
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک پاکستانی کمپنی نے اپنے بحرینی اور اماراتی پارٹنرز کے ساتھ مل کر پاکستان میں ساڑھے 4 ارب روپے (29 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سرمایہ کاری کی مدد سے پاکستان میں جانوروں کی افزائش کیلئے جدید طرز کے کیٹل فارم اور سلاٹر ہاﺅس قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر کوالٹی کا گوشت حاصل کیا جاسکے۔
’طازج میٹ اینڈ فوڈز‘ کمپنی کے منیجنگ پارٹنر عبدالحنان نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کمپنی نے لاہور کے نزدیک چونیاں میں 135 ایکڑ زمین حاصل کرلی ہے جہاں سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے مزین اینیمل پروڈکشن فارم قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پراجیکٹ پر مارچ 2020 میں کام کا آغاز ہوجائے گا۔
عبدالحنان نے بتایا کہ ان کی کمپنی کے گوشت کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ میں برآمد کیا جاتا ہے اس لیے وہاںکے بعض انویسٹرز نے ہماری کمپنی میں ذاتی طورپر سرمایہ کاری کی ہے، ہمارے سرمایہ کاروں کا تعلق بحرین اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔
مینجنگ پارٹنر کے مطابق کمپنی کے پاس پہلے ہی ایک سلاٹر ہاﺅس موجود ہے جس میں روزانہ 500 گائیں اور ایک ہزار بھیڑ بکریوں کو ذبح کیا جاسکتا ہے ، چین میں بھی گوشت کی بہت بڑی مارکیٹ ہے اور مستقبل کے امکانات مد نظر رکھتے ہوئے نیا مذبح خانہ قائم کیا جارہا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/18-Jan-2020/1080205?fbclid=IwAR2TxVbiSieO29c9t6X_
Z1N5GEYriEW3jmM0NxEtIpVmUGlBZ2-yqhTERNU
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی ملک بیلجیئم سے تعلق رکھنے والی ملٹی نیشنل کمپنی اونٹیکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے 2 سے 3 سال میں پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو دوگنا کردے گی۔ بچوں ، خواتین اور مردوں کیلئے ہائی جینک کیئر پراڈکٹس بنانے والی کمپنی پاکستان میں اپنی مجموعی سرمایہ کاری 20 ملین یورو تک بڑھانا چاہتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کیلئے اونٹیکس کے نائب صدر پاول وربلیوڈینکو نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے 2011 میں جب پاکستان میں آپریشنز شروع کیے تو اس وقت 10 ملین یورو کی سرمایہ کاری کی تھی ، اب پاکستان میں مزید 10 ملین یورو کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم پاکستان میں نئی پراڈکٹس ، ویئر ہاﺅسز، مارکیٹنگ اور ہیومن کیپٹل میں سرمایہ کاری کریں گے۔
پاکستان سمیت 18 ممالک میں کمپنی کے پروڈکشن یونٹس موجود ہیں اور یہ دنیا بھر کے 110 ممالک میں ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔ اونٹیکس کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ کمپنی پاکستان کو اپنا ایکسپورٹ سائن بورڈ بنانا چاہتی ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں برآمدات بڑھائی جاسکیں۔ ’ ہم پاکستان کے بارے میں بہت ہی سنجیدہ ہیں، ہم آئندہ چند سالوں میں اپنی پروڈکشن کو ڈبل اور پراڈکٹس میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
https://dailypakistan.com.pk/18-Jan-2020/1080200?fbclid=IwAR0g61j8qWMOlSf0x_9Zk
qmsHVpjAxxbgdpR6BoQFsTVmVwzV8hdWiuwApM

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-19&edition=KCH&id=5005423_73245845

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-19&edition=KCH&id=5005421_31886354

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr032.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/19012020/p1-lhr011.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-18&edition=KCH&id=5004470_90862231

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P6-Lhr-007.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/18012020/P1-ISB-016.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/P06-ISB-043.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/17012020/P06-ISB-033.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-17&edition=KCH&id=5003006_68450145

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-17&edition=KCH&id=5002584_34206675

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-17&edition=KCH&id=5002590_77313340

