https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/09042020/p5-lhr005.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/08042020/P1-LHR046.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-04-08&edition=KCH&id=5131751_28869634
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-04-08&edition=KCH&id=5131987_78940644
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-04-07&edition=KCH&id=5131482_65096748
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-04-07&edition=KCH&id=5131343_45459635
واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹیلیجنس کمیونٹی
انسپکٹر جنرل مائیکل ایٹ کنسن کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔بین الاقوامی
خبر ایجنسی کے مطابق مائیکل ایٹ کنسن نے یوکرینی حکومت پر دبائو ڈالے جانے
کا انکشاف کیا تھا۔
انٹیلیجنس کمیونٹی انسپکٹر جنرل مائیکل ایٹ
کنسن کے انکشاف کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا
پڑا تھا۔خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف
خارجہ پالیسی کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرنے کے الزام میں دو قراردادیں
منظور کی تھیں۔ڈیموکریٹ پارٹی کی قیادت میں انکوائری کرنے والی کمیٹی نے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی خارجہ پالیسی کا مبینہ طور پر غلط استعمال
کرنے کے الزام میں دو قراردادیں کثرت رائے سے منظور کیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کا سامنا کرنے والے تیسرے امریکی صدر بن گئے ہیں۔ایوان
نمائندگان میں مواخذے کی قراردیں منظور ہونے کے بعد اب امریکی پارلیمنٹ کا
ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ان کے خلاف مقدمہ چلنا تھا۔تاہم سینیٹ میں
مواخذے کی تحریک ناکام ہو گئی تھی اور ان پر عائد دونوں الزامات سے انہیں
بری کردیا گیا تھا جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی راہ میں
رکاوٹ بننا شامل تھے۔مواخذے کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اب امریکی صدر اپنے
عہدے پر برقرار رہے۔
https://dailypakistan.com.pk/04-Apr-2020/1115969?fbclid=IwAR1z2SiUzQgLbVMhyZFWm5sYj-PvSuALMiGz8XFQau-YcOcLuQZOKwQ7RF4
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/05042020/P1-Lhr-015.jpg
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-04-05&edition=KCH&id=5128230_24900925
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/05042020/bp-lhe-043.jpg
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/05042020/P1-Lhr-024.jpg
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت کے عوام کو دیئے گئے بارہ سو ارب
روپے میں سے اربوں روپے یوٹیلیٹی سٹورز کو دے دیے گئے۔ کورونا ریلیف فنڈ ز
میں سے یوٹیلیٹی سٹورز کو پچاس ارب روپے کی منتقلی پر قمر الزمان کائرہ نے
حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ ان کے مطابق حکومت نےیوٹیلیٹی سٹورز کو جو
پیسہ دیا ہے وہ ادارہ اس فنڈز سے بھی آدھی رقم کی کل سیل کرتا ہے۔ ایسے
میں اس سے مجموعی کمائی سے ڈبل کی سبسڈائزڈ اشیا دے دینا مناسب نہیں۔
نجی
ٹی وی آپ نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قمر الزمان کائرہ کہتے ہیں
کہ حکومت نے پچاس ارب روپے یوٹیلیٹی سٹورز کو دیئے ، آپ کو حیرت ہو گی کہ
گزشتہ برس یوٹیلیٹی سٹورز نے کل چھبیس ارب روپے کی اشیا فروخت کیں، ایک
ادارہ جو سارے سال میں ساڑھے چھبیس ارب روپے کی ٹوٹل سیل کرتا ہے،اس کو آپ
نے پچاس ارب دیا ہے کہ وہ ایک سال میں پچاس ارب کی سبسڈائز سیل کرے گا؟
انہوں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ وہ پچاس فیصد سبسڈی بھی دینا چاہے تو اسے سو
ارب روپے کی سیل کرنا ہوگی۔ یوٹیلٹی سٹور اگر مفت بھی مال دے تو اسے اپنی
ٹوٹل سیل کے ڈبل سیل کرنا ہوگا۔ اور یہ چھ سو پینسٹھ ارب کا پیکج ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/04-Apr-2020/1116022?fbclid=IwAR0X1R1_EwRjmxuk0Vau-t5GC1EkcuetHCrdYZYqdYzfOrDF1MY9Pux2U8g
https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/04/01042020/fp-lhe-028.jpg
https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-04-01&edition=KCH&id=5121733_70572309
Daily Dunya
No comments:
Post a Comment