تحریک انصاف حکومت کی مختلیف شعبوں میں کارکردگی - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Thursday, 9 January 2020

تحریک انصاف حکومت کی مختلیف شعبوں میں کارکردگی




https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107082083&Issue=NP_PEW&Date=20200109



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107082092&Issue=NP_PEW&Date=20200109



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107083204&Issue=NP_PEW&Date=20200109



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/09012020/P8-ISB-040.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/09012020/P8-ISB-052.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/09012020/p2-isb023.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/09012020/p9-lhr011.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/09012020/P6-Lhr-021.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/09012020/P8-Lhr-013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/09012020/p1-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/09012020/p1-lhr003.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/09012020/p1-lhr009.jpg

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مڈ ل مین بہت زیادہ منافع کمار ہاہے ، قیمتوںمیں بہت زیادہ فرق ہے ۔2020خوشحالی اورروز گار دینے کا سال ہے ، تنخواہ دار اور متوسط طبقے کیلئے یوٹیلٹی سٹورز پر سستی اشیاءلیکر آئے ہیں، خوشی ہے کہ یہاں آٹا 800روپے میں فروخت ہورہاہے ،عوام کومشکل ہوئی تو قیمتوں میں مزید سبسڈی دیں گے ۔

اسلام آباد میںیوٹیلٹی سٹورز کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تنخواہ دار اور متوسط طبقے کیلئے یوٹیلٹی سٹورز پر سستی اشیاءلیکر آئے ہیں، خوشی ہے کہ یہاں آٹا 800روپے میں فروخت ہورہاہے ، پوری کوشش ہوگی کہ آیا یہاں 800روپے میں ہی فروخت ہو۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالے دنوں میں یوٹیلٹی سٹورز کی حالت مزید بہتر بنائیں گے ، غریبوں کیلئے راشن کارڈ بھی لیکر آرہے ہیں، عوام کیلئے مشکل ہوئی تو مزید سبسڈی دیں گے ۔راشن کارڈ سے غریب طبقہ تین ہزار رعایت تک چیزیں خرید سکے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کوریگو لیٹ کرنے کیلئے یوٹیلٹی سٹورز بہترین آپشن ہے ، یوٹیلٹی سٹور ز میں پیسہ لگائیں کہ تاکہ عوام کوسہولت ملے ۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ ہمیں چیزیں در آمد کرنے کی ضرورت نہ پڑے ، دالیں اور کینولہ آئل مقامی سطح پر پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مڈل مین بہت زیادہ منافع کمار ہاہے ، قیمتوں میں بہت زیادہ فرق ہے ۔2020خوشحالی اورروز گار دینے کا سال ہے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کو یوٹیلیٹی سٹورز کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی گئی اوربتایا گیا کہ عوام کو یوٹیلٹی سٹورز پر 7ارب کا پیکج فراہم کیاجارہاہے ۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075413?fbclid=IwAR3DeUvpT_qZj_iFW_W6w7CWEHi23
CGtL4xg8dUsIJ7R7WCYJzHCi6yb47E


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظورکرلیاگیا۔سینٹ نے آرمی ایکٹ،فضائیہ ایکٹ اور بحریہ ایکٹ ترمیمی بلز کثرت رائے سے منظور کرلئے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت اجلاس سینٹ کا اجلاس ہوا،وزیر دفاع پرویز خٹک ،وزیر قانون فروغ نسیم ،وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی بھی سینیٹ اجلاس میں شریک ہوئے،سینیٹ اجلاس میں آرمی ایکٹ بل پیش کردیا گیا،وزیردفاع پرویزخٹک نے پاک آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا۔نیشنل پارٹی اور جے یو آئی (ف)جماعت اسلامی ،پی کے میپ نے بل کی مخالفت کی۔

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثر ت رائے سے منظورکرلیاگیا۔سینٹ نے ایئرفورس ترمیمی بل 2020 کی منظوری دیدی،پاکستان نیوی ترمیمی بل2020 بھی کثرت رائے سے منظورکرلیاگیا،سینٹ نے مسلح افواج سے متعلق تینوں ترمیمی بلز منظور کرلئے،تینوں بلز کثرت رائے سے منظور کرلئے گئے ۔نیشنل پارٹی اور جے یو آئی (ف)جماعت اسلامی ،پی کے میپ نے بل کی مخالفت کی۔عثمان کاکڑنے کہاکہ پی پی اور ن لیگ نے ساتھیوں کو ساتھ دیاہے،جمہوریت اورپارلیمنٹ کی پامالی ہو رہی ہے ۔سینٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے10 بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

https://dailypakistan.com.pk/08-Jan-2020/1075397?fbclid=IwAR17uIIdW0f14oU0wWpbdPA
zcMOA8PjsOk1OoyLhxmaP5nL47Zaxu6nBa8o

حکومت نے 15 ہزار اس سے کم مالیت کے اسمارٹ فونز کے ٹیکسز میں 1150 روپے کی کمی کی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان اقدامات کے تحت اسمارٹ فونز کی درآمد پر عائد ٹیکسز میں خاطر خواہ کمی کردی گئی ہے، اس حوالے سیفیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت 15 ہزار یا اس سے کم مالیت کے اسمارٹ فونز کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی شرح 1150 روپے کی کمی کی گئی ہے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس امر کا ادراک ہے کہ لوکل صنعتکارکے لئے بھی مارکیٹ میں حالات سازگار اور موافق ہونے چاہئے، حکومت اسمارٹ فونز کی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس حوالے سے مشیر تجارت، ٹیکسٹائل، انڈسٹریز اور سرمایہ کاری کی زیرنگرانی تشکیل کردہ کمیٹی کام کر رہی ہے۔

ایف بی آر مطابق 100 ڈالر تک کے موبائل فون سیٹ پر ڈیوٹی 1350 روپے سے کم ہو کر 200 فی موبائل ہوگئی ہے، اس سلیب میں فون خریدنے والے لوگ پہلے ڈیوٹی میں 750 روپے ادا کر رہے تھے، تاہم ایسے فون پر سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس جن کی قیمت 100 ڈالر سے زیادہ ہے اب بھی بدستور برقرار ہے اور کسٹمز میں فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں ترمیم پائپ لائن میں ہے، یہ تجاویز تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں گی جو حتمی فیصلہ کرے گی۔

https://www.express.pk/story/1945254/1/



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107081261&Issue=NP_PEW&Date=20200108


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/08012020/p1-lhr013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/08012020/p1-lhr036.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/08012020/p1-lhr037.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/08012020/p2-lhr014.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/08012020/p1-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/06012020/P8-Lhr-013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/07012020/p1-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/07012020/p1-lhr022.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/07012020/p6-isb-031.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/06012020/p1-lhr025.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P1-ISB-016.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/05012020/P1-LHR024.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/04012020/p9-lhr025.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/04012020/bp-lhe-040.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/05012020/P8-LHR017.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/03012020/P8-Lhr-041.jpg





https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/03012020/P9-LHR019.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/04012020/p1-lhr020.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P1-ISB-004.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/01012020/p2-lhr015.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P1-ISB-013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P1-ISB-014.jpg



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-31&edition=KCH&id=4973958_22346538

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کوئی چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، جو وہ کرے گا وہ بھرے گا،میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب لاہور ہیڈکوارٹرز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا تعلق کسی گروہ یا سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہے۔ نیب کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں ہے۔ نیب کو کسی کیخلاف غلط کیس بنانے کی ضرورت نہیں ہے قانون کے راستے میں کوئی مصلحت رکاوٹ نہیں بنے گی۔ کرپشن کرنے والوں کو ہر صورت جواب دہ ہونا پڑے گا۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ دو سالوں میں ثابت کیا کہ صرف میرٹ کی پاسداری کی ہے۔ یہ کہہ دینا کہ ضمانتیں ہورہی ہیں، یہ تو عدالتوں کا اختیار ہے۔ عدالتیں جس طرح چاہیں اپنے اختیارات کو استعمال کریں۔ ریفرنسز عدالتوں میں زیرغور ہیں۔ ضمانتیں عارضی چھوٹ ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/30-Dec-2019/1071246?fbclid=IwAR2kZSmLHBGCa0GaREVtx8Xqo-lZfwdR84hhfAfpVXohKAVlqOo2tm3p850



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-31&edition=KCH&id=4973376_61854125

لائشیا میں محصور 300 پاکستانی باشندوں کو لانے والا طیارہ نیو اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ کرگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مختلف وجوہات کی بنا پر ملائشین حکام کی تحویل میں رہنے والے 300 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر ڈی جی اورسیز پاکستانیز ائیرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی نے پاکستانی شہریوں کی ملائیشیا سے پاکستان واپس پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ حکومت کی کوششوں سے اب تک 800 پاکستانی ملائیشیا سے وطن واپس آچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کو اتنی جلدی لانے کے لیے کوئی ایئرلائن تیار نہ تھی، لیکن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے فوری طور پر اس معاملے کو اہم قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ہم وطنوں کو واپس پاکستان پہنچانے کے لیے خصوصی پرواز چلانے کا اعلان کیا۔

