لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں مزید اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ اس فنڈ کو مزید بڑھایا جائے گا اور آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں اضافہ آئندہ مالی سال سے کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نےآرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت مستحق فنکاروں میں مالی امداد کے چیک تقسیم کئے۔90شاہراہ قائداعظم پر منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اداکارہ ہما ڈار، گلوکار ظہور احمد الیاس (سائیں ظہور)، اداکار محمد جاویدکوڈو اور اداکار ناصر شیرازی کو مالی امداد کے چیک دیئے۔ وزیراعلیٰ نے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں مزید اضافے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہاکہ اس فنڈ کو مزید بڑھایا جائے گا اور آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں اضافہ آئندہ مالی سال سے کیا جائے گا۔،ہم نے فنکار برداری سے کیا ہوا ایک اور وعدہ ایفا کر دیا ہے اور پنجاب حکومت نے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت کروڑوں روپے جاری کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق فنکاروں کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی، فن و ثقافت کے فروغ کیلئے آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کسی بھی ملک کے سافٹ امیج کو اجاگر کرنے میں فنکار کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق فنکاروں کو ماہانہ مالی امداد بھی دی جائے گی اور اس ضمن میں محکمہ اطلاعات و ثقافت نے مستحق فنکاروں کی فہرست مرتب کر لی ہے، مالی مشکلات کا شکار فنکاروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،فنکاروں کی معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس موقع پر فنکاروں نے مالی معاونت پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں مدد پر آپ کے شکرگزار ہیں۔ارکان صوبائی اسمبلی سعدیہ سہیل رانا، مسرت جمشید چیمہ، سیکرٹری اطلاعات، ڈی جی پلاک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل، ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل، ڈی جی پی آر اور متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Jan-2020/1080191?fbclid=IwA
R2dpKInfN4pbAmS6xbUpWkSbM
XrQJ3aXtKISod__un2hsKZL_x9P9LdpCc
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ورلڈ کرائم انڈیکس میں اسلام آبادپولیس کی رینکنگ میں بہتری ہوئی ہے،ورلڈ کرائم انڈیکس کی ریٹنگ میں اسلام آباد کی 69 درجے بہتری آئی،اسلام آبادنے جرائم کی شرح میں سڈنی،برلن،ماسکو ،لندن، پیرس اور شنگھائی کوپیچھے چھوڑدیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ کرائم انڈیکس میں اسلام آباد 301 پر پہنچ گیا،اسلام آباد میں کرائم انڈیکس کم ہو کر28 اعشاریہ 63 پوائنٹس پر پہنچ گیاجبکہ گزشہ سال ورلڈ کرائم انڈیکس میں اسلام آباد 232 نمبر پر موجود تھا،گزشتہ سال اسلام آباد میں جرائم کی شرح 32 اعشاریہ 88 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی 22 درجے بہتری کے بعد 66 ویں نمبر سے 88ویں نمبر پر پہنچ گیاجبکہ لاہور 28 درجے بہتری کے بعد 174 ویں نمبر سے 202 پر پہنچ گ
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080579?fbclid=IwAR1t-4iSnTjqScFuY7vf0pt1mu8SgYSa3QS2alIutj54H-kWKlBpsTUxQO8
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہاتیر محمد اور مجھے ایک طرح کے مسائل کا سامنا ہے، ملائیشین وزیراعظم مسلم امہ کے سب سے زیادہ تجربہ کار اورمدبر سیاستدان ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہاہے کہ مسلم دنیا کے تجربہ کار سیاستدانوں کو بھی انہی مسائل کاسامنا ہے جو میری حکومت کو ہے ،وزیراعظم نے کہا کہ پول مافیا جس نے ملائیشیا کو دیوالیہ،مقروض اور ریاستی اداروں کو تباہ کردیا،ملائیشین وزیراعظم بھی پول مافیا جیسی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں
وزیراعظم کاکہنا ہے کہ مہاتیر محمد اور مجھے ایک طرح کے مسائل کا سامنا ہے،لائیشین وزیراعظم مسلم امہ کے سب سے زیادہ تجربہ کار اورمدبر سیاستدان ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080591?fbclid=IwAR06O8sCVr41cjLYck6xRPev59
glXv2tYJtiOqZFFUJleQBK9jqbI-1XRNo
کوالالمپور ، اسلام آباد(ویب ڈیسک) 2018میں حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھایہ اس لیے نہیں دونوں رہنماؤں کے علاقائی و بین الاقوامی معاملات کے بارے میں یکساں خیالات ہیں بلکہ بدعنوانی،کمزور معیشت،کرنسی کی گرتی ہوئی قدر ہو یا انتہائی غربت ،دونوں حکومتوں کو زیادہ تر چیلنجز ورثے میں ملے۔
ایک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل مہاتیر محمد نے ’’پاکتن ہڑپن‘‘کے عنوان سے بلاگ تحریر کیاجس میں انھوں نے ان حالات کی عکاسی کی جب پاکتن ہڑپن کولیشن نے چیلنجوں کا سامنا کیا اور حکومت تشکیل دی،حیر ت انگیز طور پر ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کی جانب سے ملکی معیشت، صنعت، گورننس اور سیکیورٹی کی کھینچی گئی تصویر اور وزیر اعظم عمران خان کو ورثے میں ملی حکومت میں انتہائی مماثلت پائی جاتی ہے۔
اپنے ایک بلاگ میں انھوں نے لکھا کہ جب بھی کوئی نئی سیاسی جماعت برسراقتدار آ کر حکومت سنبھال لیتی ہے تو یہ ایک معجزہ ہی ہوگااگر وہ راتوں رات اپنے تمام منصوبوں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنا دے۔
انہوں نے اس دن کا تذکرہ کیا جب دوسر ے بڑے اتحاد پاکتن ہاڑپن( بی این) نے حکومت قائم کی، اسے متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور کیسے حکومت نے ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقدامات کئے۔ماضی کی بدعنوان حکومت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے قوم کو لوٹا ، اس کی دولت ضائع کی،اس کے انتظامی اداروں کو برباد اور قوانین کو پامال کیا ، حد سے زیادہ قرضے لئے ، ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا ،عوام کو کسی بھی کام کیلئے رشوت دینے پر مجبور کردیا اور بالعموم عوام کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔
یقینا زیادہ تر لوگ جنہوں نے بدعنوانی سے پیسہ کمایا وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لطف اندوز ہوں اور بدعنوانی کا یہ عمل جاری رہے لیکن عوام کی اکثریت کو ملکی ابتر صورتحال کا علم ہے اور انکی یہ بھی خواہش ہے کہ کرپٹ حکومت کا خاتمہ ہو۔ یہ ایک طرح کا معجزہ تھا کہ ایک دوسرے سے مختلف چار جماعتوں کے اتحاد نے اقتدار سنبھال لیا۔ یہ جماعتیں محض بدعنوان حکومت سے چھٹکارا پانے کیلئے متحد ہوئیں تھیں ورنہ ان میں سے ہر پارٹی کا نظریہ اور ایجنڈا الگ الگ تھا۔ دوسرے ممالک میں جب ایک مشترکہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے تو نازک اتحاد ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ہر فریق اپنا اقتدار سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں ایک تلخ جدوجہد شروع ہوجاتی ہے اور بالآخر اتحاد ٹوٹ جاتا ہے۔
