سائینس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں خوش آمدید جانیں بہت کچھ اس پوسٹ میں - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Wednesday, 23 February 2022

سائینس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں خوش آمدید جانیں بہت کچھ اس پوسٹ میں


طب میں غیر معمولی ترقی کے باوجود انسانی جسم میں اب بھی کئی نئے گوشے دریافت ہورہے۔ ان میں جبڑے کی اندر گہرائی میں ایک بالکل نیا پٹھا (مسل) دریافت ہوا ہے۔

جبڑے کے مشہور میسیٹر مسل کی گہرائی میں یہ پٹھا ایک ہموار پرت کی صورت میں دریافت ہوا ہے جواس نطام کا تیسرا پٹھا ہے۔ علمِ تشریحات (ایناٹومی) کے ماہرین نے بعض جانوروں اور انسانوں کا مطالعہ کرکے پہلے میسیٹر پٹھے کو دو بنیادی حصوں میں بیان کیا لیکن اب یہ تیسری گہری پرت دریافت ہوئی ہے اور اس دریافت پر ماہرین حیران ہیں۔

ایک زندہ اور دودرجن فوت شدہ انسانوں کے سروں کا مطالعہ کرکے سائنس دانوں نے اعلان کیا ہے کہ میسیٹر مسل درحقیقت تین حصوں پر مشتمل ہے۔ فی الحال اس کے لیے ایک طویل نام تجویز کیا گیا ہے جسے ’ مسکیولس میسیر پارس کورونائیڈیا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے سوئزرلینڈ کی یونیورسٹی آف بیسل کے سائنسداں زیلویا میزے اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا ہے۔

یہ پٹھا جبڑے کی ایک اہم ہڈی، مینڈیبل بون سے جڑا ہوا ملا ہے۔ یہ جبڑے کے نچلے حصے کو مستحکم رکھتا ہے۔ جامعہ بیسل کے ایک اور ماہری کرسٹوف ٹوئرپ نے کہا ہے کہ اس دریافت کے بعد ہم میسیٹر مسل کا دوبارہ گہرا مطالعہ کریں گے۔

تمام ماہرین متفق ہیں کہ یہ محض انسانی جبڑے میں ایک نئی پرت کا اضافہ نہیں بلکہ اس سے سرجری اور علاج کے نئے طریقے میں بھی مدد ملے گی۔
https://www.express.pk/story/2262554/508/



میڈیکل سائنس کا بڑا کارنامہ، ایڈز سے بچانے والا ٹیکہ تیار ، خواجہ سراؤں میں کتنا موثر رہا؟
Dec 25, 2021 | 20:15:PM
سورس: Pixabay

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ میں ایڈز سے بچانے والا انجیکشن تیار کرلیا گیا ہے ۔ امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے ایڈز سے بچاؤ کے انجیکشن کو منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایڈز سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے کا نام "ایپر یٹیوڈر " رکھا گیا ہے جو ایڈز کے خطرے سے دوچار افراد کو اس موذی مرض سے بچا سکتا ہے۔ اس انجیکشن کی پہلی دو خوراکیں ایک مہینے کے وقفے سے لگائی جائیں گی جب کہ اس کے بعد ہر دو مہینے میں ایک ٹیکہ لگانا پڑے گا۔

انسانوں پر آزمائش کے دوران اپیریٹیوڈر دو کے ٹیکے 4600 مردوں اور خواجہ سراؤں میں لگائے گئے۔ خواجہ سراؤں میں یہ دوا جنسی ملاپ کے دوران ایڈز سے بچاؤ میں 69 فیصد تک موثر ثابت ہوئی۔ دوسری آزمائش کے دوران 3200 خواجہ سراؤں کو یہ انجیکشن دیا گیا تو اس کی افادیت 90 فیصد رہی۔ ایپریٹیوڈر کے ایک انجیکشن کی قیمت 3700 ڈالر رکھی گئی ہے۔ ایک شخص کو اس کے چھ ٹیکے لگائے جائیں گے جن کی مالیت 22 ہزار 200 ڈالر بنے گی۔
https://dailypakistan.com.pk/25-Dec-2021/1382291?fbclid=IwAR3Xc4GcdzagiX0eC1XplM1HZm3_OOzeV0B-7kcphgE8-7cFaIrub76VNlI



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/12/26122021/p1-lhr029.jpg



اگرچہ ہمیں ایک یا دومنٹ کا وقفہ مل سکتا ہے لیکن سمندری زلزلے سے پیدا ہونے والی سونامی سے تھوڑی دیر قبل زمینی مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یوں ان تبدیلیوں کو نوٹ کرکے ہم سونامی کی پیش گوئی کرسکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ایک یا دو منٹ کا وقفہ بھی انسانی جانوں کو بچاسکتا ہے۔ اس کی بنا پر سونامی الرٹ اور وارننگ سسٹم کو بہتربنایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین یہ بات عرصے سے جانتے تھے لیکن سطح سمندر کی بلندی کے لحاظ سے مقناطیسی میدان میں کمی کا پہلی مرتبہ جائزہ لیا گیا ہے۔

جاپانی کی کیوٹو یونیورسٹی میں ارضی طبیعیات کے ماہر زائی ہینگ لِن نے کہا کہ مقناطیسی میدان میں تبدیلی اور سطح سمندر کی بلندی کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت ہوا ہے۔

ان کے مطابق نظری ڈیٹا، کمپیوٹر سیمولیشن اور حقیقی دنیا کے شواہد ایک ہی بات کو واضح کرتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے 2009ء میں ساموا کے علاقے کی سونامی اور 2010ء میں چلی کی سونامی کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ پانی کی بلند لہروں سے قبل ہی مقناطیسی امواج میں تبدیلی رونما ہوتی ہے جو سطح سمندر کے بلند ہوتے ہیں نمودار ہوتی ہے۔

تاہم اس کا انحصار زلزلے کے مرکز (ایپی سینٹر) کی گہرائی پر ہوتا ہے۔ تین میل (4800 فٹ) گہرائی سے ایک منٹ کا وقفہ مل سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے اگر لہروں کی بلندی چند سینٹی میٹر بھی بڑھتی ہے تو مقناطیسی میدان میں اس کی خبرمل جاتی ہے۔

اگر سمندری فرش پر زلزلے کی جگہ کی برقی کیفیات اور درست گہرائی معلوم ہوجائے تو اس سے پیشگوئی کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ زلزلے کا مرکز ساحلی آباد کے شور سے جتنا دور ہوگا، اتنا ہی اچھا ڈیٹا حاصل ہوسکے گا۔
https://www.express.pk/story/2263082/508/


کئی دہائیوں کی محنت اور اربوں ڈالر سے تعمیر کردہ تاریخ کی طاقت ور ترین خلائی دوربین ’’جیمز ویب‘‘ کو طویل انتظار کے بعد آخرکار خلا کے حوالے کردیا گیا۔

اسے انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے۔
پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے اسے آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا۔

اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کے مطابق 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا۔

ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔


ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سیکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی خلائی دوربین نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا تھا۔


دوسری جانب پورے مشن کے پلان بی اور متبادل منصوبے بھی بنائے گئے تھے۔ مجموعی طور پر سیکڑوں طریقوں سے یہ مشن ناکام ہوسکتا تھا۔


جیمزویب خلائی دوربین بیضوی مدار میں سورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔ خلاء کے انتہائی تاریک ماحول میں زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے ذریعے یہ کائنات کے ان دور دراز مقامات کو بھی دیکھ سکے گی جو اس سے پہلے کسی دوربین نے نہیں دیکھے۔

یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دور ہیں، یعنی ان سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے یعںی خود کائنات۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اوّلین ستارے بھی آج سے 13 ارب 70 کروڑ پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن اب تک کسی بھی دوربین سے انہیں دیکھا نہیں جاسکا۔ جیمس ویب خلائی دوربین ایسے ستاروں کو بھی دیکھ سکے گی۔

دوسری جانب اس سے خلا کی وسعتوں میں دوردراز زمین نما سیاروں کی کھوج میں بھی آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین نظارہ کراسکے گی اور ہم جان سکیں گے کہ اس وقت ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کی صورت کیا تھی۔

21 فٹ کا دوربینی آئینہ دور دراز کائنات کی روشنی کو جمع کرسکے گا اور ہمیں قدیم کائنات کا نظارہ کرائے گا۔ خلا کا ماحول زمین آلودگی اور بادلوں وغیرہ سے پاک ہوتا ہے اور اسی لیے یہ دوربین ہمیں کائنات کا ان دیکھا نظارہ کراسکے گی۔

واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں کسی دوربین میں لگائے گئے یہ سب سے بڑے آئینے بھی ہیں۔ 14 ممالک کے سائنسداں، انجینیئر اور سافٹ ویئر ڈیزائنر نے اس منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن بار بار یہ منصوبہ تکنیکی خامیوں، ٹیکنالوجی کی کمی اور وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا۔

جیمز ویب کا تعارف

جیمز ویب ناسا کے دوسرے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے ناسا کے قمری مشین میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے لیے بنیادی خدمات بھی انجام دیں۔ جیمزویب کی حکمتِ عملی ایک عرصے تک ناسا کی ترقی کی ضامن رہی اور 27 مارچ 1992ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
https://www.express.pk/story/2263298/508/



اگرچہ اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کا باہمی تعلق ہوتا ہے لیکن اب میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے چاند کی تسخیر و تحقیق کے لیے ایک اڑن طشتری کا تصور پیش کیا ہے۔

یہ اڑن طشتری کسی سائنس فکشن فلموں کی طرح برقِ سکونی دھکیل قوت (الیکٹرواسٹیٹک ریپلشن) کے تحت چند پر کسی سائے کی طرح منڈلاتی رہے گی۔ بہت ہموار انداز میں یہ وہاں تحقیق کرسکے گی۔ وجہ یہ ہے کہ چاند پر کوئی حفاظتی فضا موجود نہیں اور اسی لیے وہاں سورج کا پلازمہ اور بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) شعاعیں بوچھاڑ کی شکل میں گرتی رہتی ہیں۔

اس طرح چاند کی سطح پر مثبت چارج ہوتا ہے جو ایک ہلکی پھلکی اڑن طشتری کو ایک میٹر تک بلند کرسکتا ہے۔ عین اسی طرح ہم پلاسٹک کے ٹھوس ٹکڑے سے کاغذ کشش کرتے ہیں اور ہمارے بال بھی کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اس طرح اڑن طشتری کسی گلائیڈر کی طرح اڑتی رہتی ہے۔ خیال ہے کہ اگر اڑن طشتری کے نیچے مائلر نامی مٹیریئل لگایا جائے تو اس پر مثبت چارج جمع ہوگا۔ اس طرح چاند کی سطح اور خود اڑن طشتری کی نچلی سطح کے مثبت چارج ایک دوسرے کو دفع کریں گے اور یہ ہوا میں معلق رہے گی۔

اب بھی خیال ہے کہ چاند کی ثقل اسے دوبارہ نیچے گراسکتی ہے جسے دور کرنے کے لیے اڑن طشتری کے اندر ہی مثبت چارج خارج کرنے والا ایک نظام بھی لگایا جائے جو اسے اٹھا سکے گا۔ اس کے لیے خاص تھرسٹر اور نوزل لگائے جائیں گے۔

اس کی افادیت کے لیے ایک ہتھیلی نما ماڈل آزمایا گیا جس کا وزن 60 گرام تھا۔ اسے ایک ویکیوم چیمبر میں لٹکایا گیا جہاں چاند جیسا ماحول پیدا کیا گیا تھا ۔ اس ماحول میں ماڈل ہوا میں معلق رہا جو اس ڈیزائن کے قابلِ عمل ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2262985/508/



فرش پر چلنے والے انسان نما (ہیومینوئڈ) روبوٹ تو آپ نے دیکھے ہوں گے اب سائنسدانوں نے ایسے انسان نما روبوٹ پر کام شروع کردیا ہے جو سپرمین کی طرح ہوا میں پرواز کرسکے گا۔

اٹالین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے مطابق انسانی جسامت کے روبوٹ کو اڑان کے دوران کنٹرول کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے پنکھڑیوں یا تھرسٹر کے پورے نظام کو سمجھنا ضروری ہوگا تاہم اس کے لیے جدید ترین سینسر بنائے گئے ہیں جن کی بدولت اس روبوٹ کی اڑان کے دوران مختلف کیفیات اور ضروریات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

آئی آئی ٹی میں مصنوعی ذہانت اور مکینکل انٹیلی جنس لیبارٹری کے سربراہ نے اس پر 2016ء سے کام کیا ہے۔ آتشزدگی اور زلزلوں جیسی آفات میں وہ انسان نما مددگار روبوٹ بنانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی طرح پرواز کرکے وہاں تک پہنچ جائیں اور امداد اور تلاش میں مدد دیں۔


اب ان کا نیا انسان نما روبوٹ زمین پر چلتا ہے اور مستقبل میں ایک عمارت سے دوسری تک پرواز بھی کرسکے گا۔ اس کے علاوہ حادثات کے مقامات پر دروازہ کھولنے، بجلی اور گیس کے سوئچ بند کرنے اور بچ جانے والے افراد کو تلاش کرنے کا ذمہ بھی اسی کے سر ہوگا۔

ایک انسان نما روبوٹ آئی کب بنایا گیا تھا اس بات سے قطع نظر روبوٹ کو اب پرواز کے قابل کیا جارہا ہے اور اس کا نام بدل کر آئرن کیوب کردیا جائے گا۔ انجینیئروں کا اصرار ہے کہ پرواز کا جو بھی نظام ہو وہ ’سینٹروئڈل موومنٹ‘ پر مبنی ہو تاکہ مشینی انسان کو ہر ماحول میں اڑایا جاسکے۔

پہلے مرحلے میں آئرن کیوب روبوٹ میں جیٹ انجن لگا کر اس کی آزمائش کی گئی ہے لیکن ابھی چند فیچر ہی آزمائے گئے ہیں لیکن جیٹ تھرسٹر سے 700 درجے سینٹی گریڈ تک گرمی پیدا ہوتی ہے جو روبوٹ کو تیز تو اڑاسکتی ہے لیکن اسے کنٹرول کرنا قدرے مشکل ہوجائے گا۔
https://www.express.pk/story/2262283/508/



امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ( ایف ڈی اے ) نے دنیا کے پہلے انجیکشن کی اجازت دیدی ہے جو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکتا ہے اور ایڈز کے مرض کے شکار ہونے سے بچاسکتا ہے۔

اس کا بنیادی نام ایپریٹیوڈ رکھا گیا ہے جو ایچ آئی وی کے خطرے سے دوچار افراد کو اس موذی مرض سے بچاسکتی ہے۔ یوں وائرس سے بچانے والی ٹریووادا اور ڈیسکووی جیسی دوا کو روزانہ کھانے کی مشقت کم ہوجائے گی۔ یہ گولیاں جنسی عمل سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو 99 فیصد روکتی ہیں۔

منظور شدہ انجیکشن کی پہلی دو خوراکیں ایک مہینے کے وقفے سے لگائی جاتی ہیں ۔ اس کے ہردوماہ بعد ایک ٹیکہ لگانا پڑتاہے۔

اس طریقہ علاج کو پری ایکسپوژر پروفائلیکسس کہا جاتا ہے اور صرف امریکہ میں ہی ایسے 12 لاکھ افراد ہے جو ابھی تو ایچ آئی وی کے جال میں نہیں آئے لیکن وہ جنسی طور پر اس کے گرفتار ہوسکتے ہیں ۔ ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا کہ ایپریٹیوڈ انجیکشن نے دوا کے مقابلے میں قدرے زیادہ تاثیر دکھائی۔

پہلی آزمائش میں 4600 نارمل مردوں اور ٹرانس جینڈر خواتین کو یہ ٹیکے لگائے گئے۔ ٹرانس جینڈر خواتین کا مردوں سے جنسی ملاپ عام معمول تھا۔ ان میں ایپریٹیوڈ کا ٹیکہ 69 فیصد تک مؤثر ثابت ہوا۔ پھر دوسری آزمائش میں مزید 3200 ٹرانس جینڈر خواتین کو یہ انجیکشن لگایا گیا تو ایچ آئی وی سے 90 فیصد بچاؤ سامنے آیا۔
انجیکشن کی ایک خوراک کی قیمت 3700 ڈالر ہے جبکہ چھ ٹیکوں کی کل قیمت 22200 ڈالر ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2262704/9812/



روس امریکا اور چین کا قاتل روبوٹس کی پیداوار میں مقابلہ نوعِ انسانی کیلئے شدید خطرے کا باعث بن چکا ہے۔ اس بات کا خدشہ عالمی سطح پر ماہرین نے ظاہر کیا ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق انسانی وجود کے خاتمے کی وارننگ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب اقوام متحدہ قاتل روبوٹس پر پابندی لگانے کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کرپائی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی مالک بااختیار قاتل مشینوں پر عالمی طاقتیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کررہی ہیں جو خود سے اپنے ہدف کو ڈھونڈ کر اسے موت کے گھاٹ اتارنے کی اہل ہونگی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ترک ساختہ کامیکیز نامی ڈرون نے لیبیا میں دنیا کا پہلا خودکار قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ لیکن ماہرین اس ٹیکنالوجی کو لیکر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ساری توجہ قاتل مشینوں کی ترقی پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے اس کے خطرات نظرانداز ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں مہلک خودکار اصلحہ سسٹم (LAWS) پر پابندی کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا اور 120 میں سے متعدد ممالک بشمول نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور برازیل نے پابندی کی حمایت کی تھی۔

ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل لچکدار بیٹریوں کا ہی ہوگا۔ اس ضمن میں میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی ) کے ماہرین نے ایک دھاگہ نما بیٹری بنائی ہے جو 140 میٹرطویل ہے اور اس کی کامیاب آزمائش بھی کی گئی ہے۔ اس س قبل انہوں نے 20 میٹر طویل دھاگہ بیٹری بنائی ہے۔

اب کمپیوٹر اور برقی آلات ہمارے جسم کا حصہ یوں بن چکے ہیں کہ اب انہیں برقی پہناوے ’ویئرایبل‘ کہا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی طرح لباس میں بیٹری سی دی جائے یا بیٹری کو لچکدار بنایا جائے۔ اس قسم کی پہلی بیٹری 2014 میں بنائی گئی تھی جسے کسی بھی کپڑے کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔

ایم آئی ٹی کے ماہرین نے دھاگے نما بیڑی لیتھیئم سے ہی بنائی ہے اور وہ چارج بھی کی جاسکتی ہے۔ انہیں مختلف سینسر، ویئرایبلز، کمپیوٹراور دیگر آلات کے لیے کامیابی سے آزمایا جاسکتا ہے۔ اس کی تحقیق جرنل میٹریئل میں شائع ہوئی جس پر پی ایچ ڈی کرنے والے 10 اسکالروں نے کام کیا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ ریشوں سے بنی بیٹری موڑی، دھوئی اور نچوڑی بھی جاسکتی ہے اور اسے بار بار چارج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل دھاگےنما بیٹری سے ایل ای ڈی اور دیگر اقسام کے سینسر چلائے گئے تھے۔ سائنسدانوں نے لیتھیئم کو دیگر مٹیریئرل کے ساتھ ملاکر اس کا تار بنایا ہے جبکہ بیرونی کوٹنگ کو بطورِ خاص واٹرپروف اور مضبوط بنایا گیا ہے۔ بیٹری کی لمبائی کی کوئی حد نہیں بلکہ اسے ایک کلومیٹر طویل بھی بنایا جاسکتا ہے۔

اس کےالیکٹروڈ (برقیرے) جیل پرمشتمل ہے اورمکمل طور پر فائر پروف بھی ہیں۔ تجرباتی طور پر 140 میٹر طویل دھاگہ بیٹری میں 123 می ایمپیئر آور بجلی جمع کی جاسکتی ہے۔ اس سے اسمارٹ واچ اور فون آسانی سے چارج کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح ایک دھاگہ بیٹری سے کئی آلات بھی چلائے جاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دھاگہ بیٹری کو تھری ڈی پرنٹر سے بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔

تجرباتی طورپردھاگہ بیٹری کو ایک زیرِآب ڈرون پر لپیٹا گیا ہے اور اس کی برقی قوت سےڈرون کو کامیابی سے چلایا گیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2261741/508/



سنگاپور سٹی: بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ پٹی لگنے کے باوجود بار بار ان کی خبرگیری کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ ناسور بن سکتے ہیں۔ اب اس کے لیے ایک اسمارٹ پٹی بنائی گئی ہے جو صرف پندرہ منٹ میں اس کا مکمل احوال پیش کرسکتی ہے۔

سنگاپورنیشنل یونیورسٹی نے اسمارٹ بینڈیج کو زخم کا سینسر بھی کہا ہے جسے ایک ایپ کے ذریعے حقیقی وقت مین اس کا ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بدولت نہ بھرنے والے زخموں اور ناسور کی بحالی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ صرف 15 منٹ میں یہ زخم میں موجود بیکٹیریا اور جراثیم کی اقسام، درجہ حرارت، پی ایچ، اور اندر سوزش (انفلیمیشن) کے عناصر کو بھی نوٹ کرسکتی ہے۔ اس کی ساری تفصیلات ایپ تک حقیقی وقت میں پہنچتی رہتی ہے۔


وی کیئرنامی یہ پٹی ڈاکٹروں کو فوری طور پر مفید معلومات دیتی ہے جس کی بنا پر وہ ناسور کے علاج کا درست فیصلہ کرسکتے ہیں۔ زخم ٹھیک نہ ہونے سے خود مریض پریشان، تکلیف میں گرفتار اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ پھر ذیابیطس کے زخم سے خود ہاتھ یا پیر کاٹنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔

جدید ترین بینڈیج میں نصب حساس سینسر زخم کے مائع کو اپنے اندر سموکر زخم کی تیزابیت اور درجہ حرارت کے علاوہ دیگر بایومارکرز بھی نوٹ کرتے ہیں۔ یہ زخم کی جسامت نوٹ کرکے فوری طور پر ایپ کو آگاہ کرتا ہے۔ اس کے اندر موجود بیٹری کو بار بار ریچارج کیا جاسکتا ہے۔

کورونا وبا کے تناظر میں اسمارٹ زخم پٹی کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے کیونکہ لوگ ہسپتال جانے سے کتراتے ہیں اور گھر میں ان کے زخم کا معائنہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس طرح خود مریض بھی اپنے ناسور کا جائزہ خود لے کر مزید تکالیف سے بچ سکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2261814/9812/



اینتھریکس ایک زہریلا اور جان لیوا مادّہ ہے جو ایک خطرناک جرثومے سے خارج ہوتا ہے، لیکن اب چوہوں پر گئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے کئی طرح کے درد اور تکالیف کی جاسکتی ہیں۔

بیسیلس اینتھریسِس نامی ایک خردبینی جرثومہ مٹی اور دیگر جانداروں میں پایا جاتا ہے۔ چھوٹی سلاخ نما شکل کے یہ بیکٹیریا سانسوں کے جان نیوا انفیکشن میں مبتلا کرکے ایک تندرست انسان کو گھنٹوں میں مار سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اینتھریکس کو دنیا کے خطرناک ’’حیاتیاتی ہتھیاروں‘‘ (بایولاجیکل ویپنز) میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اینتھریکس کے زہریلے مرکبات تکلیف کے سگنل کو تبدیل کردیتے ہیں جس سے اذیت ناک درد بھی کم یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ مرکزی اعصابی نظام پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ یہ تحقیق ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کی تفصیلات 20 دسمبر کو شائع ہوئی ہیں۔

ماہرین نے اینتھریکس کے زہر کو تھوڑا بدل کر مختلف سالمات پر رکھ کر درد کا ا حساس دماغ تک پہنچانے والے اعصابی خلیات (نیورونز) پر آزمایا۔ اس طرح نیورون سے اعصابی سگنلز کا راستہ بدل گیا اور درد میں کمی واقع ہونے لگی۔ اس سے قبل کینسر تھراپی کےلیے بھی اینتھریکس کی تبدیل شدہ کیفیت کو استعمال کیا گیا تھا۔

البتہ درد کش دوا کے طور پر ابھی یہ طریقہ صرف ابتدائی درجے میں ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے اعصابی اور امنیاتی نظاموں میں خردبینی جانداروں (خرد نامیوں) کے کردارپرغور ضرور کیا ہے تاہم انسانوں پر آزمائش ابھی بہت دور ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہے کہ اینتھریکس سے احساس والے نیورون سُن ہوجاتے ہیں۔ یہ عصبیے گینگلیا میں ہوتے ہیں جہاں سے درد کے سگنل خارج ہوتے ہیں اور ہمیں بے چین کردیتے ہیں۔ لیکن اینتھریکس بیکٹیریا کے پروٹین ایک پیچیدہ طریقے سے سگنل کے پورے نظام کو تبدیل کرتے ہیں۔ اس طرح تکلیف کا احساس بہت کم بلکہ تقریباً ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔

چوہوں کے بعد پیٹری ڈش میں انسانی دماغی خلیات پربھی اینتھریکس کی آزمائش کی گئی ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2261420/9812/



نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر ناسا نے جونو خلائی جہاز بھیجا تھا جس نے اب مشتری اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند جینی میڈ کی آواز ریکارڈ کی ہے۔

بلاشبہ یہ آوازیں عجیب و غریب ہیں جس کی ریکارڈنگ آپ نیچے سن سکتے ہیں۔ مشتری ہویا اس کے عجیب و غریب چاند ہوں، انہیں ہمارے نظامِ شمسی کے حیرت انگیز اجسام میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے 5 اگست 2011 کو جونو خلائی مشین زمین سے روانہ کیا اور وہ مشتری کی قطبی مدار میں جولائی 2016 تک پہنچ گیا تھا۔

اگرچہ اسے بطورِ خاص مشتری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس سال 7 جون کو یہ جینی میڈ کے بہت قریب پہنچا اور چاند کی مقناطیسی، برقی اور مقنا فضائی (میگنیٹواسفیئر) خصوصیات نوٹ کیں تاہم ایک مقام پر اس کا حساس مائیک کھولا گیا اور اس نے جینی میڈ کی بہت عجیب و غریب آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

’ یہ ریکارڈنگ سن کر آپ خود کو جونو کے ساتھ سفر کرتا محسوس کریں گے۔ آواز میں اچانک بلند اور کم فری کوئنسی کی آوازیں خارج ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی مقناطیسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہی ہے جو صاف سنی جاسکتی ہے،‘ سائنسداں اسکاٹ بولٹن نے کہا جو اس پروگرام کے مرکزی سائنسداں بھی ہیں۔

تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے ہم نے یہ ڈیٹا محض تفریح کے لیے جاری کیا ہے کیونکہ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ دیگر سیاروں کے چاند اور خود نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند کی اندرونی آواز کیسی سنائی دیتی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2261264/508/



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2021/12/21122021/P3-Lhr-020.jpg



انسان کی طویل عمر کیلئے سائنسدان کل کون سا تجربہ کرنے جا رہے ہیں؟ دلچسپ خبر آگئی
Dec 20, 2021 | 19:20:PM
سورس: Pixabay.com (creative commons license)

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) طویل اور صحت مند زندگی کی خواہش ہر کسی کو ہوتی ہے اور سائنسدانوں نے اس خواہش کی تکمیل کی جستجو میں ایک ایسا کام کر رہے ہیں کہ سن کر آپ مبہوت رہ جائیں گے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق سائنسدان ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں لیبارٹری میں تیارکردہ انسانی پٹھوں کے خلیے خلاءمیں چھوڑے جائیں گے۔

سائنسدان انسانی پٹھوں کے خلیات تیار کرکے ان کی پیکنگ بھی کر چکے ہیں اور انہیں کل بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ اس پراجیکٹ کو ’مائیکرو ایج‘ (MicroAge)کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مصنوعی خلیے چاول کے دانے کے سائز کے ہیں اور انہیں پنسل گھڑنے والے شارپنر کے سائز کی ڈبیوں میں بند کیا گیا ہے۔ان ڈبیوں کو امریکی ریاست فلوریڈا سے خلاءمیں بھیجا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس پراجیکٹ پر 12لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 28کروڑ 44لاکھ روپے)لاگت آئے گی اور اس کی فنڈنگ برطانوی خلائی ایجنسی کر رہی ہے۔یونیورسٹی آف لیورپول کے پروفیسر میلکولم جیکسن کا کہنا ہے کہ ان خلیوں کو خلاءمیں لیجا کر بجلی کے ذریعے ایک پراسیس سے گزار ا جائے گا جس سے ان میں سکڑاﺅ آئے گا۔ اس تجربے میں یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ جب انسان عمر رسیدہ ہوتا ہے اور اس کی بافتوں اور پٹھوں کے خلیے سکڑتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔اس سوال کا جواب پا کر اس کے تدارک کی کوشش کی جائے گی ، جس کی کامیابی کی صورت میں ہم عمر رسیدگی کے عمل کو سست کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Dec-2021/1380266?fbclid=IwAR0YmUsFM_wcqE7uSHm6v9hVxuveSH1rjwe0o44GOL1gHqJV6p1KGnv9NO4



امریکا کی آئی بی ایم اور جنوبی کوریا کی سام سنگ نے مشترکہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایسے ’کثیرالمنزلہ‘ مائیکروپروسیسر ڈیزائن کرلیے ہیں جن میں انسانی ناخن جتنی جگہ پر 50 ارب ٹرانسسٹرز سمودیئے گئے ہیں۔

مائیکروپروسیسرز کی دنیا میں یہ جدید ترین ٹیکنالوجی ہے جس میں تین اہم خصوصیات ایسی ہیں جو آج تک کسی مائیکروچپ میں موجود نہیں:

پہلی یہ کہ اس کے ذریعے صرف 2 نینومیٹر (یعنی ایک میٹر کے پچاس کروڑویں حصے) جتنے چوڑے ٹرانسسٹرز بنائے جاسکتے ہیں۔ یعنی ان ٹرانسسٹرز کی چوڑائی، ڈی این اے کی لڑی سے بھی کم ہوتی ہے۔

اس وقت مارکیٹ میں جتنے بھی مائیکروپروسیسرز دستیاب ہیں، ان سب میں ٹرانسسٹرز کی چوڑائی 7 نینومیٹر ہوتی ہے۔

2 نینومیٹر چوڑائی کے باعث، نئے مائیکروپروسیسرز میں انسانی ناخن جتنے رقبے پر 50 ارب ٹرانسسٹرز والے سرکٹس بنانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔


دوسری اہم خاصیت یہ ہے کہ روایتی مائیکروپروسیسرز کے مقابلے میں یہ نئے مائیکروچپس صرف 25 فیصد بجلی استعمال کرتے ہیں۔
یعنی اگر انہیں اسمارٹ فونز میں استعمال کیا جائے تو وہ صرف ایک مرتبہ چارج کرنے پر پورے ہفتے تک کام کرتے رہیں گے۔

نئے مائیکروچپس کی تیسری سب سے اہم خاصیت ان کا ’کثیرالمنزلہ‘ ہونا ہے۔ مطلب یہ کہ ان میں ٹرانسسٹرز کو اس طرح سے اوپر تلے جمایا گیا ہے کہ پروسیسر میں بجلی کا بہاؤ دائیں بائیں اور آگے پیچھے کے علاوہ اوپر اور نیچے کی طرف بھی ہوتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی پر پچھلے بیس سال سے کام ہورہا تھا اور اب کہیں جا کر کوئی اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اپنی اسی خاصیت کی بناء پر اسے ’’ورٹیکل ٹرانسپورٹ فیلڈ ایفیکٹ ٹرانسسٹرز‘‘ (VTFET) کا نام دیا گیا ہے جبکہ مائیکروپرسیسر کی رفتار بڑھانے اور بجلی کا خرچ کم کرنے میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔

آئی بی ایم نے ’وی ٹی ایف ای ٹی‘ آرکٹیکچر استعمال کرتے ہوئے آزمائشی مائیکروچپس بھی بنالیے ہیں اور اس بارے میں ایک ویڈیو بھی یوٹیوب پر اپ لوڈ کی ہے:

ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف کمپیوٹر اور اسمارٹ فونز ہی نہیں بلکہ طبّی آلات اور انٹرنیٹ آف تھنگس (IoT) سمیت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آجائے گا۔

فی الحال وی ٹی ایف ای ٹی مائیکروچپس کو فروخت کےلیے پیش کرنے کی تاریخ اور ان کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم امید ہے کہ اس بارے میں بھی جلد ہی معلومات منظرِ عام پر آجائیں گی۔
https://www.express.pk/story/2261219/508/



5G نیٹ ورکس سے تحفظ فراہم کرنے کی دعویدار اشیاء مثلاً گلے کے ہار یا بریسلٹ وغیرہ انتہائی ریڈیائی لہروں کی حامل قرار دی گئی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق ڈچ اتھارٹی برائے جوہری ہتھیاروں اور تابکاری سے تحفظ (اے این وی ایس) نے ایسی 10 مصنوعات کے بارے میں وارننگ جاری کی ہے جو انسانوں کیلئے نقصان دہ خطرناک تابکاری شعاعوں کی حامل ہیں۔

اتھارٹی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی مصنوعات ہرگز نہ پہنیں جنہیں طویل مدت تک استعمال کیا جائے تو صحت کے اعتبار سے اس کے نقصانات شدید ہوں۔ مصنوعات میں انرجی آرمر، گلے میں پہنے جانے والے مخصوص ہار اور بریسلٹ شامل ہیں۔

تاہم یہ خیال رہے کہ 5 جی نیٹ ورکس کے نقصانات سے متعلق ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق 5 جی نیٹ ورک بے ضرر ہے اور بنیادی طور پر موجودہ 3 جی اور 4 جی نیٹ ورکس سے مختلف نہیں ہے۔
https://www.express.pk/story/2260780/508/



نانیانگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (این ٹی یو) سنگاپور کے انجینئروں نے کاغذ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی پتلی بیٹری ایجاد کرلی ہے جو ایک چھوٹے پنکھے کو 45 منٹ تک چلا سکتی ہے۔

اس پروٹوٹائپ بیٹری کی موٹائی صرف 0.4 ملی میٹر، یعنی دو انسانی بالوں کی موٹائی جتنی ہے؛ جبکہ اس کا رقبہ محض 4 مربع سینٹی میٹر ہے۔

مذکورہ بیٹری کی تیاری میں ایک خاص ہائیڈروجل والا سیلولوز کاغذ استعمال کیا گیا ہے جس کے دونوں طرف زنک برقیرے (الیکٹروڈز) پرنٹ کیے گئے ہیں۔
زنک الیکٹروڈز میں سے بجلی گزرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کےلیے ان پر سونے کا بہت ہی باریک ورق بھی چڑھایا گیا ہے۔
لچک دار ہونے کی وجہ سے جب اس بیٹری کو موڑا جاتا ہے تو اس وقت بھی یہ اپنا کام جاری رکھتی ہے اور متاثر نہیں ہوتی۔

اس کے علاوہ، ضرورت پڑنے پر اس بیٹری کو کاٹ کر مطلوبہ جسامت میں بھی لایا جاسکتا ہے۔
یہ ماحول دوست بھی ہے اور استعمال کی مدت پوری ہوجانے کے بعد اسے مٹی میں دبایا جاسکتا ہے جہاں یہ چند مہینوں میں تحلیل ہو کر بالکل ختم ہوجاتی ہے؛ اور اس سے مضر مادّے بھی زمین میں شامل نہیں ہوتے۔

نوٹ: اس پروٹوٹائپ کاغذی بیٹری کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2259943/508/



چند روز قبل ناسا نے ایک تاریخی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلی بار انسان کی بنائی ہوئی کسی شے نے سورج کی فضا کے اندر کا سفر کیا ہے۔ ناسا نے مشہور پارکر سولر پروب کے متعلق کہا تھا کہ یہ سورج کو چھونے والا پہلا خلائی جہاز بھی ہے۔

پارکر نے سورج کے ایک بڑے راز پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ آخر اس کی فضا شمسی سطح سے زیادہ گرم کیوں ہے؟ پھر سائنس دانوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سورج کی سطح سے اوپر بالائی فضا میں مسلسل حرکت میں ایک غیر مرئی رکاوٹ یا سرحد ہے جسے ایلف وین پوائنٹ کا نام دیا گیا ہے۔

خیال ہے کہ اس نقطے کے آگے عجیب وغریب طبعی مظاہر ہیں یعنی مختلف عناصر مختلف انداز میں گرم ہوتے ہیں۔ پارکر تحقیق کے بعد ناسا نے اس پر تین مقالے بھی لکھے ہیں۔


اس سال اپریل میں پارکر سورج کی فضا میں جاپہنچا جسے کورونا کا نام دیا گیا ہے لیکن خیال رہے کہ یہ مقام بھی سورج سے 81 لاکھ میل دوری پر واقع ہے۔

