
Thanks for post picture : Pakistan Today https://images.app.goo.gl/StfzpH8CwzWJ35qW8

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/22122019/P1-LHR043.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/22122019/P1-LHR025.jpg
اسلام آباد(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے نے ترک صدر طیب ایردوان کا بیان مسترد کر دیا ہے۔ہفتے کی صبح جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پردبائو اوردھمکی سے متعلق خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے، کوالالمپورسمٹ میں شرکت کرنے پر پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات دھمکی آمیز زبان سے بالاترہیں، دونوں ممالک میں برادرانہ، اعتماد، اورباہمی احترام پرمبنی تعلقات ہیں۔سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب ہرمشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور رہے گا۔
خیال کہ کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی عدم شرکت کے بعد ترک صدر نے بیان دیا تھا کہ سعودی عرب کی دھمکی کی وجہ سے پاکستان نے شرکت نہیں کی۔بقول ترج صدر سعودی حکومت نے دھمکی دی کہ سمٹ میں شرکت کی صورت میں پاکستان سنٹرل بینک سے رقوم نکال لی جائیں گی، پاکستانی ورکرز کو واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کی جگہ بنگالی شہریوں کو ویزے دیے جائیں گے۔
ترک صدر نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں چالیس لاکھ پاکستانی ورکرز کام کرتے ہیں جنھیں کوالالمپور سمٹ میں شرکت کی صورت میں نکالنے اور ان کی جگہ بنگلہ دیشی ورکرز کو لانے کی دھمکی دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے دباو¿ ڈالنا کوئی پہلی دفعہ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/21-Dec-2019/1067038?fbclid=IwAR2RgC2lOn4urW9mbM3c4Ad-Q0Eezsy-zE0YSy6ZTUnU70LwOfd0uI_jrGU
اسلام آباد(ویب ڈیسک) کوالالمپور سمٹ 2019 کو تصحیح شدہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق پاکستان بھی مجوزہ ٹی وی چینل منصوبے کا حصہ ہوگا۔ ہم نیوز کے مطابق سمٹ کے ابتدائی اعلامیے میں پاکستان کا ذکر کیے بغیر لکھا گیا تھا ٹی وی چینل منصوبے میں ملائیشیا، ترکی اور قطر شامل ہوں گے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2019 میں پاکستان، ترکی اور ملائیشیا نے انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان نے کہا تھا چینل کے ذریعے مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا جبکہ ٹی وی چینل اسلاموفوبیا کا بھی مقابلہ کرے گا۔یاد رہے کہ کوالالمپور سمٹ میں 52 ممالک کے 400 نمائندے سمیت 250 سیاستدان، صدور اور رہنما شریک ہیں۔
سمٹ 18 سے 21 دسمبر تک ملائیشیا میں جاری رہے گا جس میں ترک صدر رجب طیب اردگان، قطری امیر شیخ تمیم بن حم آل ثانی اور ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی شرکت کی ہے۔پاکستان نے بھی کوالالمپورسمٹ میں شریک ہونا تھا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا کر دورہ منسوخ کردیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ عمران خان نے سوئزر لینڈ میں مہاجرین کے لیے ہونے والےسمٹ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی اور ان کو کولالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پراعتماد میں لیا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/21-Dec-2019/1067040?fbclid=IwAR19N2FIpNco-N4_-DYnmc5G2IscvJBP0GbknRKF7ldNTQsIa2cWtvZZIGw