پاکستانی شہری مختلف وجوہات ویزا کی میعاد ختم ہونا اور دیگر معمولی خلاف ورزیوں کی پاداش میں ملائیشین حکام کی تحویل میں تھے تاہم وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی کاوشوں سے پاکستانی شہریوں کی رہائی ممکن ہوئی۔

https://www.express.pk/story/1935790/1/



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/31122019/p2-isb015.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/P8-Lhr-054.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/P6-Lhr-037.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr010.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr039.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr012.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr015.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr043.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr044.jpg





https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107055167&Issue=NP_PEW&Date=20191230



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107055074&Issue=NP_PEW&Date=20191230



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107055483&Issue=NP_PEW&Date=20191230



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/30122019/P1-Isb-014.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/30122019/p2-isb007.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/30122019/P06-LHR-021.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/30122019/bp-lhe-036.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/30122019/p2-lhr-018.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/30122019/p2-lhr-012.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/30122019/p2-lhr-013.jpg



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-30&edition=KCH&id=4972663_19444561

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )سندھ میں سی این جی کے غائب ہونے کے منافع خوروں نے ایل پی جی کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کردیا ۔منافع خوروں نے فی کلو ایل پی جی پر تیس روپے بڑھادیے۔فی کلو ایل پی جی ایک سو بیس سے بڑھ کر ایک سو پچاس روپے ہوگئی۔ گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹر یا کیٹرنگ کا کام کرنے والے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے سے سب ہی متاثر ہوئے۔سندھ بھر میں گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔ عوام کہتے ہیں حکومت اقدامات کرے تاکہ اس پر قابو پایا جاسکے۔

https://dailypakistan.com.pk/29-Dec-2019/1070799?fbclid=IwAR2BQ4vCcHD7Pxzvro-EuJrslP4YFm42e_KuYLTH3EbcEIz9sNCbaiICvL4

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں سردی کا زور ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا، ایسے میں غریب اور بے سہارا افراد کو سہولیات کی فراہمی کیلئے پنجاب حکومت متحرک ہوچکی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بے سہارا افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں انہیں نہ صرف گرم بستر مہیا کیا جارہا ہے بلکہ اچھا کھانا بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ عارضی پناہ گاہوں کی نگرانی پنجاب کے چیف سیکرٹری اعظم سلیمان خود کر رہے ہیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے اتوار کے روز صوبے کے 36 اضلاع میں فوری طور پر بے یار و مددگار لوگوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا۔مجموعی طور پر صوبے میں قائم 92 پناہ گاہوں میں ایک روز کے دوران 1700 لوگوں کوشفٹ کیا گیا ہے۔ عارضی پناہ گاہوں میں سب سے زیادہ لوگ فیصل آباد میں شفٹ کیے گئے جہاں ان کی تعداد 448 رہی جبکہ بہاولپور میں 180 اور وہاڑی میں 100 بے سہارا افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔

https://dailypakistan.com.pk/30-Dec-2019/1071182?fbclid=IwAR0srxGmE_G5bazimwN
MTa7lxRDZkVBfsa4r07_HqTMQL1GCalxRyDgJg-g

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک انصاف کے کارکنان بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، اگرچہ انہیں وزیراعظم عمران خان کی تائید حاصل ہے لیکن پھر بھی ان کو ہٹائے جانے کی افواہیں گاہے بگاہے گردش کرتی رہتی ہیں اور اب ستارہ شناسوں نے بھی ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی اور تین میں سے دو نے کہا کہ عثمان بزدارکو 2020ءمیں اقتدار سے الگ کردیاجائے گا۔

ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹیر و کارڈ ریڈر عالیہ نذیر کا کہناتھاکہ کارڈ کے ساتھ دل کی بات نہیں کروں گی،وہی بتاﺅں گی جو حساب کہہ رہا ہے اور حساب یہ کہہ رہا ہے کہ مارچ 2020ءکے بعد عثمان بزدار دکھائی نہیں دیتے، ان کا اقتدار میرے کارڈز کے حساب سے 14ماہ کا تھا، 14ماہ کے بعد ان کا کٹ آف ٹائم شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد کسی بھی وقت ان کا اقتدار ختم ہوجائے گا،مارچ کے بعد آپ دیکھئے گا شاید پنجاب میں تبدیلی آجائے۔

آسٹرالوجر سامعہ خان کاکہناتھاکہ مارچ کیا ، شروع کی جو پہلی سہ ماہی ہے،مجھے تو اس میں بہت ساری چیزیں نئی نظر آتی ہیں، یہ ضروری ہے کہ اب جو ہوگا یہ ملک کے لئے اچھا ہوگا، اب تبدیلیاں آئیں گی لیکن پھر بھی ہمیں پٹڑی پر چڑھتے چڑھتے سال کا ستمبر اکتوبر آجائے گا،یہاں سے پاکستان کی اُڑان کوئی نہیں پکڑ سکتا ،یہاں تک کا سفر ابھی بھی پل صراط کا سفر ہے، بہت سارے چہرے جاتے ہوئے بیک سکرین نظر آرہے ہیں۔

آسٹرالوجر علی محمد خان کاکہناتھاکہ عثمان بزدار کا اصل زائچہ تو پاس ن ہیں لیکن پنجاب کا ستارہ ورگو ہے ، ہر صوبے کا اپنا ایک برج ہوتا ہے اور ورگو لہلہاتی زمین ہے ، پنجاب میں کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی کہ حکومت ہی چلی جائے ۔

معیشت میں بہتری اور وزیراعظم کے بیانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسٹرالوجرسامعہ خان کاکہناتھاکہ نہیں نہیں، ، عوام ابھی کمر کس کے رکھیں، مجھے ابھی کوئی ریلیف کی خبر نظر نہیں آتی، مجھے ابھی کوئی اکانومی کا نعرہ جو لگ رہا ہے، کوئی ابھی ای سی جی کی طرح فلیکچویشن ہے حالات کنٹرول میں نظر نہیں آتے۔ مجھے اکانومی کرائسس، میں نے 18 والے آثار دکھائی دیتے ہیں، 2018ءمیں ہی کہا تھاکہ 19 والا سال بدترین ہمارا اکانومی کرائسس کا ہوگا لیکن اللہ کرے کہ ہم کھڑے رہنے کے قابل ہوجائیں، یہ ہماری پانچ سے چھ مہینے کی جنگ اور ہے، میرا تو اپنے عوام کے لئے ہے کہ بس کمر کس کے رکھیں، یہ ضرور ہے کہ ملک کو یہ سال بھی بدلے گا لیکن اتنی جلدی نہیں بدلے گا۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان محمد مالک نے کہا کہ حکومت کی سنو تو سب اچھا ، لیکن اصل میں دیکھیں تو فیکٹریز بند ہورہی ہیں، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی زیادہ ہے، ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آتی، ستاروں کو سمجھ آتی ہے تو بتائیں، معاشی طور پر 2020ءکیسا ہوگا؟ اس پر ٹیروکارڈ ریڈر عالیہ نذیر نے بتایا کہ جب اس بارے کارڈ پر نظردوڑاتی ہوں تو کارڈ بگ کوائن دکھتاہے جو آسمان سے آپ کو مل رہا ہے، حکمران جو بھی کریں، جیسے بھی کریں، ہماری جو زمین ہے ، یہ خزانہ اگلے گی، یہاں سے اللہ کی طرف سے یا یہ ڈیوائن ہیلپر جو عوام کو ملے گا، زمین اپنے خزانے اگلنے والی ہے اور ہم دیکھیں گے ۔ اس پر محمد مالک نے کہا کہ پھر تو شاید کوئی ریکوڈک ڈیل ہوجائے، زمین کے خزانے بلوچستان میں بہت ہیں۔

آسٹرالوجر محمد علی خان نے کہا کہ میں نہیں دیکھتا کہ فی الحال 2020ءمیں کوئی عوام کے لئے چیزیں اچھی ہوں، کچھ سیاسی غیریقینی ہوگی،عدلیہ کیساتھ مسائل شروع ہوجائیں گے ، کچھ چیزیں تبدیل ہوجائیں گی، جو 11 مئی سے ایک ستارہ زحل ریٹروگریڈ ہورہا ہے۔ مشتری جو ہے 14مئی سے ریٹروگریڈ ہورہا ہے، وہ کیپری کون میں جائے گا ، یہ وقت اچھانہیں ہوگااورعدلیہ میں کچھ عجیب سے مسائل شروع ہوجائیں گے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انصاف کے نظام میں کچھ تبدیلیاں ہوں گی ، کچھ اصلاحات ہوں گی اور کچھ نئی پالیسیز لائی جائیں گی جو ابھی تک نہیں ہوسکیں، اچھی تبدیلیاں ہوں گی، لیکن کچھ بڑے بڑے لوگوں کے لئے ٹف ٹائم شرو ع ہوجائے گا، لیکن اکانومی پر منفی اثر پڑے گا ، ملکی آفات زلزلے وغیرہ، اس طرح کی چیزیں بھی ہونے کے امکانات ہیں، بالخصوص مئی، جون، جولائی کا مہینہ ہوگیا۔

ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آسٹرالوجر علی محمد خان نے کہا ہے کہ 2020میں اپوزیشن کی مختلف تحریکیں چلیں گی، 21جون کو سولر ایکلپس کے بعد جولائی میں ایکلپس لگ رہا ہے، کنجنشن ہوگا ، یہ حکومت کے لئے ٹف ٹائم ہوگا، بالخصوص چھ جون کو اکلپس لگ رہا ہے، وہ بھی وزیراعظم عمران خان صاحب کے لیے اچھا نہیں لیکن حکومت چلی جائے ایسا بھی نہیں ہوگا۔

