اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان میں کرپشن میں اضافے کی رپورٹ جاری کی گئی ہے، رپورٹ سامنے آنے پر تحریک انصاف کی حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جواب میں تحریک انصاف نے ٹرانسپیرنسی کے سربراہ پر الزامات لگانا شروع کردیے، اس سارے قضیے میں اب ایک نئی اور دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی ہے
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس میں جس کرپشن کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ دراصل مسلم لیگ ن کے دور حکومت کی تھی۔
تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی2019کی رپورٹ جس میں پاکستان کا سکور33سے کم ہو کر 32 ہوا اور پاکستان 117 ویں درجے سے 120 ویں درجے پر چلا گیا، اس رپورٹ کیلئے پاکستان میں8 ایجنسیوں نے اعدادوشمار اکٹھے کیے، ان 8میں سے6 ایجنسیوں کے مطابق 2018 اور 2019 کے سکور میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
ارشاد بھٹی نے کہا کہ ڈیٹا جمع کرنے والی 8 میں سے جن 2 ایجنسیوں نے منفی ریٹنگ دی، ان دونوں ایجنسیوں نے خود مانا کہ ہماری اس رپورٹ میں غلطی کا مارجن زیادہ ہے۔ دوسری بات ایک ایجنسی نے پاکستان سے ڈیٹافروری 2015 سے جنوری 2017 تک نواز دور میں ڈیٹا اکٹھا کیا جبکہ دوسری ایجنسی کاڈیٹا 2017کا ہے۔
صحافی و تجزیہ کار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ اپنی نا اہلی کے باعث تحریک انصاف کے وزرا نے ن لیگ دور کی کرپشن اپنے سر لے لی۔ پی ٹی آئی کے وزرا اور مشیروں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Jan-2020/1083099?fbclid=IwAR2wgEc6wn0jdG
mlUI30j8rOFw4u0mraG0bosl4JwKxaSs4xSRuGc3D9TZY
شانگلہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں ڈیجیٹل کرنسی کا مائننگ فارم پکڑ اگیا جو ڈیجیٹل یا کرپٹو کرنسی بنا کر مختلف ویب سائٹس پر فروخت کی جا رہی تھی یا اس پر کمیشن لیاجارہا تھا اور اس سارے نیٹ ورک کو اوکاڑہ سے آن لائن کنٹرول کیا جارہا تھا۔بی بی سی کے مطابق مائننگ فارم چلانے والے دوافراد کو گرفتار بھی کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا تعلق لاہور جبکہ دوسرے کااوکاڑہ سے ہے۔
شانگلہ میں موجود کرپٹوکرنسی کے مائیننگ فارم میں ڈیجیٹل مشینیں نصب تھیں۔ اس میں ڈیجیٹل کرنسی یا کریپٹو کرنسی کے 65 یونٹس نصب تھے اور ہر یونٹ کے بارہ چینل تھے یعنی اس فارم سے 780 چینلز کام کر رہے تھے جن کے لیے درکار بجلی مقامی سطح پر نصب ٹربائن سے حاصل کی جا رہی تھی۔
یہ فارم شانگلہ کے ایک ایسے دیہی علاقے میں قائم کیا گیا تھا جو پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم اور پولیس اہلکاروں کو پیدل جانا پڑا جہاں دو دو فٹ تک برف پڑی تھی۔اس مائیننگ فارم کے لیے سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور 220 وولٹ کی مکمل بجلی مستقل طور پر چاہیے ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ دیہی علاقہ ہے لیکن یہاں مقامی سطح پر بجلی کے ٹربائن نصب ہیں اور موسم یہاں سرد ہوتا ہے۔اہلکاروں نے بتایا کہ ملزمان ٹربائن اور بجلی فراہم کرنے والوں کو ماہانہ 90 ہزار روپے تک بل کی ادائیگی کرتے تھے۔اہلکاروں نے بتایا یہ مشینری تپش پیدا کرتی ہے حالانکہ باہر برف پڑی تھی لیکن اس پانچ مرلے کے مکان میں جہاں مشینری نصب تھی وہاں لوگوں کو پسینہ آرہا تھا۔
واضح رہے کہ مائننگ فارم دراصل ڈیجیٹل کرنسی کا ٹیکنیکل ڈیٹا سنٹر ہوتا ہے جہاں پر بٹ کوائن یا دیگر کرپٹو کرنسیز تیار کی جاتی ہیں۔اسے مائیننگ فارم اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مستقل طور پر ایک طریقہ کار کے تحت کرنسی تیار کی جاتی ہے جس کے لیے وافر مقدار میں انرجی یعنی بجلی اور تکینیکی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پرادائیگی یا پےمنٹ کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریدای کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں لگ بھگ 5000 کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ ایک بٹ کوائن کی قیمت اس وقت 8300 ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ ماضی میں یہ 20 ہزار ڈالر کی حد تک بھی پہنچ چکی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Jan-2020/1083010?fbclid=IwAR2GmwfCVNafzY_y6YI9l4Cq
شانگلہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں ڈیجیٹل کرنسی کا مائننگ فارم پکڑ اگیا جو ڈیجیٹل یا کرپٹو کرنسی بنا کر مختلف ویب سائٹس پر فروخت کی جا رہی تھی یا اس پر کمیشن لیاجارہا تھا اور اس سارے نیٹ ورک کو اوکاڑہ سے آن لائن کنٹرول کیا جارہا تھا۔بی بی سی کے مطابق مائننگ فارم چلانے والے دوافراد کو گرفتار بھی کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا تعلق لاہور جبکہ دوسرے کااوکاڑہ سے ہے۔
شانگلہ میں موجود کرپٹوکرنسی کے مائیننگ فارم میں ڈیجیٹل مشینیں نصب تھیں۔ اس میں ڈیجیٹل کرنسی یا کریپٹو کرنسی کے 65 یونٹس نصب تھے اور ہر یونٹ کے بارہ چینل تھے یعنی اس فارم سے 780 چینلز کام کر رہے تھے جن کے لیے درکار بجلی مقامی سطح پر نصب ٹربائن سے حاصل کی جا رہی تھی۔