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی سفارتخانے نے پاکستان پرسعودی عرب کے دباوَ سے متعلق خبروں کی تردیدکردی،سعودی سفارتخانے نے کہا ہے کہ پاکستان پردباوَ اوردھمکی سے متعلق خبر یں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق کوالالمپورسمٹ میں پاکستان کی عدم شرکت پرسعودی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کردیا،اعلامیہ میں کہا ہے کہ پاکستان کوسمٹ میں شرکت نہ کرنے پرمجبورکرنے کی خبربے بنیادہے،پاکستان کودھمکی دینے کی خبربھی مستردکرتے ہیں،سعودی سفارتخانہ نے کہا کہ پاک سعودی تعلقات میں دھمکیوں کی زبان استعمال نہیں ہوتی،پاکستان اورسعودی عرب کے گہرے تذویراتی تعلقات ہیں،سعودی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات میں اتفاق رائے پایاجاتاہے،سعودی عرب ہرمشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور رہے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہاتھا کہ سعودی عرب نے عمران خان کو پاکستانی مزدور واپس بھیج کر ان کی جگہ بنگالیوں کو بھرتی کرنے اور قرضے واپس لینے کی دھمکی دی تھی جس کے باعث وہ کوالا لمپور سمٹ میں شرکت نہیں کرپائے۔ترک اخبار ’ڈیلی صباح ‘ کو گزشتہ روز دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران ترک صدر نے کہا کہ انہیں خوشی ہوتی اگر پاکستان اور انڈونیشیا بھی کوالا لمپور سمٹ میں شرکت کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بات آتی ہے تو یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ انہوں نے دوسرے ملکوں پر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے دباﺅ ڈالا ہے۔
ترک صدر نے کہا یہ بدقسمتی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان پر دباﺅ ڈالا، یہ وعدے بیچ میں لائے گئے کہ ہم نے پاکستان کے سنٹرل بینک میں پیسہ رکھوایا، اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کے 40 لاکھ لوگ سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں، اور سعودی عرب نے دھمکی دی کہ وہ ان تمام لوگوں کو اپنے ملک سے نکال کر واپس پاکستان بھیج دے گا اور ان کی جگہ بنگالیوں کو بھرتی کرلے گا۔ترک صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے یہی معاملہ پاکستان کے سنٹرل بینک کے حوالے سے بھی کیا اور دھمکی دی کہ وہ اپنے پیسے واپس نکال لیں گے۔ اس وقت پاکستان شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اس لیے اس کی مجبوری ہے کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں میں آجائے ، یہی معاملہ انڈونیشیا کے ساتھ بھی ہوا ہے۔
ادھر پاکستان کے دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بڑے مسلم ممالک کے تحفظات کے باعث کوالالمپور سمٹ میں حصہ نہیں لیا۔
https://dailypakistan.com.pk/21-Dec-2019/1067021?fbclid=IwAR1Xkohv6H6pSkmJNzVUIMGEzSkZ
KP7yaNBdZK-nE6pThP0GM5W3rUYQKA0
اسلام آباد(ویب ڈیسک) دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بڑے مسلم ممالک کے تحفظات کے باعث کوالالمپور سمٹ میں حصہ نہیں لیا۔
دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میں حصہ نہیں لیا کیوں کہ اس سمٹ پر بڑے مسلم ممالک کو تحفظات تھے اور یہ تحفظات مسلم امہ میں تقسیم کے حوالے سے خدشات پر مبنی تھے، ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے وقت اورکوششوں کی ضرورت ہے۔ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان امہ میں اتحاد اور یکجہتی چاہتا ہے جس کے لئے کام کرتا رہے گا، مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز کو مؤثر طریقے سے حل کرنا ناگزیر ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق گزشتہ روز امریکا بھارت مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے بیان کو پاکستان مسترد کرتا ہے، پاکستان سے متعلق بھارتی وزیر دفاع و وزیرخارجہ کے دعوے لغو اور بے بنیاد ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں، واشنگٹن کو امریکا بھارت مشترکہ بیان پر نا پسندیدگی سے آگاہ کردیا گیا ہے۔عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوتسلیم کرتی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/21-Dec-2019/1067015?fbclid=IwAR2oip63aEKIx6WF-K0MkD5AN7wHHXu-Is-o13J1HlpAFzMK9Q6dTLcoBU8