ٹیرو کارڈ ریڈر عالیہ نذیر کاکہناتھاکہ گورنمنٹ اور اپوزیشن کے لئے برابر کا سال ہے، ٹگ آف وار ہے اوراس میں بالآخر گورنمنٹ سروائیو کر جائے گی،اچھا سال عوام کے لیے ہے۔ عوام کے لئے بہت ساری چیزیں ایسی آئیں گی جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھیں، جن کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں ۔2020ءاچھا سال ثابت ہونے والا ہے، پہلے عوام کے لئے، پھر عمران کے لئے ، پھر اپوزیشن کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ اپوزیشن والے تھک جائیں گے ، مزید اپوز نہیں کرسکیں گے۔

آسٹرالوجرسامعہ خان کاکہناتھاکہ نہیں نہیں، ، عوام ابھی کمر کس کے رکھیں، مجھے ابھی کوئی ریلیف کی خبر نظر نہیں آتی، مجھے ابھی کوئی اکانومی کا نعرہ جو لگ رہا ہے، کوئی ابھی ای سی جی کی طرح فلیکچویشن ہے حالات کنٹرول میں نظر نہیں آتے۔ مجھے اکانومی کرائسس، میں نے 18 والے آثار دکھائی دیتے ہیں، 2018ءمیں ہی کہا تھاکہ 19 والا سال بدترین ہمارا اکانومی کرائسس کا ہوگا لیکن اللہ کرے کہ ہم کھڑے رہنے کے قابل ہوجائیں، یہ ہماری پانچ سے چھ مہینے کی جنگ اور ہے، میرا تو اپنے عوام کے لئے ہے کہ بس کمر کس کے رکھیں، یہ ضرور ہے کہ ملک کو یہ سال بھی بدلے گا لیکن اتنی جلدی نہیں بدلے گا۔

کیا 2020ءمیں نواز شریف صاحب دوبارہ جیل کی ہوا کھائیں گے، یا آزاد پنچھی نظر آتے ہیں؟ کے جواب میں آسٹرالوجر سامعہ خان نے کہا ہے کہ 24جنوری کے بعد نواز شریف کا ستارہ مزید سختی سے باہرآرہاہے، مجھے یہ امکان دکھائی نہیں دیتا کہ وہ دوبارہ جیل میں ڈالے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب 11 اگست 2019 گزرا تھا تو میں نے یہ کہا تھا کہ اب ان کے مزیددباﺅ کا خطرہ ختم ہوگیا ، ان کو ریلیف ملنے میں دیر ہورہی ہے، ریلیف ان کو ملے گا، اور ان کو مل جانا ہے، میں کوئی ن لیگ کی حمایت میں بیان نہیں دے رہی تھی بلکہ میں نے ان کی نااہلی کی بھی پیشن گوئی کی تھی ۔

ٹیرو کارڈ ریڈر عالیہ نذیر کاکہناتھاکہ بڑے میاں صاحب 2020ءمیں پاکستان آتے نظر نہیں آرہے ،مجھے یہ لگتا ضروری ہے، وہ تو واپس نہیں آئیں گے بلکہ مریم ان کے پاس چلی جائیں گی، چھوٹے میاں صاحب پاکستان آئیں گے اور پارٹی کو سنبھالیں گے ۔ ستاروں یا واٹس ایپ کے کہنے کے بارے میں سوال پر عالیہ نذیر نے کہا کہ میرا واٹس ایپ مجھ سے پوچھتا ہے بتاتا نہیں، صرف یہ لگتا ہے کہ مریم اپنے ابا کے پاس چلی جائیں گی، ان کے ابا جی بھی شاید وہاں سے امریکہ چلے جائیں گے،پاکستان وہ آتے نظر نہیں آتے، چھوٹے میاں صاحب آکر پارٹی کو لیڈ کریں گے، وہ بھی جیل میں جاتے مجھے دکھائی نہیں دیتے۔

آسٹرالوجر علی محمد خان کا کہناتھاکہ 5نومبر کے بعد نوازشریف کے ستارے اچھے ہورہے تھے اور وہ بیرون ملک بھی چلے گئے، آگے بھی ان کے معاملات بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں۔آئندہ سال بہت اہم ترین سال ہوگا،دو بڑے ستارے علم نجوم میں یعنی مشتری اور زحل، یہ دونوں اپنے اپنے گھر میں ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا ایک گریٹ کنجنشن ہوگا، 21 دسمبر کو جو ہر 20 سال بعد ہوتا ہے، جودنیا کے لیے اچھا نہیں ہوتا لیکن میاں صاحب کے لئے کو ئی خطرہ نظر نہیں آتا کہ وہ دوبارہ جیل میں جائیں، یا کچھ ایسی چیز ہو، انفیکٹ وہ واپس بھی نہیں آئیں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سامعہ خان نے کہا ہے کہ ’ اللہ نہ کرے میں خود کو کہہ رہی ہوں میری پیش گوئی غلط ہو جائے لیکن ملک کو بہت خطرات ہے، اندر سے بھی اور باہر سے بھی حتی کہ انڈیا کے بھی حالات خراب ہونے جا رہے ہیں ،اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے، غزوہ ہند کا سفر شروع ہو جائے۔وہ کیا 2020میں پاکستان انڈیا میں جنگ کا خطرہ ہے ؟کا جواب دے رہی تھیں‘۔

ہم نیوز کے اسی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹیروکارڈ ریڈر عالیہ نذیر نے موقف اپنایا کہ مجھے یہ لگتا ہے کہ جنگ نہیں ہوگی لیکن 2020میں حالات کشیدہ رہیں گے ، جنگ انڈیا پاکستان میں نہیں ہوگی، یہ کشمیر کے لیے فیز شروع ہو ا ہے جو سَن 2023 تک ختم ہو جائے گا لہٰذا اس فیزمیں انڈیا اور پاکستان کے حالات کشیدہ رہیں گے، جنگ نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے جنگ انڈیا اور چائنہ میں ہو سکتی ہے، مجھے لگتا ہے چین کی وجہ سے ہماری جان چھوٹی رہے گی۔

آسٹرالوجر علی محمد خان نے کہا کہ جنگ تو نہیں ہوگی،21جون کو ایک کلپس لگ رہا ہے جو پاکستان کے تیسرے خانے میں لگے گا، مئی جون میں بھارت کوئی ایڈونچر کرے گا اور یہ میری پیشن گوئی ہے ، جون ، جولائی، اگست تین مہینے ہیں، انڈیا کوئی ایڈونچر کر سکتا ہے لیکن میں کہتا ہوں کوئی فیئر وار ہوتی ہے جیسے 65میں ہوئی تھی یا 71میں ہوئی تھی یا 48میں ہوئی تھی ایسی کوئی وار نہیں ہوگی لیکن کچھ ایڈونچر کرے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 21جون کے بعد انڈیا لیکن جو اُس کا اپنا وجود بہت خطرے میں ہے، ابھی جو کلپس لگ رہا ہے 10,11جنوری کا کلپس انڈیا کیلئے خطرناک ہے،سُپر پاور کے لیے بہت خطرناک سال ہے اور ہوسکتاہے کہ اس کے صدر کو بھی اتاردیاجائے

یہ تمام باتیں درست ہونے کی امکانات کے بارے حاضرین نے کہاکہ ستر سے اسی فیصد ایکوریسی کے امکانات ہوتے ہیں۔اس کے 100فیصد درست نہ ہونے کی ایک وجہ لوگوں کی تاریخ پیدائش کا مسئلہ ہوتاہے جو کسی جگہ پر تقریر کرتے ہوئے اپنی عمر کچھ بتاتے ہیں اور اگلی جگہ پر کچھ، اسی طرح کئی دیگر چیزیں بھی آڑے آتی ہیں۔

اس سے قبل عالیہ نذیر نے کہاکہ آئندہ سال قومی سطح پر الیکشن نہیں ہوگا، بلدیاتی الیکشن ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’مجھے یہ لگتا ہے پلس مائینس، رلتے ڈلتے عمران خان کی حکومت 2020 کوکراس کر لے گی ،ستمبر سَن2021تک عمران خان کی حکومت جائے گی اورابھی تک میرے کارڈ یہ کہتے ہیں اُس سے پہلے یہ والے الیکشنز نہیں ‘۔

2020میں الیکشن ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر آسٹرالوجسٹ محمد علی خان نے کہاکہ یہ 2020کا سال بہت اہم سال ہے، اس سال ٹوٹل چھ گرہن لگیں گے جس میں دو سولر کلپس ہو نگے اور چار لیونر کلپسس ہونگے اور جو پاکستان کا زائچہ ہے وہاں کوئی بھی possibility نظر نہیں آتی کہ کوئی کلپس ایسی جگہ لگا ہو کہ اسمبلیاں ٹوٹ جائیں اور نئے الیکشن ہوں ، نئی گورنمنٹ بنے یا نئی تبدیلیاں آئیں ۔

