امریکہ ایران تنازعہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی : صدر ٹرمپ کے جنرل سلیمانی پرعائد الزامات امریکی خفیہ ایجنسی نے ہی مسترد کر دیئے - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Monday, 13 January 2020

امریکہ ایران تنازعہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی : صدر ٹرمپ کے جنرل سلیمانی پرعائد الزامات امریکی خفیہ ایجنسی نے ہی مسترد کر دیئے



واشنگٹن (آئی این پی) امریکا کی خفیہ ایجنسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی پر لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق 3 جنوری کو امریکا نے بغداد میں میزائل حملہ کر کے القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ساتھیوں سمیت قتل کر دیا تھا۔امریکی صدر نے اپنی نیوز کانفرنس میں قاسم سلیمانی کو دنیا کا نمبر ون دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قاسم سلیمانی کی دہشت کا راج اب ختم ہو چکا، امریکی افواج نے ایک درست کارروائی میں انہیں قتل کیا۔

ٹرمپ نے الزام لگایا تھا کہ قاسم سلیمانی امریکی سفارت کاروں اور فوجی شخصیات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن ہم نے اسے پکڑ لیا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو امریکا کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مسترد کر دیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا علم نہیں کہ بغداد ائیرپورٹ پر حملے میں مارے گئے جنرل سلیمانی امریکا کے چار سفارتخانوں پر حملوں کی سازش کر رہے تھے۔اہلکاروں نے امریکی اخبار کو بتایا کہ صرف بغداد میں امریکی سفارتخانے کے خلاف سازش کا علم تھا لیکن وہ بھی غیر واضح تھا۔

https://dailypakistan.com.pk/13-Jan-2020/1077751?fbclid=IwAR3B2Z-I1E5UssvNr3X0y_F1ZhCu_3XfPRd3EtvuZLkG-TZNygykO74eDnk

تہران (صباح نیوز) میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکاکی معاونت کی تھی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے ہی امریکاکو تصدیق ہوئی کہ سلیمانی دمشق سے بغداد کس طیارے میں آرہے ہیں؟۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ایک مخبر نے شام سے اطلاع دی تھی کہ قاسم سلیمانی کس طیارے میں سوار ہوں گے جس کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس نے مخبر کی اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے اس اطلاع کی توثیق کی تھی۔نجی شامی ائیر لائن شام ونگز کے ائیربس اے 320 کے بغداد ائیر پورٹ پر پہنچنے کے بعد وہاں موجود امریکی جاسوسوں نے قاسم سلیمانی کی آمد کی اطلاع امریکی فوج کو دی جس کے بعد ہیلی فائر میزائلوں سے لیس 3 امریکی ڈرون ہدف کی جانب روانہ ہوئے اور باآسانی ہدف کو نشانہ بنایا۔اس دوران انہیں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیو نکہ عراق کی فضائی حدود مکمل طور پر امریکا کے زیراثر ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم امریکی کارروائی سے پیشگی آگاہ تھے۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی قاسم سلیمانی پر حملے سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی اور وہ خطے میں واحد رہنما تھے جو امریکا کی اس کارروائی سے آگاہ تھے۔خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے بغداد میں میزائل حملہ کرکے ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھاجس کے جواب میں ایران نے 8 جنوری کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوج کے دو ہوائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ایران کی جانب سے اس حملے میں 80 ہلاکتوں کا بھی دعوی کیا گیا تاہم امریکا نے اس حملے میں کسی بھی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔اس کے بعد 8 جنوری کو ہی امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کیا اور ایران پر مزید سخت پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ امن کی بھی پیشکش کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز بھی اپنی خصوصی رپورٹ میں یہ دعوی کرچکی ہے کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں امریکا کی مدد عراق اور شام میں موجود مخبروں نے کی۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر فوجیوں کے نام طیارے میں سوار مسافروں کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھے۔جنرل سلیمانی کے سیکیورٹی امور سے واقف ایک عراقی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سلیمانی اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر نجی طیارہ استعمال نہیں کرتے تھے۔بغداد ائیر پورٹ پہنچنے کے بعد عراقی ملیشیا گروپ کتائب حزب اللہ کے سربراہ ابو مہدی المہندس اور سلیمانی کی ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں وہاں موجود دو گاڑیوں میں سے ایک میں داخل ہوگئے جبکہ گارڈز دوسری گاڑی میں سوار ہوگئے۔ائیر پورٹ سے نکلنے کے بعد تقریبا رات 12 بجکر 55 منٹ پر امریکا کی جانب سے داغے گئے دو راکٹ اس گاڑی پر لگے جس میں سلیمانی اور مہندس بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ ہی سیکنڈز بعد دوسری گاڑی بھی راکٹ کا نشانہ بن گئی۔حملے کے چند منٹ بعد ہی عراقی تفتیش کاروں نے تحقیقات کا آغاز کردیا تھا جن کی تحقیقات کا مرکز ی نکتہ یہ تھا کہ امریکا کو سلیمانی کی پوزیشن کا پتہ کیسے چلا ؟سیکیورٹی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ عراق کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے تفتیش کاروں کو اس بات کے مضبوط اشارے ملے ہیں کہ بغداد ائیرپورٹ پر جاسوسوں کے نیٹ ورک نے حساس سیکیورٹی معلومات اور جنرل سلیمانی کی آمد سے متعلق امریکا کو آگاہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی تفتیش کاروں نے بغداد ائیرپورٹ کے دو سیکیورٹی اہلکاروں اور شام ونگز کے دو ملازمین کو شک کے دائرے میں لیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے بھی یہ بتانے سے معذرت کی ہے کہ آیا عراق اور شام میں موجود مخبروں نے سلیمانی کی ہلاکت میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/12-Jan-2020/1077344?
fbclid=IwAR1fnir
wRsB1MNisYeY8Z2mvn5p-qJVC5ypLJJ6itd
nrNlAXyaoWFckOWRY