شرق وسطی کے ایک ملک میں جدوجہد کا خاتمہ فوج کے اقتدار پر قابض ہونے پر ہوا لیکن ملائشیا میں ایسا نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ایک غیر ممبر پارٹی اور ایک آزاد رکن جو کابینہ میں شامل تھا،کی شمولیت سے کمزور اپوزیشن اتحاد برقرار رہا ۔
انہوں نے ایک حکومت تشکیل دی اور مل کر کام کر نے اور کسی تحریری معاہدے کے بغیر کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا، یہ دوسرا معجزہ ہے۔ کابینہ کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ کم سے کم وہ مل کر بحث اور فیصلے کرسکتے ہیں۔ یقینا بہت سارے سے لوگ ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کرتے ہیں جو ایک عام سی بات ہے۔ ہر حکومت کو ہر وقت ہر کسی کی منظوری نہیں مل سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کمزور کابینہ ابھی بھی فعال ہے لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ حکومت بے سمت ہے،کیا ایسا ہی ہے؟ آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں۔
ایک کھرب رنگٹ سے زائد قرضوں کے باوجود حکومت ملکی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ قرض دہندگان حکومت پر مقدمہ نہیں کر رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بعض تو کم شرح سود پر مزید قرضے دینے کے خواہشمند بھی ہیں۔ حکومت کی کوششوںسے قرضوں میں کمی آئی ہے۔سیاسی لحاظ سے ملک مستحکم ہے۔ یقینا حکمران اتحاد کے بعض ممبران میں بے چینی ہے لیکن یہ عام بات ہے۔
عدم اعتماد کے ووٹ سے کسی نے بھی حکومت ختم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے اور ان کو علم ہے کہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور اب معیشت ترقی کے اس مرحلے پر بہتر شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ہاں، وہاں فنڈز کا اخراج بھی تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی آچکی ہے۔ ملائشیاء کے پاس اب بھی بڑی سیونگز موجود ہیں ۔ بینک نیگارا کے ذخائر آر ایم 400 ارب پلس کے فنڈز موجود ہیں جو بلند ترین شرح ہے۔ دوسرے فنڈز ، جیسے پی این بی ، کے ڈبلیو ایس پی ، اور بعض چھوٹے فنڈز میں آر ایم 1.5 کھرب سے زیادہ شامل ہیں۔غیر ملکی اثاثے بہت زیادہ ہیں۔
نیشنل آئل کمپنی پیٹروناس 100 ارب سے زیادہ کی آمدنی کے ساتھ بہترکام کررہی ہے۔ یہ 100فیصد حکومت کی ملکیت ہے۔ جی ہاں ، رنگٹ کی قدر میں کمی آرہی ہے۔ بہت سے دیگر ممالک میں ، اتنے حجم کے ذخائر قومی کرنسی کی مضبوطی کی ضمانت ہوتے ہیںلیکن مارکیٹ ملائیشیا کی اس مالی اور کرنسی کی اس طاقت پر بظاہر یقین نہیں کرسکتی ۔حقیقت یہ ہے کہ ملائشیاء کی معیشت اور اس کی کرنسی مضبوط ہے۔شاید مارکیٹ اور ڈی ٹریکٹرز کا خیال ایسا نہ ہو لیکن حکومت کو اپنی اقتصادی اور مالی پالیسیوں پر مکمل اعتماد ہے۔
سماجی طور پر حکومت نے مشترکہ خوشحالی سکیم کا اجراء کر دیا ہے۔ہم محض بحالی اور خوشحالی نہیں چاہتے بلکہ اپنی دولت کی مساوی تقسیم چاہتے ہیں۔ہم نے ملکی ترقی کیلئے نئے صنعتی اور زرعی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے،شاید ہمارے بدخواہوں کو نہیں لیکن ہمیں علم ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ منصوبے وضع کرنے میں ہفتہ یا زیادہ کا عرصہ لگتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کیلئے کم سے کم دو سال یا زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے۔
دیکھنے والوں کو یہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا لیکن بات یہ ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی۔جب ملائشیاء زرعی بنیاد پر قائم معیشت سے صنعتی معیشت پر منتقل ہو رہا تھا تو اس میں بھی زیادہ عرصہ لگا لیکن ہم سے زیادہ لوگوں کو یاد نہیں اور نوجوان نسل نے تبدیلی کا یہ دور کبھی نہیں دیکھا۔آج کل زرعی ملائشیاء کا تصور کرنا بھی محال ہے۔
تبدیلی اتنی جلدی نہیں آتی ،تبدیلی میں وقت لگے گا،شاید دو سال یا اس سے بھی زیادہ لیکن ہمیں یقین ہے تبدیلی ضرور آئیگی اور کئی پہلوؤں سے تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہم پیپر لیس کی طرف جا رہے ہیں اور جلد کیش لیس کی جانب گامزن ہونگے۔ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل پہلے ہی جاری ہے اور مصنوعی ذہانت کام اور تبدیلی کی رفتار تیز کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080589?fbclid=IwAR333Pn-9R8HRIuP2aogz2lMqaLVA__h5p-ruBEpDvrz6mcsQMh5g4KBoHg
راچی(ویب ڈیسک) سندھ میں تیار ہونے والا آٹا بلوچستان کے راستے مبینہ طور پر افغانستان اسمگلنگ ہورہا ہے جس کے باعث صوبے میں گندم اور آٹا کا بحران شروع ہوا۔
ہفتے کو اوپن مارکیٹ میں فی 100 کلو گرام گندم کی قیمت مزید 8 تا 10 روپے کے اضافے سے 6200 تا 6500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ذخیرہ اندوزوں نے گندم کے ذخائر چھپا دیئے اور تھوک بیوپاریوں نے گندم کی فروخت نئے خریداروں کے بجائے صرف اپنے پرانے اور جان پہچان کے حامل مستقل خریداروں تک محدود کردی۔ اس طرح گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گرام گندم کی قیمت میں مجموعی طور پر1500 تا 1700 روپے کا اضافہ ہوا۔
جوڑیا بازار میں آٹے کے ایک بڑے ڈیلر ایچ ایم ندیم اسلام نے ایکسپریس سے کو بتایا کہ کراچی سے یومیہ آٹا کے 100 تا 150 ٹرک بلوچستان کے راستے افغانستان اسمگل ہورہے ہیں جس پر آٹے کے تیار کنندگان کو فی بوری 200 روپے زائد کا منافع ہوتا ہے لیکن اس اسمگلنگ کی وجہ سے سندھ میں بحران جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں نے کراچی اور اندرون سندھ کے خفیہ گوداموں میں گندم کے وسیع ذخائر چھپائے ہوئے ہیں جس کی نشاندہی کے لیے حکومت کو انعام کے ساتھ اسکیم کا اعلان کیا جائے تو یہ خفیہ ذخائر منظر عام پر آسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلور ملز مالکان بھی گندم کی قلت کا جواز پیش کرکے اپنے ڈیلرز کو محدود پیمانے پر 50 کلو گرام آٹے کی بوری 2850 تا 2900 روپے کے حساب سے فراہم کر رہے ہیں جو ڈیلرز10 روپے فی بوری منافع کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے، آٹے کی اسمگلنگ پر قابو اور گندم کے ذخائر نکلوائے جائیں تو صوبے میں آٹے کا بحران ختم ہوجائے گا۔