آسٹرالوجر سامعہ خان نے کہاکہ تھوڑا سا ماضی میں جانا چاہوں گی، اس بات کے لیے1991میں 11اگست کو ایک سولر اکلپ گرین لگا تھاجس میں کراچی میں اندھیرا ہو گیا تھا اور میں وثوق سے ایک بات کہتی ہوں ،تب وہ میری پہلی سیاسی پیش گوئی تھی اور آج شاید آخری پیش گوئی بیان کروں گی اور اس کے بعد میں ریٹارمنٹ کی طرف جانے لگی ہوں ،اُس وقت میں کہا کہ نواز شریف صاحب کی بھاری مینڈیٹ کی گورنمنٹ تھی ان کے ایک منسٹر تھے جمالی جو کہ میرے پاس آئے اور میں نے انہیں کہا کہ آپ کی گورنمٹ کو بہت خطرہ ہے ،وہ کہنے لگے ،دو تہائی اکثریت ہے، میں نے کہا کہ جو 11اگست والا گرہن ہے یہ اس گورنمنٹ کے لیے خطرے کا اشارہ ہے،

اُس کے بعد 2000میں 5سے7ستاروں کی گلیکسی اجتماع ،گیدرنگ ایک ہی گھر میں تھی ،اسی طرح آج کے دن 2019 میں جب یہ ختم ہورہا ہے اور جب یہ شروع ہوگا 2020اسی طرح 5سے7ستاروں کا اجتماع ایک ہی گھر کے اندر ہے اُس کے بعد آپ نے دیکھا 911 کا واقعہ ہوا اور دنیا ایک وارزون کی کیفیت میں گئی، Americaنے عراق پر اٹیک کر دیا،اسی طرح کی صورتحال ہے،ستاروں کا احوال جب میں نے پڑھنا شروع کیا تب سے اس سال بھی چھ گرہن لگنے جا رہے ہیں، اندرونی اور بیرونی طور پر 2020 کو تیزی سے تبدیلیوں کا سال کہوں گی ، تبدیلیاں آئیں گی اور تبدیلیوں والا سال ہے سیاسی اکھاڑ پجھاڑ ہے، پاکستان ہی کیا دنیا میں تبدیلیوں والا سال ہے انڈیا کے حالات بگڑتے ہوئے دیکھیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں جو پھر سے سپنہ دیکھایا جا رہا ہے یہ ترقی کا سال ہے مجھے تو ستاروں میں ترقی کا ایسا کوئی موڈ نظر نہیں آرہا۔

https://dailypakistan.com.pk/30-Dec-2019/1071199?fbclid=IwAR0hrN2ax6GEH-JWB8U372gdwYxCUlXGEzq1Q1MYG0Pf
PzuEA06COnT_W9o

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت کی جانب سے نیب آرڈنینس میں ترامیم کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ہارون رشید نے دعویٰ کیاہے کہ ” کاروباری شخصیت میاں منشاءکی قیادت میں ایک وفد نے نہایت ہی اہم سرکاری آدمی سے ملاقات کی جونہیں چاہتا کہ اس کا نام لیا جائے ، میاں منشاءنے ان سے کہا کہ ہم سرمایہ کاری نہیں کریں گے ۔“

نجی ٹی وی 92 نیوز کے پروگرام میں اینکر پرسن نے سینئر صحافی ہارون رشید سے سوال کیا کہ ”نیب آرڈنینس میں ترامیم کی گئیں ہیں اور ان سے حکومت کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی فائدہ ہو گا لیکن پھر بھی اپوزیشن ناراض ہے جبکہ اسے این آر اوز کی ماں کہا جارہاہے ؟۔

ہارون رشید نے میزبان کا سوال سن کر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اپوزیشن ناراض نہیں ہے بلکہ وہ سیاست کا کھیل کھیل رہی ہے ، وہ سیاست کو سمجھتے ہیں لیکن خان صاحب نہیں سمجھتے ، آرڈنینس میں ایک مرتبہ 120د ن اور دوسری مرتبہ 240 دنوں کی توسیع ہو سکتی ہے جو کہ تقریبا آٹھ مہینے بنتے ہیں لیکن اس کے بعد انہیں آرڈنینس کو پارلیمنٹ میں لانا ہی پڑے گا جس پر وہ مزید مطالبات پیش کریں گے ۔

ہارون رشید نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری شخصیت میاں منشا ءکی قیادت میں ایک وفد نے نہایت ہی اہم سرکاری آدمی سے ملا جو نہیں چاہتا کہ اس کا نام لیا جائے ، ان سے کہا کہ ہم سرمایہ کاری نہیں کریں گے ، تجزیہ کار نے کہا کہ یہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں ۔سینئر صحافی کا کہناتھا کہ اخلاقی طور پر یہ معاشرہ بدحال ہے ، اس میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ یہ کردیں گے وہ کر دیں گے ، پہلے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوتاہے ، لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی کا خوف ہونا چاہیے ،تعلیم ہونی چاہیے ،پولیس ٹھیک ہونی چاہیے لیکن وہ تو آپ نے کیا ہی نہیں ،اب اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔

ہارون رشید کا کہناتھا کہ حکومت نے غلط حکمت عملی اختیار کی اور چڑھ دوڑے ، آپ کو یہ معلوم ہی نہیں کہ احتساب کا طریقہ کیاہے ، احتساب کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ آپ پولیس ، نیب اور ایف آئی اے کو بلاتے اور کہتے کہ آپ قانون کے دائرے میں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ احتساب یہ ہوتاہے کہ اگر کوئی قصور وار ہے تو پکڑ لیا جائے اور اگر کوئی بے قصور ہے تو وہ ہر روز صبح سے شام تک عمران خان کے خلاف تقریریں کرتا رہے تو وہ آزاد پھر رہا ہو ، اس پر مقدمہ ہو سکتاہے کہ جھوٹا الزام لگایاہے اور ہونا بھی چاہیے ، یہ تماشے ختم ہونے چاہیے جو یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اس سے بحث نہیں ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے یا ہمارے اتحادی کا آدمی ہے ،ایک طرف تو کہتے ہیں کہ احتساب ہو گا اور مجرم کو معاف نہیں کیا جائے گا ، دوسری طر پولیس افسروں کی تقرریاں ساری سفارش پر ہوتی ہیں ، آپ کے تین وزیر ایسے ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں ، جن میں خسر و بختیار ، علی زیدی اور فیصل واوڈا شامل ہیں ، اور الزام ہے کہ ان کی جائیدادیں ہیں ، انہوں نے ٹھیکے دیئے ہیں ، الزام تو الزام ہوتاہے جب تک ثابت نہ ہو ۔

ان کا کہناتھا کہ خسرو بختیار کی تین شوگر ملیں ہیں ، وہ آسمان سے ٹپکی ہیں ، اس کی فولاد کی خفیہ فیکٹری ہے ، اس کے پیسے بچے دیتے ہیں ، اگر کسی کے کھیت میں ایک لاکھ روپے کا گنا پیدا ہوتا تو کیا اس کے کھیت میں دس لا کھ کا ہوتاہے ؟۔ہارون رشید نے کہا کہ علی زیدی پر الزام ہے کہ اس کے وسائل اس سے بہت زیادہ ہیں ،تو آپ یہ بتائیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے ، غلط ہے ،اور اگر ایسا کہتے ہیں تو بڑی اچھی بات ہے وہ پاک صاف ہیں اور اس سے اچھی کیا بات ہو سکتی ہے ، یہ تو خوبی ہے ، انہوں نے جائز پیسے سے تین شوگر ملیں لگائیں ۔ہارون رشید کا کہناتھا کہ اگر فیصل واوڈا نے کوئی غلطی نہیں کی تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے ، لیکن اگر وہ ملوث ہیں اور انہوں نے پیسہ بنایا ہے تو نیب اور ایف آئی اے کیا کر رہی ہیں ، احتساب اپنوں سے شروع ہوتا ہے ۔

https://dailypakistan.com.pk/30-Dec-2019/1071184?fbclid=IwAR2oPH_YsaT4Tu8uetC6q5SCv7b1
v4MzmaBDsHqEkB-Tk3CDFyh74nEIL50

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے خارج شدہ لوگوں میں خیبرپختونخوا 2 لاکھ 77 ہزار 266 افراد کے ساتھ سرفہرست ہے، اسلام آباد کے سب سے کم 2 ہزار 94 افراد بھی اس پروگرام میں خارج ہونے والوں میں شامل ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے خارج کردہ لوگوں کا صوبہ وائز ڈیٹا سامنے آگیا، دستاویزکے مطابق بی آئی ایس پی نے پروگرام کے ذریعے مالی امداد پانے والے لوگوں میں سے 8 لاکھ 20 ہزار 165 افراد کو پروگرام سے خارج کردیا ، پروگرام سے خارج افراد میں سب سے زیادہ خیبرپختونخوا کے2 لاکھ77 ہزار 266 لوگ شامل ہیں۔پنجاب کے 2 لاکھ 43 ہزار380 لوگ، سندھ کے ایک لاکھ 83 ہزار 42 لوگ، بلوچستان کے 45 ہزار 280 لوگ، فاٹا کے 43 ہزار 445 لوگ، آزاد کشمیر کے 17 ہزار 361 لوگ، گلگت بلتستان کے8 ہزار 297 لوگ جبکہ اسلام آباد کے 2 ہزار94 افراد بھی اس پروگرام سے خارج ہونے والوں میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ افراد کو سہ ماہی بنیادوں پر ساڑھے 5 ہزار روپے جبکہ ان کے بچوں کو اسکولوں میں حاضری کی بنیاد پر ہزار روپے وظیفہ دے رہے ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/29-Dec-2019/1070711?fbclid=IwAR297z6Zvoz8ZuXbaTLmgMzC
3mD2z0bfWgLatwf05kjJvMCOmc9lyDnSgGE