کم سے کم فاصلے کی بات کی جائے تو پارکر سورج سے 65 لاکھ میل کی قربت تک پہنچا ہے۔ یہاں سورج کی ناموافق فضا اور خوفناک گرمی سے بچانے کے لیے اس پر خصوصی حفاظتی پرت (شیلڈ) لگائی گئی ہے۔

پارکر خلائی جہاز نے بتایا کہ سورج کی فضا مسلسل ہموار نہیں اور اس میں نشیب و فراز ہیں۔ دوسری جانب اس نے تیز شمسی جھکڑ کے ایک ماخذ (سورس) کا بھی اشارہ دیا ہے جنہیں ’سوئچ بیکس‘ کہا گیا اور دوم ایک طرح کا جعلی فضائی اسٹریمر دریافت کیا ہے جسے سوڈواسٹریمر پکارا گیا ہے۔

سوئچ بیک چارج والے ذرات کی ایک بوچھاڑ ہے جو سورج پر زگ زیگ کی صورت میں سفر کرتی ہے۔ سوڈو اسٹریمر ایک بڑی گیسی ساخت ہے جو کورونا میں رہتے ہوئے آگے اور پیچھے گردش کرتی رہتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2260028/508/



ایک کمپنی کے مطابق اگر دیوہیکل بحری جہازوں پر بادبانی کشتیوں کی طرح ہوا میں معلق پتنگ لگائی جائے تو اس سے ایندھن میں بچت ہوسکتی ہے۔ اس طرح بادی قوت کا کچھ حصہ جہاز کو دھکیل کر ایندھن پر انحصار کم کرسکتا ہے۔

اب ایئرسیز نامی کمپنی نے ایئربس کارگو شپ پر اس کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ فرانسیسی کمپنی کی اس اختراع کو اگلے ماہ ازمایا جائے گا جس میں مختلف ڈیزائن کے چھوٹے بڑے بادبانوں کو مال بردار جہازوں پر نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق اس سے ایندھن کی 20 فیصد بچت کے ساتھ ساتھ مضر گیسوں کا اخراج بھی کم ہوگا۔ اگلے ماہ تین کروڑ امریکی ڈالر والے 150 فٹ بحری جہاز پر اکیسویں صدی کا بادبان لگایا جائے گا۔ یہ جہاز ایئربس طیاروں کے بڑے حصے لے کر مختلف ممالک کے پلانٹس تک پہنچاتا ہے۔

پیرفوائل پتنگ کا رقبہ 500 مربع میٹر ہے جو عرشے سے باندھی جائے گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے سرگرم کرنے والا پورا سسٹم خودکار ہے۔ یعنی یہ بادبان خود کھلتا ہے آگے بڑھتا ہے اورہوا کے دوش پر سطح آب سے 200 میٹر کی بلندی تک جاپہنچتا ہے۔

اس کی جانچ کا پورا نظام بھی خودکار ہے جسے چند روز میں بڑے سے بڑے بحری جہاز پر آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2260167/508/



سائنسدانوں نے بالآخر مریخ پر پانی ڈھونڈ لیا لیکن اس کا ذخیرہ کتنا بڑا ہے؟ بڑی کامیابی مل گئی
Dec 16, 2021 | 18:54:PM

سورس: Pixabay.com (creative commons license)

برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدان بالآخر مریخ پر پانی تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ میل آن لائن کے مطابق یورپین سپیس ایجنسی اور روسی روسکوزموس ایجنسی نے باہمی اشتراک سے2016ءمیں ’دی ایگزومارس ٹریس گیس آربٹر‘ (The ExoMars Trace Gas Orbiter)نامی مشن مریخ پر بھیجا تھا جس نے مریخ پر پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مریخ پر دریافت ہونے والا پانی کا یہ ذخیرہ 2400میل کے رقبے پر محیط ہے اور مریخ کی سطح سے محض 3فٹ کی گہرائی میں موجود ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پانی کے اس ذخیرے کا سائز یورپی ملک نیدرلینڈز کے برابر ہے۔ یہ پانی برف کی شکل میں موجود ہے۔

سپیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف دی رشین اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر الیگزے مالاکوف کا کہنا ہے کہ ”پانی کا یہ ذخیرہ ہماری توقع سے کہیں بڑا ہے۔ مریخ کا یہ خطہ اور پانی کا ذخیرہ زمین کے ان خطوں سے مشابہہ ہے جن کے نیچے برف کی شکل میں پانی کے ذخیرے موجود ہیں۔ 
https://dailypakistan.com.pk/16-Dec-2021/1378749?fbclid=IwAR1ZpCi3lkiwWBggZ9RER41w6VHRzarkoD3JPO1MX1OSCx9NSzkyYFZv6Sc



آسٹریلوی ماہرین نے تانبے کی سطح پر خردبینی بھول بھلیاں نقش کرکے صرف دو منٹ میں جراثیم ختم کرنے کے قابل بنا لیا ہے۔

واضح رہے کہ چاندی کے بعد تانبہ وہ دوسری دھات ہے جس میں قدرتی طور پر جراثیم کش صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ البتہ، عام تانبے کی سطح سے ٹکرانے والے جراثیم تقریباً 240 منٹ (چار گھنٹے) میں ہلاک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کسی فوری مقصد کے تحت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

ملبورن، آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں ڈاکٹر ماکیان اور ان کے ساتھیوں نے خردبینی بھول بھلیوں والے تانبے کو انتہائی سخت جان ’’گولڈن اسٹاف بیکٹیریا‘‘ ختم کرنے کےلیے استعمال کیا تو اس نے صرف دو منٹ میں ان جراثیم کی 99.9 فیصد تعداد ہلاک کردی


اس کے برعکس، عام تانبے نے ان ہی جرثوموں کی 97 فیصد تعداد چار گھنٹوں بعد ختم کی۔

’’بھول بھلیوں والا تانبا استعمال کرتے ہوئے، دروازوں اور کھڑکیوں کے ایسے ہینڈل تیار کیے جاسکیں گے جو منٹوں میں خود بخود جراثیم سے پاک ہوجائیں گے،‘‘ ڈاکٹر ماکیان نے کہا۔

ان سائنسدانوں نے پہلے میگنیشیم اور تانبے کے بھرت (ایلوئے) کی پتلی چادر تیار کی اور پھر ایک خاص تکنیک سے تانبے کی سطح پر موجود میگنیشیم کو الگ کردیا، جس سے وہاں بھول بھلیوں جیسا خردبینی جال نمودار ہوگیا۔

جرثوموں/ بیکٹیریا کو جکڑنے اور تانبے کی قدرتی صلاحیت سے فوری ہلاک کرنے میں اس جال نے اہم ترین کردار ادا کیا۔


ڈاکٹر ماکیان کا کہنا ہے کہ اس طرح ’’جراثیم کش‘‘ تانبا تیار کرنے کا طریقہ بہت سادہ اور کم خرچ ہونے کے علاوہ، صنعتی پیمانے پر بھی بہت آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’بایومٹیریلز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع شدہ تحقیق میں سائنسدانوں کی ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اختراع مستقبل میں کئی طرح کی جراثیم کش مصنوعات اور ٹیکنالوجیز میں مرکزی کردار ادا کرسکے گی۔

اس کے علاوہ، تانبے پر بھول بھلیوں کو مزید باریک بناکر، یہی تکنیک وائرسوں کے خاتمے میں بھی مؤثر ثابت ہوسکے گی۔
https://www.express.pk/story/2259485/508/



آج کے ترقی یافتہ دور میں صحت عامہ اور صفائی ستھرائی پر عالمی سطح پر پرزور توجہ دی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہائی ٹیک کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ مفید صحت بنانے کی دوڑ میں لگی ہیں اور اسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایل جی کمپنی نے جدید سسٹم سے لیس ہیڈفونز بنائے ہیں۔

ایل جی کے یہ ایسے ہیڈفونز ہیں جو اپنی سطح پر لگے جراثیم کا خود ہی صفایا کردیتے ہیں۔

ایل جی ٹون فری نامی ہیڈفونز میں ایسا جدید سسٹم نصب ہے جو انہیں اپنی سطح پر لگے جراثیم کی خودکار صفائی کا حامل بناتا ہے۔ جراثیم کی صفائی کا عمل الٹرا وائلٹ سسٹم کے ذریعے ہوتا ہے۔

صفائی کا عمل بھی انتہائی آسان اور بغیر کسی جھنجھٹ کے ہے۔ ہیڈفونز کو جب چارجنگ کیس میں رکھا جاتا ہے تو الٹرا وائلٹ سسٹم کی مدد سے صفائی کا عمل خود بہ خود شروع ہوجاتا ہے۔

اس کی چارجنگ ٹائمنگ بھی اچھی ہے۔ صرف 5 منٹ کی چارجنگ میں آپ 1 گھنٹے تک ہیڈفونز استعمال کرسکتے ہیں جبکہ کامل چارجنگ پر یہ 24 گھنٹے تک سروس دے سکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2259547/508/



لبلبے کا سرطان بہت خوف ناک رفتار سے پھیلتا ہے لیکن اب ایک خلیاتی ’ٹائم مشین‘ سے اسے لوٹایا یا ریورس کیا جاسکتا ہے۔

اس خلیاتی ٹائم مشین کو پوردوا یونیورسٹی مرکز برائے سرطانی تحقیق کے پروفیسر بمسو ہان اور اس کے ساتھیوں نے وضع کیا ہے۔ پروفیسربسمو نے کہا کہ ’ اب ہم نے پہلی مرتبہ کینسر کے خلیات کی گھڑی پیچھے کرکے انہیں تندرست کرنے کا طریقہ معلوم کیا ہے جس سے نئے علاج اور نئی دوائیں بن سکیں گی۔‘

سب سے پہلے انہوں نے لبلبے کا ایک زندہ ماڈل بنایا جسے ’ایکینس‘ کا نام دیا۔ یہ چھوٹی آنت میں ہاضماتی رس بھیجتا ہے۔ لبلبے کے سرطان میں پہلے سوزش (جلن) بڑھتی ہے جو خلیاتی تبدیلی سے رونما ہوتی ہے اور خود لبلبہ اپنے ہی تبدیل شدہ خامروں (اینزائم) سے متاثر ہونے لگتا ہے۔

ماہرین نے لبلبے کے سرطانی خلیات کی گھڑی پیچھے کرکے انہیں پہلے والے اینزائم بنانے پر مائل کیا اور یوں خلیات تندرست ہونے لگے۔ اگر خلیات (سیلز) سرطان سے پاک ہوجائیں تو ازخود پورا لبلبلہ کینسر سے نکل سکتا ہے جسے ہم ری سیٹ ہونا کہہ سکتے ہیں۔

اس محال کام کو ممکن بنانے کے لیے سائنسداں پہلے ہی کینسر کو ری سیٹ کرنے والے ایک جین پی ٹی ایف ون اے پر کام کرچکے ہیں جنمیں اسی ادارے کے پروفیسر اسٹیفن کونیزنی شامل ہے۔ لبلبے کے لیے یہ جین بہت اہم ہے بلکہ اس کی تعمیر کرتا ہے۔ اب اگر سرطان ذدہ لبلبے میں اسے سرگرم کیا جائے تو کینسر کو دورکیا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے ایک خردبینی سلائڈ میں جوف کاڑھے اور اس کے اندر خلیات بھردیئے جو لائنوں میں تھری ڈی شکل میں ترتیب پائے۔ پھر ’وسکس فنگرنگ‘ نامی ایک بالکل نئی ٹیکنالوجی بھی بنائی گئی پھر سلائیڈ پر کینسر خلیات کی لکیر یا سیل لائن بنائی گئی۔

اب لبلبے کے سرطانی خلیات میں جب دوبارہ پی ٹی ایف ون اے جین سرگرم کیا گیا تو سلائڈ پر باقی ماندہ خلیات سرطانوی حالت سے باہر آگئے یعنی ری پروگرام ہونے لگے۔
اس کامیابی سے لبلبے کے سرطان کے علاج کے لیے جین تھراپی کی راہ کھل سکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2259148/508/



برطانیہ میں مرگی کے مریض بچوں پرایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھنگ کے پودے حاصل کیے گئے خالص تیل سے نہ صرف مرگی کے دوروں میں 86 فیصد تک کمی آتی ہے بلکہ مرگی کی دیگر ادویہ کی ضرورت بھی بہت کم رہ جاتی ہے۔

اس تحقیق میں مرگی سے شدید متاثر، ایسے 10 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جن کی عمر 18 سال یا اس سے کم تھی؛ اور جنہیں ایک دن میں مرگی کی کئی دوائیں کھانا پڑ رہی تھیں۔

ان بچوں کو بھنگ کے پودے سے نکالے گئے خالص تیل (کینابس آئلز) کی معمولی مقداریں بطور دوا استعمال کروائی گئیں جن کا تعین ڈاکٹروں نے انفرادی طور پر بہت احتیاط سے کیا تھا۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے پیڈیاٹرکس اوپن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، طبّی مقاصد میں بھنگ کے قدرتی تیل کا محتاط استعمال ان بچوں کےلیے غیرمعمولی طور پر مفید ثابت ہوا۔

ان بچوں میں مرگی کے دورے اوسطاً 86 فیصد کم رہ گئے جبکہ روزانہ مرگی کی سات دوائیں کھانے والے بچوں کو پورے دن میں صرف ایک ہی دوا کی ضرورت رہ گئی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ابتدائی تحقیق تھی جس سے بھنگ کے پودے کی طبّی افادیت کا ایک نیا پہلو ضرور سامنے آیا ہے لیکن اس کی بنیاد پر بھنگ سے مرگی کا باقاعدہ علاج کرنے کےلیے طویل اور تفصیلی مطالعات کی ضرورت ہے۔

ماہرین اب تک یہ بھی نہیں جان سکے ہیں کہ بھنگ کے پودے میں شامل 400 مرکبات میں سے کون کونسے مرکبات مرگی کے مریضوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

البتہ ان میں سے ’’کینابینوئیڈز‘‘ جماعت کے مرکبات سے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بھنگ کے طبّی فوائد ان ہی کی وجہ سے ہیں۔ بھنگ میں 70 مختلف کینابینوئیڈز پائے جاتے ہیں۔

2018 میں امریکی ادارے ’’ایف ڈی اے‘‘ نے مرگی میں مبتلا بچوں کےلیے بھنگ سے حاصل شدہ ایک کینابینوئیڈ پر مشتمل دوا منظور کی تھی؛ جو امریکا میں منظور ہونے والی، اپنی نوعیت کی سب سے پہلی دوا تھی جسے بھنگ کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

حالیہ تحقیق کے مثبت نتائج سے ایک بار پھر دماغی و نفسیاتی امراض کے علاج میں بھنگ کی اہمیت واضح ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2259130/9812/



اگرچہ پانی کے اندر موجود ڈی این اے کو دیکھ کر وہاں موجود جانداروں اور پودوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن اب ہوا کے ذریعے فضا میں اڑنے والے کیڑوں اور پتنگوں کو شناخت کرنے کا ایک دلچسپ آلہ بنایا گیا ہے۔

حالیہ دور میں ماحول سے ڈی این اے کشید کرنے والے کئی نظام بنائے گئے ہیں اور اسے ماحولیاتی یا ای ڈی این اے کہا جاتا ہے۔ پانی میں جانوروں کے فضلے، اتری ہوئی جلد اور دیگر حیاتیاتی مادے سے ڈی این اے نکال کر ان کی شناخت کی جاتی ہے یہاں تک کہ آثارِ قدیمہ کے غاروں سے قدیم انسانوں کے ڈی این اے کے آثار بھی نکالے گئے ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ ہوا سے ڈی این اے نکالنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اب لیونڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فیبیان راجر نے سویڈن کے تین مقامات سے ہوا کےنمونے جمع کئے اور فضا میں اڑنے والے 85 حشرات اور کیڑوں کو کامیابی سے شناخت کیا۔ ان میں پتنگے، مچھر، چیونٹیاں، بھڑ، بھنورے اور مکھیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پرندوں اور ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کے آثار بھی ملے ہیں۔

اس طرح وہ حشرات اور جاندار بھی شناخت کئے جاسکتے ہیں جو سروے کے دیگر طریقوں سے اوجھل رہ سکتے ہیں لیکن اس کا استعمال بھی اپنی حدود رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہوا سے ڈی این اے نکالنے والی ٹیکنالوجی کو روایتی سروے کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2258864/508/



جاپان اور دیگر ممالک کے کارخانوں میں ’’ایکسو اسکیلیٹن‘‘ عام ہیں جو کمر کے درد سے بچاتے ہیں اور وزن اٹھانے میں معاون ہوتے ہیں، اب جرمن کمپنی نے ایسا بیرونی ڈھانچہ بنایا ہے جو پورے بدن پر پہنا جاسکتا ہے۔

اس معاون ڈھانچے کا نام ’’ففتھ جنریشن کرے ایکس‘‘ ہے جو مکمل طور پر واٹر پروف ہے۔ اسے پہن کر وزن اٹھانا اور وزن لے کر چلنا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔ جرمن بایونک کمپنی کے مطابق پورا سسٹم کاربن فائبر فریم سے بنایا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق ان کا ایکسو اسکیلیٹن بہترین کارکردگی کا حامل ہے جو پہلے ہی بی ایم ڈبلیو، آئیکیا اور دیگر کارخانوں میں استعمال ہورہا ہے۔ اب نئے ماڈل کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔

اس میں برقی نظام موجود ہے جو انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) کی بنا پر کام کرتا ہے۔ نئے ماڈل میں 40 وولٹ کی دیرپا بیٹری لگائی گئی ہے۔ یہ بیٹری اندر کے پرزوں کو جسمانی لحاظ سے حرکت دیتی ہے۔ اسے پہن کر مزید 30 کلو گرام وزن اٹھایا جاسکتا ہے۔

وزن اٹھاتے وقت ڈھانچے کے اوپر کا حصہ مدد کرتا ہے جبکہ وزن لے کر چلتے ہوئے نچلا ایکسو اسکیلیٹن قوت دیتا ہے۔ اسے پہن کر کمر کے درد اور غلط انداز سے جھکنے اور اٹھنے کے انداز کو کم کیا جاسکتا ہے۔ آئی او ٹی کی بدولت کمپنی کے مالکان بھی کارکن سے واقف رہتے ہیں۔

دوسری جانب واٹر پروف ہونے سے بارش اور برف باری وغیرہ میں کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے تاہم کمپنی نے اب تک ففتھ جنریشن کرے ایکس ایکسواسکیلیٹن کی قیمت نہیں بتائی۔
https://www.express.pk/story/2258404/508/



چینی سائنسدانوں نے دماغ کے اندرونی حصوں کا جائزہ لینے کےلیے ایک ایسی کم خرچ، مختصر اور ’’پہیوں والی‘‘ ایم آر آئی مشین ایجاد کرلی ہے جسے بہ آسانی ایک سے دوسری جگہ لے جایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ’’میگنیٹک ریزونینس امیجنگ‘‘ (ایم آر آئی) مشینوں سے جسم کے اُن اندرونی حصوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جنہیں دیکھنا اور ان کا عکس حاصل کرنا الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے اور سی ٹی اسکین وغیرہ جیسے طریقوں سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔

ایم آر آئی مشین میں طاقتور مقناطیسی میدان اور ریڈیو لہروں کی مدد سے اندرونی جسمانی حصوں کی تفصیلی تصاویر لی جاتی ہیں جنہیں دیکھ کر بیماری کی نوعیت اور شدت کا پتا لگایا جاتا ہے۔ ایم آر آئی سے جسم کے کسی بھی اندرونی حصے کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن اندرونی چوٹوں اور بیماریوں سے متاثر ہونے والے دماغی حصوں کا معائنہ کرنے میں اس کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود، ایم آر آئی مشینیں نہ صرف بہت مہنگی ہیں بلکہ بہت زیادہ بجلی استعمال کرتی ہیں اور انہیں خاص طرح کے سرد اور محفوظ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان سے پیدا ہونے والے طاقتور مقناطیسی میدان اور ریڈیو لہروں سے غیر متعلقہ جسمانی حصوں کو بچانے کےلیے بھی خصوصی انتظامات (ڈھال یا شیلڈنگ کے طور پر) کرنے پڑتے ہیں۔

ان سب باتوں کی وجہ سے ایک نئی ایم آر آئی مشین کی قیمت 30 لاکھ ڈالر (تقریباً 54 کروڑ پاکستانی روپے) ہوتی ہے جبکہ اسے استعمال کرنے کا ماہانہ خرچہ بھی پندرہ ہزار ڈالر (27 لاکھ پاکستانی روپے) تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی بناء پر ایم آر آئی کی سہولت غریب ممالک کے بڑے شہروں میں بھی بہت کم ہے جبکہ ایک اچھی لیبارٹری سے صرف ایک بار ایم آر آئی اسکیننگ کا خرچ بھی 40 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈ ایکس وُو اور ان کے ساتھیوں نے یہ تمام مسائل ایک ساتھ حل کرنے کےلیے ایک کم خرچ اور مختصر ایم آر آئی مشین کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جس کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ اس ایم آر آئی مشین کو خصوصی اور مہنگے انتظامات کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی جبکہ عام ایئر کنڈیشنر جتنی بجلی اس کےلیے کافی رہتی ہے کیونکہ یہ بہت کم شدت (0.055 ٹیسلا) والے مقناطیسی میدان کی مدد اپنا کام انجام دیتی ہے۔


ڈاکٹر وُو کا کہنا ہے کہ تجارتی پیمانے پر یہ مشین بنانے کی لاگت 20 ہزار ڈالر (35 لاکھ پاکستانی روپے) سے بھی کم ہوگی جبکہ اس سے ایم آر آئی اسکیننگ کا خرچہ صرف چند ڈالر جتنا ہوگا۔

ابتدائی تجربات میں اس پروٹوٹائپ ایم آر آئی مشین کو 25 مریضوں میں فالج اور دماغی رسولی سمیت، مختلف دماغی بیماریوں کا سراغ لگانے کےلیے استعمال کیا گیا جبکہ اس کی کارکردگی کا موازنہ 3 ٹیسلا مقناطیسی میدان والی تجارتی ایم آر آئی مشین کے نتائج سے کیا گیا۔ موازنے سے معلوم ہوا کہ بیشتر دماغی امراض کی درست نشاندہی میں پروٹوٹائپ مشین نے بھی تجارتی ایم آر آئی مشین جتنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

پروٹوٹائپ کی خاص بات اس کا سافٹ ویئر ہے جس میں مصنوعی ذہانت والا خصوصی الگورتھم استعمال کیا گیا ہے۔ آزمائشوں سے پہلے اس سافٹ ویئر کو ’’تربیت‘‘ دی گئی تاکہ یہ کم شدت کی مقناطیسی لہروں سے بننے والے دھندلے عکس نمایاں کرکے انہیں واضح، صاف ستھرے اور درست عکس میں تبدیل کرسکے۔

ڈاکٹر وُو اور ان کے ساتھیوں نے اس پروٹوٹائپ ایم آر آئی مشین کے ہارڈویئر کا مکمل ڈیزائن اور سافٹ ویئر کا تمام سورس کوڈ آن لائن رکھ دیا ہے جسے کوئی بھی مفت میں استعمال کرسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2258612/9812/



آبِ حیات؟ جاپانی سائنسدانوں نے بڑھاپا اور موت کا سبب بننے والے خلیات کے خلاف ویکسین تیار کرلی
Dec 13, 2021 | 22:32:PM

سورس: Wita

ٹوکیو (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک جاپانی ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے اس نے ایک ایسی ویکسین تیار کرلی ہے جو جسم کے اندر موجود ان زومبی سیلز کو ختم کردے گی جو نہ صرف قریبی صحت مند سیلز کو تباہ کرتے ہیں بلکہ جسم میں بڑھاپا اور شریانوں میں کھنچاؤ پیدا کرتے اور موت کا سبب بنتے ہیں۔

دی جاپان ٹائمز کے مطابق تحقیق میں شامل جوتیندو یونیورسٹی کے پروفیسر تورو منا مینو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس ویکسین نے چوہوں میں کامیابی کے ساتھ زومبی اور اعصابی کھنچاؤ پیدا کرنے والے سیلز کو ختم کیا ہے۔ "ہم اس بات کی امید رکھ سکتے ہیں کہ یہ ویکسین انسانوں میں ذیابیطس اور بڑھاپے سے متعلق دیگر بیماریوں کے خلاف استعمال کی جاسکتی ہے۔"

اس تحقیق کے نتائج آن لائن ریسرچ جرنل نیچر ایجنگ میں شائع کیے گئے ہیں۔ زومبی سیلز جسم کے وہ خلیات ہوتے ہیں جو تقسیم نہیں ہوتے اور نہ ہی مرتے ہیں بلکہ ایسے کیمیکلز چھوڑتے ہیں جو صحت مند خلیات کی موت کا باعث بنتے ہیں۔

محققین نے زومبی سیلز میں ایک پروٹین کو ڈھونڈا اور اس کے خلاف ویکسین تیار کرکے اعصابی کھنچاؤ میں مبتلا چوہوں کو لگائی تو نہ صرف زومبی سیلز کا خاتمہ ہوگیا بلکہ جسم کے متاثرہ حصے بھی ٹھیک ہوگئے۔ جب یہی ویکسین بوڑھے چوہوں کو لگائی گئی تو ان میں دیگر چوہوں کی نسبت بڑھاپے کا عمل سست ہوگیا۔

ماہرین نے بتایا کہ زومبی سیلز کے خاتمے کیلئے پہلے سے جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں وہ اینٹی کینسر ہوتی ہیں جن کے سائڈ ایفیکٹس بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن نئی ویکسین کے سائڈ ایفیکٹس بہت کم تھے اور اس کا اثر دیر تک برقرار رہا۔
https://dailypakistan.com.pk/13-Dec-2021/1377491?fbclid=IwAR3exjRkDt7f55iTZIaP-MCpykLIITrXPG8aZeSwgyHu3xliDn_JuuLzWTo



امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ناک کے ذریعے پھوار یا بخارات کی شکل میں ویکسین دینے کا عمل، انجکشن لگانے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

ییل یونیورسٹی کے ماہرین نے پروفیسر اکیکو ایواساکی کی قیادت میں یہ تحقیق چوہوں پر انجام دی ہے، جس کے نتائج ’’سائنس امیونولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، چوہوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا جن میں سے ایک گروپ کو انفلوئنزا ویکسین کا انجکشن لگایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو ناک کے راستے وہی ویکسین دی گئی۔

پانچ ہفتے بعد معلوم ہوا کہ ناک کے راستے ویکسین لینے والے چوہوں میں انفلوئنزا (زکام/ فلُو) وائرس سے بچانے والی اینٹی باڈیز کی مقدار، انجکشن کے ذریعے ویکسین لینے والے چوہوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔

علاوہ ازیں، یہ بھی پتا چلا کہ ناک سے دی گئی ویکسین ان چوہوں کے جسم میں زیادہ مقامات تک پہنچی اور اس نے اینٹی باڈیز بنانے والے خلیوں کو بھی خوب سرگرم کیا، جس کا نتیجہ چوہوں میں زیادہ اینٹی باڈیز کی صورت میں ظاہر ہوا۔

ناک سے لی گئی انفلوئنزا ویکسین نے بطورِ خاص ناک، حلق اور پھیپھڑوں کے خلیوں پر اثر دکھایا اور فلُو وائرس کا حملہ بخوبی روکا۔

ایک اور بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان خلیوں سے بننے والی اینٹی باڈیز، انفلوئنزا وائرس کی مختلف اقسام کے خلاف بیک وقت کارآمد تھیں۔

اسی تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر ناک سے دی جانے والی کووِڈ 19 ویکسینز تیار کرلی جائیں تو بہت ممکن ہے کہ ہمیں ایک ویکسین سے کورونا وائرس کے کئی ویریئنٹس سے تحفظ حاصل ہوجائے۔

البتہ، ناک سے دی جانے والی ویکسین بنانا کوئی آسان کام نہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برسوں کی تحقیق اور جدوجہد کے بعد اب تک صرف انفلوئنزا کی ایک ویکسین ہی ایسی بنائی جاسکی ہے جو ناک سے لی جاسکتی ہے۔

دیگر ویکسینز بنانے کی کوششیں پچھلے کئی سال سے انسانی آزمائشوں میں مسلسل ناکام ہوتی آرہی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2258104/9812/



دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کردہ انگوٹھی مارکیٹ میں آچکی ہے۔ اسے فن لینڈ کی میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی ‘اورا’ نے بنایا ہے۔

یہ انگوٹھی دراصل صحت کے حوالے سے ایک ٹریکر کے طور پر کام کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کو ہتھیلی پر کچھ بھی پہننا پسند نہیں ہوتا اور انہیں ہیلتھ ٹریکر گھڑی یا بینڈ باندھے میں دشواری پیش آتی ہے۔ یہ گھڑی ایسے لوگوں کو بھی مدِنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے۔

اس وزن ہلکا ہے تاہم اس کے فیچرز بےشمار ہیں۔ یہ 6 سے 13 نمبر سائزز میں دستیاب ہے اور 3 مختلف رنگوں کی حامل ہے جس میں سنہرا، کالا اور سِلور شامل ہے۔

اس انگوٹھی میں نیند اور جاگنے کو ٹریک کرنے کا انتظام ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی درجہ حرارت، دھڑکن، سانس لینے کے عمل، ورزش اور یہاں تک کہ غیر متحرک پوزیشن کو بھی ٹریک کرنے کا سسٹم موجود ہے۔
https://www.express.pk/story/2258354/508/



یہ آذربایئجان کا علاقہ نگورنوقرہ باغ ہے۔1993ء میں اس علاقے کے وسیع رقبے پر آرمینیا نے زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔2020ء میں اس علاقے کے سلسلے میں آذربایئجان اور آرمینیا میں دوبارہ جنگ چھڑ گئی۔آغاز میں آرمینائی فوج کا پلّہ بھاری رہا۔

ایک دن کا ذکر ہے، ایک جگہ آرمینائی فوج کا دستہ سستا رہا تھا۔فوجی اپنے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی صفائی میں مشغول تھے۔اچانک انھوں نے اپنے سروں پہ گھوں گھوں کی آواز سنی جیسے کوئی بڑا سا بھنورا منڈلا رہا ہو۔دیکھا تو وہ ایک چھوٹا سا ڈرون تھا۔وہ فوراً چوکنا ہو گئے کیونکہ ڈرون آذربائیجانی فوج کا تھا۔

ڈرون پہ مگر کوئی میزائیل نصب نظر نہیں آیا۔گویا وہ غیر عسکری ڈرون تھا۔فوجی یہی سمجھے کہ وہ ان کی جاسوسی کرنے آیا ہے۔لہذا وہ اس کے سامنے آئے اور گنوں سے گولیاں برسانے لگے۔ڈرون مگر بہت پھرتیلا تھا،وہ گولیوں سے اپنا بچائو کرتا رہا۔اچانک وہ فوجیوں پہ آن پڑا۔ان سے ٹکراتے ہی ڈرون پھٹ گیا۔وہاں موجود کئی فوجی ہلاک ہو گئے۔یہ ڈرون دراصل خودکار اڑتابم تھا جس نے آرمینائی فوجی دستے میں اچھی خاصی تباہی پھیلا دی۔

اس اڑتے ڈرون بم میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیا گیا ایک سافٹ وئیر نصب تھا ۔اس سافٹ وئیر کو سکھایا گیا تھا کہ سڑکوں پہ بھاگتی سول گاڑیوں اور ٹینکوں و بکتر بند گاڑیوں کے درمیان کیسے تمیز کرنا ہے۔وہ سافٹ وئیر عسکری لباس میں ملبوس فوجیوں اور سادہ کپڑے پہنے ہوئے شہریوں کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔اس سافٹ وئیر کو بتایا گیا تھا کہ صرف فوجیوں اور ان کے سازوسامان کو نشانہ بنانا ہے۔شہری اس کا ٹارگٹ نہیں تھے۔یہی وجہ ہے، جب سافٹ وئیر کو یقین ہو گیا کہ آرمینائی دستے میں شامل فوجی ہیں تو وہ ان پہ جا گرا اور انھیں تہس نہس کر ڈالا۔

نمایاں ترین بات یہ ہے کہ وہ سافٹ وئیر خودمختار تھا…اسے دور بیٹھا کوئی انسان کنٹرول نہیں کر رہا تھا۔ڈرون بھی آزادی سے اڑنے میں محو تھا،کوئی اس کو نہیں چلا رہا تھا۔آذربایئجانی فوج نے اس کے بعد دوران

جنگ ایسے کئی ڈرون نما اڑن بم استعمال کیے۔انھوں نے آرمینائی فوج کو جانی لحاظ سے بہت نقصان پہنچایا اور بہت سے ٹینک وبکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کر دیں۔اسی تباہی کے بعد آرمینائی فوج پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔آذربئیجانی فوج نے نگورنوقرہ باخ کا بیشتر علاقہ دشمن کے قبضے سے آزاد کرا لیا اور یوں جنگ جیت لی۔

ماہرین عسکریات آذربایئجان اور آرمینیا کی جنگ کو عسکری تاریخ میں سنگ میل قرار دے چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ پہلی جنگ ہے جس میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ہتھیار وسیع پیمانے پہ استعمال ہوئے۔انھوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ ابتداً آرمینائی فوج جیت رہی تھی۔مگر جیسے ہی آذربائیجانی فوج نے ڈرون نما اڑن بم پھینکنے شروع کیے، آرمینائی فوج کی ہار کا آغاز ہو گیا۔یہ ڈرون بم ترکی اور اسرائیل کے بنے ہوئے تھے۔

عسکری تاریخ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پہ مبنی اسلحہ ایجاد ہونے سے جنگ وجدل کی تاریخ میں ’’تیسرا انقلاب ‘‘جنم لے چکا ہے۔ پہلا انقلاب اس وقت آیا تھا جب چودہویں صدی کے بعد جنگوں میں

بارود کا استعمال شروع ہوا۔اس کے بعد دوسرے انقلاب نے بیسویں صدی میں جنم لیا۔تب ایٹمی ہتھیار بننے لگے اور یوں انھوں نے جنگ کو نئے معنی عطا کر دئیے۔

سادہ الفاظ میں مصنوعی ذہانت(Artificial intelligence)سے مراد ایسے سافٹ ویئر ہیں جو انسان کی دی گئی ہدایات کے مطابق کوئی مخصوص عمل انجام دے سکیں۔مثال کے طور پہ اب جاپان اور بعض یورپی ممالک کے ہوٹلوں میں روبوٹ بیرے عام ہو چکے ہیں۔وہ گاہکوں کو کافی یا چائے پیش کرتے ہیں۔ان مشینی بیروں میں مصنوعی ذہانت والے سافٹ وئیر ہی نصب ہیں۔سافٹ وئیر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ چائے گاہک تک لے جائو یا کھانا پہنچائو۔وہ اس کے علاوہ کوئی کام نہیں کر سکتے۔حتی کہ برتن بھی نہیں دھو سکتے۔ یہ کام وہی روبوٹ انجام دے گا جس میں برتن دھونے کا سافٹ وئیر موجود ہو گا۔

امریکی و جاپانی ماہرین اگرچہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ایسا سافٹ وئیر بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں جو انسانی دماغ کی طرح سوچ بچار کر سکے۔گویا وہ تجربات کے ذریعے ازخود بھی کوئی نیا کام

کرنے کے قابل ہو جائے۔جب بھی اس قسم کا سافٹ وئیر ایجاد ہوا، یہ سمجھیے کہ گوشت پوست کے انسان نے ایک آزاد وخودمختار مشینی انسان تیار کر لیا…ایسا انسان جو اپنی مرضی سے بھی مختلف کام کر سکے گا۔علم مستقبلیات کے ماہرین کا دعوی ہے، سائنس وٹکنالوجی کی جدتوں اور تیز رفتار ترقی کے باعث بااختیار مشینی انسان 2050ء تک وجود میں آ جائے گا۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ وئیر مگر اب بھی روزمرہ کے کئی کاموں میں انسانوں کی مدد کرنے لگے ہیں۔گوگل کا سرچ انجن اس امر کی نمایاں مثال ہے۔یہ سافٹ وئیر ہمیں وہ بات کھوجنے میں بھرپور مدد دیتا ہے

جس کی ہمیں تلاش ہو۔وہ ہماری سرچنگ کی ماہیت جانچ اور اندازے لگا کر ہمیں مفید مشورے دیتا ہے تاکہ ہم اپنی منزل پانے میں کامیاب رہیں۔