ایکسپریس سروے کے دوران جوڑیا بازار میں آٹا خریدنے والے ایک ریٹیلر شاہد عباس نے بحران کا ذمہ دار فلور ملز مالکان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سستا آٹا کی تلاش میں وہ متعدد فلور ملوں پر گیا جہاں 10 کلو گرام آٹے کی بوری کی قیمت 430 روپے کے بینرز آویزاں ہیں ان ملوں کے پاس آٹے کے بیگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہیں لیکن وہ آویزاں قیمت پر آٹا فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ریٹیلر نے کہا کہ جوڑیا بازار میں 50 کلو گرام آٹے کی بوری 2900 روپے تا 3000 روپے میں دستیاب ہے لہذا ایک ریٹیلر 58 تا 60 روپے فی کلو گرام آٹا تھوک میں خرید کر کس طرح کم قیمت پر فروخت کرسکے گا؟ لا محالہ ریٹیلر 10 روپے کا منافع لگا کر 68 تا 70 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کرے گا۔
کم قیمت پر آٹا خریدنے کی کوشش میں جوڑیا بازار آئے ایک عام شہری محمد زاہد نے کہا کہ عوام پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس ہوچکی ہے لیکن اب آٹے کی قیمت میں اضافے نے تو ہوش ہی اڑا دیئے ہیں، جوڑیا بازار میں سستا آٹا خریدنے کے لیے آئے لیکن یہاں بھی آٹا 70 روپے کلو مل رہا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080587?fbclid=IwAR0S8RwKqU0K1T74l7tQb1D53Ob81
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نےآرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت مستحق فنکاروں میں مالی امداد کے چیک تقسیم کئے۔90شاہراہ قائداعظم پر منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اداکارہ ہما ڈار، گلوکار ظہور احمد الیاس (سائیں ظہور)، اداکار محمد جاویدکوڈو اور اداکار ناصر شیرازی کو مالی امداد کے چیک دیئے۔ وزیراعلیٰ نے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں مزید اضافے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہاکہ اس فنڈ کو مزید بڑھایا جائے گا اور آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں اضافہ آئندہ مالی سال سے کیا جائے گا۔،ہم نے فنکار برداری سے کیا ہوا ایک اور وعدہ ایفا کر دیا ہے اور پنجاب حکومت نے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت کروڑوں روپے جاری کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق فنکاروں کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی، فن و ثقافت کے فروغ کیلئے آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کسی بھی ملک کے سافٹ امیج کو اجاگر کرنے میں فنکار کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق فنکاروں کو ماہانہ مالی امداد بھی دی جائے گی اور اس ضمن میں محکمہ اطلاعات و ثقافت نے مستحق فنکاروں کی فہرست مرتب کر لی ہے، مالی مشکلات کا شکار فنکاروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،فنکاروں کی معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس موقع پر فنکاروں نے مالی معاونت پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں مدد پر آپ کے شکرگزار ہیں۔ارکان صوبائی اسمبلی سعدیہ سہیل رانا، مسرت جمشید چیمہ، سیکرٹری اطلاعات، ڈی جی پلاک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل، ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل، ڈی جی پی آر اور متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Jan-2020/1080191?fbclid=IwA
R2dpKInfN4pbAmS6xbUpWkSbM
XrQJ3aXtKISod__un2hsKZL_x9P9LdpCc
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ورلڈ کرائم انڈیکس میں اسلام آبادپولیس کی رینکنگ میں بہتری ہوئی ہے،ورلڈ کرائم انڈیکس کی ریٹنگ میں اسلام آباد کی 69 درجے بہتری آئی،اسلام آبادنے جرائم کی شرح میں سڈنی،برلن،ماسکو ،لندن، پیرس اور شنگھائی کوپیچھے چھوڑدیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ کرائم انڈیکس میں اسلام آباد 301 پر پہنچ گیا،اسلام آباد میں کرائم انڈیکس کم ہو کر28 اعشاریہ 63 پوائنٹس پر پہنچ گیاجبکہ گزشہ سال ورلڈ کرائم انڈیکس میں اسلام آباد 232 نمبر پر موجود تھا،گزشتہ سال اسلام آباد میں جرائم کی شرح 32 اعشاریہ 88 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی 22 درجے بہتری کے بعد 66 ویں نمبر سے 88ویں نمبر پر پہنچ گیاجبکہ لاہور 28 درجے بہتری کے بعد 174 ویں نمبر سے 202 پر پہنچ گ
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080579?fbclid=IwAR1t-4iSnTjqScFuY7vf0pt1mu8SgYSa3QS2alIutj54H-kWKlBpsTUxQO8
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہاتیر محمد اور مجھے ایک طرح کے مسائل کا سامنا ہے، ملائیشین وزیراعظم مسلم امہ کے سب سے زیادہ تجربہ کار اورمدبر سیاستدان ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہاہے کہ مسلم دنیا کے تجربہ کار سیاستدانوں کو بھی انہی مسائل کاسامنا ہے جو میری حکومت کو ہے ،وزیراعظم نے کہا کہ پول مافیا جس نے ملائیشیا کو دیوالیہ،مقروض اور ریاستی اداروں کو تباہ کردیا،ملائیشین وزیراعظم بھی پول مافیا جیسی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں
وزیراعظم کاکہنا ہے کہ مہاتیر محمد اور مجھے ایک طرح کے مسائل کا سامنا ہے،لائیشین وزیراعظم مسلم امہ کے سب سے زیادہ تجربہ کار اورمدبر سیاستدان ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080591?fbclid=IwAR06O8sCVr41cjLYck6xRPev59
glXv2tYJtiOqZFFUJleQBK9jqbI-1XRNo
کوالالمپور ، اسلام آباد(ویب ڈیسک) 2018میں حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھایہ اس لیے نہیں دونوں رہنماؤں کے علاقائی و بین الاقوامی معاملات کے بارے میں یکساں خیالات ہیں بلکہ بدعنوانی،کمزور معیشت،کرنسی کی گرتی ہوئی قدر ہو یا انتہائی غربت ،دونوں حکومتوں کو زیادہ تر چیلنجز ورثے میں ملے۔
ایک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل مہاتیر محمد نے ’’پاکتن ہڑپن‘‘کے عنوان سے بلاگ تحریر کیاجس میں انھوں نے ان حالات کی عکاسی کی جب پاکتن ہڑپن کولیشن نے چیلنجوں کا سامنا کیا اور حکومت تشکیل دی،حیر ت انگیز طور پر ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کی جانب سے ملکی معیشت، صنعت، گورننس اور سیکیورٹی کی کھینچی گئی تصویر اور وزیر اعظم عمران خان کو ورثے میں ملی حکومت میں انتہائی مماثلت پائی جاتی ہے۔
اپنے ایک بلاگ میں انھوں نے لکھا کہ جب بھی کوئی نئی سیاسی جماعت برسراقتدار آ کر حکومت سنبھال لیتی ہے تو یہ ایک معجزہ ہی ہوگااگر وہ راتوں رات اپنے تمام منصوبوں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنا دے۔