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کیابلاول بھٹونے نیب آرڈیننس کی حمایت کردی؟۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کئے گئے ایک ٹویٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ’ حالیہ نیب آرڈیننس اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت صدر زرداری کی اس بات سے متفق ہے کہ نیب اور ہماری معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ جانبدارانہ اقدامات کرنے کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرے۔اپنا کام کریں اور قانون سازی کریں۔نیب کا خاتمہ کریں اور انسداد بدعنوانی کے قوانین کو مضبوط کرکے اس ڈھونگ کا خاتمہ کریں۔‘

https://dailypakistan.com.pk/29-Dec-2019/1070763?fbclid=IwAR3T5tRDAH64sRTpVV3a-u-vkNSTevDVXVx3dPuAnYpjOz6ehrdKoV6LQmQ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤ نٹس کمیٹی میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ40روپے کی دوائی دو سوسے 2ہزار روپے تک بیچی جا رہی ہے ،ہم نے ڈریپ کا 2019کا سپیشل آڈٹ کیا ہے ،جس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی،وزارت صحت کی جانب سے وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا 2011 سے 2013 تک کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا۔

روزنامہ دنیا کے مطابق پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤ نٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر شاہدہ اختر علی کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس کے دوران وزارت قومی صحت کے سال 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کی ذیلی کمیٹی نے حکومت کی ہدایت کے باوجود ادویات کی قیمتیں کم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قیمتیں کم نہ کرنے والی ادویات کمپنیوں کی فہر ست طلب کر لی ۔

https://dailypakistan.com.pk/29-Dec-2019/1070761?fbclid=IwAR1yGaCiPK-eicjZ-4Ikd1Lct_n9G3-IWGtPIeaBVuOmF4K00cDwAWioa-Y

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹرمرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ احتساب کا عمل ختم ہو گیا،نیب ڈرافٹ پر دیکھئے بغیر تنقید کی جارہی ہے،کوئی ذاتی فائدہ چاہتا ہےتواِس حکومت سےنہیں مل سکتا،جس شخص کاتعلق پبلک آفس ہولڈرسےنہیں ہوگا اِس پر نیب کا اطلاق نہیں ہو گا،نیب قوانین میں ترمیم کے بعد اب ٹیکس کے تمام معاملات نیب نہیں بلکہ ایف آئی اے دیکھے گا،لیوی اور امپورٹ کے کیس بھی نیب نہیں دیکھے گا۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس نیب آرڈیننس 2019 کے بارے میں ہے،نیب ڈرافٹ پر دیکھئےبغیرتنقید کی جارہی ہے،اس لئے وضاحت ضروری ہے،میں چھٹیوں پرتھالیکن نیب قوانین میں ترمیم سے متعلق کنفیوژن کو دور کرنے آیا ہوں، طریقہ کار کا نقص نیب کا دائرہ کار نہیں بنتا اس میں محکمانہ کارروائی بنتی ہے جبکہ نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے اداروں کی اصلاح کرنا نہیں،صرف فیصلہ کرنے کی وجہ سے کسی کا کیس نیب میں آتا تھا تو وہ زیادتی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ آرڈیننس کو پارلیمان کے پاس ہی جانا ہے،گزشتہ 10 برس میں نیب قوانین میں تبدیلی کی خواہشات بدنیتی پر مبنی تھیں جن پر عمل نہیں کیا گیا،ماضی میں نیب قوانین میں ترامیم کی کوششوں کامقصدخودکو بچاناتھا،کوئی ذاتی فائدہ چاہتاہےتو اِس حکومت سے نہیں مل سکتا،معاشرے میں کرپشن کاناسورپھیلاہےاوراس کی درستگی کے لیے سخت قوانین کی ہی ضرورت ہے،ایسا نہیں ہے کہ نیب ترمیمی قانون پاس ہونے کے بعد کسی ٹیکس چور کو رعایت مل جائے گی بلکہ وہ معاملہ متعلقہ ادارہ دیکھے گا۔اُنہوں نے کہا کہ12 میں سے ایک شق اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ہے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق وضاحت ہونی چاہیے،4 صفحاتی ترمیمی آرڈیننس کا سیکشن 4 بتائے گا کہ قانون کا کہاں اطلاق ہوگا؟نیب ترمیمی قانون سے کسی کو اس حکومت سے ذاتی فائدہ نہیں مل سکتا ،اس لیے احتساب کا عمل ختم ہونے کا تاثر غلط ہے،نیب قانون کا دو طرح کے افراد اور ٹرانزیکشن پر اطلاق نہیں ہوگا جبکہ جہاں لفظ کرپشن آئے گا وہ اب بھی نیب کی دسترس میں ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ نیب کےبعدایف آئی اےکےلیےبھی ایسےہی عمل کاآغازکیاہے،ایف آئی اےکو مضبوط کرنے پر بھی کام کر رہےہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نےحکومت سنبھالی توملک معاشی طورپربدحال تھا تاہم اب حکومتی پالیسیوں کے نتائج آرہےہیں اور اداروں کی ساکھ بحال ہورہی ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/29-Dec-2019/1070772?fbclid=IwAR
1JXPMIgeuYBy9owjxsumYdkrUT
sFOtu6Sp8NdRWBbEzqDRmxIHW7mBlBE


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107053161&Issue=NP_PEW&Date=20191229

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلی کو ہدایت کی ہے کہ شدید سردی میں کوئی بھی شخص بغیر شیلٹر کے نہ رہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلی اس بات کو یقینی بنائیں کہ شدید سردی میں کوئی بھی شخص بغیر شیلٹر کے نہ رہے اور جولوگ پناہ گاہوں میں نہیں ہیں، انتظامیہ انہیں کھانا اور عارضی پناہ گاہ فراہم کرے۔

https://www.express.pk/story/1933456/1/




https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/29122019/P8-ISB-046.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/29122019/p9-isb002.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/29122019/p9-isb003.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/29122019/p9-isb005.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/29122019/p2-isb022.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/P8-LHR-053.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr020.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr004.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr021.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr034.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr008.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr026.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr035.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/29122019/p1-lhr031.jpg

ایبٹ آباد (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں سکول کی انتظامیہ نے تقریب کے موقع پر اسرائیلی پرچم لہرا دیا جس پر نیا تنازعہ کھڑاہوگیا، یہ تقریب انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر منعقد کی گئی تھی ۔

روزنامہ امت کے مطابق ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے کہاہے کہ ضلعی انتظامیہ نےماڈرن پبلک سکول اینڈ کالج ایبٹ آباد میں انتظامیہ نے امریکن ماڈل کانفرنس منعقد کروانے کی کوئی اجازت نہیں دی تھی، سوشل میڈیا کے ذریعے سے پتہ چلا ہے کہ سکول میں ایک فنکشن کی تیاری کے لئے دوسرے ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ اسرائیل کا پرچم بھی لہرایا گیا تھا، پولیس سے کہا گیا کہ وہ واقعہ کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرائے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایبٹ آباد کے ایک نجی سکول ماڈرن پبلک سکول اینڈ کالج ایبٹ آباد کے حوالے سے الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ وہاں پر اسرائیل کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ اس پر اسد جاوید خان نے پولیس تھانہ میر پور کو ایک درخواست بھی دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ماڈل یونائیٹڈ نیشن (اے ایم یو این) نامی تنظیم یونائیٹڈ نیشن کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کررہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک فنکشن کے دوران دیگر ممالک کے پرچموں کے ساتھ اسرائیل کا پرچم بھی لہرایا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ایبٹ آباد کے شہریوں میں سخت غم و غصہ ہے۔ تنظیم اور فنکشن کروانے والوں کے خلاف غدارس کا مقدمہ درج کیا جائے۔

سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کے بعد ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے واقعہ کا نوٹس لینے کا اعلان کیا ہے اور پریس ریلیز میں دعویٰ کیاہے کہ پولیس کو انکوائری کرنے کی ہدایات کردی گئی ہے۔دوسری جانب تنظیم کی جانب سے ایک اعلامیہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا پرچم لہرانے کا واقعہ ایک غلطی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگ اس کو منفی رنگ دے رہے ہیں اس میں ان کی اپنے ملکی اور بین الاقوامی مقاصد ہیں جبکہ یہ پروگرام صرف ایک مثبت پروگرام تھا جو کہ یونائیٹڈ نیشن کے ماڈل پر تھا جس میں مختلف ممالک کے پرچم لگا کر ان کے وفود ترتیب دے کر بحث مباحثہ کرنا تھا جس کا مقصد پاکستان کے نوجوان کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے جس کے بعد مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070279?fbclid=IwAR2bQ4o366ms72-1zo4YsAuZcL
Rzq0rM7mqWBy_Y-QgjQXFME4qBFGluRYU

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کی ایک بار پھر سنی گئی،سینکڑوں پاکستانیوں کی وطن واپسی کاشیڈول جاری کردیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق ملائیشیا میں مختلف وجوہات پر جیلوں میں قید پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کیلئے پی آئی اے اکتیس دسمبرکو کوالالمپور سے اسلام آباد کیلئے خصوصی پرواز چلائے گی جو تین سو سے زائد پاکستانیوں کو اپنے پیاروں کے پاس وطن واپس لائے گی۔