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/p1-lhr028.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/p1-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/13012020/p1-lhr024.jpg

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا۔۔عمانی وزیر برائے مذہبی امور سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق عمران خان نے کہا پاکستان خطے میں ہونے والی کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔وہ صرف امن کا پارٹنر بنے گا۔

عمران خان نے کہا خطے میں تنازعات سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا،ایران سعودی تنازعات ختم کرنے کی کوششیں کیں، ایران اورامریکا کی کشیدگی بھی کم کرنے کااقدام کیا۔اعلامیہ کے مطابق عمانی وزیر مذہبی امور سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا پاکستان اور عمان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں جاری صورتحال سے بھی عمانی وزیر کو آگاہ کیااور مسلمانوں سمیت بھارت کی دوسری اقلیتوں سے متعلق بی جے پی کے انتہاپسند اقدامات پر بھی اپنی تشویش کااظہارکیا۔

واضح رہے کہ ایران نے ایران نے امریکا سے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے عراق میں موجود اس کے فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی ہے۔جس میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے مطابق اسی امریکی مارے گئے ہیں۔اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہے،ایران نے مزید کسی بھی کارروائی پر زیادہ بڑے حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے،جبکہ امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور دبئی پر حملوں کابھی عندیہ دیاہے۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075403?fbclid=IwAR3AGcWh69TajYL-yq5vyuTQH70j3GVP2TtCuOGRUuZ61-35wJgR5an6j5c

تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی اڈے پر پاسداران انقلاب کے حملے کے بعد ایران کے آرمی چیف جنرل محمد باقری کابیان بھی سامنے آگیا۔ایرانی آرمی چیف کے مطابق حملے کیلئے اسی وقت کا انتخاب کیاگیاجس وقت ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس ونگ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایاگیاتھا۔

جنرل محمد باقری کے مطابق یہ حملہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کی محض ایک جھلک ہے۔

ایرانی افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے دوبارہ کوئی حرکت کی تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیاجائے گا۔

انہوں نے کہا گزشتہ شب کی گئی کارروائی ایرانی فوج کی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک تھی۔ امریکی حکام کو چاہئے کہ وہ ایرانی صلاحیتوں کااعتراف کرلیں مناسب پالیسی اختیارکریں اورجلد از جلد اس خطے سے نکل جائیں۔

واضح رہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب فوج نے عراق میں موجود امریکا کے دوفضائی اڈوں کو نشانہ بنایاہے،اطلاعات کے مطابق امریکی اڈوں پر تیس کے قریب میزائل برسائے گئے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ اور سرکاری میڈیانے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں اسی امریکی ’دہشت گرد‘ بھی مارے گئے ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075398?fbclid=IwAR2fp4AAn0IoavNgnQ90Qfqk
VCrAAFHEmUvsffJad0hIRa8qSwSX_KrHyZY

بغداد (ڈیلی پاکستان آن لائن )عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے انکشاف کیاہے کہ ایران کی جانب سے پیغام موصل ہوا تھا جس میں قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب کا بتایا گیا تھا ، ایران نے کہا تھا کہ وہ صرف ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے جہاں پر امریکی فوجیں موجود ہیں ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے انکشاف کیاہے کہ ایران کی جانب سے پیغام موصول ہوا تھا جس میں قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب کا بتایا گیا تھا ، ایران کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ صرف ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے جہاں پر امریکی فوجیں موجود ہیں تاہم ان کی جانب سے جگہ کی معلومات نہیں دی گئی تھیں ، ایران کا پیغام ملتے ہی عراقی فوجیوں کو خبردار کر دیا گیا تھا ۔

