تاریخ میں دلچسپی ہے تو یہ پوسٹ آپ کے لئے ہے - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Monday, 21 February 2022

تاریخ میں دلچسپی ہے تو یہ پوسٹ آپ کے لئے ہے


28 جولائی کے اہم واقعات
 28 July, 2021


تحریر : نبیل احمد

٭ 28 جولائی 1717 ء پورشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم اول نے 5 برس سے 12 برس کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم کو لازمی قرار دیا۔
٭28 جولائی 1741 ء کیپٹن بیئرنگ نے الاسکا دریافت کیا۔
٭28 جولائی 1821 ء پیرو نے اسپین سے آزادی کا اعلان کیا۔
٭ 28 جولائی 1858 ء انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کے سر ولیم جیمز ہرشل نے شناخت کے طور پر پہلی بار انگوٹھے کے نشان کا استعمال کیا۔
٭ 28 جولائی 1866ء امریکہ میں پیمائش کے لیے میٹرک سسٹم کے استعمال کو قانونی منظوری دی گئی۔
٭28 جولائی 1914 ء میں آسٹریا نے سربیا کے خلاف اعلان جنگ کیا جو ایک قلیل مدت میں یورپ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک اور دیگر براعظموں اور یورپ کی کالونیوں تک پھیل کر جنگ عظیم اوّل کی شکل اختیار کر گئی۔ یہ خونی جنگ تمام ممالک سے 65 ملین فوجیوں کے ساتھ لڑی گئی اس جنگ کے بعد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کْل 8.5 ملین افراد ہلاک ، 21 ملین زخمی اور 7.5 ملین لاپتہ یا قیدی بن گئے۔
٭28 جولائی 1943 ء میں برطانوی ائیر فورس نے ہیمبرگ پر بمباری کی۔ دوسری عالمی جنگ میں برطانوی ائیر فورس کے ہیمبرگ پر بمباری کرنے کے نتیجے میں لگنے والی آگ میں 42 ہزار جرمن شہری ہلاک ہو گئے۔ 300 طیاروں کی شرکت سے کئے گئے اس فضائی حملے میں ہیمبرگ پر 9000 ٹن بم برسائے گئے۔ یہ حملہ 9 دن تک جاری رہا اور اس میں 2 لاکھ 50 ہزار گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
٭28 جولائی 1976 ء کو چین میں زلزلہ آیا۔ جمہوریہ چین کے شمال مشرقی علاقے تانگشان میں 8.2 کی شدت سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلے میں 2 لاکھ 42 ہزار 769 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 64 ہزار 851 افراد زخمی ہوئے۔ یہ زلزلہ چین کی تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ شمار کیا جاتا ہے۔
٭ 28 جولائی1943ء اٹلی کے فاشسٹ رہنما بنیتومسولینی نے استعفی دیدیا ۔
٭ 28 جولائی 1946 ء کو معروف ادیبہ، شاعرہ اور سماجی کارکن فہمیدہ ریاض میرٹھ میں پیدا ہوئیں ۔
٭28 جولائی 1929ء کو امریکن خاتون اول جیکولین کینیڈی کی پیدائش ہوئی۔
٭28 جولائی 1984ء لاس اینجلس اولمپک گیمز کا آغاز ہوا۔
٭28 جولائی 1986ء کو روس نے افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا۔
٭28 جولائی 1959 برطانیہ میں پوسٹل کوڈ کا استعمال شروع ہوا۔
٭28 جولائی 1978 ء سوویت یونین نے شمال مشرقی قزاقستان میں جوہری تجربہ کیا۔
٭28 جولائی 1983 ء ناسا نے تجارتی مواصلات سٹیلائٹ ٹیلسٹار 3 اے کو لانچ کیا۔
٭ 28 جولائی2005ء آئرش ری پبلکن آرمی (آئی آر اے) نے تیس سالہ مسلح جدوجہد کے خاتمے کا اعلان کیا ۔
٭2010 ء پاکستان کی ایک نجی فضائی کمپنی کا ایک مسافر بردار طیارہ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے شمال میں مارگلہ پہاڑیوں پر گر کر تباہ ہوا۔ جس میں سوار جہاز عملے سمیت تمام 152مسافر جاںبحق ہوئے۔ یہ حادثہ ملکی تاریخ کا بدترین فضائی حادثہ قرار دیا گیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-28/25130


