
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کے دوران بہت سے
لوگ آن لائن شاپنگ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ بھی گھر پر ہی آرڈر
کر رہے ہیں۔ اب اس حوالے سے ماہرین نے لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے اہم ہدایت
جاری کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی ماہرین نے لوگوں کو خبر دار
کیا ہے کہ گھر پر آنے والے پارسلز پر بھی کورونا وائرس موجود ہو سکتا ہے
چنانچہ پارسل گھر آنے کے بعد اسے 72گھنٹے کے لیے ایسے ہی پڑا رہنے دیں اور
پھر اسے کھولیں۔
رپورٹ کے مطابق بیتھ، برسٹل اور ساﺅتھ ہیمپٹن کے
تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہ کاغذ کی مختلف اقسام پر کورونا وائرس 72گھنٹے
تک زندہ رہ سکتا ہے چنانچہ اس دورانیے میں پارسل کو ہاتھ لگانا خطرناک ثابت
ہو سکتا ہے اور آپ وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف بیتھ کے
پروفیسر ڈاکٹر بین اینزورتھ کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ کورونا وائرس
بھی اسی طرح پھیلتا ہے جس طرح دیگر وائرسز پھیلتے ہیں۔ اس احتیاط پر عمل
کرکے ہم کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں بہت حد تک کمی لا سکتے ہیں۔“
https://dailypakistan.com.pk/11-May-2020/1131342
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن )عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاو اور
اس کے خاتمے سے متعلق دنیا بھر میں سائنسدان دن رات تحقیقات کر رہے ہیں اور
اس حوالے سے آئے روز ایک نئی پیشرفت بھی سامنے آرہی ہے۔کورونا وائرس کے
پھیلاوسے متعلق حال ہی میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ وائرس آنکھوں
کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
امریکا کی جونز ہاپکنز
یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس میں انہوں نے یہ
نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگر کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی چھینک یا کھانسی
میں سے نکلنے والے قطرے کسی دوسرے شخص کی آنکھوں میں جا گریں تو اس سے اس
شخص کی آنکھوں کے ذریعے سے وائرس جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔سائنسداوں کا
کہنا ہے کہ کورونا وائرس انسان کے جسم میں موجود 'اے سی ای 2 ریسیپٹر' کو
نشانہ بناتا ہے اور یہ اے سی ای 2 ریسیپٹر آنکھوں میں موجود ہوتے ہیں۔تحقیق
کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز
اور دیگر طبی عملے کو وائرس کے پھیلاوسے بچنے کے لیے ناصرف ماسک، دستانے
اور حفاظتی لباس پہننا چاہیے بلکہ اب انہیں خاص چشمے کا استعنال کرنا بھی
ضروری ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/11-May-2020/1131331?fbclid=IwAR2BQ_tXAoAmbjgKz4OO62SAUV9y
SdEghhtCr63O7j1LFjitMaICCNaleqQ
No comments:
Post a Comment