انہوں نے اس دن کا تذکرہ کیا جب دوسر ے بڑے اتحاد پاکتن ہاڑپن( بی این) نے حکومت قائم کی، اسے متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور کیسے حکومت نے ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقدامات کئے۔ماضی کی بدعنوان حکومت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے قوم کو لوٹا ، اس کی دولت ضائع کی،اس کے انتظامی اداروں کو برباد اور قوانین کو پامال کیا ، حد سے زیادہ قرضے لئے ، ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا ،عوام کو کسی بھی کام کیلئے رشوت دینے پر مجبور کردیا اور بالعموم عوام کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔
یقینا زیادہ تر لوگ جنہوں نے بدعنوانی سے پیسہ کمایا وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لطف اندوز ہوں اور بدعنوانی کا یہ عمل جاری رہے لیکن عوام کی اکثریت کو ملکی ابتر صورتحال کا علم ہے اور انکی یہ بھی خواہش ہے کہ کرپٹ حکومت کا خاتمہ ہو۔ یہ ایک طرح کا معجزہ تھا کہ ایک دوسرے سے مختلف چار جماعتوں کے اتحاد نے اقتدار سنبھال لیا۔ یہ جماعتیں محض بدعنوان حکومت سے چھٹکارا پانے کیلئے متحد ہوئیں تھیں ورنہ ان میں سے ہر پارٹی کا نظریہ اور ایجنڈا الگ الگ تھا۔ دوسرے ممالک میں جب ایک مشترکہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے تو نازک اتحاد ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ہر فریق اپنا اقتدار سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں ایک تلخ جدوجہد شروع ہوجاتی ہے اور بالآخر اتحاد ٹوٹ جاتا ہے۔
شرق وسطی کے ایک ملک میں جدوجہد کا خاتمہ فوج کے اقتدار پر قابض ہونے پر ہوا لیکن ملائشیا میں ایسا نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ایک غیر ممبر پارٹی اور ایک آزاد رکن جو کابینہ میں شامل تھا،کی شمولیت سے کمزور اپوزیشن اتحاد برقرار رہا ۔
انہوں نے ایک حکومت تشکیل دی اور مل کر کام کر نے اور کسی تحریری معاہدے کے بغیر کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا، یہ دوسرا معجزہ ہے۔ کابینہ کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ کم سے کم وہ مل کر بحث اور فیصلے کرسکتے ہیں۔ یقینا بہت سارے سے لوگ ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کرتے ہیں جو ایک عام سی بات ہے۔ ہر حکومت کو ہر وقت ہر کسی کی منظوری نہیں مل سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کمزور کابینہ ابھی بھی فعال ہے لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ حکومت بے سمت ہے،کیا ایسا ہی ہے؟ آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں۔
ایک کھرب رنگٹ سے زائد قرضوں کے باوجود حکومت ملکی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ قرض دہندگان حکومت پر مقدمہ نہیں کر رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بعض تو کم شرح سود پر مزید قرضے دینے کے خواہشمند بھی ہیں۔ حکومت کی کوششوںسے قرضوں میں کمی آئی ہے۔سیاسی لحاظ سے ملک مستحکم ہے۔ یقینا حکمران اتحاد کے بعض ممبران میں بے چینی ہے لیکن یہ عام بات ہے۔
عدم اعتماد کے ووٹ سے کسی نے بھی حکومت ختم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے اور ان کو علم ہے کہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور اب معیشت ترقی کے اس مرحلے پر بہتر شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ہاں، وہاں فنڈز کا اخراج بھی تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی آچکی ہے۔ ملائشیاء کے پاس اب بھی بڑی سیونگز موجود ہیں ۔ بینک نیگارا کے ذخائر آر ایم 400 ارب پلس کے فنڈز موجود ہیں جو بلند ترین شرح ہے۔ دوسرے فنڈز ، جیسے پی این بی ، کے ڈبلیو ایس پی ، اور بعض چھوٹے فنڈز میں آر ایم 1.5 کھرب سے زیادہ شامل ہیں۔غیر ملکی اثاثے بہت زیادہ ہیں۔
نیشنل آئل کمپنی پیٹروناس 100 ارب سے زیادہ کی آمدنی کے ساتھ بہترکام کررہی ہے۔ یہ 100فیصد حکومت کی ملکیت ہے۔ جی ہاں ، رنگٹ کی قدر میں کمی آرہی ہے۔ بہت سے دیگر ممالک میں ، اتنے حجم کے ذخائر قومی کرنسی کی مضبوطی کی ضمانت ہوتے ہیںلیکن مارکیٹ ملائیشیا کی اس مالی اور کرنسی کی اس طاقت پر بظاہر یقین نہیں کرسکتی ۔حقیقت یہ ہے کہ ملائشیاء کی معیشت اور اس کی کرنسی مضبوط ہے۔شاید مارکیٹ اور ڈی ٹریکٹرز کا خیال ایسا نہ ہو لیکن حکومت کو اپنی اقتصادی اور مالی پالیسیوں پر مکمل اعتماد ہے۔
سماجی طور پر حکومت نے مشترکہ خوشحالی سکیم کا اجراء کر دیا ہے۔ہم محض بحالی اور خوشحالی نہیں چاہتے بلکہ اپنی دولت کی مساوی تقسیم چاہتے ہیں۔ہم نے ملکی ترقی کیلئے نئے صنعتی اور زرعی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے،شاید ہمارے بدخواہوں کو نہیں لیکن ہمیں علم ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ منصوبے وضع کرنے میں ہفتہ یا زیادہ کا عرصہ لگتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کیلئے کم سے کم دو سال یا زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے۔
دیکھنے والوں کو یہی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا لیکن بات یہ ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی۔جب ملائشیاء زرعی بنیاد پر قائم معیشت سے صنعتی معیشت پر منتقل ہو رہا تھا تو اس میں بھی زیادہ عرصہ لگا لیکن ہم سے زیادہ لوگوں کو یاد نہیں اور نوجوان نسل نے تبدیلی کا یہ دور کبھی نہیں دیکھا۔آج کل زرعی ملائشیاء کا تصور کرنا بھی محال ہے۔
تبدیلی اتنی جلدی نہیں آتی ،تبدیلی میں وقت لگے گا،شاید دو سال یا اس سے بھی زیادہ لیکن ہمیں یقین ہے تبدیلی ضرور آئیگی اور کئی پہلوؤں سے تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہم پیپر لیس کی طرف جا رہے ہیں اور جلد کیش لیس کی جانب گامزن ہونگے۔ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل پہلے ہی جاری ہے اور مصنوعی ذہانت کام اور تبدیلی کی رفتار تیز کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080589?fbclid=IwAR333Pn-9R8HRIuP2aogz2lMqaLVA__h5p-ruBEpDvrz6mcsQMh5g4KBoHg
راچی(ویب ڈیسک) سندھ میں تیار ہونے والا آٹا بلوچستان کے راستے مبینہ طور پر افغانستان اسمگلنگ ہورہا ہے جس کے باعث صوبے میں گندم اور آٹا کا بحران شروع ہوا۔
ہفتے کو اوپن مارکیٹ میں فی 100 کلو گرام گندم کی قیمت مزید 8 تا 10 روپے کے اضافے سے 6200 تا 6500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ذخیرہ اندوزوں نے گندم کے ذخائر چھپا دیئے اور تھوک بیوپاریوں نے گندم کی فروخت نئے خریداروں کے بجائے صرف اپنے پرانے اور جان پہچان کے حامل مستقل خریداروں تک محدود کردی۔ اس طرح گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گرام گندم کی قیمت میں مجموعی طور پر1500 تا 1700 روپے کا اضافہ ہوا۔
