جنیوا،نیو یارک( ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کلورین و
الکوحل کا اسپرے کورونا ختم نہیں کرسکتا، گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا
نہیں روکا جاسکتا، دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے 9
افریقی ممالک میں غذائی بحران دگنا ہوجائیگا۔
غیرملکی خبررساں
ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر صاف الفاظ میں واضح
کردیا ہے کہ کلورین اور الکوحل کا اسپرے کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں
کرسکتا، وائرس کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے پر انسانی ہاتھ سے
ختم ہوسکتا ہے، لہٰذا کلورین اور الکوحل کے محلول چھڑکنے سے اس کا خاتمہ
ممکن نہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا کہ فائیوجی موبائل نیٹ ورک
کورونا کے پھیلا کا سبب نہیں بن سکتا، 25 سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ
حرارت کسی بھی طرح کورونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتا، ایک بار کورونا وائرس
سے صحت مند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتے،
بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے،10سیکنڈ تک سانس روکنے اور خشک کھانسی نہ ہونے
کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ آپ کورونا سے محفوظ ہیں، الکوحل کا زیادہ
استعمال آپ کوکورونا سے محفوظ رکھنے کا سبب نہیں بن سکتا۔
کورونا وائرس گرم اور نمی والے علاقوں میں بھی لوگوں میں انسانوں میں
منتقل ہوسکتا ہے، سرد موسم اور برفیلے علاقوں میں کورونا میں بھی کورونا
وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے۔گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا کو نہیں روکا
جاسکتا، کورونا وائرس مچھروں کے ذریعے بھی منتقل نہیں ہوسکتا۔دوسری جانب
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس پھیلنے والے علاقوں خاص کر لاطینی امریکا
میں اشیا کی سپلائی بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروازوں کو توسیع
دی جائے۔
عالمی ادارہ صحت کے چیف آپریشنز پاؤل مولینارو کا کہناتھا
کہ اپریل میں عالمی سطح پر اپریل میں ویکسین کی فراہمی میں تعطل آیا ہے اور
اگر یہ مئی میں بھی جاری رہا تو دیگر بیماریوں کے خلاف مہم متاثر ہوں
گی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو ورلڈ فوڈ پروگرام کو خوراک کی سپلائی
میں پہلی مرتبہ رکاوٹ کی رپورٹ ملی ہے جو مزید گمبھیر ہوسکتی ہے۔انہوں نے
کہا کہ کمرشل پروازوں میں ہم زیادہ پیش کش کے خواہاں ہوتے ہیں اور ہم مسلسل
اپیل کررہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہاہے کہ کوروناوائرس صرف 3 ماہ میں 9افریقی ممالک میں
غذائی بحران کو دگنا کردیگا۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس
وقت 9 افریقی ممالک میں تقریباً 2 کروڑ افراد کو غذا کی محفوظ ترسیل میسر
نہیں۔
https://dailypakistan.com.pk/29-Apr-2020/1126520?fbclid=IwAR0Ji5hMY0cL_2cDC-rxXOB0usooXbOVUeXZ-pvsKOeYNycjqTpVVDWSwEg
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) کہا جا رہا تھا کہ درجہ حرارت بڑھنے سے کورونا
وائرس ختم ہو جائے گا لیکن بعد ازاں ماہرین نے اپنی تحقیقات میں تصحیح کرتے
ہوئے بتایا کہ درجہ حرارت بڑھنے سے وائرس ختم نہیں ہو گا بلکہ اس کے
پھیلاﺅ میں کمی آئے گی۔ اب بھارت میں ماہرین نے اس حوالے سے اپنی تحقیق میں
بہت حوصلہ افزاءبات بتا دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ناگ پور میں واقع
بھارتی ادارے نیشنل انوائرنمینٹل انجینئرنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے
مہاراشٹر اور کرناٹک کے کئی شہروں میں تجربات کے بعد بتایا ہے کہ درجہ
حرارت اور کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں 85فیصد تعلق ہے۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس سرد اور خشک جگہوں پر زیادہ تیزی سے
پھیلتا ہے اور تادیر زندہ رہتا ہے۔ یہ 21سے23ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر
سخت سطحوں پر 72گھنٹوں سے زائد زندہ رہ سکتا ہے۔ تاہم جوں جوں درجہ حرارت
بڑھتا ہے، اسی تناسب سے کورونا وائرس کے زندہ رہنے کے دورانیے اور پھیلاﺅ
کی رفتار میں کمی آتی چلی جاتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہیمنٹ بھروانی
کا کہنا تھا کہ ”اگرچہ ہماری تحقیق میںثابت ہوا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے
کورونا وائرس کا پھیلاﺅ کافی حد تک کم ہو جائے گا لیکن ہمیں صرف درجہ حرارت
پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے سماجی میل جول میں پابندی ہی سب سے
زیادہ مفید چیز ہے۔ اسی سے کورونا وائرس کا پھیلاﺅ حتمی طور پر روکا جا
سکتا ہے۔“
https://dailypakistan.com.pk/29-Apr-2020/1126562?fbclid=IwAR20JeXXMQzBuN_3YaSNZEV6joB2D
wmUbJgunCrgtpsN508DP8Af2xu7-uA
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ماہرین کئی طرح کی
احتیاط تدابیر بتاتے آ رہے ہیں لیکن اب برطانیہ کے معروف ڈینٹل پروفیسر نے
پہلی بار دانت برش کرنے کی تدبیر بھی بتا دی ہے۔ دی مرر کے مطابق یونیورسٹی
آف برسٹل کے پروفیسر مارٹن ایڈی نے کہا ہے کہ ”میں حیران ہوں کہ میرے شعبے
کے ماہرین نے کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے اب تک دانت برش کرنے کی
ہدایت جاری کیوں نہیں حالانکہ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ٹوتھ پیسٹ مختلف قسم
کے وائرس اور بیکٹیریا کو منہ جانے سے بچاتا ہے۔“
پروفیسر ایڈی کا
کہنا تھا کہ ”میں لوگوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ جب بھی گھر سے باہر نکلنے
لگیں تو جہاں فیس ماسک اور سینی ٹائزر وغیرہ کی احتیاط کر رہے ہیں وہیں
دانت برش کرکے باہر نکلیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کو منہ کے ذریعے وائرس لاحق
ہونے کا خطرہ کم ہو گا بلکہ اگر آپ میں وائرس ہے تو آپ کے ذریعے دوسرے
لوگوں کے متاثر ہونے کا امکان بھی کم ہو جائے گا۔ اس حوالے سے لوگوں کو یہ
ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ٹوتھ پیسٹ کا اینٹی مائیکروبیل اثر 3سے 5گھنٹوں تک
برقرار رہتا ہے۔ اس دوران اگر آپ باہر ہیں یا دوبارہ باہر جانا چاہتے ہیں
تو آپ کو دوبارہ دانت برش کرنے ہوں گے۔“
https://dailypakistan.com.pk/29-Apr-2020/1126563?fbclid=IwAR3eWs1sRqKOsQ7NeWNa-AG5p0cU9R9MWquOAcGwyMMZztqWjGGzIxLyX6k
No comments:
Post a Comment