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے کوالا لمپور کانفرنس میں پاکستان کے شرکت نہ کرنے کے حوالے سے آنے والے بیان کے بعد ترجمان دفتر خارجہ کا موقف بھی آگیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ پاکستان کے کوالا لمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے میڈیا کی جانب سے سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان نے سمٹ میں اس لیے شرکت نہیں کی کیونکہ اس کانفرنس کے باعث بڑے مسلمان ممالک کو امہ کی تقسیم کے حوالے سے خدشات لاحق تھے اور اس حوالے سے کوششیں کی جانی چاہئیں تھیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد اور استحکام کی کوششیں کرتا رہے گا، کیونکہ امہ کا اتحاد مسلم ورلڈ کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے بہت ضروری ہے۔
خیال رہے کہ جمعہ کے روز ترک صدر رجب طیب اردگان نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان پر دباﺅ ڈالا اور اسے کوالا لمپور سمٹ میں شرکت نہیں کرنے دی ۔ ترک صدر کے مطابق سعودی عرب نے عمران خان کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ سمٹ میں گئے تو مملکت میں کام کرنے والے 40 لاکھ پاکستانیوں کو نکال کر ان کی جگہ بنگالیوں کو بھرتی کرلیا جائے گا، اس کے علاوہ سعودی عرب نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کے سٹیٹ بینک میں رکھے گئے اپنے سارے پیسے نکال لے گا۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Dec-2019/1066659?fbclid=IwAR3QuU1uq5lQCdsqBdqEoQvsf3RHb9
g5xEPd8-bVrUAhxE0p2W_OKnaghr4

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/21122019/p1-lhr032.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/21122019/p1-lhr003.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/21122019/P8-Lhr-007.jpg


https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1107029190&Issue=NP_PEW&Date=20191221
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ نے پاکستانی فوج کیلئے ٹریننگ اینڈ ایجوکیشنل پروگرام ایک سال بعد بحال کردیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی بحالی دونوں ممالک کی افواج کے مابین بہتر تعلقات کی عکاس ہے، یہ فیصلہ رواں سال وزیر اعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔واشنگٹن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا میں تعاون پر پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا ہے ۔
پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر کی امداد اور ٹریننگ پروگرام جنوری 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹویٹ کے بعد معطل ہوگئے تھے جس میں انہوں نے پاکستان پر دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں کہا گیا ہے کہ ملٹری ٹریننگ پروگرام دونوں ممالک کے باہمی تعاون کے فروغ کا باعث بنے گا ، امریکہ ان اقدامات کے ذریعے ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھنا چاہتا ہے جس سے خطے کی سکیورٹی اور استحکام میں اضافہ ہوگا۔
ایک امریکی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ کے اس فیصلے کے بعد پاکستان نے ٹریننگ پروگرام کیلئے افسران کے انتخاب کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ پاکستان کیلئے پروگرام کی بحالی کا حتمی فیصلہ کانگریس کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Dec-2019/1066632?fbclid=IwAR2YZzlTOkY2AD39a3Rnq75J8Jh
W4Xw5TPqycqjgUy38BojOAcyS5HkcM0s\
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے عمران خان کو پاکستانی مزدور واپس بھیج کر ان کی جگہ بنگالیوں کو بھرتی کرنے اور قرضے واپس لینے کی دھمکی دی تھی جس کے باعث وہ کوالا لمپور سمٹ میں شرکت نہیں کرپائے۔
ترک اخبار ’ڈیلی صباح ‘ کو جمعہ کے روز دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ترک صدر نے کہا کہ انہیں خوشی ہوتی اگر پاکستان اور انڈونیشیا بھی کوالا لمپور سمٹ میں شرکت کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بات آتی ہے تو یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ انہوں نے دوسرے ملکوں پر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے دباﺅ ڈالا ہے۔