جوڑیا بازار میں آٹے کے ایک بڑے ڈیلر ایچ ایم ندیم اسلام نے ایکسپریس سے کو بتایا کہ کراچی سے یومیہ آٹا کے 100 تا 150 ٹرک بلوچستان کے راستے افغانستان اسمگل ہورہے ہیں جس پر آٹے کے تیار کنندگان کو فی بوری 200 روپے زائد کا منافع ہوتا ہے لیکن اس اسمگلنگ کی وجہ سے سندھ میں بحران جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں نے کراچی اور اندرون سندھ کے خفیہ گوداموں میں گندم کے وسیع ذخائر چھپائے ہوئے ہیں جس کی نشاندہی کے لیے حکومت کو انعام کے ساتھ اسکیم کا اعلان کیا جائے تو یہ خفیہ ذخائر منظر عام پر آسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلور ملز مالکان بھی گندم کی قلت کا جواز پیش کرکے اپنے ڈیلرز کو محدود پیمانے پر 50 کلو گرام آٹے کی بوری 2850 تا 2900 روپے کے حساب سے فراہم کر رہے ہیں جو ڈیلرز10 روپے فی بوری منافع کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے، آٹے کی اسمگلنگ پر قابو اور گندم کے ذخائر نکلوائے جائیں تو صوبے میں آٹے کا بحران ختم ہوجائے گا۔
ایکسپریس سروے کے دوران جوڑیا بازار میں آٹا خریدنے والے ایک ریٹیلر شاہد عباس نے بحران کا ذمہ دار فلور ملز مالکان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سستا آٹا کی تلاش میں وہ متعدد فلور ملوں پر گیا جہاں 10 کلو گرام آٹے کی بوری کی قیمت 430 روپے کے بینرز آویزاں ہیں ان ملوں کے پاس آٹے کے بیگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہیں لیکن وہ آویزاں قیمت پر آٹا فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ریٹیلر نے کہا کہ جوڑیا بازار میں 50 کلو گرام آٹے کی بوری 2900 روپے تا 3000 روپے میں دستیاب ہے لہذا ایک ریٹیلر 58 تا 60 روپے فی کلو گرام آٹا تھوک میں خرید کر کس طرح کم قیمت پر فروخت کرسکے گا؟ لا محالہ ریٹیلر 10 روپے کا منافع لگا کر 68 تا 70 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کرے گا۔
کم قیمت پر آٹا خریدنے کی کوشش میں جوڑیا بازار آئے ایک عام شہری محمد زاہد نے کہا کہ عوام پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس ہوچکی ہے لیکن اب آٹے کی قیمت میں اضافے نے تو ہوش ہی اڑا دیئے ہیں، جوڑیا بازار میں سستا آٹا خریدنے کے لیے آئے لیکن یہاں بھی آٹا 70 روپے کلو مل رہا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080587?fbclid=IwAR0S8RwKqU0K1T74l7tQb1D53Ob81
SfB1yjlm-CDMA9kc9OYkWZTroJBmeE
لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے تحریک انصاف سے کارکن بھی خوش نہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے عہدیدار اور حکومتی عہدوں پر موجود شخصیات بھی ان پر انگلیاں اٹھا چکے ہیں، تھوڑے عرصے بعد ہی وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی افواہیں بھی گردش کرتی ہیں لیکن بالآخر خود وزیراعظم عمران خان کو ہی اس سلسلے میں وضاحت دینا پڑتی ہے جس کے بعد ہی صورتحال نارمل ہوتی ہے اور افواہوں کا بازار تھمتا ہے۔اب اس سلسلے میں سینئر صحافی اور معروف شاعر منصور آفاق نے بھی قلم اٹھایا ہے اور تازہ صورتحال پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ" وسیم اکرم پلس" نے کیا کچھ کیا ہے ۔
روزنامہ جنگ میں منصور آفاق نے لکھا کہ "وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہےکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ قاف لیگ نے بھی کہہ دیا کہ ہمیں عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں اُن کے خلاف تو فواد چوہدری بولے ہیں۔ بے شک فواد چوہدری کو نہیں بولنا چاہئے تھا۔
وہ بھی اُس مخصوص گروہ کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے جنہیں سرائیکی علاقے کا ایک عام سا نوجوان پنجاب کے حکمران کی حیثیت سے پسند نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں عثمان بزدار کے اقدامات کو نہ سراہنا زیادتی ہے۔
مالی بحران کے باوجود انہوں نے 8نئی یونیورسٹیوں اور 9اسپتالوں کا آغاز کیا ہے جس میں 10000بستروں کا اضافہ کیا گیا ہے، اس نے 25000میڈیکل پروفیشنلز کی شفاف بھرتیاں کیں، میرٹ پر تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز لگائے، 1500کلومیٹر دیہی سڑکیں بنوائیں، کابینہ کو بااختیار بنایا۔
وزرا، بیورو کریسی کو آزادانہ کام کا موقع فراہم کیا، میڈیا اور مخالفین کی تنقید کو احسن طریقے سے برداشت کیا۔ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جسے غلط کہا جا سکے۔ غریبوں کا خیال رکھا۔ بے گھروں کے لئے چھتیں فراہم کیں۔
وہ جانتے ہیں کہ کسی معاشرے پر پہلا حق اُس کے معذور اور کمزور لوگوں کا ہوتا ہے۔ پنجاب میں کوئی میگا کرپشن اسکینڈل نہیں۔ گزشتہ حکومتوں میں کرپشن کس انتہا پر تھی، کون نہیں جانتا کہ انہی کی بدولت پوری قوم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوئی۔
ذرا سوچئے غریب لوگوں کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ اب پتا چلا کہ کئی لوگ جنہوں نے یہ رقم حاصل کی، غرباء کے زمرے میں نہیں آتے۔ یعنی آٹھ لاکھ بیس ہزار لوگوں نے جھوٹ بول کر، جعل سازی کرکے انکم سپورٹ حاصل کی۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حال پر کرم فرمائے۔ کیا کہوں کہ ہم اخلاقی پستیوں کی کون سی گراوٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ پھر اس سے بھی بڑا ستم یہ ہوا کہ ان آٹھ لاکھ لوگوں میں صرف 14ہزار سرکاری ملازمین کو شو کاز نوٹس جاری ہوئے۔ باقی لوگوں کو کچھ نہیں کہا گیا، اُن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی۔ ان میں 3لاکھ سے زائد ایسے افراد شامل ہیں جو جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک جاتے آتے ہیں۔
اپنے پاسپورٹ ایگزیکٹیو فیس جمع کرا کے بنواتے ہیں۔ اگر ان آٹھ لاکھ لوگوں سے غریبوں کا مال واپس نہ لیا جائے، انہیں سزا نہ دی گئی، انہیں جرائم پیشہ افراد کی لسٹ میں شامل نہ کیا گیا تو میں سمجھوں گا کہ پھر یہ نظام کسی ڈسٹ بن میں پھینک دینے کے قابل ہے۔ چین میں اِسی کرپشن کی سزا موت ہے۔ اسلام نے اِسی چور ی پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
جن سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرفی کے شو کاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان سے جواب طلب کیا گیا ہے، یعنی موقع دیا گیا ہے کہ وہ کسی طرح اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں تو بچا لیں۔ یہ بات کسی قیامت سے کم نہیں کہ یہ گریڈ 17سے 21کے افسران ہیں۔
انہیں فوری طور پر برطرف کرکے جعل سازی کے جرم میں جیل بھیج دینا چاہئے۔ یہ سلسلہ کوئی آدھ ماہ کا نہیں، سالہا سال سے یہ لوگ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے جعلسازی کر کے غریبوں کا مال پر ہاتھ صاف کرتے چلے آرہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق ان میں گریڈ 17سے 21کے 2ہزار 543افسران شامل ہیں۔ گریڈ 17کے 1ہزار 446، گریڈ 18کے 604، گریڈ 19کے 429، گریڈ 20کے 61، اور گریڈ 21کے 3افسران شامل ہیں۔
