نواز لیگ کی کرپشن : اسلام آباد ائرپورٹ کرپشن ، کسٹم کرپشن ، رانا ثنا اللہ کیس ، نواز اور شہباز کرپشن کیس ، خواجہ سلمان کیس ، ایل ڈی اے کی واردات ، محکمہ داخلہ آڈٹ رپورٹ ، بجلی منصوبے کرپشن ، قبضہ مافیا ، کاشانہ کرپشن ، شاہد خاقان کیس ، میاں رضا کیس ، رنگ روڈ کرپشن ، مریم نواز ، اورنج ٹرین کرپشن ، احسن اقبال کیس ، تاجر مافیا - The News Cloud Online

STAY WITH US

test banner

Breaking

Friday, 10 January 2020

نواز لیگ کی کرپشن : اسلام آباد ائرپورٹ کرپشن ، کسٹم کرپشن ، رانا ثنا اللہ کیس ، نواز اور شہباز کرپشن کیس ، خواجہ سلمان کیس ، ایل ڈی اے کی واردات ، محکمہ داخلہ آڈٹ رپورٹ ، بجلی منصوبے کرپشن ، قبضہ مافیا ، کاشانہ کرپشن ، شاہد خاقان کیس ، میاں رضا کیس ، رنگ روڈ کرپشن ، مریم نواز ، اورنج ٹرین کرپشن ، احسن اقبال کیس ، تاجر مافیا




کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں فلائٹس کی تاخیر اور مسافروں کو سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس پر چیف جسٹس نے سول ایوی ایشن کے حکام کی سرزنش کی۔انہوں نے کہا ایئرپورٹس ملک کیلئے خطرناک جگہ ہے،اسلام آباد ائیر پورٹ کی تعمیر جس طرح ہوئی ہے وہ کسی بھی دن گرجائے گا۔انہوں نے کہا ایئرپورٹس سب سے خطرناک جگہ بن چکی ہے،منشیات اور پیسہ نکلتا ہے لیکن کوئی ریکارڈنگ نہیں کی جاتی ، ریکارڈنگ اس لئے نہیں کی جاتی کیونکہ ڈیل کی جاتی ہے۔ کرنسی اور منشیات برآمد ہوتی ہے کوئی فوٹیج نہیں بنتی۔ائیر پورٹ ریکٹ ہے دنیا بھر کا اسلحہ تک آتا ہے۔سارے ملک کا مستقبل وہاں پر ہی طے ہورہاہے ۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے بتایاکہ ایک کیس میں اے ایس ایف کے پاس فوٹیج تھی پیش نہیں کی اس لئے ہم نے ملزم بری کیا ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مسافروں سے نارواسلوک کے معاملے پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسارکیا کہ سول ایوی ایشن کی طرف سے کون ہے ؟ جس پرسول ایوی ایشن کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ڈائریکٹر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے کہاجی بتائیے گا کیا اقدامات کے ہیں آپ نے ؟اگرفلائٹ تاخیرکاشکارہوتی ہے توکوئی جگہ ہے مسافروں کو ٹھہرانے کی؟آئے دن فلائٹیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں کیا کرتے ہیں؟۔ سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹرنے کہافلائٹ تاخیرکاشکارہونے پرمتعلقہ ائیرلائن ذمہ دارہوتی ہے، اصلاحات کررہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں مت بتائیں کہ اصلاحات کررہے ہیں۔ا

آپ نے کچھ نہیں کیاآپ کو پتہ ہی نہیں ہے کچھ ،کون ہے کون جواب دے گاآپ کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے ۔فلائٹیں تاخیرکاشکارہوتی ہیں،مسافروں کےساتھ کیاہوتاہے،چیف جسٹس نے کہااتنی بات آپ کو سمجھ نہیں آرہی آپ کیا ڈائریکٹر بنیں گے۔

چیف جسٹس نے کہااسلام آباد ائیر پورٹ کی کنسٹرکشن جس طرح ہوئی کسی بھی دن گر جائے گا۔حکومت دس باراس کی قیمت ادا کرچکی ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/10-Jan-2020/1076291?fbclid=IwAR3fg5_hIqihLOPbo2CMDK
N4N853EeycuMTyubBQ1XOLOZ64V5IUgKTMdBw