یہ فارم شانگلہ کے ایک ایسے دیہی علاقے میں قائم کیا گیا تھا جو پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم اور پولیس اہلکاروں کو پیدل جانا پڑا جہاں دو دو فٹ تک برف پڑی تھی۔اس مائیننگ فارم کے لیے سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور 220 وولٹ کی مکمل بجلی مستقل طور پر چاہیے ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ دیہی علاقہ ہے لیکن یہاں مقامی سطح پر بجلی کے ٹربائن نصب ہیں اور موسم یہاں سرد ہوتا ہے۔اہلکاروں نے بتایا کہ ملزمان ٹربائن اور بجلی فراہم کرنے والوں کو ماہانہ 90 ہزار روپے تک بل کی ادائیگی کرتے تھے۔اہلکاروں نے بتایا یہ مشینری تپش پیدا کرتی ہے حالانکہ باہر برف پڑی تھی لیکن اس پانچ مرلے کے مکان میں جہاں مشینری نصب تھی وہاں لوگوں کو پسینہ آرہا تھا۔
واضح رہے کہ مائننگ فارم دراصل ڈیجیٹل کرنسی کا ٹیکنیکل ڈیٹا سنٹر ہوتا ہے جہاں پر بٹ کوائن یا دیگر کرپٹو کرنسیز تیار کی جاتی ہیں۔اسے مائیننگ فارم اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مستقل طور پر ایک طریقہ کار کے تحت کرنسی تیار کی جاتی ہے جس کے لیے وافر مقدار میں انرجی یعنی بجلی اور تکینیکی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پرادائیگی یا پےمنٹ کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریدای کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں لگ بھگ 5000 کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ ایک بٹ کوائن کی قیمت اس وقت 8300 ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ ماضی میں یہ 20 ہزار ڈالر کی حد تک بھی پہنچ چکی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Jan-2020/1083010?fbclid=IwAR2GmwfCVNafzY_y6YI9l4Cq
mvuvkd7aFi54Bw-p3pdPpiabKK-EpjeVOEY
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پر رپورٹ جاری ہوئی جس میں 2018سے2019 کے دوران پاکستان میں کرپشن میں اضافے کا اشارہ دیا گیااس پر اب حکومت میدان میں آ گئی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹرکے سربراہ کون لیگ نے نوازا اورسفیرمقررکیا تھا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہناتھا کہ بیڈ گورننس اور کرپشن کی ایک طویل داستان لکھی ہوئی ہے اور تاریخ کے سنہرے حروف میں رقم ہے ، جس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے میڈیا ، اخبارات ،سول سوسائٹی اور عوام میں ایک مباحثہ چل رہاہے ، یہ بڑا ضروری ہے کہ اس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی ساخ کا جائزہ لیا جائے ، جس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ہم اس وقت موجودہ حکومت کے حوالے سے صاف اور شفاف نہ ہونے کے فتوے دے رہے ہیں، اس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی ٹرانسپرنسی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جس ڈیٹا کی بنیاد پر پرسیپشن انڈیکس ترتیب دیتی ہے اس کو ترتیب دینے والے افرا د ،جہاں سے وہ ڈیٹا اکھٹا کر رہے ہیں ، ان تمام کاگٹھ جوڑ عوام کے سامنے لانا ضروری ہے ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشن پاکستان چیپٹر کو جو ہیڈ کر رہے تھے ،ان موصوف نے جو سابق ادوار میں ن لیگ کی قیادت اور حکومت کو جس طرح پذیرائی بخشی اور ان کو نوازنے کیلئے اعلیٰ کارکردگی پر سفیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا اور ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے ان کے اس عہدے میں توسیع نہیں کی اور وہ اپنے وقت پر ریٹائر ہو گئے ہیں ۔
فردوس عاشق اعوان کا کہناتھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کو کون مانے گا جس میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ کرپشن مشرف دور میں ہوئی ، پھر عمران خان کے دور کو زیر بحث لایا گیا اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کا نمبر اور ن لیگ کے دور میں سب سے کم کرپشن ہوئی، یہ رپورٹ پڑھ کر صرف آپ ہنس سکتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ جن کو پاکستان کی عدالتیں کرپشن کنگز قرار دے رہی تھیں ، کرپشن کنگز کے مختلف کارنامے اور سیاہ کاریاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ، ان جماعتوں کو اس رپورٹ میں کلین چٹ دی گئی ہے ، اس کا مطلب یہ ہواہے کہ یہ فیئر اور ٹرانسپرنٹ رپورٹ نہیں ہے ، یہ رپورٹ متعصبانہ ہے
ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم اس بات پر یقین رکھتے ہیں جو کہ مینڈیٹ پاکستان کی عوام نے انہیں دیا ہے اس پر من و عن عمل ہوگا اور پاکستان کو صاف شفاف بنانے کیلئے وہ ہر فورم پر اپنے عمل اور اپنی پالیسی سے جدوجہد کرتے رہیں گے ، یہ کرپشن زدہ نظام اور اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں کا ایک منظم نیٹ ورک ہے جو ایک دوسرے کو سپورٹ کرتاہے اور ہر جگہ ان کے اعلیٰ کار ہیں جو ان کی سیاہ کاریوں کو تحفظ دیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کرپشن اور کرپٹ عناصر سے نہ کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ آئندہ کریں گے ، کرپشن کنگز ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو اپنے گناہ چھپانے کیلئے آڑکے طور پرا ستعمال کر رہے ہیں جس میں انہیں مایوسی ہو گی ، موڈیز موجودہ حکومت کے معاشی عشاریوں میں بہتری کی نہ صرف تائید کر رہے ہیں بلکہ اس کو سراہ بھی رہے ہیں ۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Jan-2020/1083016?fbclid=IwAR2BMziBaHPfchfnLoHM
vPIItsemijvcrYq6TpB7FdbSg4csn6aQgdw7XhU