قومی ایئرلائن کی جانب سے جاری کئے گئے پیغام میں کہاگیاہے کہ پی آئی اے اکتیس دسمبر کو کوالالمپور سے اسلام آباد کیلئے خصوصی پرواز چلائے گی جو تین سو پاکستانیوں کو وطن واپس اپنے پیاروں کے پاس پہنچائے گی۔ترجمان کے مطابق پروازاگلی صبح نو بجکرپچاس منٹ پراسلام آبادپہنچے گی۔ترجمان کے مطابق جن لوگوں کو واپس لایا جا رہاہے وہ مختلف وجوہات کی بنا پر ملائیشین حکام کی تحویل میں تھے۔

واضح رہے کہ رواں سال تیس مئی کوعیدسے پہلے بھی ملائیشیا کی مختلف جیلوں میں قید320 پاکستانیوں کو پی آئی اے کی خصوصی پرواز پر وطن واپس لایاگیاتھا۔قومی ایئرلائن کا طیارہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر ملائیشیا گیاتھا اور وہاں سے پاکستانیوں کو لے کر اسلام آباد پہنچاتھا۔

وزیر ہوابازی غلام سرور،زلفی بخاری اور دیگر حکام نے پاکستانیوں کا وطن واپسی پر استقبال کیاتھا۔عید سے پہلے گھر واپسی یقینی بنانے پر پاکستانیوں نے حکومت کا شکریہ اداکیاتھا۔طیارے میں اور ایئرپورٹ پر پاکستانیوں نے عمران خان اور پاکستان کے حق میں بھرپور نعرے بازی کی تھی۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070310?fbclid=IwAR0jCqHcc7L3t6Z1ktGdEKZMV
XpBBc4jeXvRGT71DAULfRHzLUVjfRSyM4M

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیٹس کواپنے مفادات کیلئے اصلاحات کیخلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ملک میں دوقسم کی حکومتیں آتی ہیں ایک وہ جو ہر صورت پانچ سال مکمل کرنے کی تگ و دو کرتی ہے دوسری وہ جو اصلاحات کرتی ہے۔عمران نے کہا کہ ہماری حکومت وہ ہے جو اصلاحات کرنے کیلئے آئی ہے۔ ،کئی جماعتیں اپنی حکومت بچانے کیلئے اصلاحات سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں لیکن ہم اصلاحات سے ہرگز نہیں گھبرائیں گے۔

پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیس سال میں اوورسیز پاکستانی رہا۔اوورسیزپاکستانیوں سے میرا قریبی تعلق ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو سمجھتا ہوں۔اوورسیز پاکستانیوں کے حل کرنے کیلئے حکومت سنجیدہ ہے۔کینسرہسپتال کیلئے شمالی امریکا گیاجہاںمیرے کزن نوشیرواں برکی نے میری مدد کی۔

عمران خان نے کہا ہسپتالوں کی بہتری کی کوشش کرتے ہیں تو ایک مافیا رکاوٹ ڈالتاہے۔وہ پرانے نظام کے تحت کرپشن چاہتے ہیں اس لئے اصلاحات کی کوشش پر کہتے ہیں کہ ہسپتالوںکو پرائیویٹ کیاجارہاہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ہسپتالوں کو پرائیویٹ نہیں کیاجارہا۔پرانا مافیا پرانے نظام سے فائدہ اٹھانے کیلئے صحت ،ایف بی آراور دیگر اداروں میں تبدیلی کی کوشش کواسٹیٹس کو کی مزاحمت کا سامناکرنا پڑتا ہے۔لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے اس لئے ٹیکس نظام میں بہتری کی مخالفت کرتے ہیں۔

عمران خان نے کہا ملک میں دو قسم کی حکومتیں آتی ہیں ایک وہ جو ہر صورت پانچ سال پورا کرنا چاہتی ہے، جبکہ ہم وہ حکومت لائے ہیں جو اصلاحات کرنا چاہتی ہے،ہمیں اس سے زیادہ مزاحمت کاسامنا کرناپڑسکتا ہے۔اس ساری کارروائی کے دوران مسائل آتے ہیں ،کئی جماعتیں اپنی حکومت بچانے کیلئے اصلاحات سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں لیکن ہم اصلاحات سے ہرگز نہیں گھبرائیں گے۔ترکی اور ملائیشیا کا حال ہم سے خراب تھا لیکن وہ اصلاحات کرکے ان مشکلات سے نکل گئے۔

انہوں نے کہا دوہزار انیس معیشت سنبھالنے اور بجٹ خسارے سے نکلنے کا سال تھا جبکہ دوہزار بیس خوشحالی کا سال ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں امریکا میں اپنی لابی مضبوط کرنی ہے۔وہاں بھارتی لابی پاکستانی لابی سے زیادہ طاقتور ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیرمیں ظلم روارکھے ہوئے ہے۔لاکھوں مسلمانوں کو اوپن جیل میں قید کردیا گیاہے۔مغربی اخباروں میں پہلی بار بھارتی فاشسٹ حکومت کو بے نقاب کیاجارہاہے۔بی جے پی حکومت نے بھارت میں وہی طرز حکمرانی اپنالی ہے جو ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف اپنائی تھی۔عمران خان نے پاکستان ڈاکٹرز کی تنظیم اپنا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ امریکا میں پاکستانی لابی کی مضبوطی کیلئے کام کریں۔عمران خان نے کہا بھارتی حکومت کے اقدامات کیخلاف بھارت کے باشعور اور پڑھے لکھے ہندو خود اٹھ کھڑے ہیںبھارت اپنے اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کیلئے آزاد کشمیر میں ایڈونچر کی کوشش کرسکتا ہے۔ایسی کسی بھی کارروائی سے قبل ہمیں دنیا کو بھارتی مقاصد سے آگاہ کرنا ہوگا۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070313?fbclid=IwAR39y4i_P5gTAeylvTTwcVVFs4E
pNIqAxncPW3_p9-Km369T37MgxLD-dlo

لاہور (ویب ڈیسک) کاشانہ شیلٹر ہوم سکینڈل میں سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ کو کلین چٹ مل گئی، سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کے الزامات بے بنیاد قرار دے دیئے گئے۔روزنامہ جنگ کے مطابق کاشانہ سکینڈل میں انسپکشن ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی، رپورٹ کے مطابق کسی بچی سے زیادتی یا بچیوں کو کہیں بھجوانے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔چیئرمین سی ایم آئی ٹی ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کے سابق صوبائی وزیر پر لگائے گئے کئی الزامات کی تحقیقات کی لیکن الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

واضح رہے کہ کاشانہ شیلٹر ہوم کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کا کہن تھا کہ دارالامان کی بچیوں کو زبردستی شادیاں کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس میں کاشانہ کا عملہ بھی ملوث ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عدالت بچیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی انکوائری کے لیے کمیشن بنائے، جو کم از کم لاہور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل ہو۔افشاں لطیف نے سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ گیارہ جولائی کو صوبائی وزیر نے ان کے دفتر کا اچانک دورہ کیا، ان کی کرسی پر بیٹھ گئے پھر لڑکیوں کے کمرے میں جا کر ان سے تنہائی میں ملاقاتیں کرتے رہے اور بعد میں مجھے ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو ان کا تبادلہ کر دیا جائے گا۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070314?fbclid=IwAR1qqGJQ6Nt3UM-tR5twVEsp_BTjLRiSikM57DEW0NnX4lGXJTr7Ut3r6Ww

کراچی (ڈیل پاکستان آن لائن)نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ اورلاہورہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں ،درخواست میں وفاق،چیئرمین نیب،وزارت قانون اوردیگرفریق بنایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آرٹیکل 25 کےخلاف ہے،آرڈیننس وزرااورسرکاری افسران کی کرپشن کوتحفظ دینے کی کوشش،آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظرمیں برابرہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب ترمیمی آرڈیننس فوری معطل کرنےکاحکم دے،درخواست میں وفاق،چیئرمین نیب،وزارت قانون اوردیگرفریق بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب لاہورہائیکورٹ میں درخواست گزارایڈووکیٹ اشتیاق چودھری نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس آئین اورقانون کے منافی ہے ،نیب قوانین میں ترمیم سے وائٹ کالر مجرموں کو فائدہ ہوگا ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی اورکالعدم قراردیاجائے ۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کردیے جس کے بعد نیب کا نیا ترمیمی آرڈیننس نافذالعمل ہو گیا۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے بذریعہ سمری سرکولیشن قومی احتساب بیورو ترمیمی آرڈیننس 2019 کی منظوری دی تھی۔آرڈیننس کے مطابق محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا، ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی جن کے خلاف نقائص سے فائدہ اٹھانے کے شواہد ہوں گے۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمد نہیں کیا جا سکے گا اور اگر تین ماہ میں نیب تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہوگا مگر سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کارروائی ہو سکے گی۔اس کے علاوہ نیب 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن اور اسکینڈل پر کارروائی کر سکے گا۔ترمیمی آرڈیننس کے مطابق ٹیکس، اسٹاک ایکسچینج، آئی پی اوز سے متعلق معاملات میں نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوگیا، ان تمام معاملات پر ایف بی آر، ایس ای سی پی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کارروائی کریں گی گے۔علاوہ ازیں زمین کی قیمت کے تعین کے لیے ایف بی آر یا ڈسٹرکٹ کلکٹر کے طے کردہ ریٹس سے نیب، کارروائی کے لیے رہنمائی لے گا۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070287?fbclid=IwAR1OJGFZirZwZmafluqLvTBeSAX
sIk0gfcXT_KkHvcwclH1q12HwVoyEV_s