ابن بطوطہ۔۔ 60بادشاہوں سے ملنے والا سیاح
 28 July, 2021

تحریر : ڈاکٹرساجد خاکوانی

ایک ہزارسالہ مسلمانوں کے دور میں بے شمار سیاح پیداہوئے۔ اس زمانے میں حصول تعلیم میں سیاحت ایک طرح سے سند کا درجہ رکھتی تھی۔ ابن بطوطہ نام کا مسلمانوں کا عظیم سیاح گزراہے۔ انکاپورانام عبد ابن عبدالمعروف ''ابن بطوطہ‘‘ہے۔ 13فروری 1304ء کو مراکش کے ایک چھوٹے شہر''نانگیر‘‘میں پیداہوئے۔وہ قرون وسطیٰ کے عالمی شہرت کے حامل سیاح تھے۔ انہوں نے ایک مایہ ناز سفرنامہ ''رحالہ‘‘بھی تصنیف کیا۔ اس کتاب میں 75,000میل طویل سفر کی روداد نقل کی ہے۔ یہ سفر قافلوں کی شکل میں اور کبھی کبھی تنہا بھی کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے اسلامی ممالک دیکھے اور سمارٹا اور چین کے کچھ علاقوں میں بھی سیاحت کی غرض سے گئے۔ ابن بطوطہ ایک علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے، انکاساراخاندان محکمہ قضاسے منسلک تھا، مقامی علاقے کے قاضیوں کی اکثریت ابن بطوطہ کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے بھی اپنے بچپن اورآغاز شباب میں اسلامی فقہ وقضا کی تعلیم حاصل کی۔ 1325ء میں جب ان کی عمر 21برس کی تھی تو فریضۂ حج کی ادائیگی سے انہوں نے اپنی سیاحت کاآغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے مصر، شام اور حجازکے متعدد شافعی المسلک فقہا سے بھی علم حاصل کیااور اس فقہی مکتب فکر سے متعلق جید علماء کے دروس میں شریک ہوئے۔ اس تعلیمی کاوش کے باعث علم فقہ و قضا میں انہیں یدطولیٰ حاصل ہوااور وہ کسی بھی عدالت میں منصب قضا کے اہم مقام پر بیٹھنے کے قابل ہوگئے۔ منصب قضا کے لیے انہوں نے مصر کا انتخاب کیا، وہاں پہنچے لیکن سیلانی طبیعت کوسیروسفرپر آمادہ پایا اور طلب علم و تجارت کو حصول مقصد کا ذریعہ بناتے ہوئے ملک ملک کے سفر پر چل نکلے اور اصولی طور پر یہ طے کرلیا کہ ایک راستے سے دوبارہ نہیں گزریں گے۔ اس سفر کے دوران وہ بادشاہوں سے، گورنروں سے، سلطانوں سے اور حکمرانوں سے ملتے رہے۔ ان کے طویل اسفار کی داستانیں اس حکمران طبقے کے لوگوں کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں ابن بطوطہ جہاں اپنے تفصیلی حالات بہت ہی دلنشین انداز میں پیش کرتے وہاں اگلے سفر کے لیے زادراہ کا انتظام بھی کر لیتے۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں اخبارات اور معلومات کے دیگر ذرائع جو آج میسر ہیں نہیں ہوا کرتے تھے اور دوسری دنیاؤں کے حالات اسی طرح کے سیاحوں کی زبانی ہی معلوم ہوتے تھے چنانچہ جب بھی کسی سیاح کی آمد ہوتی تو لوگ، حکمران اور عوام سب کا جم غفیر انکے گرد اکٹھا ہو جاتاتھااورسیاحوں کی زبانی ملک ملک اور قریہ قریہ کے حالات سے آگاہی حاصل کرتا۔ ایک طویل عرصے تک وہ افریقہ، صحرائے عرب اور وسط ایشیائی علاقوں میں سیاحت کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے ریگستانی اور دریائی و سمندری ہر طرح کے راستے طے کیے۔ ان کی تحریروں کے مطابق وہ صحرائے گوبی سے اٹھنے والے طوفان، چنگیزی سرداروں سے بھی ملے۔ تین سالوں تک حجاز میں بھی قیام کیا لیکن ایک بار پھر سیلانیت غالب آگئی۔ اب کی بار انہوں نے سنا کہ دہلی میں محمد بن تغلق نامی حکمران برسراقتدار ہے۔ اس بادشاہ کی علم دوستی اورعلماء نوازی بہت مشہور تھی تب ابن بطوطہ نے دہلی کا قصد کیا اور اس بادشاہ کے دربار میں جانے کے لیے کمر ہمت باندھ لی۔ اس بار انہوں نے نئے راستوں کا انتخاب کیا اور ترکی کے راستے وہ روسی علاقوں میں سمرقندوبخارا سے ہوتے ہوئے افغانستان اور پھر کوہ ہندوکش کو عبور کر کے دریائے سندھ کے راستے جنوبی ایشیا میں داخل ہوئے۔ جب وہ سرزمین ہند میں داخل ہو رہے تھے تو خود ان کے مطابق یہ 12ستمبر1333کی تاریخ تھی۔ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے اتنا طویل سفرایک سال کی مختصر مدت میں طے کر لیاتھا۔ دہلی میں آمد سے پہلے ہی ابن بطوطہ کا شہرہ یہاں پہنچ چکاتھا۔ شاہ محمد بن تغلق نے دہلی سے باہر نکل کر ابن بطوطہ کا استقبال کیا اور انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بہت سے تحائف و ہدایہ پیش کیے گئے۔ بادشاہ نے ابن بطوطہ کی فضیلت علمی کے باعث انہیں دہلی کا منصب قضا پیش کیا جس پر سالوں تک ابن بطوطہ اپنے فرائض منصبی اداکرتے رہے۔ شاہ محمد بن تغلق اپنے مزاج میں بیک وقت بہت رحم دل اور بہت ظالم بھی تھا۔ دشمنوں کو معاف کردینا اور دوستوں کو سولی پر لٹکا دینا اسکے ہاتھوں سے رونماہوتارہتاتھا۔ ابن بطوطہ اسکی اس فطرت سے بہت خائف رہتے۔ ایک بار جب بادشاہ نے ابن بطوطہ کو مملکت چین کی طرف اپنا سفیر بناکر بھیجا تو راستے میں ڈاکوئوں نے ان کے قافلے کو آن گھیرا۔ جان تو بچ گئی لیکن سرکاری تحائف لوٹ مار کی نذر ہوگئے۔ ابن بطوطہ سلطان کے خوف سے جزائر مالدیپ سدھارگئے اور وہاں دو سال تک روپوش رہے، تاہم اس دوران بھی قضا کا منصب انکی طشتری میں موجودرہا۔ مالدیپ، بنگال اور آسام کی سیاحت اور اسکے حالات بھی انہوں نے اپنی کتاب میں تفصیل سے لکھے ہیں۔ ان ملکوں میں وہ سیاست میں بھی دخیل رہے، شاہی خاندان میں شادی بھی کی اور جنگوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ ایک عرصے کے بعد سفر چین کا شوق ہوا، وہ ''زیتان‘‘ کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوئے اور وہاں کے مقامی مسلمان بادشاہ نے انہیں دریائی راستے سے چین کی سیر کے لیے مددفراہم کی اور وہ اس وقت کے بیجنگ کا بھی نظارہ کر آئے۔ وہاں سے وہ سمارٹا، مالابار اور آبنائے فارس کے راستے واپس بغداد پہنچے۔ بغداد سے شام اور پھر مصر سے ہوتے ہوئے 1348ء میں انہوں نے اپنی زندگی کا آخری حج اداکیاجس کے لیے انہوں نے حجاز مقدس کا سفر مبارک کیا۔ لیکن اب تک انہوں نے دو مسلمان ممالک نہیں دیکھے تھے، چنانچہ 1350کے لگ بھگ انہوں نے غرناطہ کا ارادہ کیاجو مسلم اسپین کا آخری شہر تھا۔ اسکے بعد وہ مغربی سوڈان سدھار گئے۔ اس دوران انہوں نے ایک سال کا عرصہ افریقہ کے ملک ''مالی‘‘میں گزارا۔ ان کی تحریریں اس زمانے کے افریقی حالات کا سب سے بڑا مستند ذریعہ ہیں۔ اب کی بار بڑھاپا ان کی دہلیز پر دستک دے رہاتھااور جوانی اپنی توانائیوں اور طاقتوں سمیت ساتھ چھوڑ رہی تھی۔ واپس اپنے وطن مراکش میں آگئے اور بادشاہ کے کہنے پر اپنی یادداشتیں قلم بند کرنے لگے اور ساتھ ساتھ منصب قضا بھی نبھاتے رہے۔ آخری عمر میں انکی بینائی جاتی رہی اور1368میں یہ عظیم سیاح داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ انہیں آبائی گاؤں میں ہی دفنایاگیا۔ انکی کتاب''رحلہ‘‘اپنی طرز کی واحد کتاب ہے۔ اپنے زمانے کے تاریخی، ثقافتی اور سیاسی حالات اس کتاب میں بڑی تفصیل سے درج ہیں۔ ابن بطوطہ 60بادشاہوں کو، بہت سے وزیروں اور گورنروں کو ملے اور کم و بیش دوہزار افراد ایسے تھے جن کے ابن بطوطہ کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات تھے۔ یہ افرادپوری اسلامی دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ ایشیا، افریقہ اور کچھ یورپ کے حصے انکے پاؤں تلے روندے گئے اور کتنے ہی سمندروں اور دریاؤں کی موجوں نے ابن بطوطہ کا نظارہ کیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-28/25129