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/24012020/p1-lhr018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/24012020/p1-lhr001.jpg
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پر رپورٹ جاری ہوئی جس میں 2018سے2019 کے دوران پاکستان میں کرپشن میں اضافے کا اشارہ دیا گیااس پر اب حکومت میدان میں آ گئی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹرکے سربراہ کون لیگ نے نوازا اورسفیرمقررکیا تھا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہناتھا کہ بیڈ گورننس اور کرپشن کی ایک طویل داستان لکھی ہوئی ہے اور تاریخ کے سنہرے حروف میں رقم ہے ، جس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے میڈیا ، اخبارات ،سول سوسائٹی اور عوام میں ایک مباحثہ چل رہاہے ، یہ بڑا ضروری ہے کہ اس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی ساخ کا جائزہ لیا جائے ، جس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ہم اس وقت موجودہ حکومت کے حوالے سے صاف اور شفاف نہ ہونے کے فتوے دے رہے ہیں، اس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی ٹرانسپرنسی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جس ڈیٹا کی بنیاد پر پرسیپشن انڈیکس ترتیب دیتی ہے اس کو ترتیب دینے والے افرا د ،جہاں سے وہ ڈیٹا اکھٹا کر رہے ہیں ، ان تمام کاگٹھ جوڑ عوام کے سامنے لانا ضروری ہے ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشن پاکستان چیپٹر کو جو ہیڈ کر رہے تھے ،ان موصوف نے جو سابق ادوار میں ن لیگ کی قیادت اور حکومت کو جس طرح پذیرائی بخشی اور ان کو نوازنے کیلئے اعلیٰ کارکردگی پر سفیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا اور ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے ان کے اس عہدے میں توسیع نہیں کی اور وہ اپنے وقت پر ریٹائر ہو گئے ہیں ۔
فردوس عاشق اعوان کا کہناتھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کو کون مانے گا جس میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ کرپشن مشرف دور میں ہوئی ، پھر عمران خان کے دور کو زیر بحث لایا گیا اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کا نمبر اور ن لیگ کے دور میں سب سے کم کرپشن ہوئی، یہ رپورٹ پڑھ کر صرف آپ ہنس سکتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ جن کو پاکستان کی عدالتیں کرپشن کنگز قرار دے رہی تھیں ، کرپشن کنگز کے مختلف کارنامے اور سیاہ کاریاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ، ان جماعتوں کو اس رپورٹ میں کلین چٹ دی گئی ہے ، اس کا مطلب یہ ہواہے کہ یہ فیئر اور ٹرانسپرنٹ رپورٹ نہیں ہے ، یہ رپورٹ متعصبانہ ہے
ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم اس بات پر یقین رکھتے ہیں جو کہ مینڈیٹ پاکستان کی عوام نے انہیں دیا ہے اس پر من و عن عمل ہوگا اور پاکستان کو صاف شفاف بنانے کیلئے وہ ہر فورم پر اپنے عمل اور اپنی پالیسی سے جدوجہد کرتے رہیں گے ، یہ کرپشن زدہ نظام اور اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں کا ایک منظم نیٹ ورک ہے جو ایک دوسرے کو سپورٹ کرتاہے اور ہر جگہ ان کے اعلیٰ کار ہیں جو ان کی سیاہ کاریوں کو تحفظ دیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کرپشن اور کرپٹ عناصر سے نہ کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ آئندہ کریں گے ، کرپشن کنگز ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو اپنے گناہ چھپانے کیلئے آڑکے طور پرا ستعمال کر رہے ہیں جس میں انہیں مایوسی ہو گی ، موڈیز موجودہ حکومت کے معاشی عشاریوں میں بہتری کی نہ صرف تائید کر رہے ہیں بلکہ اس کو سراہ بھی رہے ہیں ۔
https://dailypakistan.com.pk/24-Jan-2020/1083016?fbclid=IwAR2BMziBaHPfchfnLoHM
vPIItsemijvcrYq6TpB7FdbSg4csn6aQgdw7XhU