کرپشن کے راج کا دورانیہ تقریباً چالیس پینتالیس سال پر مشتمل ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار سے آج تک کسی نہ کسی سطح پر کرپشن جاری و ساری ہے۔ سفارش تو برائی رہی ہی نہیں، رشوت ستانی کو بھی اب برا نہیں سمجھا جاتا۔
اسے کمیشن کا انگریزی نام دے دیا گیا۔ ہوس پرستی اور زر پرستی کا یہ مزاج قوم کی رگوں میں اتر چکا ہے۔ اشیائے خور و نوش میں ملاوٹ پر کسی کو کبھی بڑی سزا ہوئی ہی نہیں حالانکہ یہ وہ جرم ہے مہذب معاشروں میں جس کی سزا عمر قید تک ہے۔ ہم ذاتی زندگی سے اجتماعی زندگی تک کرپشن کے حصار میں ہیں۔
تحریک انصاف اسی تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئی تھی، کرپشن کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی منشور تھا بلکہ ہے، مگر دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ضمیروں پر مسلط مافیا نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ معاملہ صرف شریف اور زرداری خاندان کی کرپشن تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ باقی لٹیروں سے بھری اشرافیہ اسی طرح لوٹ مار کر رہی ہے۔
پچھلے دنوں عمران خان میانوالی آئے تو ان سے کہا گیا کہ میانوالی میں ڈرائیونگ لائسنس بنانے کیلئے 25ہزار روپے رشوت لی جا رہی ہے۔ یقیناً عمران خان نے اُس کا نوٹس لیا ہوگا مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اجتماعی طور پر اس کرپشن سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔
صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی کہا ہے:بدعنوانی پوری انسانیت پرحملہ ہے۔ ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشرے کو اس ناسور کے خلاف مہم میں اجتماعی طور پر کردار ادا کرنا ہوگا"۔
انہوں نے مزید لکھا کہ "
بدعنوانی پرقابو پائے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔‘‘ مگر کیسے۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080612?fbclid=IwAR1a1KtQRF7OHHGVniHA
VNiOVnJKqTFI8gyeEXR0urUp9nbDCNqv7B_0X08
کراچی ( آن لائن ) بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ کا وظیفہ 5 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار کر دیا گیا ہے،ہر تیسرے ماہ دو ہزار روپے مستحقین کو ملیں گے۔بی آئی ایس پی میں ایک لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازم بینی فشری تھے گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے لوگ بھی شامل تھے۔جن کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیں گے۔
ثانیہ نشتر نے ملیر کے علاقے میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے غریب اہم ہیں ہم آپ کے مسائل سننا چاہتے ہیں کیونکہ ہرپروگرام میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے لوگوں کے لئے آسانیاں پیداکرنا مقصد ہے اللہ پاک جس کوذمہ داری دیتا ہے اس کا سرجھک جانا چاہیئے وزیراعظم کی خاص ہدایت ہے کہ جوپسماندہ علاقوں کے لوگ ہیں ان کی مدد کی جائے اب ہم اس وظیفے کو زیادہ کررہے ہیں اب پانچ ہزارسے چھ ہزارکرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مستحق کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ پیسے کب آنے ہیں اب ہرتیسرے ماہ ملنے والے چھ ہزاراب ہرماہ دوہزارکی صورت میں ملیں گے اب انگوٹھالگانے سے مستحق خواتین کا بینک اکاﺅنٹ کھل جائے گاجوخواتین بچت کرنا چاہے کرسکیں گی، اب خواتین اے ٹی ایم کے ذریعے بھی پیسے لے سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی میں ایک لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازم بینی فشری تھے گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے لوگ بھی شامل تھے اس میں پاکستان پوسٹ کے ملازمین بھی شامل ہیں پہلے دن سے ہم نے کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ ملوث افراد کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیں گے دیگر صوبوں اور محکمہ کے لوگ بھی شامل ہین جن کے خلاف ان کے صوبے کارروائی کریں گے۔
ثانیہ نشتر نے مزید کہا کہ میں برقعہ پہن کر اکثر حالات کا جائزہ لینے کیلئے اسلام آباد میں نکلتی تھی اب کرپشن پر خاص کریک ڈاﺅن ہوگا کفالت پروگرام پر آگے چل کر بہت فائدہ ہوگا،وزیر اعظم دن رات کوشش کررہے ہیں مجھے سب کی مدد کی ضرورت ہے احساس پروگرام میں مختلف لوگوں کے لئے مختلف چیزیں ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080608?fbclid=IwAR2PEEOQsHAiLHfe0CwIJTx
ezVTL2zn9tqJG0BSGgexJt5jgKAml0iKjt2A
فیصل آباد (ویب ڈیسک) پورے ملک میں آٹا مہنگا ہونے یا نہ ملنے کی شکایات ہیں لیکن جڑانوالہ میں کچھ لوگوں کو آٹا مفت مل گیا ، آٹے کے مفت تھیلے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دورے کے موقع پر انہوں نے خود دیئے ۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نےجڑانوالہ کا اچانک دورہ کیا ، اس موقع پر عثمان بزدار نے آٹے کے سیل پوائنٹ،تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال اور تھانہ سٹی پر چھاپہ مارا، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے سیل پوائنٹ پر آٹے کی عوام کو فراہمی کا جائزہ لیا،شہریوں سے آٹے کی دستیابی کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے شہریوں سے ہاتھ ملایا اوران کو فری آٹے کے تھیلے دیئے، وزیراعلیٰ کی بعض شہریوں کی جانب سے آٹے کی کم دستیابی کی شکایت پر ایکشن لیا، انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے او ایس ڈی بنا دیا، اسٹنٹ فوڈ کنٹرولر جمیل گجر معطل کردیا۔
عثمان بزدار کاکہناتھاکہ پنجاب حکومت کے پاس وافر گندم موجود ہے،آٹے کی قلت کسی صورت نہیں ہونی چاہیے، میں عوام سے ہوں اورعوام کو آٹے کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے فیلڈ میں نکلا ہوں۔انہوں نے شہر میں آٹے کے سیل پوائنٹس میں اضافہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے سیل پوائنٹس پر آٹا مقررکردہ نرخوں پردستیاب ہے، میں مختلف شہروں کے دور ے کر کے آٹے کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہوں گا،وزیراعلیٰ نے حوالات میں بند ملزموں سے ہاتھ ملایا اوران کے مسائل پوچھے،تھانے کے مختلف شعبوں کا وزٹ کیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ تھانے میں صفائی کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے، حوالات میں بند ملزموں کو وہ سہولتیں ملنی چاہیے جو ان کاحق ہے۔انہوں نے ملزمان کی شکایات پر ایس ایچ او تھانہ سٹی جڑانوالہ معطل کردیا ۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080625?fbclid=IwAR0qZKSams9W
TEfbXGv8pd7Xkw1pIYVUWBdocRrm
On9BGnALc4CNvBN-o_s