کیا ’’انار کلی‘‘ایک حقیقی قصہ ہے
 27 July, 2021


تحریر : فضہ پروین

اردو ڈرامے کی تاریخ میں امتیاز علی تاج کی تخلیق'' انار کلی ‘‘ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آ پ ہے۔ یہ ڈرامہ پہلی بار 1932میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اب تک اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس ڈرامے کی مقبولیت بر قرار ہے۔ بھارت میں انارکلی کی کہانی کی اساس پر ایک فلم''مغل اعظم‘‘ بنائی گئی جسے فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انارکلی ایک ایسی رومانی داستان ہے جس کے حقیقی مآخذ کے بارے میں اب تک کوئی ٹھوس تاریخی حقیقت یا دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ڈرامہ انارکلی ایک رومانی موضوع پر لکھی گئی داستان کی اساس پر استوار ہے۔ مطلق العنان مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر اپنی منظور نظر کنیز انار کلی کے حسن و جمال اور رقص کا شیدائی تھا۔ نادرہ نامی یہ کنیز قصر شاہی میں اس قدر دخیل ہے کہ تمام امور میں بادشاہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب بادشاہ کا بیٹا اور ولی عہد شہزادہ سلیم بھی اسی کنیز کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو جاتا ہے ۔ ایک طرف تو جلال الدین اکبر کی ہیبت و سطوت کے سامنے یہ کنیز بے بس ہے تو دوسری طرف شہزادہ سلیم کی پر کشش شخصیت اور انداز دلربائی نے اسے تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔ایک طرف تو شہنشاہ جلال الدین اکبر اس کنیز کو اپنی ذاتی ملازمہ سمجھتے ہوئے اس پر بلا شرکت غیرے اپنا استحقاق جتاتا ہے تو دوسری طرف ولی عہد شہزادہ سلیم کی نگاہ انتخاب اس پر پڑ چکی ہے اور اس کو اپنی شریک حیات بنانے پر تل گیا ہے۔
ایک جنگ کے بعد شہزادہ سلیم اور انار کلی کو قید کر لیا جاتا ہے۔ شہزادہ سلیم تو محفوظ رہتا ہے مگر انار کلی کو جلال الدین اکبر کے احکامات کے تحت زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے۔ اس طرح اس پوری کہانی کو ایک المیہ قرار دیا جا سکتا ہے جس نے ایک پورے خاندان اور پوری سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ جنرل مان سنگھ جیسے دلیر سپہ سالار اور معاملہ فہم سپاہی، اکبر جیسے سیاست دان اور منتظم کو اس رومانی داستان نے بے بس و لاچار بنا کر اضطراب میں مبتلا کر دیا۔
کہا جاتا ہے کہ انار کلی کا واقعہ 1599 میں وقوع پذیر ہوا۔ یورپی سیاح ولیم فنچ جو 1618 میں لاہور پہنچا، اس نے اپنی یاد داشتوں میں اس المیے کا ذکر بڑے دردناک انداز میں کیا ۔ اس کے بعد 1618میں ایک اور یورپی سیاح ایڈورڈ ٹیری لاہور آیا، اس نے بھی اپنے پیش رو سیاح کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس داستان کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا۔ چار سال بعد یعنی 1622 میں یورپ سے سیاحت کی غرض سے آنے والے ایک اور سیاح ہربرٹ نے بھی اس قصے کو بیان کیا۔ پورے دو سو سال تک بر صغیر کے لوگ اس قصے سے لا علم رہے کسی غیر جانب دار مورخ کے ہاں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ نور الدین جہانگیر نے تزک جہانگیری میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس عہد کے ممتاز مورخ والہ داغستانی اور خافی خان جو اکبر اور جہانگیر کی معمولی نوعیت کی لغزشوں پر بھی نظر رکھتے تھے، انھوں نے بھی کسی مقام پر اس قصے کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام قصہ محض تخیل کی شادابی ہے۔ 1864 میں مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف ''تحقیقات چشتی‘‘میں انار کلی اور اکبر کے اس رومان کا ذکر کیا ہے۔ 1882 میں کنہیا لال ہندی نے اپنی تصنیف ''تاریخ لاہور‘‘ میں انار کلی، اکبر اور سلیم کے اس المیہ قصے کا احوال بیان کیا ہے۔ مقامی ادیبوں کے ہاں ایک طویل عرصے کے بعد اس قصے کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ سید محمد لطیف نے بہت بعد میں انار کلی اور اکبر کے اس المیے کا ذکر اپنی تصنیف ( History of lahore ) میں کیا ہے۔ یہ انگریزی کتاب 1892 میں شائع ہوئی۔
تاریخی حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انار کلی، اکبر اور سلیم کا یہ رومانی المیہ جسے ابتدا میں یورپی سیاحوں نے محض تفنن طبع کے لیے اختراع کیا، آنے والے دور میں اس پر لوگوں نے اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیا۔
آثار قدیمہ، تاریخی حقائق اور دستاویزی ثبوت اس تمام المیہ ڈرامے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہیں۔ وہ دیوار جس کے بارے میں یہ شو شہ چھوڑا گیا کہ اس میں انار کلی کو زندہ دفن کیا گیا۔ اس کے آثار لاہور شہر میں کہیں موجود نہیں۔ انار کلی تنازع پر جنرل مان سنگھ اور شہزادہ سلیم کی مسلح افواج کے درمیان جو خونریز جنگ ہوئی اس کے میدان جنگ، مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں۔ جنرل مان سنگھ تو مغل افواج کی کمان کر رہا تھا شہزادہ سلیم نے ایک بڑی فوج کہاں سے حاصل کی اور اس کی تنخواہ اور قیام و طعام کا بندوبست کیسے ہوا؟ جنرل مان سنگھ کی کامیابی کے بعد شہزادہ سلیم کی حامی اور اکبر کی مخالف فوج پر کیا گزری؟۔ یہ سب سوال ایسے ہیں جو اس قصے کو کمزورکرتے ہیں۔
لاہور سول سیکرٹیریٹ میں جو انارکلی کے نام سے موسوم ہے وہ انار کلی کا مقبرہ نہیں بلکہ زین خان کوکہ کی صاحب زادی''صاحب جمال ‘‘کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہ شہزادہ سلیم کی منکوحہ تھی۔ اس کا مقبرہ شہزادہ سلیم نے اپنے عہد میں تعمیر کروایا۔امتیاز علی تاج نے ولیم فنچ کے بیان کو بنیاد بنا یا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ اور تخلیق ادب کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ سید امتیاز علی تاج نے تاریخ اور تاریخ کے مسلسل عمل کے بارے میں بلاشبہ مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی سعی کی ہے۔ ان کے اسلوب میں تاریخی شعور کا جو منفرد انداز جلوہ گر ہے وہ زندگی کی ایسی معنویت کا مظہر ہے جو نئی بصیرتوں کی امین ہے۔
(کتاب'' ادب دریچے ‘‘سے مقتبس)
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-27/25124


مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار
 26 July, 2021


تحریر : عون و محمد

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو جہانگیر نے باغ دل آمیز کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرۂ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرۂ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔
مقبرہ ٔجہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اُس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا، نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب مہر النساء بیگم ملکہ نور جہاں بنی تو اس نے اس کا نام باغ دلکشا رکھ دیا۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات سن 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا کیونکہ شہنشاہ اکبر کے2بیٹے مراد اور دانیال پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ جہانگیر 20 ستمبر 1569ء کو فتح پور سیکری میں پیدا ہوا، تخت نشین ہونے کے بعد اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کے لیے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے'' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ زنجیر عدل بہت مشہور ہوئی جس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت بآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ یہ زنجیر 30 گز طویل تھی اور اس کے ساتھ سونے کی60 گھنٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس کو بادشاہ کے ذاتی کمروں میں موجود طلائی گھنٹیوں کے ایک جھرمٹ سے وابستہ کیا گیا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔
شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا اس نے 1622ء میں لاہور کو دارالسلطنت بنا لیا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر10 لاکھ روپے خرچ کیے تھے اور اخراجات کیلئے جاگیر مقرر کی گئی تھی۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے، یہ سلسلہ سکھوں کے عہد حکومت میں ختم کر دیا گیا۔
مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔
مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں ہر مینار100 فٹ بلند ہے اور اس کی61 سیڑھیاں ہیں۔ مقبرے کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویذ سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، لاجورد، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے99 نام کندہ ہیں، سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے، پائنتی کی طرف یہ تحریر درج ہے ''مرقد منور اعلیٰ حضرت غفران پناہ نور الدین جہانگیر بادشاہ 1036 ہجری‘‘۔
مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں جو سخت گرم موسم میں بھی ہال کو موسم کی حدت سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔
باغ دلکشا کے اندر پختہ روشیں اور راہداریاں موجود ہیں۔ مقبرہ ٔجہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو 4 بہت بڑے کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں اب بھی موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔ مقبرہ ہشت پہلو اور اندر سے گنبد نما ہے۔ مقبرہ کے میناروں سے لاہور شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔شہنشاہ جہانگیر مصوری اور فنون لطیفہ کا بہت شوق رکھتا تھا اس نے اپنے حالات اپنی کتاب ''تزک جہانگیری‘‘ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہاں کے عشق و محبت کے دلچسپ قصے بھی درج ہیں۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ سنگ مرمر کی جالیاں اور قیمتی پتھر اکھاڑ لیے گئے اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-26/25122


لداخ :خطے میں اسلام کے سب سے پہلے مبلغ کا مقبرہ دریافت
 20 July, 2021


لداخ میں لوگوں نے خطے میں اسلام کے سب سے پہلے مبلغ آخون محمد شریف کا مقبرہ بارسو بلاک کے علاقے سٹیانکنگ میں دریافت کرلیا ہے