اسی طرح ہوائی اڈوں پر مجرم اور دہشت گرد شناخت کرنے کی خاطر بتدریج مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ وئیرز سے مدد لی جانے لگی ہے۔ان سافٹ وئیرز میں کروڑوں انسانوں کے چہروں کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔جو بھی ہوائی اڈے سے گزرے،اس کا چہرہ سافٹ وئیر کے ڈیٹا بینک میں چلا آتا ہے۔لہذا جب بھی وہاں کوئی مجرم یا مشکوک شخصیت آئے، تو سافٹ وئیر اسے شناخت کر کے الارم بجا دیتا ہے۔پولیس پھر اس کو فوراً دبوچ لیتی ہے۔

امریکا،جاپان اور یورپی ممالک میں صنعتی روبوٹ بھی ایجاد ہو چکے ہیں۔ان میں مصنوعی ذہانت والے سافٹ وئیر نصب ہوتے ہیں۔چناں چہ سافٹ وئیر میں جو کام کرنے کی ہدایت محفوظ ہو،روبوٹ اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔مغربی ملکوں کے اکثر کارخانوں اور دفاتر میں ایسے روبوٹ نظر آنے لگے ہیں۔حتی کہ استقبالیہ پر بھی روبوٹ بٹھا دئیے گئے ۔اب روبوٹ کرائے پر بھی دستیاب ہیں۔

امریکی ویورپی صنعت کار ان روبوٹوں کو انسانوں پر مختلف وجوہ کی بنا پہ ترجیع دینے لگے ہیں۔پہلی وجہ یہ کہ روبوٹ بلا تھکے کئی گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔دوسرے وہ کبھی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ نہیں کرتے۔تیسرے ان کے مطالبات منظور نہ ہوں تو ہڑتال نہیں کرتے۔چوتھے وہ فضول باتیں نہیں کرتے اور خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔اسی لیے کارخانوں اور دفتروں میں ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔یہ امر بہرحال بنی نوع انسان کے خلاف جاتا ہے کیونکہ صنعت وتجارت اور کاروبار میں روبوٹوں کی فراوانی سے لاکھوں انسان بیروزگار ہو جائیں گے۔یوں یورپ و امریکا میں بیروزگاری میں اضافہ ہو گا۔یہ عمل وہاں کے معاشروں میں انتشار پیدا کر سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا اِس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو اُس کا جنگ وجدل میں بڑھتا استعمال ہے۔فی الوقت سبھی سپرپاورز مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر نت نئے ہتھیار بنانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں۔انھوں نے اربوں ڈالر کی لاگت سے ایسے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن کے ذریعے سائنس داں مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر پہ مبنی اسلحہ بنا سکیں۔ڈرون نما اڑن بم اس امر کی چھوٹی سی مثال ہیں۔امریکا اور چین تو روبوٹوں کی باقاعدہ فوج کھڑی کرنے کے متمنی ہیں تاکہ اپنی عسکری طاقت میں محیر العقول اضافہ کر لیں۔

حضرت آدم علیہ السلام نے جب نافرمانی فرمائی تو اللہ تعالی نے انھیں زمین پہ اتاردیا ۔یوں ان کی اولاد کو ایک طویل امتحان میں ڈال دیا گیا۔امتحان یہ ہے کہ انسان شیطان کو شکست دے سکے جو مسلسل انسانوں کو ورغلاتا اورانھیں شرانگیز کارروائیاں کرنے پہ اکساتا ہے۔اسی شیطان کے سبب حضرت آدم ؑکے دو بیٹوں ،ہابیل اور قابیل کے مابین لڑائی ہوئی۔

انسانی تاریخ کی اس اولیّں لڑائی میں بظاہر شیطان کو فتح ملی کیونکہ جھگڑالو بھائی، قابیل نے امن پسند بھائی،ہابیل کو مار ڈالا۔مگر یہ آغاز تھا۔تب سے اللہ تعالی کے احکامات کی پیروی کرنے والے انسان شیطان کے پیروکاروں سے جنگ کرنے میں مصروف ہیں۔

قران پاک میں رب تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے گھوڑے ہر وقت تیار رکھو تاکہ دشمن تم سے مرعوب رہے اور اسے حملہ کرنے کی جرات نہ سکے(سورہ الاانفال آیت 60)اللہ تعالی نے دفاعی جنگ لڑنے پہ زور دیا ہے۔مگر یہ بھی حکم ہے کہ مظلوموں کو حق دلانے کی خاطر ظالم سے جہاد کرو۔گویا ظالم پہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔

دور جدید میں تفرقہ بازی اور عدم اعتماد کی وجہ سے مسلمان کمزور ہو چکے ہیں۔ ان میں بھائی چارے کے بجائے مادہ پرستی کا غلبہ ہے۔جبکہ غیر اسلامی خصوصاً مغربی قوتیں باہمی اختلافات کے باوجود مسلم

دشمنی میں متحد ہیں۔نیز سائنس و ٹکنالوجی میں برتری کی وجہ سے عالمی طاقیتں بن چکیں۔ان میںامریکا، برطانیہ، چین، روس، جرمنی اور جاپان نمایاں ہیں۔ان طاقتوں کے دو بڑے اتحاد وجود میں آ چکے۔ایک اتحاد امریکا،برطانیہ،آسٹریلیا،کینیڈا اور بھارت پہ مشتمل ہے۔دوسرے اتحاد کے قائد چین و روس ہیں۔ پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک اس کا حصہ ہیں۔ بہت سے یورپی ممالک واضح طور پہ کسی اتحاد میں شامل نہیں۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں روس استعماری قوت رہا ہے اور اس نے وسطی ایشیا کے مسلم ممالک پہ قبضہ کر لیا۔ان ملکوں کو بیسویں صدی میں آزادی نصیب ہوئی۔انہی صدیوں میں برطانیہ عالمی استعماری قوت بن کر ابھر آیا۔بیسویں صدی میں امریکا اس کا جانشین بن گیا۔چین کبھی استعماری قوت نہیں رہا بلکہ جاپانی اسے اپنا مطیع بنانے کی سرتوڑ سعی کرتے رہے۔یہ خصوصیت چین کو تمام عالمی طاقتوں میں امتیازی حیثیت عطا کرتی ہے۔

ویت نام اور افغانستان میں شکست کھا کر بھی امریکی حکمران طبقے کے سر سے دنیا پہ حکمرانی کرنے کا بھوت نہیں اترا۔یہ طبقہ عالمی وسائل اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ جب چاہے ان سے فائدہ اٹھا سکے۔عالمی کرنسی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری قائم رکھنا بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم پالیسی ہے۔اسی لیے امریکا اپنے آپ کو عسکری لحاظ سے طاقتور ترین رکھنا چاہتا ہے تاکہ جو بھی اس کے مفادات خطرے میں ڈالے، اس سے جنگ کر کے مطیع کر سکے۔اس وقت چین اور روس امریکی مفادات کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔چناں چہ امریکی حکمران طبقہ مصنوعی ذہانت پہ مبنی جدید ترین ہتھیار بنا کر خود کو انتہائی مضبوط بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

دنیا پہ اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ہی امریکا نے نئی قسم کے اسلحے بنانے کی نئی دوڑ کا آغاز کیا۔اس دوڑ کے دوران سپرپاورز مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطرناک ترین ہتھیار بنانے کی کوشش کریں گی۔مگر ماہرین و دانشور انتباہ کر رہے ہیں کہ اسلحے کی یہ نئی دوڑ کرہ ارض پہ نوع انسانی ہی نہیں زندگی کی دیگر اقسام کو بھی تباہ وبرباد کر سکتی ہے۔مشہور سائنس داں، اسٹیفن ہاکنگ نے 2014ء میں اسی تباہی کی سمت اشارہ کرتے ہوئے انسانیت کو متنبہ کیا تھا:

’’مصنوعی ذہانت پہ مبنی ایجادات ہمارے کام آ سکتی ہیں۔یہ روزمرہ زندگی کے بہت سے کام کرنا آسان بنا دیں گی۔لیکن انسان کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو کبھی آزاد وخودمختار نہ ہونے دے۔اگر مصنوعی ذہانت انسان کی طرح سوچنے سجھنے کے قابل ہو گئی تو بہت جلد نوع انسانی کو اپنا غلام بنا لے گی۔وجہ یہ کہ انسانی دماغ کا ارتقائی سفر بہت سست رفتار ہے۔جبکہ مصنوعی ذہانت سپر کمپیوٹروں کی مدد سے بہت جلد اپنے آپ کو اتنا زیادہ ذہین،عاقل و فہیم بنا لے گی کہ انسان کسی صورت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔‘‘

امریکی حکمران طبقہ مگر اپنے ہی سائنس داں کا درج بالا انتباہ نظرانداز کر چکا۔اس کی ایما پہ امریکی ماہرین مصنوعی ذہانت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پہ تحقیق وتجربے کر رہے ہیں۔مدعا یہی ہے کہ اس سے خطرناک اسلحہ بنا کر امریکا کی بطور عسکری طاقت دنیا میں حاکمیت ہر صورت برقرار رکھی جائے۔حالات سے واضح ہے کہ اس جنم لیتی تبدیلی میں مصنوعی ذہانت کا اپنا کوئی کردار نہیں…اگر اسے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ کارہائے نمایاں دکھا سکتی ہے۔مگر امریکی اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بن کر مصنوعی ذہانت دنیا والوں کے لیے آگ۔خون اور تباہی کی ہرکارہ بن جائے گی۔

تھرڈ آف سیٹ حکمت عملی
حکومت امریکا اب اپنی ایک خصوصی حکمت عملی’’تھرڈ آف سیٹ‘‘(The Third Offset)کے تحت مصنوعی ذہانت کو بہت اہمیت دینے لگی ہے۔عام لوگوں کو اس حکمت عملی کی کوئی خبر نہیں مگر امریکی حکمران طبقہ اسی کے ذریعے چین اور روس کی عسکری ٹیکنالوجی کو بے اثر بنانے کا خواہاں و متمنی ہے تاکہ کُل عالم میں اپنی سپرمیسی برقرار رکھ سکے۔بنیادی مقصد یہ کہ دنیا کا کوئی بھی ملک امریکی استعمار،اقتدار اور حاکمیت کو چیلنج نہ کر پائے۔

دوسری جنگ عظیم نے دنیا میں طاقت کے مراکز تبدیل کر دئیے۔اس سے قبل برطانیہ اور جرمنی سپرپاور کا درجہ رکھتے تھے۔خاتمہ جنگ کے بعد امریکا اور سویت یونین کو یہ درجہ مل گیا۔جلد ہی ان کے مابین سرد جنگ شروع ہو گئی کہ ایک سرمایہ داری کا چیلا تھا تو دوسرا سوشلزم کو ملجا وماوی مانتا۔اسی سرد جنگ کے دوران امریکی اسٹیبلشمنٹ نے حریفوں کو شکست دینے کی خاطر ایک حکمت عملی تیار کی جسے اب ’’فرسٹ آف سیٹ‘‘کیا جاتا ہے۔اس اپنا کر امریکا نے کثیر تعداد میں ہائڈروجن بموں،ایٹم بموں،نیپام بموں وغیرہ کا ذخیرہ جمع کر لیا۔سویت یونین بھی اپنی بقا کی خاطر ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک اسلحہ بنانے لگا۔یوں دونوں عالمی قوتوں کے درمیان نت نیا اسلحہ بنانے کی دوڑ نے جنم لیا۔اس دوران کئی بار ایسے خطرناک لمحات آئے کہ دونوں ممالک کے مابین ایٹمی جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی۔ تب زمین کو خوفناک تباہی کے مناظر دیکھنے پڑتے۔

1970ء تک سویت یونین لاتعداد ایٹمی ہتھیار رکھنے والا ملک بن گیا۔تب امریکی حکمران طبقے کو محسوس ہوا کہ دنیا پہ اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی درکار ہے۔اسی سوچ کے باعث ’’سیکنڈ آف سیٹ‘‘حکمت عملی وجود میں آئی۔اس کے تحت طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائیل اور اسٹیلتھ ٹکنالوجی ایجاد کی گئی۔خلا میں جنگی اڈے بنانے پر بھی ٖغور وفکر ہوا جو لیزر شعاوں کے ذریعے دشمن پہ وار کر سکیں۔تاہم 1990ء میں سویت یونین زوال پذیر ہوا تو خلا میں جنگی اڈے بنانے کا منصوبہ ترک کر دیا گیا۔

اب تیس سال بعد روس کے علاوہ چین بھی روایتی عسکری ٹکنالوجی میں امریکا کے ہم پلّہ ہو چکا۔چینی حکومت جدید ہتھیار بنانے پہ سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔یہی ماجرا دیکھتے ہوئے امریکی حکمران طبقے نے 2014ء میں تیسری حکمت عملی’’تھرڈ آف سیٹ‘‘کا آغاز کر دیا۔یہ وہی زمانہ ہے جب چین نے اپنا عظیم الشان ’’بیلٹ اینڈ روڈ انشیٹیو‘‘شروع کیا تھا۔تیسری حکمت عملی وضع کرتے ہوئے تب کے امریکی وزیر دفاع،چک ہیگل نے دنیا والوں کو بتایا :

’’ہم سمجھتے ہیں کہ تھرڈ آف سیٹ حکمت عملی عالمی سطح پہ پورے کھیل کو تبدیل کر دے گی۔اس کے تحت جدید ترین ہتھیار بنانے کے لیے سائنس وٹکنالوجی سے بھرپور مدد لی جائے گی۔ہم اس طرح اکیسویں صدی میں بھی امریکی افواج کی مکمل برتری قائم رکھ سکیں گے۔‘‘

اسی تقریر میں امریکی وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ پنٹاگون(امریکی وزرات دفاع)سیلی کون ویلی میں ’’ڈیفنس انوویشن یونٹ‘‘(Defense Innovation Unit)کے نام سے اپنا نیا مرکز کھول رہا ہے۔اس نئے مرکز میں سرکاری اداروں کے ماہرین کے ساتھ ساتھ نجی کمپنیوں کے سائنس داں بھی نئے ہتھیار بنانے کی خاطر تحقیق و تجربات کریں گے۔یاد رہے، امریکا میں سیلی کون ویلی سائنس وٹکنالوجی کی نجی کمپنیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ پنٹاگون اب تک آسٹن(ٹیکساس) اور بوسٹن شہروں میں بھی اپنے ’’ڈیفنس انوویشن یونٹ‘‘ مراکز قائم کر چکا۔اس قسم کا سب سے بڑا یونٹ خود پنٹاگون میں واقع ہے۔

چک ہیگل رخصت ہوئے تو ایش کارٹر وزیر دفاع بن گئے۔اپریل 2015ء میں انھوں نے سائنس وٹکنالوجی کی چوٹی کی امریکی کمپنیوں کے مالکان اور سی ای اوز سے ملاقات کی۔موصوف نے مہانوں کو باور کرایا کہ امریکا میں پنٹاگون،سی آئی اے اور دیگر خفیہ ایجنسیاں سائنس وٹکنالوجی کی سب سے بڑی پشتی بان و سرپرست ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ امریکی سائنس دانوں اور موجدوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد خصوصاً جتنی بھی ایجادات کی ہیں،انھوں نے پنٹاگون یا سی آئی اے کی مدد سے جنم لیا۔رفتہ رفتہ نجی اداروں نے بھی سائنس وٹکنالوجی کو ترقی دی۔یوں بذریعہ تحقیق و تجربات نئی ایجادیں منظرعام پہ آنے لگیں۔

یہ تاریخ افشا کر کے ایش کارٹر نے سائنس وٹکنالوجی کی نجی کمپنیوں پہ زور دیا کہ وہ نت نئے ہتھیار بنانے میں پنٹاگون کی بھرپور مدد کریں۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی ادارے باہمی تحقیق و تجربات سے ایسے خطرناک اور موئثر ہتھیار ایجاد کر سکتے ہیں جو اب تک انسانی تاریخ میں سامنے نہیں آئے اور جو دشمن کے دلوں پہ امریکی طاقت وہیبت کا سّکہ جما دیں گے۔کارٹر صاحب کا کہنا تھا:’’یہ بہت سنجیدہ اور قومی نوعیت کا معاملہ ہے۔اس میں خطرات پوشیدہ ہیں مگر ترقی کے مواقع بھی بے حساب ہیں۔پنٹاگون کی مالی مدد سے نجی کمپنیاں بہت ترقی کر سکتی ہیں۔‘‘

سوال یہ ہے کہ امریکی حکمران طبقے کو آخر کیا ضرورت پیش آ گئی کہ وہ نجی شعبے کے پاس جا کر اس سے مدد وتعاون کی بھیک مانگنے لگا؟وجہ یہی کہ دنیا پہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو چین وروس کے اتحاد سے شدید خطرات لاحق ہو چکے۔وہ سمجھتی ہے کہ یہ اتحاد عالمی سطح پر امریکا کی حاکمیت کو چلینج کر رہا ہے۔یہ تاثر بنیادی طور پہ اس لیے پیدا ہوا کہ خصوصاً چین شعبہ سائنس وٹکنالوجی میں بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔آج چین ہی ریسرچ اینڈ ڈویلمپنٹ پہ دنیا میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے۔پچھلے سال چینی حکومت نے اپنے ہاں سائنس وٹکنالوجی کی ترویج واشاعت پر 378ارب ڈالر خرچے تھے۔جبکہ امریکی حکومت صرف175ارب ڈالر ہی خرچ کر پائی۔

امریکی حکومت کھربوں ڈالر کی مقروض ہے۔لہذا وہ چین کی طرح اربوں ڈالر ریسرچ اینڈ ڈویلمپنٹ پہ نہیں لگا سکتی۔اسی واسے امریکی حکمران طبقہ اپنے نجی طبقے سے تعاون امنگ رہا ہے تاکہ وہ مل کر خصوصاً مصنوعی ذہانت پہ مبنی جدید ہتھیار ایجاد کر سکیں۔چند ماہ قبل امریکی حکومت نے منظوری دی ہے کہ رواں سال ریسرچ وینڈ ڈویلمپنٹ پر 250ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔رقم میں خاطر خواہ اضافہ اسی لیے کیا گیا تاکہ شعبہ سائنس وٹکناولوجی میں چین وروس کا مقابلہ ہو سکے۔امریکی حکمران طبقے کو احساس ہو گیا کہ اگر وہ اس شعبے میں پیچھے رہا تو دنیا میں اس کی حاکمیت کا سورج غروب ہو جائے گا۔مجوزہ 250ارب ڈالر میں سے کثیر رقم مصنوعی ذہانت پہ مبنی ہتھیار بنانے پر خرچ ہو گی۔

امریکا میں پنٹاگون اور سائنس وٹیکنالوجی کے نجی اداروں کے مابین شراکت داری بڑھانے میں ایرک شمڈت سرگرم ہے۔یہ گوگل کمپنی کا سابق سی ای او ہے۔2018ء میں ایک اہم سرکاری ادارے’’نیشنل سیکورٹی کمیشن آن آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا سربراہ بنایا گیا۔مدعا یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت سے ہتھیار بنانے کے سلسلے میں ایرک شمڈت اور اس کا نائب، رابرٹ ووک امریکی حکومت کو مشورے دے سکیں۔رابرٹ ووک سابق امریکی نائب وزیر دفاع ہے۔

یہ دونوں شخصیات چین کو امریکا کا سب سے بڑا حریف سمجھتی ہیں۔اسی لیے وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہتھیار تیار کرنے کے پُرزور حامی ہیں۔تاکہ چین سے جنگ ہو تو انھیں استعمال کر کے چینی افواج کو شکست دی جا سکے۔ان کا استدلال ہے کہ کرہ ارض پہ امریکا کمہوریت اور انسانی حقوق کا چیمپئن ہے۔جبکہ چین دنیا میں آمریت کی ترویج چاہتا ہے۔لہذا امریکا کا فرض ہے کہ وہ چین کا اثرورسوخ بڑھنے نہ دے اور اس کا مقابلہ کرے۔

چین سے متصادم ہونے کی خاطر یہ دلیل مگر دنیا والوں کو مطمئن کرنے کے لیے ہے۔اندرون خانہ چین و روس کو دشمن قرار دینے کا ہوّا اس لیے کھڑا کیا گیا تاکہ ’’امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس‘‘میں کام چلتا رہے۔یہ عسکری صنعتی ادارہ اسی وقت رواں دواں رہتا ہے جب امریکی اسٹیبلشمنٹ جنگیں چھیڑتی رہے۔اسی لیے امریکی حکمران طبقے کی سعی ہوتی کہ نت نئے دشمن تخلیق کر کے اور نئی جنگیں اپنا کر اپنا یہ وسیع وعریض صنعتی ادارہ چالو رکھا جائے۔

دوسری صورت میں اس ادارے سے منسلک لاکھوں امریکی بیروزگار ہو کر حکومت کے لیے دردسر بن جائیں گے۔رابرٹ ووک نے ایک تقریب میں پنٹاگون کو ’’دنیا کی سب سے بڑی کارپوریشنوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا تھا۔امریکی وزارت دفاع چونکہ کارپوریشن ہے لہذا وہ جنگیں شروع کر کے منافع کماتی ہے۔اور جنگیں اسی وقت جنم لیتی ہیں جب دیدہ ونادیدہ دشمن پیدا کر لیے جائیں۔

روبوٹ فوج
امریکا،چین اور روس کی بھرپور سعی ہے کہ وہ روبوٹوں پہ مشتمل فوج بنا لیں۔یہ فوجی روبوٹ انسانی فوجیوں سے کہیں زیادہ چست،ذہین اور لڑائی بھڑائی کے فن میں طاق ہوں گے۔مذید براں مصنوعی ذہانت رکھنے کی بدولت جنگ وجدل کے نئے طریقے بہت جلد سیکھ سکیں گے۔مثلاً یہ کہ اگر تنہا ہو جائے تو دشمن کا مقابلہ کیونکر کرنا ہے۔جبکہ دستے کی شکل میں حریف پہ کیسے حملہ کیا جائے۔

یہ روبوٹ موت سے ناآشنا ہو گی اور یہ امر اسے نہایت خطرناک بنا دے گا۔چونکہ روبوٹ بنانے کی ٹکنالوجی سستی ہو رہی ہے، لہذا عنقریب ایسی فوج کھڑی کرنے پہ خرچ کم آئے گا۔ایک حالیہ رپورٹ کی رو سے صرف دس ہزار روبوٹ فوجی نیویارک جیسے بڑے شہر کی آبادی ایک دن میں ختم کر دیں گے۔جبکہ مستقبل میں ایسا وقت آنے والا ہے جب دس ہزار روبوٹ فوجیوں والی آرمی تیار کرنے میں صرف ایک کروڑ ڈالر(ایک ارب ستر کروڑ روپے)خرچہ آئے گا۔

روبوٹ فوج کے فوائد ہیں۔مثلاً دوران جنگ کسی انسان کی جان نہیں جائے گی۔اسی طرح روبوٹ کو پروگرامڈ کیا جائے گا کہ وہ بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔مذید براں روبوٹ فوج کھڑی رکھنے میں اخراجات بھی کم ہوں گے۔

فائدے رکھنے کے باوجود اس کئی نقصانات بھی کافی ہیں۔سب سے بڑا نقصان یہی کہ اگر روبوٹ فوج انسانی اختیار سے آزاد ہو گئی تو پھر کیا ہو گا؟یہ فوج تب بہ آسانی دنیا پہ قبضہ کر لے گی۔وہ بنی نوع انسان کو اپنا غلام بنا کر اپنے کام کرائے گی۔ایسے مناظر فی الحال ہم سائنس فکشن فلموں میں دیکھتے ہیں ۔مگر مصنوعی ذہانت نے آگء چل کر خود کو آزاد وبااختیار بنا لیا تو تصّور حقیقت میں بدل جائے گا۔

ننھے قاتل ڈرون
مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر نت نیا سلحہ بنانے کا عمل تیزرفتار ہو چکا۔مثال کے طور پہ امریکا میں اب ایسے ننھے ڈرون تیار کرنے کی ٹکنالوجی عام دستیاب ہے جو اڑتے ہوئے کسی پہ فائرنگ کر سکیں۔ایسا ننھا ڈرون صرف ایک ہزار ڈالر(ایک لاکھ ستر ہزار روپے) میں بن جاتا ہے۔

ماہرین کے نزدیک یہ ایک خطرناک تبدیلی ہے۔کیونکہ اب جسے ڈرون تیار کرنے کا فن آ جائے، وہ مارکیٹ سے ساری ٹکنالوجی خرید کر ’’قاتل ڈرون‘‘تیار کر سکتا ہے۔یہ ڈرون پھر معاوضے کے عوض کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں۔چونکہ یہ چھوٹے اور بہت تیزرفتار ہوتے ہیں، لہذا ان پہ قابو پانا کافی مشکل ہے۔2018میں وینزویلا کے صدر پہ اسی قاتل ڈرون سے حملہ ہوا تھا اور وہ مرنے سے بال بال بچے تھے۔
https://www.express.pk/story/2241580/508/



دبئی دستاویزات کے لئے کاغذات کا استعمال مکمل طورپر ختم کرنے والا دنیا کا پہلا شہربن گیا۔

دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد نے بیان میں کہا کہ دبئی کی حکومت دنیا کی پہلی حکومت ہے جس نے دستاویزات کے لئے کاغذ کا استعمال 100 فیصد ختم کردیا گیا ہے۔

شیخ حمدان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے 35 کروڑ ڈالرز کی بچت ہوگی۔ یہ دبئی کو مکمل طورپر ڈیجیٹل کرنے کی طرف پہلا بڑا قدم ہے۔

دبئی حکومت کی تمام اندرونی اوربیرونی لین دین اوردیگرمعاملات اب 100 فیصد ڈیجیٹل ہوچکے ہیں جو سرکاری سروسز پلیٹ فارم سے چلائے جارہے ہیں۔

امریکا، برطانیہ ، یورپ اورکینیڈا بھی سسٹم کو مکمل طورپر ڈیجیٹل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2257985/10/



برطانوی ادارے ’ایئرو اسپیس ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ‘ نے ہائیڈروجن کے ایندھن سے پرواز کرنے والے نئے مسافر بردار طیارے ’فلائی زیرو‘ کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ اس میں 279 نشستیں ہوں گی اور یہ ایک بار ایندھن بھروانے کے بعد آدھی دنیا کا چکر لگا سکے گا۔

آسان الفاظ میں کہا جائے تو یہ طیارہ لندن سے سان فرانسسکو تک دوبارہ ایندھن بھروائے بغیر ہی پہنچ جائے گا۔

واضح رہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ہر سال زمینی فضا میں 37 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہوتی ہے جس میں ایک ارب ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ تجارتی اور مسافر بردار طیاروں سے خارج شدہ ہوتی ہے جو اس مجموعی سالانہ مقدار کا تقریباً 3 فیصد ہے۔


’فلائی زیرو‘ کی کارکردگی موجودہ مسافر بردار طیاروں جیسی ہی ہوگی لیکن یہ کوئی فضائی آلودگی خارج نہیں کرے گا۔

اس کے پروں کا پھیلاؤ 54 میٹر ہوگا جبکہ اس میں چار ہائیڈروجن ٹینک نصب ہوں گے: دو پچھلے حصے میں اور دو اگلے حصے میں دائیں اور بائیں جانب۔

ان ٹینکوں میں ہائیڈروجن کو منفی 250 کے انتہائی سرد درجہ حرارت پر رکھا جائے گا، جہاں سے ضرورت پڑنے پر یہ ٹربوفین انجنوں کو پہنچائی جائے گی جو اسے آکسیجن کے ساتھ ملا کر پانی بنائیں گے اور جہاز کو محوِ پرواز رکھنے کےلیے درکار توانائی پیدا کریں گے۔

اس عمل کے نتیجے میں صرف گرم آبی بخارات خارج ہوں گے لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بالکل بھی نہیں ہوگا۔

’فلائی زیرو‘ کا پروٹوٹائپ کب مکمل ہو کر پہلی پرواز کرے گا؟ اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا گیا۔ البتہ یہ اور اس جیسے منصوبوں کے ذریعے فضائی سفر کو آلودگی سے پاک بنانے میں بہت مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ مختلف بین الاقوامی ادارے ہائیڈروجن ایندھن سے پرواز کرنے والے مسافر بردار طیاروں پر پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔

’ایئربس‘ نے ایسے ہی ایک مسافر بردار ہائیڈروجن طیارے کا اعلان کر رکھا ہے جو 2035 میں اپنی پہلی پرواز کرے گا۔
https://www.express.pk/story/2257434/508/



دنیا بھر میں لوگ خود کو بہتر بنانے کے لیے بدن میں مائیکروچپس اور برقی سرکٹ کے پیوند لگاتے ہیں لیکن ایک برطانوی خاتون نے پوسٹ ہیومن بننے کے لیے گزشتہ 14 برس کے دوران اپنے بدن میں 50 مائیکروچپس، اینٹینا اور مقناطیس نصب کرائے ہیں۔

ان خاتون کا نام کسی کو نہیں معلوم لیکن وہ خود کو لیفٹ اینونِم کہتی ہیں۔ انہوں نے تمام پیوند بے ہوشی کے بغیر لگوائے ہیں اور اس کے محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہے لیکن وہ اپنی جسمانی کمزوریوں کو دور کرکے پوسٹ ہیومن بننا چاہتی تھیں۔ اسے ٹرانس ہیومن بھی کہا جاتا ہے یعنی انسان گوشت پوست کے ساتھ مشینوں کا مجموعہ بن جاتا ہے۔

لیفٹ نے کہا کہ ’مجھے سائنس سے لگاؤ ہے اور یہ میری زندگی ہے اور میں اپنے احساسات کو بڑھانا چاہتی ہوں اور میں کہنا چاہتی ہوں کہ میری کوئی جنس بھی نہیں ہے‘ ۔


سب سے پہلے انہوں نے 2007ء میں کریڈٹ کارڈ والی ایک چپ اپنی ہتھیلی میں لگوائی۔ اس کے بعد لیفٹ نے اپنی انگلیوں میں چھوٹے مقناطیس اور کوائل لگوائیں جن سے وہ سینسر کو چلاتی ہیں اور یوں کسی شے اور اپنے ہاتھ کے درمیان فاصلہ معلوم کرلیتی ہیں۔

سال 2019ء میں خاتون نے فائلوں کو اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا ایک سرکٹ بازو میں لگوایا لیکن 2020ء میں بازو کار دروازے پر لگنے سے ان کا ہاتھ سوج گیا اور تکلیف دہ انداز میں اسے جسم سے نکلوادیا گیا۔

لیفٹ اینونَم کے مطابق اب تک وہ 50 آپریشن کرواچکی ہیں جس پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2256544/509/



چشمہ لگانے والے افراد کیلئے امید کی کرن، اچھی خبر سامنے آگئی
Dec 11, 2021 | 12:53:PM

سورس: Pxhere.com ( creative commons license)

نیویارک (ویب ڈیسک) چشمہ لگانے والے افراد کیلئے اچھی خبر سامنے آگئی اور امریکا نے 15 منٹ میں دھندلے پن سے نجات پانے اور صاف بینائی واپس لانی والی آئی ڈراپ بنا لی ہے جس کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بھی منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کو مارکیٹ میں آنے والا ایک نیا منظور شدہ آئی ڈراپ ان لاکھوں امریکیوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے جن کی عمر 40 یا اس سے زائد ہیں یا جو دھندلا پن کا شکار ہوں،یہ آئی ڈراپ ریڈنگ گلاسز کی جگہ لے گا جنہیں قریب سے دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔کمپنی کے مطابق یہ دوا کم سے کم 15 منٹ میں اثر شروع کرتی ہے اور اس دوا کا ایک قطرہ 6 سے 10گھنٹے تک دھندلا پن ختم کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کم روشنی یارات کو گاڑی چلانے والے افراد کیلئے یہ قطرے مؤثر نہیں اور 65 سال کی عمر والے افراد بھی اس سے مستفید نہیں ہوسکتے۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Dec-2021/1376646?fbclid=IwAR28BqIMoR-x1y-uuYMMjG69-Tyc0_TyKPGq3LtONnmu80aEPnib7MkAUEY



ملک میں پہلی بار جین تھراپی کے ذریعے 2سالہ بچے کا علاج کیا گیا۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان کرمانی نے کہاکہ کہ چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے 2سالہ بچے شاویز کو 6ماہ کی عمر میں اسپائنل مسکولراٹرفی کی تشخیص ہوئی تھی،اس بیماری میں مریض کو پٹھوں کی کمزوری، پٹھوں کے تناؤ میں کمی، محدود نقل و حرکت، سانس کے مسائل اور اعصابی صلاحیتوں میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس بیماری میں مریض ریڑھ کی ہڈی میں خم کا شکار بھی ہوسکتا ہے،اسپائنل مسکولر اٹرفی موروثی بیماریوں کا مجموعہ ہے، اس بیماری سے حرام مغز اور اس سے متصل عصبی خلیات تباہ ہوجاتے ہیں، کزن میرج اس بیماری کی سب سے عام وجہ ہے۔

پاکستان میں پہلی بار جین تھراپی کے ذریعہ شاویز کا علاج کیا گیا، عالمی فارماسیوٹیکل کمپنی نوارٹس نے اس بیماری کے علاج کی دوابنائی، بیماری کے علاج میں دوا کی صرف ایک خوراک درکار ہے تاہم دوا کی قیمت کئی ملین ڈالرز ہے، نوارٹس نے سو مریضوں کو دوا کی مفت فراہمی کا پروگرام ترتیب دیا۔

شاویز پاکستان میں دوا حاصل کرنے والا پہلا مریض ہے، ان خیالات کااظہار انھوںنے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا، اس موقع پرسی ای او آغا خان یونیورسٹی اسپتال ڈاکٹر شاہد شفیع، متاثرہ بچہ شاویز اور اسکے اہلخانہ سمیت دیگر موجود تھے۔

ڈاکٹر سلمان کرمانی نے نے مزید کہاکہ نوارٹس سے دوا کی فراہمی کی درخواست کی، 6ماہ عملے کو تھراپی کی ٹریننگ دی اور مریض بچے شاویز کے تھراپی سے قبل ضروری ٹیسٹ کیے، شاویز کو دوسری سالگرہ سے ایک روز قبل دوا دی گئی، دوا کے بعد شاویز کی حالت میں نمایاں بہتری ظاہر ہورہی ہے۔

شاویز کی والدہ کا کہنا تھا کہ شاویز دن بدن صحت کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ سب اللہ کا کرم اور آغا خان اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کی محنت کا نتیجہ ہے، آغا خان اسپتال کے ویلفیئر پروگرام کے ذریعے شاویز کے علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی۔
https://www.express.pk/story/2257037/9812/



ابوظہبی میں بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس شروع کر دی گئی
Dec 07, 2021 | 18:05:PM


ابوظہبی(مانیٹرنگ ڈیسک) ابوظہبی میں بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس شروع کر دی گئی۔ گلف نیوز کے مطابق ابوظہبی کے حکام کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ان بغیرڈرائیور گاڑیوں کو ابوظہبی کی سڑکوں پر خودکار طریقے سے چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ سروس تاحال تجرباتی طور پر شروع کی گئی ہے جس کی کامیابی کے بعد اس کا دائرہ پھیلا دیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق بغیرڈرائیور ٹیکسی سروس کا یہ تجربہ یاس نامی جزیرے پر کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکسی سروس کے لیے ایک ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی گئی ہے جہاں رجسٹریشن کروا کے لوگ اس ٹیکسی سروس سے مسفید ہو سکیں گے۔ اس سروس میں تمام ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں شامل کی گئی ہیں جن میں سنسرز لگے ہوئے ہیں جو سمارٹ جیوگرافیکل ایکوسسٹم سے مربوط اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/07-Dec-2021/1374944?fbclid=IwAR11LlnrWNRLjNSOOabSMeyVVyfQ3ktsHN7r_akB1NGN8O65VQQdNnhYlrY



چین کی خلائی گاڑی یو تو2 نے چاندکے دوردراز علاقے میں پراسرارجھونپٹری دریافت کرلی۔

چین کی خلائی ایجنسی کی ویب سائٹ کے مطابق چاند کی سطح پرگشت کرتی خلائی گاڑی نے دور درازعلاقے میں ایک چھونپڑی نما چیز دریافت کی ہے۔ خلائی گاڑی نے جھونپڑی کی تصاویرخلائی ایجنسی کو بھیجی ہیں جس میں چاند کے تاریک حصے میں ایک چوکورچیز کودیکھا جاسکتا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی جارہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جھونپڑی سمجھی جانے والی چیزبڑا پتھریا کسی بڑے پتھر کا ٹکڑا ہوسکتا ہے۔
چین نے3سال قبل خلائی گاڑی چاند کے دور دراز اورتاریک حصوں کی معلومات جاننے کے لئے روانہ کی تھی۔
https://www.express.pk/story/2255889/509/