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/10012020/p1-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/10012020/P8-ISB-022.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/01012020/p1-lhr005.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/01012020/P8-Lhr-057.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2020/01/02012020/P8-ISB-015.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/03012020/P8-Lhr-035.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/06012020/p1-lhr034.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2020/01/06012020/P9-LHR002.jpg


https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/31122019/P1-Isb-044.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/31122019/p1-lhr006.jpg

سرگودھا (ڈیلی پاکستان آن لائن) سکاٹ لینڈ میں مقیم پاکستانی نژاد فیملی کے مکان پر قبضہ کرنے کے الزام میں مسلم لیگ ن اقلیتی ونگ پنجاب کے عہدیدار اور معروف سماجی وسیاسی شخصیت مشتاق گل کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

تھانہ کینٹ پولیس کے مطابق مشتاق گل پر الزام ہے کہ انہوں نے سرگودھا رحمت پارک کرسچن کالونی میں واقع ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر منسی برنارڈ کا گھر خریدنے کے لئے دو لاکھ بیعانہ دیا جبکہ ان کے پاکستان سے سکاٹ لینڈ منتقل ہونے کے بعد باقی رقم ادا کئے بغیر ہی ان کے خالی گھر پر ناجائز قبضہ کرلیا ۔

مالک مکان منسی برنارڈ کے با رہا کہنے کے باوجود مشتاق گل بقیہ رقم کی ادائیگی پر آمادہ نہ ہوا اور نہ گھر کا قبضہ چھوڑا جس پر متاثرہ فیملی کی طرف سے پولیس کو دی جانے والی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مشتاق گل کو گرفتار کرلیا۔

https://dailypakistan.com.pk/30-Dec-2019/1071232?fbclid=IwAR3o4AGwsLmU6fBRb8W4hs
8nUza20eVTxYLtAOviAgMr-6tpclXcVVMxZEo



https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-30&edition=KCH&id=4972744_67138639


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107053155&Issue=NP_PEW&Date=20191229

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنمااو رسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا نجی ہسپتال میں پتے کا کامیاب آپریشن ہوا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی کاآپریشن اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں کیا گیا،شاہدخاقان عباسی کو اِن کے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔خاندانی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم سے ان کے اہلخانہ نے ملاقات بھی کی۔ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو آئندہ جمعہ تک ہسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔ذرائع کے مطابق جمعہ کومعائنے کے بعد شاہد خاقان کوڈسچارج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

https://dailypakistan.com.pk/28-Dec-2019/1070354?fbclid=IwAR0xQNQv4jGPH1gMQZpjVS
6x_CiuyDl3CdgtN_53IiPfkckWzc7dfJg6dHY

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹریٹ 180 ایچ کے بعد میاں میر میں واقع لیگی عہدیدار میاں رضا کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا۔جج ارشد ملک ویڈیو سیکنڈل میں نیا موڑ سامنے آ گیا۔ ہم نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے علاقہ پولیس کی مدد سے میاں رضا کے ڈیرے پر چھاپہ جج ارشد ملک کیس میں تفتیش کے سلسلہ میں مارا۔قانونی مشیر محمد مظاہر نے کہا کہ مجھے برطانیہ سے میاں رضا اور ان کی اہلیہ نے فون پر چھاپے سے متعلق آگاہ کیا۔ جس کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے پر مجھے بیرونی اور اندرونی تالے ٹوٹے ہوئے ملے۔انہوں نے کہا کہ میاں رضا کی رہائش گاہ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ، کمپیوٹر اور دیگر دستاویزات غائب ہیں۔

پولیٹیکل سیکرٹریٹ سمیت رہائشی کمروں کے تالے بھی توڑ کر ریکارڈ اور ضروری سامان سیکیورٹی ادارے کے اہلکار لے گئے ہیں۔محمد مظاہر نے کہا کہ جج ارشد ملک کیس کے ساتھ میرے کلائنٹ میاں رضا اور ان کی اہلیہ سلمٰی رضا کو جوڑا جا رہا ہے جبکہ ہمیں اس کارروائی سے متعلق کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا لیکن نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف بیان دینے کے لیے میرے کلائنٹ کو ماضی میں فون کالز موصول ہوتی رہی ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/27-Dec-2019/1069801?fbclid=IwAR23hZIL4vanGOd2liYIazb6cVMW
ifLzIuAlpGN9LHg5oDrlY4-x-sf-kR0