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-28&edition=KCH&id=4969263_44842277


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107049148&Issue=NP_PEW&Date=20191228



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107048245&Issue=NP_PEW&Date=20191228


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107048232&Issue=NP_PEW&Date=20191228


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107048228&Issue=NP_PEW&Date=20191228


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107049104&Issue=NP_PEW&Date=20191228



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107049095&Issue=NP_PEW&Date=20191228



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107049082&Issue=NP_PEW&Date=20191228


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P9-ISB-024.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P9-ISB-000001.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P9-ISB-002.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P9-ISB-022.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P8-ISB-023.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P8-ISB-030.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P8-ISB-043.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P6-Isb-006.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/P8-ISB-029.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/p2-isb004.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p9-lhr003.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p9-lhr028.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/28122019/p2-isb004.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/P8-Lhr-023.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/P8-Lhr-011.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/P8-Lhr-037.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/P6-Lhr-020.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/P6-Lhr-019.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/P6-Lhr-012.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p2-lhr021.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p1-lhr049.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p1-lhr035.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p1-lhr010.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/28122019/p1-lhr012.jpg



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-27&edition=KCH&id=4967529_28071307



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-27&edition=KCH&id=4967506_70834040


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107045735&Issue=NP_PEW&Date=20191227



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107047013&Issue=NP_PEW&Date=20191227


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107047014&Issue=NP_PEW&Date=20191227




https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107047015&Issue=NP_PEW&Date=20191227


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P6-Lhr-037.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P6-Lhr-029.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P6-Lhr-022.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P6-Lhr-026.jpg




https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P8-Lhr-018.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P1-Lhr-034.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/27122019/p2-isb-005.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/27122019/p2-isb-006.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/27122019/p6-isb-016.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/27122019/P8-ISB--(44).jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/27122019/p9-isb-013.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/27122019/p9-isb-031.jpg



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107046865&Issue=NP_PEW&Date=20191227



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107045708&Issue=NP_PEW&Date=20191227



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107045721&Issue=NP_PEW&Date=20191227


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107046992&Issue=NP_PEW&Date=20191227



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107047012&Issue=NP_PEW&Date=20191227


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P1-Lhr-034.jpg

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی کابینہ نے ایک آرڈیننس کے ذریعے نیب کے اختیارات کو محدود کردیا۔ نیب آرڈیننس 2019 کی منظوری کے بعد نیب نہ تو کاروباری افراد کے خلاف کارروائی کرسکے گا اور نہ ہی سرکاری ملازمین کو گرفتار کرسکے گا۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے نیب آرڈیننس کی منظوری وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کراچی سے پہلے دی گئی ہے۔ کاروباری افراد کی جانب سے نیب کی کارروائیوں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جارہا تھا ۔ سابق دور حکومت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی کراچی کے تاجروں نے نیب کی شکایت کی تھی جس پر انہوں نے کہاتھا کہ وہ نیب کے پر کتر دیں گے، نواز شریف تو اپنے دور میں یہ کام نہ کرسکے البتہ عمران خان نے یہ کام کر دکھایا ہے۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کیے جانے والے آرڈیننس کو نیب آرڈیننس 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ نئے آرڈیننس کی منظوری کے بعد نیب کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ سرکاری حکام کے خلاف کارروائی کرسکے ، نیب کو سرکاری حکام کی پراپرٹی سیل کرنے کیلئے عدالت کی اجازت درکار ہوگی۔ اگر ملزم کے خلاف نیب 3 ماہ میں تحقیقات مکمل نہیں کرسکے گا تو ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا جائے گا۔

ئے آرڈیننس کے بعد نیب صرف ان کیسز کی تحقیقات کرسکے گا جن میں کرپشن کی مالیت 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگی ۔ علاوہ ازیں نیب کو ٹیکس ، سٹاک ایکسچینج اور آئی پی اوز کے معاملات سے بھی علیحدہ کردیا گیا ہے ، ان معاملات کی تحقیقات فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کے سپرد کردی گئی ہیں۔ آرڈیننس کے مطابق زمین ایویلیو ایشن کے معاملے میں نیب کا ادارہ ایف بی آر یا ضلعی کلیکٹر سے ہدایات کا پابند ہوگا۔

نیب آرڈیننس 2019 کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے کراچی سٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب میں بھی اس بارے میں بات کی تھی۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بزنس کمیونٹی کو نیب کا خوف تھا لیکن اب ہم نے آرڈیننس نکالا ہے جس کے تحت کاروباری طبقے کو نیب سے آزاد کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نیب پبلک آفس ہولڈرز کے حوالے سے کام کرے کیونکہ کاروباری افراد کو دیکھنے کیلئے باقی ادارے موجود ہیں جس طرح ٹیکس کے معاملات کیلئے ایف بی آر کا ادارہ کام کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’ میرے یہاں کچھ دوست یہاں بیٹھے ہیں جن پر نیب کے کیسز تھے، ان کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ ہم نے نیب کو بزنس کیمونٹی سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، نیب اب آپ کو کچھ نہیں کہے گی، آپ کو مبارک دیتا ہوں، آج ہی ہم نے نیب آرڈی نینس جاری کر دیا ہے۔‘

https://dailypakistan.com.pk/27-Dec-2019/1069872?fbclid=IwAR3wHRd9ZHWjxXwMQYxW5XCU
7jFBZL0lIKOvUNBoE8-wZxKFdheUdTKOE7E

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم ایم عالم روڈ پر واقع کیفے ایلانتو سے شراب برآمدگی کے معاملے میں پولیس نے 3 ویٹروں کو مجرم قرار دے دیا۔

7 ستمبر کو ایم ایم عالم روڈ پر واقع کیفے ایلانتو پر پولیس اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے مشترکہ چھاپہ مار کر شراب برآمد کی تھی۔ اس کیس میں پولیس نے 3 ویٹروں کو قصور وار قرار دینے کے بعد فائل داخل دفتر کردی۔ اس کیس کی وجہ سے گلبرگ سرکل کے اے ایس پی عبدالوہاب اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اافیسر مسعود بشیر وڑائچ کو معطل کیا گیا تھا تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ چھاپہ مارنے والے ان افسران نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ ان کو سیاسی بنیادوں پر ٹرانسفر کیا گیا تھا۔

کیس کے تفتیشی افسر محمد ذوالقرنین نے بتایا کہ کیفے ایلانتو کیس میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد تین ویٹروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی ہے۔

انگریزی روزنامے ڈان نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری افسران کے خلاف کارروائی اسلام آباد میں ایوان اقتدار کی طاقتور شخصیات نے کی، دونوں افسران کے خلاف کارروائی کیلئے نہ تو کوئی ثبوت موجود تھے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی انکوائری کی گئی تھی۔

https://dailypakistan.com.pk/27-Dec-2019/1069873?fbclid=IwAR3FguW1rYStK45PcIdYyQP3km
rXCClxJxNM0dFklv9xEHhCIvsC8OXFB6E

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے نیب کو کاروباری افراد کے خلاف کارروائیوں سے روک دیا ہے۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بزنس کمیونٹی کو نیب سے خلاصی کی نوید سنائی۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بزنس کمیونٹی کو نیب کا خوف تھا لیکن اب ہم نے آرڈیننس نکالا ہے جس کے تحت کاروباری طبقے کو نیب سے آزاد کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نیب پبلک آفس ہولڈرز کے حوالے سے کام کرے کیونکہ کاروباری افراد کو دیکھنے کیلئے باقی ادارے موجود ہیں جس طرح ٹیکس کے معاملات کیلئے ایف بی آر کا ادارہ کام کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’ میرے یہاں کچھ دوست یہاں بیٹھے ہیں جن پر نیب کے کیسز تھے، ان کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ ہم نے نیب کو بزنس کیمونٹی سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، نیب اب آپ کو کچھ نہیں کہے گی، آپ کو مبارک دیتا ہوں، آج ہی ہم نے نیب آرڈی نینس جاری کر دیا ہے۔‘

https://dailypakistan.com.pk/27-Dec-2019/1069860?fbclid=IwAR1sDZltH04JleELT0RLQyVFazr
VwM4y6ibEiY0ar_O8M78y6ZAjAqGThWo

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہاہے کہ حکومت وفاقی کابینہ کی جانب سے 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کر کے قوم کو گمراہ کر رہی ہے ۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ وزارت قومی صحت 24 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کرکے قوم کو گمراہ کررہی ہے۔ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم نے کا کہنا ہے کہ یہ 6 ماہ پرانا فیصلہ تھا جس کا اعلان وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد دوبارہ کیا گیا۔اس حوالے سے پی ایم اے نے وزارت قومی صحت سے جاری 19 جون کا ایک نوٹی فکیشن بھی شیئر کیا جس میں ادویات ساز کمپنیوں کو 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی کی ہدایت کی گئی تھی۔