پہلے سے ایک متنازعہ کمپنی کلیئر ویو نے مصنوعی ذہانت کی بنا پر ایک سرچ انجن بنایا ہے جو ’چہرہ شناخت کرنے والا دنیا کا پہلا سرچ انجن‘ ہے۔
اس کا پورا نام کلیئر ویو اے آئی ہے جس نے حال ہی میں امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے کئی اداروں سے اشتراک بھی کیا ہے۔

اگست 2020 میں سرچ انجن کے پیٹنٹ کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے گزشتہ ہفتے پیٹنٹ عطا کی گئی ہے۔ لیکن اب اس کی خاصی بھاری بھرکم فیس ادا کرنا ہوگی۔

خبروں کی ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کلیئر ویو کے سربراہ ’ہوان تون تھاہ‘ نے کہا ہے کہ ان کی ایجاد اپنی نوعیت کا پہلا پلیٹ فارم ہے جو ’ بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ ڈیٹا‘ کو استعمال کرے گا۔ اس ڈیٹا کو چہرے کی شناخت میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے لیے وہ سوشل میڈیا سے اربوں تصاویر کھینچ نکالے گا جسے ڈیٹا اسکریپنگ کہتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اس کے ڈیٹا میں دس ارب تصاویر موجود ہیں۔ لیکن اس عمل پر انسانی حقوق اور پرائیوسی کے ماہرین نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ قانون ساز ادارے نئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں لوگوں کی پرائیوسی اور ذاتی معلومات کی حفاظت کریں۔

اس ایجاد پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم بھی خاموش نہ رہ سکی۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے رکن میٹ محمودی نے کہا ہے کہ اب جس شے کا تحفظ کرنا ہے وہ بہت ہی مشکل عمل ہے۔ اب کمپنیاں اس پر ملکیت جتاری ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہوگی۔

اگرچہ دنیا کے کئی ممالک اور شہر چہرے کی شناخت کو کم سے کم کرنے کے قوانین بناچکے ہیں اور ان میں یورپی ممالک پیش پیش ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2015 سے 2019 تک چہرے کی شناخت کرنے والی ہزاروں پیٹنٹ کی درخواستیں دی گئی ہیں جو ایک بڑھتے ہوئے سیلاب کو ظاہر کرتی ہیں۔

دوسری جانب فیس بک سے وابستہ سابق ماہر اور مصنف راجر مک نامی نے کہا ے کہ کلیئر ویو اپنے سرچ انجن کی بدولت جو کچھ کررہا ہے وہ ہمارے ٹوٹے پھوٹے کاپی رائٹ اور پیٹنٹ نظام کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔

کلیئر ویو نے اس پر مؤقف دیا ہے کہ اس کا سرچ انجن کنزیومر پراڈکٹ نہیں ہے بلکہ اس کے خاص مققصد ہیں اور اسے شادی ، تعلقات یا کاروبار وغیرہ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

کلیئرویو فیس سرچ انجن کا ایک پریشان کن پہلو یہ ہے کہ اسے قانون نافذ کرنے والے کئی امریکی ادارے استعمال کریں گے۔ ان میں 1803 مختلف ادارے اور ایجنسیاں بھی شامل ہیں جن میں ایف بی آئی، ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ادارے اور دیگر محکمے شامل ہیں۔
https://www.express.pk/story/2255755/508/



ایک کمپنی نے عام کاغذ پر پیانو کی کلیدیں (کیز) چھاپی ہیں جنہیں چھونے سے موسیقی بلند ہوتی ہے۔ اسے این ایف سی ٹیکنالوجی کی بدولت تیار کیا گیا ہے۔

این ایف سی ٹیکنالوجی سے ہم ڈیٹا شیئرنگ، کانٹیکٹ لینس ادائیگیاں اور دیگر امور انجام دیتے ہیں۔ اب پریلونک کمپنی نے ایک عام کاغذ پر پیانو کی چند کیز چھاپی ہیں جنہیں چھونے سے آواز پیانو کی آواز آتی ہے۔ 2007 میں قائم کردہ یہ کمپنی کاغذ پر بیٹریاں، ڈسپلے، سینسر اور دیگر برقی سرکٹ سازی کے لیے عالمی شہرت رکھتی ہے۔

سب سے پہلے انہوں نے انٹرایکٹو پیپر بنایا ہے جس میں این ایف سی اور سرکٹ پرنٹنگ کی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی بدولت ہلکے پھلکے کاغذی الیکٹرانکس کی ایک بالکل جدید قسم ہمارے سامنے ہے جس کے استعمالات بھی لامحدود ہیں۔

پہلے ایک لیزر پرنٹر سے کاغذ پر سادہ کی بورڈ چھاپا گیا۔ اس کے بعد کاغذ شیٹ کی پشت پر موصل (کنڈکٹر) کاربن کاڑھا گیا۔ ایک اور شیٹ لے کر اس پر سرکٹ چھاپا گیا۔ اب کی بورڈ کے نیچے ایک بہت ہی چھوٹی این ایف سی چپ نصب کی گئی ہے۔

اب چپ والی شیٹ کو سرکٹ والے کاغذ کے اوپر رکھدیا گیا تاکہ اوپر والی شیٹ انٹرفیس بن جائے۔ میوزک کے لیے اسمارٹ فون پر ایک ایپ بنائی گئی اور کی بورڈ کی بائیں جانب این ایف سی چپ کے اوپر رکھا گیا۔ کاغذی پیانو کو بجلی دی گئ جو فون اینٹینا سے ہوتی ہوئی پہنچ رہی تھی۔

اب جب بھی پیانو کے 8 بٹنوں میں سے ایک دبایا گیا اور اسپیکر سے آواز آنے لگی۔ اب اس اہم ایجاد کو گیم، تعلیم، اور اشتہارات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2256071/508/



برطانوی کمپنی ’انجینئرڈ آرٹس‘ نے ایک ایسا ’انسان نما روبوٹ‘ تیار کرلیا ہے جس کے چہرے پر انسانوں کی طرح مختلف جذبات مثلاً حیرت، خوشی، غم اور پریشانی وغیرہ ظاہر ہوتے ہیں۔

یوٹیوب پر اس روبوٹ کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے:
اس روبوٹ کا پورا نام ’’امیکا ہیومینوئیڈ روبوٹ اے آئی پلیٹ فارم‘‘ رکھا گیا ہے جسے مختصراً صرف ’’امیکا‘‘ (Ameca) کہا جاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روبوٹ کا چہرہ سفید سرمئی مائل رنگت کی کھال جیسے نرم اور لچکدار پلاسٹک سے بنایا گیا ہے جبکہ اس کی ’’آنکھیں‘‘ بھی کسی انسانی آنکھوں جیسی ہیں۔

روبوٹ کے چہرے پر کھال کو حرکت دینے کےلیے اس کے نیچے چھوٹے چھوٹے متحرک آلات لگائے گئے ہیں جن میں خاص طرح کی موٹریں بھی شامل ہیں۔

’’جذبات‘‘ ظاہر کرنے کےلیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والا ایک پروگرام ان آلات کو اس انداز سے حرکت دیتا ہے کہ روبوٹ کے چہرے پر موجود کھال کے مختلف حصوں میں کھنچاؤ اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

خاص ترتیب سے اس کھنچاؤ اور تناؤ کی وجہ سے روبوٹ کا چہرہ یوں لگتا ہے کہ اس پر مختلف انسانی جذبات اور تاثرات نمودار ہورہے ہوں۔

’’امیکا‘‘ کو اگلے سال جنوری میں برقی مصنوعات کی سب سے بڑی سالانہ عالمی نمائش ’’کنزیومر الیکٹرونکس شو 2022‘‘ میں رکھا جائے گا جو امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقد ہوگی۔

واضح رہے کہ اس روبوٹ کا واحد مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ روبوٹس کے چہروں پر بھی انسانوں جیسے تاثرات پیدا کرکے انہیں بھی ظاہری طور پر انسانوں جیسا بنایا جاسکتا ہے۔

مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی ایسے روبوٹس میں استعمال کی جاسکے گی جو ممکنہ طور پر اپنی دوسری صلاحیتوں میں بھی انسانوں سے قریب تر ہوں گے۔
https://www.express.pk/story/2256327/508/



ایم آر آئی میں مریض کیلئے جوسب سے بڑا فائدہ ہے وہ تابکاری (radiation) کی غیر موجودگی ہے۔
ایم آرآئی کے طریقہ کار میں تابکاری شامل نہیں ہوتی جس کے باعث مریض میں الرجک رد عمل کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ الرجک ردِعمل کا امکان سی ٹی اسکین اورایکسرے میں بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں آئیوڈین پر مبنی مادے استعمال کیے جاتے ہیں۔

دوسرا بڑا فائدہ جو سی ٹی اسکین اور ایکسرے میں نہیں ہوتا، وہ ہے وضاحت اور شفافیت۔ ایم آر آئی جسم کی نازک بافتوں کے ڈھانچے کی انتہائی واضح اور تفصیلی تصاویر پیش کرتا ہے جو کہ دیگر امیجنگ ٹیکنالوجی سے حاصل نہیں ہوتا۔

مذکورہ بالا تشخیصی طریقہ کار ایسی صورتوں میں اور بھی ضروری ہوجاتا ہے جب ڈاکٹروں کو متاثرہ نازک بافتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایم آر آی سی ٹی اسکین وغیرہ سے بہتر آپشن ہے۔

اسی حوالے سے سی ٹی اسکین کے بارے میں اگر مختصراً کہاجائے تو ایک ہی بات کافی ہے کہ یہ اپنے طریقہ کار کے حساب سے کامل نہیں ہے۔ کمپیوٹیڈ ٹوموگرافی (سی ٹی اسکین) میں مریض کو تابکاری سے پہنچنے والا نقصان ایکسرے سے 1000 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

CT اسکین سے حاصل شدہ تصاویر تفصیلی اور واضح نہیں ہوتیں اور ڈاکٹر مرض سے متعلق اہم معلومات سے محروم ہو سکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2256081/9812/



سائنسدانوں نے ہماری آنکھ کی ایک دلچسپ کیفیت کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ جب آنکھ سے باریک ترین تفصیل کو دیکھا جاتا ہے توہم ایک سیکنڈ کے بھی معمولی حصے تک نابینا ہوجاتے ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔

تحقیق کے مطابق آنکھ کے ریٹینا میں ایک باریک حصہ ’فیویولا‘ ہوتا ہے جو ہمیں کسی شے کی باریک ترین تفصیلات دکھاتا ہے۔ مثلاً بہت ساری اشیا کے ہجوم میں جب ہم اسٹال پر رکھی کتاب یا کسی اشتہار پر نظر جماتے ہیں تو فیویولا کی بدولت ہی دماغ تک اس کا سگنل پہنچتا ہے۔

ہماری آنکھیں جب فوری طور پر بڑے منظر سے کسی چھوٹی شے پر پڑتی ہیں تو اس منتقلی کو ’مائیکروسیکیڈ‘ کہتے ہیں کہ اس عمل میں آنکھ صرف اسی باریک شے کو دکھاتی ہے اور بقیہ مناظر کو دھندلاتی نہیں بلکہ ان سے ہمیں اندھا کردیتی ہے۔

یونیورسٹی آف روچیسٹر میں بصریات سے وابستہ جینس انٹوئے کے مطابق مائیکروسیکڈز کی بدولت بہت تھوڑی دیر کے لیے بصارت دب جاتی ہے جسے اندھا پن کہہ سکتے ہیں۔ اور جب جب ہم نظر ادھر ادھر ڈالتے ہیں تو یہ عمل ہوتا ہے۔

محققین کا اصرار ہے کہ یہ ایک اچھا عمل ہے اور جب ہم دوربین سے دیکھنے کےبعد آنکھ ہٹاتے ہیں اس وقت بھی یہ عمل واقع ہوتا ہے۔ اس میں آنکھ کو بڑے سے چھوٹے اور چھوٹے سے بڑے منظر کی جانب رجوع کرنے اور نظر کو موافق بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اس کی تصدیق کے لیے ماہرین نے کچھ رضاکاروں کو کمپیوٹر اسکرین پر ایک گیم کھیلنے کو دیا جس میں انہیں جانوروں کے باریک بالوں جیسی ایک چادرپرسے اچھلتی ہوئی جو نما مخلوق پر نظرجمانی تھی۔ جو یا فلی دکھائی دینے کی صورت میں انہیں جوائے اسٹک کا بٹن دبانا تھا۔ اس دوران ایک اسکینر آنکھوں کا جائزہ لیتا رہا تھا۔

سارے رضاکاروں نے اعتراف کیا کہ جیسے ہی انہوں نے بڑے پس منظر سے اپنی نظر ننھے کیڑوں پر ڈالی تو وقتی طور پر وہ کیڑے نظرنہیں آئے۔ یہاں تک کہ وہ انہیں براہ راست بھی نہیں دیکھ سکے تھے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ بلائنڈ اسپاٹ سے ہٹ کر ہم وقتی طور پر بھی بینائی کھودیتے ہیں اور یہ عمل خود بینائی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2255377/508/



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108853047&Issue=NP_PEW&Date=20211206



امریکی سائنسدانوں نے انتہائی باریک اور بے حد مختصر سوئیوں والا ایک ایسا اسٹیکر ایجاد کرلیا ہے جسے کھال پر چپکا کر کسی بھی بیماری کا پتا لگایا جاسکے گا۔

یہ اسٹیکر واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے ایجاد کیا ہے اور یہ ڈسپوزیبل ہے، یعنی ایک بار استعمال کے بعد ناکارہ ہوجاتا ہے۔

بیماری کا پتا لگانے کےلیے اسٹیکر کو کھال پر رکھ کر تھوڑا سا دبایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی باریک سوئیاں کھال میں معمولی سا اندر سرایت کرجاتی ہیں اور جلد کی سطح سے ذرا نیچے موجود جسمانی مائع کی بہت معمولی مقدار اپنے اندر جذب کرلیتی ہیں۔

یہ جسمانی مائع ایسے مادّوں سے بھرپور ہوتا ہے جو انسانی صحت یا بیماری سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔

ان میں حیاتی کیمیائی مرکبات (بایوکیمیکلز) کے علاوہ ’بایومارکرز‘ کہلانے والے مادّے بھی شامل ہیں جو بیماری و صحت کی مختلف کیفیات کا براہِ راست پتا دیتے ہیں۔

اسٹیکر کا اندرونی نظام انہی مادّوں کا تجزیہ کرکے متعلقہ فرد میں کسی بیماری کے موجود ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔

اس تحقیق کے نگراں اور مقالے کے مرکزی مصنف، ڈاکٹر شریکانتھ سنگمانینی کہتے ہیں کہ ایک چھوٹے سکّے جتنا یہ اسٹیکر کسی بھی موجودہ بایومارکر ٹیسٹ کے مقابلے میں 800 گنا زیادہ حساس ہونے کے علاوہ انتہائی سادہ، محفوظ، آسان اور کم خرچ بھی ہے۔

یہ اسٹیکر خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بیماریوں کی تشخیص میں استعمال کیا جاسکے گا جہاں نہ تو کوئی جدید طبّی تجربہ گاہ موجود ہے اور نہ ہی وہاں کے رہنے والے مہنگے میڈیکل ٹیسٹ برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

اپنی موجودہ حالت میں اس اسٹیکر کا پہلا پروٹوٹائپ تیار کیا گیا ہے جسے بیک وقت کئی بیماریوں کی مؤثر و مستند تشخیص کے ساتھ ساتھ کم خرچ پر صنعتی پیداوار کے قابل بھی بنایا جائے گا۔ اس نوعیت کی مزید تحقیق میں مزید چند سال لگ سکتے ہیں۔

اس ایجاد کی تفصیلات ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2141422/9812/



ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے ذیابیطس کی ایک دوا سے موٹاپا کم کرنے کی انسانی آزمائشوں میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

یہ آزمائشیں 1961 موٹے رضاکاروں پر 68 ہفتے تک جاری رہیں۔ اگرچہ یہ تمام افراد موٹاپے کا شکار تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی ذیابیطس کا مریض نہیں تھا۔

مطالعے کے دوران تقریباً نصف رضاکاروں کو ہفتے میں صرف ایک بار ’سیماگلوٹائیڈ‘ نامی دوا کی صرف 2.4 ملی گرام مقدار بذریعہ انجکشن دی گئی۔ ذیابیطس کی یہ دوا ’اوزیمپک‘ (Ozempic) کے نام سے فروخت کی جاتی ہے۔

باقی کے نصف رضاکاروں کو سیماگلوٹائیڈ/ اوزیمپک کے نام پر کسی دوسرے بے ضرر محلول کا انجکشن (پلاسیبو) دیا گیا۔

تقریباً دو سال جاری رہنے والی ان طبّی آزمائشوں میں شریک تمام رضاکاروں نے دوا کے ساتھ ساتھ صحت بخش معمولاتِ زندگی بھی اپنائے رکھے۔

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن رضاکاروں نے ہفتے میں ایک بار 2.4 ملی گرام سیماگلوٹائیڈ بذریعہ انجکشن لی تھی، ان میں سے دو تہائی کا وزن 20 فیصد تک کم ہوا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مطالعہ شروع ہونے سے پہلے اگر کسی رضاکار کا وزن 200 پونڈ تھا تو 68 ہفتے تک یہ دوا لینے اور صحت بخش معمولاتِ زندگی برقرار رکھنے کے بعد، اس کا وزن 40 پونڈ کم ہو کر 160 پونڈ رہ گیا تھا۔

ماہرین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جن مریضوں نے دوا روکنے کے بعد بھی صحت بخش معمولاتِ زندگی برقرار رکھے، ان کے وزن میں آئندہ ایک سال تک کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

یہ کامیابی اتنی غیرمعمولی ہے کہ سیماگلوٹائیڈ تیار کرنے والی یورپی فارماسیوٹیکل کمپنی ’’نووو نورڈِسک‘‘ نے وزن کم کرنے کےلیے اسے علیحدہ سے فروخت کرنے کی اجازت طلب کرلی ہے۔

امید ہے کہ یہ قانونی کارروائی بھی اس سال کے اختتام تک پوری ہوجائے گی جس کے بعد یہ دوا ذیابیطس کے علاوہ وزن کم کرنے کےلیے بھی فروخت کی جاسکے گی۔

اس تحقیق کی مکمل تفصیل ’’دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2141938/9812/ اسلام آباد:



پی ٹی سی ایل گروپ نے فائیو جی ٹیکنالوجی کا محدود ماحول میں کامیاب تجربہ کیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق پاکستان میں پہلی بار پی ٹی سی ایل گروپ نے فائیو جی ٹیکنالوجی کا محدود ماحول میں کامیاب تجربہ کیا، اور پہلی بار ریموٹ سرجری کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق، وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی، چئیرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ اور متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیمی الزبی بھی تقریب میں شریک تھے۔

تقریب کے شرکاء کو 5 جی ٹیکنالوجی پر بریفنگ دی گئی، جب کہ ریموٹ سرجری، کلاؤڈ گیمنگ اور فائیو جی ٹیکنالوجی ایپلیکشن کا جائزہ پیش کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتےہوئے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیمی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کا پی ٹی سی ایل کا تجربہ خوش آئندہ ہے، متحدہ عرب امارات آئی ٹی کے شعبہ اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں خاص مقام حاصل کرنے کے کئے کوشاں ہے، اور عرب ریجن میں پہلا ملک ہے جو فائیو جی ٹیکنالوجی کا تجربہ کررہا ہے، جب کہ دنیا میں پانچواں کامیاب ملک ہے جس کا مریخ کا مشن مکمل کیا۔

اماراتی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، دونوں ممالک کے قائدین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون بڑھایا جائے، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لئے اچھے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لئے قدامات کررہے ہیں۔

سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کے پابند ہیں، پی ٹی سی ایل گروپ کا کامیاب فائیو جی تجربہ اہم قدم ہے، فائیو جی ٹیکنالوجی بہت سے شعبوں میں نئی راہیں کھولے گی۔
https://www.express.pk/story/2142018/1/



دفاعی تحقیق کے امریکی ادارے ’ڈارپا‘ نے ایک نئے ڈرون ’لانگ شاٹ‘ پر کام شروع کروا دیا ہے جو میزائلوں سے لیس ہوگا اور جسے بلندی پر اڑتے ہوئے کسی طیارے سے چھوڑا جاسکے گا۔

لانگ شاٹ پر ابتدائی کام اور ڈیزائن کا ٹھیکہ تین بڑے اداروں کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان میں جنرل اٹامکس، لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین شامل ہیں۔

اس حوالے سے ڈارپا کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ’لانگ شاٹ‘ غیر انسان بردار طیارے (ڈرون) کا مقصد فضائی مشن کی طویل فاصلوں تک رسائی اور کامیابی کو یقینی بنانے کے علاوہ ’قیمتی طیاروں اور پائلٹوں‘ کو نقصان سے محفوظ بنانا ہے۔

اسی طرح کے ڈرونز کا ایک اور منصوبہ ’گریملن‘ کے عنوان سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ ممکنہ طور پر مستقبل میں یہ دونوں منصوبے یکجا کر دیئے جائیں گے کیونکہ دونوں کے مقاصد کم و بیش ایک ہی جیسے ہیں۔

ڈارپا پروگرام مینیجر، لیفٹیننٹ کرنل پال کیلہون کے مطابق، لانگ شاٹ پروگرام کے تحت بننے والے ڈرونز فضا سے فضا میں مار کرنے والے موجودہ اور جدید تر، دونوں طرح کے ہتھیار استعمال کرنے کے قابل ہوں گے جن کی بدولت میدانِ جنگ میں امریکی برتری اور بھی مستحکم ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2141388/508/?__cf_chl_jschl_tk__=F9BvRSNJvhnEb2er8BGnXbu7Ovk09EbMPmCBXXc4Ye4-1638729802-0-gaNycGzNDP0



سائنسدانوں نے ایک روبوٹ نما شے تیار کی ہے جسے کسی بھی ڈرون پر لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ڈرون کسی ناہموار جگہ پر اترسکتا ہے، اشیا کو گرفت کرسکتا ہے اور درخت کی ٹہنی کو اپنے پنجے سے گرفت کرکے اس پر بیٹھ سکتا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پیرگرائن شکرے سے متاثر ہوکر اسے تیار کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے پنجے تھری ڈی پرنٹر سے چھاپے گئے ہیں۔ اس طرح یہ اڑتا ہے، اترتا ہے، اشیا کو اپنے پنجے میں لے جاسکتا ہے اور درخت پر اترسکتا ہے۔


اس روبوٹ کو ایس این اے جی یا اسنیگ کا نام دیا گیا ہے جس کے ہر پاؤں (پنجے) پر دو موٹریں نصب ہیں ۔ ایک موٹر پاؤں کو آگے اور پیچھے گھماتی ہے اور دوسری اسے گرفت فراہم کرتی ہے۔ لیکن روبوٹ کو اس کے قابل بنانا کوئی آسان نہ تھا۔

ماہرین نے 20 طریقے استعمال کیے اور ان میں سے ایک میں کامیابی ملی ہے۔ اب یہ اتنا بہتر ہے کہ صرف 20 ملی سیکنڈ میں درخت کی شاخ کو پکڑ لیتا ہے۔ سیدھے پنجے میں ایسلرومیٹر نصب ہے جو مشین کو اترنے کا احوال بتاتی ہے۔ جبکہ دوڑنے اور ہموار رکھنے کے لیے خاص الگورتھم بنایا گیا ہے۔


اس کے بعد ڈرون پرندے کو دیہی اور سرسبز جنگلات میں اڑایا گیا۔ اس نے وہاں شاندار کارکردگری دکھائی۔ ایک جعلی پرندہ پکڑا، ٹینس بال کو اٹھایا اور ادھر ادھر درختوں پر اترتا رہا۔ اس کا سب سے بہترین استعمال ماحولیات میں ہے جہاں یہ پرندہ ڈرون درجہ حرارت، نمی اور دیگر فضائی کیفیات کا جائزہ لے کر اہم ڈیٹا ہم تک بھیج سکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2254214/508/



اقوامِ متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا میں ہر تین میں سے ایک فرد کبھی بھی آن لائن نہیں ہوا۔ اس طرح کل دو ارب نوے کروڑ افراد اس سے محروم ہیں جو عالمی آبادی کا 37 فیصد ہے۔ اس کا انکشاف اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ٹیلی کمیونکیشن بیورو نے کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ 2019 کے مقابلے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا اور اب مجموعی طور پر چارارب نوے کروڑ افراد آن لائن رسائی رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وبا کے تناظر میں لوگوں نے انٹرنیٹ سے رابطہ کیا اور اپنی معلومات میں اضافہ کیا۔

اس اضافے پر اقوامِ متحدہ نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اسی وبا نے عالمی انٹرنیٹ خلیج یا ڈجیٹل ڈیوائڈ کو بھی واضح کیا ہے۔ اس سے بچے اور اساتذہ بالخصوص متاثر ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ صورتحال مزید مشکل ہوگئی اور لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا۔

حیرت انگیز طور پر امریکہ کے پسماندہ اور غریب ترین علاقوں میں بھی لاکھوں بچے اور ان سے وابستہ اساتذہ بھی ہارڈویئر اور انٹرنیٹ سے دور تھے۔ اس طرح لاکھوں کروڑوں بچوں کا بہت زیادہ تدریسی نقصان ہوا ہے اور مزید ہورہا ہے۔
https://www.express.pk/story/2254155/508/



یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ہلکا پھلکا ’ہائیڈروجل‘ تیار کرلیا ہے جو کسی جیلی کی طرح نرم اور لچک دار ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا مضبوط بھی ہے کہ اگر اس پر سے بھاری گاڑی بھی گزار دی جائے تو اسے کچھ نہیں ہوتا۔

بھاری چیز گزرنے پر جیسے ہی اس کا دباؤ بڑھنا شروع ہوتا ہے تو یہ فوراً خود کو تبدیل کرکے شیشے جیسی حالت میں آجاتا ہے اور اس کے سالمے (مالیکیولز) ایک دوسرے کو زیادہ مضبوطی سے جکڑ لیتے ہیں۔

البتہ، یہ دباؤ جیسے ہی کم ہو کر معمول پر آتا ہے تو یہ ہائیڈروجل بھی اپنی اصل حالت میں واپس آجاتا ہے۔ اس طرح یہ اپنی لچک اور مضبوطی ایک ساتھ برقرار رکھتا ہے۔
اپنی اسی خاصیت کی بناء پر یہ ’سپر جیلی‘ کے نام سے بھی مشہور ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ ’ہائیڈروجل‘ (hydrogels) فوم جیسے نرم اور ہلکے پھلکے مادّے ہوتے ہیں جن میں پانی کے سالموں (مالیکیولز) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

مختلف خصوصیات والے ہائیڈروجل کا استعمال حفظانِ صحت سے متعلق مصنوعات اور زخموں پر باندھنے والی پٹیوں کے علاوہ کونٹیکٹ لینس کی تیاری میں بھی کیا جارہا ہے۔

تاہم اب تک بننے والے ہائیڈروجل نرم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نازک بھی ہوتے ہیں جو کھنچاؤ یا دباؤ بڑھنے پر ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔

روایتی ہائیڈروجل کے مقابلے میں ’سپر جیلی‘ اس طرح سے مختلف ہے کہ دباؤ بڑھنے پر اس کے مالیکیولز ایک دوسرے کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ ایسے جکڑ لیتے ہیں کہ جیسے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر آپس میں باندھ دیا گیا ہو۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر زیہوان ہوانگ کے مطابق ’کراس لنکنگ‘ کہلانے والے ایک کیمیائی مظہر کو بندوق کی نالی جیسے سالموں ’کیوکربیٹوریلز‘ سالموں پر استعمال کرتے ہوئے یہ سپر جیلی تیار کی گئی ہے۔

اگرچہ اس سپر جیلی کا 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے لیکن پھر بھی یہ بہت زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس منفرد ایجاد کی تفصیل آن لائن ریسرچ جرنل ’نیچر مٹیریلز‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے، جس کے مصنّفین نے امید ظاہر کی ہے کہ طبّی آلات سے لے کر اسمارٹ فون کی مضبوط اسکرین تک، درجنوں مقاصد میں یہ سپر جیلی ہماری ضروریات بہتر انداز سے پوری کرسکے گی۔
https://www.express.pk/story/2253693/508/



کسی بھی جگہ آگ لگ جانے کی صورت میں سیلنڈر نما آگ بجھانے والے آلے سے مدد لی جاسکتی ہے لیکن ایلائڈ نامی گیند بہت آسانی سے ازخود پھٹ کر آگ کو بجھاسکتی ہے۔

اس کی قیمت 80 سے 110 ڈالر ہے جو ماڈل کے حساب سے اور یہ سات سال تک قابلِ عمل رہتی ہے۔ ائلائڈ گیند کا استعمال بہت آسان ہے۔ اسے آگ سے حساس جگہوں پر رکھا جاسکتا ہے جہاں معمولی حرارت بڑھنے پر گیند ازخود پھٹ جاتی ہے اور وسیع رقبے کی آگ سیکنڈوں میں بجھ جاتی ہے۔

اس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کسی انسانی مداخلت کے بغیر ایلائڈ گیم اپنا کام کرسکتی ہے اور اسے آتشزدگی کے خطرے سے دوچار مقامات پر رکھا جاسکتا ہے۔ معمولی حرارت بڑھنے پر یہ ازخود روبہ عمل ہوجاتی ہے۔ اپنی خصوصیت کی بنا پر اسے الٹا دستی بم کہا جاسکتا ہے ۔ اس کا الٹ بھی ہے یعنی آگ بھڑکنے والے مقام پر اسے پھینک دیا جائے تو یہ ٹھنڈے بم کی طرح پھٹ کر اسے بھی سرد کردیتی ہے۔

اسے بجلی کے تاروں والے مقامات اور دیگر جگہوں پر رکھا جاسکتا ہے۔ چھوٹی گیند 19 مربع فٹ اور بڑی گیند 60 مربع فٹ رقبے کی آگ ٹھنڈا کرسکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2253047/508/



انڈونیشیائی انجینئروں نے گندے پانی میں موجود پلاسٹک کے باریک ذرّے (مائیکرو پلاسٹک) الگ کرنے کےلیے ایک نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرلی ہے جس میں خاص طرح کے اسپیکر استعمال کرتے ہوئے، آواز کی طاقت سے کام لیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پلاسٹک کی دیگر اقسام کی طرح مائیکرو پلاسٹک بھی آج ماحولیاتی آلودگی کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو پانی میں شامل ہو کر نہ صرف انسانوں بلکہ آبی جانوروں تک کی صحت اور زندگی کےلیے شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ ایجاد سیپولوہ نوپمبر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے انجینئر دھانی عارفانتو اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جس کا پروٹوٹائپ ’’اکوسٹیکل سوسائٹی آف امریکا‘‘ کے 181 ویں اجلاس میں پیش کیا گیا ہے جو سیاٹل، امریکا میں 29 نومبر سے شروع ہوا اور 3 دسمبر تک جاری رہے گا۔

یہ پروٹوٹائپ دو اسپیکروں پر مشتمل ہے جن سے خاص فریکوینسی والی آواز کی لہریں (صوتی موجیں) ایک ساتھ خارج ہوتی ہیں جو ایک پتلی نلکی میں آہستگی سے بہتے ہوئے پانی پر دباؤ ڈالتی ہیں۔

صوتی لہروں کے دباؤ اور تھرتھراہٹ (وائبریشن) کی وجہ سے پانی میں شامل مائیکرو پلاسٹک الگ ہوجاتا ہے۔

مزید آگے جا کر یہ ٹیوب مزید تین چھوٹی چھوٹی نلکیوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ صاف شدہ پانی دائیں اور بائیں نلکیوں میں چلا جاتا ہے جبکہ مائیکرو پلاسٹک والا پانی درمیان کی چھوٹی نلکی میں داخل ہوجاتا ہے۔

عارفانتو کے مطابق، یہ پروٹوٹائپ ایک گھنٹے میں 150 لیٹر پانی کی صفائی کرسکتا ہے۔

اگرچہ مختلف اقسام کے مائیکرو پلاسٹکس کی صفائی میں اس پروٹوٹائپ کی کارکردگی مختلف رہی، تاہم گھریلو آلودہ پانی سے اس نے اوسطاً 56 فیصد مائیکرو پلاسٹکس صاف کیے جبکہ سمندری پانی کےلیے یہ شرح 58 فیصد نوٹ کی گئی۔

’’ہماری ایجاد ابھی پروٹوٹائپ کے مرحلے پر ہے،‘‘ عارفانتو نے بتایا، ’’اس کے ذریعے ہم نے ثابت کیا ہے کہ پانی میں سے باریک پلاسٹک کی صفائی کےلیے صوتی موجوں (اکوسٹک ویوز) کا استعمال قابلِ عمل طریقہ ہے۔‘‘

اب وہ اس پروٹوٹائپ کو مزید بہتر بنانے پر کام کررہے ہیں تاکہ اسے جلد از جلد حتمی صورت دے کر بڑے پیمانے پر تیار اور فروخت کرنے کے قابل بنا سکیں۔
https://www.express.pk/story/2253215/508/



یہ نہ ہی پودا ہے، نہ جانور ہے بلکہ یہ ایک زندہ روبوٹ ہے جو اب اپنی نسل بڑھا سکتا ہے۔ اسے زینوبوٹ کا نام دیا گیا ہے۔

پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے۔ اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے ملکر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔


ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا۔

ایک اور ماہر جوش بوگارڈ کہتے ہیں کہ لوگ دھات اور الیکٹرونک کے مجموعے کو ہی روبوٹ سمجھے ہیں، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنے حیاتیاتی روبوٹ کو ایک جاندار بھی کہہ سکتے ہیں جسے مینڈک کے خلیات سے بنایا گیا ہے۔

ایک زینوبوٹ گول دانے جیسا ہے جو 3000 خلیات سے بنایا گیا ہے۔ یہ اپنی نقل بناسکتا ہے لیکن بہت خاص حالات میں ایسا کرتا ہے۔ لیکن یہ حرکی (کائنیٹک) نقول بناتا ہے اور یہ عمل حیاتیات میں اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔

لیکن یہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو استعمال کیا گیا جس سے اربوں جسمانی ساختیں بنائی گئیں اور ان میں سے بہترین منتخب کی گئیں۔ ان میں سی شکل کا روبوٹ بہترین تجویز کیا گیا جو پیک مین ویڈیو گیم کی شکل کا تھا۔

پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے۔

تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔
https://www.express.pk/story/2253382/508/



جامعہ واشنگٹن اور پرنسٹن یونیورسٹی کے انجنیئروں نے غالباً دنیا کا سب سے چھوٹا کیمرہ بنایا ہے جو بہت واضح رنگین تصاویر لے سکتا ہے۔ یہ روشنی کو جذب کرنے والی میٹاسرفیس سے بنایا گیا ہے جس کا ہر حصہ روشنی جذب کرتا ہے اور اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

یہ شیشے کا ایک شفاف پینل نما نظرآتا ہے جس میں گول دائرے میں کوئی سفید شے دکھائی دے رہی ہے۔ نصف ملی میٹر کی معمولی جسامت کی یہ ایجاد روشنی کو اس طرح موڑتی ہے کہ اس کا عکس مکمل ہوجاتا ہے ۔ پھر ایک الگورتھم سگنل پروسیسنگ طریقے سے ڈیٹا سے تصویر کی تشکیل کرتا ہے۔


حیرت انگیز طور پر بہت شفاف اور خوبصورت تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں سے ایک نیچے دائیں جانب دیکھی جاسکتی ہے۔ کیمرے کے سینسر نے سب سے پہلے 720 پکسل چوڑی اور اتنی لمبی تصویر کھینچی، جس نے قدرتی روشنی میں 400 سے 700 نینومیٹر طولِ موج میں تصویر لی ہے۔ اس میں فی ملی میٹر 214 لائنیں دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ کیمرہ 40 درجے فیلڈ ویو دیکھ سکتا ہے۔

اس ایجاد کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تجارتی پیمانے پر اس کی تیاری بہت آسان ہے۔ کیمرہ سینسر سلیکون نائٹریٹ پرمشتمل ہے اور الٹراوائلٹ لیتھوگرافی سے کاڑھا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا سب سے اہم استعمال طب و صحت میں ہوسکتا ہے۔ اس طرح فون کی پشت پر تین یا چار کیمروں کی ضرورت ختم ہوجائے گی اور پوری کسینگ کو پر انہیں لگاکر ایک بڑا کیمرہ بنانا ممکن ہوگا۔
https://www.express.pk/story/2253424/508/