ترک صدر نے کہا یہ بدقسمتی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان پر دباﺅ ڈالا، یہ وعدے بیچ میں لائے گئے کہ ہم نے پاکستان کے سنٹرل بینک میں پیسہ رکھوایا، اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کے 40 لاکھ لوگ سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں، اور سعودی عرب نے دھمکی دی کہ وہ ان تمام لوگوں کو اپنے ملک سے نکال کر واپس پاکستان بھیج دے گا اور ان کی جگہ بنگالیوں کو بھرتی کرلے گا۔
ترک صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے یہی معاملہ پاکستان کے سنٹرل بینک کے حوالے سے بھی کیا اور دھمکی دی کہ وہ اپنے پیسے واپس نکال لیں گے ۔ اس وقت پاکستان شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اس لیے اس کی مجبوری ہے کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں میں آجائے ، یہی معاملہ انڈونیشیا کے ساتھ بھی ہوا ہے۔
خیال رہے کہ ملائیشیا میں ہونے والے کوالا لمپور سمٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے شرکت کرنا تھی لیکن وزیر اعظم کے ہنگامی دورہ سعودی عرب کے بعد پاکستان نے سمٹ میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔ پاکستان کے شرکت نہ کرنے کے بعد یہ باتیں سامنے آئی تھیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان پر دباﺅ ڈال کر فیصلہ تبدیل کرایا ہے ، ان خبروں کی حکومتی سطح پر تو کوئی تصدیق نہیں کی گئی تھی لیکن اب ترک صدر کے بیان نے ساری صورتحال واضح کردی ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Dec-2019/1066637?fbclid=IwAR0ShLHaMgt-U2QiYB87XUCOuiWhCyauEtP1SKaBesPN1nx2
O4mdreCZugo
کوالالمپور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے تجویز کیے گئے ٹی وی چینل کے منصوبے میں قطر کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔مشترکہ ٹی وی چینل کے حوالے سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ اس میں سے پاکستان کو آﺅٹ کردیا گیا ہے لیکن حقیقت میں اس منصوبے میں چوتھے ملک کے طور پر قطر کو شامل کیا گیا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ نے کوالا لمپور سمٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ملائیشیا کوئی سمٹ کرتا ہے تو کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم امت کو تقسیم کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ لوگ اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ دوسرے ملکوں پر بم برسائے جائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلم امہ میں جاپان اور جنوبی کوریا جیسی کامیابی کی کون سی مثال ہے جو پیش کی جاسکتی ہو؟
مسلمان ممالک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملائیشین وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ ہم ایک ٹی وی چینل بنانے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ، جو کہ ترکی ، قطر اور ملائیشیا کی مشترکہ کاوش ہوگی۔‘
کوالا لمپور سمٹ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر وزیر خارجہ سیف الدین کا یہ بیان ٹویٹس کی شکل میں جاری کیا گیا ہے جن میں پاکستان کا نام نہیں ہے۔ ٹی وی چینل کے منصوبے میں پاکستان کا نام نہ لیے جانے پر لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ شاید اس منصوبے سے پاکستان کو آﺅٹ کرکے قطر کو شامل کیا گیا ہے۔
اس میں غلطی کوالا لمپور سمٹ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کی بھی ہے جنہوں نے اپنے ٹویٹس میں پاکستان کا تذکرہ نہیں کیا۔ ابتدائی ٹویٹس کے 2 گھنٹے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس کو درست کرکے انہوں نے ایک علیحدہ ٹویٹ میں پاکستان کا نام بھی دے دیا جس سے پاکستان کے ٹی وی چینل منصوبے سے آﺅٹ ہونے کی خبریں دم توڑ گئیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس سمٹ میں شرکت کرنا تھی لیکن مبینہ طور پر سعودی دباؤ کے باعث وہ ملائیشیا نہیں جاسکے، بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی سمٹ میں شرکت سے روک دیا گیا ۔ پاکستان کی کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کے باعث انٹرنیشنل اور پاکستان کے قومی میڈیا پر طرح طرح کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔