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/24012020/p1-lhr018.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/24012020/p1-lhr001.jpg
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2019 میں کرپشن سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس میں بتایا گیاہے کہ 2018 کی نسبت 2019 کے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ہے ، 2018 کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا سکور 33 تھا جو کہ 2019 میں کم ہو کر 32 پر آ گیاہے ۔
ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی زیرقیادت نیب کی کارکردگی بہتر رہی، نیب پاکستان نے بدعنوان عناصر سے 153 ارب روپے نکلوائے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2019 میں زیادہ تر ممالک کی کرپشن کم کرنے میں کارکردگی بہتر نہیں رہی اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180 رینکس میں پاکستان کا رینک 120 ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2019 میں پہلا نمبر حاصل کرنے والے ڈنمارک کا اسکور بھی ایک پوائنٹ کم ہو کر 87 رہا جب کہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کا انسداد بدعنوانی کا اسکور بھی کم رہا۔رپورٹ کے مطابق امریکا کا اسکور 2، برطانیہ، فرانس کا 4 اورکینیڈا کا انسداد بدعنوانی اسکور 4 درجہ ہوگیا جب کہ جی7کے ترقی یافتہ ممالک بھی انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کرپشن روکنے کے لیے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں سیاسی فنانسنگ کو کنٹرول کیا جائے، سیاست میں بڑے پیسے اور اثرورسوخ کو قابو کیا جائے، بجٹ اور عوامی سہولیات ذاتی مقاصد اور مفاد رکھنےوالوں کے ہاتھوں میں نہ دی جائیں۔سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ مفادات کے تصادم اور بھرتیوں کا طریقہ تیزی سے بدلنا قابو کیا جائے، دنیا بھر میں کرپشن روکنے کیلئے لابیز کو ریگولیٹ کیا جائے، الیکٹورل ساکھ مضبوط کی جائے اور غلط تشہیر پر پابندی لگائی جائے، شہریوں کو با اختیار کریں، سماجی کارکن، نشاندہی کرنے والوں اور جرنلسٹ کو تحفظ دیں، کرپشن روکنے کے لیے چیک اینڈ بینلنس اور اختیارات کو علیحدہ کیا جائے۔
https://dailypakistan.com.pk/23-Jan-2020/1082530?fbclid=I
wAR3-WhcDR5Pn1566Id2PgeIBM_aL5WWIOe
W-83CePuIWExJdpW2Wft6KNVk