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-17&edition=KCH&id=5002583_23800273
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی طرف سے پاکستانیوں کو ایک اور بہت بڑی خوشخبری سنا دی گئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق دوست ملک کی طرف سے پاکستان میں ’ری نیو ایبل انرجی سیکٹر‘ میں 4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ خوشخبری گزشتہ روز وزیر برائے پاور ڈویژن عمر ایوب خان نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سنائی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری سعودی پاور پروڈیوسنگ کمپنی ’اے سی ڈبلیو اے پاور‘ کرے گی۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ سعودی کمپنی ہوا، پانی، سورج کی روشنی اور کچرے وغیرہ جیسے سستے ذرائع کے بجلی پیدا کرے گی جو بہت سستی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ‘ ری نیو ایبل اور متبادل توانائی پیدا کرنے والے منصوبے لگانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور اس کے لیے نجی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا رہا ہے۔ہم 2025ءتک ملک کی مجموعی توانائی پیدوار میں متبادل توانائی کا حصہ 20فیصد اور 2030ءتک 30فیصد تک لیجانا چاہتے ہیں۔“
https://dailypakistan.com.pk/14-Jan-2020/1078265?fbclid=IwAR3EBYtWThcsNgHXhQUOVuLb
7H1IYAiF5
nNQO4J72XVaLz1FQNp4dNSDIxQ

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-15&edition=KCH&id=4998399_96493681

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-15&edition=KCH&id=4998398_16828010

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/15012020/p1-lhr022.jpg
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں اندسٹریل یونٹس کے قیام اور ترسیلات زر بھجوانے میں درپیش مشکلات دور کرنے کے لیے ٹیکس قوانین میں پیچدگیوں اور ڈیوٹی و ٹیکسوں میں ردوبدل کرنے اورغیرملکی سرمایہ کے لیے درآمدی سطح پر عائد 1.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس سے چھوٹ دینے اور سیلز ٹیکس کی مد میں سو فیصد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے سمیت دیگر مراعات دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی طرف سے قائم کردہ ذیلی کمیٹی اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے اور ترسیلات زر بھجوانے کے لیے سہولیات دینے بارے جامع سفارشات تیار کرکے منظوری کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )کے اجلاس میں پیش کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے مشکلات دور کرنے کے لیے وزارت اوور سیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سے رجوع کیا تھا اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کو بھی مداخلت کی درخواست کی تھی جس پر اوو رسیز پاکستانیز نے سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)سے معاملہ اٹھایا تھا اور وزیراعظم کے نوٹس میں بھی معاملہ لایاگیا تھا جس پریکم جنوری 2020 ووزیر اعظم کے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں ہونیوالے اجلاس میں تارکین وطن پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات زر پاکستان بھجوانے کے لیے مزیدرعایات اور ترغیبات دینے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/14-Jan-2020/1078209?fbclid=IwAR3SOLDum2q7ArcPDz-lIgJ_D9ENaIT5beIIcyH8IZErlexz7zksdFj5pcY
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستانی معیشت کی بی مائنس ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئے آوٹ لک مستحکم قرار دے دیا ہے۔فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے، آئی ایم ایف پروگرام اور پالیسی ایکشن نے معاشی خرابیوں کو دور کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جاری خسارہ کم ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔
فچ کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جاری خسارہ جی ڈی پی کے 2.1 فیصد رہنے کے اندازے ہیں، اگلے مالی سال میں جاری خسارہ جی ڈی پی کا 1.9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں جبکہ مالی سال 19 میں جاری خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد رہا۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Jan-2020/1077815?fbclid=IwAR07854FkQ-DI-G2u5mzQvmAZf02Byg3yA9agRQe51v_hig1kK2CAkTqXxI

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/14012020/P6-Lhr-004.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/14012020/P6-Lhr-007.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/p1-lhr046.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-13&edition=KCH&id=4995263_33446484

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107095871&Issue=NP_PEW&Date=20200113

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-12&edition=KCH&id=4993907_22924624

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/12012020/p1-lhr048.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/12012020/p1-lhr043.jpg

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107092916&Issue=NP_PEW&Date=20200112