لداخ (این این آئی) کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مورخین کا کہنا ہے کہ آخون محمد شریف کو لداخ میں دفن کیاگیاتھا لیکن قبر کا اصل مقام معلوم نہیں تھا۔ مورخ و مصنف محمد صادق ہردسی گزشتہ پانچ سال سے مختلف دستاویزات اور کتابوں کے ذریعے ان کے مقبرے کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے تھے ۔تحقیق نے انہیں سٹیانکنگ گاؤں پہنچایاجہاں انہیں مقامی باشندے ماسٹر حاجی غلام اور 90 سالہ حاجیہ فاطمہ نے قبرکے اصل مقام کے بارے میں بتایا۔ ماسٹر غلام نے کہا کہ حاجیہ فاطمہ کو آخون شریف کی قبر کے بارے میں انکے دادا ، دادی نے بتایا تھا۔ بلتی ایسوسی ایشن کے صدر محمد علی آشور اور صادق ہردسی نے نوجوانوں کے لئے جنہوں نے مقبرے کی تعمیر ومرمت میں حصہ لیا ، مقبرے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ صادق ہردسی نے بتایا کہ انیسویں صدی میں جب ڈوگرہ فوج نے لداخ پر حملہ کیا تو اس نے مسجدشریف اور شاہی محل کو آگ لگائی۔ انہوں نے اس دن صرف ایک اور عمارت کو نذرآتش کیا اوروہ آخون شریف کا گھر تھا جس سے ان کی اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا سٹیانکنگ لداخ کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ لداخ میں اسلامی تبلیغ کا پہلا مرکز تھا۔
https://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2021-07-20/1856753


ماہرین آثار قدیمہ نے نوشہرہ وادی سون میں ایک پُراسرار قلعہ تلاجہ پر تحقیق شروع کردی ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے ضلع خوشاب کی تحصیل نوشہرہ وادی سون میں ایک پُراسرار قلعہ تلاجہ پر تحقیق شروع کردی ہے، ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالحمید اس ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں۔

مقامی روایات کے مطابق اس قلعہ کی تعمیر پانچ ہزار سال قبل ہوئی تھی، تاریخی طور پر اپنی طرز کے اس قلعے کو جلال الدین خوارزمی کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے جس نے چنگیزخان سے بچنے کیلیے اس وادی میں پناہ لی، قلعے پر موجود آبادی کے آثار اس روایت کی حمایت نہیں کرتے۔

ماہرین آثارقدیمہ کی ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قلعے کی تعمیر کو کسی بھی صورت پانچ ہزار سال قبل سے نہیں جوڑا جاسکتا مکانوں کے طرز تعمیر، استعمال ہونے والے پتھروں کا سائز،آبادی کی مختلف حصوں کی تقسیم اور سطح پر بکھرے انسانی استعمال میں رہنے والی چیزیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہاں مسلمان آباد تھے جو جلال الدین خوارزمی کے آنے سے پہلے اس جگہ کو اپنے مسکن کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
https://www.express.pk/story/2204212/1/


زار شاہی کے 10اہم بادشاہ ’’زارروس‘‘ کی سلطنت 400برس قائم رہی
 17 July, 2021


تحریر : عبدالحفیظ ظفر

لفظ زار روم کے مشہور جرنیل جولیس سیزر سے نکلا ہے جولیس سیزر کا زمانہ زار شاہی سے 1500برس پرانا ہے آخری زار نکولس IIتھا جسے 1918ء میں قتل کر دیا گیا۔ 1917 ء میں روس میں بالشویک انقلاب کے بعد4 صوبوں پر محیط زار شاہی کاخاتمہ ہوا۔ ہم ذیل میں زار شاہی کے 10اہم ترین افراد کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے جو کسی نہ کسی حوالے سے زار سلطنت کے اہم ستون رہے۔
1- آئیون دی ٹیریبل (1547-1584ء):تمام زار مطلق العنان حکمران تھے۔ شہنشاہیت کے تکبر نے ان سے تمام انسانی قدریں چھین لی تھیں۔ پہلے زار آئیون دی ٹیریبل (Ivan the Terrible) بڑا جابر حکمران تھا۔اس نے اپنے بیٹے کو طیش میں آ کر موت کی وادی میں اتار دیا تھا لیکن اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے روسی سلطنت کو وسیع کیا۔ اس نے استراخوان اور اورسائبیریا کو روسی سلطنت میں شامل کیا اور انگلستان سے تجارتی تعلقات قائم کیے۔ اس حوالے سے اس کی ملکہ الزبتھ سے طویل عرصے تک خط کتابت جاری رہی۔ بعد میں اس نے روس میں طاقتور امرا ء پر قابو پایا اور مطلق العنانیت کا قانون متعارف کرایا۔
2- بورس گودونوو (1598-1605ء):بورس آئیون دی ٹیریبل کا باڈی گارڈ تھا۔ 1598 میں آئیون کے بیٹے کی موت کے بعد وہ تخت پر قابض ہو گیا۔ اس نے یورپی ممالک سے تعلقات مستحکم کیے اور روسی نوجوانوں کو یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی۔ اس نے اپنی سلطنت میں قابل اساتذہ منگوائے۔ بورس نے بحر بالٹک (Baltic Sea) تک پہنچنے کیلئے کئی ٹھوس اقدامات کئے۔ اگرچہ اس کی شہنشاہیت کا زمانہ 7سال تک رہا۔ اس کی موت کے بعد روس کے مصائب کا زمانہ شروع ہوا جن میں قحط اور خانہ جنگی کے علاوہ پولینڈ اور سویڈن کی طرف سے روس کے معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
3- مائیکل 1(1613-1645ء):مائیکل 1 کی شہنشاہیت سے رومانوو زار شاہی کا آغاز ہوا۔ یہ خاندانی اقتدار 1613 ء سے 1917ء تک قائم رہا۔ اس کا آخری حکمران نکولس زار IIتھا۔ مائیکل 1نے بڑی جدوجہد اور محنت کے بعد رومانوو شہنشاہیت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ مائیکل کے 10 بچے تھے لیکن صرف 4 بچے بلوغت کی عمر کو پہنچے۔ مائیکل نے سویڈن اور پولینڈ کے ساتھ روس کے تعلقات مضبوط کئے۔
4- پیٹر دی گریٹ (1682-1725ء)ُ:زار شاہی کا سب سے مشہور شہنشاہ پیٹر دی گریٹ تھا، وہ مائیکل1کا پوتا تھا۔ پیٹر دی گریٹ نے روس کو مغربی طرز پر ڈھالنے کی بے انتہا کوششیں کیں۔ اس نے روشن خیالی کے اصولوں کو بھی روس میں متعارف کرایا۔ اس سے پہلے روس کو ایک پس ماندہ ملک خیال کیا جاتا تھا۔ پیٹر نے روسی فوج اور افسر شاہی کو نئے سرے سے منظم کیا۔ اس نے تمام عملے کو حکم دیا کہ وہ داڑھیاں نہ رکھیں اور مغربی لباس پہنیں۔ 6 فٹ8 انچ لمبا پیٹر دی گریٹ بڑی دبنگ شخصیت کا مالک تھا۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے پولتاوہ کی لڑائی میں سویڈن کی فوج کو شکست دی۔ یہ لڑائی 1709 ء میں لڑی گئی ۔ اس فتح کے بعد پیٹر دی گریٹ نے یوکرائن کے وسیع علاقے پر بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔
5- الزبتھ آف رشیا (1741-1762ء):پیٹر دی گریٹ کی بیٹی الزبتھ آف رشیا نے ایک پرامن انقلاب کے ذریعے 1741 ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس کا اقتدار اس لحاظ سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں اپنے کسی ماتحت کو پھانسی کی سزا نہیں دی حالانکہ اس کا دور پرامن نہیں تھا۔الزبتھ کے 20سالہ دور میں روس2بڑی جنگوں میں الجھا رہا۔ الزبتھ نے اپنے دور میں ماسکو یونیورسٹی بنائی۔ اپنی فضول خرچیوں کے باوجود الزبتھ کا شمار مقبول ترین زار حکمرانوں میں ہوتا ہے۔
6- کیتھرائن دی گریٹ (1762-1796ء ):کیتھرائن سے پہلے اس کا شوہر پیٹر IIIچھ ماہ تک تخت نشین رہااس کی پالیسیاں پروشیا کے حق میں تھیں یہی سبب تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیتھرائن خود پروشیا کی شہزادی تھی جس کی شادی رومانو خاندان میں ہوئی۔ کیتھرائن کے دور میں روس کی سرحدوں میں توسیع ہوئی۔ اس نے کریمیا کو روس میں شامل کر لیا اور پولینڈ کو تقسیم کر دیا اس کے علاوہ کالے سمندر (Black Sea) کے ساتھ جتنے علاقے تھے ان کا الحاق بھی روس کے ساتھ کر دیا۔ پیٹر دی گریٹ نے روس کو مغربی طرز پر ڈھالنے کی جو کوششیں شروع کر رکھی تھیں کیتھرائن نے اسے جاری رکھا۔
7- الیگزینڈر 1(1801-1825ء): الیگزینڈر 1کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کی شہنشائیت کا زمانہ وہ تھا جب نپولین اپنے عروج پر تھا اور یورپ کے خارجی معاملات نپولین کے فوجی حملوں کی وجہ سے تبدیل ہو رہے تھے۔ کافی عرصے تک اس نے فیصلہ سازی کے حوالے سے بہت کمزوری دکھائی اور پھر فرانس کیخلاف ردعمل کا مظاہرہ کیا۔سب کچھ تبدیل اس وقت ہوا جب 1812 ء میں نپولین کا روس پر حملہ ناکام ہو گیا۔ الیگزینڈر نے آسٹریا اور پروشیا کے ساتھ مل کر مقدس اتحاد (Holy Alliance) بنایا جس کا مقصد بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور سکیولرازم کو روکنا تھا۔ اس نے اپنے ملک میں کی گئی چند اصلاحات بھی واپس لے لیں۔اس نے روسی سکولوں سے غیر ملکی اساتذہ کو ہٹا دیا اور نصاب کو مذہبی بنیادوں پر تیار کرنے کا حکم دیا۔ اسے ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ کوئی اسے زہر نہ دیدے یا اسے اغواء نہ کر لیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتا تھا۔ 1825ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔
8- نکولس 1(1825-1855ء):اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ 1917ء کے روسی انقلاب کی جڑیں نکولس 1کے دور میں ملتی ہیں۔ نکولس 1ایک جابر اور مطلق العنان حکمران تھا۔ اس نے فوج کو سب پر مقدم جانا اور اختلاف کرنے والوں کو بری طرح سے کچل دیااس کے دور میں روسی معیشت زوال کا شکار ہو گئی۔ اس کی علاوہ ریل کی پٹڑیاں صرف 600میل تک رہ گئیں جبکہ امریکہ میں یہ پٹڑیاں 10ہزار میل تک تھیں وہ اصلاحات پر عملدرآمد کے بھی خلاف تھا۔ نکولس کا 1855ء میں انتقال ہوا۔
9- الیگزینڈرII(1855-1881ء ):مغرب میں اس حقیقت سے کم لوگ ہی واقف ہیں کہ روس میں غلاموں کو اس وقت آزادی ملی جب امریکہ میں ابراہام لنکن نے امریکہ میں غلاموں کو آزاد کرانے میں کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے الیگزینڈر کو ''آزادکرانے والا‘‘ (Alexender the liberator) بھی کہا جاتا ہے۔الیگزینڈر نے لبرل پالیسیوں کو فروغ دیا۔ 1863 ء میں اس نے پولینڈ میں بپا ہونے والی شورش کے جواب میں پولینڈ کا الحاق روس سے کر لیا۔ 1881ء میں اسے سینٹ پیٹرزبرگ میں قتل کر دیا گیا۔
10- نکولس II(1894-1917ء):روس کے آخری زار نکولس IIنے 13برس کی عمر میں اپنے دادا کو قتل ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے زمانے میں روسی عوام نے بڑی تباہ کن صورتحال دیکھی۔ ایک تو حکومتی معاملات میں روسی ''راہب‘‘ راسپوٹین کی مسلسل مداخلت اور پھر 1905 میں جاپان کے ساتھ جنگ میں روس کی شکست نے عوام میں سخت بے چینی پیدا کر دی۔ 1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب نے ساری صورتحال ہی بدل دی۔ لینن اور ٹرائسکی کی قیادت میں کمیونسٹوں نے زار شاہی کا خاتمہ کر دیا۔ 1918ء میں نکولس زار II اور اس کے خاندان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-17/25104