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107112841&Issue=NP_PEW&Date=20200119

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr027.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr009.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr010.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr033.jpg


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107112709&Issue=NP_PEW&Date=20200119

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr036.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr024.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-19&edition=KCH&id=5005531_56945591


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107109835&Issue=NP_PEW&Date=20200118


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107109863&Issue=NP_PEW&Date=20200118

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/18012020/p2-isb-019.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P8-Lhr-029.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P6-Lhr-022.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P6-Lhr-038.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P1-LHR030.jpg
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 9 سال تک بیگمات کے نام پرغریبوں کا حق کھانے والے سرکاری افسران کو نوکریوں سے برطرفی کیلئے شوکاز نوٹس جاری کر دیئے۔بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے سرکاری افسران کے فراڈ کا معاملہ، حکومت نے ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔
سرکاری ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن میں 9 سال تک بیویوں کے نام پر غریبوں کا حق کھانے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔بیگمات کو انرول کرانے والے افسران کو جواب دہی کے لئے 10 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ تسلی بخش جواب نہ دینے پر ملازمتوں سے بر طرفی عمل میں لائی جائے گی۔
https://dailypakistan.com.pk/17-Jan-2020/1079689?fbclid=IwAR0e1
7rTI0kWalF4NCF1XWfhw-_Vrytuaj7D_44Nahg_2a6RGFQXSr9DHxQ


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107106974&Issue=NP_PEW&Date=20200117

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107106826&Issue=NP_PEW&Date=20200117

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/P08-ISB-061.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/P01-ISB-041.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/p2-isb-014.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/17012020/p9-lhr003.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/17012020/P1-Lhr-018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/17012020/P1-Lhr-022.jpg
لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے تحریک انصاف سے کارکن بھی خوش نہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے عہدیدار اور حکومتی عہدوں پر موجود شخصیات بھی ان پر انگلیاں اٹھا چکے ہیں، تھوڑے عرصے بعد ہی وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی افواہیں بھی گردش کرتی ہیں لیکن بالآخر خود وزیراعظم عمران خان کو ہی اس سلسلے میں وضاحت دینا پڑتی ہے جس کے بعد ہی صورتحال نارمل ہوتی ہے اور افواہوں کا بازار تھمتا ہے۔اب اس سلسلے میں سینئر صحافی اور معروف شاعر منصور آفاق نے بھی قلم اٹھایا ہے اور تازہ صورتحال پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ" وسیم اکرم پلس" نے کیا کچھ کیا ہے ۔
روزنامہ جنگ میں منصور آفاق نے لکھا کہ "وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہےکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ قاف لیگ نے بھی کہہ دیا کہ ہمیں عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں اُن کے خلاف تو فواد چوہدری بولے ہیں۔ بے شک فواد چوہدری کو نہیں بولنا چاہئے تھا۔
وہ بھی اُس مخصوص گروہ کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے جنہیں سرائیکی علاقے کا ایک عام سا نوجوان پنجاب کے حکمران کی حیثیت سے پسند نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں عثمان بزدار کے اقدامات کو نہ سراہنا زیادتی ہے۔
مالی بحران کے باوجود انہوں نے 8نئی یونیورسٹیوں اور 9اسپتالوں کا آغاز کیا ہے جس میں 10000بستروں کا اضافہ کیا گیا ہے، اس نے 25000میڈیکل پروفیشنلز کی شفاف بھرتیاں کیں، میرٹ پر تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز لگائے، 1500کلومیٹر دیہی سڑکیں بنوائیں، کابینہ کو بااختیار بنایا۔
وزرا، بیورو کریسی کو آزادانہ کام کا موقع فراہم کیا، میڈیا اور مخالفین کی تنقید کو احسن طریقے سے برداشت کیا۔ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جسے غلط کہا جا سکے۔ غریبوں کا خیال رکھا۔ بے گھروں کے لئے چھتیں فراہم کیں۔
وہ جانتے ہیں کہ کسی معاشرے پر پہلا حق اُس کے معذور اور کمزور لوگوں کا ہوتا ہے۔ پنجاب میں کوئی میگا کرپشن اسکینڈل نہیں۔ گزشتہ حکومتوں میں کرپشن کس انتہا پر تھی، کون نہیں جانتا کہ انہی کی بدولت پوری قوم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوئی۔
ذرا سوچئے غریب لوگوں کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ اب پتا چلا کہ کئی لوگ جنہوں نے یہ رقم حاصل کی، غرباء کے زمرے میں نہیں آتے۔ یعنی آٹھ لاکھ بیس ہزار لوگوں نے جھوٹ بول کر، جعل سازی کرکے انکم سپورٹ حاصل کی۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حال پر کرم فرمائے۔ کیا کہوں کہ ہم اخلاقی پستیوں کی کون سی گراوٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ پھر اس سے بھی بڑا ستم یہ ہوا کہ ان آٹھ لاکھ لوگوں میں صرف 14ہزار سرکاری ملازمین کو شو کاز نوٹس جاری ہوئے۔ باقی لوگوں کو کچھ نہیں کہا گیا، اُن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی۔ ان میں 3لاکھ سے زائد ایسے افراد شامل ہیں جو جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک جاتے آتے ہیں۔
اپنے پاسپورٹ ایگزیکٹیو فیس جمع کرا کے بنواتے ہیں۔ اگر ان آٹھ لاکھ لوگوں سے غریبوں کا مال واپس نہ لیا جائے، انہیں سزا نہ دی گئی، انہیں جرائم پیشہ افراد کی لسٹ میں شامل نہ کیا گیا تو میں سمجھوں گا کہ پھر یہ نظام کسی ڈسٹ بن میں پھینک دینے کے قابل ہے۔ چین میں اِسی کرپشن کی سزا موت ہے۔ اسلام نے اِسی چور ی پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
جن سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرفی کے شو کاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان سے جواب طلب کیا گیا ہے، یعنی موقع دیا گیا ہے کہ وہ کسی طرح اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں تو بچا لیں۔ یہ بات کسی قیامت سے کم نہیں کہ یہ گریڈ 17سے 21کے افسران ہیں۔
انہیں فوری طور پر برطرف کرکے جعل سازی کے جرم میں جیل بھیج دینا چاہئے۔ یہ سلسلہ کوئی آدھ ماہ کا نہیں، سالہا سال سے یہ لوگ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے جعلسازی کر کے غریبوں کا مال پر ہاتھ صاف کرتے چلے آرہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق ان میں گریڈ 17سے 21کے 2ہزار 543افسران شامل ہیں۔ گریڈ 17کے 1ہزار 446، گریڈ 18کے 604، گریڈ 19کے 429، گریڈ 20کے 61، اور گریڈ 21کے 3افسران شامل ہیں۔
کرپشن کے راج کا دورانیہ تقریباً چالیس پینتالیس سال پر مشتمل ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار سے آج تک کسی نہ کسی سطح پر کرپشن جاری و ساری ہے۔ سفارش تو برائی رہی ہی نہیں، رشوت ستانی کو بھی اب برا نہیں سمجھا جاتا۔
اسے کمیشن کا انگریزی نام دے دیا گیا۔ ہوس پرستی اور زر پرستی کا یہ مزاج قوم کی رگوں میں اتر چکا ہے۔ اشیائے خور و نوش میں ملاوٹ پر کسی کو کبھی بڑی سزا ہوئی ہی نہیں حالانکہ یہ وہ جرم ہے مہذب معاشروں میں جس کی سزا عمر قید تک ہے۔ ہم ذاتی زندگی سے اجتماعی زندگی تک کرپشن کے حصار میں ہیں۔
تحریک انصاف اسی تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئی تھی، کرپشن کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی منشور تھا بلکہ ہے، مگر دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ضمیروں پر مسلط مافیا نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ معاملہ صرف شریف اور زرداری خاندان کی کرپشن تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ باقی لٹیروں سے بھری اشرافیہ اسی طرح لوٹ مار کر رہی ہے۔
پچھلے دنوں عمران خان میانوالی آئے تو ان سے کہا گیا کہ میانوالی میں ڈرائیونگ لائسنس بنانے کیلئے 25ہزار روپے رشوت لی جا رہی ہے۔ یقیناً عمران خان نے اُس کا نوٹس لیا ہوگا مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اجتماعی طور پر اس کرپشن سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔
صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی کہا ہے:بدعنوانی پوری انسانیت پرحملہ ہے۔ ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشرے کو اس ناسور کے خلاف مہم میں اجتماعی طور پر کردار ادا کرنا ہوگا"۔
انہوں نے مزید لکھا کہ "
بدعنوانی پرقابو پائے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔‘‘ مگر کیسے۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080612?fbclid=IwAR1a1KtQRF7OHHGVniHA
VNiOVnJKqTFI8gyeEXR0urUp9nbDCNqv7B_0X08
کراچی ( آن لائن ) بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ کا وظیفہ 5 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار کر دیا گیا ہے،ہر تیسرے ماہ دو ہزار روپے مستحقین کو ملیں گے۔بی آئی ایس پی میں ایک لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازم بینی فشری تھے گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے لوگ بھی شامل تھے۔جن کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیں گے۔
ثانیہ نشتر نے ملیر کے علاقے میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے غریب اہم ہیں ہم آپ کے مسائل سننا چاہتے ہیں کیونکہ ہرپروگرام میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے لوگوں کے لئے آسانیاں پیداکرنا مقصد ہے اللہ پاک جس کوذمہ داری دیتا ہے اس کا سرجھک جانا چاہیئے وزیراعظم کی خاص ہدایت ہے کہ جوپسماندہ علاقوں کے لوگ ہیں ان کی مدد کی جائے اب ہم اس وظیفے کو زیادہ کررہے ہیں اب پانچ ہزارسے چھ ہزارکرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مستحق کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ پیسے کب آنے ہیں اب ہرتیسرے ماہ ملنے والے چھ ہزاراب ہرماہ دوہزارکی صورت میں ملیں گے اب انگوٹھالگانے سے مستحق خواتین کا بینک اکاﺅنٹ کھل جائے گاجوخواتین بچت کرنا چاہے کرسکیں گی، اب خواتین اے ٹی ایم کے ذریعے بھی پیسے لے سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی میں ایک لاکھ چالیس ہزار سرکاری ملازم بینی فشری تھے گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے لوگ بھی شامل تھے اس میں پاکستان پوسٹ کے ملازمین بھی شامل ہیں پہلے دن سے ہم نے کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ ملوث افراد کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیں گے دیگر صوبوں اور محکمہ کے لوگ بھی شامل ہین جن کے خلاف ان کے صوبے کارروائی کریں گے۔
ثانیہ نشتر نے مزید کہا کہ میں برقعہ پہن کر اکثر حالات کا جائزہ لینے کیلئے اسلام آباد میں نکلتی تھی اب کرپشن پر خاص کریک ڈاﺅن ہوگا کفالت پروگرام پر آگے چل کر بہت فائدہ ہوگا،وزیر اعظم دن رات کوشش کررہے ہیں مجھے سب کی مدد کی ضرورت ہے احساس پروگرام میں مختلف لوگوں کے لئے مختلف چیزیں ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080608?fbclid=IwAR2PEEOQsHAiLHfe0CwIJTx
ezVTL2zn9tqJG0BSGgexJt5jgKAml0iKjt2A
فیصل آباد (ویب ڈیسک) پورے ملک میں آٹا مہنگا ہونے یا نہ ملنے کی شکایات ہیں لیکن جڑانوالہ میں کچھ لوگوں کو آٹا مفت مل گیا ، آٹے کے مفت تھیلے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دورے کے موقع پر انہوں نے خود دیئے ۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نےجڑانوالہ کا اچانک دورہ کیا ، اس موقع پر عثمان بزدار نے آٹے کے سیل پوائنٹ،تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال اور تھانہ سٹی پر چھاپہ مارا، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے سیل پوائنٹ پر آٹے کی عوام کو فراہمی کا جائزہ لیا،شہریوں سے آٹے کی دستیابی کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے شہریوں سے ہاتھ ملایا اوران کو فری آٹے کے تھیلے دیئے، وزیراعلیٰ کی بعض شہریوں کی جانب سے آٹے کی کم دستیابی کی شکایت پر ایکشن لیا، انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے او ایس ڈی بنا دیا، اسٹنٹ فوڈ کنٹرولر جمیل گجر معطل کردیا۔
عثمان بزدار کاکہناتھاکہ پنجاب حکومت کے پاس وافر گندم موجود ہے،آٹے کی قلت کسی صورت نہیں ہونی چاہیے، میں عوام سے ہوں اورعوام کو آٹے کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے فیلڈ میں نکلا ہوں۔انہوں نے شہر میں آٹے کے سیل پوائنٹس میں اضافہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے سیل پوائنٹس پر آٹا مقررکردہ نرخوں پردستیاب ہے، میں مختلف شہروں کے دور ے کر کے آٹے کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہوں گا،وزیراعلیٰ نے حوالات میں بند ملزموں سے ہاتھ ملایا اوران کے مسائل پوچھے،تھانے کے مختلف شعبوں کا وزٹ کیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ تھانے میں صفائی کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے، حوالات میں بند ملزموں کو وہ سہولتیں ملنی چاہیے جو ان کاحق ہے۔انہوں نے ملزمان کی شکایات پر ایس ایچ او تھانہ سٹی جڑانوالہ معطل کردیا ۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں۔
https://dailypakistan.com.pk/19-Jan-2020/1080625?fbclid=IwAR0qZKSams9W
TEfbXGv8pd7Xkw1pIYVUWBdocRrm
On9BGnALc4CNvBN-o_s