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ جس وقت میزائل امریکی فوجی اڈوں عین الاسد اور ہریر پر گر رہے تھے تو امریکہ کی جانب سے بھی رابطہ کیا گیا تھا ، عراقی فوج یا امریکی اتحادی افواج کی جانب سے ہلاکتوں کی اطلاعا ت موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ،فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں ، بین الاقوامی قوانین اور عراقی ریاست کا احترام کریں ، یہ تباہ کن صورتحال عراق اور پوری دنیا میں جنگ کا باعث بن سکتی ہے ۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات ایران نے جنر ل قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں عراق میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر 2 2 بلیسٹک میزائل فائر کیے اور دعویٰ کیا ان حملوں میں 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امریکہ کو جنگی سازو سامان کی تباہی کا بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے تاحال نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے بغدادا یئر پورٹ پر ڈرون حملے کے دوران ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کر دیا تھا جبکہ ان کے ہمراہ عراق کے فوجی افسر بھی مارے گئے تھے جس کے بعد ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا ۔
https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075400?fbclid=IwAR1pF9YQBsDsKfdSAVOXTYall
z1h7sseTRZ2oDQWGfaKF5xw955hwmOjk34

مقبوضہ بیت المقدس(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کی جانب سے حملے کی دھمکی پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو بھرپورجواب دیا جائے گا۔نیتن یاہو نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دینی چاہئے۔

ایک تقریب سے خطاب میں نیتن یاہو نے الزام لگاتے ہوئے کہا قاسم سلیمانی بے شمار لوگوں کی ہلاکت کے ذمہ دار تھے۔امریکی صدرجنرل سلیمانی کیخلاف کارروائی پر مبارکباد دینی چاہئے۔نیتن کے مطابق ان کا ملک امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

واضح رہے کہ آج علیٰ الصبح ایران نے امریکا سے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے عراق میں موجود اس کے فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی ہے۔جس میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے مطابق اسی امریکی مارے گئے ہیں۔اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہے،ایران نے مزید کسی بھی کارروائی پر زیادہ بڑے حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے،جبکہ امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور دبئی پر حملوں کابھی عندیہ دیاہے۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075395?fbclid=IwAR31e532JPSQhAU_za1d48CdW
1IOpo6XbxF-PmRMggl28YcUxmM6KfTbj0A

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں گزشتہ شب عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر دھاوا بولا اور مجموعی طور پر 15 بلیسٹک میزائل فائر کیے اور دعویٰ کیاہے کہ حملے میں 80 افراد مارے گئے ہیں جبکہ امریکہ کا بھاری مقدار میں جنگی سامان بھی تباہ ہو گیاہے ۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈے عین الاسد کو نشانہ بنانے کیلئے 15 بلیسٹک میزائل فائر کیے ، حملوں میں استعمال کیے جانے والے بلیسٹک میزائل کا نام ” فتح 110“ ہے جوکہ زمین سے زمین پر 300 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر حملے کے بعد اپنے متعدد جنگی طیارے فضائی حدود کی نگرانی کرنے کیلئے تعینات کر دیئے ہیں جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جوابی حملہ نہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے ۔

ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی تصدیق پینٹا گان کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے اور جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ ایران کی دھمکیوں کے پیش نظر محکمہ دفاع کی جانب اپنے اہلکاروں اور شراکت داروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات کر لیے گئے تھے ، حملے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہاہے ۔ان ایئر بیسز کو ایرانی حملوں کے خدشے کے باعث ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا ۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075354?fbclid=IwAR27jK2QvU4ZzxQWCBfKn85V8i
7y0WTeXNbbiAUr141BCFHCi9ykAzHVkQQ

تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی پاسداران انقلاب کے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے پر کتنے افراد ہلاک ہوئے،ایرانی حکومت کی جانب سے اعدادوشمار جاری کردیئے گئے۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کے حملے میں اسی افراد مارے گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ عین الاسداوراربیل میں واقع امریکی ایئربیس پرمیزائل حملے کئے گئے جس میں اسی افرادہلاک ہوئے۔

ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق وہ ان ہلاکتوں کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں کرواسکا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں امریکی ہیلی کاپٹرز اور دیگر جنگی ساز و سامان بھی تباہ ہوا ہے۔

واضح رہے امریکا ایران کشیدگی کے باعث خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکیوں کے زیر استعمال فوجی اڈوں پر میزائل حملے کردیے ہیں جس کی تصدیق پنٹا گان کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حملہ پاسداران انقلاب کی جانب سے کیا گیا جس میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے درجنوں میزائل داغے گئے جب کہ حملے میں عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں عین الاسد،اربیل اور تاجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کا نشانہ بنائے جانے والے مقامات پر امریکی اور دیگر اتحادی ملکوں کے فوجی تعینات ہیں تاہم تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے بھی عراق میں امریکی فوج کے اڈے پرحملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا جس میں ایران نے عراق میں 2 فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زائد میزائل فائر کیے اور عین الاسد اور اربیل میں دو عراقی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی ریڈار دوران پرواز میزائلوں کابروقت پتاچلانے میں کامیاب رہے تھے جس کے باعث امریکی فوجی محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے تھے۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075350?fbclid=IwAR2PEHGkxKxgmFBWr0lmithMpp
AZU22dDwfwaGM0eieIBZs4y-DxGa3C1GQ





https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/06012020/p1-lhr023.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/07012020/P1-ISB-018.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/04012020/p1-lhr002.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/04012020/p1-lhr038.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/04012020/p1-lhr018.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P1-ISB-012.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P1-ISB-017.jpg

No comments:

Post a Comment