شاہ جہاں کا تحفہ , تاریخی چاندنی چوک
 14 July, 2021


تحریر : تفضل خان

چاندنی چوک پرانی دہلی ، برصغیر کا ایک قدیم ترین اور مصروف ترین بازار ہے۔ یہ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے۔ لال قلعہ یادگار چاندنی چوک کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ اس کو 17 ویں صدی(1650) میں ہندوستان کے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کیا تھا اور ان کی بیٹی جہان آ را نے ڈیزائن کیا تھا۔ چاند کی روشنی کی عکاسی کرنے کے لئے مارکیٹ کو نہروں (اب بند) سے تقسیم کیا گیا تھا اور یہ سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ میں سے ایک ہے۔ چاندنی چوک پر شہنشاہ بہادر شاہ دوئم کا تعارف بھی دیا گیا ہے۔
اس بازار کی تاریخ دارالحکومت شاہجہاں آباد کے قیام کی تاریخ میں سے ہے جب شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنے نئے دارالحکومت کے علاوہ دریائے یمن کے کنارے پر لال قلعہ قائم کیا تھا۔
اصلی چاندنی چوک ، میونسپل ٹاؤن ہال کے سامنے واقع تھا ۔ ''مونا‘‘ سے ایک واٹر چینل بنایا گیا تھا ، جو سیدھے روڈ کے وسط سے ہوتا ہوا چاندنی چوک بازار تک آتا ہے ، اس چینل کے دونوں طرف سڑکیں اور دکانیں تھیں۔ اس سڑک پر تین بازار تھے۔ اصل میں درجنوں دکانوں پر مشتمل بازار 40 گز چوڑا اور کئی گز لمبا تھا۔ مربع کی شکل کے حامل بازارکے وسط میں ایک تالاب کی موجودگی سے یہ مزید خوبصورت ہوجاتا تھا۔ یہ چاندنی میں چمکتا تھا ، یہ ایک خصوصیت تھی جو اس کے نام سے واضح ہے۔ دکانیں اصل میں آدھے چاند کی شکل میں بنائی گئیں تھیں ۔ یہ بازار چاندی کے تاجروں کے لئے بھی مشہور تھا۔
چوک میں اس تالاب کی جگہ 1950 کی دہائی تک گھڑی والے ٹاور (گھنٹہ گھر) نے لے لی تھی۔ بازار کے مرکز کو اب بھی گھنٹہ گھر کہا جاتا ہے۔ چاندنی چوک کبھی ہندوستان کی عظیم الشان مارکیٹ تھا۔ مغل شاہی جلوس چاندنی چوک سے ہوتے ہوئے گزرتے تھے۔ یہ روایت اس وقت بھی جاری رکھی گئی تھی جب دہلی دربار 1903 میں منعقد ہوا تھا۔ دہلی ٹاؤن ہال انگریزوں نے 1863 میں تعمیر کیا تھا۔
چاندنی چوک کی اصطلاح اصل میں صرف اس مربع کا حوالہ دیتی ہے جس میں ایک تالاب تھا۔ اب پوری سیدھی سڑک جو دیوار والے شہر کے وسط سے ہوتی ہے ، لال قلعے کے لاہوری گیٹ سے فتح پوری مسجد تک چاندنی چوک کہلاتی ہے۔ اس کے بعد سڑک کو تین مندرجہ ذیل بازاروں میں تقسیم کیا گیا
اردو بازار: گرودوارہ سیس گنج صاحب کے قریب چوک کوتوالی تک مغل شاہی محل کے لاہوری گیٹ کو اردو بازار ، یعنی ، کیمپ مارکیٹ کہتے ہیں۔ اردو بازار نے اس کیمپ سے اپنا نام لیا۔ غالب نے 1857 کی جنگ آزادی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی گڑبڑ کے دوران اس مارکیٹ کی تباہی کا ذکر کیا ہے۔
جوہری بازار: چوک کوتوالی تا چاندنی چوک (سیدھا سڑک کے اس علاقے کو اب منہدم شدہ گھنٹہ گھر ، جو موجودہ وقت میں میونسپل / ٹاؤن ہال کے سامنے ہے) کو اصل میں جوہری بازار کہا جاتا تھا۔
فتح پوری بازار: سیدھی سڑک کے '' چاندنی چوک '' سے فتح پوری مسجد سیکشن کو اصل میں فتح پوری بازار کہا جاتا تھا۔فتح پوری مسجد شاہ جہاں کی ملکائوں میں سے ایک فتح پور ی بیگم نے 1650 میں تعمیر کی تھی۔
اس روڈ پر اب چاندنی چوک کی متعدد سڑکیں نکلتی ہیں جن کو کچا (گلیوں / پروں) کہا جاتا ہے۔ ہر کوچہ میں عام طور پر متعدد کاترا (کْل ڈی ساک یا گلڈ ہاؤسز) ہوتے تھے ، جس کے نتیجے میں کئی حویلیاں ہوتی تھیں۔
کوچہ یا گلی: فارسی زبان میں کوچہ ہندی زبان میں "گلی" کا مترادف ہے۔ یہ ایسی گلی یا ایک ایسا مکان ہوتا ہے جس کے گھروں کے مالکان کچھ عمومی اوصاف کا اشتراک رکھتے ہیں ۔ لہٰذا نام کوچہ ملیواڑہ (مالیوں کی گلی) اور کوچہ بالیماران مشہور ہیں۔ کوچوں کے پاس یا تو بڑی حویلیوں کی قطاریں تھیں یا کٹرا مارکیٹ والے مقامات تھے۔ کٹرا جس میں ایک ہی تنگ داخلی دروازہ ہوتاہے اور ایک ہی ذات یا پیشہ کے افراد رہتے ہیں یعنی ایسے زون جس کے وہ مالک ہوتے ہیں۔'' کٹرا ‘‘سے مراد ایک ہی تجارت سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور کاریگروں کی جگہ ہوتی ہے۔ وہ عام طور پر ایک ایسی گلی ہوتی ہے جو آخر میں بند ہوجاتی ہے۔خازنچی حویلی ، خازنچی شاہ جہاں کے محاسب تھے۔ ان کے نام پر ایک گلی کا نام "گلی خازنچی" رکھا گیا ، ایک لمبی سرنگ حویلی اور سرخ قلعے کو ملاتی تھی ، تاکہ مغل دور میں رقم کو بحفاظت منتقل کیا جاسکے۔ یہ چاندنی چوک کے دروازے کے قریب ہے ۔وسیع چاندنی چوک کے دونوں اطراف میں تاریخی رہائشی علاقے ہیں جو تنگ گلیوں پر مشتمل ہیں ، جن میں سے بیشتر اسٹریٹ فوڈ اور بازاروں کے ساتھ ملتے ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-14/25103