تاہم وزارت قومی صحت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 6 ماہ قبل ادویات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق صرف ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی اور اب آخر کار حکومت نے قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا۔واضح رہے کہ 24 دسمبر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی کابینہ نے 89 ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے جاری ایک بیان میں پی ایم اے نے کہا کہ انہیں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی جانب سے کابینہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے 89 ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد تک کمی کے نوٹی فکیشن سے متعلق جان کر دھچکا لگا تھا۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 19 جون کو ایسا ہی نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا جس پرعملدرآمد نہیں ہوا تھا۔پی ایم اے نے مزید کہا کہ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ کئی ضروری ادویات یا تو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں یا ان کی فراہمی میں کمی

https://dailypakistan.com.pk/27-Dec-2019/1069827?fbclid=IwAR27FWNi3ATpsdelh5ulCFLP
Xn3CjAdsLXtwWeIW3uI8iSgMJVT2MA95a-c

جہلم (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والے مظاہروں سے توجہ ہٹانے کیلئے بارڈر پر حالات خراب کیے گئے ہیں، بھارت کے لوگ مودی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ظلم کو نظام ختم کردیں گے، کرپٹ مافیا اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان میں 2019 مشکل سال تھا لیکن 2020 خوشحالی، ترقی اور نوکریاں دینے کا سال ہوگا۔

پنڈ دادنخان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا، نریندر مودی ہندوستان میں وہ کر رہا ہے جو جرمنی میں ہٹلر نے کیا تھا،اس نے 80 لاکھ کشمیرکےلوگوں کو جیل میں ڈال رکھا ہے،نریندرمودی نے کشمیر کی ساری قیادت کو جیلوں میں بند کیا ہوا ہے، جو بارڈر پر ہورہاہے، ایسے ہی نہیں ہورہا، نریندر مودی کے خلاف آج بھارت بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں، اب بھارت کے لوگ نریندر مودی کے ظلم کیخلاف کھڑے ہوں گے اور جب بھارت کے لوگ نریندر مودی کیخلاف کھڑے ہونگے تو ظلم کے نظام کو ختم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مافیاز ہر جگہ ہوتے ہیں ،ہر کوئی اصلاحات کیوں نہیں کرسکتا کیونکہ راستے میں مافیاز کھڑے ہوتے ہیں ، جب آپ تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو راستے میں مافیا کھڑے ہوتے ہیں، یہ مافیا کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہاہوتا ہے،اس مافیا کو ڈر ہے کہ اگر حکومت کامیاب ہوگئی تو یہ جیل میں جائیں گے، سیاستدانوں کا مافیا ہر روز حکومت کو برا بھلا کہتا ہے ۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چین نے 450 وزرا کو کرپشن پر جیلوں میں ڈالا، امریکا میں 30،30 سال بعد بھی لوگوں کو کرپشن میں پکڑا جاتاہے، جب تک معاشرے میں کرپشن ختم نہیں ہوتی وہاں ترقی نہیں ہوتی،جس ملک میں کرپشن ہوتی ہے وہاں کے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں، کرپشن ملک میں میرٹ کو تباہ کردیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپٹ معاشرے میں سرمایہ کاری نہیں ہوتی ، ادارے تباہ ہوجاتے ہیں ،یہ کنٹینر پر کھڑے ہر کر شور مچا رہے تھے ، جتنا بڑا ڈاکو اتنا زیادہ شورتھا، ان کرپٹ لوگوں سے ذاتی دشمنی نہیں،ہم اپنے ملک کو اوپر دیکھنا چاہتے ہیں،کرپٹ لوگوں کی وجہ سے آج ملک مقروض ہوا ہے ۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اصلاحات مشکل ہوتی ہیں، تبدیلی آسان نہیں ہوتی ،جب اصلاحات ہوتی ہیں تو مشکل وقت سے گزرنا پڑتاہے، جب وزیراعظم بنا تو پوری قوم سے کہا آپ نے گھبرانا نہیں ہے،2019مشکل وقت تھا،2020 اس ملک کے آگے بڑھنے کا وقت ہے، 2020 وہ سال ہوگا جس میں یہ ملک ترقی کرے گا اور خوشحالی آئے گی، یہ ہماری ترقی اورنوکریاں دینے کا سال ہے۔2020 میں آپ کو اور بہتر تبدیلی نظر آئے گی،مافیا جو کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہاتھا یہ 2020 کا سال ان کیلئے برا وقت ہوگا۔

https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069385?fbclid=IwAR2HFMFdo2C1oC6r2gce
PKMvOWBHxpGGnzwLLRJOUxqGKgEURLDyC13Pznc


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P1-Lhr-019.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/27122019/P1-Lhr-036.jpg

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ابرار الحق کو بڑی خوش خبری مل گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابرار الحق کی بطور چیئرمین ہلال احمر پاکستان تعیناتی کی درخواست خارج کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کودرس قرار دے دیا۔ابرار الحق کی تعیناتی کیخلاف سٹے آرڈر بھی خارج کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ڈاکٹر سعید الہٰی نے ابرار الحق کی تعیناتی کیخلاف درخواست دائر کی تھی جسے اب مسترد کردیاگیاہے۔

اس سے قبل اسلام آبادہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما ابرارالحق کی چیئرمین ہلال احمر تعیناتی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے ڈاکٹر سعید الٰہی کی درخواست پر سماعت کی تھی اور فریقین کے وکلاکو سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔

https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069360?fbclid=IwAR3Pkqeby092VQDJylaXOm9vNvPp
SJLFFRDKYFh0xk2FtJLXG9TIQnktZWc



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-26&edition=KCH&id=4965496_90345020



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-26&edition=KCH&id=4965467_55118117



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-26&edition=KCH&id=4965131_95637209


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107044314&Issue=NP_PEW&Date=20191226



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107042377&Issue=NP_PEW&Date=20191226


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107044266&Issue=NP_PEW&Date=20191226



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/26122019/p6-isb-030.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/26122019/p9-isb-011.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/26122019/p9-isb-001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/26122019/p6-isb-025.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/26122019/p2-isb-026.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/26122019/p2-isb-016.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P8-Lhr-038.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P6-Lhr-012.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P6-Lhr-019.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P6-Lhr-021.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P6-Lhr-024.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P6-Lhr-027.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P8-Lhr-016.jpg
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم وصول کرنے والے 6لاکھ سے لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تجویز کی توثیق کر دی ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 51 لاکھ غریب خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ کابینہ کی کمیٹی برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ نے اجلاس میں بتایا کہ 2010-11 میں پروگرام کے آغاز پر شادی شدہ خواتین سمیت دو کروڑ 70 لاکھ افراد کو تخفیف غربت کی خاطر رجسٹر کیا گیا تھا۔کابینہ ارکان کو آگاہ کیا گیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ امداد وصول کرنے والے خاندانوں کی سماجی اور معاشی حالت بہتر ہوئی ہے۔

تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی کمیٹی نے بتایا کہ نادرا نے بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت مالی امداد لینے والے خاندانوں کا تجزیہ درج ذیل معلومات کو بنیاد بنا کر کیا ہے۔مالی امداد وصول کرنے والی خواتین یا ان کے شریک حیات کی بیرون ملک سفر کرنے کی تفصیل، ان کے نام پر گاڑیوں کی تفصیل، 6 ماہ کے پی ٹی سی ایل بل کی معلومات(نسبتا 1000 ہر ماہ)، چھ ماہ کا موبائل فون کا خرچ(نسبتاََ 1000 ہر ماہ)۔ایگزیکٹو پروسیسنگ کے ذریعے پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی معلومات( کنبے کے تین یا اس سے زیادہ افراد)۔ کمیٹی نے بتایا کہ پاکستان میں کم سے کم 625592 افراد پر درج بالا شرائط لاگو ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق کنٹرولر جنرل اکاؤنٹ اور نادرا سے بھی امداد لینے والے ان افراد کا بھی پتا چلایا گیا جن کے خاندان کے افراد وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، ریلوے، پاکستان پوسٹ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ملازمت کرتے ہیں۔کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب میں امداد لینے والے ایسے افراد کی معلومات بھی جمع کی جا رہی ہے جو کم سے کم 12 ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔

تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی کمیٹی کی سربراہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں پانچ سو روپے اضافے کا نوٹیفکیشن بھی موصول نہیں ہوا۔

https://dailypakistan.com.pk/24-Dec-2019/1068536?fbclid=IwAR1J2i518Hz5ILOFIfxUayz4ACZY
vk8QZZ8sPaA8qHlOszXJPGkvt5Og4tA



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/P6-LHE-013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/p1-lhr009.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/P6-LHE-015.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/P6-LHE-019.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/25122019/p6-isb-006.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/24122019/p9-isb-023.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/24122019/P8-ISB-057.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/24122019/p9-isb-025.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/24122019/p2-isb-002.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/24122019/P8-ISB-036.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/24122019/p6-isb-006.jpg



https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107036699&Issue=NP_PEW&Date=20191224



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/p1-lhr020.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/p1-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/p1-lhr035.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/P8-Lhr-042.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/P6-Lhr-036.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/P6-Lhr-044.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/24122019/P6-Lhr-040.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/23122019/P8-ISB-008.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/23122019/P8-ISB-040.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/23122019/p2-isb022.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/23122019/P6-ISB-001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/23122019/p2-isb015.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/23122019/p2-isb025.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/P6-Lhr-001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/P6-Lhr-024.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/P6-Lhr-016.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/P6-Lhr-025.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/P6-Lhr-018.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/p2-lhr012.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/p2-lhr013.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/p2-lhr002.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/23122019/p1-lhr009.jpg



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-23&edition=KCH&id=4960731_54855639



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-23&edition=KCH&id=4960720_2195349

No comments:

Post a Comment