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107091131&Issue=NP_PEW&Date=20200112
اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے وزیراعظم یا مشير خزانہ کے ساتھ کوئی اختلافات نہيں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وضاحت جاری کردی، چیئرمین ایف بی آر 19 جنوری تک رخصت پر ہیں۔
ايف بی آر کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ شبر زیدی کے وزیراعظم عمران خان یا معاشی ٹیم سے اختلافات کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اپنے معمول کے میڈیکل چیک اپ کیلئے کراچی میں موجود ہیں، وہ 20 جنوری کو تاجر کنونشن میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ 20 جنوری کے اجلاس میں وزیراعظم تاجر برادری کو دی جانیوالی رعایتوں کا باضابطہ اعلان کریں گے، عمران خان تاجر تنظیموں سے مکمل دستاویزات اور ٹیکس ادائیگی پر تعاون بھی مانگیں گے۔
یادرہے کہ گزشتہ روز روزنامہ جنگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اقتصادی ٹیم کے اعلیٰ پالیسی سازوں میں کچھ پالیسی سطح پر اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں جس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے 6 تا 19 جنوری 15 روز کے لئے رخصت لے لی۔ایف بی آر کی رکن ان لینڈ ریونیو (آئی آر) پالیسی سیما شکیل بھی اپنی صحت سے متعلق مسائل کی وجہ سے رخصت پر ہیں۔ بارہا کوششوں کے باوجود کوئی بھی اس موضوع پر گفتگو کے لئے آمادہ نہیں ہے۔
جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے بظاہر اپنی صحت اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے رخصت لی ہے لیکن اندرونی ذرائع نے کہا کہ رواں سال کی شروعات ہی سے اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ٹیکسٹائل سے متعلق ایک اجلاس میں بتایا جاتا ہے کہ تلخ و تند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کر کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سافٹ ویئر کی تنصیب میں سست روی پر ناپسندیدگی کا بھی اظہار کیا۔
اخبار نے مزید لکھا کہ تند و تیز جملوں کے تبادلے کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے رخصت پر جانے کو ترجیح دی۔ تبصرے کے لئے ان کی رائے جاننے کے لئے رابطے کی کوششوں پر ان کا سیل موبائل فون اور سماجی رابطے کے ذرائع بند ملے۔تاہم رابطہ کرنے پر ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کی طبیعت ناساز ہے اور انہوں نے اس کا ذکر اپنے ساتھیوں سے بھی کیا۔
شبر زیدی کو گزشتہ بجٹ میں 5.5 ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف پورا نہ کرنے پر بھی شدید دباو¿ کا سامنا رہا۔ جبکہ سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان اور رکن ڈاکٹر اقبال آئی ایم ایف کو باور کرانے میں لگے رہے کہ 4.6 ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن 5 ٹریلین روپے سے اوٹر وصولیاں ممکن نہیں ہے۔ لیکن شبر زیدی نے 5.5ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف قبول کر لیا۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اب یہ ہدف گھٹا کر 5.238 ٹریلین روپے کر دیا گیا۔ لیکن دسمبر 2019 میں شارٹ فال 115 روپے کا رہا۔ اب تک رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر نے 2083 ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں جبکہ دوسری ششماہی میں اسے 3155 ٹریلین کی وصولیاں کرنی ہوں گی تاکہ 30 جون 2020 تک 5238 ارب روپے وصولیوں کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔
https://dailypakistan.com.pk/12-Jan-2020/1077252?fbclid=IwAR1Sib2JdZ1vrd6jyeeu2DLQug
p_jpJLF6fmEkPMn1YW_kowecTL91ezUH4

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-11&edition=KCH&id=4992828_36706203

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-11&edition=KCH&id=4992782_32113946

nNQO4J72XVaLz1FQNp4dNSDIxQ

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-15&edition=KCH&id=4998399_96493681

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-15&edition=KCH&id=4998398_16828010

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/15012020/p1-lhr022.jpg
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں اندسٹریل یونٹس کے قیام اور ترسیلات زر بھجوانے میں درپیش مشکلات دور کرنے کے لیے ٹیکس قوانین میں پیچدگیوں اور ڈیوٹی و ٹیکسوں میں ردوبدل کرنے اورغیرملکی سرمایہ کے لیے درآمدی سطح پر عائد 1.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس سے چھوٹ دینے اور سیلز ٹیکس کی مد میں سو فیصد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے سمیت دیگر مراعات دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی طرف سے قائم کردہ ذیلی کمیٹی اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے اور ترسیلات زر بھجوانے کے لیے سہولیات دینے بارے جامع سفارشات تیار کرکے منظوری کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )کے اجلاس میں پیش کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے مشکلات دور کرنے کے لیے وزارت اوور سیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سے رجوع کیا تھا اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کو بھی مداخلت کی درخواست کی تھی جس پر اوو رسیز پاکستانیز نے سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)سے معاملہ اٹھایا تھا اور وزیراعظم کے نوٹس میں بھی معاملہ لایاگیا تھا جس پریکم جنوری 2020 ووزیر اعظم کے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں ہونیوالے اجلاس میں تارکین وطن پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات زر پاکستان بھجوانے کے لیے مزیدرعایات اور ترغیبات دینے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔
https://dailypakistan.com.pk/14-Jan-2020/1078209?fbclid=IwAR3SOLDum2q7ArcPDz-lIgJ_D9ENaIT5beIIcyH8IZErlexz7zksdFj5pcY
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستانی معیشت کی بی مائنس ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئے آوٹ لک مستحکم قرار دے دیا ہے۔فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے، آئی ایم ایف پروگرام اور پالیسی ایکشن نے معاشی خرابیوں کو دور کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جاری خسارہ کم ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔
فچ کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جاری خسارہ جی ڈی پی کے 2.1 فیصد رہنے کے اندازے ہیں، اگلے مالی سال میں جاری خسارہ جی ڈی پی کا 1.9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں جبکہ مالی سال 19 میں جاری خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد رہا۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Jan-2020/1077815?fbclid=IwAR07854FkQ-DI-G2u5mzQvmAZf02Byg3yA9agRQe51v_hig1kK2CAkTqXxI