رانی گٹ
 10 July, 2021


تحریر : حیدر علی اخوند خیل

رانی گٹ بونیر وادی میں واقع ہے۔پشاورسے تقریباً 140 کلومیٹر اور ضلع صوابی کے شمال مغرب میں 20 کلومیٹر دور نوگرام گاؤں کے قریب پہاڑ کی چوٹی پر واقع 2 ہزار سال سے زائد پرانے رانی گٹ کی نشانیاں آج بھی اس خطے کے ماضی کی عظمت کی دلیل ہیں۔ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے تقریباً 4 گھنٹے کے سفر کے بعد ان نشانیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ان کی تاریخ جاننا ضروری ہے۔
رانی ہندی لفظ ہے جس کا مطلب'' ملکہ‘‘ ہے جبکہ گٹ پشتو کا لفظ ہے جس کے معانی بڑی چٹان ہیں۔ رانی گٹ کا مطلب ہوا'' ملکہ کی بڑی چٹان‘‘۔ رانی گٹ کی وجہ تسمیہ عظیم پتھر ہے جس میں سب سے اوپر ملکہ سرشام بیٹھا کر تی تھی۔ تاریخی کتابوں میں رقم ہے کہ دریا کا تازہ پانی ملکہ کا پسندیدہ مشروب تھا۔ رانی گٹ ایک اونچا مقام ہے یہاں تک دریا کا تازہ پانی لانے کیلئے انسانی ہاتھوں کی زنجیر قائم کی جاتی تھی۔ سب سے پہلے خادم پانی دریائے سندھ سے ایک خصوصی برتن میں اٹھاتا اور یہ مخصوص فاصلے پر کھڑے دوسرے خادم کے حوالے کردیتاپھرتیسرے ، چوتھے اور ایک زنجیر قائم ہوجاتی تھی۔
پتھر کے محل تھے ایک ہزار سے 12 سو میٹر کے فاصلے پر آج بھی اسی شان سے ایستادہ ہیں۔ یہ پتھر ملکہ کا محبت بھرا رشتہ تھا جس پر بیٹھ کر ملکہ نہ صرف عبادت کرتی تھی بلکہ اس سے ایک واچ ٹاور کا کام بھی لیا کرتی تھی۔
رانی گٹ کا شمار گندھارا تہذیب میں ہوتا ہے ۔ اس علاقے میں مختلف ادوار میں مختلف حملہ آوروں نے حملے کئے جن میں سکندر اعظم بھی شامل ہے۔ یہ جگہ 4 مربع کلومیٹر کے احاطے میں بکھری ہوئے ہیں جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ جگہ اورنوس قلعے کے نام سے مشہور تھی اور اس پورے علاقے کی رانی گٹ سے دیکھ بھال کی جاتی تھی ۔ اصل میں تاریخ میں نیلم نامی ایک بادشاہ گزرا ہے جو تخت بھائی کا حکمران تھا ، رانی گٹ اسی کی ملکہ کا دارالحکومت تھا۔
327 قبل مسیح میں جب سکندر اعظم اودھیانہ میں داخل ہوا اور اس نے مختلف علاقوں میں ہلچل مچائی تو وہ بونیرتک جا پہنچا۔ سکندر اعظم نے اس قلعہ کو فتح کیا۔ یہ ایک طریقے سے اودھیانہ کا آخری قلعہ تھا۔ٹیکسلا کے بادشاہ نے اسے خوش آمدید کہا جس کے بعد سکندر راجا پورس کو شکست دے کر آگے روانہ ہوا۔ اس پورے علاقے کو نوگرام بھی کہا جاتا تھا۔اصل میں اس وقت 3 شہزادے اور شہزادیاں تھے نوگرام ، دوسری سیتا رام اور تیسری باگرام۔ تاریخ میں رقم ہے کہ پشاور کا پرانا نام باگرام تھا۔ بونیر میں خدوخیل کے علاقے میں جہاں آج رانی گٹ کے اثرات پائے جاتے ہیں کسی زمانے میں نوگرام کے نام سے ایک ریاست کی شکل میں آباد علاقے تھے، ان میں رانی گٹ کا سب سے بڑا محل تھا۔
یہاں پتھر کے گھر ، سٹوپااور بادشاہ کی گدی وغیرہ خدوخیل میں وسیع پیمانے پر ہیں لیکن وقت کی تباہی نے بہت کم آثار چھوڑے ہیں اور اس کا احساس وہاں جاکر ہوتا ہے۔
اس پہاڑ کے جنوب مشرق میں پتھر کا ایک گھر ہے جس میں دو کمرے ہیں۔ بادشاہ کے گھر کے سامنے دس قدم کے فاصلے پر ایک مربع پتھر ہے جس پر بادشاہ اشوک بیٹھ کر ریاضت کیا کرتا تھا اس نے یہاں ایک سٹوپا بنوایا۔پہاڑ سے اترتے وقت شمال کی جانب 50 قدم کے فاصلے پر ایک جگہ ہے جہاں شہزادے اور راجکماری کو ایک دوسرے سے الگ کئے بغیر درخت کے ارد گرد چکر لگوائے گئے اوریہاں برہمنوں نے انہیں اتنا مارا کہ ان کا خون بہہ نکلا ۔ وہ درخت اب بھی موجود ہے اور خون کے قطرے بھی محفوظ ہیں۔
رانی گٹ میں ایک بڑا کمرہ نما پتھر بھی ہے جہاں کسی وقت میں سنگتراش بیٹھا کرتے تھے۔یہ سنگتراش مورتیاں تیار کرتے تھے۔گندھارا تہذیب میں رانی گٹ دنیا کی سب سے بڑی تہذیب ہے۔ یہاں بڑے سٹوپے کے ساتھ لاتعداد چھوٹے سٹوپے بھی ہیں۔1920 میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم بھی ان آثار کا معائنہ کرنے آئی تھی ۔ آخر میں ، کیوٹو یونیورسٹی ، جاپان آرکیالوجیکل مشن نے بڑے پیمانے پر کھدائی کی ۔ اس کام کو 1959ء سے لے کر 2005 ء تک جاری رکھا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق رانی گٹ کی موجودہ علامات پہلی صدی عیسوی سے لے کر چھٹی صدی عیسوی تک ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-10/25087