موٹاپے اور دل کے مریضوں کو مسلسل اپنے کولیسٹرول پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔ لیکن اب چینی ماہرین نے ایسی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جو کسی تکلیف اور ٹیسٹ کے بغیر صرف جلد دیکھ کر خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا بہت حد تک درست اندازہ لگاسکتی ہے۔

چینی اکادمی برائے سائنس اور جامعہ سائنس و ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر ایک بہت سادہ طریقہ وضع کیا ہے۔

اس میں کم استعمال ہونے والے ہاتھ کو الکحل کے پھائے سے صاف کیا جاتا ہے۔ پھر صاف کردہ جگہ پر ایک چھلا چپکایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہاتھ کو اسکیر پر رکھا جاتا ہے تاکہ چھلا اسکینر کے ساتھ فٹ ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ کم استعمال ہونے والا ہاتھ نرم ہوتا ہے جسے پڑھ کر’کولیسٹرول‘ کا اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے۔

جس طرح جلد سے روشنی ٹکراکر بکھرتی یا جذب ہوتی ہے عین اسی طرح روشنی کی خاص طیفی (اسپیکٹرل) کیفیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پھر اسی چھلے والی جگہ پر ایک مائع کیمیکل لگایا جاتا ہے۔ اب دوبارہ جلد کو اسکین کیا جاتا ہے۔

اگر جلد میں کولیسٹرول کی معمولی مقدار بھی ہو تو وہ اس کیمیکل سے چمکنے لگتی ہے اور یوں جلد کی روشنی کا طیف بدل جاتا ہے۔ اب پہلے اور دوسرے اسکین کا باہم موازنہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح مریض کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس طریقے کو 121 مریضوں پر آزمایا گیا جو دل کی شریانوں کے مرض میں مبتلا تھے۔ عام طریقے سے انہیں اپنا کولیسٹرول معلوم تھا۔ اب نئے سسٹم نے بہت درستگی کے ساتھ کولیسٹرول کی پیمائش کی جو اس کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2253448/9812/



مختلف اقسام کے بیکٹیریا پر مشتمل زندہ روشنائی سے ایسی عمارات بنائی جاسکتی ہیں جو نہ صرف مضر جراثیم اور گیسوں کو کم کرسکتی ہیں بلکہ عمارت کی ٹوٹ پھوٹ کو بھی کم کرسکتی ہیں۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے اویناش باسوانہ کہتے ہیں کہ اپنی نوعیت کی باشعور روشنائی ماحول کے لحاظ سے ردِ عمل کرتی ہے۔ ان پر موجود بیکٹیریا کا جال زہریلے مرکبات جذب کرتا ہے۔ لیکن ان میں جینیاتی تبدیل شدہ ای کولائی بیکٹیریا ملانے سے ایسی زندہ ساخت تشکیل دی جاسکتی ہے جو زہریلے مرکبات ختم کرسکتی ہے یا پھر کینسرکی دوا ایزیورِن خارج کرتی ہو۔ اگرانہیں درودیوار پر لگایا جائے تو یہ پلاسٹک میں عام پائے جانے والے زہریلے مادے بسفینول اے کی کاٹ کرتے ہیں جو کینسر اور بے اولادی کی وجہ بن سکتے ہیں۔

لیکن اب بھی اس انک کی بڑے پیمانے پر تیاری ناممکن نظر آتی ہے۔ لیکن اس سے عمارات کو صاف رکھنے اور مضر گیسوں سے ضرور بچایا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں ازخود درست ہونے والے پینٹ سے عمارت کو عشروں تک نیا بھی بنانا ممکن ہے۔

ماہرین نے ایک خاص پروٹین پالیمر کرلی نینوفائبر سے یہ روشنائی بنائی ہے جس میں تبدیل شدہ ای کولائی بیکٹٰیریا سے نینوفائبر بنائے گئے ہیں۔ اپنے مخالف چارج کی باعث یہ ایک دوسرے میں جڑ جاتے اور لمبی شیٹ بناسکتے ہیں۔ ایسے مٹٰیریئل سے بنے خلائی جہاز طویل خلائی مسافت میں اپنی ٹوٹ پھوٹ کو ازخود دور کرسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کی تبدیل شدہ ای کولائی سے ایک مائع بھرا جیل بنایا گیا جس نے 24 گھنٹے میں ایک جیل سے 30 فیصد آلودہ اور زہریلے مرکبات جذب کئے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بلڈنگ پر لگانے کے بعد کئ برس تک بیکٹیریا کی افادیت برقرار رہ سکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2252644/508/



بڑھتے وزن اور توند سے پریشان افراد کے لیے انتہائی مفید غذا سامنے آگئی
Jan 11, 2019 | 14:04:PM


کراچی (ویب ڈیسک) بڑھتے وزن سے پریشان افراد کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں اور کس چیز میں کتنی کیلوریز ہوں گی؟ احتیاط کے باوجود وزن بےاحتیاطی کرہی جاتا ہے لیکن اب ایسے افراد کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔جن افراد کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے ان کیلئے بھنے ہوئے سیاہ چنوں کا استعمال سب سے بہترین غذا ہے کیونکہ اس میں کیلوریز کم ہونے کے ساتھ ساتھ پروٹین اور فائبر بھی موجود ہے جس کے باعث کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔

سماء ٹی وی کے مطابق بھنے ہوئے چنوں کو چھلکوں کے ساتھ چنے کھانے سے جسم کو کثیر مقدارمیں فائبراورپروٹین حاصل ہوتا ہے اور یہ جسم سے اضافی چربی کا خاتمہ کرنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔وزن کم کرنے کی صلاحیت رکھنے کے علاوہ بھنے ہوئے چنے فولاد یعنی آئرن کی بھی مناسب مقدار فراہم کرتے ہیں، انہیں کھانے سے جسم صحت مند وتوانا رہتا ہے۔دیر سے ہضم ہونے کے باعث انہیں کھانے کے کافی دیرتک بعد تک بھوک محسوس نہیں ہوتی۔


غذائی ماہرین کے مطابق کم کیلوریز کے باعث وزن کم کرنے کیلئے بھنے چنوں کا استعمال نہایت مفید ہے۔ ایک پیالی ابلے ہوئے چنوں کی چاٹ سے بھی پیٹ بھراجاسکتا ہے اور غذائی اعتبار سے بھی یہ بہترین ثابت ہوں گے۔ 2 ماہ تک بھنے چنے کھانے کے خاطر خواہ نتائج سامنے آتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/11-Jan-2019/909825?fbclid=IwAR1CgZ1CWCo9Ke3SKnwZ088y6tw5LNQ_EZ3cC_nUbrW_NYYRZyzIReB3J8s



چین نے خلا میں استعمال کےلیے ایسے ایٹمی بجلی گھر کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جو ایک میگاواٹ بجلی بنا سکتا ہے۔

یہ اب تک کا طاقتور ترین خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے زیرِ تکمیل خلائی ایٹمی بجلی گھر سے بھی 100 گنا زیادہ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔ ناسا اپنا نیا ایٹمی بجلی گھر 2030 تک چاند کی سطح پر اُتارنا چاہتا ہے۔

چینی خلائی ایٹمی بجلی گھر کا انکشاف ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے اپنے نمائندہ بیجنگ اسٹیفن چین کی ایک تازہ خبر میں کیا ہے۔

خبر کے مطابق، اس خلائی ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ چینی حکومت نے اپنے خلائی پروگرام میں ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق زیادہ تر معلومات خفیہ رکھی ہوئی ہیں۔

البتہ اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ اس ایٹمی بجلی گھر کا مقصد چاند، مریخ اور دور دراز سیاروں پر بھیجے جانے والے مجوزہ خلائی جہازوں کو لمبے عرصے تک توانائی فراہم کرنا ہے۔

اس منصوبے پر چینی حکومت کی فنڈنگ سے 2019 میں کام شروع ہوا تھا جبکہ حالیہ چند دنوں میں اس نے اپنے پہلے پروٹوٹائپ کی شکل میں پہلا سنگِ مِیل (مائل اسٹون) عبور بھی کرلیا ہے۔

یہ خاص طور پر ان حالات اور مقامات کےلیے مفید ہوگا جہاں سورج کی روشنی یا تو زمین کے مقابلے میں بہت مدھم ہوتی ہے یا پھر اس میں بار بار اتنا زیادہ اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے کہ شمسی توانائی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

چین کا منصوبہ 2023 سے 2030 تک بالترتیب چاند کے تاریک حصے پر (جو ہمیشہ زمین کے مخالف سمت میں رہتا ہے) اور مریخ تک بڑی تعداد میں خلائی جہاز بھیجنا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پہلے ہی 2030 تک اوّلین انسان بردار پرواز بھی مریخ تک بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی خبر میں ایک چینی ایٹمی سائنسدان کی شناخت ظاہر کیے بغیر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خلائی ایٹمی بجلی گھر کو مختصر جسامت کے ساتھ زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانے کےلیے ٹیکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اب تک خلا میں استعمال کےلیے جتنے بھی ایٹمی بجلی گھر بنائے گئے ہیں وہ صرف چند سو واٹ بجلی بنانے کے قابل رہے ہیں جبکہ 10 کلوواٹ سے 300 کلوواٹ بجلی بنانے کے بیشتر منصوبے اب تک اپنی تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں۔

اس لحاظ سے یہ دنیا کا پہلا خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو ایک میگاواٹ (1000 کلوواٹ) جتنی بجلی بنائے گا۔
https://www.express.pk/story/2252176/508/



برطانوی کمپنی ’’پلسر فیوژن‘‘ ایک ایسے خلائی راکٹ پر کام کررہی ہے جو روایتی راکٹ ایندھن کے ساتھ ساتھ پلاسٹک کے کچرے سے تیار کردہ ایندھن بھی استعمال کرے گا۔

گزشتہ ہفتے برطانوی وزارتِ دفاع کی نگرانی میں اس راکٹ کی کامیاب ساکن آزمائشیں سیلسبری میں مکمل کی جاچکی ہیں۔


اس راکٹ میں ایندھن کے طور پر ’ایچ ڈی پی ای‘ کہلانے والے پلاسٹک کا کچرا اور نائٹرس آکسائیڈ آکسیڈائیزر استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایچ ڈی پی ای کو بوتلوں، پائپوں اور کٹنگ بورڈز کے علاوہ سیکڑوں اقسام کی پلاسٹک مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ 2022 تک اس پلاسٹک کی سالانہ پیداوار 6 کروڑ 70 لاکھ ٹن تک جا پہنچے گی۔

پلسر فیوژن کے تیار کردہ راکٹ میں ایچ ڈی پی ای کو شدید دباؤ پر اور انتہائی کثیف حالت میں نائٹرس آکسائیڈ آکسیڈائیزر کے ساتھ جلایا جاتا ہے۔

اس طرح بننے والی گرم گیس کا تیز رفتار جھکڑ، زبردست طاقت کے ساتھ راکٹ کے نوزل سے باہر خارج ہوجاتا ہے اور اسے مطلوبہ ’’تھرسٹ‘‘ (آگے بڑھانے والی قوت) فراہم کرتا ہے

پلسر فیوژن کا کہنا ہے کہ شدید دباؤ پر نائٹرس آکسائیڈ آکسیڈائیزر کے ساتھ پلاسٹک جلنے سے جو دھواں خارج ہوگا، وہ ’’تقریباً بے ضرر‘‘ ہوگا اور اسی بناء پر وہ اپنے راکٹ کو ’’ماحول دوست‘‘ قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے تجربات میں اس راکٹ کا چھوٹی جسامت والا پروٹوٹائپ، زمین پر نصب اسٹینڈ کے ساتھ باندھ کر آزمایا گیا تھا۔

آزمائشوں کے دوران اس نے اندازوں کے عین مطابق تھرسٹ پیدا کیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔


اگلے مراحل میں بتدریج بڑی جسامت والے تجرباتی راکٹ اسی طرح آزمائے جائیں گے، جس کے بعد یہ اپنی اوّلین آزمائشی پروازیں کرے گا جو متوقع طور پر 2028 سے 2030 کے درمیان ہوں گی۔
غرض ہر طرح کی چھان پھٹک کے بعد ہی اسے خلاء میں بھیجنے کےلیے حتمی شکل دی جائے گی۔
https://www.express.pk/story/2251866/508/



واشنگٹن: جامعہ واشنگٹن کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی طریقہ بیان کیا ہے جس کے تحت اگر معمولی مدت کےلیے لیزر کے جھماکے پھینکے جائیں تو اس سے سخت ترین جراثیم اور بیکٹیریا کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔

سائنسدانوں نے اسے مختصر مدت کی پلس لیزر کہا ہے جس کی بدولت ناقابلِ علاج بیکٹیریا (سپربگز) اور دیگر ایسے جراثیم ختم کئے جاسکتے ہیں جو کسی بھی طرح تلف نہیں ہوتے۔ اب لیزر کی بدولت زخموں کو ان سے پاک کیا جاسکتا ہے یا پھر خون کے نمونوں سے ان کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انتہائی مختصر لیزر سے صحتمند انسانی خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس کی تفصیل بایوفوٹونکس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس سے ڈھیٹ جراثیم کو تباہ کرنے کا راستہ کھلا ہے اور ثابت ہوا ہے کہ تندرست خلیات کو یہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ اس کے روحِ رواں پروفیسر شا وائی ڈیوڈ سین کہتے ہیں کہ ہم لیزر کی بدولت ظالم بیکٹٰیریا کو ختم کرکے زخم سے انفیکشن کا خطرہ کم سے کم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح خون میں بھی لیزر ڈال کر اسے بیماریوں سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ ڈائیلاسس کے مریضوں میں یہ مسئلہ اکثر پیش آتا ہے۔ بس ایک مقام پر پورے خون پر لیزر پھینک کر اسے صاف اور مریض کے لیے موافق بنانا اب عین ممکن ہے۔

سب سے پہلے اسے مشہور اور بدنام بیکٹیریا ایم آر ایس اے پر آزمایا گیا جس کا پورا نام ملٹی ڈرگ ریسسٹنٹ اسٹائفلوکوکس اوریئس ہے۔ یہ جلد سے پھیپھڑوں تک کے انفیکشن کی وجہ بنتا ہے۔ دوسری جانب لیزر سے ای کولائی بیکٹیریا کو بھی مارا گیا جو پیشاب کی نالی میں انفیکشن پیدا کرتاہے۔

تمام معاملات میں لیزر 99.9 جراثیم اور بیکٹیریا کو تباہ کردیتی ہے۔ سائنسی طور پر لیزر خردنامیوں میں موجود پروٹین ساختوں کو ارتعاش دیتی ہیں اور ان کے پروٹین بونڈ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن لیزر کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ انسانی خلیات پر منفی اثر نہیں ڈالتی۔
https://www.express.pk/story/2251676/9812/



موٹاپے پر تحقیق کرنے والے چینی سائنسدانوں نے پودوں میں ایک ایسا مادّہ دریافت کیا ہے جو موٹاپا کم کرنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔

سائنسدان برسوں سے جانتے ہیں کہ موٹے افراد میں چربی گھلانے کا قدرتی عمل (فیٹ میٹابولزم) متاثر ہوکر سست پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا موٹاپا بڑھتا جاتا ہے بلکہ انہیں موٹاپا کم کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس مسئلے کی جڑیں ’’مائٹوکونڈریا‘‘ میں پیوست ہیں جنہیں ’’خلیے کا توانائی گھر‘‘ (سیلولر پاور ہاؤس) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ خلیوں کے اندر غذائی سالموں (مالیکیولز) کو توڑ کر توانائی پیدا کرتے ہیں جو ہماری بہت سی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے کام آتی ہے۔

صحت مند افراد میں مائٹوکونڈریا بالکل صحیح کام کرتا ہے لیکن موٹے افراد میں یہ چربی (چکنائی) کے سالمے توڑنے میں دشواری کا سامنا کرنے لگتا ہے اور یوں موٹاپا ایک مرتبہ شروع ہوجانے کے بعد بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

اس حوالے سے ’’بی ڈی این ایف‘‘ کہلانے والا ایک پروٹین بھی دریافت ہوچکا ہے۔ ویسے تو اس کا تعلق اعصابی خلیوں کی مرمت سے ہے لیکن حالیہ تحقیقات میں اسے چکنائی کے سالمات کو توڑ کر توانائی پیدا کرنے میں مائٹوکونڈریا کا مددگار بھی پایا گیا ہے۔

موٹے افراد میں اس پروٹین کی بہت کم مقدار بنتی ہے اور نتیجتاً وہ مزید موٹے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ڈاکٹر چی بُن چان اور ان کے ساتھیوں نے یہی تحقیق مزید آگے بڑھاتے ہوئے اپنی توجہ ’’7,8-ڈائی ہائیڈروکسی فلیوون‘‘ نامی ایک مادّے پر مرکوز کو جو ’’بی ڈی این ایف‘‘ سے ملتا جلتا ہے اور ایک جنوبی امریکی پودے میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔

الزائیمر کے علاج میں اس مادّے کی طبّی آزمائشیں جاری ہیں جبکہ چوہوں پر تجربات کے دوران اس نے مائٹوکونڈریا کی کارکردگی بحال کرنے کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔

نئے تجربات میں ڈاکٹر چی اور ان کے ساتھیوں نے ’’7,8-ڈائی ہائیڈروکسی فلیوون‘‘ کو پیٹری ڈش میں رکھے گئے، انسانی پٹھوں کے ایسے خلیوں پر آزمایا جن میں مائٹوکونڈریا کو متاثر کیا گیا تھا۔

انہیں معلوم ہوا کہ ’’7,8-ڈائی ہائیڈروکسی فلیوون‘‘ نے چکنائی/ چربی توڑنے میں مائٹوکونڈریا کی بالکل اسی طرح سے مدد کی جیسے ’’بی ڈی این ایف‘‘ کرتا ہے۔

اس کے بعد جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے موٹاپے میں مبتلا کیے گئے چوہوں پر یہی تجربات دوہرائے گئے جن سے معلوم ہوا کہ ’’7,8-ڈائی ہائیڈروکسی فلیوون‘‘ کے استعمال سے ان میں چکنائی کم ہونے لگی۔

تو کیا ’’7,8-ڈائی ہائیڈروکسی فلیوون‘‘ سے موٹاپا کم کرنے والی کوئی نئی دوا بنائی جاسکتی ہے؟ ڈاکٹر چی بُن چان کو امید ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔

تاہم یہ دریافت اس سمت میں پہلا قدم ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے دوسرے جانوروں پر آزمایا جائے گا اور کامیابی کی صورت میں انسانی طبّی آزمائشیں (کلینیکل ٹرائلز) شروع کی جائیں گی۔

اگر یہ تمام مراحل کامیابی سے طے ہوگئے تو پھر بہت ممکن ہے کہ آئندہ آٹھ سے دس سال میں موٹاپے کی ایک نئی، منفرد اور مؤثر دوا دستیاب ہوجائے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’آٹوفیجی‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2252132/9812/



عمررسیدگی کے ساتھ ساتھ بینائی متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت میں آگر صبح کے وقت صرف تین منٹ تک آنکھوں پر سرخ طولِ موج کی روشنی ڈالی جائے تو اس سے بینائی میں بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔

پہلے یہ تحقیق یونیورسٹی آف لندن نے کی تھی اور اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے اس کی آزمائش اور تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق اگر عمررسیدگی سے بینائی میں کمی کے متاثر افراد کی آنکھوں پر صبح کے وقت 670 نینومیٹر( طویل ویولینتھ) کی گہری سرخ روشنی ڈالی جائے تو اس سے رنگوں کے امتیاز کو دیکھنے اور بصارت میں 17 سے 20 فیصد تک بہتری ہوسکتی ہے۔

سائنٹفک رپورٹس کے مطابق دو ہفتے تک آنکھوں پر سرخ روشنی تین منٹ تک ڈالی جائے تو صرف دوہفتے میں بینائی اچھی ہونے لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روشنی آنکھوں کے خلیات میں موجود مائٹوکونڈریا کو سرگرم کرتی ہے۔ مائٹوکونڈریا کو کسی بھی خلیے(سیل) کا بجلی گھر کہا جاتا ہے جہاں سے پورا خلیہ توانائی حاصل کرتا ہے۔

پھر جیسے جیسے عمرگزرتی ہے مائٹوکونڈریا کی افادیت کم ہوجاتی ہے اور بینائی متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ تحقیق میں شامل مرکزی سائنسداں ڈاکٹر گلین جیفری کہتے ہیں کہ 650 سے 900 نینومیٹر کی روشنی سے مائٹوکونڈریا کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے لیے 20 ایسے افراد کو منتخب کیا گیا جو بڑھاپے کے ساتھ بینائی میں کمی کے شکار تھے۔ ان پر 670 نینومیٹر کی سرخ روشنی تین منٹ تک صبح 8 سے 9 بجے کے وقت ڈالی گئی اور اس کے بعد رنگوں کے کنٹراسٹ کے ایک مشہور روایتی ’کروما ٹیسٹ‘ سے گزارا گیا۔

کروما ٹیسٹ میں لوگوں نے 17 فیصد بہتری دکھائی اور بہت بوڑھے افراد کی بصارت 20 فیصد بہتر ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے اچھے اثرات پورے ہفتے برقرار رہے۔ لیکن دوپہر یا رات کو روشنی پھینکنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا یعنی یہ عمل صبح کے وقت کیا جائے تب ہی فائدہ ہوتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2251941/9812/



اس میں ایک شخص بیٹھ سکتا ہے، یہ دم پر کھڑا ہوجاتا ہے، سیدھا اڑتا اور بیٹھتا ہے، اس کی شکل اڑن طشتری جیسی ہے اور یہ ڈرون بھی ہے۔ جس طرح سپرمین سیدھا اڑتا اور اترتا ہے۔

اگرچہ گزشتہ پانچ چھ برس سے انسان بردار ڈرون کے دلچسپ ڈیزائن سامنے آتے رہے ہیں لیکن زیویا نامی کمپنی نے یہ عجیب و غریب ڈیزائن تجویز کیا ہے اور اصل جسامت کے آٹھویں حصے کے برابر ایک پروٹوٹائپ پر تجربات بھی جاری ہیں۔ اسے اسکائی ڈوک کا نام دیا گیا ہے۔

اسے کاربن فائبرسے بنایا گیا ہے اور ڈیزائنر اڑن طشتریوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کی طشتری نما پلیٹ کا اصل قطر 8 فٹ اور وزن 317 کلوگرام ہوگا ۔ اس کے درمیان میں ایک انسان کے کھڑے ہونے کے جگہ بنائی گئی ہے اور اوپر کی جانب شفاف شیشہ ہے جس سے سوار باہر دیکھ سکتا ہے۔


اگلی جانب پنکھڑی نما پروپیلر لگے ہیں جبکہ پروپلشن سسٹم آگے اور پیچھے کی جانب لگائے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 20 کلوواٹ آور تجارتی ماڈل میں 25 کلوواٹ آور کی بیٹری نصب کی جائے گی۔ تاہم پورے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔

زمین سے اٹھنے میں اسے صرف 20 سیکنڈ لگتے ہیں اور یہ عمل اسے ورٹیکل اینڈ ٹیک آف لینڈنگ (وی ٹی او ایل) طرز کی سواری بناتی ہے۔ بیٹھنے والا اپنا پیٹ اور سینہ آگے کی جانب جھکاتا ہے جسے اڑن طشتری نما سواری تھوڑی جھک جاتی ہے۔ اس کے بعد پروپلشن اور دیگر نظام ایسے آگے کی جانب اٹھاتے ہیں۔

ڈیزائن کے مطابق یہ مشین ایک وقت میں 80 کلومیٹر کا سفر طے کرسکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 257 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑسکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2251176/508/



سعودی عرب کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ’ذہین‘ اور مختصر وینٹی لیٹر بنا لیا ہے جو ہوا سے آکسیجن جذب کرتا ہے اور مریض کی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی مقدار میں کمی بیشی کرتا رہتا ہے۔

یہ کارنامہ ’جامعۃ الملک عبداللہ للعلوم والتقنیہ‘ (کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) کے احد سیّد اور ڈاکٹر عدنان قمر نے مشترکہ طور پر انجام دیا ہے۔

یہ وینٹی لیٹر اتنا مختصر ہے کہ اسے آسانی سے ایک عام ایمبولینس میں نصب کیا جاسکتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے مریض کے گھر پر، بستر کے سرہانے بھی رکھا جاسکتا ہے۔

عام وینٹی لیٹرز کے برعکس، اسے ہر وقت آکسیجن سلنڈر یا سینٹرل آکسیجن سپلائی سسٹم سے منسلک رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہ اپنے اطراف کی ہوا جذب کرکے اس میں سے آکسیجن الگ کرکے مریض کو فراہم کرتا رہتا ہے۔

یہ وینٹی لیٹر، جسے ’’وینٹی بیگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، خاص طرح کے حساسیوں (سینسرز) اور مصنوعی ذہانت والے مؤثر نظام سے لیس ہے۔

انہیں استعمال کرتے ہوئے یہ مریض کی دھڑکنوں اور سانس کی رفتار کے علاوہ ان میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی مسلسل نظر رکھتا ہے اور ان ہی کی بنیاد پر مریض کو درکار آکسیجن کی مقدار میں بھی کمی بیشی کرتا رہتا ہے۔

یعنی یہ ذہین وینٹی لیٹر کسی مریض کو ٹھیک اتنی ہی آکسیجن فراہم کرتا ہے کہ جس کی اسے ضرورت ہے؛ نہ کم، نہ زیادہ۔

واضح رہے کہ جس ہوا میں ہم سانس لے رہے ہیں، اس میں 21 فیصد آکسیجن ہوتی۔ ہوا میں آکسیجن کی مقدار بہت کم ہوجائے یا بہت زیادہ، دونوں ہی صورتوں میں صحت اور زندگی کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔


ڈاکٹر عدنان قمر اور احد سیّد کا تیار کردہ یہ ذہین وینٹی لیٹر ’’کے اے یو ایس ٹی کووِڈ 19 انوویشن چیلنج‘‘ نامی مقابلے کا فاتح بھی قرار دیا جاچکا ہے۔

البتہ ابھی یہ پروٹوٹائپ کی شکل میں ہے جسے مزید بہتر کرکے اسپتالوں اور گھروں میں استعمال کے قابل بنانے پر کام جاری ہے۔
https://www.express.pk/story/2250995/9812/



امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے ایک ایسے ورچوئل رئیلیٹی چشمے (وی آر ہیڈسیٹ) کی منظوری دے دی ہے جس کے استعمال سے مہینوں پرانا یعنی دائمی درد بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

چند سال پہلے امریکی کمپنی ’اپلائیڈ وی آر‘ نے ’اِیز وی آر ایکس‘ (EaseVRx) کے نام سے ایک آلہ تیار کیا تھا جو مجازی حقیقت (ورچوئل رئیلیٹی) سے استفادہ کرتے ہوئے دائمی درد بہت کم کرنے میں مفید پایا گیا۔

’ایف ڈی اے‘ کے مطابق، ایک سال تک جاری رہنے والی طبّی آزمائشوں کے دوران یہ آلہ دائمی درد کے 60 فیصد مریضوں پر مؤثر ثابت ہوا ہے جبکہ اس کے استعمال سے مریضوں میں دائمی درد کی شدت اوسطاً 30 فیصد کم ہوئی۔

دائمی درد کے علاج میں اس آلے کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ’ایف ڈی اے‘ نے اسے تجارتی پیمانے پر فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس طرح یہ دنیا کا وہ پہلا وی آر ہیڈسیٹ بھی بن گیا ہے جسے بالخصوص علاج کی غرض سے تجارتی طور پر تیار اور فروخت کیا جائے گا۔

دائمی درد اور مجازی حقیقت

واضح رہے کہ درد چاہے کسی بھی قسم کا ہو، لیکن اگر وہ چند ماہ تک مسلسل برقرار رہے تو اسے میڈیکل سائنس میں ’دائمی درد‘ (کرونک پین) کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے عام اقسام میں کمر کے نچلے حصے کا درد، سر میں درد، مائیگرین، گردن کا درد اور چہرے کے پٹھوں میں درد شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں 70 کروڑ افراد کسی نہ کسی قسم کے دائمی درد کا شکار ہیں جس کے علاج پر سالانہ 78 ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ خرچ کیے جارہے ہیں۔ اگر دائمی درد کی شدت میں اضافہ ہوجائے تو یہ موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ مجازی حقیقت (وی آر) کمپیوٹر پر بنایا گیا ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو اگرچہ اصل نہیں ہوتا لیکن پھر بھی بالکل حقیقت کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

کمپیوٹر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ’وی آر‘ آلات بھی سکڑتے سکڑتے ہیلمٹ اور چشموں جیسے ہیڈ سیٹس کی شکل اختیار کرچکے ہیں جنہیں آنکھوں پر پہنا جاسکتا ہے؛ اور پہننے کے بعد ان کی اسکرینوں پر ایک منفرد دنیا کا منظر ہمیں اپنے چاروں طرف دکھائی دینے لگتا ہے۔

مجازی دنیا صرف وی آر ہیڈ سیٹ کے اندر تک محدود ہوتی ہے لیکن ہیڈسیٹ پہننے والے کو ایسا لگتا ہے کہ وہ خود بھی اسی دنیا کا ایک حصہ بن گیا ہے؛ جو حقیقت سے بالکل مختلف اور منفرد بھی ہوسکتی ہے۔

کئی سال پہلے سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ اگر مجازی حقیقت (وی آر) کا ماحول خوشگوار ہو تو یہ انسانی کی ذہنی و جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے اور مختلف امراض سے چھٹکارا پانے میں مدد بھی کرسکتا ہے۔


آج وی آر ہیڈسیٹس کا استعمال کئی طرح کی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کے علاج میں تجرباتی طور پر کیا جارہا ہے۔ ’اِیز وی آر ایکس‘ کی منظوری سے ان کےلیے بھی تجارتی استعمال کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

’اِیز وی آر ایکس‘ میں اکتسابی کرداری علاج (cognitive behavioral therapy) اور اسی قسم کی دوسری تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں، جن کے ذریعے (وی آر ہیڈسیٹ کے اندر) ایک خاص قسم کا تھری ڈی ماحول تخلیق کیا جاتا ہے۔

ہیڈسیٹ پہننے والا شخص جب خود کو اس ماحول کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے تو پھر اس سے کچھ مخصوص ذہنی و جسمانی مشقیں کروائی جاتی ہیں جو اس کی تکلیف کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2250587/9812/



سرجن حضرات کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے بعد معلوم ہوا کہ آپریشن سے گزرنے والے مریض اگر اپنے زخم کی تصویر بھیجتے رہیں تو زخم کی ٹھیک ہونے یا بگڑنے کا بہت حد تک درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسے سادہ زبان میں ’سرجری سیلفی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں نے مزید کہا ہے کہ اس طرح مریض بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچ جائیں گے اور خود طبی عملے پر بھی مریضوں کا دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کریہ عمل انسانی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ سرجری کے ایک ماہ کے اندر ہونے والی اموات، آپریشن سے ہلاکتوں کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ گہری جراحی کے بعد زخم بگڑجاتا ہے اور یوں مریض انفیکشن سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ دوسری جانب ہسپتال میں زیادہ رہنے سے ڈاکٹروں کے پیشے اور مریضوں کے جیب پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

اس ضمن میں جامعہ ایڈنبرا ن ے 492 مریضوں کا ایک سروے کیا جنہیں بدن کی سرجری کے لیے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا۔ ان تمام مریضوں سے کہا گیا کہ وہ زخم کی سیلفی لے کر بھیجتے رہیں اور ڈاکٹروں کے سوالناموں کے جوابات بھی دیتے رہیں۔

تمام مریضوں سے آپریشن کے تین دن، پھر سات دن اور پندرہ روز بعد رابطہ کیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ اسمارٹ فون سے زخم کی واضح تصویر لے کر بھیجیں اور کچھ سوالات کے جوابات بھی لکھیں۔ لوگوں سے پوچھا گیا کہ زخم کیسا ہے؟ اس میں تکلیف کسطرح کی ہے اور لوگ کیا محسوس کرتے ہیں؟

اسی طرح آپریشن سے گزرنے والے مریضوں کا دوسرا گروہ ایسا تھا جن میں 269 افراد تھے اور 30 دن بعد ان کی خبر لی گئی۔

سائنسدانوں نے دونوں گروہوں میں 30 دن کے اندر اندر انفیکشن کی شناخت میں کوئی فرق نہیں دیکھا۔

اگرچہ سیلفی والے گروہ کے زخموں میں انفیکشن دوسرے گروہ سے چارگنا زائد تھے لیکن ان میں ساتویں روز ہی انفیکشن کا انکشاف ہوگیا جبکہ دوسرے گروپ میں ایسا نہ تھا ۔ اس ضمن میں اسمارٹ فون سیلفی والے گروپ نے ہسپتالوں کے چکر بھی کم کاٹے اور انہوں نے اپنے زخم کی بہتر نگہداشت کی۔ اس طرح زخم کی سیلفی کے بہتر نتائج سامنے آئے۔

ڈاکٹروں کے مطابق مریضوں میں بحالی کا دورانیہ بہت پریشان کن ہوتا ہے۔ اس ضمن میں موبائل ٹیکنالوجی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ مریضوں اور خود ڈاکٹر بھی زخم کے ہر مرحلے سے واقف نہیں ہوتے اور اسی لیے ابتدائی درجے میں ہی زخم کو دیکھ کر اس کے انفیکشن اور دیگرپیچیدگیوں کا احساس کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2250744/9812/



ناسا اس ماہ کے آخر میں 33 کروڑ ڈالر (تقریباً 58 ارب روپے) کی لاگت کا ایک خلائی جہاز تاریک خلا میں بھیج رہا ہے جو ایک شہابیے (ایسٹرائیڈ) سے ٹکراکر اس کا راستہ تبدیل کرے گا۔ اس سے زمین پر کسی ممکنہ شہابئے کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے گی۔

ہم جانتے ہیں کہ ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے کرہ ارض سے ایک دیوقامت پتھر ٹکرانے سے ڈائنوسار صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔ اب 330 ملین (33کروڑ) ڈالر کی لاگت سے تیار ’’ڈارٹ‘‘ مشن ڈائی مورفس نامی ایک شہابئے سے ٹکرا کر اس کا مدار تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگرچہ اس سے زمین کو تو کوئی خطرہ نہیں لیکن ناسا اس ٹیکنالوجی کی آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ کیا کسی تصادم سے زمین کی جانب آتی بلا کو ٹالا جاسکتا ہے۔

ناسا کے لئے جان ہاپکنز یونیورسٹی کی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری نے اسے تیار کیا ہے۔ اس خلائی جہاز کا پورا نام ڈبل ایسٹرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) ون کا نام دیا گیا ہے۔ یہ جڑواں شہابی پتھروں کا زمینی دشمن ہے اور چھوٹے شہابیے سے ٹکرلے گا جس کا قطر مشکل سے 160 میٹر ہے۔ ڈائی مورفس کے دونوں شہابیے ہمارے سورج کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ دوسرے سیارچے کا نام ڈائی ڈیموس ہے جو ڈائی مورفس سے پانچ گنا بڑا ہے۔ ڈائی مورفس درحقیقت ڈائی ڈیموس کے گرد ہی چکر کاٹ رہا ہے۔

اگلے برس ستمبر یا اکتوبر میں یہ چھ کلومیٹر فی سیکنڈ سےزائد رفتار سے ڈائی مورفس سے اپنا سر پھوڑے گا۔ منصوبے کے تحت اس کا مدار تبدیل ہوجائے گا اور اس کی رفتار 73 سیکنڈ بڑھ جائے گی۔ یعنی بڑے شہابئے ڈائی ڈیموس کے گرد گھومتے ہوئے ڈائی مورفس کی رفتار بڑھ جائے گی۔

جان ہاپکنز سے وابستہ سائنسداں نینسی شیبو کہتی ہیں کہ اگر یہ تجربہ درست ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں ایسے خطرات سے خود زمین کو بچانا ممکن ہوجائے گا۔ نینسی کے مطابق شہابیے کو دھکا مار کر اس کی راہ یا رفتار بدلنا سب سے بہتر اور کم خرچ طریقہ ہے۔

ناسا کے مطابق 27 ہزار سے زائد بڑے شہابئے ایسے ہیں جن کی راہ میں زمین آسکتی ہے۔ پھر نئے ان دیکھے شہابیے بھی ہیں جو فوری طور پر خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اہلِ زمین کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
https://www.express.pk/story/2249888/508/



آیوڈین کا ایندھن استعمال کرنے والے ایک چھوٹے انجن کی خلاء میں آزمائش کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہے۔ آزمائش کے دوران اس انجن کی طاقت سے ایک سیارچے کا مدار تبدیل کیا گیا۔

