعمال کئی گنا بڑھ گیا ہے اور اب یہ خطرناک حد تک استعمال کیے جا رہے ہیں۔کینیڈین فیڈرل ہیلتھ ایجنسی نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسے زہریلے کیمیکلز کا استعمال کم سے کم کریں۔ ہیلتھ کنسلٹنٹ جم شین کاکہنا تھاکہ ان اشیاءکے کثرت سے استعمال کے بعد ہسپتالوں میں آنکھوں کی جلن اور سانس کے مسائل کے حامل مریضوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔ ان میں سے بعض مریض سانس کے سنگین عارضوں میں مبتلا پائے گئے ہیں۔“

https://dailypakistan.com.pk/06-May-2020/1129321?fbclid=IwAR024Yt9Cza1BFQJhZ3O3zWpxtxNb

MC7RUZnRzLd08poMgaUzkvDlF3WkBo

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-04&edition=KCH&id=5167542_82826386

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-05-04&edition=KCH&id=5167193_43291313

No comments:

Post a Comment