پھل فروش یوسف خان دلیپ کمار کیسے بنا
Jul 07, 2021 | 10:31:AM


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پشازور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے ہاں پیدا ہونے والا یوسف خان اپنے اہلخانہ کے ہمراہ 1935 میں ممبئی منتقل ہو گیا، 20برس کی عمر میں یوسف خان کے والد نے اسے پونا کی ایک فوجی کینٹین میں پھلوں کا سٹال لگا دیا ، یوسف خان پھل فروش تھا۔

دیویکا رانی 1940کی دہائی کا ایک بہت بڑا نام تھیں ، وہ چوٹی کی اداکارہ اور فلمساز تھیں ، لیکن یہ نام آج بھی اس لئے لوگوں کو یاد ہے کیونکہ اس نے یوسف خان کو دلیپ کمار بنایا ، دیویکا رانی کے ساتھ یوسف خان کی ایک غیر متوقع ملاقات نے یوسف خان کی زندگی کو بدل کے رکھ دیا ۔ یوسف خان بمبئی ٹاکیز میں فلم کی شوٹنگ دیکھنے گئے جہاں دیویکا رانی کی نظر ان پر پڑی اور انہوں نے اس ہیرے کی چھپی چمک کو پہچان لیا اور یوسف خان سے پوچھا کہ کیا آپ اردو جانتے ہیں ، یوسف خان نے ہاں میں جواب دیا جس پر دیویکا رانی نے فوراً پوچھا کیا اداکاری کا شوق بھی ہے جس کے بعد یوسف خان کی زندگی بدل گئی ۔

بمبئی ٹاکیز میں ہی کام کرنے والے شاعر نریدنر شرما نے یوسف خان کیلئے تین نام تجویز کئے جن میں جہانگیر ، واسو دیو اور دلیپ کمار شامل تھے ۔ یوسف خان اس دن دلیپ کمار بن گئے ۔

دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیرئیر میں صرف ایک فلم میں مسلمان کا کردار ادا کیا، انہوں نے فلم مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کا یادگار کردار ادا کیا تھا ۔

بی بی سی کے مطابق دلیپ کمار اپنے کام میں اس درجہ مگن ہو جاتے کہ اپنے کردار میں کھو ہی جاتے تھے ، یہاں تک کہ فلم کوہ نور کے ایک گیت میں انہیں ستار بجانا تھا صرف اس ایک گانے کیلئے یوسف خان نے کئی سالوں تک ستار بجانے کی تربیت لی ۔حتیٰ کہ فلم نیا دور کی شوٹنگ کیلئے یوسف خان نے تانگہ چلانے کی باقاعدہ تربیت لی ۔

معروف فلم و ہدایتکار ستجیت رے نے انہیں عظیم ترین میتھڈ ایکٹر کا خطاب دیا تھا۔

جب 'موہے پنگھٹ پہ نندلال چھیڑ گیو' گانا فلمایا جا رہا تھا تو اس گیت کی شوٹنگ دیکھنے بہت سے لوگ آیا کرتے تھے جن میں چینی وزیر اعظم چو این لائی، معروف شاعر فیض احمد فیض اور بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بننے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے
https://dailypakistan.com.pk/07-Jul-2021/1312786?fbclid=IwAR2-1MQ63f5M2YX9evVwW-wM2u8B7LWHGjo6-b_EBaGYVAUJnHXphvQgY0o


مرزا غالب کی حویلی
 6 July, 2021


تحریر : رانا حیات

اردو ادب کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی حویلی ایک یادگار مقام ہے۔19 ویں صدی میں یہ مرزا غالب کی رہائش گاہ تھی اور اب یہ ایک میراثی مقام ہے۔یہ چاڑی بازار میٹرو اسٹیشن اور دہلی جنکشن ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے ، یہ تمام دن صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک عوام کیلئے کھولی جاتی ہے ۔ گلی قاسم ؒخان ، بلی ماراں ، پرانی دہلی اور اس دور کی عکاسی کرتی ہے جب ہندوستان میں مغل عہد زوال کا شکار تھا۔
یہ مکان ایک حکیم نے انہیں دیا تھا ، ایک ایسا معالج جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کی شاعری کا شوقین تھا۔ 1869 میں مرزا غالب کی وفات کے بعد ، حکیم ہر شام وہاں بیٹھا رہتا تھا ، کسی کو بھی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ حویلی اپنے دور میں خوب صورتی کے ساتھ ساتھ ایک یاد گار حویلی شمار کی جاتی تھی۔اور اپنے نقش ونگار کی وجہ سے یہ حویلی ایک تاریخ رکھتی ہے۔مرزا اسداللہ خان غالب نے اس حویلی میں کافی وقت گزارا اور بہت سے اشعار اس حویلی سے منسلک کیے جاتے ہیں جو اردو ادب میں نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ اس حویلی میں مرزا اسد اللہ خان غالب نے فارسی اور اردو میں ایک دیوان چھوڑا ہے جس میں بہت مزے دار اور فلسفیانہ سوچ کے حامل اشعار ملتے ہیں اور اپنے اندر ایک دنیا سمائی ہوئی نظر آتی ہے۔
مرزا غالب کی حویلی پرانی دہلی میں واقع ہے اور یہ ایک ایسا ورثہ ہے جس کا ہندوستان کے آثار قدیمہ نے باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ یہ مرزا غالب کے طرز زندگی اور مغل عہد کے فن تعمیر کی بصیرت پیش کرتا ہے۔ حویلی کا ایک بڑا کمپاؤنڈ جس میں کالم اور اینٹیں ہیں اس سے دہلی میں مغل سلطنت کی یاد آتی ہے۔ دیواریں مرزا غالب کے بڑے پورٹریٹ سے مزین ہیں جو اطراف کی دیواروں کے گرد لٹکی ہوئی ہیں۔ دہلی حکومت کے قبضے کے بعد حویلی کو ایک مستقل یادگار میوزیم کی حیثیت دے دی گئی۔اس میں مرزا غالب کی اپنی کتابوں کے علاوہ ہاتھ سے لکھی گئی مختلف نظمیں بھی ہیں۔ میوزیم میں ایک حقیقت پسندانہ انداز میں شاعر کی زندگی کی نقل بھی موجود ہے، ایک تصویر میں ان کے ہاتھ میں ''حقہ‘‘ ہے۔ استاد ذوق ، ابو ظفر ، مومن خان مومن ، اور غالب کے دیگر معروف ہم عصروں کے پورٹریٹ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ 27 دسمبر 2010 کو ، دہلی میں ان کے مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی جسے بھگوان رامپور نے تیار کیا تھا ۔
غالب آگرہ سے آنے کے بعد اپنی زندگی کے ایک طویل عرصے تک اس حویلی میں مقیم رہے۔ اس حویلی میں قیام کے دوران ، انہوں نے اپنا اردو اور فارسی '' دیوان ‘‘ لکھا۔ غالب کی موت کے بہت سال بعد اس جگہ پر 1999 کے سال تک دکانیں تھیں ۔ بعد میں حکومت نے اس کا ایک حصہ حاصل کیا اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ 19 ویں صدی میں دوبارہ تزئین و آرائش کرنے کے لئے اسے مغل لکھوری اینٹوں ، ریت کے پتھر اور لکڑی کے داخلی دروازے کے استعمال سے خصوصی ٹچ دیا گیا ۔یہ حویلی اپنے اندر ایک حسین دنیا سمائے ہوئے ہے اور اس میں فن کے کمالات ہر جگہ نمایاں ہیں، یہ حویلی روایتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے جس میں لکھوری اینٹوں اور چونے مارٹر شامل ہیں۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-06/25076