کوالا لمپور سمٹ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے مجوزہ ٹی وی چینل کے حوالے سے کی جانے والی ٹویٹس کے سکرین شارٹس کو ہم اس خبر کا حصہ بھی بنا رہے ہیں۔ ان سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ ٹویٹس ’4 گھنٹے‘ پہلے کیے گئے ہیں لیکن پاکستان کے حوالے سے کیے جانے والے ٹویٹ پر’ 2 گھنٹے پہلے ‘ لکھا ہوا آرہا ہے۔
https://dailypakistan.com.pk/20-Dec-2019/1066629?fbclid=IwAR3lawjkP9YCNec9kB1RR075jgG
djZMZYRr8IiqqJybxHVx96etOIgI0cb0
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف امریکی سکالر کرسٹین فیئر کا شمار پاکستان پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والے امریکی دانشوروں میں ہوتا ہے تاہم اب انہوں نے ہی بھارت کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ دی وائر کے مطابق رواں سال کے آغاز میں بھارتی فضائیہ کے درجن بھر جنگی طیارے پاکستانی شہر بالاکوٹ کے نواح میں جنگل کے درختوں پر بم پھینک کر فرار ہو گئے جس کے بعد پاک فضائیہ نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارت کے دو جنگی طیارے مار گرائے اور پائلٹ ابھی نندن کو بھی حراست میں لے لیا۔ اس واقعے کے دوران بھارت نے اپنی خفت چھپانے کے لیے جھوٹ بولا تھا کہ انہوں نے بھی پاکستان کا ایک ایف 16طیارہ مار گرایا ہے۔
اب کرسٹین فیئر نے بھارت کے اس جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ بھارت نے اس واقعے میں پاکستان کا کوئی ایف 16طیارہ نہیں گرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اس واقعے کے متعلق بھارتی ایئرفورس کا بیانیہ حقائق پر نہیں بلکہ بھارتی سیاستدانوں کی جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی ہے جو ان سیاستدانوں نے الیکشن جیتنے کے لیے کیا تھا۔“جارج ٹاﺅن یونیورسٹی میں سکیورٹی سٹڈیز کی پروفیسر کرسٹین فیئر سالہا سال سے پاکستان پر ریسرچ کا تجربہ رکھتی ہیں اور ان کے بیانات کو بھارت میں کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان دنوں وہ بھارتی شہر چندی گڑھ میں ہونے والے ملٹری لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہیں جہاں انہوں نے بھارت کے اس جھوٹ کو بے نقاب کیا۔
انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں 100فیصد یقین اور تصدیق کے ساتھ واضح کر رہی ہوں کہ اس واقعے میں پاکستان کا کوئی ایف 16طیارہ نہیں گرا تھا۔ میں نہیں مانتی کہ تم لوگوں نے پاکستان کا کوئی طیارہ گرایا۔ “ اس فقرے کے بعد کرسٹین نے اپنی روایتی پاکستان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ ”تم لوگوں نے اگرچہ پاکستان کا کوئی طیارہ نہیں گرایا لیکن میری اور پینٹاگون کے کئی لوگوں کی خواہش تھی کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کا کوئی ایف 16طیارہ مار گراتی کیونکہ پلوامہ اٹیک کا انتقام لینے کے لیے بھارت کو حق پہنچتا ہے کہ وہ پاکستان پر بمباری کرے۔ بھارتی فضائیہ کا ایف 16گرانے کا دعوت جھوٹ ہے مگر کاش یہ سچ ہوتا۔“
https://dailypakistan.com.pk/20-Dec-2019/1066621?fbclid=IwAR31tumWms1tX2npUdd3DYVG
CdhiHVJ4tNIQ9vpgfspjvxxP02yHMEuRIa4

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/20122019/p1-lhr013.jpg

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/2/2019/12/17122019/p1-lhr037.jpg

https://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2019-12-16&edition=KCH&id=4948440_96495487

https://www.roznama92news.com/backend/web/uploads/epaper/3/2019/12/16122019/P8-ISB-014.jpg

No comments:
Post a Comment