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہاہے کہ راناثناءاللہ کی ضمانت سے اے این ایف کی تضحیک نہیں ہوئی جس طرح یہ نالائقی سے یہ کیس چلا ، اگر راناثناءاللہ واقعی ملزم ہوتے تو رانا ثناءاللہ نے چھوٹ جاناتھا ۔

جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگوکرتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہاہے کہ راناثناءاللہ کی ضمانت سے اے این ایف کی تضحیک نہیں ہوئی جس طرح یہ نالائقی سے یہ کیس چلا ، اگر راناثناءاللہ واقعی ملزم ہوتے تو رانا ثناءاللہ نے چھوٹ جاناتھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان نالائقیاں ہیں کہ میڈیا پر توبڑی باتیں کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ان سے کچھ نہیں ہوتا ۔

ارشاد بھٹی کا کہناتھا کہ اگر یہ وقوعہ جھوٹاہے تو پھرلگتاہے کہ یہ سیاسی تاثر ہے اور اس کیس سے سیاست کی بو آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس ہی کمزور بنایا گیاہے اور پھراس میں تضادات بھی نظر آرہے ہیں۔

https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069411?fbclid=IwAR2jpCW84lnaxhYm7jT_bE7w4
Xr2MScn7olIlvAotZPSPDxC4-cr_bmoeMY

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف ) حکام کا کہنا ہے کہ وہ رانا ثناءاللہ کی ضمانت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس رانا ثناءاللہ کی نگرانی کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے، بعض مقدمات میں وہ ملزمان کی ویڈیو بنالیتے ہیں لیکن ایسی ویڈیوز کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔

اے این ایف حکام نے جمعرات کے روز سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ رانا ثناءاللہ کیس کے سلسلے میں ملاقات کی تھی ۔ اے این ایف حکام کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے بتایا کہ رانا ثناءاللہ کے کیس میں اے این ایف حکام ہائیکورٹ کے فیصلے سے مایوس ہیں اس لیے انہوں نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس قانون کے سیکشن 29 کے تحت بارِ ثبوت ملزم پر ہوتا ہے ، اسی طرح ایک ایسا جرم جس میں ملزم کو سزائے موت مل سکتی ہے تو اس کیس میں ضمانت نہیں ہوسکتی، انہی باتوں کو بنیاد بنا کر اے این ایف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔

صحافیوں سے گفتگو میں اے این ایف حکام سے جب شہریار آفریدی کے اس دعویٰ سے متعلق سوال پوچھا گیا جس میں انہوں نے پورے نیٹ ورک کی بات کی تھی تو اے این ایف حکام نے خود کو اس بیان سے دور کرلیا۔ حکام نے کہا کہ ان کے قانون میں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ کسی شخص کے پاس سے منشیات برآمد ہوگئی ہوں تو اس کی مزید انکوائری کرنی ہے، سیکشن 6 اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو مرکزی ملزم ہے، باقی ملزمان پر یہ لاگو نہیں ہوتا، یہ کیس فردِ واحد کے خلاف تھا اسی لیے انہوں نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست نہیں کی تھی اور نہ ہی دوسری ملزمان کی ضمانتوں کو چیلنج کیا تھا۔

اے این ایف حکام نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے رانا ثناءاللہ کے کیس میں کبھی کسی ملکی یا غیر ملکی نیٹ ورک کا دعویٰ نہیں کیا، ان کی تحقیقات کا دائرہ کار صرف رانا ثناءاللہ تک محدود ہے۔وہ 161 کے بیان کے تحت یہ مان چکے ہیں کہ منشیات ان کی تھیں، 164 کے بیان میں رانا ثناءاللہ نے اعتراف نہیں کیا۔