بتاتے چلیں کہ عام درجہ حرارت پر آیوڈین ٹھوس حالت میں ہوتی ہے لیکن گرم کرنے پر یہ تیزی سے براہِ راست گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

آیوڈین کی اسی خاصیت کی بناء پر پچھلے کئی سال سے یہ کوششیں جاری ہیں کہ کوئی ایسا انجن بنا لیا جائے جس میں آیوڈین بطور ایندھن استعمال ہوسکے۔

ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ آیوڈین کے استعمال سے اتنا طاقتور انجن نہیں بنایا جاسکتا جو کسی سیارچے کو زمین سے اٹھا کر خلا میں پہنچا سکے، لہذا وہ پہلے ہی سے ایک چھوٹے آیوڈین انجن یعنی ’’تھرسٹر‘‘ پر کام کررہے تھے جس کا مقصد خلا میں مصنوعی سیارچوں کا مدار تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

روایتی تھرسٹرز خاصے وزنی ہوتے ہیں جنہیں چھوٹے مصنوعی سیارچوں پر نصب کرنے سے ان کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے جبکہ جسامت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

فرانسیسی کمپنی ’’تھرسٹ می‘‘ نے چھوٹے سیارچوں کےلیے ایک ہلکا پھلکا اور مختصر آیوڈین تھرسٹر بنایا ہے جسے اس سے پہلے زمین پر آزمایا جاچکا ہے۔

پچھلے سال اسے ایک چھوٹے مواصلاتی سیارچے ’’بیہانکونشی 1‘‘ پر نصب کرکے آزمائشی طور پر خلاء میں بھیجا گیا تھا جہاں اس نے کئی بار بہت کامیابی سے اس سیارچے کا مدار تبدیل کرتے ہوئے اسے نئے مطلوبہ مدار میں پہنچایا۔

روایتی تھرسٹرز کے برعکس ’’تھرسٹ می‘‘ کا بنایا ہوا آیوڈین تھرسٹر بہت مختصر اور ہلکا پھلکا ہے جو آیوڈین کو گرم کرکے گیس کی شکل میں خارج کرتا ہے اور 0.8 ملی نیوٹن جتنی قوت (تھرسٹ) پیدا کرتا ہے۔

یہ قوت اگرچہ بہت کم ہے لیکن خلاء میں گردش کرتے ہوئے ایک چھوٹے سیارچے کا مدار بدلنے کےلیے بہت مناسب ہے۔

اس انجن کو ’’اسٹارٹ‘‘ کرنے سے پہلے دس منٹ تک گرم کرنا پڑتا ہے جس کے بعد یہ آیوڈین کو گیس میں بدل کر اپنا کام شروع کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ آیوڈین تھرسٹر کو ہنگامی حالات میں فوری طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا لیکن خلاء کے عمومی ماحول میں ممکنہ خطرات کا بہت پہلے پتا چل جاتا ہے لہذا اسے مطلوبہ وقت سے بہت پہلے ہی اسٹارٹ کرکے سیارچے کا راستہ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

نئی آزمائشوں کے دوران آیوڈین تھرسٹر کو ہر بار تقریباً ایک ایک گھنٹے کےلیے چلا کر آزمایا گیا جس سے اس کی افادیت ثابت ہوئی۔

اس کامیابی کے بعد آیوڈین تھرسٹرز کےلیے مستقبل کے چھوٹے سیارچوں میں باقاعدہ طور پر استعمال ہونے کے امکانات بھی بہت روشن ہوگئے ہیں کیونکہ یہ مختصر اور ہلکے پھلکے ہونے کے ساتھ ساتھ کم خرچ بھی ہیں۔

نوٹ: ان آزمائشوں اور آیوڈین تھرسٹرز کی مکمل تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2249421/508/



جامعہ نوٹرڈیم کے اسکالروں نے ایک نئی قسم کا خلیہ دیکھا ہے جو دل کی دھڑکن کو برقرار رکھنے میں اہم کردارادا کرتا ہے۔

اس پر مزید تحقیق کرکے ہم دل کی بے ترتیب دھڑکن سمیت کئی بیماریوں کا علاج کرسکیں گے۔ ماہرین نے ان خلیات کونیکسس گلییا (Glia) کا نام دیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ دماغ میں موجود گلییئل خلیات کی طرح ہوتے ہیں۔

پروفیسر کوڈی اسمتھ نے اپنی تجربہ گاہ میں دیکھا کہ جب دل سے ان خلیات کو ہٹایا گیا تو قلبی دھڑکن بڑھ گئی ۔ پھر اس سے وابستہ جین الگ کیا گیا تب بھی دل کی دھڑکن غیرمنظم ہونے لگی۔ تحقیق کا سارا ماجرا پی ایل او ایس بائیلوجی میں شائع ہوا ہے۔

پروفیسر کوڈی کے مطابق اس دریافت نے مزید 100 سوالات کو جنم دیا ہے جس سے تحقیق کی ایسی نئی راہیں کھلیں گی جو اس سے قبل تصور سے باہر تھیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دل سے خون کے باہر جانے والے راستوں (آؤٹ فلو ٹریکٹ) میں ان کی بڑی مقدار ہوتی ہے اور عین یہی وہ مقام ہے جہاں دل کی پیدائشی نقائص پائے جاتے ہیں۔

رحمِ مادر میں بچے کی تشکیل کے وقت یہ اہم حصہ تشکیل پاتا ہے اور وینٹریکل ان شریانوں سے جڑتے ہیں جو دل سے باہر جاتی ہیں۔

نیکسس گلییا کو پہلے زیبرا مچھلیوں میں دیکھا گیا، پھر چوہوں میں آخر میں انسانوں میں ان کی دریافت ہوئی۔ یہ ایک طرح کے ایسٹروسائٹس خلیات ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ صرف دماغ اوراس سے وابستہ اعصابی نظام میں ہی موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اب یہ دل میں بھی ملے ہیں۔

تاہم اس سے قبل یہ خلیات پھیپھڑوں، آنتوں اور پتے وغیرہ میں مل چکے ہیں لیکن اب تک ان کی وہاں موجودگی اور وجہ واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اب دل کے جگسا پزل کو سمجھنے میں یہ خلیہ ایک اہم ٹکڑا ثابت ہوا ہے جس سے نت نئی دریافتوں کی راہیں کھلیں گی۔

لیکن سائنسدانوں کو مزید تحقیق کرکے ابھی بہت کچھ جاننا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دل کی دھڑکن قابو میں رکھنے میں ان کا اہم کردار سامنے آگیا ہے۔ اگر یہ خلیات ہٹادیئے جائیں تو دل کی دھڑکن بڑھ کر غیرمنظم ہوجاتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2249214/9812/



وہ دن دور نہیں جب باضابطہ انداز میں کپڑے بھی ایک دوسرے سے بات کریں گے، اس ضمن میں جامعہ کیلی فورنیا، اِروِن نے ایک لباس بنایا ہے جو ہاتھ ملانے اور تالی مارنے کے عمل میں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرتا ہے۔

باتونی کپڑے کا کارنامہ پیٹر سینگ اور عامر حسینی آغا جانی نے مشترکہ طور پر انجام دیا ہے۔ یہ میٹا مٹیریئلز سے بنا ہے اور وائرلیس کی بدولت معلومات اور ڈیٹا کا تبادلہ کرتا ہے۔

وائرلیس طرز کی نیئرفیلڈ کمیونی کیشن (این ایف سی) ٹیکنالوجی اب عام ہے جس کے تحت چند انچوں سے چار فٹ (120 سینٹی میٹر) دوری تک وائرلیس رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کو لباس میں سمویا گیا ہے۔

اس طرح کارڈ سے دروازے کھولنے، اسمارٹ فون سے رقم دینے کے عمل میں ہم نیئر فیلڈ کمیونی کیشن استعمال کررہے ہیں۔ لیکن اب لباس کے موجد پیٹرسینگ کہتے ہیں کہ عین اسی ٹیکنالوجی سے ہم اس عمل کی حد (رینج) بڑھا سکتے ہیں۔

یعنی اب یہ ممکن ہے فون جیب میں رکھا ہو اور آستین کو دوسری آستین سے رگڑنے سے فون کی معلومات، بزنس کارڈ اور دیگر ڈیٹا سیکنڈوں میں دوسرے شخص تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل نیئر فیلڈ لباس بنائے جاتے رہے ہیں لیکن ان میں ایک کمی تھی کہ پورے لباس میں تاروں کا جال درکار ہوتا ہے اور یوں نقل و حرکت محدود ہوکر رہ جاتی تھی اور لباس بھی بے آرام ہوجاتا تھا تاہم بیٹری سے پاک نیا لباس تانبے اور المونیئم کے باریک ورق پر مشتمل ہے جو مقناطیسی انڈکشن سے سگنل لیتا ہے۔ اس طرح لچک دار اور آرام دہ لباس سے دوسرے لباس تک پیغام رسانی ممکن ہوجاتی ہے۔

اس لباس کو ہسپتال میں مریضوں کو پہناکر ان میں کئی طرح کے سینسر لگائے جاسکتے ہیں اور ڈاکٹر ان سے مسلسل طبی ڈیٹا لے سکتے ہیں۔ دو اجنبی دوست ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر ایک دوسرے کے کاروبار اور معلومات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح لباس سے کار کھولنا اور گھر کا تالہ بند کرنے کا کام بھی آسان ہوجائے گا۔

عامر کے مطابق ان کا لباس تجارتی بنیادوں پر تیار کرنا بہت آسان ہے اور اس سے کم خرچ مگر اعلیٰ فیشن اور ڈیزائن کے کپڑے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2248777/508/



تمام ترسائنسی ترقی کے باوجود اب بھی کینسر کے حقیقی مقام تک دوا کی رسائی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں سائنسدانوں نے خردبینی روبوٹ مچھلی اور کیکڑا بنایا ہے جو عین کینسر والے مقام پر خوراک پہنچاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کیموتھراپی میں بھی دوا کی بڑی مقدار کینسر زدہ حصے تک نہیں پہنچ پاتی جس کے شدید منفی جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب تھری ڈی پرنٹر سے تیارشدہ جانور کی شکل والے روبوٹ مقناطیس سے جسم کے اندر دھکیلے جاتے ہیں اور انہیں باہر سے کنٹرول کرتے ہوئے سرطانی حصے تک پہنچایا جاتا ہے جہاں وہ اپنی دوا انڈیل سکتےہیں۔


مچھلی، تتلی اور کیکڑے جیسی شکل والے روبوٹ ہائیڈروجل سے بنائے گئے ہیں۔ جسم کے باہر سے مقناطیسی قوت پھرا کر روبوٹ کو رسولیوں تک دھکیلا جاسکتا ہے۔ روبوٹ کو جیسے ہی سرطانی رسولی کی اطراف تیزابی ماحول ملتا ہے وہ دوا انڈیل دیتے ہیں۔

لیکن یاد رہے کہ روبوٹ کو تیرانے کے لیے آئرن آکسائیڈ نینوذرات والا مائع درکار ہوتا ہے کیونکہ اسی طرح بیرونی مقناطیسی میدان سے انہیں خاص سمت میں دھکیلا جاسکتا ہے۔ اب جوں ہی روبوٹ کینسر کے قریب جاتا ہے اسے پی ایچ میں تبدیلی محسوس ہوتی ہے اور وہ دوا خارج کرتا ہے۔

ماہرین نے روبوٹ کو تجربہ گاہ اور پیٹریائی ڈشوں میں آزمایا ہے۔ اس بنا پرروبوٹ جانوروں کا مستقبل نہایت حوصلہ افزا ہوسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2248848/9812/



جرمن سائنسدانوں نے دس سالہ تحقیق کے بعد ایک ایسا تھرموپول ایجاد کرلیا ہے جو پاپ کورن سے بنایا گیا ہے۔ یہ کم خرچ ہونے کے علاوہ ماحول دوست بھی ہے یعنی استعمال کے بعد خودبخود تحلیل ہو کر بے ضرر مادّوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔

پاپ کورن سے تھرموپول بنانے کا خیال گوٹنجن، جرمنی کی جارج آگست یونیورسٹی کے پروفیسر علی رضا خرازیپور کو آج سے دس سال پہلے آیا جب انہوں نے فلم دیکھتے دوران پاپ کورن کا ایک تھیلا خریدا۔

اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے اور بالآخر وہ پاپ کورن کے استعمال سے ایسا تھرموپول (ایکسپینڈڈ پولی اسٹائرین یا ای پی ایس) فوم بنانے میں کامیاب ہوگئے جو کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہے۔

پاپ کورن سے تھرموپول بنانے کےلیے سب سے پہلے مکئی کے دانوں کو مشین کے ذریعے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے اور پھر زبردست دباؤ والی بھاپ میں رکھ کر انہیں پاپ کورن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں ایک نباتاتی پروٹین سے تیار کردہ گوند (بونڈنگ ایجنٹ) استعمال کرتے ہوئے پاپ کورن کے ان ٹکڑوں کو آپس میں مضبوطی سے جوڑ کر ایک سانچے میں اچھی طرح دبا کر مطلوبہ شکل دی گئی۔

پروٹینی گوند کے مضبوطی سے اپنی جگہ پر جم جانے کے بعد اس تیار شدہ ’پاپ کورن تھرموپول‘ کو سانچے سے باہر نکال کر مطلوبہ مقصد میں استعمال کرلیا گیا۔


یونیورسٹی پریس ریلیز کے مطابق، پاپ کورن سے بنایا گیا تھرموپول، روایتی تھرموپول کے مقابلے میں زیادہ حرارت روکتا ہے جبکہ یہ آسانی سے آگ بھی نہیں پکڑتا۔

یہی نہیں بلکہ ایک بار استعمال ہوجانے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے دوبارہ استعمال کےلیے تیار کیا جاسکتا ہے جبکہ زمین میں دفن کرنے پر یہ خودبخود ہی گل کر ختم ہوجاتا ہے۔

علاوہ ازیں اس سے بایوگیس بھی بنائی جاسکتی ہے اور اس کے استعمال شدہ ٹکڑے جانوروں کے چارے کے طور پر بھی محفوظ پائے گئے ہیں۔ البتہ پریس ریلیز میں انسانوں کے حوالے سے ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔

پروفیسر علی رضا کا کہنا ہے کہ مکئی کے دانوں کے علاوہ بھٹّے کی باقیات بھی اس تھرموپول کی تیاری میں استعمال کی جاسکتی ہیں، یعنی اس کی صنعتی پیداوار سے مکئی کی خوردنی فصل پر بھی دباؤ نہیں پڑے گا۔

صنعتی پیمانے پر ’پاپ کورن تھرموپول‘ کی تیاری کےلیے جارج آگست یونیورسٹی اور جرمنی کے باخل گروپ میں بھی ایک معاہدہ ہوگیا ہے جس کے تحت اس سے عمارتوں کو حرارت سے بچانے والی پرت یعنی انسولیشن تیار کی جائے گی۔

امید ہے کہ مستقبل میں پاپ کورن سے بنا ہوا یہی تھرموپول گھریلو استعمال کی مصنوعات، کھیلوں کے ساز و سامان اور ہلکے پھلکے آٹوپارٹس کی پیکیجنگ میں بھی اپنے لیے جگہ بنا لے گا۔

’’میرا خیال ہے کہ صاف ستھرے اور پلاسٹک سے پاک ماحول کےلیے میری جانب سے، ایک سائنسدان کی حیثیت سے، ایک اہم خدمت ہے،‘‘ پروفیسر علی رضا نے کہا۔
https://www.express.pk/story/2248955/508/



اسپین:اسپین کے ماہرین نے ایک حساس برقی ناک بنائی ہے جو انسانی ناک کی طرح باصلاحیت ہے۔ اسے ڈرون پر لگا کر آلودہ پانیوں کے ذخیروں کو سونگھ کرڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جرنل آئی سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ناک مختلف بو سونگھ سکتی ہے، ان کی کیمیائی ترکیب سے آگاہ کرتی ہے اور ان کی شدت اور مقدار کی معلومات بھی فراہم کرسکتی ہے۔ اس طرح کسی بھی پلانٹ کے آلودہ پانی، سوئمنگ پول کی کثافت اور نالوں کا احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔

یورپی ممالک میں فی الحال انسان آلودہ پانی سونگھنے کا کام کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک بہتر طریقہ ہے لیکن یہ سست، مہنگا اور مشکل یوں ہے کہ مختلف جگہوں تک رسائی بھی دقت بھری ہوتی ہے۔ اس طرح بدبو کا ماخذ تلاش کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔

بعض اوقات آلودہ اورکیمیکل ملے پانی کی بو اتنی شدید ہوتی ہے کہ اطراف کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے لیے تیزرفتاراور قابلِ عمل طریقے کی ضرورت ہمیشہ ہی محسوس کی جاتی رہی ہے۔ اب کیٹالونیا میں واقع بایوانجینیئرنگ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسداں سانتیاگو مارکو اور ان کے ساتھیوں نے مصنوعی ناک بنایا ہے جو مصنوعی ذہانت بھی استعمال کرتا ہے اور ڈیٹا جمع کرتا ہے۔

پہلے انہوں نے ہوا بھرے بیگ استعمال کئے جو گندے پانی کے ذخائر کے اوپر سے بھرے گئے تھے۔ پھر انہیں مصنوعی ناک کو سناکر ان کی تربیت کی گئی۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت ڈرون تیزی سے بدبو یا بو شناخت کرنے لگا اور ان کی دیگر تفصیلات بھی دینے لگا۔ اب یہ ناک والا ڈرون بہت آسانی سے ہائڈروجن سلفائیڈ، امونیا، سلفر ڈائی آکسائیڈ، اور دیگر کیمیائی بو سونگھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بیکٹیریا کی شناخت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا احساس کرسکتا ہے۔

اگلے مرحلے میں سوکلوگرام وزنی ناک کو ڈرون پر لگایا گیا اور جنوری سے جون تک ایک ویسٹ واٹر پلانٹ پر آزمایا گیا۔ ڈرون نے 10 میٹر لمبی ٹیوب سے بو کو سونگھا اور ہوا کو ایک چیمبر میں داخل کیا۔ جب اس کا تجزیہ سامنے آیا تو مصنوعی ناک کے 13 میں سے 10 نتائج عین انسانی ناک کے معیار پر سامنے آئی اور اس کی انسانی تصدیق بھی ہوئی۔ ڈرون کی حرکات سے یہ پیشگوئی بھی ممکن ہے کہ کس وقت بعد کونسی بدبو میں کتنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس کامیابی کے بعد ناک والے ڈرون کو مزید بہتر اور ہلکا پھلکا بنانے پر کام کیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2248383/508/



آئی بی ایم نے دنیا کا سب سے طاقتور کوانٹم پروسیسر پیش کردیا ہے جسے ایگل کا نام دیا گیا ہے۔ ایگل کی پروسیسنگ رفتار 127 کوانٹم بٹس (کیوبٹس) ہے۔

توقع ہے کہ اس اہم پیشرفت سے انتہائی تیزرفتار کوانٹم کمپیوٹر کی تجارتی تیاری کی راہ کھلے گی۔ روایتی ڈجیٹل کمپیوٹروں میں ڈیٹا یا تو صرف کی صورت میں جمع ہوتا ہے یا پھر ایک کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف کوانٹم کمپیوٹروں میں کیوبٹ صفر اور ایک کے درمیان ہوسکتی ہے لیکن ایک ہی وقت میں دونوں کیفیات میں بھی ڈیٹا رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ڈیٹا پروسیسنگ کے لامحود آپشن کھل سکتے ہیں۔

اب 127 کیوبٹس ایگل کو دنیا کے طاقتور ترین کوانٹم پروسیسر کا اعزاز مل گیا ہے ۔ اس طرح چین کے 113 کیوبٹ جیوزیگ ، ، گوگل کے 72 کیوبٹ والے برسل کون کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ 2.0

کوانٹم کمپیوٹروں کو کمپیوٹنگ کا مستقبل قرار دیا جارہا ہے جنہیں کوانٹم فزکس کے اصولوں پر بنایا جاتا ہے۔ اس سے کمپیوٹنگ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ آئی بی ایم نے چپ کے پورے آرکیٹیکچر کو نئے سرے سے بنایا ہے ۔ پروسیسر میں کوبٹس کو ایک ہی سطح (سنگل لیئر) پر رکھا گیا ہے ۔ اس سے غلطیوں میں کمی ہوجاتی ہے اور کنٹرول وائرنگ کئی طبعی سطحوں پر پھیل جاتی ہے۔

اگر روایتی کمپیوٹر کو ایگل کوانٹم کمپیوٹر کی طرح بنایا جائے تو اس کے لئے دنیا کے ہر فرد کے جسموں میں موجود ایٹم کے برابر ہوں ذرات درکار ہوں گے۔ آئی بی ایم کے مطابق یہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں کسی انقلاب سے کم نہیں اور اسے ماہرین نے کوانٹم مفاد (ایڈوانٹیج) کا نام دیا ہے۔

2019 میں گوگل نے 53 کیوبٹ کا سائیکامور پروسیسر بنایا تھا اور اس کے بعد آئی بی ایم بھی اس دوڑ میں شامل ہوگیا ۔ اس کے بعد گزشتہ سال چینی ماہرین نے اپنے کوانٹم کمپیوٹر سے اس حساب کتاب کو منٹوں میں انجام دیا جو روایتی کمپیوٹنگ سے ڈھائی ارب سال میں مشکل سے حل ہوسکتا تھا۔

آئی بی ایم کے مطابق اگلے برس وہ 433 کیوبٹ پروسیسر پیش کرے گی جسے آسپرے کا نام دیا گیا پھر 1121 کیوبٹس کا کونڈور نامی کمپیوٹر 2023 میں پیش کیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2248516/508/



بلیک ہولز حادثاتی طور پر سونا، چاندی اور دیگر دھاتیں پیدا کرتے ہیں، ماہرین کا حیران کن انکشاف
Nov 17, 2021 | 13:13:PM

سورس: Pixabay.com (creative commons license)

کراچی (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بلیک ہولز بھاری دھاتیں بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سونا، چاندی، تھوریم اور یورینیم جیسی دھاتوں کی پیداوار توانائی سے بھرپور ماحول میں ہوتی ہے خلاء میں سُپر نووا (ستاروں کے آپس میں ٹکرانے کا عمل) کے ذریعے ہی اتنی بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے جس سے یہ دھاتیں بنتی ہیں۔

ماہرین نے تحقیق میں بتایا ہے کہ یہ دھاتیں اُس چکر دار افراتفری کی سی کیفیت (Swirling Chaos) کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جو بلیک ہول کے گھومنے کی وجہ سے اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ خلا میں اپنے گرد موجود چیزوں کو نگلنا شروع کرتا ہے۔ ایسی سخت ماحول میں نیوٹرینو کے تیزی سے اخراج سے پروٹونز نیوٹرونز میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے نیوٹرونز کی وہ مطلوبہ تعداد پیدا ہوتی ہے جو بھاری دھاتیں بنانے کیلئے کافی ہے۔

جرمنی میں جی ایس آئی ہیلم ہولٹز سینٹر فار ہیون آئن ریسرچ کے ماہر طبعی فلکیات اولیور جسٹ نے بتایا ہے کہ اپنی تحقیق میں ہم نے منظم انداز سے اُن مظاہر پر غور کیا ہے جو نیوٹرینوز کے اخراج کی شرح کا سبب بنتے ہیں اور پروٹونز سے نیوٹرون بنتے ہیں۔ اس کیلئے ہم نے کمپیوٹر سیمولیشنز کا سہارا لیا اور یہ معلوم کیا کہ بلیک ہولز کے گرد چیزوں کو نگلے جانے کے وقت بننے والی ڈسک نیوٹرونز سے بھرپور ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں بگ بینگ کے بعد خلا میں زیادہ دھاتیں موجود نہیں تھیں۔ جب تک ستارے نہیں بنے اور ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائے اور ان کا مرکز ایک دوسرے میں پیوست نہیں ہوا اس وقت تک کائنات صرف ہائیڈروجن اور ہیلیم گیس سے بھری تھی۔ نیوکلیئر فیوژن کی وجہ سے کائنات میں بھاری دھاتوں کا پیدا ہونا شروع ہوا، کاربن سے لیکر لوہے تک ہر وہ دھات ستاروں کے آپس میں ٹکرانے سے بنیں جن کے نام آج ہم جانتے ہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/17-Nov-2021/1366722?fbclid=IwAR2sa6ylSgSJa9-2nJEVUExeaSqLwBE2b6OO_z4AXUtnoNyhM8-1Q0BPzmY



امریکی ماہرین نے مقناطیسی طاقت سے ڈپریشن کے علاج میں نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں تقریباً 80 فیصد مریضوں میں یہ مرض نہ صرف ختم ہوگیا بلکہ کئی ماہ تک دوبارہ نمودار بھی نہیں ہوا۔

امریکی ادارہ ’ایف ڈی اے‘ اکتوبر 2008 میں شدید ڈپریشن کے مقناطیسی علاج کی منظوری دے چکا ہے لیکن اس سے صرف 50 فیصد مریضوں کو افاقہ ہوتا ہے جبکہ صرف 33 فیصد مریضوں میں ہی ڈپریشن کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو پاتا ہے۔

اس طریقے کے تحت مریض کی کھوپڑی پر کچھ دیر کےلیے ایک خاص دستی آلے کے ذریعے مقناطیسی لہریں مرکوز کی جاتی ہیں جبکہ یہ عمل روزانہ ایک مرتبہ کی بنیاد پر چھ ہفتوں تک جاری رکھا جاتا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسی طریقے کو قدرے مختلف انداز میں شدید ڈپریشن کے مریضوں پر آزما کر اور 78.6 فیصد کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ان میں صحت یابی کے کئی مہینوں بعد بھی ڈپریشن دوبارہ نمودار نہیں ہوا۔

اس علاج کا واحد ضمنی اثر (سائیڈ ایفیکٹ) وقتی تھکاوٹ اور دردِ سر کی صورت میں ظاہر ہوا۔

اس مطالعے میں 29 رضاکار بھرتی کیے گئے جن کی عمر 22 سے 80 سال کے درمیان تھی اور وہ اوسطاً 9 سال سے ڈپریشن کا شکار تھے۔ ان تمام افراد میں ڈپریشن اس قدر شدید تھا کہ دواؤں سے بھی انہیں کوئی افاقہ نہیں ہورہا تھا۔

ان میں سے 15 رضاکاروں میں ڈپریشن کا مصنوعی (پلاسیبو) مقناطیسی علاج کیا گیا جبکہ 14 کو حقیقی مقناطیسی علاج کے مراحل سے گزارا گیا۔

ہر مریض میں سب سے پہلے ایم آر آئی کی مدد سے مقناطیسی لہریں مرکوز کرنے کےلیے ’بہترین ہدف‘ کا انتخاب کیا گیا۔

اس کے بعد روزانہ 10 مرتبہ اس ہدف پر مقناطیسی لہریں مرکوز کی گئیں۔ ہر بار دس منٹ کے دوران مقناطیسی لہروں کے 1800 جھماکے اس حصے پر ڈالے گئے جس کے بعد مریض کو 50 منٹ آرام کرنے دیا گیا۔

نئے مقناطیسی علاج کے مثبت نتائج پہلے ہی دن سے ملنا شروع ہوگئے۔

چار ہفتوں کے بعد اصلی مقناطیسی علاج کروانے والے 14 میں سے 11 مریضوں میں ڈپریشن کی تمام ظاہری علامات تقریباً ختم ہوچکی تھیں، ایک مریض کو خاصا افاقہ ہوا تھا جبکہ صرف ایک مریض پر اس علاج سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

صحت یاب ہوجانے والے مریضوں میں علاج کے کئی مہینوں بعد بھی ڈپریشن دوبارہ نمودار نہیں ہوا۔

مقناطیسی جھماکوں/ لہروں کے ذریعے ڈپریشن کے علاج میں یہ ایک اہم اور غیرمعمولی پیش رفت ہے جس کی تفصیلات ’’امریکن جرنل آف سائیکیاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2247470/9812/



یہ بات تقریباً یقینی ہوچکی ہے کہ اپنے آئی پیڈ اور آئی فون کے حوالے سے شہرت رکھنے والی ایپل کارپوریشن نے اسی طرز پر ’آئی کار‘ بھی پیش کرنے کی تیاری کرلی ہے جو بجلی سے چلے گی۔

اگرچہ اس منصوبے پر پچھلے سات سال سے کام ہورہا ہے لیکن اس بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں اور یہ سارا کام انتہائی رازداری سے کیا جارہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ کار 2025 تک فروخت کےلیے پیش کردی جائے گی۔


برطانوی کار لیزنگ کمپنی ’’واناراما‘‘ نے اپنے ایک تازہ بلاگ میں ’’ایپل آئی کار‘‘ کا مکمل تھری ڈی ڈیزائن جاری کردیا ہے۔

واناراما کا دعوی ہے کہ یہ ڈیزائن بالکل درست اور حقائق پر مبنی ہے کیونکہ یہ اُن پیٹنٹس کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جو ایپل کارپوریشن نے پچھلے چند سال کے دوران امریکی پیٹنٹ آفس سے حاصل کی ہیں۔

البتہ پیٹنٹ نمبر US10309132B1 اور US10384519B1 کو سب سے اہم قرار دیا گیا ہے، جن میں سے پہلی کا تعلق کار کی بیرونی ساخت سے جبکہ دوسری پیٹنٹ اس کار کے اندرونی حصوں یعنی ڈیش بورڈ، ونڈ اسکرین اور سیٹوں وغیرہ کے بارے میں ہے۔


امریکن پیٹنٹ آفس کی ویب سائٹ سے ان دونوں میں سے کسی ایک پیٹنٹ کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن ٹیکنالوجی سے وابستہ عالمی حلقے پھر بھی اس رپورٹ کو معتبر قرار دے رہے ہیں۔

واناراما کے مطابق، اس کار میں ایک خودکار الکحل میٹر بھی نصب ہوگا جو ڈرائیور کے بیٹھتے ہی اس کے نشے میں ہونے یا نہ ہونے کا پتا چلائے گا۔

’ایپل آئی کار‘ کی تھری ڈی تصاویر دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے آئی فون کی شکل میں معمولی تبدیلی کرکے اس کے نیچے پہیے لگا دیئے گئے ہوں۔


دروازوں کے ہینڈل، آئی فون کے بٹنوں جیسے رکھے گئے ہیں جبکہ کار کی سفید رنگت بالکل ویسی ہے جیسی 2010 میں آئی فون 4 کی تھی۔

’ایپل آئی کار‘ کی ونڈ اسکرین ایک بڑی اسمارٹ فون اسکرین کی طرح ہوگی جس پر سامنے کا منظر اور سفر سے متعلق دوسری معلومات بھی ایک ساتھ دیکھی جاسکیں گی۔

کار کی سیٹیں لچک دار لیکن مضبوط ہوں گی جنہیں گھمایا بھی جاسکے گا جبکہ ڈیش بورڈ بھی مکمل طور پر ’’کسٹمائزیبل‘‘ ہوگا، یعنی ڈرائیور اپنی سہولت کے حساب سے ڈیش بورڈ کو تبدیل کرسکے گا۔


واناراما کے دعوے اپنی جگہ لیکن یہ تھری ڈی ڈیزائن بھی بہرحال ایک اندازے سے زیادہ کچھ نہیں۔

ایپل آئی کار اصل میں کیسی ہوگی؟ اس کا حتمی جواب تو ایپل کارپوریشن ہی کے پاس ہے جس نے اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
https://www.express.pk/story/2247907/508/



کیا ڈرون کو آواز کی امواج سے دھکیلا جاسکتا ہے؟

اس کا جواب’ہاں‘ میں دیتے ہوئے جاپانی ماہرین نے ایک بڑا غبارہ ڈرون بنایا ہے جس پر کیمرے نصب ہیں۔ یہ غبارہ آواز کی لہروں سے آگے بڑھتا ہے لیکن آواز کو کوئی سن نہیں سکتا۔ اس سے خاموش اور بے ضرر قسم کے ڈرون کی راہ ہموار ہوگی۔

جاپانی موبائل فون سروس فراہم کرنے والی ایک کمپنی این ٹی ٹی ڈوکومو کا کہنا ہے کہ تمام ترقیوں کے باوجود ڈرون کی پنکھڑیاں بہت شور کرتی ہیں اور کسی حادثے کی صورت میں نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈرون کی پنکھڑیاں ہزاروں چکر فی منٹ کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔

نمائشوں اور میلوں میں عام استعمال ہونے والے غبارے (بلمپس) میں ہیلیئم بھری ہوتی ہے اور ان پر اشتہار والے لگائے جاتے ہیں۔ لیکن انہیں گھمانےپھرانے کے لیے پنکھڑیاں ہی لگی ہوتی ہیں۔ کسی حادثے کی صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

اب این ٹی ٹی ڈوکومو کمپنی نے بیضوی غبارہ بنایا ہے جس کے نیچے طاقتور کیمرہ لگا ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں جانب الٹراسونک اسپیکر نما ٹرانسڈیوسر نصب ہیں۔ یہ تھرتھراتے ہیں اور ہوا پر دباؤ ڈالتے ہیں اس کی وجہ سے غبارہ خاص سمت میں آگے بڑھتا ہے۔ ان ٹرانسڈیوسر کو ہاتھ لگانے سے کچھ نہیں ہوتا اور حادثے کی صورت میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس طرح برقی موٹر اور پنکھڑیوں کے مقابلے میں بہت کم توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس دوران غبارے کے اندر موجود ہیلیئم گیس اسے ہوا میں معلق رکھتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اگلے سال مارچ سے تجارتی پیمانے پر تیاری شروع کردی جائے گی۔ اس میں مزید حفاظتی پہلو اور ایل ای ڈی نصب کی جائے گی جو تفریح اور اشتہاراتی مقاصد کو پورا کریں گے۔
https://www.express.pk/story/2247713/508/



سائنس دانوں نے کورونا وائرس والے ماسک کو پاک اور دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا ایک بہت آسان حل پیش کیا ہے۔ اس کے لیے صرف اتنا کرنا ہوگا کہ ماسک کو چند منٹ تک اوون میں رکھ کر 70 درجے سینٹی گریڈ تک گرم کرنا ہوگا۔

اس طرح ایک ماسک کو بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے اور کووڈ سے پیدا ہونے والے کچرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے اوون گھروں میں موجود ہوتے ہیں جس میں صرف پانچ منٹ تک گرم کرکے اسے پاک صاف کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق جرنل آف ہازرڈوز مٹیریئل میں شائع ہوئی ہے۔ سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ استعمال شدہ ماسک کو اوون میں رکھ کر 70 درجے سینٹی گریڈ پر پانچ منٹ تک گرم کیا جائے تو اس طرح 99.9 سارس کوو ٹو وائرس تلف ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سادہ طریقہ بہت آسانی سے ایف ڈی اے کی جراثیم کشی کے معیارات پر پورا اترتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ طریقہ مستقبل میں کسی اور بڑی وبا میں بھی کام آسکتا ہے۔

یہ تحقیق رائس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل پریسٹن نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عین یہی طریقہ کورونا کے علاوہ بھی دیگر کئی اقسام کے جراثیم کو آسانی سے تلف کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بھی جراثیم کو مارا جاتا ہے لیکن بالائے بنفشی شعاعوں کی سہولت ہر گھر میں موجود نہیں ہوتی۔ دورسری جانب یہ شعاعیں ڈاکٹری لباس (پی پی ای) اور ماسک کی تہوں تک نہیں پہنچتی۔ اس کے مقابلے میں حرارت ہر جگہ نفوذ کرجاتی ہے اور اور وائرس کو بڑی حد تک تباہ کرڈالتی ہے۔

اس ضمن میں تحقیق بہت کم کی گئی تھی۔ لیکن مسلسل تحقیق سے ثابت ہوا کہ کپڑے کے ماسک بھی حرارت سے جراثیم سے مکمل طور پر پاک ہوجاتے ہیں۔ اب اگر روایتی ماسک کو پانچ منٹ سے زیادہ بھی گرم کیا جائے تو اس کے معیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ کمزور ہوکر پھٹتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2247642/9812/



تین برطانوی ادارے باہمی اشتراک سے ایک ایسا انجن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو امونیا گیس کو بطور ایندھن استعمال کرے گا۔

واضح رہے کہ ہوائی جہازوں میں ’جیٹ فیول‘ کہلانے والا ایندھن استعمال ہوتا ہے جو عموماً 30 فیصد کیروسین (مٹی کے تیل) اور 70 فیصد گیسولین (پیٹرول) کو آپس میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔

دنیا میں مسلسل بڑھتے ہوئے فضائی سفر کی وجہ سے یہی جیٹ فیول آلودگی کا باعث بھی بن رہا ہے جس کی جگہ کوئی نیا اور ماحول دوست ایندھن متعارف کروانے کی کوششیں پچھلے کئی سال سے جاری ہیں۔