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-22&edition=KCH&id=5010785_96450387

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-21&edition=KCH&id=5009112_62608731

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/21012020/p2-lhr015.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-20&edition=KCH&id=5007650_45074957

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-19&edition=KCH&id=5005417_79331452

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P1-LHR036.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P8-Lhr-036.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-17&edition=KCH&id=5003011_80429499

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-14&edition=KCH&id=4997802_30116592

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/P8-Lhr-018.jpg
ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی زیرقیادت نیب کی کارکردگی بہتر رہی، نیب پاکستان نے بدعنوان عناصر سے 153 ارب روپے نکلوائے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2019 میں زیادہ تر ممالک کی کرپشن کم کرنے میں کارکردگی بہتر نہیں رہی اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180 رینکس میں پاکستان کا رینک 120 ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2019 میں پہلا نمبر حاصل کرنے والے ڈنمارک کا اسکور بھی ایک پوائنٹ کم ہو کر 87 رہا جب کہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کا انسداد بدعنوانی کا اسکور بھی کم رہا۔رپورٹ کے مطابق امریکا کا اسکور 2، برطانیہ، فرانس کا 4 اورکینیڈا کا انسداد بدعنوانی اسکور 4 درجہ ہوگیا جب کہ جی7کے ترقی یافتہ ممالک بھی انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کرپشن روکنے کے لیے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں سیاسی فنانسنگ کو کنٹرول کیا جائے، سیاست میں بڑے پیسے اور اثرورسوخ کو قابو کیا جائے، بجٹ اور عوامی سہولیات ذاتی مقاصد اور مفاد رکھنےوالوں کے ہاتھوں میں نہ دی جائیں۔سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ مفادات کے تصادم اور بھرتیوں کا طریقہ تیزی سے بدلنا قابو کیا جائے، دنیا بھر میں کرپشن روکنے کیلئے لابیز کو ریگولیٹ کیا جائے، الیکٹورل ساکھ مضبوط کی جائے اور غلط تشہیر پر پابندی لگائی جائے، شہریوں کو با اختیار کریں، سماجی کارکن، نشاندہی کرنے والوں اور جرنلسٹ کو تحفظ دیں، کرپشن روکنے کے لیے چیک اینڈ بینلنس اور اختیارات کو علیحدہ کیا جائے۔
https://dailypakistan.com.pk/23-Jan-2020/1082530?fbclid=I
wAR3-WhcDR5Pn1566Id2PgeIBM_aL5WWIOe
W-83CePuIWExJdpW2Wft6KNVk

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-22&edition=KCH&id=5010785_96450387

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-21&edition=KCH&id=5009112_62608731

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/21012020/p2-lhr015.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-20&edition=KCH&id=5007650_45074957

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-19&edition=KCH&id=5005417_79331452

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P1-LHR036.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/18012020/P8-Lhr-036.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-17&edition=KCH&id=5003011_80429499

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2020-01-14&edition=KCH&id=4997802_30116592

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/P8-Lhr-018.jpg


No comments:
Post a Comment