اینکر پرسن شہزاد اقبال کے مطابق اے این ایف حکام نے شہریار آفریدی کی بہت سی باتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسی سرویلنس ویڈیو نہیں ہے جس کو بطور ثبوت پیش کرسکیں ، نہ ہی انہوں نے چالان میں رکھا ہے اور نہ ہی اس کو عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ’مختلف ملزمان کو پکڑنے کیلئے ہم کئی طرح کے طریقے اپناتے ہیں ، بعض اوقات ہم ایسی ویڈیو بنا بھی لیتے ہیں لیکن اس کو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔‘

شہریار آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناءاللہ کے خلاف ثبوت وزیر اعظم کو بھی دکھا دیے گئے ہیں، اس بارے میں اے این ایف حکام نے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ ملزم کے خلاف ثبوت وزیر اعظم کو دکھائے جائیں، نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ ثبوت جا کر وزیر اعظم کو دکھائے جائیں۔

https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069440?fbclid=IwAR1-d9jsHh5e0TGlc7QvQ9qkGEf-hKmENE2EGu8dhveAFeF-eAL3WH7_ySQ



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/26122019/P1-LHR004.jpg

لاہور (ویب ڈیسک )مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کی منشیات برآمدگی کیس کے حوالے سے انسداد منشیات فورس کا کہنا ہے کہ ساری شہادتیں عدالت میں موجود ہیں لہٰذا اب ملزم پر ذمہ داری ہے وہ اس بارے میں جواب دے۔

اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں قانونی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف پراسیکیوٹر اے این ایف کا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللہ کے حوالے سے حقائق مکمل طور پر میڈیا پر نہیں آرہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2019 کو رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس کے بعد ہم نے تاخیر کے بغیر 23 جولائی کو چالان جمع کروایا، گواہوں کے بیانات، برآمدگی اور کیمیکل ایگزامنرکی رپورٹ سمیت ساری شہادتیں عدالت میں موجود ہیں، اب ملزم پر ذمہ داری ہے کہ وہ اس بارے میں جواب دے۔

چیف پراسیکیوٹر اے این ایف کا کہنا تھا کہ یہ کیس میڈیا پر اجاگر ہوگیا لیکن پراسیکیوشن کو نہیں سنا گیا، تاثر دیا گیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے تاخیرکی گئی جو غلط ہے،کیس سے متعلق ہم شہادت دیں گے لیکن صحیح وقت پردیں گے۔اے این ایف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم نے وقت پر سارا عمل مکمل کیا، اب تک 16 تاریخیں ملی ہیں، ہم نے عدالت سے استدعا کی آپ روزانہ کی بنیاد پر کیس کو سنیں، 21 دسمبر کو ہڑتال چل رہی تھی اور اسی دن ملزم نے ایک اور درخواست دے دی۔

https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069317?fbclid=IwAR0kOGXU0tPvR4DHe-0H8xu1CFv_C68qcx52s03DcoPjFld4zTV6_SRaB-w

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب کے سابق وزیر قانون راناثنااللہ کی ضمانت پرلاہور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے نے حکومت کو بے نقاب کردیا۔نو صفحات پر مشتمل فیصلے کو جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے جاری کیاہے۔ فیصلے میں لکھاگیاہے کہ رانا ثناءاللہ کے شریک ملزم کی ٹرائل کورٹ میں ضمانت ہو چکی ہے،استغاثہ نے شریک ملزموں کی ضمانت منظوری کو ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔فیصلے میں یہ بھی لکھاگیاہے کہ رانا ثناءاللہ پر15کلو ہیروئن رکھنے کا مقدمہ بنایا گیا،رانا ثنا اللہ پرمنشیات کی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے کا الزام لگایا گیالیکن ٹیسٹنگ کیلئے صرف بیس گرام ہیروئن بھجوائی گئی۔حکام نے ان کی گرفتاری کے بعد ان کاریمانڈ نہیں لیا بلکہ انہیں جیل بھیجنے کی درخواست کی۔فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں دیگر لوگ بھی نامزد تھے جنہوں نے ضمانت قبل ازگرفتاریاں لیں لیکن پراسیکیوشن نے ان کی ضمانتوں کی درخواستوں کی مخالفت نہیں کی۔