ری ایکشن انجنز، ایس ٹی ایف سی اور آئی پی گروپ نامی تین برطانوی اداروں کا مشترکہ منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں جیٹ انجن کےلیے جدید ٹیکنالوجی ’سیبر‘ (SABRE) سے استفادہ کیا جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ری ایکشن انجنز نے وضع کی ہے۔

خبروں کے مطابق، امونیا سے جیٹ فیول کی نسبت 50 فیصد توانائی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن یہ دوسرے مجوزہ متبادل ایندھن یعنی ہائیڈروجن کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ توانائی خارج کرتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ امونیا کو محفوظ کرنا اور ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی بہت آسان ہوتا ہے جبکہ اسے مائع ہائیڈروجن کی نسبت خاصی کم جگہ میں ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

مطلب یہ کہ اگر امونیا کو متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہوائی جہاز کے انجن اور فیول ٹینک کی جسامت میں غیرمعمولی اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اس کے برعکس، ہائیڈروجن ایندھن کی صورت میں اتنا بڑا فیول ٹینک اور انجن درکار ہوں گے کہ طیارے میں مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش بہت کم رہ جائے گی۔

امونیا ایندھن کی دوسری تمام خوبیوں کے باوجود، ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جیٹ فیول سے زیادہ ماحول دشمن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ فضا میں جیٹ فیول جلنے سے صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آبی بخارات خارج ہوتے ہیں لیکن امونیا کے جلنے پر نائٹروجن آکسائیڈز (NOx) گیسیں خارج ہوں گی جو فضا کو زہریلا کرتے ہوئے تیزابی بارشوں میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

فی الوقت اس بارے میں کچھ بھی کہنا اس لیے قبل از وقت ہے کیونکہ امونیا کا ایندھن استعمال کرنے والے انجن کی ٹیکنالوجی ابھی بالکل ابتدائی مرحلے پر ہے۔

ہزاروں تجربات اور سیکڑوں آزمائشوں کے بعد ہی اس کے طیاروں میں قابلِ استعمال ہونے یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
https://www.express.pk/story/2247510/508/



دنیائے سائنس سے ایک دلچسپ خبر یہ آئی ہے کہ کئی دہائیوں قبل ایک معدن کی پیشگوئی کی گئی تھی جو اب زمین کی 660 کلومیٹر گہرائی سے دریافت ہوئی ہے۔

ایک ہیرے کے اندر اس معدن کے آثار ملے ہیں جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ اس معدن کو ’ڈیوموآئٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کی ملتی جلتی قسم دنیا میں ملتی ہے لیکن ڈیوموآئٹ زمین کی گہرائی میں بلند درجہ حرارت اور دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے۔

افریقی ملک بوٹسوانہ سے ملنے والے اس ہیرے کے اندر سیاہ معدن کے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہیں اور ایک عرصے سے ان کی تلاش جاری تھی۔ تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور جامعہ نواڈا میں ارضیاتی کیمیا کے سربراہ اولیور شونر نے اسے ڈیوموآئٹ کا نام دیا ہے۔ یہ کیلشیئم سیلیکیٹ CaSiO3 پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں یورینیئم، تھوریئم اور پوٹاشیئم کے تابکار ہم جا (آئسوٹوپس) موجود ہوسکتے ہیں۔

نظری طور پر 1967 میں اس معدن (منرل) کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ماہرین نے اس کا مقام زمین کی گہرائی یعنی مینٹل کو قرار دیا گیا جہاں درجہ حرارت بلند اور دباؤ غیرمعمولی ہوتا ہے۔ مینٹل زمینی قشر(کرسٹ) اورقلب (کور) کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اس طرح ڈیوموآئٹ کو سمجھ کر خود ہم زمینی ساخت، پلیٹ ٹیکٹونکس اور ارضیات کو جان سکتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معدن خاص حالات کے تحت 660 سے 2700 کلومیٹر گہرائی میں تشکیل پاتی ہے جہاں حرارت اور دباؤ کا راج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ہیرے کے اندر دیکھا گیا ہے جو بلند درجہ حرارت پراپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔

اگرچہ کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے لیکن قدرتی طور پر پہلی مرتبہ اسے دیکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 1987 میں اس ہیرے کو بوٹسوانہ کی ایک کان سے برآمد کیا گیا تھا لیکن وہ مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہواں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پہنچا جہاں کئی برس تک اس پر تحقیق کی گئی اور 11 نومبر کو اس کا اعلان ایک تحقیقی مقالے کی صورت میں کیا گیا ہے۔

پہلے اسے لیزر سے چھیدا گیا تو اندر کیلشیئم کے آثار ملے۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ کیلشیئم سلیکیٹ ہے اور آخرکار معلوم ہوا کہ یہ کرسٹل حقیقت میں کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ ہے۔ زمینی مینٹل کا پانچ سے سات فیصد حصہ اسی معدن پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ دریافت سیکڑوں میل کی گہرائی میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ہیرے کی ایک کان سے ملی ہے اور خیال ہے کہ یہ کسی عمل کی بدولت اوپر تک پہنچا ہوگا۔
https://www.express.pk/story/2247242/508/



مشہورِ زمانہ اینٹی بایوٹک دوا پینسلین کا ایک اور فائدہ افریقہ سے سامنے آیا ہے جہاں بچوں میں دل کی ایک کیفیت ریومیٹک ہارٹ ڈیزیز میں اسے بہت ہی مؤثرپایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ریوموٹائیڈ ہارٹ ڈیزیز(آر ایچ ڈی) بالخصوص بچوں میں ایک خاص قسم کے بخار کے بعد سامنے آتی ہے جس میں ان کے دل کے والو شدید متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری اسٹریپٹوکوکل (بیکٹیریا) انفیکشن کے بعد لاحق ہوسکتی ہے اور دل متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ذیلی صحارا افریقہ میں آر ایچ ڈی سے سالانہ 306,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں بچوں کے علاوہ 25 سال سے کم عمر کے افراد ذیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

آر ایچ ڈی غریب ممالک بالخصوص افریقی بچوں میں پائی جاتی ہے۔ اب ایک نئی تحقیق کے مطابق یوگنڈ ا کے بچوں کی بڑی تعداد پر اسے آزمایا گیا ہے جس کی تفصیلات نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ کریگ سیبل ہیں جو واشنگٹن میں واقع چلڈرن نیشنل ہسپتال میں معالجِ قلب ہیں۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر بچوں میں پینسلین کے تجربات کئے ہیں۔ نتائج کے مطابق پینسلین کا استعمال آرایچ ڈی کو نہ صرف بڑھنے سے روک سکتی ہے بلکہ بچے کے دل کا مزید نقصان تھم جاتا ہے۔

یوگنڈا کے ہسپتالوں میں بعض بچوں کو جب لایا جاتا ہے تو ان کے قلبی والو کی درستگی بہت مشکل اور ناقابلِ علاج تک ہوجاتی ہے۔ دوم پسماندہ ملک میں والو سرجری کی سہولیات نہ ہونے سے لوگوں کی بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔

اس منصوبے کو ’بچے کے دل کا تحفظ‘ کا نام دیا گیا جس میں 5 سے 17 برس کے 818 بچوں کا جائزہ لیا گیا۔ تمام مریض ریومیٹک ہارٹ ڈیزیز کے شکار تھے۔ ماہرین نے غور کیا کہ اگر ان بچوں کو پینسلین کے ٹیکے لگائے جائیں تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

کل 799 افراد ہی پورے آزمائشی عمل سے گزرے جن میں سے 399 افراد نے اپنا کورس مکمل کیا اور دو سال بعد ان میں سے صرف تین افراد کی بیماری مزید بگڑی۔ دوسری جانب 400 افراد ایسے تھے جنہیں پینسلین نہیں دی گئی تھی اور ان میں سے 33 افراد کی بیماری بہت زیادہ بگڑگئی۔

اس تحقیق سے ایک جانب تو خود پینسلین کی افادیت سامنے آئی ہے اور دوم تمام ماہرین کا اتفاق ہے کہ بروقت تشخیص سے علاج اور جان بچانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
https://www.express.pk/story/2247281/9812/



تین بڑی جامعات کے کئی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ طاقتور ترین اینٹی بایوٹکس ادویہ سے ٹھیک نہ ہونے والے بیکٹیریا کو سونے کے خاص ذرات سے تباہ کیا جاسکتا ہے۔

چین میں سدرن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور فیوڈان یونیورسٹی اور برطانوی جامعہ لیڈز کے سائنسدانوں نے سونے کے نینوذرات کو خاص انداز سے ڈیزائن کیا ہے۔ اس طرح وہ بیکٹیریا کو تباہ کرتے ہیں جبکہ اطراف کے تندرست حصوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔

اس کے لیے دو سالمات کے اندر سونے کے انتہائی باریک ذرات جوڑے گئے ہیں۔ اس طرح وہ سخت ترین بیکٹیریا کو تباہ کرنے کے قابل ہوئے ہیں اور اطراف کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔

اگرچہ اس کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن سونے کے ذرات دوست اور دشمن کی تمیز نہیں کرپاتے اور جسم کے اندر صحت مند حصوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اب ضروری ہے کہ خود جراثیم اور بیکٹیریا سونے کے ذرات کو قبول کرے اور جسم کے دیگر تندرست خلیات انہیں رد کردیں۔ اس کے لیے ماہرین نے طلائی نینوذرات کو دو طرح سے تبدیل کیا ہے۔ پہلے تو انہوں نے ایک ذرہ اتنا چھوٹا بنایا کہ وہ گردے سے گزرکر بدن سے خارج ہوجائے۔ اس کے لیے دونینومیٹرکی موٹائی کافی تھی۔ یعنی سونے کے صرف 25 ایٹموں کا ایک گولہ سا بنایا گیا۔

دوسری ضرورت یہ تھی کہ اس پر چپکنے والا کوئی مادہ لگایا جائے جسے ٹریک کیا جاسکے اور وہ تیرتا ہوا بیکٹیریا میں جا گھسے۔ اس کے لیے لائی جینڈس نامی کیمیائی ساخت کو استعمال کیا گیا۔

اچھی خبر یہ ہے کہ لائجینڈ پر مثبت چارج ہوتا ہے اور بیکٹیریا کی اوپری پرت پر منفی چارج ہوتا ہے۔ اس طرح سونے کے ذرات کو بیکٹیریا عین اسی طرح کشش کرتا ہے جس طرح بلی کے بال سویٹر پر چپک جاتے ہیں۔

لیکن واضح رہے کہ اب بھی اس میں خامیاں تھیں اور گولڈ تھراپی کے لیے ذرات کی کشش اور چارج کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے سائنسدانوں نے ایک اور مٹیریئل کا انتخاب کیا جن میں پائریڈینیئم اور زویٹیریئن قابلِ ذکر ہیں۔ اول الذکر پر مثبت اور دوسرے پر ایک ہی وقت میں منفی اور مثبت دونوں چارج ہوتے ہیں۔

اب پائریڈینیئم کو بیکٹیریا مزید کھینچنے لگتا ہے جس کی افادیت اس سے پہلے کی تحقیق میں بھی ثابت ہوچکی ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ایک بہت ہی خوفناک قسم کے بیکٹیریا ایم آر ایس ای پر آزمایا گیا تو سونے کے نینوذرات نے انہیں بہت مؤثر انداز میں نقصان پہنچایا۔

اگلے مرحلے میں نینوذرات کو خود اینٹی بایوٹکس کے ساتھ ملاکر استعمال کیا گیا اور اس سے بھی بیکٹیریئم کی تعداد بہت کم ہوئی۔ ایک مرحلے میں اس سے ایم آرایس ای کی افزائش سو گنا تک کم ہوگئی۔ اگلے مرحلے میں انہیں ایم آر ایس ای اسکن انفیکشن والے چوہوں پر آزمایا اور وہاں بھی سونے کے ذرات کی افادیت سامنے آئی۔

سائنسدانوں نے سونے کے نینوذرات کی اس ٹیکنالوجی کو بیکٹیریا کے خاتمے کے لیے ایک سنہرا موقع قرار دیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2246603/9812/



سائنسی اور تدریسی کھلونے بنانے والی مشہور کمپنی پاکٹ لیب نے اب جی فورس نامی کھلونا کار بنائی ہے۔ کار میں نصب جدید سینسر کی وجہ سے اسے پہیوں پر دوڑنے والی فزکس تجربہ گاہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل پاکٹ لیب سائنسی تجربات کے آلات، ہارڈویئر، سائنسی نصاب اور دیگر اشیا بناتی رہی ہے۔ جی فورس نامی کار میں نصب سینسر کی بدولت بچے بہت آسانی سے کار کی رفتار، اسراع (ایسلریشن) اور دیگر طبیعیاتی مظاہر کو سمجھ سکتے ہیں۔

پاکٹ لیب کی پشت پر ٹیکنالوجی، ڈیزائننگ اور سائنس کے ماہرشامل ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اس سے عام افراد اور بڑے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔


اگرچہ کھلونا کار کو عین اصل گاڑی کی بنا پر تیار کیا گیا ہے لیکن جی فورس کار میں اسپیڈومیٹر اور اوڈومیٹر نصب ہے جو وائرلیس رابطے کی بدولت اپنا ڈیٹا ہاتھوں ہاتھ کمپیوٹر یا فون تک روانہ کرسکتے ہیں۔ کار کے ساتھ اس کے پٹڑی نما ٹریک، ڈھلوانیں اور چکر دار اسٹرکچر بھی دستیاب ہیں جن پر دوڑتی ہوئی کاریں پیچیدہ ریاضیاتی حقائق واضح کرتی ہیں۔


مثلاً اگر دو کاریں باہم ٹکراتی ہیں تو انرشیا کی پیمائش بھی کی جاسکتی ہے۔ عین یہی ٹیکنالوجی خودکار کاروں کے لیے بھی استعمال ہورہی ہیں۔ میٹرک کی طبیعیات کی کتاب میں ہم نے ’سادہ ہم آہنگ حرکات‘ سمپل ہارمونک موشن کا نظریہ پڑھا تھا جس کا عملی تجربہ خود اس کار سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

جی فورس ایپ کی بدولت آپ کار کا ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں اور اسے مساوات میں رکھ کر مزید کچھ جان سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوٹ بک سیریز میں ہزاروں اسباق اور عملی تحریریں موجود ہیں۔

کار کی بیٹری یو ایس بی سےچارج ہوتی ہے۔ کار میں اندرونی طور پر نو ایکسل لگائے گئے ہیں۔ آگے کی جانب اسپیڈومیٹراور اوڈومیٹر لگائے گئے ہیں جب کہ ایک کار کی قیمت 88 سے 98 ڈالر رکھی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2246521/508/



ایک آسٹریلوی سائنسدان نے اپنے دلچسپ مضمون میں بتایا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں میں اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ ایک لاکھ سال تک دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کےلیے کافی رہے گی۔

یعنی اگر ہم کوئی ایسی ٹیکنالوجی وضع کرلیں جو چاند کی مٹی اور پتھروں سے مؤثر طور پر آکسیجن الگ کرسکے تو چاند پر انسانی بستیاں بسانے کے خواب کو تعبیر دینا بھی بہت آسان ہوجائے گا۔

نیو ساؤتھ ویلز کی سدرن کراس یونیورسٹی میں سوائل سائنس کے ماہر، جان گرانٹ کا یہ مضمون ’’دی کنورسیشن‘‘ ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے چاند کےلیے مختلف عالمی اور علاقائی منصوبوں کا تذکرہ کرنے کے علاوہ چاند پر موجود آکسیجن کی مقدار کا بھی اندازہ پیش کیا ہے۔

چاند پر ہوا اتنی کم ہے کہ اسے نہ ہونے کے برابر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس میں بھی زیادہ مقدار نیون، ہیلیم اور ہائیڈروجن گیسوں کی ہے۔

چاند کی سطح پر پھیلی ہوئی مٹی، پتھروں اور چٹانوں کو مجموعی طور پر ’’قمری غلافی چٹانیں‘‘ یا ’’مُون ریگولتھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جن میں آکسیجن ضرور ہے لیکن معدنیات کے طور پر، آکسیجن کے مختلف مرکبات (آکسیجن کمپاؤنڈز) کی شکل میں۔

گرانٹ کا کہنا ہے کہ چاند کی غلافی چٹانوں میں 45 فیصد آکسیجن ہے لیکن اسے مرکبات سے آزاد کرکے خالص گیس کی حالت میں لانے کےلیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوگی۔

تاہم اگر کسی طرح سے چاند پر اس توانائی کا بندوبست کرلیا جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرلیا جائے کہ جس سے کم توانائی خرچ کرکے معدنیات سے خالص آکسیجن گیس الگ کی جاسکے تو چاند پر انسانی رہائش کےلیے آکسیجن کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

گرانٹ کے مطابق، چاند پر ریگولتھ کے ہر مکعب میٹر میں 1400 کلوگرام معدنیات ہوتی ہیں جن میں اوسطاً 630 کلوگرام آکسیجن شامل ہوتی ہے۔

انہوں نے ناسا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ہر انسان کو روزانہ سانس لینے کےلیے 800 گرام آکسیجن درکار ہوتی ہے، یعنی یہ 630 کلوگرام آکسیجن ایک انسان کےلیے دو سال تک کافی رہے گی۔

گرانٹ نے حساب لگایا ہے کہ اگر پورے چاند کی سطح پر صرف 10 میٹر گہرائی تک کھدائی کرکے ’’ریگولتھ‘‘ نکالی جائے اور اس سے آکسیجن بنائی جائے، تو اس کی مقدار اتنی زیادہ ہوگی کہ آٹھ ارب انسانوں کےلیے ایک لاکھ سال تک کافی رہے گی۔

مطلب یہ کہ چاند پر انسانی بستیاں بسائی جاسکتی اور وہاں رہنے والے انسانوں کےلیے درکار تمام آکسیجن بھی چاند کی سطح پر موجود ریگولتھ کی معمولی مقدار سے حاصل کی جاسکے گی۔ البتہ اس کےلیے ہمیں آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2246375/508/



طبّی ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ خون میں پائے جانے والے ایک پروٹین کی مقدار سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ 19 سال پہلے ہی لگایا جاسکتا ہے، چاہے تب اس بیماری کا معمولی خطرہ بھی نہ ہو۔
یہ پروٹین ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) کہلاتا ہے جو 1980ء کے عشرے میں دریافت کیا گیا تھا۔
ویسے تو یہ تقریباً تمام جسمانی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار جگر (لیور) سے خارج ہوتی ہے۔

اب تک تولید اور استحالہ (میٹابولزم) کے حوالے سے اس پروٹین پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کے خون میں بھی اس پروٹین کی زیادہ مقدار دیکھی جاچکی ہے۔

علاوہ ازیں، کچھ سال پہلے جانوروں پر مطالعات سے معلوم ہوا کہ انسولین کی کارکردگی متاثر کرنے میں بھی یہی پروٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ انسولین ہی وہ ہارمون ہے جو شکر (گلوکوز) سے توانائی حاصل کرنے میں خلیوں کے کام آتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

تازہ تحقیق میں ماہرین نے سویڈن میں برسوں سے جاری ایک مطالعے ’’مالمو ڈائٹ اینڈ کینسر کارڈیوویسکیولر کوہورٹ‘‘ میں شریک 5000 افراد کے خون میں فولسٹیٹن پروٹین کی مقدار کا مطالعہ کیا۔

انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار اوسط سے زیادہ رہی، وہ کئی سال بعد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔

ایسے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ سے زیادہ وقفہ 19 سال نوٹ کیا گیا، یعنی ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے 19 سال پہلے ہی ان کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معمول سے بڑھ چکی تھی۔

ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا مکمل دارومدار، ان کے خون میں فولسٹیٹن کی اضافی مقدار پر تھا چاہے وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معلوم کرنے کےلیے سادہ بلڈ ٹیسٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے جس سے کسی صحت مند شخص کے بارے میں بھی پتا چل سکے گا کہ کئی سال بعد وہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا واضح امکان رکھتا ہے یا نہیں۔
https://www.express.pk/story/2246411/9812/



سائنسدانوں نے حرام مغز(اسپائنل کارڈ)میں شدید چوٹ لگنے سے معذور ہونے والے چوہوں کو صرف ایک انجیکشن سے ہی چار ہفتے میں ٹھیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین نے بالکل نئی انجیکشن تھراپی میں خاص قسم کے تھرتھراتے سالمات استعمال (مالیکیول) استعمال کئے ہیں ۔ ایک ہی خوراک سے متاثرہ حرام مغز کے منفی اثرات زائل کئے گئے اور ان کی بافتوں (ٹشوز) میں بحالی بھی دیکھی گئی ہے۔

جرنل سائنس میں 12 نومبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نئے علاج نے کئی طرح سے متاثرہ چوہوں کی کیفیت بحال کی۔ اول، نیورون کے اگلے کنارے یا ایکسون دوبارہ بنے، زخمی ٹشو بہتر ہوگیا، خلیات کے درمیان سگنل بھیجنے والی باریک پرت مائلین بہتر ہوئیں، اورجسمانی حرکت کو یقینی بنانے والے (موٹر)نیورون بہتر ہوئے۔ اس طرح یہ نئی تھراپی بہت ہی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

ناچتے سالمات

اس تھراپی میں استعمال ہونے والے مالیکیول کی حرکت کو خاص انداز سے بدلا گیا ہے تاکہ وہ مستقل تھرتھراتے ہوئے خلوی ریسپٹر سے اچھی طرح جڑسکیں۔ سالمات کو مائع کی حالت میں بدن میں داخل کیا جاتا ہے جہاں وہ ایک جل کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور اعصابی خلیات (نیورونز) سے رابطہ کرلیتی ہے۔

سالمات کی تھرتھراہٹ سے ان کی افادیت بڑھ گئی اور اپنا کام کرنے کے 12 ہفتوں بعد وہ ازخود ختم ہوجاتے ہیں جس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ واضح رہے کہ چوہوں پر تحقیق سے انسانی علاج کا راستہ کھل سکتا ہے کیونکہ ان پر استعمال شدہ ادویہ بعد میں انسانوں پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔ اب یونیورسٹی کے پروفیسر سیموئیل آئی اسٹپ نئے علاج کی انسانی آزمائش کے لیے ایف ڈی اے سے رابطہ کررہے ہیں۔

اپنی تمام تر کامیابیوں کے ساتھ تبصرہ نگاروں نے اس تجربے کو انسانوں کے لیے بہت حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

سائنسدانوں نے ’میٹا مٹیریئل‘ کہلانے والے مادّے کی ایک نئی قسم تیار کرلی ہے جو اس کی پچھلی اقسام سے کہیں بہتر ہے۔ یہ نیا میٹا مٹیریئل اپنے ماحول کے لحاظ سےردِعمل دکھاتا ہے، آزادانہ طور پر فیصلہ کرتا ہے اور انسان کے بغیر بعض عمل بھی کرتا ہے۔

مثلاً ایسے مادوں سے ڈرون بنایا جائے تو وہ ہوا کی رفتار، بارش اور دیگر کیفیات کو محسوس کرکے اپنا راستہ بہتر بناسکتا ہے اور یوں بحفاظت کسی جگہ اپنا سامان پہنچاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف میسوری میں انجینیئرنگ کے ماہر گؤلیانگ ہوانگ نے بتایا کہ ان کا تیارکردہ ذہین مٹیریئل عین قدرتی پودوں اور جانوروں کی طرح احساس کرتا ہے، معلومات کو پروسیس کرتا ہے اور اس پر ردِ عمل یا اظہار کرتا ہے۔ یعنی وینس ٹریپ کیڑے کی موجودگی پر فوری طور پر بند ہوجاتا ہے اور گرگٹ رنگ بدلتا ہے عین یہی مٹیریئل بھی یہ کام کرسکتا ہے۔

یوں میٹامٹیریئل کو طیاروں میں لگا کر ان کا شور کم کیا جاسکتا ہے اور دیگر کئی کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس مٹیریئل کو کنٹرول کرنے کے لیے اس میں چپ کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ مطلوبہ کام انجام دیا جاسکے۔ اگلے مرحلے میں اس مٹیریئل پر مزید کام کرکے اسے حقیقی ماحول اور حالات میں آزمایا جائے گا۔ اس کی تفصیلات نیچر کمیونکیشن میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے وسائل امریکی فضائیہ اور آرمی ریسرچ آفس نے فراہم کئے ہیں جبکہ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے بھی مالی اعانت کی ہے۔
https://www.express.pk/story/2246171/508/



گزشتہ 50 برس سے راکٹ ہی سیٹلائٹ کی سواری بنے ہیں اور اب لانگ بیچ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی ’اسپن لانچ‘ نے ایک غیر روایتی انداز سے سیٹلائٹ داغنے کا طریقے پر کام کیا ہے جس کی پہلی آزمائشی فلائٹ کی گئی ہے۔

اسپن لانچ کو دنیا کا پہلا حرکی راکٹ نظام کہا جاسکتا ہے جس پر 2015ء سے کام جاری ہے۔ اس کا مقصد خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کے کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ وضع کرنا ہے۔

اسپن لانچ کے مطابق 22 اکتوبر کو ایک تجربہ کیا گیا جس کی تفصیل اب جاری کی گئی ہے۔ بس اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ نیو میکسیکو سے سیٹلائٹ کا ایک نمونہ آواز سے کئی گنا رفتار سے آسمان پر بھیجا گیا اور بعد میں اسے تلاش بھی کرلیا گیا۔

کمپن نے ایک گول ڈبیہ جیسی بہت بڑی طشتری بنائی ہے جس کی بلندی امریکی مجسمہ سے کچھ زیادہ ہے۔ اس میں ہوا باہر نکال کر اندر ویکیوم قائم کیا گیا ہے۔ اندر کاربن فائبر کی ایک ڈور بنائی گئی ہے جسے ایک طاقتور موٹر سے گھمایا جاتا ہے، اس کے سرے پر سئٹلائٹ رکھا جاسکتا ہے۔

اب پورا نظام اس پروجیکٹائل کو 8047 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گھماتا ہے جو آواز کی رفتار سے کئی گنا تیزہوتا ہے۔ اس کے بعد سیٹلائٹ کو 45 درجے پر چھوڑدیا جاتا ہے جو لانچ ٹیوب سے باہر نکل جاتا ہے اور مدار تک پہنچ جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ تھرسٹر لگے ہوتے ہیں جو سیٹلائٹ کو دھکیلنے کے لیے مزید قوت فراہم کرتے ہیں۔

اس طرح چار گنا کم ایندھن خرچ ہوتا ہےاور روایتی راکٹ کے مقابلے میں سیٹلائٹ کو داغنے کا خرچ بھی 10 درجے کم ہوسکتا ہے۔ اس پورے سسٹم کو ایل 100 آربٹل ماس ایسلیریٹرکا نام دیا ہے جو 200 کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹ کو مدار میں بھیج سکتا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ جب پورا اندرونی نظام ہولناک رفتار سے سیٹلائٹ کو گھماتا ہے تو اس پر عام ثقلی اثر سے 10000 گنا زائد قوت لگتی ہے ۔ اب یہاں ضروری ہے کہ سیٹلائٹ کے اندر کا باریک سرکٹ اور حساس نظام اس قوت کو برداشت کرسکے اور ماہرین کے مطابق ان کے تیارکردہ سیٹلائٹ اس قابل ہیں۔

دلچسپ بات ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے راکٹ کے بنا زمین سے سیٹلائٹ مدار تک بھیجنے کے کئی پروگرام شروع کیے تھے۔ امریکا اور کینیڈا نے 1960ء میں پروجیکٹ ہارپ شروع کیا اور اس کے بعد عراقی صدر صدام حسین نے بابل کے نام سے ایک کوشش کی لیکن اس میں شامل اہم سائنس داں کو قتل کردیا گیا تھا۔
https://www.express.pk/story/2245669/508/



چلی: فلکیاتی ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے 12 ارب 88 کروڑ سال قدیم کہکشاؤں میں پانی دریافت کرلیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات میں پانی کا وجود ہماری سوچ سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہے۔

واضح رہے کہ پانی کو زندگی کےلیے بنیادی اور اہم ترین ضرورت خیال کیا جاتا ہے۔ لہذا، اس دریافت کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ کائنات کی ابتداء ہی سے یہاں زندگی کےلیے ضروری اجزاء بننے شروع ہوگئے تھے۔

یہ دریافت چلی میں 66 ریڈیو دوربینوں (ریڈیو انٹرفیرومیٹرز) کے وسیع نیٹ ورک ’’اٹاکاما لارج ملی میٹر/ سب ملی میٹر ایرے‘‘ (ALMA) سے کی گئی ہے۔

اپنے مشاہدات کے دوران سائنسدانوں نے ایک دوسرے میں ضم ہوتی ہوئی دو قدیم کہکشاؤں ’’ایس پی ٹی 0311-58‘‘ سے آنے والی ریڈیو لہروں کا جائزہ لیا۔

کہکشاؤں کا یہ جوڑا بگ بینگ کے صرف 78 کروڑ سال بعد، یعنی آج سے 12 ارب 88 کروڑ سال پہلے موجود تھا۔ انہیں کائنات کی قدیم ترین کہکشاؤں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

ان کہکشاؤں سے آنے والی ریڈیو لہروں کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ ان میں پانی کی واضح نشانیاں موجود ہیں۔

’’ایسٹروفزیکل جرنل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قدیم کہکشاؤں کے اس جوڑے میں ستارے بننے کا عمل بھی بڑے پیمانے پر جاری تھا۔

یہی نہیں بلکہ ان میں سے بڑی جسامت والی کہکشاں میں سائنسدانوں نے پانی کے علاوہ کاربن مونو آکسائیڈ بھی دریافت کی ہے۔

’’بطورِ خاص آکسیجن اور کاربن پہلی نسل کے عناصر ہیں۔ پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صورت میں یہ زندگی کے وجود میں آنے کےلیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں،‘‘ سریوانی جاروگولا نے کہا، جو یونیورسٹی آف الینوئے کے ماہرِ فلکیات ہیں۔

اس دریافت نے زندگی کی ابتداء کے بارے میں کچھ سوالوں کے جواب ضرور دیئے ہیں لیکن کچھ نئے سوالوں کو بھی جنم دیا ہے جن کا تعلق ابتدائے کائنات میں ستاروں کی تیز رفتار تشکیل سے متعلق ہیں۔

کائنات کی ’’نوجوانی‘‘ میں گیس اور گرد کے وسیع و عریض بادل غیر معمولی رفتار سے یکجا ہو کر ستارے بنا رہے تھے اور ستارے بننے کی یہ رفتار، آج کے مقابلے میں ہزاروں گنا تیز تھی۔

لیکن یہ سب کچھ اتنی تیز رفتاری سے کیسے ہورہا تھا؟ یہ سوال ایک معما ہے جو تقریباً 13 ارب سال قدیم پانی کی دریافت سے مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2245482/508/



دنیا کی سب سے روشن ایکس رے مشین تیار کی گئی ہے جو ایک جانب تو روایتی سی ٹی اسکین سے سو 100 گنا زائد تفصیل سے عکس دکھاتی ہے تو دوسری جانب کسی بھی ایسی شے کو ظاہر کرسکتی ہے جس کی جسامات ایک مائیکرون یعنی ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے جتنی شے کو ظاہر کرسکتی ہے۔

ذراتی اسراع گر(پارٹیکل ایسلریٹر) کی مدد سے تیار کردہ اس ٹیکنالوجی کو ہیئرآرکیکل فیز کنٹراسٹ ٹوموگرافی ( ایچ آئی پی سی ٹی) کا نام دیا گیا ہے۔ اب یہ تمام جسمانی اعضا کی باریک ترین تفصیلات کو تھری ڈی انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ سب سے پہلے اسے کووڈ سے فوت شدہ ایک مریض کے پھیپھڑے پرآزمایا گیا ے جس میں خون کی نالیوں میں آکسیجن رکنے کا منظر بھی دیکھا گیا ہے۔

ایکس رے ٹیکنالوجی یورپی سنکروٹرون ریسرچ مرکز (ای ایس آر ایف) میں وضع کی گئی ہے جہاں دنیا کی روشن ترین ایکس رے حاصل کی گئ ہے جو روایتی ایکس رے سے 100 ارب گنا طاقتور ہے۔ کورونا وبا کے دوران اس پر سنجیدگی سے کام شروع کیا گیا۔ اب یہ حال ہے کہ اس سے خون کی باریک ترین نالیوں کو تھری ڈی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے بلکہ بعض اقسام کے خلیات بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اب یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین اسی ٹیکنالوجی سے پورے انسانی جسم کا تھری ڈی اٹلس تیار کرر ہے ہیں جو دنیا بھر کے ڈاکٹروں، سرجن اور سائنسدانوں کے لیے بہت مددگار ہوگا۔ واضح رہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ایم آر آئی اور سی ٹی اسکینر ایک ملی میٹر سے نیچے کی شے نہیں دکھا سکتے۔ لیکن نئی ٹیکنالوجی سے تیارشدہ انسانی جسمانی اٹلس پوری دنیا کے لیے مفت میں دستیاب ہوگا۔

امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے کووڈ میں پھیپھڑوں پر ہونے والے نقصانات اور دیگر تفصیل کو بھی سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اگلے مرحلے میں مشین اکتساب اور مصنوعی ذہانت سے مزید بہتر انداز میں تشخیص میں مدد مل سکے گی۔ تاہم ماہرین کی اکثریت نے اس کام کو غیرمعمولی انقلاب سے تعبیر کیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2244979/9812/



مریخ پر بہتے ہوئے مائع کی موجودگی کا ثبوت مل گیا، ناسا نے تصاویر جاری کردیں
Nov 09, 2021 | 18:46:PM

سورس: NASA

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ناسا کے مریخ پر بھیجے گئے مشن نے کچھ ایسی تصاویر زمین پر بھیج دی ہیں جن سے بظاہر مریخ پر بہتے ہوئے مائع پانی کی موجودگی کا ثبوت مل گیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق ناسا کے ’مارس ایکسپلوریشن روور‘ (Mars Exploration) کی بھیجی گئی ان تصاویر میں ایسی پتھروں کی ایک تہہ کی تصاویر بھیجی گئی ہے جیسے پتھر آبی گزرگاہوں میں پائے جاتے ہیں۔یہ پتھر مریخ کے Jezero Craterمیں پائے گئے ہیں۔

ماہرین اس نئی دریافت کو ایک بڑا بریک تھرو قرار دے رہے ہیں جس سے مریخ پر زندگی کے مفروضے کو تقویت ملی ہے۔ ناسا کی طرف سے مریخ کی سطح کی یہ تازہ ترین تصاویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ہیں اور دنیا کو یہ ممکن خوشخبری سنائی گئی ہے کہ مریخ پر مائع پانی موجود ہونے کا غالب امکان نظر آنے لگا ہے۔ واضح رہے کہ ناسا کی خلائی گاڑی اس مشن کے لیے 18فروری کو مریخ کی سطح پر اتری تھی اور اس کے بعد سے مریخ پر گھوم رہی ہے اور ناسا کے ماہرین اس کے ذریعے مریخ کی سطح کی تصاویر حاصل کر رہے ہیں۔ اس مشن کا مقصد مریخ کی سطح سے ایسے نمونے اکٹھے کرنا ہے جن سے مریخ پر قدیم زمانوں میں زندگی کی موجودگی کا سراغ مل سکے او رمریخ کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔
https://dailypakistan.com.pk/09-Nov-2021/1363453?fbclid=IwAR0VJA_UrZ3K7HMRch0-oKbUTweleMhEouk1csOXn4HDbSYHeTcu67Yyhho



دنیا کی سب سے روشن ایکس رے مشین تیار کی گئی ہے جو ایک جانب تو روایتی سی ٹی اسکین سے سو 100 گنا زائد تفصیل سے عکس دکھاتی ہے تو دوسری جانب کسی بھی ایسی شے کو ظاہر کرسکتی ہے جس کی جسامات ایک مائیکرون یعنی ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے جتنی شے کو ظاہر کرسکتی ہے۔

ذراتی اسراع گر(پارٹیکل ایسلریٹر) کی مدد سے تیار کردہ اس ٹیکنالوجی کو ہیئرآرکیکل فیز کنٹراسٹ ٹوموگرافی ( ایچ آئی پی سی ٹی) کا نام دیا گیا ہے۔ اب یہ تمام جسمانی اعضا کی باریک ترین تفصیلات کو تھری ڈی انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ سب سے پہلے اسے کووڈ سے فوت شدہ ایک مریض کے پھیپھڑے پرآزمایا گیا ے جس میں خون کی نالیوں میں آکسیجن رکنے کا منظر بھی دیکھا گیا ہے۔