بیلا فیلکس: قدیم روم کا’رابن ہوڈ‘
6 July, 2021


تحریر : رابرٹ انتھونی
رابن ہڈ کی کہانی ایک ایسی کہانی ہے جو مغربی ادب میں وسیع پیمانے پر مشہور ہے۔ اس میں ایک ایسے غیر قانونی شخص کی کہانی سنائی گئی ہے جو شیر ووڈ فاریسٹ میں اپنے بزرگ افراد کے ساتھ رہتا تھا۔ اس نے غریبوں کو دینے کے لئے امیروں سے چوری کی۔ اگرچہ کچھ ایسے حقائق ہیں کہ رابن ہوڈ ایک حقیقی شخص تھا ، لیکن اس بات کا ثبوت بہت کم ہے کہ وہ انگلینڈ میں موجود تھا۔تاہم ، یہاں کچھ شواہد موجود ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیلا فیلکس کی شکل میں ایک حقیقی رومن رابن ہوڈ موجود تھا۔ فیلکس اور اس کے 600 ڈاکوئوں کے گروپ کی مہم جوئی کا ماخذ'' کیسیئس ڈیو‘‘ لکھاری ہے۔ ڈیو کے مطابق ، فیلکس207 - 205 AD سے روم میں اور اس کے آس پاس دو سال کام کرتا رہا جب'' سیپٹیمس سیویرس‘‘ شہنشاہ کی حکومت تھی ۔
ڈیو کی کہانیوں میں ، فیلکس ایک وسیع انٹلیجنس نیٹ ورک کا معمار تھا جس نے روم اور برونڈیشیم بندرگاہ میں نقل و حمل اور سفر کا سراغ لگایا۔ اس نے اس علاقے میں سفر کرنے والے ہر گروہ کے سائز اور نوعیت کے ساتھ ساتھ ان کے لے جانے والے سامان کا جائزہ بھی جمع کیا۔ اس کے 600 مضبوط گروپ میں شاہی آزادی پسند ، بھگوڑے غلام اور ہنر مند غلام شامل تھے جو کبھی شہنشاہ کے لئے کام کرتے تھے۔ یعنی اس کے ساتھ محروم طبقے کے لوگ زیادہ تھے۔کچھ آزادی پسند شاید مراعات یافتہ افراد بھی تھے جو افراتفری کے دوران اپنے عہدوں سے محروم ہوگئے تھے ۔
اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ ڈاکوؤں نے ان کی تعداد میں مشہور پریتورین گارڈ کے ممبروں کو بھی شامل کیا۔ یہ یقینی طور پر ان کی تنظیمی صلاحیت کی وضاحت کرے گا۔ یہ گروہ موثر انداز میں قدیم شاہراہ پر ہوتا تھا ، لیکن ان کے آخری دنوں کے ساتھیوں کے برعکس ، انہوں نے اپنے متاثرین کا قتل نہیں کیا ۔ڈیو نے لکھا کہ فیلکس کو کبھی نہیں پکڑا جاسکتا تھاکیونکہ اس نے بھیس اور فریب کاری کے فن میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ مثال کے طور پر ، وہ یا تو سینچریئن یا مجسٹریٹ کی حیثیت سے لباس پہنتا اور امرا کو دھوکے سے راضی کرتا کہ ان کی حفاظت کے لئے اسے بھیجا گیا ہے۔ ایک کہانی میں ، فیلکس نے اپنے دو افراد کو بچانے کی کوشش میں صوبائی گورنر ہونے کا بہانہ کیا۔ فیلکس نے جیل کے چیف سے ملاقات کی اور بتایا کہ سخت مشقت کے لئے اسے مزید مردوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی ضروریات کو اس طرح تیار کیا کہ گورنر نے اسے اس کے دو ساتھی پیش کردیئے۔اس سلطنت میں بیلا فیلکس وہ واحد شخص تھا جس نے شہنشاہ سیورس کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا۔اس لئے روم کے سینٹ میں یہ تقریر ہوئی کہ باغیوں اور حکم عدولی کرنے والوں کو پکڑا جائے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ وہ غریب لوگوں کا خیرخواہ اور چیمپئن تھا۔ عام لوگ اسے اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے لیکن حکمران اور اشرافیہ کے لئے وہ ایک خطرناک مجرم تھا۔ آخر کار روم کی انتظامیہ اسے پکڑنے میں کامیاب ہوگئی، ہوا کچھ اس طرح کہ یہ اعلان کردیا گیا کہ بیلا فیلکس کو ہر صورت گرفتار کیا جائے جو ایسا نہیں کرے گا اس کا سر قلم کردیا جائے گا۔ بیلا فیلکس ایک شادی شدہ عورت کے عشق میں گرفتار ہوگیا ، اس خاتون کا شوہر انتقام لینے کیلئے اس کی مخبری کرنے لگا۔ اسی کی اطلاع پر فیلکس کو ایک غار سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ وہاں سو رہا تھا۔ روم کی انتظامیہ کی نظر میں وہ ایک بدترین ڈاکو تھا اس لئے اسے سخت موت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اسے روم کی کلوسیم میں خونخوار جنگلی جانوروں کے آگے باند ھ کر ڈال دیا گیا ۔ جانوروں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔ اس طرح روم سلطنت کا رابن ہوڈ چل بسا۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2021-07-06/25075


اندرون شہرتاریخی چٹا دروازہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار
3 July, 2021


دروازہ 1650 میں تعمیر ہوا،شہر میں داخلے کا یہی راستہ تھا:مورخین چھوٹے دروازے بھی تھے جو اب باقی نہیں رہے :ریسرچ افسر احتشام عزیز

لاہور(سہیل احمد قیصر)شکست وریخت کا شکار لاہور کا چٹا دروازہ آخری سانسیں لینے لگا۔ تفصیل کے مطابق دہلی دروازے کی شاہی گزرگارہ پر واقع چٹا دروازہ 1650 میں مغل دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ کچھ روایات کے مطابق اِس کی تعمیر 1635 میں مکمل ہوئی تھی تاہم بیشتر مورخین 1650 کا سال زیادہ مصدقہ گردانتے ہیں۔متعدد حوالوں کے مطابق اپنی تعمیر کے وقت یہی دروازہ اندرون شہر داخلے کا راستہ تھا ۔ بعض مورخین کے مطابق یہی اصلی دہلی دروازہ ہے جبکہ فصیل کے ساتھ موجود دروازہ بعد میں تعمیرہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ انگریز دور میں اِس دروازے پر سفید رنگ کردیا گیا تھا جس کے باعث یہ چٹا دروازہ کہلانے لگا اور آج تک اِسی نام سے مشہور ہے ۔لاہور عجائب گھر کے ریسرچ آفیسر احتشام عزیز کے مطابق کسی زمانے میں اِس کے ساتھ کچھ دیگر چھوٹے دروازے بھی موجود تھے جو اب باقی نہیں رہے ۔والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر نوشین زیدی نے بتایا والڈ سٹی نے اِس کی مرمت کاکام انجام دیا ہے ،اب اِس کی حالت پہلے کی نسبت کافی بہترہے جبکہ جلد ہی اِسے مزید بہتر بنا دیا جائیگا۔
https://dunya.com.pk/index.php/city/lahore/2021-07-03/1848519


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1108472513&Issue=NP_PEW&Date=20210705

No comments:

Post a Comment