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/14012020/P6-Lhr-004.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/14012020/P6-Lhr-007.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/p1-lhr046.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-13&edition=KCH&id=4995263_33446484

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107095871&Issue=NP_PEW&Date=20200113

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-12&edition=KCH&id=4993907_22924624

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/12012020/p1-lhr048.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/12012020/p1-lhr043.jpg

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107092916&Issue=NP_PEW&Date=20200112

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107091131&Issue=NP_PEW&Date=20200112
اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے وزیراعظم یا مشير خزانہ کے ساتھ کوئی اختلافات نہيں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وضاحت جاری کردی، چیئرمین ایف بی آر 19 جنوری تک رخصت پر ہیں۔
ايف بی آر کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ شبر زیدی کے وزیراعظم عمران خان یا معاشی ٹیم سے اختلافات کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اپنے معمول کے میڈیکل چیک اپ کیلئے کراچی میں موجود ہیں، وہ 20 جنوری کو تاجر کنونشن میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ 20 جنوری کے اجلاس میں وزیراعظم تاجر برادری کو دی جانیوالی رعایتوں کا باضابطہ اعلان کریں گے، عمران خان تاجر تنظیموں سے مکمل دستاویزات اور ٹیکس ادائیگی پر تعاون بھی مانگیں گے۔
یادرہے کہ گزشتہ روز روزنامہ جنگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اقتصادی ٹیم کے اعلیٰ پالیسی سازوں میں کچھ پالیسی سطح پر اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں جس پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے 6 تا 19 جنوری 15 روز کے لئے رخصت لے لی۔ایف بی آر کی رکن ان لینڈ ریونیو (آئی آر) پالیسی سیما شکیل بھی اپنی صحت سے متعلق مسائل کی وجہ سے رخصت پر ہیں۔ بارہا کوششوں کے باوجود کوئی بھی اس موضوع پر گفتگو کے لئے آمادہ نہیں ہے۔
جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے بظاہر اپنی صحت اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے رخصت لی ہے لیکن اندرونی ذرائع نے کہا کہ رواں سال کی شروعات ہی سے اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ٹیکسٹائل سے متعلق ایک اجلاس میں بتایا جاتا ہے کہ تلخ و تند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کر کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سافٹ ویئر کی تنصیب میں سست روی پر ناپسندیدگی کا بھی اظہار کیا۔
اخبار نے مزید لکھا کہ تند و تیز جملوں کے تبادلے کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے رخصت پر جانے کو ترجیح دی۔ تبصرے کے لئے ان کی رائے جاننے کے لئے رابطے کی کوششوں پر ان کا سیل موبائل فون اور سماجی رابطے کے ذرائع بند ملے۔تاہم رابطہ کرنے پر ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کی طبیعت ناساز ہے اور انہوں نے اس کا ذکر اپنے ساتھیوں سے بھی کیا۔
شبر زیدی کو گزشتہ بجٹ میں 5.5 ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف پورا نہ کرنے پر بھی شدید دباو¿ کا سامنا رہا۔ جبکہ سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان اور رکن ڈاکٹر اقبال آئی ایم ایف کو باور کرانے میں لگے رہے کہ 4.6 ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن 5 ٹریلین روپے سے اوٹر وصولیاں ممکن نہیں ہے۔ لیکن شبر زیدی نے 5.5ٹریلین روپے وصولیوں کا ہدف قبول کر لیا۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اب یہ ہدف گھٹا کر 5.238 ٹریلین روپے کر دیا گیا۔ لیکن دسمبر 2019 میں شارٹ فال 115 روپے کا رہا۔ اب تک رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر نے 2083 ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں جبکہ دوسری ششماہی میں اسے 3155 ٹریلین کی وصولیاں کرنی ہوں گی تاکہ 30 جون 2020 تک 5238 ارب روپے وصولیوں کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔
https://dailypakistan.com.pk/12-Jan-2020/1077252?fbclid=IwAR1Sib2JdZ1vrd6jyeeu2DLQug
p_jpJLF6fmEkPMn1YW_kowecTL91ezUH4

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-11&edition=KCH&id=4992828_36706203

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-11&edition=KCH&id=4992782_32113946


No comments:
Post a Comment