ایکس رے ٹیکنالوجی یورپی سنکروٹرون ریسرچ مرکز (ای ایس آر ایف) میں وضع کی گئی ہے جہاں دنیا کی روشن ترین ایکس رے حاصل کی گئ ہے جو روایتی ایکس رے سے 100 ارب گنا طاقتور ہے۔ کورونا وبا کے دوران اس پر سنجیدگی سے کام شروع کیا گیا۔ اب یہ حال ہے کہ اس سے خون کی باریک ترین نالیوں کو تھری ڈی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے بلکہ بعض اقسام کے خلیات بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اب یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین اسی ٹیکنالوجی سے پورے انسانی جسم کا تھری ڈی اٹلس تیار کرر ہے ہیں جو دنیا بھر کے ڈاکٹروں، سرجن اور سائنسدانوں کے لیے بہت مددگار ہوگا۔ واضح رہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ایم آر آئی اور سی ٹی اسکینر ایک ملی میٹر سے نیچے کی شے نہیں دکھا سکتے۔ لیکن نئی ٹیکنالوجی سے تیارشدہ انسانی جسمانی اٹلس پوری دنیا کے لیے مفت میں دستیاب ہوگا۔

امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے کووڈ میں پھیپھڑوں پر ہونے والے نقصانات اور دیگر تفصیل کو بھی سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اگلے مرحلے میں مشین اکتساب اور مصنوعی ذہانت سے مزید بہتر انداز میں تشخیص میں مدد مل سکے گی۔ تاہم ماہرین کی اکثریت نے اس کام کو غیرمعمولی انقلاب سے تعبیر کیا ہے۔
https://www.express.pk/story/2244979/9812/



اس وقت ایک چھوٹی اور دلچسپ ایجاد کراؤڈ فنڈنگ سے گزررہی ہے۔ یہ مشروب پینے والا ایک مگ ہے جس میں ایک بیٹری نصب ہے جو اسے دستی ایئرکنڈیشنر بھی بناتی ہے۔

اسے اے سی مگ کا نام دیا گیا ہے جس میں کئ چینل سے سردہوا باہر خارج ہوتی ہے اور اطراف کےماحول کی گرمی سات درجے سینٹی گریڈ تک کم کرسکتی ہے۔ اس کے اندر اسٹین لیس اسٹیل نگا ہے جو ہوا کو سرد رکھتے ہوئے باہر پھینکنے میں مدد دیتا ہے۔

بٹن دبانے کے چند سیکنڈ بعد ہی اس سے ٹھنڈی ہوا خارج ہونے لگتی ہے جو فوری طور پر ٹھنڈک کا احساس دلاتی ہیں۔ ہوا پھینکنے کی جھری 15 درجے پر خمیدہ ہے جو مقررہ جگہ پر ہوا ڈالتی ہیں۔ اس لیے مگ کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے میز پر رکھ کر چہرے کی جانب ہوا کا رخ کیا جاسکتا ہے۔

مگ سے خارج ہونے والی ہوا کی رفتار تین میٹر فی سیکنڈ ہے اور ہوا پھینکنے کے عمل کو تین طرح سے سیٹ کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ اے سی مگ کے اندر برف کے ٹکڑے یا کیوبس رکھتے ہیں تو فوری طور پر سرد ہوا کا اخراج شروع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ گرم مشروب کو کچھ ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں تو مگ یہ کام کرسکتا ہے اور اس میں نصف لیٹر سے زائد مشروب یعنی 600 ملی لیٹر بھرکر رکھا جاسکتا ہے۔

ورزش کرنے یا جاگنگ کرنے کے عمل میں یہ مگ ایک جانب تو آپ کی پیاس بجھاتا ہے تو دوسری جانب آپ کو سرد ہوا بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔ 2600 ایم اے ایچ بیٹری کی بدولت اے سی مگ 40 منٹ تک ہوا فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسے کسی بھی پاوربنک، یا چارجر سے چارج کیا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب کے باوجود یہ مکمل طور پر واٹر پروف بھی ہے۔ ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہے جس کی تعارفی قیمت 70 ڈالر رکھی گئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2244608/508/



دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیارکردہ ناسا کی جدید ترین خلائی دوربین جیمزویب دوربین اگلے ماہ اپنے مشن پر روانہ ہوگی لیکن ماہرین نے اس مشن کا باریکی جسے جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ کم سے کم 300 طریقوں سے کھربوں روپے کا یہ نظام سیکنڈوں میں تباہ ہوسکتا ہے۔

جیمز ویب خلائی دوربین کو مشہور ہبل دوربین کی جگہ لینے کے تیار کیا گیا تھا جو 18 دسمبر 2021 کو یورپی خلائی ایجنسی کے لانچ مرکزفرنچ گیانا سے آریان فائیو راکٹ سے خلا کے حوالے کیا جائے گا۔ اب تک یہ تاریخ کی سب سے طاقتور دوربین ہے ۔ اگرچہ اسے 2007 میں خلا میں بھیجا جانا تھا لیکن اب 14 برس بعد یہ منصوبہ تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔

سائنسدانوں نے اس مہنگی ترین دوربین کے وہ تمام پہلو نوٹ کئے ہیں جو اسے کسی بھی طرح ناکام بناسکتے ہیں۔ ان کی تعداد لگ بھگ 300 ہے۔ راکٹ بلند ہونے کے 28 منٹ بعد جیمز ویب دوربین الگ ہوجائے گی جسے ’مشکل ترین مرحلہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد دوسرا پیچیدہ ترین عمل شروع ہوگا جس میں دوربین کا خود کارنظام اپنی شمسی شیلڈ کھولے گا۔ اس میں سینکڑوں وجوہ ایسی ہیں جو اس پورے عمل کو ناکام بناسکتی ہیں۔

ناسا جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینیئر کے مطابق 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا۔ ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیرکیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سینکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پورے مشن کے پلان بی اور متبادل منصوبے بھی بنائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ خرابی کے ایک ایک پہلو کا بہت پیچیدگی سے مشاہدہ کیا گیا ہے۔

اس پر کئی حساس ترین آئینے لگے ہیں جو مرئی روشنی اور الٹراوائلٹ روشنی میں کائنات کا نظارہ کرائیں گے۔ تاہم اس کا مدار 3 لاکھ 75 ہزار سے لے کر 15 لاکھ کلومیٹر تک ہوسکتا ہ
https://www.express.pk/story/2243941/508/



امریکی سائنسدانوں نے انسانی جسم میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایسے درجنوں نئے ’پیپٹائیڈ‘ مرکبات دریافت کیے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے طاقتور ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) بنائی جاسکیں گی۔

واضح رہے کہ اینٹی بایوٹکس کے خلاف جرثوموں (بیکٹیریا) میں بڑھتی ہوئی مزاحمت ایک سنگین طبّی مسئلے کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے جسے حل کرنے کےلیے ماہرین ہر ممکن طریقہ آزمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایسی ہی کوششوں میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے سیزر ڈی لا فیونتے نونیز اور ان کے ساتھیوں نے مصنوعی ذہانت اور طاقتور کمپیوٹروں کی مدد سے اب تک دریافت شدہ تمام انسانی پروٹینز کا ڈیٹابیس کھنگالا۔

اس تلاش کا مقصد ایسے نئے پیپٹائیڈز دریافت کرنا تھا جو ممکنہ طور پر جراثیم کش خصوصیات رکھتے ہوں۔ طبّی زبان میں انہیں ’’اینٹی مائیکروبیئل پیپٹائیڈز‘‘ یا مختصراً ’’اے ایم پیز‘‘ (AMPs) کہا جاتا ہے۔

پہلے مرحلے میں انہیں 2,603 نئے ’’امیدوار‘‘ اے ایم پیز ملے۔ مزید تفصیلی اور محتاط مطالعے کے بعد، ان میں سے 55 ایسے اے ایم پیز شناخت ہوئے جن میں جراثیم کش خصوصیات کا امکان سب سے زیادہ محسوس ہوا۔

ان پیپٹائیڈز کو بیماریاں پھیلانے والے بیکٹیریا کی آٹھ سخت جان اور ڈھیٹ اقسام کے خلاف آزمایا گیا تو ان میں سے 35 پیپٹائیڈز نے جراثیم کش خصوصیات کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔

یہی نہیں بلکہ جسم کے مختلف حصوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے دوسرے پیپٹائیڈز کے ساتھ مل کر ان اے ایم پیز کی جراثیم کش صلاحیت میں 100 گنا اضافہ ہوگیا۔

چوہوں پر مزید تجربات میں ان نئے دریافت شدہ اے ایم پیز نے نہ صرف موجودہ طاقتور اینٹی بایوٹکس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی، بلکہ ان کے استعمال پر کوئی منفی اور زہریلے ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) بھی سامنے نہیں آئے۔

ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں نونیز اور ان کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ نئے پیپٹائیڈز کسی بھی خطرناک جرثومے کی جھلی (میمبرین) پھاڑ کر اسے ہلاک کردیتے ہیں۔

پیپٹائیڈز کے حملے کے خلاف بیکٹیریا اپنی اگلی نسلوں میں بھی مزاحمت پیدا کرنے کے قابل نہیں ہو پاتے۔

مطلب یہ کہ ان پیپٹائیڈز کو استعمال کرکے ایسی نئی ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) بنائی جاسکیں گی جو موجودہ اینٹی بایوٹکس سے زیادہ مؤثر ہوں گی، جبکہ خطرناک جراثیم ان کے خلاف مزاحمت بھی پیدا نہیں کر سکیں گے۔
https://www.express.pk/story/2244052/9812/



سوئی کے خوف سے ویکسین سے بھاگنے والے لوگ اب مطمئین ہوجائیں کہ ایک روبوٹ انہیں سوئی کی تکلیف کے بغیر ویکسین لگاسکتا ہے۔

اس روبوٹ کا نام کوبی رکھا گیا ہے جسے یونیورسٹی آف واٹرلو کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے۔ اسے کووڈ 19 کے تناظر میں بنایا گیا ہے کیونکہ ویکسی لگوانے کا عمل جاری ہے اور مزید کچھ عرصے جاری رہے گا۔ کوبی روبوٹ اسے آسان بنادیتا ہے اور بہت تیزی سے لوگوں کو ویکسین لگاتا ہے۔


یونیورسٹی میں واقع اسٹارٹ اپ ’کوبایونکس‘ نے اسے بنایا ہے جسے کئی افراد پرکامیابی سے آزمایا گیا ہے۔ اس کا اصول بہت سادہ ہے پہلے سے رجسٹرشدہ افراد کسی ایسے شفاخانے جاتے ہیں جہاں یہ روبوٹ موجود ہوتا ہے۔ ویکسین لگوانے کے لیے روبوٹ کیمرے کے تھری ڈی سینسر مریض کی شناختی علامت کو پڑھتے ہیں۔

اس تصدیق کے بعد روبوٹ بازو اندر بھری ویکسین سے ایک خوراک کھینچتا ہے۔ پھر وہ مریض کے بازو کو دیکھ کر تھری ڈی نقشہ بناتے ہیں۔ اس دوران مصنوعی ذہانت ( اے آئی) والا سافٹ ویئر ویکسین لگانے کی مناسب ترین جگہ کی شناخت کرتا ہے۔ اس کے بعد روبوٹ بازو انسانی جلد سے مس ہوتا ہے اور بال سے بھی باریک سوراخ کے ذریعے ویکسین کو ایک پریشر سے اندر داخل کردیتا ہے۔ لیکن اس عمل کی مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔ شاید وہ کوئی کاروباری راز ہوسکتی ہے۔

کوبایونکس کمپنی کے شریک سربراہ ٹِم لیسویل نے کہا ہے کہ اگلے دوبرس میں ویکسین روبوٹ مارکیٹ میں عام دستیاب ہوگا ۔ یہ روبوٹ بہت تیزی سے انسانوں کی بڑی تعداد کو ویکسین لگا سکے گا۔ دوسری جانب دورافتادہ علاقوں میں اپنی خدمات انجام دے سکے گا جہاں مناسب طبی عملے کا شدید فقدان ہوتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2243901/9812/



دنیا میں ہر فرد اپنی انفرادی حیثیت رکھتا ہے اور یہی انفرادیت تنوع پیدا کرتی ہے جو کہ زندگی کا حسن ہے۔
ہمارے اردگر اکثر لوگ یکسانیت کا احساس دلاتے ہیں لیکن کچھ لوگ قدرتی طور پہ ہی انفرادیت لے کر پیدا ہوتے ہیں، جنھیں دیکھ کر ہی بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ الگ ہیں۔ آپ نے اکثریت کو اپنا دایاں ہاتھ لکھنے اور کام کرنے کے لئے استعمال کرتے دیکھا ہوگا۔حیران کن طور پر اعدادو شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ دنیا کی صرف دس فیصد آبادی ایسے لوگوں پہ مشتمل ہے جو بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے حوالے سے چند دلچسپ قصے کہانیاں منسوب ہیں۔ پرانے وقتوں میں انھیں برائی کی علامت سمجھا جاتا تھا اورقدیم یونانی تو انھیں عفریت اور چڑیل جیسے ناموں سے منسوب کرتے تھے۔گو کہ اب پرانے وقتوں کی طرح بائیں باتھ والوں کو برا اور غلط نہیں سمجھا جاتا مگر اب بھی ان کے حوالے سے کچھ من گھڑت مفروضات لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں اور ان مین سے کچھ حقائق کی جانب اشارہ بھی کرتے ہیں تو چلیئے ہم آپ کو ان کے متعلق بتاتے ہیں۔

تخلیقی صلاحیتیں
ایسے لوگ جو بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں ان کے حوالے سے یہ مشہور ہے کہ وہ دائیں ہاتھ والوںکی نسبت زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں والے افراد میں مماثلت ہوتی ہے لیکن یہ مماثلت بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی نہیں۔ یہ ایک مفروضہ ہی ہے کہ بائیں ہاتھ والے زیادہ تخلیقی ہوتے ہیں ، جو کہ عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے

۔سن 1995میں ایک تحقیق کی گئی جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے مرد مشکل صورت حال میں زیادہ تخلیقی انداز میں سوچتے ہیں تاہم دائیں اور بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خواتین میں ایسا کوئی فرق معلوم نہیں ہو سکا۔ایک سائنسی جریدے کو انٹرویودیتے ہوئے معروف ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ جب آپ حقیقی معنوں میں تخلیقیت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس کے بائیں ہاتھ والوں سے منسوب ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملتے۔

قائدین
آپ نے شاید یہ بھی سن رکھا ہو کہ بائیں ہاتھ والے افراد میں قائدانہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔اور بعض افراد تو اس لئے بھی اس من گھرٹ بات کو سچ ثابت کرنے پر مصر ہیں کہ اس کی کچھ مثالیں مل جاتی ہیں جیسے امریکہ کے سابق بارہ صدور میں سے چھ بائیں ہاتھ والے تھے۔لیکن اس کے کوئی بھی سائنسی شواہد موجود نہیں۔اس کی بنیادی وجوہات دراصل لیڈروں اور ان کی تاریخی حیثیت سے متصل ہیں۔ماہرین نفسیات کے خیال میں اس کی ایک وجہ یہی ہوسکتی ہے وہ کامیاب لوگوں اور ان کے ہاتھ کے استعمال کو فرضی طور پر جوڑنے کی کوشش ہے۔

ذہانت
ذہانت کسی کی میراث نہیں ۔ یہ توخالق کی عطا ہے جسے چاہے اسے نواز دے مگر کچھ من گھڑت قصہ کہانیاں اس سے بھی منسوب ہیں ۔ جیسا کہ لوگوں کے خیال میں بائیں ہاتھ والے ذیادہ ذہین ہوتے ہیں، جو کے ماہرین کی نگاہ میں سراسر غلط ہے۔

ستر کی دہائی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں سات ہزار سکول جانے والے بچوں کا مشاہدہ کیا گیا جس میں دائیں اور بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی صلاحیتوں میں کوئی فرق واضح نہیں ہوا۔گو کہ بائیں ہاتھ والے مختلف انداز میں سوچتے ہیں کیونکہ دنیا ان کے لئے زیادہ دوستانہ جگہ نہیں، برتن، قینچی اور روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء دائیں ہاتھ والوں کے لئے استعمال میں آسان ہوتی ہیں مگر بائیں والوں کے لئے نہیں۔ سو وہ اپنے اندر لچک پیدا کر کے چیزوں کو اپنی سہولت سے استعمال کرنے کا سوچتے ہیں۔

خود میں مگن
ایک اور دلچسپ مفروضہ یہ بھی ہے کے بائیں ہاتھ کا استعمال کرنے والے دائیں ہاتھ والوں کی نسبت خود میں زیادہ مگن رہنا پسند کرتے ہیں۔سن 2013میں نیوزی لینڈ میں ایک تحقیق کی گئی جس میں دائیں اور بائیں ہاتھ والوںکی شخصیت کو جانچنے کے پانچ پیمانوں پہ جانچا گیامگر دونوں میں کوئی واضح فرق سامنے نہیں آیا۔ یہ فرسودہ دعوی کے دائیں ہاتھ والوں کی نسبت بائیں ہاتھ والے خود میں مگن رہنا پسند کرتے ہیںبے بنیاد ہی ہے۔

داہنے دماغ والے
جیسا کہ دائیں ہاتھ والے لوگ مختلف چیزوں مثلاً زبان کو سمجھنے کے لئے اپنے ذہن کا بائیاں حصہ استعمال کرتے ہیں تو لوگوں کا خیال ہے کے بائیں ہاتھ والے اس کے الٹ ہوتے ہیں اور وہ اپنے ذہن کا دائیاںحصہ استعمال کرتے ہیں۔ماہرین نے اس پہ تحقیق کی اور یہ نتائج سامنے آئے کے دائیں ہاتھ والے اپنے ذہن کا بائیاں حصہ 98فیصد استعمال کرتے ہیں تو 70فیصد بائیں ہاتھ والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ دونوں کے لئے دماغ کے حصہ مخصوص نہیں۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ بائیں ہاتھ والے بچے تب پیدا ہوتے ہیں جب مائیں دوران حمل زیادہ ذہنی دبائو کا شکار رہتی ہیں۔جبکہ سائنسدان تاحال یہ پتہ لگانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں کہ لوگ ایک کے بجائے دوسرے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں۔بعض ریسرچز سے پتا چلتا ہے کہ حمل کے دوران ذہنی دبائو اور ماں کی عمر کا اس میں کچھ حد تک عمل دخل ہوتا ہے جیسا کہ جین ، ریڑھ کی ہڈی اور معاشرتی دبائو وغیرہ۔

کیابائیں ہاتھ والے ہمیشہ بیمار رہتے ہیں؟

حقائق:نیند
بائیں ہاتھ والوں کے حوالے سے یہ بھی منسوب ہے کہ انھیں نیند کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک چھوٹے پیمانے پر کی گئی تحقیق میں دائیں اور بائیں ہاتھ کا استعمال کرنے والوں کی نیند اور اس سے جڑے مسائل کا مشاہدہ کیا گیا۔ اور معلوم ہوا کے بائیں ہاتھ والوںکو دوران نیند 94 فیصد تک جبکہ دائیں والوں کو 69 فیصد نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

ذہنی امراض
آپ نے یہ بھی سن رکھا ہوگا کہ دائیں ہاتھ والوں کی نسبت بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کو زیادہ تر ذہنی امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک تحقیق سے معلوم ہوا کے ایسے افراد جو ذہنی ابتری، نفسایتی مسائل جیسا کہ، موڈ ڈس آرڈر، ڈپریشن، بائی پولر ڈس آرڈراور شیزوفرینیا کا شکار ہوتے ہیں عموماً بائیں ہاتھ والے ہوتے ہیں۔

محقیقن نے ایسے افراد کے گروہوں کا مشاہدہ کیا جو کے نفسیاتی مسائل کے لئے مختلف کلینکس پہ آتے تھے اور ان میں سے شیزوفرینیا کا شکار 40فیصد افراد بائیں ہاتھ والے تھے۔تاہم محقیقین تاحال سے اس سے مزیدکھوج کرنے کے خواہش مند ہیں۔

جڑواں بچے زیادہ تر بائیں ہاتھ کا استعمال کرنے والے ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جڑواں اور ہم شکل بچے بائیں ہاتھ والے ہوتے ہیں

بائیں ہاتھ والے کھیلوں میں تیز ہوتے ہیں ، خصوصاً ٹینس اوربیس بال میں مضبوطی سے جم کر کھیلتے ہیں۔

یہ جلد بیماریوںکا شکار ہوسکتے ہیں۔
ہمہ جہتی سے کام لے سکتے ہیں۔

ان سب باتوں سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ چاہے کوئی سیدھے ہاتھ سے کام کرنے والا ہو یا الٹے ہاتھ سے وہ اللہ کی تخلیق ہے۔ اور خالق اپنی تخلیق کو بہترین بناتا ہے۔ ہر ایک کو کسی نہ کسی خاصیت سے نوازتا ہے۔ بحثیت انسان ہمیں ہر ایک کو قابل عزت جاننا چاہیئے۔کیونکہ تغیر سے ہی کائنات کا حسن برقرار ہے!
https://www.express.pk/story/2238857/1/



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2021-11-04&edition=KCH&id=5831697_19636589



مختلف کاروں سے حاصل ہونے والی معلومات اور ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے اب مصروف شہروں اور تیزرفتار شاہراہوں پر کار کو بہت محفوظ انداز میں دوڑایا جاسکتا ہے۔

اس عمل کو ’کلیکٹو پرسیپشن‘ یا سی پی کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ پورا سسٹم اطراف میں پوشیدہ خطرات، پیدل چلنے والے لوگوں اور خود بڑی بس کا رستہ کاٹ کر آنے والی کار بھی دکھا سکتا ہے۔ تاہم اسے تجرباتی طور پر آزمایا جارہا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی اور کوہڈا وائرلیس نامی کمپنی نے آئی موو کوآپریشن ریسرچ سینٹرکے اشتراک سے یہ پورا نظام بنایا ہے جس میں وہیکل ٹو وہیکل (وی ٹو وی) اور وہیکل ٹو انفراسٹرکچر (وی ٹو آئی) رابطوں پر کام کرتی ہے۔ اس پورے نظام میں گاڑیاں ایک دوسرے کو اپنے اطراف کے ماحول اور خطرات سے خبردار کرتی رہتی ہیں بلکہ سڑکوں پر لگے کیمرے بھی منظرکووسیع کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس طرح اطراف کے راستوں کا ڈیٹا آپ کا کار تک آتا ہے جہاں چوراہے کی ہر سمت میں کاریں دوڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ لیڈار اور کیمرے کی تفصیلات روڈ پر لگے اسٹیشنز (انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹمز) کی معلومات بھی شامل ہوتی رہتی ہیں۔

اب اگر کوئی کار یا اسٹیشن کسی پیدل چلنے والے یا کار کو دیکھتا ہے جو کسی اور رکاوٹ کے پیچھے ہو تو اس کا اظہار ایکس رے جیسے ڈسپلے سے ہوا ہے اور یوں چھپے ہوئے خطرے سےفوری آگہی ملتی ہے۔ اب اگر ڈرائیور کچھ نہیں کرتا تو کار کا اپنا سسٹم ازخود بریک دبا دیتا ہے۔

جب اسے ایک کنٹرولڈ ماحول میں آزمایا گیا تو پورے نظام نے بہت کامیابی سے پوشیدہ رکاوٹوں کی شناخت کی اورایسے کئی حادثات روکنے میں مدد دی جو عام حالت میں جان لیوا بھی ہوسکتے تھے۔

یہ پورا نظام نہ صرف چوراہوں میں اطراف سے آنے والی کاروں اور دیگرسواریوں سے خبردار کرتا ہے بلکہ عمارت کی پارکنگ سے تیزی آتی کار کو بھی نوٹ کرتا ہے۔

منصوبے سے وابستہ پروفیسر ایڈوارڈو نیبوٹ کے مطابق یہ سسٹم نہ صرف انسانی بلکہ ازخود چلنے والے کاروں کے لیے بھی یکساں طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2242900/508/



برف کا نام آتے ہی ذہن میں ٹھنڈی اور سفید چیز کا خیال آتا ہے لیکن اب امریکی سائنسدانوں نے زبردست دباؤ اور بلند درجہ حرارت پر پانی کو سیاہ رنگت والی برف میں تبدیل کرلیا ہے۔

تکنیکی زبان میں یہ ’سپرآیونک آئس‘ کہلاتی ہے جسے عام زبان میں ’گرم سیاہ برف‘ کہا جاتا ہے۔
اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ شاید برف کی یہی قسم یورینس اور نیپچون سیاروں کی گہرائی میں موجود ہے، جس کی وجہ سے ان دونوں سیاروں کا عجیب و غریب مقناطیسی میدان بھی وجود میں آتا ہے۔


گرم سیاہ برف کی پیش گوئی 1990 کے عشرے میں کی گئی تھی جبکہ اسے پہلی بار 2019 میں بنایا گیا، لیکن وہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت تک اپنی حالت برقرار رکھ پائی۔

نئے تجربات میں آرگون نیشنل لیبارٹری، امریکا میں تیار کی گئی ’سپر آیونک آئس‘ کئی سیکنڈ تک اپنی اسی حالت میں رہی اور یوں سائنسدانوں کو اس کی کچھ اہم خصوصیات معلوم کرنے کا موقع بھی مل گیا۔

واضح رہے کہ شدید دباؤ اور زبردست درجہ حرارت پر یہ پراسرار برف اس وقت بنتی ہے کہ جب پانی کے سالموں (مالیکیولز) میں موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن ایک دوسرے سے الگ ہوکر آئنز (باردار ایٹموں) کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔

اس کے بعد آکسیجن آئن خود کو مکعب (کیوب) جیسی ایک جالی کی شکل میں ترتیب دے دیتے ہیں جبکہ ہائیڈروجن آئن اس جالی میں آزادی سے اِدھر اُدھر حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔

اسی بناء پر ’سپر آیونک آئس‘ کی کثافت بہت کم رہ جاتی ہے، اس کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے جبکہ اس میں سے بجلی بھی قدرے آسانی سے گزر سکتی ہے۔

آرگون نیشنل لیبارٹری میں یہ ’گرم سیاہ برف‘ انتہائی خصوصی حالات کے تحت تیار کی گئی، جس کےلیے پانی پر 20 گیگا پاسکل دباؤ ڈالا گیا (جو زمین پر ہوا کے دباؤ سے تقریباً دو لاکھ گنا زیادہ تھا)۔

اس کے ساتھ ہی پانی کو لیزر سے گرم کیا جاتا رہا۔ سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ یہ برف 627 ڈگری سینٹی گریڈ پر بننا شروع ہوئی اور 1,627 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس دباؤ پر ’سپرآیونک آئس‘ بننے کی پیش گوئی کی گئی تھی، یہ اس کے مقابلے میں بہت کم دباؤ پر وجود میں آگئی۔

اس عجیب و غریب اور پراسرار برف کے بارے میں مزید جاننے کےلیے اسے بہت دیر تک اسی حالت میں برقرار رکھنا ہوگا۔ آئندہ تجربات میں ماہرین اسے چند گھنٹوں تک اسی حالت میں رکھنے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ کوئی آسان کام ہر گز نہیں ہوگا۔

البتہ، گرم سیاہ برف کے بارے میں مزید جان کر ہمیں نہ صرف غیر معمولی حالات میں مادّے کا طرزِ عمل سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ ہم یہ اندازہ بھی لگا سکیں گے کہ یورینس اور نیپچون جیسے بھاری بھرکم سیاروں میں شدید دباؤ کے تحت پانی پر کیا گزرتی ہے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیل ’نیچر فزکس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔
https://www.express.pk/story/2243369/508/



میلان: مختلف ممالک کے تین اداروں نے مشترکہ طور پر ایک ایسی جدید بادبانی کشتی ڈیزائن کر لی ہے جو پانی پر تقریباً اُڑتے ہوئے، تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکے گی۔

یہ کشتی جسے ’’پرسیکو ایف 70 ہائپربوٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، پرسیکو میرین، کارکیک ڈیزائن پارٹنرز اور پینن فارینا ناٹیکا کے اشتراک سے ڈیزائن کی گئی ہے جس کی لمبائی 70 فٹ ہوگی۔

یہ تفریحی مقاصد کے علاوہ بادبانی کشتیوں کی ریس میں بھی استعمال ہوسکے گی۔ اس پر لمبے بادبان نصب ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔

کشتی کو ہر ممکن حد تک کم وزن اور مضبوط بنانے کےلیے اس میں کاربن کمپوزٹ کہلانے والے مادّے کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔

بادبان (فوائلز) کھولے جانے پر یہ صرف 10 ناٹ (18.5 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلنے والی ہوا پر ’’فل فلائٹ موڈ‘‘ میں آجائے گی۔

یہ تو معلوم نہیں کہ اس مرحلے پر کشتی کی رفتار کیا ہوگی، لیکن کمپنی پریس ریلیز میں اتنا ضرور بتایا گیا ہے کہ فل فلائٹ موڈ میں اس ’’ہائپربوٹ‘‘ کا بہت معمولی حصہ پانی کو چھو رہا ہوگا، یعنی یہ پانی پر اُڑتی ہوئی محسوس ہوگی۔

لمبائی کے مقابلے میں اس کی چوڑائی خاصی کم ہے لیکن پھر بھی اس کا اندرونی حصہ بہت کشادہ اور آرام دہ ہے جہاں عملے کے افراد آرام سے رہ سکیں گے۔

پرسیکو ایف 70 ہائپربوٹ میں بجلی سے چلنے والا انجن بھی نصب ہوگا لیکن وہ صرف شدید ضرورت پڑنے پر ہی استعمال کیا جائے گا۔

یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ اکیسویں صدی کی اس بادبانی کشتی میں ڈیزائن کی خوبصورتی، ساخت کی پائیداری اور آب حرکیات (ہائیڈرو ڈائنامکس) کے قوانین بیک وقت سمو دیئے گئے ہیں۔
https://www.express.pk/story/2242454/508/



شنگھائی: ہواژونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسا آلہٴ سماعت (ہیئرنگ ڈیوائس) تیار کرلیا ہے جسے اپنا کام کرنے کےلیے کسی بیٹری کی کوئی ضرورت نہیں۔

ریسرچ جرنل ’’اے سی ایس نینو‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس آلے کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا گیا ہے جسے مصنوعی کان پر کامیابی سے آزمایا بھی جاچکا ہے۔

یہ آلہٴ سماعت دراصل اندرونی کان کے اہم ترین حصے ’’صدف گوش‘‘ (کوچلیا) کی جگہ لیتا ہے جو آواز کی لہروں کو برقی اشاروں میں تبدیل کرکے دماغ تک بھیجتا ہے؛ اور اس طرح ہمیں سننے کے قابل بناتا ہے۔

اس آلے میں ’’بیریم ٹیٹانیٹ‘‘ نامی مادّے کے نینو ذرّات استعمال کیے گئے ہیں جن سے آواز کی لہریں ٹکراتی ہیں تو وہ ’’پیزوٹرائبو الیکٹرک ایفیکٹ‘‘ کہلانے والے ایک قدرتی مظہر کے تحت اس آواز کو بجلی کے سگنلوں میں تبدیل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ صدف گوش کا ناکارہ ہوجانا یا درست طور پر کام نہ کرنا بہرے پن (سماعت سے محرومی) کی ایک اہم وجہ ہے جو بالخصوص عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرتی ہے۔

یہ پروٹوٹائپ بالکل ابتدائی نوعیت کا ہے جسے حقیقی انسانی کان میں نصب ہونے کے قابل بنانے کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مصنوعی کان پر آزمائشوں کے دوران اس آلے نے 170 ہرٹز فریکوینسی والی آواز کو برقی سگنلوں میں تبدیل کیا جنہیں ریکارڈ کرکے سنا گیا تو لگ بھگ اصل آواز جیسے ہی تھے۔

امید ہے کہ اس طریقے پر ایسے مصنوعی صدف گوش (کوچلیا) بنائے جاسکیں گے جنہیں بجلی کے علاوہ مرمت اور دیکھ بھال کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
https://www.express.pk/story/2242775/9812/



لندن: جب جب شہد کے چھتے میں کوئی طفیلیہ (پیراسائٹ) آجاتا ہے تو مکھیاں اس سےسماجی فاصلہ اختیار کرلیتی ہیں۔ اس پر یونیورسٹی کالج لندن اور اٹلی کی جامعہ سیساری نے مشترکہ تحقیق کی ہے۔

تحقیق میں شریک ماہر پروفیسر ایلی سانڈرو سائنی کہتے ہیں کہ ’ یہ عام طفیلیے (پیراسائٹ) کی چھتے پر موجودگی اور مکھیوں کے سماجی تعلقات میں تبدیلی کی پہلی واضح شہادت ہے۔ـ

مکھیاں سماجی جاندار ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کو پروان چڑھاتی ہیں۔ لیکن جب جب ان کے سماجی روابط میں کسی انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے تو وہ باہمی فاصلے سمیت کئی باتوں پر عمل کرتی ہیں۔

اس سے قبل ببون بندروں اور چیونٹیوں میں اسی طرح کا رویہ دیکھا گیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق واروا نامی ایک جوں نما کیٹرا عموماً شہد کے چھتوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ وائرس پھیلا کر مکھیوں اور چھتے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چھتے کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ بیرونی چھتے پر خوراک، رس اور نگرانی کرنے والی مکھیاں رہتی ہیں اور اندرونی حصے میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس مکھیاں، ملکہ مکھی اور بچہ مکھیاں اور انڈے ہوتے ہیں۔ تاکہ انہیں بیرونی حملوں اورامراض سے محفوظ رکھا جاسکے۔

سائنسدانوں نے ایک چھتے کو جب کیڑے سے آلودہ کیا تو باہر والی مکھیوں نے اسے محسوس کرلیا اور اپنا مشہور رقص روک دیا کیونکہ اس طرح کیڑے دیگر حصوں تک پھیل سکتے تھے۔ عین یہی حال چھتے کے مرکزی حصے کا بھی تھا۔ جہاں نرس مکھیاں بچوں کو لے کر مزید اندر چلی گئیں اور دونوں اقسام کی مکھیوں کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ گیا۔
یہ تحقیق بلاشبہ مکھیوں کی اس عقلمندانہ عادت کو ظاہر کرتی ہیں جس کی بدولت وہ جراثیم اور طفیلیوں سے بچی رہتی ہیں۔
https://www.express.pk/story/2242261/508/



میلبورن: اس کی تیاری میں پانچ سال لگے ہیں لیکن اب مرض لاحق ہونے کی صورت میں رنگ بدلنے والی سلائیڈ کو خردبین سے دیکھ کر بہت آسانی سے مرض کی شدت معلوم کی جاسکتی ہے۔

اسے نینوایم سلائیڈ کا نام دیا گیا ہے جسے پلازمون فزکس کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس میں چارج شدہ ذرات میں الیکٹرون کی طرح تھرتھراہٹ ہوتی ہے۔ اس میں چاندی کے ذرات کی باریک پرت چڑھائی جاتی ہے اور آزاد پھرنے والے الیکٹرون کے لئے فیلڈ بن جاتا ہے۔ جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو وہ ایک خاص ترتیب میں آجاتے ہیں۔

چاندی کی پرت میں نینوپیمانے کے باریک سوراخ پر جب روشنی پڑتی ہے تو وہ خلوی نمونے (سیمپل) سے گزرتی ہے اور یہاں کئی رنگ منتخب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح رنگوں کا ایک طیف بنتا ہے جو فیلڈ میں موجود آزاد الیکٹرون کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے۔ اس طرح یہ نینوسلائیڈ جب خردبین کے نیچے رکھی جاتی ہے تو ایک طرح کا سینسر بن جاتی ہے۔ یوں کینسر زدہ خلیات مخصوص رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح نمونے میں مرض کی شناخت آسان ہوجاتی ہے۔ اس سے نمونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور بہت آسانی سے کینسر زدہ خلیات (سیلز) کی شناخت ہوجاتی ہے۔

یہ کارنامہ آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی کی بیلنڈا پارکر نے انجام دیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس تجربے میں کینسرذدہ خلیات اطراف سے بالکل الگ دکھائی دیئے جنہیں شناخت کرنا بہت آسان تھا۔ اس سے قبل یہ کام بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے جیسا ہی مشکل تھا۔

ماہرین پرامید ہیں کہ ٹیکنالوجی کو بڑھا کر ایسے تجارتی آلات بنائے جاسکتے ہیں جن کے طبی اور غیرطبی دونوں طرح کے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نمونوں پر مبنی سلائیڈ کو صرف دس منٹ میں تیار کیا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/2242238/9812/

No comments:

Post a Comment