فیصلے کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کیلئے اکیس لوگوں کو بھیجا گیا پھر بھی موقع پر رپورٹ بنا نے کے بجائے تھانے جاکررپورٹ بنائی اور یہ موقف اختیار کیاکہ وہاں لوگ جمع ہورہے تھے اس لئے تھانے لے جاکر رپورٹ بنائی۔

جسٹس چوہدری مشتاق احمدنے لکھا کہ مندرجہ بالا ڈکسشن کے تناظر میں درخواست ضمانت دس دس لاکھ روپے کے مچکلوں کے عوض منظور کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ کل لاہور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیرکو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔جس کے بعد سے پی ٹی آئی حکومت،وزیر برائے انسداد منشیات اور اے این ایف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاجارہاہے۔

https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069350?fbclid=IwAR2H2JtbqwGQg3QfeUUr3VKtI9fv
VT8tKhReogxwAOEhkDGiqiOVKDY-eBE



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/25122019/P8-ISB-020.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/p1-lhr027.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/p1-lhr021.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/p8-lhr002.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/25122019/p8-lhr001.jpg



https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/25122019/P8-ISB-001.jpg

ISLAMABAD (Dunya News) – Anti-Narcotics Force’s (ANF) Special Prosecutor Raja Inam – following bail granted to Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) leader Rana Sanaullah in a narcotics case yesterday – asserted on Wednesday that provision of “footage” was not the requirement in the legal proceedings in the case and all evidence was submitted to the court.

He further mentioned that all statements relevant to the recovery of the heroin from the vehicle of Sanaullah were also submitted in the court.

“Statements of three witnesses were also submitted in the court […] we had filed an application for hearing the case on daily basis,” he added.

The ANF’s legal team pointed out that there were 15 witnesses in the challan submitted to the court together with the chemical examiner’s report.

Rana Sanaullah’s bail

Yesterday, the LHC granted bail to former Punjab law minister Rana Sanaullah in a narcotics case lodged after Anti-Narcotics Force (ANF) recovered 15kg heroin from his vehicle. The court also ordered Sanaullah to submit two surety bonds of Rs1 million each.

On Monday, Justice Chaudhry Mushtaq Ahmed heard the arguments on a post-arrest bail petition filed by advocate Zahid Hussain Bukhari, Ahsan Bhawan and Azam Nazir Tarrar on Sanaullah’s behalf, and Anti-Narcotics Force (ANF) Prosecutor Muhammad Irfan Malik and reserved the judgment.

Earlier, in his bail plea, Sanaullah stated that he was arrested in a false case of drugs smuggling as he used to criticise the government. He argued that he was booked for smuggling of 21 kilograms of heroin, according to an FIR lodged against him, whereas later the actual weight of the captured narcotics was declared 15 kilograms.

On Oct. 2, the PML-N leader had filed a bail petition in the LHC. The petition was, however, withdrawn the next day, to file the same at a later stage. Earlier this month, Sanullah once again approached the LHC for post-arrest bail.

A special court for Control of Narcotics Substance (CNS) had on September 20 also dismissed a bail petition by Sanaullah while releasing five co-suspects. On November 9, a CNS dismissed another bail petition of Sanaullah’s.

On Dec. 21, Anti-Narcotics Court Judge Shakir Hussain extended the judicial remand of PML-N leader Rana Sanaullah till Jan. 4 in the same case.

The court also issued notices to the investigation officer seeking a response on the application of Rana Sanaullah for provision of a video of the ministers.

On July 1, Sanaullah was arrested by the ANF after the discovery of a large stash of contraband in his vehicle from near the Sukheke area in Punjab. The next day, he was sent to jail on judicial remand by a local magistrate.

Sanaullah, who is also a member of the National Assembly (MNA) and president of the PML-N’s Punjab wing, was arrested while travelling with his guards to a meeting from Faisalabad to Lahore.

The first information report (FIR) was lodged under section 9 (C) of Control of Narcotic Substances Act 1997, which carries death penalty or life imprisonment or a jail-term that may extend to 14 years along with a fine up to Rs1 million.

https://dunyanews.tv/en/Pakistan/524830-Footage-not-a-requirement-in-Rana-Sanaullah-case-ANF

No comments:

Post a Comment