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107112841&Issue=NP_PEW&Date=20200119

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr027.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr009.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr010.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr033.jpg


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107112709&Issue=NP_PEW&Date=20200119

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr036.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr024.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-19&edition=KCH&id=5005531_56945591


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107109835&Issue=NP_PEW&Date=20200118


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107109863&Issue=NP_PEW&Date=20200118

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/18012020/p2-isb-019.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P8-Lhr-029.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P6-Lhr-022.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P6-Lhr-038.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P1-LHR030.jpg
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 9 سال تک بیگمات کے نام پرغریبوں کا حق کھانے والے سرکاری افسران کو نوکریوں سے برطرفی کیلئے شوکاز نوٹس جاری کر دیئے۔بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے سرکاری افسران کے فراڈ کا معاملہ، حکومت نے ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔
سرکاری ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن میں 9 سال تک بیویوں کے نام پر غریبوں کا حق کھانے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔بیگمات کو انرول کرانے والے افسران کو جواب دہی کے لئے 10 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ تسلی بخش جواب نہ دینے پر ملازمتوں سے بر طرفی عمل میں لائی جائے گی۔
https://dailypakistan.com.pk/17-Jan-2020/1079689?fbclid=IwAR0e1
7rTI0kWalF4NCF1XWfhw-_Vrytuaj7D_44Nahg_2a6RGFQXSr9DHxQ


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107106974&Issue=NP_PEW&Date=20200117

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107106826&Issue=NP_PEW&Date=20200117

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/P08-ISB-061.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/P01-ISB-041.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/p2-isb-014.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/17012020/p9-lhr003.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/17012020/P1-Lhr-018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/17012020/P1-Lhr-022.jpg


No comments:
Post a Comment