
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وائی فائی کی رفتار گویا نوجوان نسل کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ تاہم اب بہت جلد یہ مسئلہ حل ہونے والا ہے کیونکہ 2020ءمیں وائی فائی کا نیا ورژن ’وائی فائی 6‘ متعارف کروایا جا رہا ہے جو موجودہ ورژن وائی فائی 5سے کئی گنا زیادہ تیز ہو گا۔ ویب سائٹ gadgetsnow.com کے مطابق ایپل آئی فون 11سیریز اور سام سنگ نوٹ 10سیریز میں پہلے ہی وائی فائی 6سپورٹ شامل کی جا رہی ہے۔
نوری 2020ءمیں کنزیومر الیکٹرانکس شو منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں وائی فائی 6کو سپورٹ کرنے والی مزید کئی ڈیوائسز متعارف کروائی جائیں گی اور یہی وہ وقت ہو گا جب وائی فائی 6متعارف کروایا جائے گا۔ ویب سائٹ سی نیٹ کے مطابق وائی فائی 6محدود پیمانے پر پہلے ہی متعارف کروایا جا چکا ہے اور چونکہ اسے سپورٹ کرنے والی ڈیوائسز کم ہیں لہٰذا یہ دنیا میں عام نہیں ہو پایا۔ اب جیسے جیسے اسے سپورٹ کرنے والی ڈیوائسز کی تعداد بڑھے گی وائی فائی 6بھی عام ہوتا جائے گا۔ سی نیٹ ہی کے مطابق وائی فائی 6کی سپیڈ موجودہ وائی فائی 5سے ایک ہزار فیصد تیز ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070334?fbclid=IwAR2wMI5-FojXoVAfDI7iz7a7OruSPm7vjW5H3Cfc0Am9A3jvoQo65F33r_c
سائنس دانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کا پہلا کامیاب تجربہ ایسی دو کمپیوٹر چپ میں انجام دیا ہے جو آپس میں برقی یا طبعی طور پر منسلک نہیں تھیں اور ایک دوسرے سے فاصلے پر تھیں۔ اپنی نوعیت کا یہ اہم کام یونیورسٹی آف برسٹل اور ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے ماہرین نے انجام دیا ہے۔ اس تجربے سے کوانٹم کمپیوٹر اور کوانٹم انٹرنیٹ کی راہیں کھلیں گی۔ یہ تجربہ ٹیلی پورٹیشن کے ایک اہم پہلو ’کوانٹم اینٹینگلمنٹ‘ کے تحت انجام دیا گیا ہے۔
اس میں دوری پر موجود دو ذرات (پارٹیکلز) ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں یا ایک ذرے کے خواص بدلتے ہی فی الفور دوسرے ذرے کی کیفیت میں بدل جاتے ہیں۔ ان کے درمیان کتنا ہی فاصلہ اور خلا موجود کیوں نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوانٹم اینٹینگلمنٹ کے عمل میں ایک ذرے کی معلومات دوسرے ذرے تک منتقل ہوتی ہے۔ نظری طور پر کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کسی خلا یا مکان میں محدود نہیں اور اس کیفیت نے خود آئن اسٹائن کو بھی ایک عرصے تک معمے میں الجھائے رکھا تھا۔
طبیعیاتی قوانین کے تحت ہماری کائنات میں کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی لیکن کوانٹم ٹپورٹیشن میں بظاہر معلومات اس حد کو نظری طور پر پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے بہت سے فائدے ہیں اور اب دو چپس کے درمیان معلومات کی ٹیلی پورٹیشن سے اس خواب کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔
اس تجربے میں ماہرین نے چپس پر اینٹینگلڈ فوٹون کا ایک ایسا جوڑا بنایا جو خاص کوانٹم حالت یعنی اسٹیٹ پر تھے اور ان میں سے ایک کی کوانٹم کیفیت کو معلوم کیا گیا۔ کوانٹم طبیعیات کی رو سے مشاہدے نے فوٹون کی حالت کو تبدیل کردیا کیونکہ خود ہمارا مشاہدہ بھی کسی نظام پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ جیسے ہی مشاہدے سے ایک فوٹان کی حالت بدلی عین اسی وقت دوسری چپ کے فوٹان کی کیفیت بھی تبدیل ہوگئی۔
تجربہ گاہ میں دو چپ پر یہ مشاہدہ کیا گیا اور دونوں فوٹان ایک ہی کوانٹم سطح پر تھے جس میں ایک ذرے کی کوانٹم کیفیت نے فوری طور پر دوسرے ذرے کی کیفیت کو تبدیل کردیا۔ اگرچہ اس سے قبل کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے کئی تجربات انجام دیئے جاچکے ہیں لیکن دو مختلف چپس کے درمیان ٹیلی پورٹیشن کا یہ پہلا کامیاب تجربہ ہے۔

No comments:
Post a Comment